The Political Horizon: Leadership and Accountability

Translate

مارچ 31, 2026

پاکستان میں عورت کی Over-Sexualization اور تعلیم | تجزیہ معاشرہ | How Over-Sexualization is Undermining Women’s Education in Pakistan

پاکستان میں جنس کو حد سے زیادہ موضوعِ بحث بنانا: ایک

خاموش سماجی زوال

ہم مسئلے کو سمجھنا نہیں چاہتے، ہم اسے بڑھا رہے ہیں

  • “🕒 5 min read”

پاکستانی معاشرے میں ایک عجیب تضاد جنم لے چکا ہے۔ ہم بظاہر “حیا” اور “اخلاقیات” کے علمبردار بنتے ہیں، مگر عملی طور پر جیسے میں نے پہلے اوپر یہ لکھا ہے کہ بحیثیت مسلمان ہمارے قول و فعل میں ہمیشہ تضاد ہے، جس کی بناہ پر ہم نے ہر چیز کو جنس کے چشمے سے دیکھنا شروع کر دیا ہے۔ مرد ہو یا عورت، دونوں کو اس حد تک sexualize کر دیا گیا ہے کہ اب شخصیت، کردار، قابلیت—سب کچھ پیچھے رہ گیا ہے، اور جسم آگے آ گیا ہے۔

یہ صرف میڈیا کا مسئلہ نہیں، یہ ہمارا اجتماعی رویہ بن چکا ہے۔

عورت: عزت کے نام پر قید، مگر نظر ہمیشہ جسمانی خدوخال پر

ہم بڑے فخر سے کہتے ہیں کہ “عورت ہماری عزت ہے” — مگر سچ یہ ہے کہ ہم نے اسی عزت کو ایک ایسے فریم میں قید کر دیا ہے جہاں اس کی پہچان صرف اس کے جسم سے جڑ کر رہ گئی ہے۔

لباس پر بحث، چلنے کے انداز پر تبصرے، آواز کے اتار چڑھاؤ تک پر فیصلے—یہ سب اس بات کا ثبوت ہیں کہ ہم عورت کو ایک مکمل انسان نہیں، بلکہ ایک objectified وجود کے طور پر دیکھنے کے عادی ہو چکے ہیں۔

یا تو ہمیں یہ ماننا ہوگا کہ عورت کو اپنی مرضی سے جینے، پہننے اور اظہار کرنے کا مکمل حق ہے—اور ہمیں اپنی نظریں اور سوچ درست کرنی ہوگی—
یا پھر ہم کھل کر یہ تسلیم کر لیں کہ ہم ایک hypocritical معاشرہ ہیں جو دوہرا معیار لے کر چل رہا ہے۔
آج کے دور میں یہ ممکن نہیں—اور نہ ہی یہ درست ہے—مگر اس حقیقت کو قبول کرنے کے بجائے ہم ایک عجیب سی Zombie Society بنا رہے ہیں:

جہاں لوگ زندہ تو ہیں، مگر سوچ مردہ ہو چکی ہے۔

کیا ہم واقعی عورت کو اس کی اصل قابلیت کے مطابق جگہ دے رہے ہیں؟
Girls are equally responsible
for gathering opposite gender 
attraction


یہ کوئی کمزوری نہیں، یہ ایک functional strength ہے—مگر ہم نے اس طاقت کو یا تو دبا دیا ہے، یا اسے غلط سمت میں موڑ دیا ہے۔
معذرت کے ساتھ—آپ نے انہیں موقع کب دیا؟
مگر اس وقت ہمیں آئینہ دیکھنے کی ضرورت ہے۔
تو وہ یا تو ٹوٹ جائے گا، یا پھر اپنی توانائی کو غلط سمت میں استعمال کرے گا۔
جیسے بیج آپ بوتے ہیں، ویسا ہی پھل آپ کو ملتا ہے۔
ہم نے عورت کو confined کیا—اور اب ہم اسی confinement کے نتائج بھگت رہے ہیں۔

اب جو بات میں کرنے جا رہا ہوں، وہ بہت سوں کو ناگوار گزرے گی—مگر مسئلہ یہی ہے کہ ہم سچ سننے کے عادی نہیں رہے۔

اگر ایک طرف ہم عورت کو glamorized انداز میں پیش کرتے ہیں، تو دوسری طرف ہم خود اپنی ذہنی تربیت کرنے کے لیے تیار نہیں۔

مسئلہ یہ نہیں کہ زمانہ بدل گیا ہے، مسئلہ یہ ہے کہ ہماری سوچ ابھی تک وہیں کھڑی ہے جہاں عورت کو چار دیواری میں قید رکھ کر “کنٹرول” کیا جاتا تھا۔

آپ میری اس بات سے اختلاف کر سکتے ہیں—مگر ایک لمحہ رک کر خود سے سوال کریں:

حقیقت یہ ہے کہ عورت کے اندر وہ مشاہدہ، وہ سمجھ، وہ emotional intelligence ہے جو اکثر مردوں میں نہیں پائی جاتی۔

ہم نے ایک ایسے معاشرے کی تشکیل کی ہے جہاں:

  • عورت کو محدود رکھا جاتا ہے
  • اس کی آزادی کو مشکوک بنایا جاتا ہے
  • اور پھر اسی محدودیت کے اندر اسے gossip، comparison اور غیر ضروری باتوں میں الجھا دیا جاتا ہے

یہ ایک self-created trap ہے۔

اور پھر ہم شکوہ کرتے ہیں کہ عورتیں سنجیدہ کردار ادا نہیں کر رہیں؟

میں یہ بات صرف عورت کے لیے نہیں کر رہا—مرد بھی اس نظام کا شکار ہے، اور میں اس پر بھی بات کروں گا—

آپ کسی انسان کو confined کریں گے، اس کی توانائی کو suppress کریں گے، اس کی سوچ کو limit کریں گے—

اور آج ہم بالکل وہی دیکھ رہے ہیں۔

اس لیے شکایت کرنے سے پہلے ایک بات یاد رکھیں:

مزید افسوسناک بات یہ ہے کہ یہی ذہنیت گھروں سے شروع ہوتی ہے۔
باپ، بھائی، شوہر—سب اپنی اپنی “boundary” کھینچتے ہیں، مگر اصل میں یہ boundaries عورت کے احترام کے لیے نہیں بلکہ اپنی insecurity کو چھپانے کے لیے ہوتی ہیں۔

ہم جس معاشرتی تبدیلی کو “ترقی” سمجھ رہے ہیں، وہ دراصل ایک پیچیدہ اور خطرناک موڑ ہے—اور اس کو سمجھنے کے لیے جذبات نہیں، حقائق دیکھنے ہوں گے۔

مطالعہ بتاتا ہے کہ کراچی میں عورت کا کردار تیزی سے بدل رہا ہے۔ ایک وقت تھا جب عورت گھر تک محدود تھی، باہر نکلنا بھی ممکن نہیں تھا۔ آج وہ تعلیم حاصل کر رہی ہے، نوکری کر رہی ہے، سفر کر رہی ہے، اور اپنی زندگی کے فیصلے خود لینے کی طرف بڑھ رہی ہے۔ مزید پڑھیں
یہ تبدیلی صرف معاشی نہیں، بلکہ سماجی اور ذہنی سطح پر بھی ہے—جہاں مرد اور عورت کے درمیان interaction بڑھا ہے، social media نے نئے narratives create کیے ہیں، اور نئی نسل نے روایتی boundaries کو challenge کیا ہے۔ (IIED)

لیکن یہاں ایک خطرناک twist آتا ہے—
ہم نے عورت کو “آزاد” تو کیا، مگر اسے “انسان” بنانے کے بجائے ایک نئے انداز میں sexualize کرنا شروع کر دیا۔

پہلے عورت کو چار دیواری میں قید کر کے control کیا جاتا تھا،
آج اسے social media پر expose کر کے define کیا جا رہا ہے۔

فرق صرف طریقے کا ہے، mindset وہی ہے۔

آزادی نہیں، نئی شکل میں objectification

آج Instagram، TikTok اور YouTube پر ایک نیا trend normalize ہو چکا ہے—
جہاں عورت کو “confident” یا “bold” کے نام پر دراصل ایک visual commodity میں تبدیل کیا جا رہا ہے۔

BBW، NSFW جیسے الفاظ اب taboo نہیں رہے—
بلکہ openly discuss ہوتے ہیں، trend بنتے ہیں، اور algorithm انہیں push کرتا ہے۔

یہاں سوال یہ نہیں کہ عورت کو اپنی مرضی سے جینے کا حق ہے یا نہیں—
وہ حق unquestionable ہے۔

اصل سوال یہ ہے:
کیا ہم نے آزادی کو dignity کے ساتھ balance کیا ہے؟ یا اسے صرف attention economy کا fuel بنا دیا ہے؟

میڈیا اور سوشل میڈیا: narrative کون لکھ رہا ہے؟

جیسا کہ تحقیق میں بھی واضح ہے، میڈیا—خاص طور پر YouTube اور global platforms—نے relationship norms، body image، اور gender identity کو redefine کیا ہے۔ (IIED)

مگر مسئلہ یہ ہے کہ:

  • یہ narrative organically نہیں آ رہا

  • بلکہ curated ہے، monetized ہے

  • اور attention capture کرنے کے لیے design کیا گیا ہے

نتیجہ؟
عورت اب گھر میں قید نہیں—
مگر algorithm کی قید میں ہے۔

Zombie Society — اب اس کا نیا ورژن

میں نے پہلے کہا تھا کہ ہم ایک Zombie Society بنا رہے ہیں—
اب اس کی نئی شکل دیکھیں:

  • مرد عورت کو دیکھتا ہے، مگر سمجھتا نہیں

  • عورت خود کو express کرتی ہے، مگر define algorithm کرتا ہے

  • معاشرہ debate کرتا ہے، مگر direction کسی کے پاس نہیں

یہ آزادی نہیں، یہ controlled chaos ہے۔

اصل نقصان کہاں ہو رہا ہے؟

سب سے بڑا نقصان یہ ہے کہ:

  • عورت کی اصل صلاحیت (decision-making, emotional intelligence) پس منظر میں جا رہی ہے


جسم foreground میں آ رہا ہے

  • اور identity ایک visual brand بن کر رہ گئی ہے

اور افسوس کی بات یہ ہے کہ
یہ سب کچھ ہم خود کر رہے ہیں—
کسی نے ہم پر مسلط نہیں کیا۔

سیدھی بات

اگر آپ واقعی عورت کو empower کرنا چاہتے ہیں،
تو اسے یا تو قید نہ کریں،
اور اگر آزاد کریں—
تو اسے بازار نہ بنائیں۔

ورنہ آپ صرف ایک extreme سے دوسرے extreme میں جا رہے ہیں—
اور دونوں صورتوں میں نقصان عورت کا بھی ہے، اور معاشرے کا بھی۔

آخر میں ایک بات واضح رکھیں:
عورت کو “محفوظ” بنانے کے نام پر قید کرنا بھی ظلم ہے،
اور “آزاد” بنانے کے نام پر اسے object بنا دینا بھی ظلم ہے۔

اور ہم، بطور معاشرہ، بدقسمتی سے دونوں کر رہے ہیں۔

مرد: طاقت کا بوجھ، خواہش کا دباؤ

یہ مسئلہ صرف عورت تک محدود نہیں۔ مرد بھی اس over-sexualization کا شکار ہے، مگر ایک مختلف زاویے سے۔

ایک مرد سے توقع کی جاتی ہے کہ وہ ہمیشہ dominant ہو، emotionally detached ہو، اور ہر وقت اپنی masculinity ثابت کرے۔
اس کے جذبات کی کوئی اہمیت نہیں، اس کی کمزوری کو کمزوری نہیں بلکہ “ناکامی” سمجھا جاتا ہے۔

نتیجہ؟
ایک ایسا مرد جو اندر سے ٹوٹا ہوا ہے مگر باہر سے “مضبوط” نظر آنے کی اداکاری کر رہا ہے۔

سوشل میڈیا: جہاں سب کچھ “content” ہے

سوشل میڈیا نے اس مسئلے کو amplify کر دیا ہے۔
ہر چیز اب engagement کے لیے ہے—thumbnail، caption، reel—سب کچھ اس طرح design کیا جاتا ہے کہ نظر ٹھہرے، خواہ وہ کسی کی عزت کی قیمت پر ہی کیوں نہ ہو۔

ہم criticize بھی کرتے ہیں اور consume بھی۔
ہم کہتے ہیں “یہ غلط ہے” مگر scroll کرنا نہیں چھوڑتے۔

یہ منافقت نہیں تو اور کیا ہے؟

اصل مسئلہ: ہماری سوچ کی تربیت

ہم نے کبھی اپنی سوچ کو تربیت دینے کی کوشش ہی نہیں کی۔
ہم نے اپنی خواہشات کو discipline کرنے کے بجائے انہیں justify کرنا سیکھ لیا ہے۔

ہمیں یہ سمجھنا ہوگا کہ:

  • attraction فطری ہے
  • مگر objectification ایک choice ہے

اور ہم نے بطور معاشرہ بار بار یہی غلط choice کی ہے۔

اس کا انجام کیا ہوگا؟

اگر یہی چلتا رہا تو:

  • رشتے superficial ہوتے جائیں گے
  • trust ختم ہوتا جائے گا
  • اور ایک ایسا معاشرہ بنے گا جہاں ہر کوئی ایک دوسرے کو شک کی نظر سے دیکھے گا

یہ صرف اخلاقی مسئلہ نہیں، یہ ایک societal collapse کی foundation ہے۔

تعلیم تک عورت کی رسائی آسان ہوئی—مگر ہمیں یہ ماننے میں ہچکچاہٹ نہیں ہونی چاہیے کہ ہم نے اس تبدیلی کو بھی آدھا ادھورا سمجھا ہے۔

اعداد و شمار صاف بتاتے ہیں کہ کراچی میں خواتین کی خواندگی 1981 میں تقریباً 49٪ سے بڑھ کر 2017 تک 71٪ ہو گئی۔
یہ اضافہ کسی “روشن خیالی کے انقلاب” کا نتیجہ نہیں تھا، بلکہ ایک معاشی مجبوری تھی—یہاں تک کہ کم درجے کی نوکریوں کے لیے بھی پڑھنا لکھنا ضروری ہو گیا۔

اسی طرح، تعلیم کو شادی کے معیار کا حصہ بھی بنایا گیا—مگر یہاں بھی نیت صاف نہیں تھی۔
مرد کے لیے پڑھی لکھی بیوی “status symbol” بن گئی،
اور عورت کے لیے تعلیم ایک بہتر رشتہ حاصل کرنے کا ذریعہ۔

سوال یہ ہے:
کیا ہم نے تعلیم کو سوچ بدلنے کے لیے استعمال کیا؟ یا صرف اسے ایک social filter بنا دیا؟

کیونکہ اگر تعلیم واقعی mindset بدل رہی ہوتی،
تو آج بھی ہم عورت کو اس کے جسم، لباس اور ظاہری presentation کے پیمانے پر judge نہ کر رہے ہوتے۔

تلخ حقیقت یہ ہے:
ہم نے عورت کو پڑھا لکھا تو دیا،
مگر اسے سمجھا نہیں۔

ہم نے اس کی literacy بڑھائی،
مگر اپنی mentality نہیں بدلی۔

نتیجہ؟
ایک ایسی “educated society” جہاں degree تو ہے،
مگر نظر اب بھی وہی پرانی ہے—
جو عورت کو انسان نہیں، ایک refined object کے طور پر دیکھتی ہے۔

ہمیں کیا بدلنا ہوگا؟

یہ تبدیلی کسی قانون یا campaign سے نہیں آئے گی۔ یہ ہر فرد کی ذاتی accountability سے آئے گی۔

  • اپنی نظر کو control کرنا سیکھیں
  • ہر انسان کو انسان سمجھیں، نہ کہ ایک جسم
  • اپنی خواہشات کو justify کرنے کے بجائے انہیں discipline کریں

اور سب سے بڑھ کر،
اپنے بچوں کو وہ سکھائیں جو ہم خود نہیں سیکھ سکے۔


یہ بلاگ کسی ایک gender کے خلاف نہیں، بلکہ اس mindset کے خلاف ہے جو ہمیں آہستہ آہستہ اندر سے کھوکھلا کر رہا ہے۔ اور یہاں میرا یہ بالکل نہیں کہنا ہے کہ مرد ذات بالکل اللہ میاں کی گائے ہے، انگلش میں ایک کہاوت ہے، کہ it requires two hands to create a clap، ایسے میں اگر آپ تالی کے ایک ہاتھ ہو، تو ایسے میں ہاتھ ہونے کے ناطے کچھ ذمہ داری دونوں جنس پر لاگو ہوتے ہیں۔

اگر ہم نے اب بھی خود کو نہیں بدلا،
تو آنے والی نسلیں ہمیں معاف نہیں کریں گی۔



مکمل تحریر >>

مارچ 30, 2026

K-Electric Load Shedding in Pakistan | Karachi Power Crisis Analysis | جب تک برائی کوبرا نہیں مانیں گے

یہ کوئی Netflix کی سیریز کی ریلیز ٹائمنگز نہیں ہیں—یہ میرے علاقے میں K-Electric کی بجلی فراہمی کا شیڈول ہے۔ ایک ایسا “شو” جس کا ہر ایپی سوڈ اذیت، غیر یقینی، اور بے بسی سے بھرا ہوا ہے—اور جس کا کوئی کلائمکس نہیں، صرف بار بار دہرایا جانے والا انتشار ہے۔

مسئلہ صرف لوڈشیڈنگ نہیں ہے۔ مسئلہ وہ رویہ ہے جس کے ساتھ اسے ہم پر تھوپا جا رہا ہے۔ ایک ایسی کمپنی جو اپنی distribution کو بہتر بنانے کے بجائے، اسی بوسیدہ نظام کو گھسیٹ کر چلا رہی ہے—اور صارفین کو اس حد تک عادی بنا رہی ہے کہ وہ شکایت کرنا بھی چھوڑ دیں۔

آپ ای میل کریں—جواب آئے گا۔ مگر جواب نہیں، ایک copy-paste رسمِ ادا۔ ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے آپ انسان نہیں، ایک ٹکٹ نمبر ہیں۔ ایک ایسا نظام جہاں accountability کا کوئی تصور نہیں، صرف procedural دھوکہ ہے۔

اور پھر یہی وہ لمحہ ہے جہاں انسان سوچتا ہے:
“بس، اب کافی ہے—solar ہی لگا لیتے ہیں۔”

لیکن سوال یہ ہے کہ کیا ہر مسئلے کا حل escape ہے؟
کیا ہر شہری اپنی جیب سے متبادل نظام کھڑا کرے، اور ادارے اپنی نااہلی پر مطمئن رہیں؟

اصل تضاد یہاں جنم لیتا ہے۔

ہم ایک ایسی قوم ہیں جو قول میں بڑے اصولوں کی بات کرتی ہے، مگر فعل میں ہر سطح پر compromise کر جاتی ہے۔ ہم انصاف، دیانت، اور بہتری کی بات کرتے ہیں—مگر جب موقع آتا ہے، تو یا تو خاموش ہو جاتے ہیں یا اسی بگڑے ہوئے نظام کا حصہ بن جاتے ہیں۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ نہ یہاں Sri Lanka جیسی collapse ہوئی، نہ Bangladesh جیسی شدید معاشی ہلچل—مگر عوام کے ساتھ سلوک ایسا جیسے سب کچھ برباد ہو چکا ہو، اور اب جو مل رہا ہے اسی پر شکر کرو۔

یہ imposed mediocrity ہے۔
یہ وہ کیفیت ہے جہاں ادارے بہتری کی کوشش نہیں کرتے، کیونکہ نظام ابھی چل رہا ہے۔
“کام چل رہا ہے”—یہی سب سے بڑا جرم ہے۔

اور اس سب کے اوپر، رویہ ایسا جیسے ان کے بغیر دنیا رک جائے گی۔

سوال سادہ ہے، مگر جواب پیچیدہ:
یہ سب کب تک چلے گا؟

کب ہم واقعی اپنے اصولوں پر کھڑے ہوں گے؟
کب ہمارے “بڑے” واقعی بڑے دل کا مظاہرہ کریں گے؟
کب ادارے ذمہ داری کو بوجھ نہیں، امانت سمجھیں گے؟

جب تک ہم اس تضاد کو پہچان کر اس کے خلاف کھڑے نہیں ہوتے—یہ “شو” چلتا رہے گا۔

اور ہم… صرف اگلے ایپی سوڈ کا انتظار کرتے رہیں گے۔





مکمل تحریر >>

جنوری 04, 2025

ہمارے معاشرتی تضاد

مجھے پورا یقین ہے کہ ہم خود ان مسائل کو بڑھا چڑھا کر اپنے اوپر مسلط کرتے ہیں۔ ممکن ہے کہ میری رائے سخت لگے، مگر حقیقت یہی ہے کہ اگر صحیح رہنمائی اور ہدایات پر عمل کیا جائے تو ہمارے یہاں کوئی ایسا مسئلہ نہیں جو حل نہ ہوسکے۔ مسئلہ ہماری غفلت اور غیر سنجیدہ رویے کا ہے، نہ کہ مسائل کی پیچیدگی کا۔

ہم نے خود ہی ایسا معاشرہ تشکیل کر دیا ہے 

  • جہاں خود کو عقل نہیں، وہاں دوسروں کے عیب تلاش کر کے خود کو برتر ثابت کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔
  • ایجوکیشن کے نام پر محض رٹہ سسٹم کو فروغ دیا جا رہا ہے، جس کے نتیجے میں ذہنی طور پر مفلوج افراد (Zombies) تیار کیے جا رہے ہیں، جن کی عالمی سطح پر کوئی اہمیت نہیں۔
  • اگر واقعی اتنے لوگ پاکستان سے بیرون ملک جا رہے ہیں تو وہ عالمی سطح پر کیوں نمایاں نہیں؟ دبئی یا سعودی عرب کے علاوہ دیگر ترقی یافتہ ممالک میں ان کی نمائندگی کیوں نہیں؟ کیا ہم نے ان کی تعلیم اس معیار کی دی ہے کہ وہ عالمی سطح پر اپنی شناخت بنا سکیں؟
  • کیا ہمارے معاشرے میں تعلیم و تربیت کے عمل کو مؤثر اور مثبت انداز میں استعمال کیا جا رہا ہے؟
  • کیا ہم نے سیکھنے اور سکھانے کے ایسے مواقع پیدا کیے ہیں جہاں باہمی تعاون (Collaboration) کو فروغ دیا جاتا ہو اور اجتماعی ترقی کو ممکن بنایا جائے؟
  • کیا ہمارا تعلیمی نظام محض نمبر لینے تک محدود ہو چکا ہے، یا واقعی میں تخلیقی سوچ اور عملی مہارتوں کو فروغ دیتا ہے؟
  • کیا ہم اپنے نوجوانوں کو صرف ڈگری کے پیچھے بھگانے کے بجائے اصل زندگی کی مہارتیں سکھا رہے ہیں؟
  • کیا سیکھنے اور سکھانے کے عمل میں تنقیدی سوچ اور سوال کرنے کی حوصلہ افزائی کی جا رہی ہے؟
  • ہمارے ادارے کیا واقعی قابلیت اور محنت کی بنیاد پر افراد کو آگے بڑھا رہے ہیں یا محض سفارشی اور خوشامدی کلچر کو فروغ دیا جا رہا ہے؟
  • کیا ہم نے اپنی اخلاقی اقدار اور سماجی شعور کو تعلیمی نظام کا لازمی حصہ بنایا ہے یا صرف کتابی تعلیم تک محدود کر دیا ہے؟
  • کیا ہمارے تعلیمی ادارے طلبہ کو عالمی معیار کے مطابق تیار کر رہے ہیں یا محض ڈگریاں بانٹنے کے مراکز بن چکے ہیں؟
  • کیا ہم اپنی ناکامیوں کا ذمہ دار خود کو سمجھتے ہیں یا دوسروں پر الزام تراشی کو ترجیح دیتے ہیں؟
  • کیا واقعی ہم نے تعلیم کو ایک تبدیلی کا ذریعہ بنایا ہے یا اسے کاروبار بنا کر رکھ دیا ہے؟

ہم "صحیح" ہیں!

یہ ذہنیت نے ہماری عقل اور سمجھ بوجھ کو سلب کر لیا ہے۔ انسان ہمیشہ ارتقاء کرتا آیا ہے، لیکن آج جس اخلاقی پستی میں ہم گر چکے ہیں، وہ اس لیے ہے کہ ہم نے ترقی پر فل اسٹاپ لگا دیا ہے اور اپنے آپ کو یہ سمجھ کر مطمئن ہو گئے ہیں کہ ہم ہمیشہ درست ہیں۔

تم بھی تو یہی بات کررہے ہو!

میں نے یہاں "کولیبریشن" کا لفظ استعمال کیا ہے، جسے ہماری رٹہ بازی کی صلاحیتیں نہیں سمجھ سکتیں۔ اب میں یہاں کولیبریشن کی تعریف نہیں بتاؤں گا، کیونکہ ہم نے پہلے ہی اس کا بیڑہ غرق کر دیا ہے، منہ کے سامنے دے کر۔ ہم اسلام کے سوداگر بنے پھرتے ہیں، حالانکہ اسلام نے ہمیں یہ نہیں سکھایا کہ اپنا گریبان چھوڑ کر دوسروں کو دیکھتے رہیں۔ یہ یہودیوں کی روش تھی، جسے ہم نے اپنالیا ہے۔ دونوں طریقوں میں بہت فرق ہے (اور یہ دونوں طریقے کیا ہیں، خود ہی سمجھ لو)۔ مگر اس میں ایک اور بات ہے کہ ہمارے اندر سمجھ بوجھ کا فقدان ہے، جس کی وجہ سے ہم ان دونوں پہلوؤں میں فرق نہیں کر پاتے۔

بچوں کو کیا بنا رہے ہیں، صرف اپنے آپ کو صحیح ثابت کرنے کے لئے

ہوسکتا ہے کہ میں یہاں غلط ہوں، مگر میں یہ سمجھتا ہوں کہ یہ ایک احساس کمتری کی قسم ہے۔ جب ہمارے بزرگ اس پوزیشن پر پہنچتے ہیں جہاں فیصلہ سازی ان کے ہاتھ میں ہوتی ہے، تو اللہ نے انہیں یہ حکم دیا ہے کہ وہ ذمہ داری کا مظاہرہ کریں۔ لیکن کیا بحیثیت معاشرہ ہم میں سے کوئی بھی اپنی ذمہ داری نبھا رہا ہے؟

یہ صورتحال مشکل لگ سکتی ہے، لیکن یہ ضروری ہے کہ ہم یہ تسلیم کریں کہ ذمہ داری ایک مشترکہ کوشش ہے۔ تبدیلی ہمارے اندر سے شروع ہوتی ہے، اور صرف باہمی سمجھوتے اور مشترکہ جوابدہی کے ذریعے ہی ہم ترقی کرسکتے ہیں۔ ہم سب کا کردار ہے ایک بہتر مستقبل کی تشکیل میں، اور صرف تعاون اور خود احتساب کے ذریعے ہی ہم آگے بڑھ سکتے ہیں۔

مکمل تحریر >>

بلاگ میں مزید دیکھیں

You might like

$results={5}

Search me