Pages

24/2/26

پاکستان کی نوجوان قوم کی حیران کن حقیقت

سلام علیکم دوستو!  
میں مرتضیٰ معیز ہوں، کراچی کا رہنے والا، اور آج میں ایک یوٹیوب شارٹ سے متاثر ہو کر یہ بلاگ لکھ رہا ہوں جس کا عنوان ہے "The SHOCKING Truth About Pakistan's Young Nation"۔ یہ شارٹ ویڈیو پاکستان کی آبادی کی ایک ایسی حقیقت کو سامنے لاتی ہے جو واقعی حیران کن ہے، اور میں اسے اپنے الفاظ میں کھول کر بیان کروں گا۔ یہ میرا اپنا لکھا ہوا ہے، روزمرہ کے مشاہدات اور اعداد و شمار کی بنیاد پر۔ آئیے دیکھتے ہیں کہ پاکستان کی یہ "نوجوان قوم" کیا ہے، کیوں یہ حیران کن ہے، اور اس کے کیا اثرات ہو سکتے ہیں۔

پاکستان کی نوجوان قوم کیا ہے؟

پاکستان کو "نوجوان قوم" کہنے کا مطلب یہ ہے کہ ہماری آبادی کا بڑا حصہ نوجوانوں پر مشتمل ہے۔ یہ کوئی شعری بات نہیں، بلکہ اعداد و شمار کی حقیقت ہے۔ اقوام متحدہ اور دیگر رپورٹس کے مطابق، پاکستان کی کل آبادی تقریباً 25 کروڑ سے زیادہ ہے، اور اس میں سے 64 فیصد لوگ 30 سال سے کم عمر کے ہیں۔ جی ہاں، 64 فیصد! اس کا مطلب ہے کہ تقریباً دو تہائی پاکستانی نوجوان ہیں۔ خاص طور پر، 15 سے 29 سال کی عمر کے لوگ 29 فیصد ہیں – یہ وہ گروپ ہے جو "یوتھ" کہلاتا ہے۔

یہ اعداد حیران کن ہیں کیونکہ دنیا کے بیشتر ممالک میں آبادی بوڑھی ہو رہی ہے۔ مثال کے طور پر، چین میں اوسط عمر 52 سال تک پہنچنے والی ہے، برطانیہ میں 42، جبکہ پاکستان میں اوسط عمر صرف 20.4 سال ہے۔ 2050 تک بھی یہ صرف 26 سال تک پہنچے گی۔ یہ "یوتھ بلج" ہے – یعنی نوجوانوں کی ایک لہر جو ملک کو آگے بڑھا سکتی ہے یا مسائل پیدا کر سکتی ہے۔

کیوں یہ حقیقت "حیران کن" ہے؟

یہ حقیقت حیران کن ہے کیونکہ یہ ایک موقع بھی ہے اور چیلنج بھی۔ ایک طرف، اتنی نوجوان آبادی کا مطلب ہے کہ ہمارے پاس مزدور قوت، نئی سوچیں، اور ترقی کی صلاحیت ہے۔ تصور کریں: اگر یہ نوجوان تعلیم یافتہ ہوں، نوکریاں پائیں، اور ملک کی معیشت میں حصہ ڈالیں تو پاکستان ایک طاقتور ملک بن سکتا ہے۔ یہ وہی ہے جو چین اور بھارت نے کیا – اپنی نوجوان آبادی کو استعمال کر کے معاشی انقلاب لائے۔

لیکن دوسری طرف، یہ حیران کن اس لیے ہے کیونکہ ہم اس موقع کو ضائع کر رہے ہیں۔ پاکستان میں نوجوانوں کی شرح نمو دنیا میں سب سے زیادہ ہے (تقریباً 2 فیصد سالانہ)، اور بچوں کی پیدائش کی شرح بھی جنوبی ایشیا میں سب سے زیادہ (3.6 بچے فی خاتون)۔ نتیجہ؟ وسائل کم، مسائل زیادہ۔ نوجوان بے روزگار ہیں، مہنگائی کی زد میں ہیں، اور تعلیم کا معیار ناقص ہے۔ ایک رپورٹ کے مطابق، 60 فیصد نوجوانوں کو مناسب تعلیم، نوکری، یا معاشی مواقع نہیں ملتے۔ یہ "بلج" ایک دھماکہ خیز بم کی طرح ہے جو پھٹ سکتا ہے اگر نہ سنبھالا جائے۔

ہمارے نوجوانوں کے سامنے چیلنجز

اب دیکھیں کہ یہ نوجوان قوم کس حال میں ہے:
- بے روزگاری اور مہنگائی: میرے پچھلے بلاگ میں میں نے کراچی کی مہنگائی پر بات کی تھی۔ یہ نوجوان، جو ملک کا مستقبل ہیں، مہنگائی کی وجہ سے پریشان ہیں۔ نوکریاں نہیں، اور اگر ہیں تو تنخواہ کم۔ تقریباً 80 فیصد لوگ 40 سال سے کم عمر کے ہیں، اور یہ سب اپنے بچوں کی پرورش کے سالوں میں ہیں – لیکن وسائل کہاں؟
- تعلیم کی کمی: لاکھوں نوجوان سکول نہیں جا پاتے۔ جو جاتے ہیں، وہاں معیار ناقص۔ نتیجہ؟ ہنر مند مزدور قوت کی کمی، اور ملک کی ترقی رک جاتی ہے۔
- سیاسی اور سماجی مسائل: نوجوانوں کی یہ لہر اگر ناراض ہو تو انقلاب لا سکتی ہے، جیسے عمران خان کی تحریک میں دیکھا۔ لیکن اگر استعمال نہ کیا جائے تو انتہا پسندی، جرائم، اور مایوسی پھیلتی ہے۔
- ماحولیاتی اور معاشی دباؤ: کراچی کی تباہی کے بلاگ میں میں نے بتایا تھا کہ غلط ترقی اور لالچ شہر کو تباہ کر رہے ہیں۔ یہ نوجوان آبادی وسائل پر مزید دباؤ ڈال رہی ہے – پانی، بجلی، رہائش۔ اگر ابھی پلاننگ نہ کی تو 2050 تک آبادی اور بڑھے گی، اور مسائل آسمان چھوئیں گے۔

یہ موقع کیسے استعمال کریں؟

یہ حیران کن حقیقت کو تبدیل کرنے کا وقت ہے۔ ہمیں چاہیے:
1. تعلیم پر سرمایہ کاری: ہر نوجوان کو معیاری تعلیم دیں، خاص طور پر ہنر سیکھنے والے کورسز۔
2. نوکریاں پیدا کریں: کاروبار کو آسان بنائیں، نوجوانوں کو سٹارٹ اپس شروع کرنے میں مدد دیں۔ حجم پر توجہ دیں، جیسے مہنگائی والے بلاگ میں کہا۔
3. خاندانی منصوبہ بندی: پیدائش کی شرح کو کنٹرول کریں تاکہ آبادی متوازن رہے۔
4. سیاسی شرکت: نوجوانوں کو سیاست میں لائے، تاکہ وہ اپنا مستقبل خود بنائیں۔

اگر ہم یہ نہ کریں تو یہ "نوجوان قوم" ایک لعنت بن جائے گی – بے روزگاری، غربت، اور عدم استحکام۔

آخری بات

دوستو، یہ یوٹیوب شارٹ کی حقیقت ہے جو ہمیں جھنجھوڑتی ہے: پاکستان دنیا کی سب سے نوجوان قوموں میں سے ایک ہے، لیکن ہم اسے ضائع کر رہے ہیں۔ یہ حیران کن ہے کیونکہ یہ ہمارا مستقبل ہے۔ میرے پچھلے بلاگس کی طرح، یہ بھی ہمارے رویے پر منحصر ہے – لالچ چھوڑیں، پائیدار ترقی پر توجہ دیں۔

آپ کیا سوچتے ہیں؟ کمنٹس میں بتائیں۔ اللہ پاکستان کو ترقی دے۔  
کراچی  
24 فروری 2026


بلاگ میں مزید دیکھیں

You might like

$results={5}

Search me

Translate