سلام علیکم دوستو!
میں مرتضیٰ معیز ہوں (@MoizMurtaza)، کراچی کا رہنے والا، اور آج دل بہت بھاری ہے۔ یہ بلاگ امتنان احمد صاحب کے وائرل یوٹیوب شارٹ "Bharosa Kar Kay Dekho | Trust" سے متاثر ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ جب زندگی میں ہر طرف اندھیرا چھا جائے، ہر دروازہ بند لگے، تو بس اللہ پر بھروسہ کر کے تو دیکھو – وہ راستہ ضرور کھول دے گا۔ یہ بات سن کر آنکھیں نم ہو جاتی ہیں، کیونکہ یہ سچ ہے۔ لیکن سچائی یہ بھی ہے کہ ہم خود اس بھروسے کو کچل رہے ہیں۔ ہماری اپنی حرکتوں نے، ہماری اپنی بے اعتمادی نے، ہمارے اپنے لالچ نے، ہمارے اپنے ڈر نے – ہمارا معاشرہ، ہمارا شہر، ہمارا مستقبل سب تباہ کر دیا ہے۔ اور اب جب میں یہ لکھ رہا ہوں تو غصہ بھی آ رہا ہے، اور رونے کا دل بھی کر رہا ہے۔
ہم نے خود کیا کیا ہے؟
- ہم نے ایک دوسرے پر بھروسہ کرنا چھوڑ دیا۔ دوستوں سے بات کرتے وقت دل میں شک رکھتے ہیں، کاروبار میں ایمانداری چھوڑ کر دھوکہ دیتے ہیں، رشتوں میں کھل کر بات کرنے کی بجائے چھپا کر رکھتے ہیں۔
- ہم نے دکانیں چلانے والوں کو دیکھا ہے جو "یہ چیز ختم ہو گئی" کہہ کر جعلی بیچتے ہیں، اور پھر گاہک کم آتے ہیں تو کہتے ہیں "لوگ بھروسہ نہیں کرتے"۔ بھائی، بھروسہ تو تم نے پہلے ہی توڑ دیا تھا!
- ہم نے کراچی کو دیکھا ہے جہاں ٹریفک میں ایک دوسرے کو گالیاں دیتے ہیں، سیوریج کی وجہ سے گلیاں ندی بن جاتی ہیں، لیکن کوئی ذمہ دار نہیں بنتا۔ ہم سب کہتے ہیں "حکومت کرے"، لیکن خود صفائی نہیں کرتے، خود اصول نہیں مانتے۔
- ہم نے نوجوانوں کو دیکھا ہے – 64 فیصد آبادی جو مستقبل ہے۔ لیکن ہم انہیں بھروسہ نہیں دیتے۔ نہ تعلیم دیتے ہیں، نہ نوکریاں دیتے ہیں، نہ کہتے ہیں کہ "بیٹا، تم کر سکتے ہو"۔ ہم کہتے ہیں "یہ دور برا ہے، کچھ نہیں ہو سکتا"۔ ہم نے ان کے خواب چھین لیے ہیں۔
- اور سب سے بڑی بات: ہم نے اللہ پر بھی پورا بھروسہ نہیں کیا۔ دعا مانگتے ہیں، لیکن دل میں کہتے ہیں "شاید نہ ہو"۔ پھر جب نہ ہو تو کہتے ہیں "اللہ نے نہیں دیا"۔ بھائی، اللہ نے تو راستہ کھولنے کی کوشش کی تھی، لیکن ہم نے خود ہی دروازہ بند کر دیا تھا۔
یہ سب ہم نے کیا ہے۔ ہماری اپنی حرکتوں نے۔ ہماری اپنی بے اعتمادی نے۔ ہماری اپنی سستی نے۔ ہماری اپنی خود غرضی نے۔ اور اب جب میں یہ لکھ رہا ہوں تو آنکھوں میں آنسو آ رہے ہیں، کیونکہ یہ درد ہمارا اپنا ہے۔ ہم خود کو تباہ کر رہے ہیں، اور پھر دوسروں کو موردِ الزام ٹھہراتے ہیں۔
لیکن اب بھی امید ہے… بہت امید ہے
دوستو، میں رو رہا ہوں، لیکن مایوس نہیں ہوں۔ کیونکہ اللہ نے ہمیں یہ دل دیا ہے جو اب بھی دھڑک رہا ہے۔ اب بھی ہمارے اندر وہ چنگاری ہے جو بھڑک سکتی ہے۔
- اگر ہم آج سے ایک دوسرے پر بھروسہ کرنا شروع کر دیں…
- اگر ہم اپنے کاروبار میں ایمانداری کا راستہ اپنائیں…
- اگر ہم نوجوانوں کو کہیں "بیٹا، تم سے بہت کچھ ہو سکتا ہے"…
- اگر ہم رشتوں میں کھل کر بات کریں، شک کو دل سے نکال دیں…
- اگر ہم اللہ سے کہیں "یا اللہ، اب تو مجھے ہمت دے، میں کوشش کروں گا"…
تو پھر راستے ضرور کھلیں گے۔ اللہ نے کبھی کسی کو نہیں چھوڑا جس نے سچے دل سے بھروسہ کیا۔
میں جانتا ہوں کہ ہم نے بہت نقصان کر دیا ہے۔ کراچی ڈوب رہا ہے، مہنگائی کھا رہی ہے، نوجوان مایوس ہیں۔ لیکن اب بھی وقت ہے۔ اب بھی ہم بدل سکتے ہیں۔
میں آج رو رہا ہوں، کیونکہ مجھے اپنے آپ پر شرمندگی ہے۔ ہم سب پر شرمندگی ہے۔ لیکن یہ آنسو امید کے آنسو ہیں۔ یہ درد تبدیلی کا درد ہے۔
بس ایک بار بھروسہ کر کے تو دیکھو – اپنے آپ پر، ایک دوسرے پر، اور سب سے بڑھ کر اللہ پر۔
میں یقین رکھتا ہوں کہ ہم بدل جائیں گے۔ ہمارا کراچی دوبارہ خوشحال ہو گا۔ ہمارے نوجوان اڑان بھریں گے۔ ہمارے رشتے مضبوط ہوں گے۔
کیونکہ اللہ نے وعدہ کیا ہے:
"جو مجھ پر بھروسہ کرے گا، میں اسے مایوس نہیں کروں گا۔"
آپ بھی رو لو تھوڑا… اور پھر اٹھو۔
ہم سب مل کر یہ بھروسہ واپس لائیں گے۔
اللہ ہم سب کو ہمت دے، اور ہمارے دلوں سے بے اعتمادی کا زہر نکال دے۔
مرتضیٰ معیز
کراچی
26 فروری 2026
0 Comments:
ایک تبصرہ شائع کریں