سلام علیکم دوستو!
میں مرتضیٰ معیز ہوں، کراچی کا رہنے والا، اور آج میں اپنے پچھلے بلاگ "کراچی میں مہنگائی کیوں بڑھ رہی ہے؟" کو ایک اور اہم موضوع سے جوڑ رہا ہوں کراچی کی تباہی۔ یہ بلاگ ڈان نیوز کے ایک آرٹیکل "DESTROYING KARACHI THROUGH ‘DEVELOPMENT’" سے متاثر ہے، جو کراچی کی غلط ترقی اور رئیل اسٹیٹ پروجیکٹس کی وجہ سے ہونے والی تباہی پر روشنی ڈالتا ہے۔ میں یہاں یہ بتانا چاہتا ہوں کہ مہنگائی کی وجہ سے کراچی کو جو نقصان پہنچ رہا ہے، وہ صرف معاشی نہیں بلکہ یہ شہر کی مجموعی تباہی کا حصہ ہے۔ نہ صرف ہم نے اس رویے سے کراچی کو تباہ کیا ہے بلکہ مجموعی مارکیٹ کو بھی مسخ کر دیا ہے۔ یہ میرا اپنا لکھا ہوا ہے، دل کی بات اور مشاہدات کی بنیاد پر۔
مہنگائی اور تباہی کا رشتہ
میرے پچھلے بلاگ میں میں نے بتایا تھا کہ کراچی میں مہنگائی کی ایک بڑی وجہ ہمارا اپنا رویہ ہے – ہر چیز پر زیادہ سے زیادہ منافع کمانے کی لالچ۔ دکاندار ایک ہی چیز پر زیادہ منافع مارتے ہیں، جس سے قیمتیں آسمان چھو جاتی ہیں، لوگ کم خریدتے ہیں، اور یہ چرخہ چلتا رہتا ہے۔ اب اسے کراچی کی تباہی سے جوڑیں: وہ تباہی جو غلط ترقی، ہائی رائز عمارتوں، اور رئیل اسٹیٹ کی اندھا دھند دوڑ سے ہو رہی ہے۔ یہ دونوں ایک ہی سکے کے دو رخ ہیں – لالچ اور قلیل مدتی سوچ۔
ڈان کے آرٹیکل میں بتایا گیا ہے کہ کراچی کی ماسٹر پلانز کو نظر انداز کیا جا رہا ہے، زوننگ قوانین کی خلاف ورزی ہو رہی ہے، اور ہائی رائز عمارتیں بغیر حفاظتی اقدامات کے بنائی جا رہی ہیں۔ یہ وہی لالچ ہے جو مہنگائی میں نظر آتی ہے: بلڈر مافیا زیادہ سے زیادہ منافع کے لیے قوانین توڑتے ہیں، گرین اسپیسز کو ختم کرتے ہیں، اور شہر کو ایک نازک ماحولیاتی نظام میں تبدیل کر دیتے ہیں۔ نتیجہ؟ بارشوں میں سیلاب، گلیاں ندیوں میں تبدیل، اور لوگوں کی جانیں ضائع۔ اگست 2025 کی بارشوں نے یہ ثابت کر دیا کہ کراچی ڈوب رہا ہے – نہ صرف پانی میں بلکہ غلط فیصلوں میں۔
ہم نے کراچی کو اس طرح کیسے تباہ کیا؟
یہ تباہی صرف جسمانی نہیں، معاشی بھی ہے، اور مہنگائی اس کا ایک بڑا ہتھیار ہے۔
- لالچ کی زنجیر: جیسے دکاندار ایک چیز پر زیادہ منافع مارتے ہیں اور کل فروخت کم ہو جاتی ہے، ویسے ہی بلڈرز ایک پلاٹ پر زیادہ سے زیادہ فلورز بناتے ہیں (فلوور ایریا ریشو کو 1.75:1 سے 4:1 تک بڑھا کر)، بغیر یہ سوچے کہ پانی، بجلی، سیوریج کا کیا ہوگا۔ نتیجہ: ایک پلاٹ جو ایک فیملی کے لیے تھا، اب 50-60 فیملیز (1000 سے زیادہ لوگ) رکھتا ہے۔ یہ strain شہر کے وسائل پر ڈالتا ہے، جس سے مہنگائی بڑھتی ہے – پانی مہنگا، بجلی مہنگی، ٹرانسپورٹ مہنگی۔
- ماحولیاتی نقصان: کراچی کے ساحلوں پر پروجیکٹس مینگرووز کو تباہ کر رہے ہیں، جو کاربن جذب کرنے والے اہم جنگلات ہیں۔ یہ تباہی سیلاب کا خطرہ بڑھاتی ہے، جو پھر معیشت کو متاثر کرتی ہے – کاروبار بند، لوگ بے روزگار، اور مہنگائی آسمان چھو جاتی ہے کیونکہ سپلائی چین ٹوٹ جاتی ہے۔
- رہائشیوں پر اثر: ہائی رائزز میں رہنے والے لوگ گرمی، آلودگی، اور تناؤ کا شکار ہیں۔ ایک سروے کے مطابق، 64% لوگ مستقل تکلیف میں ہیں۔ یہ ذہنی صحت خراب کرتی ہے، کام کی صلاحیت کم کرتی ہے، اور معاشی پیداوار گھٹتی ہے – جو مہنگائی کو مزید ہوا دیتی ہے۔
ہم نے کراچی کو تباہ کیا ہے اس لالچ سے جو مہنگائی کو جنم دیتا ہے اور ترقی کو غلط رخ دیتا ہے۔ شہر جو کبھی خوشحال تھا، اب ڈوب رہا ہے، جل رہا ہے، اور ٹوٹ رہا ہے۔
مجموعی مارکیٹ کو کیسے مسخ کیا؟
یہ صرف کراچی کی تباہی نہیں، بلکہ مجموعی مارکیٹ کی مسخ شدگی ہے۔
- سپیکولیٹو گروتھ: آرٹیکل میں بتایا گیا ہے کہ زمین کی استعمال قدر پر نہیں، بلکہ منافع پر ہو رہی ہے۔ یہ سپیکولیشن مارکیٹ کو distort کرتی ہے – رئیل اسٹیٹ میں پیسہ لگتا ہے، نہ کہ پیداواری کاموں میں۔ نتیجہ: معاشی عدم توازن، جہاں امیر مزید امیر ہوتے ہیں اور غریب مہنگائی کی زد میں آتے ہیں۔
- ریسورس کی کمی: غلط ترقی وسائل کو ختم کرتی ہے، جس سے اشیاء کی قیمتیں بڑھتی ہیں۔ مثال کے طور پر، گرین اسپیسز ختم ہونے سے درجہ حرارت بڑھتا ہے، جو زراعت کو متاثر کرتا ہے – پھل، سبزیاں مہنگیں، اور مہنگائی کا چرخہ چلتا ہے۔
- مصرفیت کی ترغیب: مالز اور ہائی رائزز مصرفیت کو بڑھاوا دیتے ہیں، بغیر پائیداری کے۔ یہ مارکیٹ کو distort کرتی ہے – لوگ ضروریات کی بجائے لگژری پر خرچ کرتے ہیں، قرض بڑھتے ہیں، اور معیشت کمزور ہوتی ہے۔
- بلڈر مافیا کا راج: قوانین توڑنے اور ایمنسٹی فیس سے بلڈنگز، مارکیٹ کو غیر منصفانہ بناتے ہیں۔ یہ مقابلہ ختم کرتا ہے، چھوٹے کاروبار تباہ ہوتے ہیں، اور بڑے پلیئرز مونوپولی قائم کرتے ہیں – جو مہنگائی کو مستقل بناتا ہے۔
مجموعی طور پر، یہ لالچ مارکیٹ کو مسخ کر رہی ہے: معاشی عدم مساوات بڑھ رہی ہے، وسائل ضائع ہو رہے ہیں، اور کراچی کی معیشت ایک نازک دھاگے پر لٹک رہی ہے۔
آخری بات
دوستو، مہنگائی اور غلط ترقی دونوں کراچی کو تباہ کر رہی ہیں، اور یہ ہمارا اپنا کیا دھرا ہے۔ اگر ہم اپنا رویہ نہ بدلیں – منافع کی بجائے پائیداری اور حجم پر توجہ دیں – تو یہ شہر مزید برباد ہوگا۔ آرٹیکل میں کہا گیا ہے کہ "پولیوٹر پیز پرنسپل" اپنانا چاہیے، جہاں تباہی کرنے والے اس کی قیمت ادا کریں۔ ہمیں بھی ایسا کرنا ہوگا۔
آپ کیا سوچتے ہیں؟ کمنٹس میں بتائیں۔ اللہ کراچی کو بچائے۔
کراچی