The Political Horizon: Resilience

Translate

مئی 13, 2026

This is High Time - Pakistani Baby Boomers be exposed accordingly

یہاں میرا یہ لکھنے کا مقصد نہیں کہ میں دشمنیاں پال رہا ہوں، کیونکہ کافی بے بی بومرز ایسے ہیں، جو Millennials اور آنے والی جنریشنز کو ساتھ لے کر چلنا چاہتے ہیں، اس کے لئے وہ نئی جنریشنز کے ساتھ چیزیں سیکھتے ہیں، اور ایسا محسوس نہیں کراتے کہ جیسے ان کی اسکلز اور چیزیں کسی سے کم ہیں، کیونکہ عزتِ نفس ایک ایسی چیز ہے جو کسی زبان کا محتاج نہیں، یہاں تک کہ اگر کسی جانور کے ساتھ اچھا behave کرو، تو وہ بھی جواب میں اپنی زبان میں شکریہ کرتا۔

میرے ساتھ

میری بلی تھی، اب ختم ہوگئی، کافی پرانی تھی، کیونکہ اسکی ماں میرے پاس چھوڑ کر گئی تھی، اور میرے والد (بیشک ابھی مجھے گالیاں دیں گے)، مگر وہ بھی یہ بات مانیں گے کہ میری وہ بلی کی ماں میرے پاس اپنا بچہ چھوڑ کر چلی گئی تھی، اب یہ نہیں پتا کہ واقعی میں چھوڑ کر گئی تھی یا پھر ایسا ہوا کہ ادھر چھوڑا اور ادھر اس کے اوپر سے گاڑی گزر گئی کیونکہ اس کے بعد پھر کبھی وہ نہیں دکھائی دی، اور وہ COVID کے دن تھے، کیونکہ مجھے یاد ہے، کہ میں اس بچہ کو صرف حوصلہ دیتا تھا، اور COVID کے دنوں میں gloves کا بہت استعمال ہوتا تھا، تو اسی synthetic gloves میں پن سے چھوٹا سراخ کر کے اس کو Millac پلاتا تھا، حالانکہ اپنی اماں سے ڈانٹ کھاتا تھا مگر میرا یہ ماننا تھا کہ اس ماحول میں جانوروں کو اکیلا کیونکر چھوڑوں، اور اسی وجہ سے اپنے آخری ٹائم تک میرے والد، میری والدہ، میری بیوی سے ڈانٹ کھا کر میرے کمرے میں آجاتا تھا، کیونکہ اس کو سکون ہوتا تھا کہ یہ بندہ مجھے کبھی نہیں دھتکارے گا۔

اب بات اس چھوٹے بلی کے بچے سے اپنی زندگی میں آرہی ہے

جہاں میری اس نیچر کو تین طرف سے exploit کیا جارہا ہے، کیونکہ اس وقت گھر میں تین دھاری تلوار پر زندگی گزار رہا ہوں، یہاں مسئلہ یہ ہے، کہ دو عورتوں (میری ماں اور میری بیوی)،  ایک مرد (میرے والد) اپنی جانب میری ہاں رکھنا چاہتے ورنہ "کیفے قبائیل" والی ذہنیت میرے اوپر implement کرنے کی کوشش ہے، اور یہ بلاگ لکھانے کا مقصد یہی ہے کہ اس چیز کا ریکارڈ رکھنا چاہتا ہوں۔

میری بیوی aka چڑھتے سورج کی پجاری

میری بیوی کا مسئلہ یہی ہے کہ اس کو کوئی نا کوئی shoulder چاہئے ہوتا ہے، کہ اپنے آپ کو اس کے پیچھے چھپائے، emotional and ethically کمزور ہے، آج میرے پاس نوکری نہیں ہے، بیشک اس میں میری خود کی بھی کمزوری ہے، کیونکہ میرے ساتھ scam ہوا، مگر ایسی صورتحال میں بیوی کو میرے ساتھ کھڑا ہونا چاہئے، مگر یہاں بات یہی ہے کہ میں نے اپنی زندگی Integrity کے ساتھ گزاری، مگر اب مجھے بغلیں جھانکنے والا بنانا چاہتی ہے، کیونکہ اس کے پاس کوئی جواز نہیں تھا، یہی ایک جواز تھا جہاں وہ مجھے ہٹ کر سکتی تھی، اور معذرت کے ساتھ مجھے ہٹ کیا، کیونکہ عورتوں کو یہ بات سمجھنی چاہئے، کہ ہر مرد کی ایک سیلف رسپیکٹ ہوتی ہے، ایسے میں اپنے اسکورز سیٹل کرنے کے لئے اس aspect کو exploit کرنے میں پیش پیش ہے، کیونکہ اس نے یہ سوچا کہ اس vulnerable condition میں، میں ٹوٹ جاؤں گا، خود بتاؤ، جب بچہ پیدا ہوا تھا تو ۹۵۰۰۰ خود ارینج کئے تھے، صرف اماں سے ۲۰۰ ڈالرز لئے تھے، وہ integrity کے ساتھ واپس PKR سے USD میں کنورٹ کرکے واپس بھی دئے، اب اس بندے کو ایسے exploit کررہے ہیں، صرف اس لئے کہ آپ کی رضامندی حاصل ہو؟

میری ماں

میری شادی سے پہلے میری ماں کا رویہ ایسا تھا کہ میری رائے کی کوئی اہمیت نہیں، شادی کے کارڈ پر بھی احسان جتانے کے لئے ۳ کارڈز دئے کہ تمہاری شادی کے لئے ہم نے پیسہ دیا ہے، جب یہ رویہ رہے گا، تو کس چیز کی عزت کی بات کررہے ہیں؟ کس چیز کی طاقت چاہئے؟ آپ نے فیملی چلانی ہے یا WWE؟ اس پر یہ کہ اس صورتحال میں بھی آخری ٹائم تک میں اپنے والدین کے لئے بولتا رہا، مگر اب صورتحال یہ ہے کہ میری بیوی کی صورت میں ان کو میری ڈگ ڈگی مل چکی ہے، صرف اس لئے کہ میری ماں مجھے کنٹرول نہیں کرسکتی، کیونکہ میں اپنے decisions میں جب No بول دیا، تو وہ No ہوگا، مائنس، مائنس پلس نہیں ہوتا، میں نے اپنا سسٹم ایسا سمپل رکھا ہے، مگر یہاں یہی ہے، کہ میں نا بولوں تو میری بیوی کو استعمال کرنے پر لگے ہوئے ہیں، کہ بادل نخواستہ "مجھے اثرات کو اپنے اوپر لوں" یہ سب کچھ ڈاکیو منٹ کرنے کا مقصد یہی ہے کہ میں خود کو تیار رکھوں، اور یہ تیاری ہی ہے کہ یہ سب کچھ میں لکھ کر ڈاکیو منٹ کررہا ہوں، کیونکہ جو toxicity میری زندگی میں میری ماں نے پھلائی ہے، اور میری بیوی کو چسکا لگ چکا ہے، کیونکہ میری ماں نے خود راستہ دکھایا ہے کہ مرتضی کو ایسا ٹریٹ کرو، 

میرے والد صاحب

آپ کسی بار بی کیو والے کے پاس گئے ہو؟ وہاں steaks لگے ہوئے ہوتے ہیں، اور ساتھ میں ایک پنکھا ہوتا ہے، میرے والد وہ پنکھا ہیں، جو ہمیشہ confrontation کو اور گرم کرتے، اور یہ موقع بابا نے دیا، کیونکہ مام اور بابا کی طرف داری کی ایک وجہ یہی ہے کہ میں اپنا فوکس ہمیشہ آن رکھتا ہوں، بابا اسی بات پر چڑتے کہ میں جواب ہمیشہ پوائنٹ پر ٹھوک کر دیتا ہوں، اسی وجہ سے میری اس نیچر کو بابا attitude بولتے، اور یہ attitude مجھ سے ختم کرنے پر تلے ہوئے ہیں، اور جیسے میں بار بار یہ بات لکھ رہا ہوں کہ یہ بلاگ لکھنے کا مقصد یہی ہے سب چیزیں آن اکاؤنٹ رہے۔

ابھی، ابھی

میں عصر کی نماز پڑھ کر آیا ہوں، اور میری بیوی نے یہ حرکت کی ہوئی ہے کہ کمرے کی کھڑکی پر پردے ڈال دئے، جبکہ میرا کمرہ ہوا کے رخ پر ہے، زرا بھی کھڑکی covered ہوجائے گی تو کمرہ Urban Island Effect کے rule کے حساب سے تپنا شروع ہوجائے گا، جبکہ اس کو فائیو اسٹار کمپلیکس میں رہنے کی عادت ہے جہاں ایک کھڑکی کھلے تو دوسرے گھر میں جھانکنا شروع، خود میرا خود کا ذاتی تجربہ ہے کہ واش روم میں گیا تو ساتھ والے فلیٹ کی واش روم میں فلش کرنے کی آواز آرہی تھی، ایسے میں، میں نے یہی کیا کہ کھڑکی کھول دی، اور پردے ہٹادئے، کیونکہ کمرہ ہوادار اچھا لگتا ہے، نا کہ یہ کہ congested رہے، ایسے میں، میں نے دو رخی تلوار کی بات کی، وہی ہوا، کہ 

پورا دن کمرہ اپنے حساب سے کھلا رکھتے، اب زرا سا کھڑکی بند کی، بچہ کا خیال نہیں

 میں نے جواب دیا

اگر میرے ساتھ رویہ صحیح رکھتے، میں خود پوری کھڑکی بند کرتا، مگر اب چونکہ تم نے مجھے ضد پر لائے ہو، اب برداشت کرو

اس کے جواب میں اس نے جواب دیا

اپنا علاج کرائیں

اسی وجہ سے میں یہ سب کچھ ڈاکیو منٹ کررہا ہوں، کیونکہ اب بہت ہوچکا ہے، میں again یہ بات لکھوں گا کہ اگر اللہ دیکھ رہا ہے، تو مجھے انصاف چاہئے، کیونکہ یہاں میرے لئے صورتحال ایسی بنا رہیں ہیں کہ میرے "غصہ"😡 کوhighlight کیا جا رہا ہے، اور اس کے لئے جیسے مصطفی کو paralized کردیا ہے، وہی tactic یہاں کررہے ہیں، اور اسی لئے میں یہ سب کچھ ڈاکیو منٹ کررہا ہوں۔

اسی لئے ان سب کا ریکارڈ میں نے Google Drive کے اس فولڈر میں ڈال دیا ہے کیونکہ ویسے Blogger مجھے اجازت نہیں دیتا کہ میں آڈیو فائل یہاں ڈالوں، مگر اب میں چیزیں upload کردوں گا، کیونکہ یہ لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ مجھے اپنے قابو میں کرکے میری تعریف کریں گے بصورت دیگر میری عزت تار، تار کریں گے۔

میری بیوی کے ساتھ مسئلہ

میری بیوی کے ساتھ مسئلہ یہی ہے کہ وہ جانتی ہے کہ میں جب اسٹینڈ لوں گا تو گھر تک چھوڑ کر آؤں گا، ایسے میں وہ میری integrity توڑ کر اپنے گھر والوں کے سامنے دکھانا چاہتی ہے کہ وہ اتنی مضبوط ہے، عورت مضبوط اپنے شوہر کے ساتھ رہتی ہے، نا کہ رشتہ میں کسی کو include کر کے، اب ایسے میں ڈرامہ وہ شروع کررہی ہے، مگر ختم میں ہی کروں گا، کیونکہ سب کچھ میں رکارڈ پر ڈال رہا ہوں، اور ریکارڈ پر ڈالنے کے ساتھ یہ سب کچھ لکھائی میں بھی کررہا ہوں، کیونکہ جیسے میں نے لکھا ہے کہ لکھنے کی عادت سے مجھے فوکس کرنے میں آسانی ہوتی ہے، ایسے میں یہاں سارا کھیل فوکس کا ہے، کیونکہ اب میں کھل کر ریکارڈ کھیلوں گا، جب ۳ لوگ مجھ کمزور کے ساتھ مقابلہ بازی کررہے ہیں، تو ایسا ہی صحیح، اب سب black-and-white ہوگا، اور کھل کر ہوگا۔

Again یہ سب کچھ کا یہ بالکل مقصد نہیں کہ میں نے بدلہ لینا ہے

مگر بات یہ ہے کہ جیسے بھی ہیں، اس وقت جس vulnerable پوزیشن میں ہوں، میرے والدین ہی میری سپورٹ ہیں، مگر اس سپورٹ کی اتنی بڑی قیمت؟ کہ مجھے ایسے اکیلا کیا جارہا ہے؟ وہ بھی ۳ جانب سے؟

مکمل تحریر >>

دسمبر 29, 2024

انٹرنیٹ بینکنگ اور پاکستانیوں کی نالائقی

 میں اس حوالے سے یہ بالکل نہیں کہوں گا، کہ میں عقلِ قل ہوں باقی سب بیوقوف ہیں، مگر میں صرف اپنا اپنا ںظریہ یہاں پیش کروں گا، چونکہ میں نے یہ نوٹ کیا ہے، ہو سکتا ہے، میں اپنے assessment میں بالکل غلط ہوں، جو کہ میں خود invite کر رہا ہوں کہ اگر میری معلومات میں کوئی کمزوری ہو، یا نامکمل معلومات ہو، تو اس میں تصحیح کریں اور ایک collaborative individual ہونے کا حق ادا کریں، بجائے اس کے کہ Narcissistic اور Megalomaniac اپنے آپ کو پیش کریں، کیونکہ پہلے پہل ہمیں اپنے آپ کی تصحیح کرنی ضروری ہے، بجائے اسکے کہ اپنے آپ کو اس طرح سے portray کریں، جیسے آپ سے بالاتر کوئی ہے ہی نہیں۔

صرف کراچی کے ٹریفک کو دیکھ لیں

وہ گاڑیاں جو باہر ممالک میں ٹرک کہلاتی ہیں، اور صرف بیرونِ شہر جانے کے لئے استعمال ہوتی ہیں، وہ ہمارے ملک میں status symbol کے طور پر استعمال ہوتی ہیں، اس چیز کو norm بنانے میں کس کا ہاتھ ہے؟ کیا کبھی ہم نے اس حوالے سے سوچنے کی زرا بھی کوشش کی ہے؟ اگر ہم دوسروں کو غلط ثابت کرنے کے لبادے سے باہر نکلیں؟

انٹرنیٹ بینکنگ اور اس کے صارف

بات ساری یہی ہے کہ knowledgeable consumer ہونا سروس provider کے لئے بھی اچھی چیز ہے، بصورت دیگر ہو بہو وہی ہوتا ہے جو اس وقت پاکستان میں ہوتا ہے، کیونکہ مجھے کراچی کی حد تک بالکل پتا ہے، دوسرے شہروں کی گارنٹی نہیں لیتا۔

جہالت

پڑھے لکھے جاہلوں کی بات کررہا ہوں، جہاں so-called Sudo-intellectuals صرف اپنی امارات (عمارات نہیں) دیکھا کر اپنی اہمیت سمجھتے ہیں، جب کہ ان کی خود کی سمجھ بوجھ اس طرح کی پستی میں ہے، کہ maturity  کے نام پرRay Ban کے کالے چشمے پہن کر اپنے آپ کو کوئی بڑی شخصیت سمجھنا شروع کردیتے ہیں، یہاں مجھے اس سے بھی مسئلہ نہیں، مجھے یہاں مسئلہ یہی ہے کہ اس چیز کو New Norm کے طور پر portray کیا جارہا ہے، جس کی وجہ سے ہماری معاشرتی سمجھ بوجھ ایک طرح کی پستی کا شکار ہوچکی ہے۔

???Customer is always right! but where!!!

کیا اس معاشرے میں جہاں کسٹمر کو یہی نہیں پتا کہ کے الیکٹرک کے بل کو پڑھا کیسے جاتا ہے، پچھلے زمانوں میں یہ کام کے لئے اسکول کے اساتذہ کو استعمال کیا جاتا تھا، مگر اس وقت اساتذہ کی عزت ہوا کرتی تھی، آج کے زمانے میں اگرچہ وہی اساتذہ Michael J. Fox کی طرح ٹائم مشین میں بیٹھ کر اس زمانے میں آئیں گے تو سر پکڑ کر بیٹھ جائیں گے، جہاں وہ یہی دیکھیں گے کہ اخلاقی طور پر کس پستی کی گہرائی میں گر چکے ہیں! میں مانتا ہوں کسٹمر کی عزت ہوتی ہے، مگر عزت کے ساتھ کچھ obligations بھی یکثر لاگو ہوتی ہیں، جن کی بناہ پر میں بغیر کسی ڈر کے یہ بات بولوں گا کہ A Well Informed Customer is always right مگر یہاں ہمارے معاشرے میں نہیں جہاں کے الیکٹرک کا بل پڑھنا اور اس کے اندر چارجز اور سر چارجز جو آپ پر لگ رہے ہیں، اس پر منہ میں تالا لگا کر بیٹھنا مگر ان شعبدے بازیوں میں اپنے آپ کو آگے سے آگے رکھنا، کہاں کی عقلمندی ہے؟

۲۰۲۵ کے زمانے میں بھی یہی کسٹمر از رائیٹ کے موافق ٹھپے والی بینکنگ ابھی بھی جاری ہے

شرم آتی ہے، انڈیا ہو یا بنگلادیش، وہاں بھی ایسی پینسل اسکیل والی بینکنگ نہیں ہوتی ہے، چلو بینکنگ تو بہت آگے کی چیز ہے، مطلب ۲۰۲۵ میں ابھی بھی لوگوں کو یہ تک نہیں پتا ہے کہ آن لائن بینکنگ میں Dispute کا مینو ہوتا ہے، وہاں آپ اہنی ٹرانزیکشن کی اسٹین آئی ڈی ڈال کر revert کر سکتے ہیں، میرا خود کا یہی ماننا ہے کہ جب تک آپ Voice Pollution کو اگنور کر کے خود سے استعمال نہیں کرو گے، چیز کبھی بہتر نہیں ہوگی، مگر یہاں آوے کا آوا بگڑا ہوا ہے، چیزوں کو بہتر کیا بنانا، او ٹی پی کی اہمیت کا اندازہ نہیں، اس کے بعد جو نقصان ہوتا ہے، اس سے یوٹیوب بھرا ہوا ہے، کہ آن لائن بینکنگ سے یہ ہوگیا وہ ہوگیا، سیپیج کہاں سے ہوئی؟ کس نے کی؟ کیا کبھی سمجھنے کی کوشش کی؟ 
مکمل تحریر >>

اپریل 10, 2024

Instant and Delayed gratification

فوری تسکین اور تاخیری تسکین خواہشات کو پورا کرنے یا اہداف کے حصول کے لیے دو متضاد نقطہ نظر ہیں، ہر ایک کے اپنے اپنے نتائج اور ہماری سوچ کے نمونوں پر اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ فوری تسکین سے مراد طویل مدتی نتائج پر غور کیے بغیر خواہشات کی فوری تسکین ہے۔ اس میں مستقبل کے نتائج کی پرواہ کیے بغیر موجودہ لمحے میں خوشی یا تکمیل کی تلاش شامل ہے۔ مثالوں میں غیر صحت بخش خوراک میں ملوث ہونا، زبردستی خریدنا، یا تاخیر کرنا شامل ہیں۔ دوسری طرف، تاخیر سے تسکین میں مستقبل میں زیادہ انعامات حاصل کرنے کے حق میں فوری خوشی یا انعامات کی قربانی دینا شامل ہے۔ اس کے لیے صبر، نظم و ضبط اور طویل مدتی فوائد کی خاطر قلیل مدت میں تکلیف یا تکلیف کو برداشت کرنے کی صلاحیت کی ضرورت ہوتی ہے۔ مثالوں میں پیسہ بچانا، تعلیم حاصل کرنا یا ہنر کی نشوونما کرنا، اور صحت مند طرز زندگی کو برقرار رکھنا شامل ہیں۔ فوری تسکین کا اثر اکثر قلیل مدتی خوشی سے ہوتا ہے لیکن طویل مدت میں منفی نتائج کا باعث بن سکتا ہے۔ اس کے نتیجے میں مالی عدم استحکام، خراب صحت، پیداواری صلاحیت میں کمی اور اہم اہداف کی طرف پیش رفت کی کمی ہو سکتی ہے۔ مزید برآں، یہ فوری انعامات پر عدم برداشت اور انحصار کی ذہنیت کو فروغ دے سکتا ہے، جو ذاتی ترقی اور کامیابی میں رکاوٹ ہے۔ اس کے برعکس، تاخیری تسکین کو اپنانے سے لچک، استقامت اور مقصد پر مبنی رویے جیسی خصوصیات پیدا ہوتی ہیں۔ فوری تسکین پر طویل مدتی انعامات کو ترجیح دے کر، افراد اپنی زندگی کے مختلف پہلوؤں میں زیادہ سے زیادہ تکمیل، کامیابی اور اطمینان کا تجربہ کر سکتے ہیں۔ یہ تاخیر سے تسکین کی ذہنیت کو پروان چڑھاتا ہے فیصلہ سازی میں بہتری، خود پر قابو پانے اور بااختیار بنانے کے احساس کا باعث بن سکتا ہے۔ ہمارے سوچنے کے نمونے تسکین کی طرف ہمارے رویوں سے گہرے طور پر متاثر ہوتے ہیں۔ جو لوگ مستقل طور پر فوری تسکین کا انتخاب کرتے ہیں وہ تسلسل پر قابو پانے، اہداف کے تعین اور حصول میں دشواری اور طویل مدتی کامیابی پر مختصر مدت کی خوشی کو ترجیح دینے کے رجحان کے ساتھ جدوجہد کر سکتے ہیں۔ اس کے برعکس، وہ افراد جو تاخیر سے تسکین کی مشق کرتے ہیں وہ زیادہ خود نظم و ضبط، اسٹریٹجک منصوبہ بندی، اور بامعنی مقاصد کے حصول میں وقت اور محنت لگانے کی خواہش کا مظاہرہ کرتے ہیں۔ تاخیری تسکین کی اہمیت کو سمجھنا ذاتی ترقی اور طویل مدتی کامیابی کے حصول کے لیے بہت ضروری ہے۔ اس کے لیے صبر، نظم و ضبط، اور زندگی کے چیلنجوں کو نیویگیٹ کرنے اور اپنی پوری صلاحیت کو سمجھنے میں تاخیر سے ملنے والے انعامات کی قدر کو تسلیم کرنے کی ضرورت ہے۔ تاخیری تسکین کو ترجیح دے کر، افراد رکاوٹوں پر قابو پا سکتے ہیں، باخبر فیصلے کر سکتے ہیں، اور زندگی کی تکمیل اور بامقصد رفتار پیدا کر سکتے ہیں۔ آخر میں، جب کہ فوری تسکین فوری طور پر اطمینان فراہم کرتی ہے، یہ اکثر طویل مدتی ترقی اور تکمیل کی قیمت پر آتی ہے۔ دوسری طرف تاخیری تسکین کو اپنانے کے لیے صبر اور قربانی کی ضرورت ہوتی ہے لیکن یہ مستقبل میں زیادہ انعامات اور کامیابی کا باعث بنتا ہے۔ تاخیر سے تسکین کی ذہنیت کو اپنانے سے، افراد لچک پیدا کر سکتے ہیں، اپنے اہداف حاصل کر سکتے ہیں، اور زیادہ بھرپور زندگی گزار سکتے ہیں۔





I can be contacted on my handler
Responsive advertisement
Best WordPress Hosting
مکمل تحریر >>

بلاگ میں مزید دیکھیں

You might like

$results={5}

Search me