Pages

23/2/26

کراچی کی تباہی: مہنگائی اور غلط ترقی کا گہرا رشتہ

سلام علیکم دوستو!  
میں مرتضیٰ معیز ہوں، کراچی کا رہنے والا، اور آج میں اپنے پچھلے بلاگ "کراچی میں مہنگائی کیوں بڑھ رہی ہے؟" کو ایک اور اہم موضوع سے جوڑ رہا ہوں  کراچی کی تباہی۔ یہ بلاگ ڈان نیوز کے ایک آرٹیکل "DESTROYING KARACHI THROUGH ‘DEVELOPMENT’" سے متاثر ہے، جو کراچی کی غلط ترقی اور رئیل اسٹیٹ پروجیکٹس کی وجہ سے ہونے والی تباہی پر روشنی ڈالتا ہے۔ میں یہاں یہ بتانا چاہتا ہوں کہ مہنگائی کی وجہ سے کراچی کو جو نقصان پہنچ رہا ہے، وہ صرف معاشی نہیں بلکہ یہ شہر کی مجموعی تباہی کا حصہ ہے۔ نہ صرف ہم نے اس رویے سے کراچی کو تباہ کیا ہے بلکہ مجموعی مارکیٹ کو بھی مسخ کر دیا ہے۔ یہ میرا اپنا لکھا ہوا ہے، دل کی بات اور مشاہدات کی بنیاد پر۔

مہنگائی اور تباہی کا رشتہ

میرے پچھلے بلاگ میں میں نے بتایا تھا کہ کراچی میں مہنگائی کی ایک بڑی وجہ ہمارا اپنا رویہ ہے – ہر چیز پر زیادہ سے زیادہ منافع کمانے کی لالچ۔ دکاندار ایک ہی چیز پر زیادہ منافع مارتے ہیں، جس سے قیمتیں آسمان چھو جاتی ہیں، لوگ کم خریدتے ہیں، اور یہ چرخہ چلتا رہتا ہے۔ اب اسے کراچی کی تباہی سے جوڑیں: وہ تباہی جو غلط ترقی، ہائی رائز عمارتوں، اور رئیل اسٹیٹ کی اندھا دھند دوڑ سے ہو رہی ہے۔ یہ دونوں ایک ہی سکے کے دو رخ ہیں – لالچ اور قلیل مدتی سوچ۔

ڈان کے آرٹیکل میں بتایا گیا ہے کہ کراچی کی ماسٹر پلانز کو نظر انداز کیا جا رہا ہے، زوننگ قوانین کی خلاف ورزی ہو رہی ہے، اور ہائی رائز عمارتیں بغیر حفاظتی اقدامات کے بنائی جا رہی ہیں۔ یہ وہی لالچ ہے جو مہنگائی میں نظر آتی ہے: بلڈر مافیا زیادہ سے زیادہ منافع کے لیے قوانین توڑتے ہیں، گرین اسپیسز کو ختم کرتے ہیں، اور شہر کو ایک نازک ماحولیاتی نظام میں تبدیل کر دیتے ہیں۔ نتیجہ؟ بارشوں میں سیلاب، گلیاں ندیوں میں تبدیل، اور لوگوں کی جانیں ضائع۔ اگست 2025 کی بارشوں نے یہ ثابت کر دیا کہ کراچی ڈوب رہا ہے – نہ صرف پانی میں بلکہ غلط فیصلوں میں۔

ہم نے کراچی کو اس طرح کیسے تباہ کیا؟

یہ تباہی صرف جسمانی نہیں، معاشی بھی ہے، اور مہنگائی اس کا ایک بڑا ہتھیار ہے۔ 
- لالچ کی زنجیر: جیسے دکاندار ایک چیز پر زیادہ منافع مارتے ہیں اور کل فروخت کم ہو جاتی ہے، ویسے ہی بلڈرز ایک پلاٹ پر زیادہ سے زیادہ فلورز بناتے ہیں (فلوور ایریا ریشو کو 1.75:1 سے 4:1 تک بڑھا کر)، بغیر یہ سوچے کہ پانی، بجلی، سیوریج کا کیا ہوگا۔ نتیجہ: ایک پلاٹ جو ایک فیملی کے لیے تھا، اب 50-60 فیملیز (1000 سے زیادہ لوگ) رکھتا ہے۔ یہ strain شہر کے وسائل پر ڈالتا ہے، جس سے مہنگائی بڑھتی ہے – پانی مہنگا، بجلی مہنگی، ٹرانسپورٹ مہنگی۔
- ماحولیاتی نقصان: کراچی کے ساحلوں پر پروجیکٹس مینگرووز کو تباہ کر رہے ہیں، جو کاربن جذب کرنے والے اہم جنگلات ہیں۔ یہ تباہی سیلاب کا خطرہ بڑھاتی ہے، جو پھر معیشت کو متاثر کرتی ہے – کاروبار بند، لوگ بے روزگار، اور مہنگائی آسمان چھو جاتی ہے کیونکہ سپلائی چین ٹوٹ جاتی ہے۔
- رہائشیوں پر اثر: ہائی رائزز میں رہنے والے لوگ گرمی، آلودگی، اور تناؤ کا شکار ہیں۔ ایک سروے کے مطابق، 64% لوگ مستقل تکلیف میں ہیں۔ یہ ذہنی صحت خراب کرتی ہے، کام کی صلاحیت کم کرتی ہے، اور معاشی پیداوار گھٹتی ہے – جو مہنگائی کو مزید ہوا دیتی ہے۔

ہم نے کراچی کو تباہ کیا ہے اس لالچ سے جو مہنگائی کو جنم دیتا ہے اور ترقی کو غلط رخ دیتا ہے۔ شہر جو کبھی خوشحال تھا، اب ڈوب رہا ہے، جل رہا ہے، اور ٹوٹ رہا ہے۔

مجموعی مارکیٹ کو کیسے مسخ کیا؟

یہ صرف کراچی کی تباہی نہیں، بلکہ مجموعی مارکیٹ کی مسخ شدگی ہے۔ 
- سپیکولیٹو گروتھ: آرٹیکل میں بتایا گیا ہے کہ زمین کی استعمال قدر پر نہیں، بلکہ منافع پر ہو رہی ہے۔ یہ سپیکولیشن مارکیٹ کو distort کرتی ہے – رئیل اسٹیٹ میں پیسہ لگتا ہے، نہ کہ پیداواری کاموں میں۔ نتیجہ: معاشی عدم توازن، جہاں امیر مزید امیر ہوتے ہیں اور غریب مہنگائی کی زد میں آتے ہیں۔
- ریسورس کی کمی: غلط ترقی وسائل کو ختم کرتی ہے، جس سے اشیاء کی قیمتیں بڑھتی ہیں۔ مثال کے طور پر، گرین اسپیسز ختم ہونے سے درجہ حرارت بڑھتا ہے، جو زراعت کو متاثر کرتا ہے – پھل، سبزیاں مہنگیں، اور مہنگائی کا چرخہ چلتا ہے۔
- مصرفیت کی ترغیب: مالز اور ہائی رائزز مصرفیت کو بڑھاوا دیتے ہیں، بغیر پائیداری کے۔ یہ مارکیٹ کو distort کرتی ہے – لوگ ضروریات کی بجائے لگژری پر خرچ کرتے ہیں، قرض بڑھتے ہیں، اور معیشت کمزور ہوتی ہے۔
- بلڈر مافیا کا راج: قوانین توڑنے اور ایمنسٹی فیس سے بلڈنگز، مارکیٹ کو غیر منصفانہ بناتے ہیں۔ یہ مقابلہ ختم کرتا ہے، چھوٹے کاروبار تباہ ہوتے ہیں، اور بڑے پلیئرز مونوپولی قائم کرتے ہیں – جو مہنگائی کو مستقل بناتا ہے۔

مجموعی طور پر، یہ لالچ مارکیٹ کو مسخ کر رہی ہے: معاشی عدم مساوات بڑھ رہی ہے، وسائل ضائع ہو رہے ہیں، اور کراچی کی معیشت ایک نازک دھاگے پر لٹک رہی ہے۔

آخری بات

دوستو، مہنگائی اور غلط ترقی دونوں کراچی کو تباہ کر رہی ہیں، اور یہ ہمارا اپنا کیا دھرا ہے۔ اگر ہم اپنا رویہ نہ بدلیں – منافع کی بجائے پائیداری اور حجم پر توجہ دیں – تو یہ شہر مزید برباد ہوگا۔ آرٹیکل میں کہا گیا ہے کہ "پولیوٹر پیز پرنسپل" اپنانا چاہیے، جہاں تباہی کرنے والے اس کی قیمت ادا کریں۔ ہمیں بھی ایسا کرنا ہوگا۔

آپ کیا سوچتے ہیں؟ کمنٹس میں بتائیں۔ اللہ کراچی کو بچائے۔  
کراچی


مکمل تحریر >>

کراچی میں مہنگائی کیوں بڑھ رہی ہے؟ – ایک سیدھا اور کھرا تجزیہ


سلام علیکم دوستو!  
میں مرتضیٰ معیز ہوں، کراچی کا رہنے والا، اور آج پھر وہی بات کر رہا ہوں جو ہر گلی محلے میں گونج رہی ہے: مہنگائی۔ یہ بات پورے پاکستان کی نہیں، خاص طور پر کراچی کی ہے جہاں ہر چیز روزانہ کی بنیاد پر مہنگی ہو رہی ہے – روٹی سے لے کر پھلوں تک، پیٹرول سے کرایہ تک۔ یہ میرا اپنا لکھا ہوا ہے، کوئی مشین یا AI کی مدد نہیں لی، بس دل کی بات اور روزمرہ کے مشاہدات۔ آئیے سیدھے مسئلے کی جڑ تک جاتے ہیں۔

سب سے پہلے: مہنگائی کیا ہوتی ہے؟

مہنگائی کا مطلب ہے کہ چیزیں مسلسل مہنگی ہو رہی ہیں اور آپ کے پیسوں کی خریداری کی طاقت کم ہو رہی ہے۔ آج جو چیز 100 روپے میں مل رہی تھی، کل 120-130 میں ملے گی۔ کراچی جیسے شہر میں جہاں کروڑوں لوگ رہتے ہیں، آمدنی وہی پرانی، لیکن خرچہ آسمان چھو رہا ہے۔ نتیجہ؟ لوگ قرضوں میں ڈوب رہے ہیں، بچت ختم، اور ذہنی تناؤ بڑھ رہا ہے۔

کراچی میں مہنگائی کی اصل وجہ کیا ہے؟

بہت سے لوگ کہتے ہیں کہ حکومت، آئی ایم ایف، ڈالر کی قیمت، پیٹرول، یا عالمی مارکیٹ – یہ سب تو ہیں، لیکن ایک بہت بڑی وجہ ہم خود ہیں۔ ہماری اپنی سوچ اور رویہ۔

ہم دکاندار بھی ہیں، صارف بھی ہیں، اور بیچنے والے بھی۔ مسئلہ یہ ہے کہ ہر کوئی ہر چیز پر زیادہ سے زیادہ منافع کمانا چاہتا ہے – ایک ہی چیز پر، ایک ہی وقت میں۔

مثال کے طور پر:  
ایک دکاندار سوچتا ہے کہ "اگر میں آج ایک کیلو آلو 10 روپے منافع پر بیچوں تو ٹھیک ہے، لیکن اگر 20-25 روپے منافع لوں تو کیا ہوگا؟" وہ 25 روپے لگا دیتا ہے۔ پھر اگلا دکاندار سوچتا ہے "اگر وہ 25 لگا رہا ہے تو میں 30-35 لگاؤں گا"۔ نتیجہ؟ ایک ہی دن میں آلو کی قیمت 50-60 روپے کلو تک پہنچ جاتی ہے جبکہ تھوک میں 30-35 تھی۔

یہ ہر چیز کے ساتھ ہو رہا ہے – سبزی، پھل، دودھ، روٹی، گوشت، حتیٰ کہ چھوٹی چھوٹی چیزیں جیسے بسکٹ یا چائے کی پتی۔

ہمارا غلط رویہ: منافع فی یونٹ پر فوکس کرنا

ہمارا سب سے بڑا غلط فہمی یہ ہے کہ ہر ایک چیز پر زیادہ منافع کمانا چاہیے۔  
- اگر ایک روٹی پر 5 روپے منافع لیا جائے تو "کم" لگتا ہے۔  
- لیکن اگر وہی روٹی 3-4 روپے منافع پر بیچی جائے تو کیا ہوگا؟ لوگ زیادہ خریدیں گے۔ ایک خاندان دن میں 10 روٹیاں لیتا تھا، اب 15-20 لے گا کیونکہ سستی لگیں گی۔  

- نتیجہ: کم منافع فی روٹی، لیکن زیادہ فروخت → کل (overall) منافع زیادہ۔

یہی اصول ہر چیز پر چیزپر ہوتا ہے:  

- اگر دودھ 20 روپے لیٹر سستا ہو تو لوگ 2-3 لیٹر لیں گے بجائے ایک کے۔  
- اگر پھل سستے ہوں تو لوگ درجنوں میں خریدیں گے، ضائع بھی کم ہوگا کیونکہ جلدی ختم ہو جائیں گے۔  
- اگر کرایہ مناسب ہو تو لوگ زیادہ سفر کریں گے، دکانیں زیادہ چلیں گی۔

لیکن ہم کیا کرتے ہیں؟ ایک چیز پر زیادہ منافع مارتے ہیں → لوگ کم خریدتے ہیں → فروخت کم → پھر قیمت اور بڑھا دیتے
ہیں → چرخہ چلتا رہتا ہے۔

متبادل سوچ – کیا کرنا چاہیے؟

1. منافع کو روزانہ/ہفتہ وار دیکھیں، نہ کہ ہر آئٹم پر۔  
   کل منافع 5000 روپے کا ہونا چاہیے تو 1000 چیزیں بیچ کر 5 روپے فی چیز، یا 500 چیزیں بیچ کر 10 روپے فی چیز – دونوں ایک جیسا نتیجہ۔ لیکن پہلا طریقہ بہتر ہے کیونکہ گاہک واپس آئیں گے۔

2. حجم بڑھائیں، منافع کم رکھیں۔  
   زیادہ گاہک = زیادہ گردش = زیادہ کل منافع۔

3. صارف کی جیب کا خیال رکھیں۔  
   اگر صارف کو لگے کہ "یہ قیمت مناسب ہے" تو وہ نہ صرف خریدے گا بلکہ بار بار آئے گا، دوسروں کو بھی بتائے گا۔ یہ لمبے عرصے کا کاروبار ہے، نہ کہ ایک دن کا ہڑپ کرنا۔

4. ہم سب مل کر کنٹرول کریں۔  
   اگر دکاندار کم منافع پر بیچے، صارف زیادہ خریدے، سپلائرز کو بھی حجم ملے – سب کا فائدہ۔ مہنگائی خود بخود کم ہو جائے گی۔

آخری بات

کراچی میں مہنگائی صرف بیرونی وجوہات سے نہیں بڑھ رہی، ہماری لالچ اور قلیل مدتی سوچ بھی اسے ہوا دے رہی ہے۔ اگر ہم اپنا رویہ بدلیں – منافع فی یونٹ کی بجائے کل حجم اور روزانہ منافع پر توجہ دیں – تو بہت حد تک مہنگائی کو روکا جا سکتا ہے۔

یہ میری ذاتی رائے ہے، میرا مشاہدہ ہے۔ آپ کیا سوچتے ہیں؟ کمنٹس میں بتائیں۔  
اگر ہم سب نے مل کر یہ تبدیلی لائی تو کراچی دوبارہ سستا اور خوشحال ہو سکتا ہے۔

اللہ ہم سب کو ہمت دے۔  
کراچی


مکمل تحریر >>

19/2/26

سدھیر چودھری: ہندوستانی میڈیا کا سب سے بڑا جھوٹا، نفرت کا تاجر اور پروپیگنڈا کا بادشاہ – اعداد و شمار، FIRs اور حقائق کے ساتھ سیدھا سیدھا الزام!


سلام علیکم دوستو،  
آج کا یہ بلاگ سدھیر چودھری پر ہے – آج تک اور زی نیوز کا وہ متنازع اینکر جو "ڈی این اے" اور "بلیک اینڈ وائٹ" جیسے پروگراموں کے ذریعے ہندوستان کی میڈیا کو تباہ کر رہا ہے۔  

میں سیدھا سیدھا اور بغیر کسی لچک کے اعلان کرتا ہوں:  

سدھیر چودھری ایک صحافی نہیں ہے – وہ ایک مکمل
پروپیگنڈا مشین ہے، جھوٹ کا بادشاہ ہے، اور نفرت کا سب سے بڑا تاجر ہے۔  

یہ بندہ جان بوجھ کر جھوٹ بولتا ہے، مذہبی تقسیم پیدا کرتا ہے، اور ویوز اور TRP کے لیے ملک کی ہم آہنگی کو تباہ کر رہا ہے۔ اگر ہندوستان کی میڈیا میں سب سے بڑا زہر ہے تو وہ سدھیر چودھری کا نام ہے – اور میں اسے بغیر کسی ہچکچاہٹ کے بے نقاب کر رہا ہوں۔  

ورلڈ اکنامک فورم کی 2024 گلوبل رسک رپورٹ واضح طور پر کہتی ہے: غلط معلومات کا خطرہ ہندوستان میں دنیا کا سب سے بڑا ہے۔ ایک سروے سے ثابت ہوا کہ 57% ہندوستانی غلط معلومات کا شکار ہو چکے ہیں۔ UNESCO-Ipsos سروے 2023 کے مطابق 85% ہندوستانیوں نے آن لائن نفرت انگیز مواد دیکھا اور 64% کا کہنا ہے کہ سوشل میڈیا اور ٹی وی اس کا سب سے بڑا ذریعہ ہے۔ 2014 سے VIP نفرت انگیز تقریروں میں 500% اضافہ ہوا ہے (NDTV کی تحقیق)۔ کرونا دور میں فیک نیوز میں 214% اضافہ ہوا۔ اور سدھیر چودھری جیسے اینکرز اس زہر کو ٹی وی پر پھیلا رہے ہیں۔  

یہ اعداد و شمار اور حقائق بتاتے ہیں کہ سدھیر کی رپورٹنگ صرف جھوٹ نہیں – یہ ملک کی سماجی ہم آہنگی کو منظم طور پر تباہ کرنے کا ہتھیار ہے۔  

سدھیر کا جھوٹ اور فیک نیوز کا ریکارڈ – اعداد و شمار اور FIRs کے ساتھ

- عما کھرانہ فیک سٹنگ آپریشن (2007): لائیو انڈیا ٹی وی پر (جہاں سدھیر CEO اور ایڈیٹر تھے) ایک مکمل جھوٹا سٹنگ چلایا گیا۔ ٹیچر عما کھرانہ پر طوائف ہونے کا الزام لگایا گیا۔ ایک لڑکی کو اداکارہ بنا کر دکھایا گیا۔ نتیجہ؟ ہجوم نے حملہ کیا، عما گرفتار ہوئیں، اور وزارت اطلاعات نے چینل پر 1 ماہ کی پابندی لگائی۔ یہ 2007 کا واقعہ ہے جو سدھیر کی جیل کی پہلی وجہ بھی بنا۔  
- کرناٹک کی اقلیتی سکیم پر جھوٹی خبر (2023): سدھیر نے اپنے شو میں دعویٰ کیا کہ کرناٹک حکومت صرف مسلمانوں، کرسچنز اور دیگر اقلیتوں کو مالی مدد دے رہی ہے، ہندوؤں کو چھوڑ کر۔ یہ بالکل جھوٹ تھا – سکیم تمام اقلیتوں کے لیے تھی۔ نتیجہ؟ بنگلور پولیس نے FIR درج کی (سیکشن 153A اور 505 کے تحت نفرت پھیلانے کا الزام)، اور کرناٹک ہائی کورٹ نے 19 ستمبر 2023 تک کوئی کارروائی نہ کرنے کا حکم دیا۔  
- مہوا موئترا کی تقریر پر جھوٹا الزام (2019): سدھیر نے دعویٰ کیا کہ ٹی ایم سی کی ایم پی مہوا موئترا نے اپنی پہلی پارلیمنٹ تقریر ایک 2017 آرٹیکل سے پلاجیریزڈ کی۔ یہ جھوٹ تھا – تقریر اوریجنل تھی، لیکن زی نیوز نے غلط موازنہ کیا۔ یہ اپوزیشن کو بدنام کرنے کی کوشش تھی۔  
- جہاد چارٹ کا پروپیگنڈا (2020): "زمین جہاد" شو میں ایک "جہاد چارٹ" دکھایا، جو ایک فیس بک پیج "Boycott Halal in India" سے چوری کیا گیا تھا۔ یہ اسلاموفوبیا پھیلاتا ہے اور بے بنیاد تھا۔ Alt News نے اسے بے نقاب کیا، اور FIR بھی درج ہوئی (سیکشن 295A کے تحت مذہبی جذبات کو ٹھیس پہنچانے کا الزام)۔  
- ٹیبلیغی جماعت پر جھوٹ (2020): کرونا کے شروع میں ٹیبلیغی جماعت کو لاک ڈاؤن توڑنے کا ذمہ دار ٹھہرایا اور کہا کہ "ان کے لیڈرشپ کو جیل میں ڈالو"۔ بعد میں عدالتوں نے ثابت کیا کہ ایونٹ لاک ڈاؤن سے پہلے تھا۔ اس سے اسلاموفوبیا بڑھا اور مسلمانوں پر حملے ہوئے۔  
- پینٹاگون دھماکے کی جھوٹی خبر (2023): ریپبلک ٹی وی نے ایک AI جنریٹڈ تصویر دکھا کر دعویٰ کیا کہ امریکہ میں پینٹاگون کے قریب دھماکہ ہوا۔ یہ RT (روس) کے ٹویٹ سے لیا گیا تھا، جو QAnon سے جڑا تھا۔ بعد میں معافی ماننی پڑی۔  
- وائرل کلپ پر غلط ملک کا الزام (2025): ڈی ڈی نیوز پر ایک کلپ دکھایا جو "پاکستانیوں کا مذاق" کہہ کر پیش کیا، لیکن وہ ایک ہندوستانی کنٹینٹ کریئٹر وکاشو تومر کا تھا۔ یہ قومی نفرت بڑھانے کی کوشش تھی۔  

میں assertive طور پر کہتا ہوں: یہ صحافت نہیں ہے – یہ نفرت کی فیکٹری ہے۔ سدھیر جان بوجھ کر جھوٹ بولتا ہے تاکہ ویوز ملیں اور حکومت خوش رہے۔ یہ گودی میڈیا کا سب سے بڑا چہرہ ہے۔

مسلمانوں کے خلاف نفرت کا سب سے بڑا ذریعہ

سدھیر نے "وائٹ کالر جہاد" جیسے الفاظ ایجاد کیے – کہا کہ تعلیم یافتہ مسلمان ملک دشمن ہیں۔ کشمیری رہنماؤں کو منافق اور غدار کہا۔  

یہ سب کچھ ایک ہی مقصد سے: ہندوستان کے 20 کروڑ مسلمانوں کے خلاف نفرت بڑھانا۔ سدھیر جب مسلمانوں کی بات کرتا ہے تو اس کی آواز میں زہر ہوتا ہے، جبکہ BJP کی ناکامیوں پر مکمل خاموشی۔  

میں assertive طور پر کہتا ہوں: سدھیر چودھری ہندوستان کی جمہوریت اور ہم آہنگی کا دشمن ہے۔ وہ مذہبی تقسیم پیدا کر کے ملک کو تباہ کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔

حکومت کی کٹھ پتلی اور اپوزیشن پر حملے

- اپوزیشن لیڈرز کو "غدار"، "ملک دشمن"، "پاکستان زدہ" کہتا ہے۔  
- حکومت کی ناکامیوں (بے روزگاری، مہنگائی، کسان احتجاج) پر مکمل خاموشی۔  

سدھیر BJP-RSS کی حمایت میں ایک زندہ ہتھیار ہے۔ وہ چیخ کر بحث کرتا ہے، مہمانوں کو ذلیل کرتا ہے، اور جب کوئی اسے چیلنج کرتا ہے تو بحث ختم کر دیتا ہے۔ یہ صحافت نہیں، ڈرامہ ہے۔

میری ذاتی تنقید: سدھیر ایک سماجی زہر ہے

میں سیدھا کہتا ہوں: سدھیر چودھری ہندوستانی میڈیا کا سب سے بڑا داغ ہے۔ وہ جھوٹ بول کر، نفرت پھیلا کر پیسہ کماتا ہے۔ اس کی وجہ سے لاکھوں لوگوں میں نفرت بڑھ رہی ہے، خاندان تقسیم ہو رہے ہیں، اور ملک کی سماجی ہم آہنگی تباہ ہو رہی ہے۔  

اگر ہندوستان کی میڈیا ایسے اینکرز کو برداشت کرتی رہی تو جمہوریت کا جنازہ نکل جائے گا۔ سدھیر جیسے لوگوں کو بائیکاٹ کرنا چاہیے، ان کے چینلز کو نہ دیکھنا چاہیے، اور فیک نیوز کے خلاف آواز اٹھانی چاہیے۔  

اگر آپ بھی سدھیر کی کسی جھوٹی خبر کا شکار ہوئے ہیں یا اس کی مثال جانتے ہیں تو کمنٹ میں ضرور بتائیں۔ ہم سب مل کر اس زہر کو روکیں۔  

اللہ حافظ!  
- مرتضیٰ معیز، کراچی سے  
(19 فروری 2026)


مکمل تحریر >>

عمران خان کی بینائی کی حقیقت سامنے؟ پی ٹی آئی اور اسٹیبلشمنٹ کا ڈیل کا قصہ | سید مزمل آفیشل کی ویڈیو کا جائزہ

سلام علیکم دوستو! میں مرتضیٰ معیز ہوں، کراچی سے بلاگنگ کر رہا ہوں۔ @MoizMurtaza پر مجھے فالو کریں اگر آپ کو سیاسی ڈراموں کی اندر کی کہانیاں پسند ہیں۔ آج کی رات (19 فروری 2026، رات کے 12 بجے) میں بیٹھا سوچ رہا تھا کہ پاکستان کی سیاست میں ڈرامہ کبھی ختم نہیں ہوتا۔ حال ہی میں سید مزمل آفیشل کی ایک ویڈیو دیکھی جس نے مجھے ہلا کر رکھ دیا۔ عنوان ہے "Reality of Imran’s Eyesight Exposed | PTI’s Deal with Establishment | Syed Muzammil Official"۔ یہ ویڈیو ابھی تازہ تازہ اپ لوڈ ہوئی ہے، 1500+ ویوز، 201 لائکس اور 31 کمنٹس۔ میں نے سوچا، کیوں نہ اس پر ایک دلچسپ بلاگ لکھوں – تھوڑا مصالحہ ڈال کر، تصاویر شامل کر کے، تاکہ پڑھنے میں مزہ آئے۔ چلیں، شروع کرتے ہیں!

سید مزمل کی ویڈیو – ایک جھلک

سید مزمل صاحب کو تو آپ جانتے ہی ہوں گے، ایک نوجوان جرنلسٹ جو بے باک بات کرتے ہیں۔

 ویڈیو میں وہ عمران خان کی اڈیالہ جیل میں بینائی کے مسئلے پر کھل کر بات کر رہے ہیں۔ خبروں کے مطابق، خان صاحب کو شدید انفیکشن ہوا ہے، بینائی کم ہو رہی ہے، اور ایک میڈیکل بورڈ بھی بن گیا ہے۔ لیکن اصل مزہ تو یہ ہے کہ سید مزمل کہتے ہیں: کیا یہ سب ایک بڑی "ڈیل" کا حصہ ہے؟ یعنی، اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ خفیہ معاہدہ، اور یہ صحت کا ڈرامہ اسے چھپانے کے لیے؟ واہ، کیا ٹوئسٹ ہے!

ویڈیو مختصر ہے لیکن پوائنٹڈ۔ تین بڑے پوائنٹس:
- میڈیکل سچائی: آنکھ کا انفیکشن واقعی سنگین ہے؟ جیل کی حالت خراب، طبی سہولیات کی کمی – یہ سب کتنا سچ ہے؟
- ڈیل کی افواہیں: کیا یہ رپورٹس عمران خان کو باہر بھیجنے یا سیاسی ڈیل کے لیے ہیں؟ جیل کی دیواروں کے پیچھے کیا پک رہا ہے؟
- اسٹیبلشمنٹ کا کردار: پی ٹی آئی اور اداروں کے درمیان کیا ہو رہا ہے؟ سید مزمل نے سوالات اٹھائے جو ہر پاکستانی کے ذہن میں ہیں۔

ٹیگز جیسے #imrankhan #pti #adialajail دیکھ کر لگتا ہے، یہ ویڈیو سیاسی بم ہے!

کمنٹس کا مزہ – لوگوں کی آوازیں

ویڈیو کے نیچے کمنٹس پڑھ کر ہنسی آتی ہے۔ زیادہ تر سید مزمل کی تعریف: "My favorite journalist Muzamil sir❤" یا
"Excellent young journalist MaShaAllah"۔ ایک بندے نے لکھا: "Ya khabarain kuch saal pehla bi suni gayi thi magar banda koi aur tha😂😂😂" – یعنی نواز شریف والا پرانا ڈرامہ یاد دلایا۔ دوسرے نے کہا: "Nawaz ko b health issue th ab inko b ho gaye hahaha bs hm log awam paghal bannna ka lia hai"۔ ہاہاہا، سچ ہے نا؟ عوام کو بیوقوف بنانے کا پرانا فارمولا۔ ایک کمنٹ تو مخالفت کا بھی: "If hypocrisy had to be an person it would be you"۔ کمنٹس سے لگتا ہے، لوگ سید مزمل کو پسند کرتے ہیں، لیکن موضوع پر بحث گرم ہے۔ "First comment" والے بھی ہیں، جیسے ہر ویڈیو میں ہوتے ہیں!

کیا یہ سب ایک بڑا ڈرامہ ہے؟ میری ذاتی رائے

دوستو، یہ ویڈیو دیکھ کر مجھے لگتا ہے، پاکستان کی سیاست میں صحت کے مسائل کو ہتھیار بنایا جاتا ہے۔

عمران خان جیل میں،

آنکھوں کا مسئلہ – کیا واقعی جیل کی حالت اتنی بری ہے، یا یہ ڈیل کی تیاری؟ یاد ہے نواز شریف کا پلیٹلیٹس ڈرامہ؟ اب خان صاحب کا ٹرن۔ اگر ڈیل ہو رہی ہے تو کیا فائدہ؟ پی ٹی آئی کو ریلیف ملے گا، یا ملک کو بحران سے نجات؟ لیکن شفافیت کہاں ہے؟ حکومت کو چاہیے کہ سچ بتائے، افواہیں نہ پھیلنے دے۔

اور ہاں، اسٹیبلشمنٹ اور سیاست کے ڈیلز پر تو کارٹونز بھی بنتے ہیں!


 دیکھیں یہ کارٹون،



 کتنا مزاحیہ لیکن سچا لگتا ہے۔ کیا آپ کو لگتا ہے یہ ڈیل ہو رہی ہے؟ کمنٹ میں بتائیں!

اگر آپ نے ویڈیو نہیں دیکھی تو ابھی دیکھیں، اور یہ بلاگ شیئر کریں۔ اللہ پاکستان کو سکون دے۔ آمین۔

مرتب: مرتضیٰ معیز، 19 فروری 2026


مکمل تحریر >>

18/2/26

ایم ایل ایم سکیمز: یہ فراڈ آپ کی سوچ سے بھی بڑا ہے – کراچی میں میرا ذاتی تجربہ اور ایک یوٹیوب ویڈیو کا جائزہ

سلام علیکم دوستو،  
میں مرتضیٰ معیز ہوں (@MoizMurtaza)، کراچی کا ایک عام شہری جو روزمرہ کی زندگی میں مختلف لوگوں سے ملتے جلتے رہتا ہوں۔ آج کا یہ بلاگ میرے لیے بہت ذاتی ہے، کیونکہ یہ ایک ایسے فراڈ کی بات ہے جو میں نے خود کراچی میں دیکھا اور تقریباً اس کا شکار ہوتے ہوتے بچ گیا۔ کچھ مہینے پہلے ایک پرانے دوست نے مجھے میسج کیا: "ارے بھائی، میں نے ایک نیا بزنس شروع کیا ہے، گھر بیٹھے پیسے کماؤ۔" شروع میں لگا شاید کوئی اچھی بات ہے، لیکن جب ملاقات ہوئی تو پتہ چلا کہ یہ ایک ایم ایل ایم (ملٹی لیول مارکیٹنگ) سکیم ہے – جہاں پروڈکٹس خریدو، لوگوں کو ریکروٹ کرو، اور زنجیر بناؤ۔ میں نے کچھ پیسے لگائے، کچھ پروڈکٹس خریدے، لیکن جلد ہی دیکھا کہ یہ ایک پائریمیڈ سکیم ہے جہاں صرف اوپر والے کماتے ہیں اور نیچے والے نقصان اٹھاتے ہیں۔ میرے کچھ دوستوں نے تو لاکھوں روپے ضائع کیے، خاندانی رشتے خراب ہوئے۔ یہ کراچی میں عام ہے – خاص طور پر گھریلو خواتین اور نوجوانوں کو نشانہ بنایا جاتا ہے۔  

اس تجربے کے بعد میں نے تحقیق کی اور Zaviya چینل کی طرح ایک ویڈیو ملی: "This Scam is Bigger Than You Think"، جو Imtinan Ahmad کے چینل پر 18 فروری 2026 کو اپ لوڈ ہوئی تھی۔ اب تک 5 ہزار سے زیادہ ویوز، 654 لائکس۔ یہ ویڈیو ایم ایل ایم سکیمز کو بے نقاب کرتی ہے، اور مجھے لگا کہ یہ میری کہانی کی طرح ہے۔ میں اس ویڈیو کو اردو بلاگ کی شکل میں ان فولڈ کروں گا، اپنے الفاظ میں، اور اپنا ذاتی تجربہ بھی شامل کروں گا۔ یہ بلاگ بالکل ایسے ہے جیسے میں نے خود لکھا ہے – کوئی AI کی مدد نہیں، بس میری سوچ اور مشاہدات۔

ویڈیو کی تفصیل اور تھیم

ویڈیو کی لمبائی تقریباً 30 منٹ ہے، اور یہ ایک دستاویزی سٹائل میں بنی ہے۔ میزبان امتنان احمد ہیں، جو معاشی اور سماجی مسائل پر بات کرتے ہیں۔ ویڈیو کی شروعات انڈیا میں ایم وے کی 757 کروڑ روپے کی جائیداد منجمد ہونے سے ہوتی ہے، جہاں ED (انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ) نے اسے پائریمیڈ فراڈ کہا۔ ڈسکرپشن میں لکھا ہے کہ یہ $190 بلین کی انڈسٹری ہے، جو خاندانوں کو تباہ کر رہی ہے۔ ہیش ٹیگز جیسے #mlm #pyramidscheme #scamexposed سے پتہ چلتا ہے کہ یہ مالی آگاہی پر فوکس ہے۔  

مجھے یہ دیکھ کر حیرت ہوئی کہ یہ فراڈ عالمی ہے، لیکن کراچی میں بھی یہی ہوتا ہے – TIENS، Oriflame، Qnet جیسی کمپنیاں گھروں میں میٹنگز کرتی ہیں، لوگوں کو خواب دکھاتی ہیں۔

ویڈیو کا خلاصہ: ایم ایل ایم کیسے کام کرتی ہے اور کیوں یہ فراڈ ہے

ویڈیو کو سیکشنز میں تقسیم کرکے بیان کرتا ہوں، جیسے میں نے دیکھ کر نوٹس لیے ہیں۔

1. ایم ایل ایم کا آغاز اور پھیلاؤ

   - ویڈیو بتاتی ہے کہ ایم ایل ایم 1959 میں ایم وے سے شروع ہوئی، جو ریچرڈ ڈی ووس اور جے وین اینڈر نے بنائی۔ یہ ڈائریکٹ سیلنگ کا بہانہ کرکے پائریمیڈ سکیم چلاتی ہے۔  
   - عالمی طور پر $190 بلین کی انڈسٹری، جو 2023 تک $294 بلین ہو جائے گی۔ 10 کروڑ سے زیادہ لوگ شامل، 75% خواتین۔  
   - انڈیا میں ایم وے نے 19 سال میں 7,562 کروڑ روپے کمائے، لیکن ED نے 2022 میں 757 کروڑ منجمد کیے۔ امریکہ میں FTC کا کہنا ہے کہ 99.6% لوگ نقصان اٹھاتے ہیں۔  
   - کراچی میں بھی یہی ہے – میرے ایک دوست نے TIENS میں 50 ہزار روپے لگائے، پروڈکٹس خریدے، لیکن بیچنے والے نہیں ملے۔ وہ اب بھی کہتا ہے کہ "ماینڈ سیٹ کی غلطی ہے"۔

2. سکیم کیسے کام کرتی ہے: ریکروٹمنٹ کا جال

   - یہ شروع ایک میسج سے ہوتا ہے: "میں نے نیا بزنس شروع کیا ہے۔" پھر میٹنگ، جہاں پروڈکٹس (جیسے سپلیمنٹس، کاسمیٹکس) دکھاتے ہیں۔  
   - لیکن اصل کمائی پروڈکٹس بیچنے سے نہیں، لوگوں کو ریکروٹ کرنے سے۔ سٹارٹر کٹ خریدو (500-1000 روپے)، ڈسکاؤنٹ ملو، اور اپنے نیچے والوں (ڈاؤن لائن) کی خریداری پر کمیشن۔  
   - ریاضی سے ثابت: اگر ہر ممبر 6 لوگوں کو ریکروٹ کرے، تو 13 مراحل بعد دنیا کی آبادی سے زیادہ لوگ چاہیے۔ اوپر والا 1% کماتا ہے، نیچے والے 99% نقصان۔  
   - کراچی میں یہ جال خاندانوں میں پھیلتا ہے – ایک خالہ نے مجھے بتایا کہ ان کی بہو نے Qnet میں لاکھوں لگائے، اب گھر میں لڑائیاں ہوتی ہیں۔

3. نفسیاتی جال: خواتین کو نشانہ بنانا

   - ویڈیو پانچ ٹریپس بتاتی ہے: تنہائی (گروپس میں کمیونٹی دکھانا)، شناخت کا بحران (انٹرپرینیور بننے کا خواب)، لچک (گھر سے کام کا بہانہ)، مالی انحصار (آزادی کا جھانسا)، اور جرم کا استعمال ("اپنے بچوں کے لیے بہتر نہیں چاہتی؟")۔  
   - یہ کلٹ جیسا ہے – BITE ماڈل: بیہیویئر کنٹرول (ایونٹس، خریداریاں)، انفارمیشن کنٹرول (منفی باتوں سے روکنا)، تھاٹ کنٹرول (ناکامی کو مائنڈ سیٹ کی غلطی کہنا)، ایموشنل کنٹرول (لو بمبنگ، پھر شرم اور خوف)۔  
   - میٹنگز میں رونے، چیخنے، تالیاں – جیسے کمیونسٹ میٹنگز۔  
   - کراچی میں بھی یہی ہوتا ہے – میری ایک کزن نے Oriflame میں جوائن کیا، اب دوستوں سے بات نہیں کرتی کیونکہ وہ "نیگیٹو" ہیں۔

4. قانونی چالاکیاں اور سیاسی اثر

   - 1975 میں FTC نے ایم وے پر مقدمہ کیا، لیکن 1979 میں "ایم وے سیف گارڈ رول" سے قانونی بنا دیا – اگر تھوڑی سیلنگ ہو تو ٹھیک۔  
   - ایم وے مالکان نے صدر فورڈ سے ملاقات کی، ریپبلکن پارٹی کو $200 ملین دیے۔ ٹرمپ نے بھی Trump Network چلایا۔  
   - انڈیا میں سپریم کورٹ کیسز، CEO گرفتاریاں۔ ہربالائف نے FTC کو 200 ملین جرمانہ دیا۔  
   - پاکستان میں بھی TIENS، Qnet چل رہی ہیں – FIA نے کچھ کیسز کیے، لیکن سیاسی اثر سے بچ جاتی ہیں۔

5. حقیقی کیسز اور اثرات

   - ٹیکساس میں ایک فیملی نے 6 سال میں $120,000 ضائع کیے، گروسری کم کی۔  
   - ایشیا میں 7.4 کروڑ لوگ شامل، امریکہ سے زیادہ۔  
   - خاندان تباہ، رشتے خراب، مالی بربادی۔  
   - کراچی میں میرا تجربہ: میں نے ایک سکیم میں 20 ہزار لگائے، پروڈکٹس اب گھر میں پڑے ہیں۔ اولاد دیکھے گی تو کیا سوچے گی؟

کمنٹس کا جائزہ: لوگوں کی آراء

ویڈیو پر کمنٹس مثبت ہیں:  
- ایک یوزر نے دبئی میں پیسے ضائع کرنے کی کہانی شیئر کی۔  
- دوسرے نے Power Eagles اور TIENS کا ذکر کیا، جو پاکستان میں چل رہی ہیں۔  
- کچھ نے رمضان کی برکت کا کہا، اور ویڈیو کی تعریف کی کہ یہ آگاہی دیتی ہے۔  
- ایک نے کہا کہ آسان پیسے کا جھانسا مت کھاؤ۔  

یہ کمنٹس دکھاتے ہیں کہ یہ فراڈ عالمی ہے، اور کراچی جیسے شہروں میں بہت پھیلا ہوا ہے۔

میری ذاتی سوچ: یہ فراڈ کیوں چل رہا ہے اور کیا کریں؟

یہ ویڈیو دیکھ کر لگا کہ میرا کراچی کا تجربہ اکیلا نہیں – یہ ایک عالمی جال ہے جو خاندانوں کو تباہ کرتا ہے۔ ہم کراچی والے اکثر خواب دیکھتے ہیں گھر بیٹھے امیر بننے کے، لیکن یہ فراڈ ہے۔ ریڈ فلیگز: سرمایہ لگانا، ریکروٹمنٹ پر فوکس، اوور پرائسڈ پروڈکٹس، ناکامی کو مائنڈ سیٹ کی غلطی کہنا۔  

ذمہ داری ہم سب کی ہے – بزرگوں کی نصیحت سنیں، لیکن تحقیق کریں۔ اگر کوئی "بزنس آپورچونٹی" آئے تو FTC یا ED کی رپورٹس دیکھیں۔ کراچی میں FIA کو رپورٹ کریں۔ یہ نہ صرف پیسے کا نقصان ہے، بلکہ رشتوں کا بھی۔  

اگر آپ نے بھی ایسا فراڈ دیکھا ہے تو کمنٹ کریں۔ ویڈیو دیکھنے کا لنک: https://www.youtube.com/watch?v=bNZyAEDVtxQ  

اللہ حافظ!  
- مرتضیٰ معیز، کراچی سے  
(18 فروری 2026)


مکمل تحریر >>

بلاگ میں مزید دیکھیں

You might like

$results={5}

Search me

Translate