The Political Horizon

Translate

مئی 13, 2026

This is High Time - Pakistani Baby Boomers be exposed accordingly

یہاں میرا یہ لکھنے کا مقصد نہیں کہ میں دشمنیاں پال رہا ہوں، کیونکہ کافی بے بی بومرز ایسے ہیں، جو Millennials اور آنے والی جنریشنز کو ساتھ لے کر چلنا چاہتے ہیں، اس کے لئے وہ نئی جنریشنز کے ساتھ چیزیں سیکھتے ہیں، اور ایسا محسوس نہیں کراتے کہ جیسے ان کی اسکلز اور چیزیں کسی سے کم ہیں، کیونکہ عزتِ نفس ایک ایسی چیز ہے جو کسی زبان کا محتاج نہیں، یہاں تک کہ اگر کسی جانور کے ساتھ اچھا behave کرو، تو وہ بھی جواب میں اپنی زبان میں شکریہ کرتا۔

میرے ساتھ

میری بلی تھی، اب ختم ہوگئی، کافی پرانی تھی، کیونکہ اسکی ماں میرے پاس چھوڑ کر گئی تھی، اور میرے والد (بیشک ابھی مجھے گالیاں دیں گے)، مگر وہ بھی یہ بات مانیں گے کہ میری وہ بلی کی ماں میرے پاس اپنا بچہ چھوڑ کر چلی گئی تھی، اب یہ نہیں پتا کہ واقعی میں چھوڑ کر گئی تھی یا پھر ایسا ہوا کہ ادھر چھوڑا اور ادھر اس کے اوپر سے گاڑی گزر گئی کیونکہ اس کے بعد پھر کبھی وہ نہیں دکھائی دی، اور وہ COVID کے دن تھے، کیونکہ مجھے یاد ہے، کہ میں اس بچہ کو صرف حوصلہ دیتا تھا، اور COVID کے دنوں میں gloves کا بہت استعمال ہوتا تھا، تو اسی synthetic gloves میں پن سے چھوٹا سراخ کر کے اس کو Millac پلاتا تھا، حالانکہ اپنی اماں سے ڈانٹ کھاتا تھا مگر میرا یہ ماننا تھا کہ اس ماحول میں جانوروں کو اکیلا کیونکر چھوڑوں، اور اسی وجہ سے اپنے آخری ٹائم تک میرے والد، میری والدہ، میری بیوی سے ڈانٹ کھا کر میرے کمرے میں آجاتا تھا، کیونکہ اس کو سکون ہوتا تھا کہ یہ بندہ مجھے کبھی نہیں دھتکارے گا۔

اب بات اس چھوٹے بلی کے بچے سے اپنی زندگی میں آرہی ہے

جہاں میری اس نیچر کو تین طرف سے exploit کیا جارہا ہے، کیونکہ اس وقت گھر میں تین دھاری تلوار پر زندگی گزار رہا ہوں، یہاں مسئلہ یہ ہے، کہ دو عورتوں (میری ماں اور میری بیوی)،  ایک مرد (میرے والد) اپنی جانب میری ہاں رکھنا چاہتے ورنہ "کیفے قبائیل" والی ذہنیت میرے اوپر implement کرنے کی کوشش ہے، اور یہ بلاگ لکھانے کا مقصد یہی ہے کہ اس چیز کا ریکارڈ رکھنا چاہتا ہوں۔

میری بیوی aka چڑھتے سورج کی پجاری

میری بیوی کا مسئلہ یہی ہے کہ اس کو کوئی نا کوئی shoulder چاہئے ہوتا ہے، کہ اپنے آپ کو اس کے پیچھے چھپائے، emotional and ethically کمزور ہے، آج میرے پاس نوکری نہیں ہے، بیشک اس میں میری خود کی بھی کمزوری ہے، کیونکہ میرے ساتھ scam ہوا، مگر ایسی صورتحال میں بیوی کو میرے ساتھ کھڑا ہونا چاہئے، مگر یہاں بات یہی ہے کہ میں نے اپنی زندگی Integrity کے ساتھ گزاری، مگر اب مجھے بغلیں جھانکنے والا بنانا چاہتی ہے، کیونکہ اس کے پاس کوئی جواز نہیں تھا، یہی ایک جواز تھا جہاں وہ مجھے ہٹ کر سکتی تھی، اور معذرت کے ساتھ مجھے ہٹ کیا، کیونکہ عورتوں کو یہ بات سمجھنی چاہئے، کہ ہر مرد کی ایک سیلف رسپیکٹ ہوتی ہے، ایسے میں اپنے اسکورز سیٹل کرنے کے لئے اس aspect کو exploit کرنے میں پیش پیش ہے، کیونکہ اس نے یہ سوچا کہ اس vulnerable condition میں، میں ٹوٹ جاؤں گا، خود بتاؤ، جب بچہ پیدا ہوا تھا تو ۹۵۰۰۰ خود ارینج کئے تھے، صرف اماں سے ۲۰۰ ڈالرز لئے تھے، وہ integrity کے ساتھ واپس PKR سے USD میں کنورٹ کرکے واپس بھی دئے، اب اس بندے کو ایسے exploit کررہے ہیں، صرف اس لئے کہ آپ کی رضامندی حاصل ہو؟

میری ماں

میری شادی سے پہلے میری ماں کا رویہ ایسا تھا کہ میری رائے کی کوئی اہمیت نہیں، شادی کے کارڈ پر بھی احسان جتانے کے لئے ۳ کارڈز دئے کہ تمہاری شادی کے لئے ہم نے پیسہ دیا ہے، جب یہ رویہ رہے گا، تو کس چیز کی عزت کی بات کررہے ہیں؟ کس چیز کی طاقت چاہئے؟ آپ نے فیملی چلانی ہے یا WWE؟ اس پر یہ کہ اس صورتحال میں بھی آخری ٹائم تک میں اپنے والدین کے لئے بولتا رہا، مگر اب صورتحال یہ ہے کہ میری بیوی کی صورت میں ان کو میری ڈگ ڈگی مل چکی ہے، صرف اس لئے کہ میری ماں مجھے کنٹرول نہیں کرسکتی، کیونکہ میں اپنے decisions میں جب No بول دیا، تو وہ No ہوگا، مائنس، مائنس پلس نہیں ہوتا، میں نے اپنا سسٹم ایسا سمپل رکھا ہے، مگر یہاں یہی ہے، کہ میں نا بولوں تو میری بیوی کو استعمال کرنے پر لگے ہوئے ہیں، کہ بادل نخواستہ "مجھے اثرات کو اپنے اوپر لوں" یہ سب کچھ ڈاکیو منٹ کرنے کا مقصد یہی ہے کہ میں خود کو تیار رکھوں، اور یہ تیاری ہی ہے کہ یہ سب کچھ میں لکھ کر ڈاکیو منٹ کررہا ہوں، کیونکہ جو toxicity میری زندگی میں میری ماں نے پھلائی ہے، اور میری بیوی کو چسکا لگ چکا ہے، کیونکہ میری ماں نے خود راستہ دکھایا ہے کہ مرتضی کو ایسا ٹریٹ کرو، 

میرے والد صاحب

آپ کسی بار بی کیو والے کے پاس گئے ہو؟ وہاں steaks لگے ہوئے ہوتے ہیں، اور ساتھ میں ایک پنکھا ہوتا ہے، میرے والد وہ پنکھا ہیں، جو ہمیشہ confrontation کو اور گرم کرتے، اور یہ موقع بابا نے دیا، کیونکہ مام اور بابا کی طرف داری کی ایک وجہ یہی ہے کہ میں اپنا فوکس ہمیشہ آن رکھتا ہوں، بابا اسی بات پر چڑتے کہ میں جواب ہمیشہ پوائنٹ پر ٹھوک کر دیتا ہوں، اسی وجہ سے میری اس نیچر کو بابا attitude بولتے، اور یہ attitude مجھ سے ختم کرنے پر تلے ہوئے ہیں، اور جیسے میں بار بار یہ بات لکھ رہا ہوں کہ یہ بلاگ لکھنے کا مقصد یہی ہے سب چیزیں آن اکاؤنٹ رہے۔

ابھی، ابھی

میں عصر کی نماز پڑھ کر آیا ہوں، اور میری بیوی نے یہ حرکت کی ہوئی ہے کہ کمرے کی کھڑکی پر پردے ڈال دئے، جبکہ میرا کمرہ ہوا کے رخ پر ہے، زرا بھی کھڑکی covered ہوجائے گی تو کمرہ Urban Island Effect کے rule کے حساب سے تپنا شروع ہوجائے گا، جبکہ اس کو فائیو اسٹار کمپلیکس میں رہنے کی عادت ہے جہاں ایک کھڑکی کھلے تو دوسرے گھر میں جھانکنا شروع، خود میرا خود کا ذاتی تجربہ ہے کہ واش روم میں گیا تو ساتھ والے فلیٹ کی واش روم میں فلش کرنے کی آواز آرہی تھی، ایسے میں، میں نے یہی کیا کہ کھڑکی کھول دی، اور پردے ہٹادئے، کیونکہ کمرہ ہوادار اچھا لگتا ہے، نا کہ یہ کہ congested رہے، ایسے میں، میں نے دو رخی تلوار کی بات کی، وہی ہوا، کہ 

پورا دن کمرہ اپنے حساب سے کھلا رکھتے، اب زرا سا کھڑکی بند کی، بچہ کا خیال نہیں

 میں نے جواب دیا

اگر میرے ساتھ رویہ صحیح رکھتے، میں خود پوری کھڑکی بند کرتا، مگر اب چونکہ تم نے مجھے ضد پر لائے ہو، اب برداشت کرو

اس کے جواب میں اس نے جواب دیا

اپنا علاج کرائیں

اسی وجہ سے میں یہ سب کچھ ڈاکیو منٹ کررہا ہوں، کیونکہ اب بہت ہوچکا ہے، میں again یہ بات لکھوں گا کہ اگر اللہ دیکھ رہا ہے، تو مجھے انصاف چاہئے، کیونکہ یہاں میرے لئے صورتحال ایسی بنا رہیں ہیں کہ میرے "غصہ"😡 کوhighlight کیا جا رہا ہے، اور اس کے لئے جیسے مصطفی کو paralized کردیا ہے، وہی tactic یہاں کررہے ہیں، اور اسی لئے میں یہ سب کچھ ڈاکیو منٹ کررہا ہوں۔

اسی لئے ان سب کا ریکارڈ میں نے Google Drive کے اس فولڈر میں ڈال دیا ہے کیونکہ ویسے Blogger مجھے اجازت نہیں دیتا کہ میں آڈیو فائل یہاں ڈالوں، مگر اب میں چیزیں upload کردوں گا، کیونکہ یہ لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ مجھے اپنے قابو میں کرکے میری تعریف کریں گے بصورت دیگر میری عزت تار، تار کریں گے۔

میری بیوی کے ساتھ مسئلہ

میری بیوی کے ساتھ مسئلہ یہی ہے کہ وہ جانتی ہے کہ میں جب اسٹینڈ لوں گا تو گھر تک چھوڑ کر آؤں گا، ایسے میں وہ میری integrity توڑ کر اپنے گھر والوں کے سامنے دکھانا چاہتی ہے کہ وہ اتنی مضبوط ہے، عورت مضبوط اپنے شوہر کے ساتھ رہتی ہے، نا کہ رشتہ میں کسی کو include کر کے، اب ایسے میں ڈرامہ وہ شروع کررہی ہے، مگر ختم میں ہی کروں گا، کیونکہ سب کچھ میں رکارڈ پر ڈال رہا ہوں، اور ریکارڈ پر ڈالنے کے ساتھ یہ سب کچھ لکھائی میں بھی کررہا ہوں، کیونکہ جیسے میں نے لکھا ہے کہ لکھنے کی عادت سے مجھے فوکس کرنے میں آسانی ہوتی ہے، ایسے میں یہاں سارا کھیل فوکس کا ہے، کیونکہ اب میں کھل کر ریکارڈ کھیلوں گا، جب ۳ لوگ مجھ کمزور کے ساتھ مقابلہ بازی کررہے ہیں، تو ایسا ہی صحیح، اب سب black-and-white ہوگا، اور کھل کر ہوگا۔

Again یہ سب کچھ کا یہ بالکل مقصد نہیں کہ میں نے بدلہ لینا ہے

مگر بات یہ ہے کہ جیسے بھی ہیں، اس وقت جس vulnerable پوزیشن میں ہوں، میرے والدین ہی میری سپورٹ ہیں، مگر اس سپورٹ کی اتنی بڑی قیمت؟ کہ مجھے ایسے اکیلا کیا جارہا ہے؟ وہ بھی ۳ جانب سے؟

مکمل تحریر >>

مئی 12, 2026

Baby Boomers not doing good to coming generations

الٹی بحث کرنے سے کیا سکھا رہے ہیں؟

پہلے غلط مثال کھڑی کرتے ہیں، اسکے بعد کارٹل والی mentality تھوپتےہیں۔

میرے خود کے ساتھ

میں نے اپنی فیملی میں پہلے ہی دیکھا ہے کہ ان ایکشنز کا کیا ری ایکشن آئے گا، تو دوبارہ آنکھ بند کر کے ان کی باتوں کو accept کروں کہ بعد میں الزام میرے اوپر آئے کہ مرتضی نے سب کیا؟ یہ mentality ہے، اور یہ بلاگ لکھنے کا مقصد یہی ہے کہ میرے ہاتھ پاؤں باندھ دئے ہیں، اس کے بعد آنے والے نتائج کا ذمہ دار میں ہوں گا، 

مگر یہاں ہمارے Baby Boomers ہمیشہ غلط example سیٹ کی

معذرت کے ساتھ ایسی صورتحال میں، جہاں میرے اوپر پریشر ڈالا جارہا ہے کہ ان دونوں (والدین) کے نقش قدم پر چلوں ورنہ تمہاری بیوی ہمارے قبضہ میں ہے، یہ سب ان کے behavior سے پتا چل رہا ہے، کہ ان کا موڈ یہی ہے، کہ میں ان کی بات مانوں، ورنہ بیوی کا پریشر رہے۔

میرے اپنے والدین نے اپنے ہی بیٹے کو ایسا بنا دیا ہے کہ اس کی بیوی اس کی نہیں سن رہی ہے

مجھے قبضہ کرنے کی عادت نہیں، نا ہی میں بیوی کو قابو کرنے کا شوقین ہوں، بلکہ عورتیں اگر یہ پڑھ رہی ہیں تو خود بتائیں کہ وہ شوہر جو بیوی کا اپنا بینک اکاؤنٹ بنا کر دے، بجائے غیر ضروری دیسی عورت جس کا دلچسپی کا محور یہی ہے کہ فلاں نے یہ کیا، اس نے وہ کیا، یہ چیز میں اپنی فیملی میں ہونا نہیں پسند کرتا، اور جب میں یہ سب کچھ دیکھ رہا ہوں تو روکنے کے لئے پہلے پیار سے بولوں، میری بات کو اگنور کرے، کیونکہ پیچھے سے میرے والد میری بیوی کو spoil کررہے ہیں۔

میری نوکری نہیں ہے

اس چیز کا طعنہ مجھے ایسے دیا جارہا ہے، ایسے میں بیوی کی اور فیملی کی سپورٹ چاہئے، سپورٹ کا مطلب پیسوں کی سپورٹ نہیں، مورل سپورٹ ہے، یہاں والدین اپنے خود کے پرسنل اسکورز سیٹل کررہے ہیں، اس کے مقابلے میں بیوی اپنے، کیونکہ بیوی کے خلاف میں نے اسٹینڈ لیا تھا، کیونکہ کچھ circumstances ایسے ہوئے تھے جہاں میں نے اس کی طرف داری نہیں کی تھی، کیونکہ یہ چیزیں میں اپنے گھر میں (پھر سے کہوں، گھر سے مطلب میری فیملی، نا کہ وہ چار دیواری جہاں رہ رہا ہوں)، اور معذرت کے ساتھ کبھی کبھی سوچتا ہوں کہ الٹی بحث اس بندے کے ساتھ جو introvert ہے، اس سے بحث جیت کر اس سے یہ حق چھینا جارہا ہے، کہ اپنے خود کے گھر (گھر سے مراد میری فیملی، چار دیواری نہیں) بار بار یہ repeat کررہا ہوں کہ میرے خاندان میں ایسے حُجتی لوگ ہیں، جو ایسی petty چیزوں کی اسکرین شاٹ لے کر بولتے ہیں اور میں یہ چیز پسند نہیں کرتا، کہ میرے گھر (میری فیملی، چار دیواری نہیں) پر impose کرے، اس پر سونے پہ سہاگہ میرے والدین میری integrity توڑ رہیں ہیں، 

میں ایسا کس حوالے سے کہہ رہا ہوں؟

میں ایسا اسی لئے کہہ رہا ہوں کہ بات ہمیشہ یہاں سے شروع ہوتی ہے کہ مرتضی (عنیز) غصہ کرتا ہے، مگر بڑے بننے کا شوق ہے تو یہ تو دیکھیں کہ ایسا ری ایکشن کیوں آرہا ہے؟ بڑوں کا کام یہی ہوتا ہے، کیفے قبائیل نہیں بناتے کہ ہمارے قبیلے میں رہنا ہے، تو ہماری ماننی پڑے گا، اور میں نے اپنے گناہ گار آنکھوں سے دیکھا ہے، کہ ماضی میں ان کے ایکشنز کا کیا ری ایکشن آیا، تو ایسے میں اگر میں احتیاط کررہا ہوں، تو میری خود کی ریپوٹیشن reputation خراب کررہے ہیں۔

بیوی کو سپورٹ

عورتیں یہ بات سے بالکل relate کریں گی، کہ اس وقت جب میری خود کی ماں میرے اور میری بیوی کے پیچھے ہاتھ دھو کر بیٹھی ہوئی تھی، اتنی کہ ایک جانب میری ماں بولتی ہے، کہ میری بیوی کو میرے ساتھ بھیجواؤ، اپنے مولوی صاحب وغیرہ کے جھمیلوں میں تم دونوں کو ڈالوں گی، اور دوسری جانب میری بیوی کرائے کے گھر کے لئے، وہاں اپنی بیوی کی سیلف رسپیکٹ self-respect کا خیال کیا، بلکہ اس کا ذہن صاف کیا، جس کی وجہ سے اس نے بچہ conceive کیا، مگر fast forward ایک سال بعد کیونکہ مارچ ۲۰۲۵ میں میرا بچہ ہوا، اور اب مئی ۲۰۲۶ ہے، ایک سال پہلے وہ اس صورتحال میں تھی، وہاں میں اس کی سپورٹ پر کھڑا رہا، اور آج یہ صورتحال ہے کہ کمرے کا دروازہ بند ہے، بیوی الٹا سنا رہی، وہی بیوی جو ماں سے بچنے کے لئے کرائے کا گھر demand کررہی تھی، آج اسی عورت کی زبان بول رہی ہے،

اکیلے کمرے میں

اس وقت اکیلے کمرے میں یہ لائن لکھ رہا ہوں، میرے ساتھ ہر کوئی اپنے اسکورز سیٹل settle کررہا ہے، اب اگر اللہ موجود ہے، تو مجھے اس اللہ سے انصاف چاہئے، 

کیا یہ سب کچھ ہونے کے بعد میری بیوی میری عزت کرے گی؟ عزت سے مطلب at the time needed میرے ساتھ کھڑی ہو؟ اسی وجہ سے ان baby boomers کو سمجھانے کی ضرورت ہے، ایک اسٹینڈ لینے کی وجہ سے یہ چیزیں face کررہا ہوں، اگر اللہ موجود ہے، تو میری مدد کریں۔

اب یہ بات کہ میری بیوی کو میرے خلاف کر کے یہ لوگ کیا prove کرنا چاہتے؟

یہ کہ میں ان کی ہاں میں ہاں ملاؤں؟ جیتے جی کبھی میں نہیں مانوں گا، چاہے کچھ بھی ہوجائے، اور میں یہ بات کہہ رہا ہوں، کہ اگر اللہ موجود ہے، دیکھ لیں، یہ آج کل کے والدین والدین پریمیئر لیگ کھیل رہے ہیں، مجھے انصاف چاہئے، میں نے کبھی یہ نہیں چاہا کہ مجھے طاقت چاہئے، میں نے اپنے کام سے کام رکھنا ہے، I am not hungry for validation from individuals as the only Validation requires is from Allah۔



مکمل تحریر >>

Baby Boomers doing their politics

اصل مسئلہ صرف یہ نہیں کہ Baby Boomers بوڑھے ہو چکے ہیں۔ ہر نسل ایک دن بوڑھی ہوتی ہے۔ اصل بحران یہ ہے کہ آج بھی بہت سے سیاسی نظام اُن ذہنی سانچوں میں قید ہیں جو ایک ایسے دور میں تشکیل پائے تھے جہاں دنیا کی رفتار، معیشت، آبادی، ٹیکنالوجی اور سماجی ساخت آج سے یکسر مختلف تھی۔

آج کی نوجوان نسل ایک ایسے معاشی اور ذہنی دباؤ میں زندہ ہے جہاں گھر خریدنا خواب بنتا جا رہا ہے، نوکریاں غیر مستحکم ہیں، ذہنی صحت تباہ ہو رہی ہے، اور سوشل میڈیا نے انسان کو مسلسل نفسیاتی مقابلے میں دھکیل دیا ہے۔ لیکن سیاست اب بھی انہی پرانے نعروں، مصنوعی نظریاتی جنگوں، اور ٹی وی اسکرینوں پر چلنے والے جذباتی ڈراموں میں پھنسی ہوئی ہے۔

ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے کئی سیاسی اشرافیہ مستقبل تعمیر کرنے کے بجائے اپنے ماضی کو محفوظ بنانے میں مصروف ہیں۔

یہی وہ مقام ہے جہاں نوجوان نسل کے اندر غصہ جنم لیتا ہے۔

انہیں صرف عمر سے مسئلہ نہیں۔ انہیں اس منافقت سے مسئلہ ہے جہاں وہی نسل جو صبر، قربانی، اور برداشت کے لیکچر دیتی رہی، خود نسبتاً آسان معاشی دور میں ترقی کر کے اوپر پہنچی، اور پھر رفتہ رفتہ وہ دروازے بند کر دیے جن سے نئی نسل اوپر آ سکتی تھی۔

آج ایک نوجوان کو وہ بنیادی استحکام حاصل کرنے کے لیے کئی گنا زیادہ جدوجہد کرنا پڑتی ہے جو پچھلی نسلوں کو نسبتاً کم دباؤ میں میسر تھا۔

لیکن یہاں ایک اہم حقیقت بھی موجود ہے۔

ہر Baby Boomer مسئلے کی جڑ نہیں، اور ہر نوجوان خودکار طور پر ذہین، باشعور یا انقلابی نہیں۔ کئی بزرگ نسلوں نے ہی انسانی حقوق، آزادی اظہار، مزدور حقوق، اور سماجی اصلاحات کی بنیادیں بھی رکھی تھیں۔ مسئلہ صرف عمر نہیں۔ مسئلہ ذہنی جمود ہے۔

خطرناک بات یہ ہے کہ کئی حکمران طبقات اب بھی نئی دنیا کو پرانے چشمے سے دیکھ رہے ہیں۔ وہ ڈیجیٹل دور کی نفسیات کو نہیں سمجھتے۔ وہ نوجوانوں کے اندر بڑھتی ہوئی existential anxiety کو نہیں سمجھتے۔ وہ یہ نہیں سمجھتے کہ مسلسل معاشی عدم استحکام انسان کے اندر اداروں کے خلاف خاموش نفرت پیدا کرتا ہے۔

نتیجتاً سیاست حقیقت سے کٹ کر صرف ایک جذباتی تھیٹر بنتی جا رہی ہے۔

الفاظ بدلتے ہیں، چہرے بدلتے ہیں، مگر نظام کی روح وہی رہتی ہے۔

مزید تشویشناک بات یہ ہے کہ نئی قیادت بھی اکثر حقیقی تبدیلی کے لیے نہیں بلکہ پرانے نظام کی وفادار نقل بننے کے لیے تیار کی جاتی ہے۔ سیاسی جماعتیں سوچنے والے افراد نہیں بلکہ obedient چہرے پیدا کر رہی ہیں۔ اسی لیے نسلوں کی منتقلی صرف ظاہری رہ جاتی ہے، ساختی نہیں۔

عام انسان اب اس تضاد کو محسوس کرنے لگا ہے۔

وہ دیکھتا ہے کہ قربانی ہمیشہ عوام سے مانگی جاتی ہے مگر طاقتور طبقات خود کو ہر بحران سے محفوظ رکھتے ہیں۔

وہ دیکھتا ہے کہ جذباتی نعرے strategic planning کی جگہ لے چکے ہیں۔

وہ دیکھتا ہے کہ سنجیدہ گفتگو کی جگہ شخصیت پرستی، شور، اور مصنوعی polarization نے لے لی ہے۔

اور جب معاشرہ اداروں پر یقین کھونا شروع کر دے، تو پھر conspiracy theories، انتہاپسندی، اور اجتماعی ذہنی تھکن جنم لیتی ہے۔

سب سے بڑا خطرہ صرف نسلوں کا ٹکراؤ نہیں۔

سب سے بڑا خطرہ یہ ہے کہ معاشرہ یہ یقین کھو دے کہ اس کے نظام خود کو درست بھی کر سکتے ہیں۔

کیونکہ تاریخ میں سب سے خطرناک لمحہ وہ ہوتا ہے جب ماضی سے چمٹے ہوئے لوگ مستقبل کو پیدا ہونے سے روکنے لگتے ہیں۔



مکمل تحریر >>

مئی 04, 2026

Society Issue in Karachi

یہ بلاگ میرے کرکٹ بلاگ کے اس پوسٹ سے متعلق ہے، وہاں میں نے پاکستانیوں کی mediocracy کرکٹ کے میدان میں سوالات کئے ہیں یہاں میں پاکستانی معاشرے کے متعلق سوالات اٹھا رہا ہوں۔

پہلے میں کرکٹ سے ہی شروعات کروں گا، ہماری یہ ذہنیت رہی ہے کہ ہم پاکستانی ہیں، فاسٹ بولنگ ہم سے ہے، جبکہ کل پی ایس ایل ۱۱ پشاور زلمی کے نام ہوا ہے، مگر ہماری mediocracy دیکھیں کہ پورے ٹورنامنٹ کا فاسٹ بولر ناحد رانا (ناحید رانا نہیں) نے ہمارے so-called فاسٹ بولرز کو کمند دکھائی ہے۔

معاشرتی تصورات

یہ ہماری معاشرتی تصورات ہے، کیونکہ بحیثیت معاشرہ یہ ہماری سوچ ہے کہ پاکستانی پروڈکٹ خراب ہوتی ہے imported امپورٹڈ چیزیں ذیادہ اچھی ہوتی ہیں، اس کے ساتھ ہماری فیملی سسٹم بھی اسی طرح کا ہے، کہ کسی کو کھلا ہاتھ نہیں دینا ہے، میرا اپنا یہ مسئلہ یہ رہا ہے، کیونکہ میں اس نیچر کا بندہ ہوں کہ میں لائن بنا کر رکھتا ہوں، کچھ چیزیں میں accept کرلوں گا، مگر ذیادہ چیزیں جن کا impact آج نہیں دکھائی دیگا، بلکہ ۱۰، ۲۰ سال کے بعد دیکھائی دیگا، اور جیسے یہ baby boomers نے اپنی ذندگی گزاری ہے کہ اپنے خود کے گول سیٹ نہیں کرنا، مگر اپنے بیٹے یا بیٹی کے ذریعہ اپنی ذندگی گزروانا چاہتے ہیں، یہ ہمارے آج کے بڑوں کی ذہنیت ہے، یہ چیز ان کو سمجھنا چاہئے جو کہ ہم نے نیپال، سری لنکا اور بانگلادیش میں دیکھ چکے ہیں کہ اب ذہنیت کی جنگ ہے، baby boomers اپنی ذہنیت GEN-Z کے اوپر تھوپنے پر لگے ہوئے ہیں، میرے خود کے ساتھ یہی ہورہا ہے، کہ میرے ساتھ گھر میں حجتی رویہ رکھا جارہا ہے، یعنی جیسے انگریزی میں ایک ٹرم استعمال کی جاتی ہے کہ dual faced dagger یعنی مان لوں تو بعد میں میرا بھی یہی حال ہوگا کہ میں اپنی ذندگی اپنے بیٹے کے ذریعے گزاروں گا، نہیں مانوں گا، تو ایسے میں میرے ساتھ یہی ہورہا ہے کہ مجھے دکھایا جارہا ہے کہ میں بدتمیز ہوں، مگر یہاں یہ بے بی بومرز میں ایک مستقل احساس کمتری ہے کہ نیچے والی جنریشن کواپنے "قابو" میں رکھنا، کیونکہ یہ چیز میں نے ان بے بی بومرز میں دیکھی ہے، کہ argument جیتنا ضروری ہے، either by hook or by crook، کیونکہ ایک اور چیز جو میں نے دیکھی ہے کہ بے بی بومرز اپنے آپ کو موجودہ ٹائم سے مطابقت کرنا اپنی شان کے خلاف سمجھتے ہیں، اور ایسے میں میرے سامنے ایک بڑے صاحب فخریہ کہتے ہیں، Hit and Run، یعنی جیسے شرارتی بچے گرمی میں دروازہ بجا کر بھاگ جاتے تھے، یہ مائنڈ سیٹ کو پروموٹ کررہیں ہیں، اور ایسے میں اگر یہ چیز میں اپنی بیوی اور بچے کے اوپر اثر انداز نا ہونے کے لئے point zero پر روک رہا ہوں، اور وہاں میرے گھر کے بڑے یہ چیز میری موجودگی میں اثر انداز کرانا چاہتے ہیں، اور ایسے میں میرے ساتھ وہی حرکت کررہیں جو الادین میں جادوگر نے جیسمین کو نقلی چراغ دے کر اصلی چراغ یعنی  میرے فیملی پر say کو out of context کیا جارہا ہے، یعنی انگریزی میں کہا جاتا ہے، waiting for disaster، کیونکہ ابھی سے میں دیکھنا شروع کردیا ہے کہ میری بیوی میری suggestions کو importance نہیں دے رہی ہے، اور یہی بات ہے، میری فیملی میں ایسے واقعات ہوچکے ہیں، جن کو سختی کر کے میں روک رہا ہوں، تو ایسے میں ایک جانب میرے والدین سے رکاوٹ آرہی ہے، دوسری جانب بیوی، اس کا ایک نقصان یہی ہے کہ آگے مستقبل میں میری بیوی میری ایک نہیں سنے گی، میں جس طرح کا بندہ ہوں، میں فرنچ میں ایک ٹرم quid-pro-quo یعنی جیسا کرو گے ویسا بھرو گے، میرے ساتھ اچھا رہو گے تو میں جی جان لگا کر تمہارے ساتھ کھڑا رہوں گا، اور ایسے میں میرے والدین میرے لئے ایسے مشکلات کھڑے کررہے ہیں، اور اس میں کوئی شرم نہیں کہ صرف اسی لئے کہ جب میرا بچہ نہیں ہوا تھا، تو تب میرے پیچھے پڑ گئے تھے کہ میں اپنی بیوی کو ڈاکٹرز، حکیم صاحب اور مولوی صاحبان کے پاس بھیجوں، اور ایسے میں اب پزل کو ملاؤں تو ایسے میں یہ بات روز اول عیاں ہے، کہ ان بے بی بومرز کی ego اس چیز پر hurt ہوئی ہے، تو ایسے میں اس چیز کا قوی امکان ہے کہ اس جانب سے میرے خود کے ساتھ اسکورز settle کریں گے، اور جیسے میں نے کہا کہ یہ چیز جب میں پزلز کے سارے pieces کو جمع کررہا ہوں، تو یہ impact آتا ہے۔

Carry Forward ذہنیت کے بجائے قابو کرنے کی ذہنیت کرنا

سوسائٹی اسی طرح بنتی ہے جیسے نوکیا کا مشہور سلوگن رہا ہے کہ Connecting People، یہ ذہنیت ہمیں اپنانی ہوگی، بالکل ویسے ہی ہے جیسے آپکی ایک انگلی کی امپریشن ساتھ والی انگلی سے کبھی ملاپ نہیں ہوگا، یہ میں نے کچھ دن پہلے نادرہ کے دفتر میں دیکھا تھا، کیونکہ میرے والد صاحب کے انگلی کے نشانات نہیں آرہے تھے، تو ایسے میں فیملی میمبر ہونے کے ناطے میں نے ان کی جگہ انگلی کے نشانات دئے تھے، اور اس پر بھی میرے انگوٹھے کے بجائے شہادت کی انگلی اور انگوٹھی والی انگلی کے امپریشن آئے تھے، کیونکہ میں بائیک چلاتے ہوئے آیا تھا، تو انگوٹھا rugged ہورہا تھا، تو ایسے میں جو لوگ نادرہ میں انگوٹھے لگائے ہیں، ان کو اندازہ ہوگا کہ کسی کے لئے جب آپ انگوٹھا لگاتے ہیں تو سسٹم پر آنے والے پرومپٹ کے حساب سے آپ کو انگوٹھا لگانا ہوتا ہے، ایسے میں آٹومیٹک پرومپٹ انگوٹھے کا آیا، مگر جیسے میں نے پتایا، بائیک کے accelerator پر ہونے کی وجہ سے نشان نہیں آیا، پھر سیکنڈ attempt شہادت کی انگلی کی آئی، وہ آگئی، اس کئ بعد دوسری attempt میری بیچ والی انگلی یعنی ring finger کی آئی، اس وقت میں نے امپریشن کے متعلق اُس آپریٹر سے پوچھا کہ کیا ہماری انگلیاں ہر انگلی ایک دوسرے سے فرق ہوتا ہے؟ جس پر اس نے ہاں میں جواب دیا، جس سے مجھے یہ اندازہ ہوا کہ جب ایک جسم میں موجود پانچوں انگلیاں ایک دوسرے سے فرق رکھتی ہیں، تو ایسے میں ہم کیسے یہ امید لگا کر رکھیں ہیں کہ بجائے والد carry forward ذہنیت کے مطابق بیٹے میں جو فرق ہے، اس کو accept کریں، اس کو اپنے نقش قدم پر چلانے میں اتنے اتاولے ہوجاتے ہیں کہ اولاد کی اپنی unique touch and feel کو ختم کرنے پر تلے ہوئے ہوتے ہیں، ایسے میں نیپال، سری لنکا اور بانگلادیش میں جو ہوا، وہ یہی ذہنیت کا تصادم تھا۔

اور ہمارہ معاشرہ اسی تصادم کی جانب جارہا ہے

مجھے یہ بات بے بی بومرز کی سمجھ نہیں آتی، ہم جونئرز کے سامنے کیسی مثالیں کھڑی کرہیں ہیں، ذیادہ تر بڑے بزرگ ہمیں یہ سمجھاتے ہیں کہ hit-and-run یہ نہیں دیکھ رہیں ہیں کہ اسکا معاشرتی تصادم کیسا ہوگا؟ کیونکہ ہمارہ معاشرہ ایسا شعبدے بازی سے بھر پور بن چکا ہے، کہ الامان الحفیظ، میں شعبدے بازی کو اس لئے نہیں اٹھا رہا ہوں کیونکہ in the long run میں یہ لوڈ اُٹھانے کا قابل نہیں ہوں، تو ایسے میں اپنی لائن کلئیر رکھ رہا ہوں، مگر یہاں میرے خود کے گھر والے مجھے اس جانب ڈلنے پر تلے ہوئے ہیں، 

میں اپنی تعریف نہیں کرنی مگر بات یہی ہے کہ میں calculated چلنے والا بندہ ہوں، اور یہاں عقیدت مندی اور تعبیداری کے نام پر مجھے بلیک میل کیا جارہا ہے، تاکہ کسی بھی حال میں، میں ان کے "نقش قدم" اور فرمانبرداری پر چلوں، یعنی فرمانبرداری کے نام پر مجھے exploit کیا جارہا ہے، جس میں میرے خود کئ والدین شامل ہیں، کیونکہ ان کے اس ایکشن کی وجہ سے میری بیوی مجھے for-granted لینا شروع کردیا ہے، تو خود بتائیں، آگے میرے لئے میرے خود کے والدین میرے لئے کیا بُن رہیں ہیں؟ 

The Political Horizon: While doing inDriving, noted one aspect 📌



مکمل تحریر >>

مئی 03, 2026

While doing inDriving, noted one aspect

یہاں میں نے inDrive کرتے ہوئے ایک چیز نوٹ کی کہ ہمارے کراچی میں درخت خاص طور پر کراچی کے اپنے نیم اور برگد کے درخت جو میں نے اپنے والد صاحب سے بھی سنا تھا، کہ انچولی وغیرہ یہ علاقوں میں بادام کے درخت ہوتے تھے، مگر اب یہ سب کچھ کا نام و نشان نہیں، شاید اولڈ سٹی ایریا میں نشانیاں دیکھیں ہیں، 

مگر اب

ایک جانب ہم گلوبل وارمنگ کا راگ الاپ رہیں ہیں مگر دوسری جانب لکڑی کے بیو پاری دندناتے ہوئے کراچی میں درختوں کو ختم کررہے ہیں، مگر ہم کچھ بولتے نہیں، نا ہی ہم میں اخلاقی جرات ہے کہ اس بات پر آواز اونچی کریں، مگر معاشرتی طور پر ہم اتنے گر چکے ہیں کہ کچھ بولنے کی پوزیشن میں ہی نہیں ہیں۔

پارکنگ

کراچی کو اتنا بڑھا دیا ہے کہ یہ احساس نہیں ہے، کوئی فیملی کے ساتھ گھر پر آئے گا، تو اپنے ساتھ ایک عدد بائیک تو کم سے کم لائے گا، تو ایسے میں ہاوسنگ پروجیکٹس لاوؐنچ کررہیں ہیں، مگر basic ضروریات فراہم نہیں کی جاتی ہیں۔

کراچی میں سیاست یا پھر سیاسی کراچی

اس وقت صورتحال اس طرح کی ہے کہ کراچی میں سیاسی اکھاڑا کیا جارہا ہے، مطلب کراچی ہر ایک کی ضرورت نہیں، کچھ چیزیں ایسی ہوتی ہیں جو کراچی کے بھجوانے کے بجائے ان کے اپنے علاقے میں فراہم کی جاسکتی ہیں کیونکہ یہاں سیاسی جماعتیں اپنے ووٹ بینک کو کراچی میں سیٹل کررہیں ہیں تاکہ statistics میں بتا سکیں کہ کراچی سے یہ ووٹ ہمیں ملا، مگر جس حالات میں لارہیں ہیں، ہمارے لئے بھی مسائل ہورہیں ہیں اور کراچی بحیثیت شہر ایک اونر شپ کے بغیر ہے، ایسے میں مجھے خود یہی لگ رہا ہے کہ سری لنکا میں جو کچھ ہوا ہے، وہی کچھ یہاں ہونے لگا ہے کیونکہ میں نے جو نوٹ کیا ہے، اس کے حساب سے کراچی والے تپ رہیں ہیں، کیونکہ برداشت کی ایک حد ہوتی ہے اور لوگوں میں برداشت ختم ہونا شروع ہوگیا ہے، اس پر یہ کہ کراچی کا اپنا ماحول اس influx کی وجہ سے خراب ہورہا ہے، 

جس طرح سے برہم سے وہ کراچی میں رہ رہیں ہیں، بالکل ایسے جیسے ہم ان سے دب کر رہیں، سیاسی جماعتوں کو بھی باور کرایا جائے کہ یہ لوگ کنٹرول نہیں بلکہ verify کرنے کے لئے کہ چیزیں صحیح سے چل رہی ہیں، دنیا بھر میں ایسا ہی ہوتا ہے، پولیس وغیرہ سب independently کام کرتے، یہاں سیاسی بھرتیاں ہوتی ہیں  کیونکہ سنگا پور بھی اسی طرح سے ترقی پر آیا ہے، تو ایسے میں طاقت کے نشے کے بجائے authorization موڈ پر آئیں 



مکمل تحریر >>

بلاگ میں مزید دیکھیں

You might like

$results={5}

Search me