Pages

25/2/26

دنیا تخلیقی صلاحیتوں کی طرف بڑھ رہی ہے، اور ہم دھوکہ دہی میں الجھے ہوئے ہیں!

سلام علیکم دوستو!  
میں مرتضیٰ معیز ہوں (@MoizMurtaza)، کراچی کا رہنے والا، اور آج میں ایک وائرل یوٹیوب شارٹ "Every
Electrician Hates Him For What He Did" سے متاثر ہو کر یہ بلاگ لکھ رہا ہوں۔ یہ شارٹس جو دنیا بھر میں وائرل ہو رہے ہیں، وہ ایک ایسے شخص کی بات کرتے ہیں جو بجلی کا کام کرتا ہے، لیکن اس نے ایسا کچھ کیا کہ باقی تمام الیکٹریشن اس سے نفرت کرنے لگے۔ کیوں؟ کیونکہ اس نے بہت ہی تخلیقی، صاف ستھرا، تیز اور جدید طریقہ اپنایا – وائرنگ کو اس طرح کیا کہ گھر والے اب ہر الیکٹریشن سے کہتے ہیں "وہی طریقہ کرو جو اس نے کیا تھا!"۔ باقی الیکٹریشن پریشان ہیں کیونکہ انہیں اب پرانے، سستے اور غیر محفوظ طریقوں پر کام کرنا پڑتا ہے، اور گاہک انہیں قبول نہیں کرتے۔

یہ شارٹ دیکھ کر مجھے ایک بات بہت شدید محسوس ہوئی: دنیا تیزی سے تخلیقی صلاحیتوں، جدت اور بہتری کی طرف بڑھ رہی ہے، اور ہم پاکستان میں اب بھی دھوکہ دہی، جھوٹی باتیں اور پرانے طریقوں میں الجھے ہوئے ہیں!

دنیا کیا کر رہی ہے؟

- ایک شخص نے وائرنگ کا نیا، محفوظ اور خوبصورت طریقہ ایجاد کیا → باقی الیکٹریشن "نفرت" کر رہے ہیں کیونکہ وہ پیچھے رہ گئے۔
- یوٹیوب، ٹک ٹاک پر لاکھوں لوگ ایسے ویڈیوز دیکھ رہے ہیں جہاں لوگ پرانے مسائل کو نئے، تخلیقی حل سے حل کر رہے ہیں – DIY ٹولز، ہوشیار ہینڈی کرافٹس، تیز ٹرکس۔
- دنیا میں الیکٹریشن، پلمبر، کارپینٹر سب مقابلہ کر رہے ہیں کہ کون بہتر، تیز اور صارف دوست کام کرے گا۔ جو پیچھے رہا، وہ بازار سے باہر ہو جائے گا۔

یہ "ہیش ٹیگ" ہے: #Innovation #DIY #GeniusHacks – لوگ انہیں شیئر کرتے ہیں کیونکہ وہ دیکھنا چاہتے ہیں کہ انسان کتنا ذہین ہو سکتا ہے۔

اور ہم پاکستان میں کیا کر رہے ہیں؟

ہم دھوکہ دہی میں مگن ہیں!  
- الیکٹریشن آتا ہے، "بھائی، یہ وائرنگ پرانی ہے، نیا لگانا پڑے گا" کہہ کر 2 گھنٹے کا کام 2 دن میں کرتا ہے، اور پیسے ضائع کرتا ہے۔
- دکاندار "یہ چیز ختم ہو گئی" کہہ کر مہنگی بیچتا ہے، جبکہ اسٹاک میں پڑی ہے۔
- کاروباری "یہ میرا خاص طریقہ ہے" کہہ کر پرانا، غیر معیاری کام کرتے ہیں، اور جب کوئی نیا آئیڈیا لائے تو "یہ تو کام نہیں کرے گا" کہہ کر رد کر دیتے ہیں۔
- ہمارے ہاں "تجربہ" کا مطلب 30 سال پرانا طریقہ ہے، نہ کہ 30 سال میں سیکھی نئی چیزیں۔

جیسے میرے پچھلے بلاگس میں کراچی کی مہنگائی، غلط ترقی اور نوجوانوں کی ضائع ہوتی صلاحیت پر بات کی – سب ایک ہی چیز ہے: لالچ، سستی اور جدت سے نفرت۔ دنیا نئی ایجادات کر رہی ہے، ہم "بلوف" مار رہے ہیں کہ "ہمارا طریقہ بہترین ہے"۔

یہ کیوں خطرناک ہے؟

- اگر ہم جدت نہ لائے تو ہماری مہنگائی، بے روزگاری اور تباہی بڑھتی جائے گی۔
- نوجوان دیکھ رہے ہیں کہ دنیا میں ایک شخص نے ایک ٹرک سے لاکھوں کمائے، اور ہمارے ہاں "ڈگری" اور "تجربہ" کا نام پر بیٹھے لوگ بس بلوف مار رہے ہیں۔
- کراچی جیسے شہر میں، جہاں ہر چیز مہنگی ہو رہی ہے، اگر ہم تخلیقی حل نہ لائے تو لوگ اور غریب ہوتے جائیں گے۔

اب کیا کریں؟ (کھرے لہجے میں)

بس کرو یہ بلوف مارنا!  
- الیکٹریشن ہو، دکاندار ہو، کاروباری ہو – نئی چیزیں سیکھو، یوٹیوب دیکھو، ٹیسٹ کرو، بہتر بنو۔
- منافع فی یونٹ کی بجائے حجم اور گاہک کی خوشی پر توجہ دو (جیسے مہنگائی والے بلاگ میں کہا)۔
- نوجوانوں کو کہو: "جدت کرو، نہ کہ پرانے طریقوں پر بیٹھے رہو"۔
- اگر کوئی نیا آئیڈیا لائے تو "واہ" کہو، نہ کہ "یہ تو نہیں چلے گا"۔

دنیا آگے بڑھ رہی ہے – تخلیقی لوگ بادشاہ بن رہے ہیں۔ ہم اگر اب بھی بلوف مارتے رہے تو پیچھے رہ جائیں گے، اور پھر افسوس بھی نہیں ہوگا کیونکہ وقت گزر جائے گا۔

یہ شارٹ دیکھ کر مجھے غصہ آیا، کیونکہ یہ ہمیں آئینہ دکھا رہا ہے: دنیا نفرت کر رہی ہے پرانے طریقوں سے، اور ہم انہیں "تجربہ" کہہ کر گلے لگائے بیٹھے ہیں۔

آپ کیا سوچتے ہیں؟ کیا ہم بھی جدت کی طرف بڑھیں گے، یا بلوف مارتے رہیں گے؟  
کمنٹس میں بتائیں۔  
اللہ ہمیں ہمت دے کہ ہم بھی دنیا کی طرح تخلیقی بنیں۔  

کراچی  
25 فروری 2026


بلاگ میں مزید دیکھیں

You might like

$results={5}

Search me

Translate