The Political Horizon

Translate

مئی 12, 2026

Baby Boomers not doing good to coming generations

الٹی بحث کرنے سے کیا سکھا رہے ہیں؟

پہلے غلط مثال کھڑی کرتے ہیں، اسکے بعد کارٹل والی mentality تھوپتےہیں۔

میرے خود کے ساتھ

میں نے اپنی فیملی میں پہلے ہی دیکھا ہے کہ ان ایکشنز کا کیا ری ایکشن آئے گا، تو دوبارہ آنکھ بند کر کے ان کی باتوں کو accept کروں کہ بعد میں الزام میرے اوپر آئے کہ مرتضی نے سب کیا؟ یہ mentality ہے، اور یہ بلاگ لکھنے کا مقصد یہی ہے کہ میرے ہاتھ پاؤں باندھ دئے ہیں، اس کے بعد آنے والے نتائج کا ذمہ دار میں ہوں گا، 

مگر یہاں ہمارے Baby Boomers ہمیشہ غلط example سیٹ کی

معذرت کے ساتھ ایسی صورتحال میں، جہاں میرے اوپر پریشر ڈالا جارہا ہے کہ ان دونوں (والدین) کے نقش قدم پر چلوں ورنہ تمہاری بیوی ہمارے قبضہ میں ہے، یہ سب ان کے behavior سے پتا چل رہا ہے، کہ ان کا موڈ یہی ہے، کہ میں ان کی بات مانوں، ورنہ بیوی کا پریشر رہے۔

میرے اپنے والدین نے اپنے ہی بیٹے کو ایسا بنا دیا ہے کہ اس کی بیوی اس کی نہیں سن رہی ہے

مجھے قبضہ کرنے کی عادت نہیں، نا ہی میں بیوی کو قابو کرنے کا شوقین ہوں، بلکہ عورتیں اگر یہ پڑھ رہی ہیں تو خود بتائیں کہ وہ شوہر جو بیوی کا اپنا بینک اکاؤنٹ بنا کر دے، بجائے غیر ضروری دیسی عورت جس کا دلچسپی کا محور یہی ہے کہ فلاں نے یہ کیا، اس نے وہ کیا، یہ چیز میں اپنی فیملی میں ہونا نہیں پسند کرتا، اور جب میں یہ سب کچھ دیکھ رہا ہوں تو روکنے کے لئے پہلے پیار سے بولوں، میری بات کو اگنور کرے، کیونکہ پیچھے سے میرے والد میری بیوی کو spoil کررہے ہیں۔

میری نوکری نہیں ہے

اس چیز کا طعنہ مجھے ایسے دیا جارہا ہے، ایسے میں بیوی کی اور فیملی کی سپورٹ چاہئے، سپورٹ کا مطلب پیسوں کی سپورٹ نہیں، مورل سپورٹ ہے، یہاں والدین اپنے خود کے پرسنل اسکورز سیٹل کررہے ہیں، اس کے مقابلے میں بیوی اپنے، کیونکہ بیوی کے خلاف میں نے اسٹینڈ لیا تھا، کیونکہ کچھ circumstances ایسے ہوئے تھے جہاں میں نے اس کی طرف داری نہیں کی تھی، کیونکہ یہ چیزیں میں اپنے گھر میں (پھر سے کہوں، گھر سے مطلب میری فیملی، نا کہ وہ چار دیواری جہاں رہ رہا ہوں)، اور معذرت کے ساتھ کبھی کبھی سوچتا ہوں کہ الٹی بحث اس بندے کے ساتھ جو introvert ہے، اس سے بحث جیت کر اس سے یہ حق چھینا جارہا ہے، کہ اپنے خود کے گھر (گھر سے مراد میری فیملی، چار دیواری نہیں) بار بار یہ repeat کررہا ہوں کہ میرے خاندان میں ایسے حُجتی لوگ ہیں، جو ایسی petty چیزوں کی اسکرین شاٹ لے کر بولتے ہیں اور میں یہ چیز پسند نہیں کرتا، کہ میرے گھر (میری فیملی، چار دیواری نہیں) پر impose کرے، اس پر سونے پہ سہاگہ میرے والدین میری integrity توڑ رہیں ہیں، 

میں ایسا کس حوالے سے کہہ رہا ہوں؟

میں ایسا اسی لئے کہہ رہا ہوں کہ بات ہمیشہ یہاں سے شروع ہوتی ہے کہ مرتضی (عنیز) غصہ کرتا ہے، مگر بڑے بننے کا شوق ہے تو یہ تو دیکھیں کہ ایسا ری ایکشن کیوں آرہا ہے؟ بڑوں کا کام یہی ہوتا ہے، کیفے قبائیل نہیں بناتے کہ ہمارے قبیلے میں رہنا ہے، تو ہماری ماننی پڑے گا، اور میں نے اپنے گناہ گار آنکھوں سے دیکھا ہے، کہ ماضی میں ان کے ایکشنز کا کیا ری ایکشن آیا، تو ایسے میں اگر میں احتیاط کررہا ہوں، تو میری خود کی ریپوٹیشن reputation خراب کررہے ہیں۔

بیوی کو سپورٹ

عورتیں یہ بات سے بالکل relate کریں گی، کہ اس وقت جب میری خود کی ماں میرے اور میری بیوی کے پیچھے ہاتھ دھو کر بیٹھی ہوئی تھی، اتنی کہ ایک جانب میری ماں بولتی ہے، کہ میری بیوی کو میرے ساتھ بھیجواؤ، اپنے مولوی صاحب وغیرہ کے جھمیلوں میں تم دونوں کو ڈالوں گی، اور دوسری جانب میری بیوی کرائے کے گھر کے لئے، وہاں اپنی بیوی کی سیلف رسپیکٹ self-respect کا خیال کیا، بلکہ اس کا ذہن صاف کیا، جس کی وجہ سے اس نے بچہ conceive کیا، مگر fast forward ایک سال بعد کیونکہ مارچ ۲۰۲۵ میں میرا بچہ ہوا، اور اب مئی ۲۰۲۶ ہے، ایک سال پہلے وہ اس صورتحال میں تھی، وہاں میں اس کی سپورٹ پر کھڑا رہا، اور آج یہ صورتحال ہے کہ کمرے کا دروازہ بند ہے، بیوی الٹا سنا رہی، وہی بیوی جو ماں سے بچنے کے لئے کرائے کا گھر demand کررہی تھی، آج اسی عورت کی زبان بول رہی ہے،

اکیلے کمرے میں

اس وقت اکیلے کمرے میں یہ لائن لکھ رہا ہوں، میرے ساتھ ہر کوئی اپنے اسکورز سیٹل settle کررہا ہے، اب اگر اللہ موجود ہے، تو مجھے اس اللہ سے انصاف چاہئے، 

کیا یہ سب کچھ ہونے کے بعد میری بیوی میری عزت کرے گی؟ عزت سے مطلب at the time needed میرے ساتھ کھڑی ہو؟ اسی وجہ سے ان baby boomers کو سمجھانے کی ضرورت ہے، ایک اسٹینڈ لینے کی وجہ سے یہ چیزیں face کررہا ہوں، اگر اللہ موجود ہے، تو میری مدد کریں۔

اب یہ بات کہ میری بیوی کو میرے خلاف کر کے یہ لوگ کیا prove کرنا چاہتے؟

یہ کہ میں ان کی ہاں میں ہاں ملاؤں؟ جیتے جی کبھی میں نہیں مانوں گا، چاہے کچھ بھی ہوجائے، اور میں یہ بات کہہ رہا ہوں، کہ اگر اللہ موجود ہے، دیکھ لیں، یہ آج کل کے والدین والدین پریمیئر لیگ کھیل رہے ہیں، مجھے انصاف چاہئے، میں نے کبھی یہ نہیں چاہا کہ مجھے طاقت چاہئے، میں نے اپنے کام سے کام رکھنا ہے، I am not hungry for validation from individuals as the only Validation requires is from Allah۔



مکمل تحریر >>

Baby Boomers doing their politics

اصل مسئلہ صرف یہ نہیں کہ Baby Boomers بوڑھے ہو چکے ہیں۔ ہر نسل ایک دن بوڑھی ہوتی ہے۔ اصل بحران یہ ہے کہ آج بھی بہت سے سیاسی نظام اُن ذہنی سانچوں میں قید ہیں جو ایک ایسے دور میں تشکیل پائے تھے جہاں دنیا کی رفتار، معیشت، آبادی، ٹیکنالوجی اور سماجی ساخت آج سے یکسر مختلف تھی۔

آج کی نوجوان نسل ایک ایسے معاشی اور ذہنی دباؤ میں زندہ ہے جہاں گھر خریدنا خواب بنتا جا رہا ہے، نوکریاں غیر مستحکم ہیں، ذہنی صحت تباہ ہو رہی ہے، اور سوشل میڈیا نے انسان کو مسلسل نفسیاتی مقابلے میں دھکیل دیا ہے۔ لیکن سیاست اب بھی انہی پرانے نعروں، مصنوعی نظریاتی جنگوں، اور ٹی وی اسکرینوں پر چلنے والے جذباتی ڈراموں میں پھنسی ہوئی ہے۔

ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے کئی سیاسی اشرافیہ مستقبل تعمیر کرنے کے بجائے اپنے ماضی کو محفوظ بنانے میں مصروف ہیں۔

یہی وہ مقام ہے جہاں نوجوان نسل کے اندر غصہ جنم لیتا ہے۔

انہیں صرف عمر سے مسئلہ نہیں۔ انہیں اس منافقت سے مسئلہ ہے جہاں وہی نسل جو صبر، قربانی، اور برداشت کے لیکچر دیتی رہی، خود نسبتاً آسان معاشی دور میں ترقی کر کے اوپر پہنچی، اور پھر رفتہ رفتہ وہ دروازے بند کر دیے جن سے نئی نسل اوپر آ سکتی تھی۔

آج ایک نوجوان کو وہ بنیادی استحکام حاصل کرنے کے لیے کئی گنا زیادہ جدوجہد کرنا پڑتی ہے جو پچھلی نسلوں کو نسبتاً کم دباؤ میں میسر تھا۔

لیکن یہاں ایک اہم حقیقت بھی موجود ہے۔

ہر Baby Boomer مسئلے کی جڑ نہیں، اور ہر نوجوان خودکار طور پر ذہین، باشعور یا انقلابی نہیں۔ کئی بزرگ نسلوں نے ہی انسانی حقوق، آزادی اظہار، مزدور حقوق، اور سماجی اصلاحات کی بنیادیں بھی رکھی تھیں۔ مسئلہ صرف عمر نہیں۔ مسئلہ ذہنی جمود ہے۔

خطرناک بات یہ ہے کہ کئی حکمران طبقات اب بھی نئی دنیا کو پرانے چشمے سے دیکھ رہے ہیں۔ وہ ڈیجیٹل دور کی نفسیات کو نہیں سمجھتے۔ وہ نوجوانوں کے اندر بڑھتی ہوئی existential anxiety کو نہیں سمجھتے۔ وہ یہ نہیں سمجھتے کہ مسلسل معاشی عدم استحکام انسان کے اندر اداروں کے خلاف خاموش نفرت پیدا کرتا ہے۔

نتیجتاً سیاست حقیقت سے کٹ کر صرف ایک جذباتی تھیٹر بنتی جا رہی ہے۔

الفاظ بدلتے ہیں، چہرے بدلتے ہیں، مگر نظام کی روح وہی رہتی ہے۔

مزید تشویشناک بات یہ ہے کہ نئی قیادت بھی اکثر حقیقی تبدیلی کے لیے نہیں بلکہ پرانے نظام کی وفادار نقل بننے کے لیے تیار کی جاتی ہے۔ سیاسی جماعتیں سوچنے والے افراد نہیں بلکہ obedient چہرے پیدا کر رہی ہیں۔ اسی لیے نسلوں کی منتقلی صرف ظاہری رہ جاتی ہے، ساختی نہیں۔

عام انسان اب اس تضاد کو محسوس کرنے لگا ہے۔

وہ دیکھتا ہے کہ قربانی ہمیشہ عوام سے مانگی جاتی ہے مگر طاقتور طبقات خود کو ہر بحران سے محفوظ رکھتے ہیں۔

وہ دیکھتا ہے کہ جذباتی نعرے strategic planning کی جگہ لے چکے ہیں۔

وہ دیکھتا ہے کہ سنجیدہ گفتگو کی جگہ شخصیت پرستی، شور، اور مصنوعی polarization نے لے لی ہے۔

اور جب معاشرہ اداروں پر یقین کھونا شروع کر دے، تو پھر conspiracy theories، انتہاپسندی، اور اجتماعی ذہنی تھکن جنم لیتی ہے۔

سب سے بڑا خطرہ صرف نسلوں کا ٹکراؤ نہیں۔

سب سے بڑا خطرہ یہ ہے کہ معاشرہ یہ یقین کھو دے کہ اس کے نظام خود کو درست بھی کر سکتے ہیں۔

کیونکہ تاریخ میں سب سے خطرناک لمحہ وہ ہوتا ہے جب ماضی سے چمٹے ہوئے لوگ مستقبل کو پیدا ہونے سے روکنے لگتے ہیں۔



مکمل تحریر >>

مئی 04, 2026

Society Issue in Karachi

یہ بلاگ میرے کرکٹ بلاگ کے اس پوسٹ سے متعلق ہے، وہاں میں نے پاکستانیوں کی mediocracy کرکٹ کے میدان میں سوالات کئے ہیں یہاں میں پاکستانی معاشرے کے متعلق سوالات اٹھا رہا ہوں۔

پہلے میں کرکٹ سے ہی شروعات کروں گا، ہماری یہ ذہنیت رہی ہے کہ ہم پاکستانی ہیں، فاسٹ بولنگ ہم سے ہے، جبکہ کل پی ایس ایل ۱۱ پشاور زلمی کے نام ہوا ہے، مگر ہماری mediocracy دیکھیں کہ پورے ٹورنامنٹ کا فاسٹ بولر ناحد رانا (ناحید رانا نہیں) نے ہمارے so-called فاسٹ بولرز کو کمند دکھائی ہے۔

معاشرتی تصورات

یہ ہماری معاشرتی تصورات ہے، کیونکہ بحیثیت معاشرہ یہ ہماری سوچ ہے کہ پاکستانی پروڈکٹ خراب ہوتی ہے imported امپورٹڈ چیزیں ذیادہ اچھی ہوتی ہیں، اس کے ساتھ ہماری فیملی سسٹم بھی اسی طرح کا ہے، کہ کسی کو کھلا ہاتھ نہیں دینا ہے، میرا اپنا یہ مسئلہ یہ رہا ہے، کیونکہ میں اس نیچر کا بندہ ہوں کہ میں لائن بنا کر رکھتا ہوں، کچھ چیزیں میں accept کرلوں گا، مگر ذیادہ چیزیں جن کا impact آج نہیں دکھائی دیگا، بلکہ ۱۰، ۲۰ سال کے بعد دیکھائی دیگا، اور جیسے یہ baby boomers نے اپنی ذندگی گزاری ہے کہ اپنے خود کے گول سیٹ نہیں کرنا، مگر اپنے بیٹے یا بیٹی کے ذریعہ اپنی ذندگی گزروانا چاہتے ہیں، یہ ہمارے آج کے بڑوں کی ذہنیت ہے، یہ چیز ان کو سمجھنا چاہئے جو کہ ہم نے نیپال، سری لنکا اور بانگلادیش میں دیکھ چکے ہیں کہ اب ذہنیت کی جنگ ہے، baby boomers اپنی ذہنیت GEN-Z کے اوپر تھوپنے پر لگے ہوئے ہیں، میرے خود کے ساتھ یہی ہورہا ہے، کہ میرے ساتھ گھر میں حجتی رویہ رکھا جارہا ہے، یعنی جیسے انگریزی میں ایک ٹرم استعمال کی جاتی ہے کہ dual faced dagger یعنی مان لوں تو بعد میں میرا بھی یہی حال ہوگا کہ میں اپنی ذندگی اپنے بیٹے کے ذریعے گزاروں گا، نہیں مانوں گا، تو ایسے میں میرے ساتھ یہی ہورہا ہے کہ مجھے دکھایا جارہا ہے کہ میں بدتمیز ہوں، مگر یہاں یہ بے بی بومرز میں ایک مستقل احساس کمتری ہے کہ نیچے والی جنریشن کواپنے "قابو" میں رکھنا، کیونکہ یہ چیز میں نے ان بے بی بومرز میں دیکھی ہے، کہ argument جیتنا ضروری ہے، either by hook or by crook، کیونکہ ایک اور چیز جو میں نے دیکھی ہے کہ بے بی بومرز اپنے آپ کو موجودہ ٹائم سے مطابقت کرنا اپنی شان کے خلاف سمجھتے ہیں، اور ایسے میں میرے سامنے ایک بڑے صاحب فخریہ کہتے ہیں، Hit and Run، یعنی جیسے شرارتی بچے گرمی میں دروازہ بجا کر بھاگ جاتے تھے، یہ مائنڈ سیٹ کو پروموٹ کررہیں ہیں، اور ایسے میں اگر یہ چیز میں اپنی بیوی اور بچے کے اوپر اثر انداز نا ہونے کے لئے point zero پر روک رہا ہوں، اور وہاں میرے گھر کے بڑے یہ چیز میری موجودگی میں اثر انداز کرانا چاہتے ہیں، اور ایسے میں میرے ساتھ وہی حرکت کررہیں جو الادین میں جادوگر نے جیسمین کو نقلی چراغ دے کر اصلی چراغ یعنی  میرے فیملی پر say کو out of context کیا جارہا ہے، یعنی انگریزی میں کہا جاتا ہے، waiting for disaster، کیونکہ ابھی سے میں دیکھنا شروع کردیا ہے کہ میری بیوی میری suggestions کو importance نہیں دے رہی ہے، اور یہی بات ہے، میری فیملی میں ایسے واقعات ہوچکے ہیں، جن کو سختی کر کے میں روک رہا ہوں، تو ایسے میں ایک جانب میرے والدین سے رکاوٹ آرہی ہے، دوسری جانب بیوی، اس کا ایک نقصان یہی ہے کہ آگے مستقبل میں میری بیوی میری ایک نہیں سنے گی، میں جس طرح کا بندہ ہوں، میں فرنچ میں ایک ٹرم quid-pro-quo یعنی جیسا کرو گے ویسا بھرو گے، میرے ساتھ اچھا رہو گے تو میں جی جان لگا کر تمہارے ساتھ کھڑا رہوں گا، اور ایسے میں میرے والدین میرے لئے ایسے مشکلات کھڑے کررہے ہیں، اور اس میں کوئی شرم نہیں کہ صرف اسی لئے کہ جب میرا بچہ نہیں ہوا تھا، تو تب میرے پیچھے پڑ گئے تھے کہ میں اپنی بیوی کو ڈاکٹرز، حکیم صاحب اور مولوی صاحبان کے پاس بھیجوں، اور ایسے میں اب پزل کو ملاؤں تو ایسے میں یہ بات روز اول عیاں ہے، کہ ان بے بی بومرز کی ego اس چیز پر hurt ہوئی ہے، تو ایسے میں اس چیز کا قوی امکان ہے کہ اس جانب سے میرے خود کے ساتھ اسکورز settle کریں گے، اور جیسے میں نے کہا کہ یہ چیز جب میں پزلز کے سارے pieces کو جمع کررہا ہوں، تو یہ impact آتا ہے۔

Carry Forward ذہنیت کے بجائے قابو کرنے کی ذہنیت کرنا

سوسائٹی اسی طرح بنتی ہے جیسے نوکیا کا مشہور سلوگن رہا ہے کہ Connecting People، یہ ذہنیت ہمیں اپنانی ہوگی، بالکل ویسے ہی ہے جیسے آپکی ایک انگلی کی امپریشن ساتھ والی انگلی سے کبھی ملاپ نہیں ہوگا، یہ میں نے کچھ دن پہلے نادرہ کے دفتر میں دیکھا تھا، کیونکہ میرے والد صاحب کے انگلی کے نشانات نہیں آرہے تھے، تو ایسے میں فیملی میمبر ہونے کے ناطے میں نے ان کی جگہ انگلی کے نشانات دئے تھے، اور اس پر بھی میرے انگوٹھے کے بجائے شہادت کی انگلی اور انگوٹھی والی انگلی کے امپریشن آئے تھے، کیونکہ میں بائیک چلاتے ہوئے آیا تھا، تو انگوٹھا rugged ہورہا تھا، تو ایسے میں جو لوگ نادرہ میں انگوٹھے لگائے ہیں، ان کو اندازہ ہوگا کہ کسی کے لئے جب آپ انگوٹھا لگاتے ہیں تو سسٹم پر آنے والے پرومپٹ کے حساب سے آپ کو انگوٹھا لگانا ہوتا ہے، ایسے میں آٹومیٹک پرومپٹ انگوٹھے کا آیا، مگر جیسے میں نے پتایا، بائیک کے accelerator پر ہونے کی وجہ سے نشان نہیں آیا، پھر سیکنڈ attempt شہادت کی انگلی کی آئی، وہ آگئی، اس کئ بعد دوسری attempt میری بیچ والی انگلی یعنی ring finger کی آئی، اس وقت میں نے امپریشن کے متعلق اُس آپریٹر سے پوچھا کہ کیا ہماری انگلیاں ہر انگلی ایک دوسرے سے فرق ہوتا ہے؟ جس پر اس نے ہاں میں جواب دیا، جس سے مجھے یہ اندازہ ہوا کہ جب ایک جسم میں موجود پانچوں انگلیاں ایک دوسرے سے فرق رکھتی ہیں، تو ایسے میں ہم کیسے یہ امید لگا کر رکھیں ہیں کہ بجائے والد carry forward ذہنیت کے مطابق بیٹے میں جو فرق ہے، اس کو accept کریں، اس کو اپنے نقش قدم پر چلانے میں اتنے اتاولے ہوجاتے ہیں کہ اولاد کی اپنی unique touch and feel کو ختم کرنے پر تلے ہوئے ہوتے ہیں، ایسے میں نیپال، سری لنکا اور بانگلادیش میں جو ہوا، وہ یہی ذہنیت کا تصادم تھا۔

اور ہمارہ معاشرہ اسی تصادم کی جانب جارہا ہے

مجھے یہ بات بے بی بومرز کی سمجھ نہیں آتی، ہم جونئرز کے سامنے کیسی مثالیں کھڑی کرہیں ہیں، ذیادہ تر بڑے بزرگ ہمیں یہ سمجھاتے ہیں کہ hit-and-run یہ نہیں دیکھ رہیں ہیں کہ اسکا معاشرتی تصادم کیسا ہوگا؟ کیونکہ ہمارہ معاشرہ ایسا شعبدے بازی سے بھر پور بن چکا ہے، کہ الامان الحفیظ، میں شعبدے بازی کو اس لئے نہیں اٹھا رہا ہوں کیونکہ in the long run میں یہ لوڈ اُٹھانے کا قابل نہیں ہوں، تو ایسے میں اپنی لائن کلئیر رکھ رہا ہوں، مگر یہاں میرے خود کے گھر والے مجھے اس جانب ڈلنے پر تلے ہوئے ہیں، 

میں اپنی تعریف نہیں کرنی مگر بات یہی ہے کہ میں calculated چلنے والا بندہ ہوں، اور یہاں عقیدت مندی اور تعبیداری کے نام پر مجھے بلیک میل کیا جارہا ہے، تاکہ کسی بھی حال میں، میں ان کے "نقش قدم" اور فرمانبرداری پر چلوں، یعنی فرمانبرداری کے نام پر مجھے exploit کیا جارہا ہے، جس میں میرے خود کئ والدین شامل ہیں، کیونکہ ان کے اس ایکشن کی وجہ سے میری بیوی مجھے for-granted لینا شروع کردیا ہے، تو خود بتائیں، آگے میرے لئے میرے خود کے والدین میرے لئے کیا بُن رہیں ہیں؟ 

The Political Horizon: While doing inDriving, noted one aspect 📌



مکمل تحریر >>

مئی 03, 2026

While doing inDriving, noted one aspect

یہاں میں نے inDrive کرتے ہوئے ایک چیز نوٹ کی کہ ہمارے کراچی میں درخت خاص طور پر کراچی کے اپنے نیم اور برگد کے درخت جو میں نے اپنے والد صاحب سے بھی سنا تھا، کہ انچولی وغیرہ یہ علاقوں میں بادام کے درخت ہوتے تھے، مگر اب یہ سب کچھ کا نام و نشان نہیں، شاید اولڈ سٹی ایریا میں نشانیاں دیکھیں ہیں، 

مگر اب

ایک جانب ہم گلوبل وارمنگ کا راگ الاپ رہیں ہیں مگر دوسری جانب لکڑی کے بیو پاری دندناتے ہوئے کراچی میں درختوں کو ختم کررہے ہیں، مگر ہم کچھ بولتے نہیں، نا ہی ہم میں اخلاقی جرات ہے کہ اس بات پر آواز اونچی کریں، مگر معاشرتی طور پر ہم اتنے گر چکے ہیں کہ کچھ بولنے کی پوزیشن میں ہی نہیں ہیں۔

پارکنگ

کراچی کو اتنا بڑھا دیا ہے کہ یہ احساس نہیں ہے، کوئی فیملی کے ساتھ گھر پر آئے گا، تو اپنے ساتھ ایک عدد بائیک تو کم سے کم لائے گا، تو ایسے میں ہاوسنگ پروجیکٹس لاوؐنچ کررہیں ہیں، مگر basic ضروریات فراہم نہیں کی جاتی ہیں۔

کراچی میں سیاست یا پھر سیاسی کراچی

اس وقت صورتحال اس طرح کی ہے کہ کراچی میں سیاسی اکھاڑا کیا جارہا ہے، مطلب کراچی ہر ایک کی ضرورت نہیں، کچھ چیزیں ایسی ہوتی ہیں جو کراچی کے بھجوانے کے بجائے ان کے اپنے علاقے میں فراہم کی جاسکتی ہیں کیونکہ یہاں سیاسی جماعتیں اپنے ووٹ بینک کو کراچی میں سیٹل کررہیں ہیں تاکہ statistics میں بتا سکیں کہ کراچی سے یہ ووٹ ہمیں ملا، مگر جس حالات میں لارہیں ہیں، ہمارے لئے بھی مسائل ہورہیں ہیں اور کراچی بحیثیت شہر ایک اونر شپ کے بغیر ہے، ایسے میں مجھے خود یہی لگ رہا ہے کہ سری لنکا میں جو کچھ ہوا ہے، وہی کچھ یہاں ہونے لگا ہے کیونکہ میں نے جو نوٹ کیا ہے، اس کے حساب سے کراچی والے تپ رہیں ہیں، کیونکہ برداشت کی ایک حد ہوتی ہے اور لوگوں میں برداشت ختم ہونا شروع ہوگیا ہے، اس پر یہ کہ کراچی کا اپنا ماحول اس influx کی وجہ سے خراب ہورہا ہے، 

جس طرح سے برہم سے وہ کراچی میں رہ رہیں ہیں، بالکل ایسے جیسے ہم ان سے دب کر رہیں، سیاسی جماعتوں کو بھی باور کرایا جائے کہ یہ لوگ کنٹرول نہیں بلکہ verify کرنے کے لئے کہ چیزیں صحیح سے چل رہی ہیں، دنیا بھر میں ایسا ہی ہوتا ہے، پولیس وغیرہ سب independently کام کرتے، یہاں سیاسی بھرتیاں ہوتی ہیں  کیونکہ سنگا پور بھی اسی طرح سے ترقی پر آیا ہے، تو ایسے میں طاقت کے نشے کے بجائے authorization موڈ پر آئیں 



مکمل تحریر >>

اپریل 28, 2026

inDriving and my Experiences through different parts of so-called North Korea looked Sindh in Karachi

یہ بلاگ لکھنے کا ارادہ بالکل نہیں تھا مگر میرے ساتھ ہوا یہ کہ میں پلان کررہا تھا کہ آج کے دن کہاں کہاں کی رائیڈز لوں، کونسے علاقوں میں، تو ایسے میں رستوں کو دیکھ رہا تھا ایسے میں گوگل ارتھ Google Earth پر historic imagery کے آپشن پر گیا، chronological order میں دیکھا 

کراچی ۲۰۲۰ کے ادوار میں
کراچی اتنا اجڑا ہوا لگ رہا ہے، کراچی کی زبان میں بات کروں تو کراچی کی بجا دی ہے، صرف اپنی سوچ کی وجہ سے کیونکہ ہمارے بڑوں نے ہمارے ذہنوں میں یہ باتیں ڈالی ہوئی ہیں کہ اپنی اسکلز کو پالش کرنے کے بجائے پراپرٹی میں انویسٹ کرو، شارٹ کٹ کی جانب راغب کروایا ہے۔

کراچی ۲۰۱۹ کے ادوار میں
ذیادہ فرق نہیں لگا مگر تھوڑا کھلا کھلا لگ رہا، بیشک ان لوگوں کا یہی کہنا ہے کہ SBCA کی این او سی موجود ہے، مگر lets be realistic، کیا اس طرح کراچی کی بجانے کو انویسٹمنٹ بولیں گے؟

On Ground میں نے خود دیکھا ہے کہ کراچی میں اوپن اسپیس نا ہونے کے برابر ہے، اوپن اسپیس سے مراد جہاں ریلیکس کرسکیں، جبکہ یہاں رلیکیس کرنے کے لئے ironically چائے خانے ہیں، میں کسی کاروبار کو برا نہیں بول رہا ہوں بلکہ ہمارے غیر انسانی رہن سہن کو criticize کررہا ہوں کیونکہ خود بتائیں ایسے غیر انسانی رہن سہن میں کیسے انسان بنائیں گے؟

کراچی ۲۰۱۸ کے ادوار میں
اب خود دیکھیں، اسلام میں بھی یہی کہا ہے کہ آنے والا زمانہ پچھلے زمانے سے گیا گزرہ ہوگا، خود بتادیں اوپر سے کراچی دیکھنے میں کیسا pathetic لگ رہا ہے؟ میری زبان میں کہوں تو ماچس کی ذبیا میں پوری دنیا کو سمو دیا ہے، میں مانتا ہوں، میری زبان ایسی ہی ہے، کیونکہ اسی طرح ہم کراچی والے باتیں کرتے ہیں، مگر خود بتائیں، اپنے دل پر ہاتھ رکھ کر بتائیں، اگر آپ کسی بچے کے والدین ہیں یا پھر بننے والے ہیں یا خواہش ہے، تو کیا انویسٹمنٹ کے نام پر ایسا مستقبل اپنے بچوں کے نام پر چھوڑ کر جائیں گے؟ یہ کیسی سوچ پروان چڑھا رہے ہیں؟

کراچی ۲۰۱۵ کے زمانے میں
inDrive میں ایک چیز میں نے دیکھی، کہ nature wise ہم لوگ بہت اچھے ہیں مگر civic sense میں مار کھاتے ہیں، 

جلد بازی، اللہ راضی

یہ ایک چیز ایسی ہے، چاہے میں کراچی میں کلفٹن کے علاقے میں رہوں یا پھر اسکیم ۳۳ میں، ہر ایک کو ایسی جلدی کہ الامان الحفیظ، مجھے ہنسی آئی ایک رائیڈ میں نے ڈی ایچ اے بلاک ۶ سے لی، ۲۳ منٹ میں گلزار ہجری پی سی ایس آئی آر سوسائیٹی پہنچایا تو اترتے ہوئے بولا کہ بائیک تھوڑی تیز چلا لیا کرو، جبکہ اس کے بات میں نے گھر آکر لیپ ٹاپ پر ان ڈرائیو کا ڈیٹا ایکسسل شیٹ پر ڈالا تو ۲۳ منٹ کے حساب سے ایوریج ۴۹ کلومیٹر فی گھنٹہ اسپیڈ تھی، اب اگر اس کو بھی ہلکا بولیں گے خاص طور پر یہ کہ میرے روٹ پر مشہور زمانہ کراچی کا یونیورسٹی روڈ بھی شامل تھا، جہاں پھنسنا ویسا ہی ہے، جیسے مچھلی کھانے میں چانس ہوتے ہیں کہ کانٹا آجائے۔

Co-curriculum activities کے بجائے ہر جگہ residential buildings

کراچی کے ماحول کو بہتر بنانے کے لئے ہر کھلی اسپیس کو SBCA NOC کے نام پر پارکس، اوپن اسپیسز کے نام پر residential building اور شادی خانے یعنی  banquets بنا رہیں ہیں، یہ کھل کر ایک چیز عیاں کررہیں ہیں کہ بحیثیت قوم ہمارے پاس آگے کے لئے کوئی پلان نہیں، اس کی وجہ سے ایک چیز جو میں نے نوٹ کی کہ کراچی چھوڑ کر لوگ اسکیم ۳۳ کی جانب جارہیں ہیں، جن کی اوقات ہے، وہی لوگ gated communities کی جانب جارہیں ہیں، کیونکہ ایک تو اِن سوسائیٹی میں سکون ہے، اپنے کام سے کام رکھا جارہا ہے، نا کہ اندرون کراچی جہاں کراچی کے مختلف علاقوں سے لوگوں کو لا لا کر بسایا جارہا ہے۔

کراچی کو اونر شپ چاہئے، سیاسی اکھاڑہ نہیں

کراچی ایک اونر شپ مانگ رہا ہے، معذرت کے ساتھ، یہاں اس بیشرمی کے ساتھ سیاست کی جارہی ہے، کہ اس وقت میرے علاقے میں ۵۰ سال کے بعد پہلا پارک بن رہا ہے، میں خود mid-30s میں ہوں، تو اپنی زندگی میں پہلی بار دیکھ رہا ہوں کہ میرے علاقے میں پارک بن رہا ہے، باقی SBCA NOC کی آڑ میں پارکس اور برساتی نالوں کی زمین کو ریزیڈنشل پلاٹس بنا دئے، صرف اس لئے کہ ہم سوال نہیں کرتے، اور جو سوال کرتا ہے، اس کو اتنا گندا کرو کہ وہ خود تم سا بن جائے، خود بتائیں کہ میرے علاقے میں ۵۰ سال کے بعد بارک بن رہا ہے، جبکہ ۳ ایسی زمینیں ہیں جو پارک کی تھیں مگر این او سی کے نام پر ان کو ریزیڈنشل بلڈنگ میں تبدیل کر کے کونسا نیک کام کیا ہے؟

علاقے میں پارک بنا رہیں ہیں، مگر اس کی کنسٹرکشن کے سامنے سیاسی جماعت کے جھنڈے کا مقصد؟

کیا یہ کام کے لئے سیاسی وابستگی دکھانا ضروری ہے؟ کیا ہم اتنے Narcissistic ہوچکے ہیں، کہ حیدری ماڈل کالونی کے entrance پر بھی ایک سیاسی جماعت جو اس پورے علاقے پر rule کرتی ہے، بتارہی ہے کہ ہم نے "cosmetic" کام کرایا، میں cosmetic اسی لئے کہہ رہا ہوںِ، معذرت کراچی کی زبان دوبارہ بولوں گا، مگر لیپا پوتی کر کے اور stoned pavement اور نئی LED lighting کر کے آپ کہہ رہیں ہیں کہ علاقے کو upgrade کردیا؟ کیا اس upgrade کے بعد لوگوں کا standard of living کا standard اوپر گیا؟

لیپا پوتی کے علاوہ پارکس اور پارکنگ ایریا پر کام کیا؟


یہ چیزیں ہوتی ہیں، جوmatter کرتی ہیں، کیونکہ کوئی اگر آپ کی residential building میں اپنی جمع پونجی لے کر آرہا ہے تو یہ یقینی ہے کہ وہ اپنی گاڑی لے کر آئے گا، جب گاڑی لے کر آئے گا تو ایسے میں اس کو پارکنگ چاہئے ہوگی، اس کے علاوہ پارکس وغیرہ ایسی جگہ جہاں فارغ ٹائم پر ریلیکس کرسکیں، کراچی کو سیاسی اکھاڑہ بنانے کے بجائے اور ساتھ میں real estate mess بنانے کے بجائے پلان کریں کہ civilians کہاں خوش ہوں گے؟ ان کی کیا ضرورت ہے، بجائے اسکے کہ انویسٹمنٹ کے نام پر کراچی کو بدصورت بنا کر "کراچی ہمارا ہے" کی مہم کرنے پر لگے ہوئے ہیں، کراچی ہمارا ہے کے علاوہ بھی چیزیں ہوتی ہیں، کراچی ہمارا ہے، اور کراچی کی اونرشپ دوالگ چیزیں ہیں۔

کیا یہ سیاسی جماعتیں کراچی کی بہتری کے لئے کام کررہی ہیں؟ اور ہماری کیا ذمہ داری ہے؟

قائد اعظم کے ۱۴ نکات میں مشہور زمانہ ۹ پوائنٹ؛

۹۔ Sindh should be separated from Bombay Presidency

میرا یہی ماننا ہے، خاص طور پر کراچی کی حالت زار دیکھ کر کہ کراچی میں پہلے major influx کو روکا جائے، اس کے لئے سیاسی وابستگی کو روکا جائے، کیونکہ اس سیاسی وابستگی کا نا ہی کراچی کو نا ہی کراچی میں رہنے والوں کے زندگی میں کوئی positive تبدیلی نہیں آرہی ہے، تو ایسے میں کراچی اس وقت bleed کررہا ہے کہ سیاسی جماعتوں کو اور خاص طور پر یہ ذہنیت کو پہلے روکا جائے۔

اوپر میں نے لکھا کہ inDrive پر میں نے پایا؟

نیچر وائز میں نے کافی ایسے لوگوں سے ملاقات ہوئی، خاص طور پر ایک رائیڈ جس کو میں مینشن کروں گا، جنہوں نے الٹا میری مدد کی، ان کو میں نے قائد آباد کی طرف سے وہ روڈ جو ماڈل کالونی کی جانب سڑک سے میں نے ان کو پک کیا، اور ان کو گلزار ہجری کے علاقے سچل گوٹھ کی جانب جانا تھا،ایسے میں رستے میں مجھے اندازہ ہوا کہ پیٹرول کم ہورہا ہے، وہ بھی میرے خیال میں بائیک رائڈر تھے، سمجھ گئے، اور خود بولے کہ بیٹا، پریشان نہیں ہو زیادہ ریس نہیں دو، اور یہاں سے نکلو، یہ روڈ معین آباد کی جانب نکلے گا، وہاں ٹوٹل کا پمپ ہے، حالانکہ میں اردو اسپیکر اور وہ سندھی، مگر بات انسانیت کی تھی، اور یہی بات میں بتانا چاہتا ہوں کہ انہوں نے دیکھ لیا تھا کہ میں گھبرا رہا تھا، کیونکہ رات کے ۱۰:۳۰ ہوچکے تھے اور کراچی میں لاک ڈاؤن لگ چکا تھا، ایسے میں رستے میں مجھے ہمت دیتے رہے، اور یہ کہ جب سچل گوٹھ چھوڑ دیا تو انسانیت کے ناطے پوچھا بھی کہ یہ پیٹرول میں معمار پہنچ جاؤ گے؟ یہ چھوٹی چھوٹی چیزیں ہوتیں ہیں جو ایسی صورتحال میں matter کرتی ہیں، مگر یہ باتیں کرنے کا مقصد یہی ہے کہ سیاسی وابستگی سے بالاتر ہوکر یہ بھی دیکھیں کہ جہاں ہم رہ رہیں ہیں، وہ جگہ کیسی بنا رہیں ہیں؟ غیر ضروری influx صرف اسی لئے کہ آپ کی سیاسی شناخت اس شہر میں رہے، آپ اپنے خود کے ہم زبان لوگوں کے ساتھ ظلم کررہے ہیں، لوگوں میں مسئلہ نہیں، مگر میرا یہی ماننا ہے کہ اگر یہ ضروری بھی ہے تو کوئی mechanism ہونا چاہئے جہاں یہ influx کو legitimate رکھا جائے۔ کراچی کے علاوہ بھی سندھ ہے، سندھ کو بھی ویسے ہی develop کریں کیونکہ کراچی ہر ایک کی ضرورت نہیں، کچھ چیزیں ان کی گھروں کی طرف ہی حل ہوسکتی ہیں، اییسے لوگوں کی ضرورت نہیں۔

دائرے موجود ہیں، نیچے کراچی ہے اوپر لاہور ہے، کراچی کے قریب
دوسری لائٹ حیدر آباد کی ہے، اس کے بعد بالکل سناٹا،
پنجاب میں پھر لائٹ دیکھائی دینا شروع ہورہے ہیں

اس نارتھ کوریا کی تصویر کو دیکھ کر اوپر سندھ کی تصویر دیکھیں
کیا سندھ بھی اس نارتھ کوریا کی طرح نہیں دیکھائی دیتی؟ 

نارتھ کوریا اور سندھ!

سندھ کو بھی ہم نے سیاست کی وجہ سے نارتھ کوریا بنا دیا ہے، اور بالکل وہی سوچ جہاں ہماری ذہنیت کے مطابق ہر مسئلہ کا حل شادی اور ہر سکون کے لئے شاپنگ حل ہے، ویسے ہی بجائے اس کے کہ سندھ میں رہنے والوں کو ان کے اپنے علاقوں میں سہولیات فراہم کرنے کے بجائے کراچی میں diffuse کیا جارہا ہے، مگر جب وہ اکیلے کراچی میں رہ رہے ہوتے ہیں کہ ان کا دل ان کے اپنے علاقے میں ہوتا ہے، تو کیا وہ کراچی کو own کریں گے؟ دوسرے کی کیا بات کروں، اگر اس کی جگہ اپنے آپ کو رکھ کر سوچوں تو میں خود اس شہر کو own نہیں کروں گا، کیونکہ شہر وہ ہوتا ہے جہاں سے آپ کی origin ہوتے، ایسے میں سیاست کے بجائے distribution and allocation of resources پر کام کیا جائے، ورنہ آپ کراچی کو بھی سندھ کی طرح نارتھ کوریا بنادو گے! 



مکمل تحریر >>

بلاگ میں مزید دیکھیں

You might like

$results={5}

Search me