پاکستانی میوزک، کرکٹ اور قومی شناخت: ہم اپنی پہچان کہاں چھوڑ آئے؟
سیدھی بات، No بکواس
کچھ لوگوں نے یہ کہنا ہے کہ یہ بلاگ لکھنے میں دیری ہوگئی، اصل میں اس طرح کے ٹاپکس میرے زیادہ دلچسپی کے ہوتے ہیں مگر اس دوران میں اپنی اتنی مصروفیات میں تھا، اور جس کی بناہ پر میں اس ٹائم نہیں لکھ سکا، in short فیملی مصروفیات تھیں مگر یہ میرے ذہن میں بالکل تھا کہ اس بارے میں لکھوں گا، میں اس طرح کے بلاگ کے لیے لمبی تمہید نہیں باندھوں گا۔ جیسے Sprite کے اشتہار کا سلوگن ہے، ”سیدھی بات، No بکواس“، میں بھی سیدھا موضوع پر آتا ہوں۔
مسئلہ صرف موسیقی کا نہیں۔ مسئلہ یہ ہے کہ جب کسی ملک کو عالمی سطح پر اپنی ثقافت، شناخت اور تخلیقی صلاحیت پیش کرنے کا موقع ملتا ہے، تو کیا وہ اس موقع کو اپنی پہچان اجاگر کرنے کے لیے استعمال کرتا ہے؟
یا ہم اتنے عرصے سے معمولی معیار کو قبول کرتے کرتے یہ سوال پوچھنا ہی بھول گئے ہیں کہ ہماری اپنی آواز کہاں ہے؟
نوری سے آغاز: جب پاکستانی میوزک ڈیجیٹل دنیا سے جڑ رہا تھا
یہ ویڈیو دیکھیے۔ نوری کا گانا Do Dil پاکستانی میوزک کے اس دور کی یاد دلاتا ہے جب مقامی بینڈز اپنی الگ آواز، اپنے تجربات اور اپنی شناخت کے ساتھ سامنے آ رہے تھے۔
اس ویڈیو کی اشاعت اور گانے کی ریلیز کے سال کا تقابل کرنے پر ایک دلچسپ پہلو سامنے آتا ہے: پاکستانی موسیقی سے وابستہ لوگ اس وقت بھی ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کو استعمال کر رہے تھے، جب پاکستان میں یوٹیوب تک رسائی پر پابندی عائد تھی۔
ہم میں سے بہت سے لوگ اس دور میں انٹرنیٹ استعمال کرنا سیکھ رہے تھے۔ یوٹیوب تک رسائی کے لیے VPN کا استعمال بھی ہمارے لیے ایک نئی چیز تھی۔ اس ماحول میں کسی پاکستانی بینڈ کی ویڈیو کا یوٹیوب پر موجود ہونا اس بات کی یاد دہانی ہے کہ موسیقی اور ڈیجیٹل کلچر کی دنیا میں پاکستانی فن کار اور سامعین بھی تبدیلیوں سے جڑ رہے تھے۔
یہاں میرا مقصد ماضی کو موجودہ دور سے بہتر قرار دینا نہیں۔ میں صرف ایک بنیادی فرق کی طرف توجہ دلانا چاہتا ہوں۔
اس دور کے پاکستانی میوزک میں اپنی ایک آواز محسوس ہوتی تھی۔ بینڈز کی موسیقی، گلوکاری، سازوں کے انتخاب اور مجموعی انداز میں ایک ایسا تخلیقی تجربہ تھا جسے محض کسی عالمی یا علاقائی رجحان کی نقل قرار دینا آسان نہیں تھا۔[
اس تاریخی تقابل کا مقصد یہ دکھانا ہے کہ پاکستانی موسیقی کی ڈیجیٹل دنیا سے وابستگی کوئی نئی بات نہیں۔ اصل سوال یہ ہے کہ وقت گزرنے کے ساتھ ہماری تخلیقی شناخت کس سمت میں گئی؟
یہ سب بتانے کا مقصد کیا ہے؟
اب فاسٹ فارورڈ کرتے ہیں 2022 کی طرف۔
جنوبی ایشیا کی موسیقی میں جدید پروڈکشن، بین الاقوامی تعاون اور مختلف ثقافتی اثرات کا امتزاج کوئی غیر معمولی بات نہیں۔ پاکستانی فن کار بھی اس تبدیلی کا حصہ رہے ہیں۔ جدید ساز استعمال کرنا، نئی پروڈکشن اپنانا یا عالمی سامعین تک پہنچنے کی کوشش کرنا بذاتِ خود کوئی مسئلہ نہیں۔
مسئلہ اس وقت پیدا ہوتا ہے جب جدیدیت کے نام پر مقامی شناخت پس منظر میں چلی جائے۔
میرے لیے موسیقی میں پاکستانی ہونا صرف اردو بول یا کسی روایتی ساز کے استعمال کا نام نہیں۔ اس میں دھن کی ساخت، تال، سازوں کی ترتیب، زبان، ثقافتی احساس اور اس تخلیقی سوچ کا بھی حصہ ہے جو موسیقی کو اپنے خطے سے جوڑتی ہے۔
اسی لیے جب میں 2025 کی چیمپئنز ٹرافی اور پھر 2026 کے ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ کی موسیقی کا تقابل کرتا ہوں، تو میرے ذہن میں صرف یہ سوال نہیں آتا کہ کون سا گانا زیادہ catchy تھا۔
میرا سوال یہ ہے: کیا ہم عالمی سطح کے کھیلوں کے ایونٹس کو اپنی ثقافتی شناخت پیش کرنے کے لیے استعمال کر رہے ہیں، یا صرف ایک ایسا عالمی ساونڈ تیار کر رہے ہیں جو کسی بھی ملک کے ٹورنامنٹ کے ساتھ فٹ ہو سکتا ہے؟
چیمپئنز ٹرافی 2025: پاکستان کی میزبانی، مگر پاکستانی شناخت کہاں؟
[ویڈیو: یاسر اختر کا انٹرویو]
یاسر اختر کے انٹرویو میں موسیقی اور شناخت سے متعلق اٹھنے والا سوال میرے لیے اہم ہے۔ ان کے لہجے میں ایک طرف امید نظر آتی ہے، لیکن دوسری طرف یہ شکوہ بھی محسوس ہوتا ہے کہ پاکستانی موسیقی کی اپنی شناخت کو کتنی اہمیت دی جا رہی ہے۔
یہاں میں ایک بات واضح کرنا چاہتا ہوں: چیمپئنز ٹرافی 2025 کا آفیشل گانا Jeeto Baazi Khel Ke تھا، جسے عاطف اسلم نے گایا، جبکہ اس کی پروڈکشن عبداللہ صدیقی نے کی اور بول عدنان دھول اور اسفند یار اسد نے لکھے۔ آئی سی سی نے اس کی ویڈیو کو پاکستان کی ثقافت، بازاروں، گلیوں اور کرکٹ کے ماحول کی نمائندگی کے طور پر پیش کیا تھا، مگر میرا یہاں تنقید یہی ہے کہ پورا پاکستان نا ہی ایسا ہے، بلکہ ایک چھوٹا سا علاقہ میں اتنی diversity ہے، میں بائیک رائیڈنگ کرتا ہوں، میں نے کراچی میں ہی اتنی demographic variation دیکھی ہے، ایسے میں اگر آپ پورے پاکستان کی بات کریں تو یہ کیسے ممکن ہے کہ پورا پاکستان ایسی گلیوں پر مشتمل ہے، حالانکہ مجھے سیگریٹ کو پروموٹ نہیں کرنا چاہئے مگر شعیب منصور کا ایک شو تھا جہاں فخر عالم، سلمان احمد وغیرہ تھے، انہوں نے بیشک دوسرے ممالک کا ٹریول کیا مگر انہوں نے ہمارے دماغ کھولے کے دنیا ایسی بھی ہے، صرف روشنیاں نہیں، تو اسی بنیاد پر پورے پاکستان کو ان تنگ گلیوں میں بند کرنا کہاں کی عقلمندی ہے؟؟؟
لیکن کسی گانے کے ساتھ پاکستانی فن کاروں کا منسلک ہونا اور اس کے اندر پاکستانی موسیقی کی نمایاں شناخت محسوس ہونا دو الگ سوال ہیں۔
ایک پاکستانی سامع کی حیثیت سے مجھے یہ موسیقی سنتے ہوئے وہ ثقافتی انفرادیت پوری طرح محسوس نہیں ہوئی جس کی مجھے پاکستان میں منعقد ہونے والے اتنے بڑے ٹورنامنٹ سے توقع تھی۔ میں یہاں اسٹرنگز کا فین ہوتے ہوئے سر کئے یہ پہاڑ کا Karaoke سے کمپئیر کروں گا، تو پاکستانی ٹچ کے بجائے یہ بالی ووڈ ٹچ زیادہ لگ رہا تھا۔
یہ میرا ذاتی تنقیدی تاثر ہے، کوئی ایسی معروضی حقیقت نہیں جس پر ہر سامع کا متفق ہونا ضروری ہو۔
لیکن سوال اپنی جگہ موجود ہے: جب پاکستان کو تقریباً تین دہائیوں بعد مردوں کے ایک بڑے آئی سی سی ایونٹ کی میزبانی کا موقع ملا، تو کیا ہماری موسیقی اور ثقافتی پیش کش اس تاریخی موقع کے شایانِ شان تھی؟
کسی بھی عالمی ایونٹ کا آفیشل گانا صرف پس منظر میں چلنے والی موسیقی نہیں ہوتا۔ یہ اس ایونٹ کی یادداشت کا حصہ بنتا ہے۔ لوگ اسے میچز کے ساتھ یاد رکھتے ہیں، اس کی ویڈیوز دیکھتے ہیں، اسے سوشل میڈیا پر شیئر کرتے ہیں اور بالآخر اس کے ذریعے میزبان ملک کے بارے میں بھی ایک تاثر قائم کر سکتے ہیں۔
اسی لیے میں سمجھتا ہوں کہ ایسے موقع پر ثقافتی شناخت کو ایک ثانوی چیز نہیں سمجھنا چاہیے۔
2025 کی چیمپئنز ٹرافی اور جنگ کے بیانیے کا سوال
یہاں ایک اور پہلو بھی ہے جسے نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔
چیمپئنز ٹرافی 19 فروری 2025 کو شروع ہوئی۔ اس کے چند ماہ بعد، 7 مئی 2025 کو بھارت نے پاکستان اور پاکستان کے زیرِ انتظام علاقوں میں حملے کیے۔ ان واقعات کے درمیان سیاسی اور عسکری کشیدگی کا ایک وسیع تناظر موجود تھا۔
لیکن میں ان دونوں واقعات کو ایک ہی چیز قرار نہیں دوں گا۔ کسی میوزک ویڈیو یا ثقافتی پروڈکشن کو کسی فوجی کارروائی سے پہلے کی منظم ففتھ جنریشن وار کا حصہ ثابت کرنے کے لیے ٹھوس شواہد درکار ہیں۔ صرف یہ محسوس ہونا کہ موسیقی کسی دوسرے ملک کے انداز سے ملتی ہے، اس دعوے کے لیے کافی نہیں۔
البتہ اس سے ایک الگ اور اہم سوال ضرور پیدا ہوتا ہے: کیا ہم قومی سطح پر ثقافتی ابلاغ کی اہمیت کو سمجھتے ہیں؟
اگر دوسرے ممالک اپنی موسیقی، فلموں، کھیلوں اور تفریحی صنعت کے ذریعے اپنی ثقافتی موجودگی کو مضبوط بناتے ہیں، تو پاکستان کو بھی اپنے تخلیقی شعبوں پر توجہ دینی چاہیے۔
آئی سی سی ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ 2026: میزبان دو، مگر ثقافتی آواز کس کی؟
اب آتے ہیں 2026 کے آئی سی سی مینز ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ کی طرف۔
اس ٹورنامنٹ کی میزبانی بھارت اور سری لنکا نے مشترکہ طور پر کی۔ اس کا آفیشل گانا Feel the Thrill تھا، جسے بھارتی موسیقار اور گلوکار انیرودھ روی چندر نے ترتیب دیا اور گایا۔ آئی سی سی نے اسے 30 جنوری 2026 کو جاری کیا تھا۔ https://www.icc-cricket.com/media-releases/icc-launches-feel-the-thrill-as-official-song-of-icc-men-s-t20-world-cup-2026
یہاں میری تنقید انیرودھ کی صلاحیت یا بھارتی موسیقی کی مقبولیت پر نہیں ہے۔ کسی فن کار کو صرف اس کی قومیت کی بنیاد پر منتخب کرنا یا مسترد کرنا خود ایک محدود سوچ ہوگی۔
میرا سوال سری لنکا کی ثقافتی نمائندگی کے بارے میں ہے۔
اگر کوئی ٹورنامنٹ دو ممالک میں منعقد ہو رہا ہو، تو کیا اس کی عالمی تشہیر میں دونوں ممالک کی ثقافتوں کو نمایاں کرنے کا موقع نہیں ہونا چاہیے؟ کیا سری لنکا کی موسیقی، مقامی ساز، زبانیں اور فن کار اس بڑے ایونٹ کے ثقافتی تاثر میں نمایاں کردار ادا نہیں کر سکتے تھے؟
میرے نزدیک یہی وہ سوال ہے جو 2026 کے ٹورنامنٹ کی موسیقی سنتے ہوئے پیدا ہوتا ہے۔
جنوبی ایشیا کی موسیقی میں مشترکہ اثرات ہونا فطری ہے۔ پاکستانی، بھارتی، سری لنکن اور بنگلہ دیشی موسیقی کے درمیان بعض مماثلتیں بھی موجود ہیں۔ لیکن مشترکہ ثقافتی خطے کا حصہ ہونے کا مطلب یہ نہیں کہ ہر ملک اپنی انفرادی شناخت کو نظرانداز کر دے۔
ایک عالمی ایونٹ میں بین الاقوامی اپیل اور مقامی شناخت ایک دوسرے کی مخالف نہیں ہیں۔ اچھی تخلیقی حکمتِ عملی دونوں کو ساتھ لے کر چل سکتی ہے۔
سری لنکا کی میزبانی محض اس بات سے مکمل نہیں ہوتی کہ اس کے گراؤنڈز میں میچ کھیلے جائیں۔ ثقافتی نمائندگی بھی اس تجربے کا حصہ بن سکتی ہے۔
بنگلہ دیش 2014: میزبان ملک کی شناخت کیوں اہم ہے؟
2014 کے آئی سی سی ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ کی میزبانی بنگلہ دیش نے کی تھی۔ اس ایونٹ کو یاد کرتے ہوئے میرے لیے ایک بنیادی سوال اہم ہے: جب کوئی ملک عالمی کرکٹ ٹورنامنٹ کی میزبانی کرتا ہے، تو وہ دنیا کو اپنے بارے میں کیا دکھاتا ہے؟
میری تنقید کا مرکز کسی مخصوص ٹورنامنٹ کو زیادہ یا کم دلچسپ قرار دینا نہیں۔ میں خود موسیقی، خصوصاً کراوکی اور سازوں کی موسیقی، توجہ سے سنتا ہوں۔ اسی لیے ٹورنامنٹ کی موسیقی اور اسکور کارڈ کے دوران چلنے والی دھنیں بھی میرے لیے محض پس منظر کا شور نہیں ہوتیں۔
2026 کے ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ کی موسیقی میں مجھے جنوبی ایشیائی موسیقی کے جدید انداز کا امتزاج محسوس ہوا۔ بعض دھنوں میں ستار جیسے روایتی سازوں اور الیکٹرک گٹار جیسی جدید آوازوں کا امتزاج سننے میں دلچسپ تھا۔
اس کے برعکس، 2025 کی چیمپئنز ٹرافی کے بعض میوزک حصوں میں مجھے ایک مختلف اور نسبتاً مغربی، آرکیسٹرل انداز محسوس ہوا۔ یہ موسیقی سے متعلق میرا ذاتی تاثر ہے، لیکن اسی تاثر نے مجھے یہ سوچنے پر مجبور کیا کہ پاکستان کے اپنے موسیقی کے وسائل اور روایات کو مزید نمایاں کرنے کی گنجائش موجود تھی۔
سوال یہ نہیں کہ موسیقی میں ستار لازماً ہونا چاہیے، یا ہر پاکستانی گانے میں روایتی ساز شامل کیے جائیں۔ ایسا کرنا بھی شناخت کو ایک فارمولے میں محدود کر دینا ہوگا۔
سوال یہ ہے کہ کیا تخلیقی ٹیم نے اس ملک کی موسیقی، اس کے جدید بینڈز، اس کے علاقائی سازوں اور اس کی متنوع ثقافت کو پوری طرح دریافت کیا؟
پاکستان کی موسیقی صرف ایک صنف یا ایک زبان تک محدود نہیں۔ اس میں پاپ، راک، قوالی، کلاسیکی موسیقی، صوفی روایت، علاقائی زبانیں اور جدید الیکٹرانک پروڈکشن سب شامل ہو سکتے ہیں۔
اگر ہم یہ تنوع ایک عالمی ایونٹ میں پیش نہیں کرتے، تو پھر اسے عالمی سطح پر متعارف کرانے کے مواقع کہاں تلاش کریں گے؟
پاکستان، سری لنکا اور جنوبی افریقہ: میزبانی کے مواقع کا تقابل
یہاں کرکٹ کی میزبانی کی تاریخ بھی اہم ہے۔
پاکستان نے 1987 کے کرکٹ ورلڈ کپ میں بھارت کے ساتھ، 1996 کے ورلڈ کپ میں بھارت اور سری لنکا کے ساتھ، اور پھر 2025 کی چیمپئنز ٹرافی کی میزبانی کی۔ 2025 کا ایونٹ پاکستان میں ہونے کے باوجود بھارت کے میچز اور فائنل سے متعلق انتظامات مختلف تھے، اس لیے میزبانی کے اعداد و شمار بیان کرتے وقت مکمل سیاق و سباق ضروری ہے۔
سری لنکا نے بھی 1996 کے ورلڈ کپ کی مشترکہ میزبانی کی، 2012 کے ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ کی میزبانی کی، اور 2026 کے ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ میں بھارت کے ساتھ شریک میزبان رہا۔ جنوبی افریقہ نے 2003 کے ورلڈ کپ کی میزبانی کی، 2007 کے ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ کی میزبانی کی، اور 2027 کے ورلڈ کپ میں زمبابوے اور نمیبیا کے ساتھ شریک میزبان ہے۔
ان اعداد و شمار سے یہ نتیجہ نکالنا درست نہیں ہوگا کہ کسی ملک کی قومی شناخت صرف آئی سی سی ٹورنامنٹس کی تعداد سے ناپی جا سکتی ہے۔ میزبانی کے مواقع سیاسی، مالی، انتظامی، بنیادی ڈھانچے اور آئی سی سی کے انتخابی عمل سے بھی متاثر ہوتے ہیں۔
لیکن ان مواقع کا ایک ثقافتی پہلو ضرور ہے۔
جب کسی ملک کو عالمی ایونٹ کی میزبانی ملتی ہے، تو اسے دنیا کے سامنے اپنی ثقافت، فن، سیاحت، مہمان نوازی اور تخلیقی صلاحیت پیش کرنے کا موقع بھی ملتا ہے۔
پاکستان کے لیے 2025 کی چیمپئنز ٹرافی اسی لحاظ سے ایک اہم موقع تھا۔ اگر ہم مستقبل میں مزید عالمی ایونٹس حاصل کرنا چاہتے ہیں، تو ہمیں صرف گراؤنڈز، سیکیورٹی اور انتظامات پر نہیں بلکہ اس بات پر بھی غور کرنا چاہیے کہ ہم اپنے ملک کا تجربہ دنیا کے سامنے کس انداز میں پیش کریں گے۔
آئی سی سی کے 2021 میں اعلان کردہ مردوں کے بڑے ٹورنامنٹس کے شیڈول میں 2024 سے 2031 تک کے میزبان مقرر کیے گئے تھے۔ اس پروگرام کے مطابق پاکستان کے لیے 2025 کی چیمپئنز ٹرافی کے بعد اس عرصے میں کوئی اور مردوں کا بڑا آئی سی سی وائٹ بال ایونٹ مختص نہیں تھا۔ https://www.icc-cricket.com/news/usa-to-stage-t20-world-cup-2024-2031-icc-mens-tournament-hosts-confirmed
اس کا مطلب یہ نہیں کہ پاکستان 2032 تک کوئی بھی آئی سی سی ایونٹ منعقد نہیں کر سکتا؛ مستقبل کے شیڈول اور مختلف زمروں کے ٹورنامنٹس الگ فیصلوں سے تبدیل ہو سکتے ہیں۔ البتہ یہ حقیقت ضرور ہے کہ عالمی ایونٹس کی میزبانی مستقل بنیادوں پر حاصل کرنے کے لیے منصوبہ بندی، انتظامی صلاحیت اور قابلِ اعتماد انفراسٹرکچر اہم ہیں۔
اور جب ہمیں ایسا موقع ملے، تو اسے صرف ایک کھیلوں کے ایونٹ تک محدود نہیں رکھنا چاہیے۔ اسے اپنی ثقافت اور تخلیقی صنعت کو عالمی سطح پر متعارف کرانے کا موقع بھی سمجھنا چاہیے۔
اصل مسئلہ میوزک نہیں، ہماری ترجیحات ہیں
یہاں آ کر میری تنقید کا اصل نکتہ سامنے آتا ہے۔
مجھے یہ اعتراض نہیں کہ پاکستان عالمی موسیقی کے اثرات قبول کرتا ہے۔ ثقافتیں ایک دوسرے سے سیکھتی ہیں، نئے ساز اپناتی ہیں، نئے انداز تخلیق کرتی ہیں اور وقت کے ساتھ بدلتی ہیں۔
مجھے اعتراض اس بات پر ہے کہ ہم اپنی شناخت کو واضح طور پر پیش کرنے کے لیے کتنی سنجیدہ کوشش کرتے ہیں۔
اگر پاکستان کے پاس باصلاحیت موسیقار، گلوکار، پروڈیوسرز، بینڈز اور علاقائی موسیقی کی بھرپور روایت موجود ہے، تو کسی بڑے عالمی ایونٹ کے لیے تخلیقی منصوبہ بندی کرتے وقت ان تمام وسائل کو منظم انداز میں کیوں نہ استعمال کیا جائے؟
اگر سری لنکا شریک میزبان ہے، تو اس کی موسیقی کو نمایاں جگہ کیوں نہ دی جائے؟
اگر پاکستان اپنے ملک میں چیمپئنز ٹرافی منعقد کر رہا ہے، تو اس کی ثقافتی پیش کش ایسی کیوں نہ ہو جسے دنیا برسوں بعد بھی پاکستانی شناخت کے ساتھ یاد رکھے؟
ان سوالات کا جواب کسی دوسرے ملک کی موسیقی کو کمتر قرار دینے میں نہیں۔ جواب اپنی تخلیقی صنعت کو بہتر بنانے، واضح ثقافتی وژن قائم کرنے اور اعلیٰ معیار کے کام میں سرمایہ کاری کرنے میں ہے۔
ہمیں یہ سمجھنا ہوگا کہ قومی شناخت کسی سرکاری نعرے کا نام نہیں۔ یہ اس بات میں بھی ظاہر ہوتی ہے کہ ہم کیا تخلیق کرتے ہیں، دنیا کو کیا دکھاتے ہیں، اور اپنے ثقافتی ورثے کو جدید دنیا میں کس انداز سے آگے لے کر جاتے ہیں۔
نتیجہ: ہم قوم ہیں یا صرف ہجوم؟
میں اپنے مضمون کا آغاز اسی بات سے کرنا چاہتا تھا کہ سیدھی بات کی جائے۔
میرے لیے اصل مسئلہ یہ نہیں کہ 2025 کی چیمپئنز ٹرافی کا گانا کس نوعیت کا تھا، یا 2026 کے ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ میں کس موسیقار نے کام کیا۔ اصل مسئلہ یہ ہے کہ ہم اپنی ثقافتی شناخت کے بارے میں کتنے باشعور ہیں اور اسے عالمی سطح پر پیش کرنے کے لیے کتنی سنجیدہ منصوبہ بندی کرتے ہیں۔
پاکستان نے بڑے کرکٹ ایونٹس کی میزبانی کے لیے طویل انتظار کیا۔ 2025 کی چیمپئنز ٹرافی ہمارے لیے اپنی صلاحیت دکھانے کا ایک اہم موقع تھی۔ لیکن کسی بھی موقع سے فائدہ اٹھانے کے لیے صرف ایونٹ منعقد کرنا کافی نہیں؛ اس کے ذریعے اپنی ثقافت، موسیقی اور تخلیقی صنعت کو بھی آگے بڑھانا چاہیے۔
جب ہم اپنی ترجیحات کا جائزہ نہیں لیتے، اپنے فن کاروں کو مناسب مواقع نہیں دیتے، اور قومی شناخت کو صرف جذباتی نعروں تک محدود کر دیتے ہیں، تو ہمیں خود سے مشکل سوالات پوچھنے چاہییں۔
کیا ہم واقعی اپنی پہچان بنانے میں سنجیدہ ہیں، یا صرف دوسروں کے بنائے ہوئے معیار کے مطابق خود کو ڈھالتے جا رہے ہیں؟
میں اس طرزِ عمل کو ایک قومی ناکامی سمجھتا ہوں۔ اور اسی لیے میرا سوال سخت ہے: اگر ہم اپنی ثقافت، اپنے فن اور اپنی شناخت کی قدر خود نہیں کریں گے، تو دنیا سے اس قدر کی توقع کس بنیاد پر رکھیں گے؟
قومی شناخت کو زندہ رکھنے کے لیے صرف ماضی پر فخر کافی نہیں۔ ہمیں حال میں کچھ ایسا تخلیق بھی کرنا ہوگا جس پر مستقبل فخر کر سکے۔
سیدھی بات، No بکواس۔


