پوڈکاسٹ کا بنیادی خیال اور آغاز
۷ فوجی محاذوں کی مختصر وضاحت (جیسا کہ پوڈکاسٹ میں بیان کیا گیا)
۸ویں محاذ کی تفصیل — بیانیے کی جنگ
| The famous "Napalm Girl" of Vietnam war |
آخر میں — یہ پوڈکاسٹ کو کیوں دیکھیں؟
خاطر میں نہیں۔
| The famous "Napalm Girl" of Vietnam war |
میں اس حوالے سے یہ بالکل نہیں کہوں گا، کہ میں عقلِ قل ہوں باقی سب بیوقوف ہیں، مگر میں صرف اپنا اپنا ںظریہ یہاں پیش کروں گا، چونکہ میں نے یہ نوٹ کیا ہے، ہو سکتا ہے، میں اپنے assessment میں بالکل غلط ہوں، جو کہ میں خود invite کر رہا ہوں کہ اگر میری معلومات میں کوئی کمزوری ہو، یا نامکمل معلومات ہو، تو اس میں تصحیح کریں اور ایک collaborative individual ہونے کا حق ادا کریں، بجائے اس کے کہ Narcissistic اور Megalomaniac اپنے آپ کو پیش کریں، کیونکہ پہلے پہل ہمیں اپنے آپ کی تصحیح کرنی ضروری ہے، بجائے اسکے کہ اپنے آپ کو اس طرح سے portray کریں، جیسے آپ سے بالاتر کوئی ہے ہی نہیں۔
وہ گاڑیاں جو باہر ممالک میں ٹرک کہلاتی ہیں، اور صرف بیرونِ شہر جانے کے لئے استعمال ہوتی ہیں، وہ ہمارے ملک میں status symbol کے طور پر استعمال ہوتی ہیں، اس چیز کو norm بنانے میں کس کا ہاتھ ہے؟ کیا کبھی ہم نے اس حوالے سے سوچنے کی زرا بھی کوشش کی ہے؟ اگر ہم دوسروں کو غلط ثابت کرنے کے لبادے سے باہر نکلیں؟
بات ساری یہی ہے کہ knowledgeable consumer ہونا سروس provider کے لئے بھی اچھی چیز ہے، بصورت دیگر ہو بہو وہی ہوتا ہے جو اس وقت پاکستان میں ہوتا ہے، کیونکہ مجھے کراچی کی حد تک بالکل پتا ہے، دوسرے شہروں کی گارنٹی نہیں لیتا۔
پڑھے لکھے جاہلوں کی بات کررہا ہوں، جہاں so-called Sudo-intellectuals صرف اپنی امارات (عمارات نہیں) دیکھا کر اپنی اہمیت سمجھتے ہیں، جب کہ ان کی خود کی سمجھ بوجھ اس طرح کی پستی میں ہے، کہ maturity کے نام پرRay Ban کے کالے چشمے پہن کر اپنے آپ کو کوئی بڑی شخصیت سمجھنا شروع کردیتے ہیں، یہاں مجھے اس سے بھی مسئلہ نہیں، مجھے یہاں مسئلہ یہی ہے کہ اس چیز کو New Norm کے طور پر portray کیا جارہا ہے، جس کی وجہ سے ہماری معاشرتی سمجھ بوجھ ایک طرح کی پستی کا شکار ہوچکی ہے۔
Whereas, someone from Afghanistan tweetingIllegal refugees*. And fyi Pakistan govt. warned them to register themselves but they didn't want to pay the tax so don't gain sympathy here
— Daniش (@Bawkamaal) November 3, 2023
Please don't forget to stand with your Afghan brothers and sisters as well and speak about the expulsion of 1.8 million Afghan refugees from Pakistan, including those with documents and people who have been born and raised there and have lived in that country for generations.… https://t.co/qw45pRA3k3
— Wazhma Ayoubi 🇦🇫 (@WazhmaAyoubi) November 3, 2023
ان سب کا ری ایکشن اچھا نہیں آنا ہے، کیونکہ ہماری سوسائٹی اس طرح کی بن چکی ہے، جہاں دلچسپیاں ختم ہوچکیں ہیں تو اس طرح کی leg pulling activities کو انٹرٹینمنٹ کت طور پر لیا جاتا ہے، جو کہ high time to recognize ہے کہ we do require to upgrade۔ میں یہاں کسی بھی طرح سے apologetic نہیں ہوں، کیونکہ بحیثیت پاکستنی، ہمیں یہ چیز acknowledge کرنی چاہئے کہ fault lies within us جب تک ہم یہ چیز identify نہیں کریں گے کہ ہم صحیح نہیں ہیں، چیزیں صحیح نہیں ہوںگی، اور گر ابھی بھی آپ کی یہی سوچ ہے کہ مجھے غلط ثابت کر کے آپ کو لائسنس مل رہا ہے go on your existing way تو یہ کوئی اچھی بات نہیں، میں اسی leg pulling pathetic طریقوں کے خلاف ہوں، کیونکہ ہم نے تمام دلچسپیوں سے اپنے آپ کو عار کر دیا ہے، again دنیا کہاں جارہی ہے اور اس کے برخلاف ہم کہاں ہیں۔جب بنی اسرائل اپنے رب سے دور ہوئی تو اللہ نے ہم مسلمانوں کو لائے، اب جب ہم مسلمان ہی ایسے ہوگئے ہیں، تو کیا یہی ممکن نہیں کہ اللہ تعالی ہمارے مقابللے میں کسی اور قوم کو پیدا کردے؟ کیا ہم نے ایسی کوئی کثر ابھی تک چھوڑی ہے کہ کہہ سکیں کہ ہم ابھی بھی اللہ کی آخری اقوام میں ہیں؟ جبکہ scientifically یہ بات proven ہے کہ سائنسدانوں نے ایک بگ بینگ کی آواز سنی ہے، (واللہ اعلم، اس میں کتنی صداقت ہے) مگر اگر ایسی کوئی بات ہے بھی تو اس بات کی امید نہیں کہ ایک نئی civilization کی development دوبارہ سے شروع ہوچکی ہے؟؟؟In their paper the researchers explored what a Dark Big Bang would look like. First, they hypothesized the existence of a new quantum field — a so-called "dark field," that is necessary to allow dark matter to form completely independently.
In this new scenario, the Dark Big Bang only gets underway after inflation fades away and the universe expands and cools enough to force the dark field into its own phase transition, where it transforms itself into dark matter particles.
![]() |
| زحل جو مریخ اور مشتری کے بعد اگلا سیارہ ہے، وہاں سے یہی زمین جس پر حکومت کے دعویدار ہیں، ایسی دکھتی ہے، پس تم اپنے رب کی کون کون سی نعمتوں کو جھٹلاؤ گے |
Shoaib Jatt leaked Babar Azam’s private conversation to a TV channel without obtaining his consent. Well done, Azhar Ali, for pointing that out. That is disgusting, Lakh lanat!!!!#ShameOnYouZaka #Say_No_To_Lafafa_Journalism #WorldCup2023 pic.twitter.com/6XGecOAMI4
— Shaharyar Ejaz 🏏 (@SharyOfficial) October 29, 2023
this is the reality where as Pakistanis, we are pathetically hypocritical, not to point upper management, but we as civilians are to be held accountable for the support we give to them، اگر مسئلہ آستین کے سانپ کا ہے، تو ایسے میں آستین کے سانپ کو دودھ کس نے پلایا؟؟؟Lanat to whole Pak Army and Asim whisky 😡✋🤬🐷 pic.twitter.com/TMiiS9BEmh
— Shanza (Imran Khan) (@latif_shanza15) October 22, 2023
WHY PCB UNHAPPY WITH PLAYERS?🤔- The main players of Pakistan Cricket Team stood against surrogate betting companies. They started saying no to put logo of betting co and categorically demanded in their contracts for no more endorsement of betting co on their shirts. Later Govt… pic.twitter.com/nWf07GxGPh
— Arfa Feroz Zake (@ArfaSays_) October 30, 2023
Waseem Badami lied about it being decided just five minutes before. Here is the real story: it was planned 24 hours earlier.#WaseemBadami #ShameOnYouZaka #ShameonZaka pic.twitter.com/Fl7DGQDPo1
— Shaharyar Ejaz 🏏 (@SharyOfficial) October 30, 2023
| گدھا کاری ہمارا پسندیدہ مشغلہ ہے |
آج ایک کیس دیکھا، (میں کیس سے پہلے کچھ کہنا چاہ رہا تھا، مگر میں یہاں موک یا ٹرول نہیں کرنا چاہتا)، میرے ساتھ بلاوجہ کا بحث بازی کررہا ہے کہ نوٹ کیوں ایک جانب کررہا ہوں، ایسے ہی گنوں، اس سے پہلے میں آگے بڑھوں، میں بتادوں کہ میں آفس میں کیش ذمہ داری بھی دیکھتا ہوں، ساتھ میں دوسری ذمہ داریاں، جیسے ریپورٹنگ وغیرہ، تو اسی لئے میں نے یہ بات کہی ہے کہ میں کیش کی ذمہ داری بھی دیکھتا ہوں، تو ایسے میں ایک صاحب آئے اور مجھ پر پریشر ڈالنے لگ گئے کہ جلدی جلدی کروں، تو میں as usual پہلے نوٹوں کی اسکروٹنی، جس میں پہلے یہ دیکھنا ہوتا ہے کہ head count یعنی جتنے نوٹ موجود ہیں، وہ وہی رقم بن رہیں ہیں، جو ڈپازٹ سلپ پر موجود ہے، یا نہیں، تو وہاں پہلے مجھے ٹوکا، کہ گن کیوں رہے ہو، جب میں کہہ رہا ہوں، وہاں میں نے آرام سے ان سے کہا کہ سر یہ میرے لئے ضروری ہے کہ make sure رقم پوری ہے، تو جواب میں مجھے کہہ رہے ہیں، کہ ایسی کوئی ایس او پی موجود نہیں، جبکہ گلوبلی یہ right آفیسر کو دیا گیا ہے کہ وہ proper scrutiny کرے، کیونکہ آفسر کی assurity اور تصدیق ہر یہ رقم برانچ کے والٹ میں بند کیا جاتا ہے، پہلی بات یہ ہے کہ یہ گدھا کاری کی آزادی آپ کو صرف پاکستان میں موجود ہے، دبئی جو کراچی سے ۱:۳۰ گھنٹہ دور ہے، وہاں آپ ایسا بول کر دکھاؤ، labour laws وہاں کے اتنے سخت ہیں، لیبر اس بات پر آپ کو sue کرسکتا ہے، کہ آپ نے اس کے پروفیشنل پروسس میں مداخلت کی ہے، دوسری بات یہ ہے کسٹمر کے حقوق کے ساتھ کسٹمر کے ذمہ داریاں بھی موجود ہے، مگر معذرت کے ساتھ یہودیوں کی طرح جو قرآن کی ایک آیت کا حوالا دے کر اپنی بات منوانے کی کوشش میں لگے ہوئے ہوتے تھے، جب کہ ہمارے مذہب میں ہر چیز کو قدرتی طور پر اٹھایا گیا ہے، میں مذہب کے معاملے میں اچھا نہیں ہوں، مگر جتنا بھی میں پڑھا ہے، اس کے حساب سے قرآن میں متعدد جگہ ذہن میں سوال پیدا ہے، اورسوال پیدا کرنے کے بعد اگلی آیت، اگلی صورت میں اس کا جواب دیا گیا ہے یہ پھر کچھ چیزوں کو متعدد بار واضع کیا گیا ہے مگر کھل کر نہیں بتایا گیا ہے (read Jerusalem) جس کو قرآن میں میری ناقص معلومات کے مطابق اشاروں میں ضرور واضع کیا گیا ہے مگر نام کہیں بھی نہیں لیا گیا، تو اتنی لمبی تمہید باندھنے کی ضرورت اس لئے پڑی کہ جب ہمارے اپنے قرآن مجید میں ایسی کوئی پریکٹس نہیں تو ہم جس منہ سے ایسی پریکٹس کو نا صرف implement کرتے بلکہ اس سے ذیادہ بری بات یہی ہے کہ اس act کو پروموٹ بھی کررہے ہیں، اس میں ذمہ داری ہمارے بڑوں کی ہے، کیونکہ ہمارے بڑے اب صرف ایک ہی motive یعنی اپنی اہمیت دکھانے کے لئے جتنی محنت کرتے ہیں، اتنی محنت معاشرہ بنانے میں لگاتے تو پاکستان کا یہ حال نہیں ہوتا!
میں اوپر والے واقعے سے یہ نہیں کہہ رہا ہوں کہ صرف میرے ساتھ ہوا اس لئے یہ اچھی بات نہیں، کسی بھی معاملے میں
اور اس سانحہ کے بعد مجھے کابل کی تصاویر دیکھنے کو ملی، جہاں مری سے ذیادہ برفباری ہوئی ہے۔ مگر جس طرح ان لوگوں نے حب الوطنی کا مظاہرہ کیا، وہاں کی ویڈیوز دیکھ رہا تھا، برفباری کے دوران بھی کام بھی ہورہا تھا، لوگ برفباری بھی انجوائے کررہے تھے، ٹریفک بھی چل رہا تھا، جبکہ ہمارے پاس سے کیا نیوز نکل رہی ہے، ۳۰۰۰ کا ہوٹل کا کمرا ۴۰۰۰۰ کا بیچا گیا، گاڑی کو tow out کرنے کے چارجز لئے گئے، over capacity کس بلبوطے پر کیا گیا؟ بیشک عوام کسی بھی ملک کی عقلمند نہیں ہوتی، اس چیز کی ذمہ داری یقینی طور پر حکومت وقت کی ہوتی ہے، مگر عوام بری الذمہ بالکل نہیں، کیونکہ بیشک سمجھ بوجھ بالکل نہیں مگر بات یہ ہے کہ ملکی شعور کے تقدس کا خیال رکھنا چاہئے تھا، یہ عوام کی بھی ذمہ داری تھی کہ ٹک ٹاک کے لالچ میں تمام رکاوٹوں کو بالا تاک رکھ کر اس طوفان میں آگئے، نتیجے میں نہ صرف اپنی جان گنوائی بلکہ دنیا بھر میں پاکستان کا یہ image باور کروائی کہ ہم پاکستانی اس قابل نہیں کہ آپ کو host کرسکیں، ہماری اوقات نہیں۔
بیشک ہماری حکومتیں (موجودہ حکومت کو ملا کر)، یہ سب لوگ incompetent ہیں، اور جمہوریت کی آڑ میں اپنا ووٹ بینک بنانے کے علاوہ کوئی کام نہیں کیا ہے۔