سلام علیکم دوستو!
میں مرتضیٰ معیز ہوں (@MoizMurtaza)، کراچی کا رہنے والا۔ آج مجھے شدید غصہ ہے۔ ایک یوٹیوب شارٹ "The Wealth Mindset" دیکھا جو SUNK COST چینل کا ہے، اور یہ شارٹ ہمیں آئینہ دکھا رہا ہے کہ ہم پاکستانی کس طرح دولت اور کامیابی کے معاملے میں برتاؤ کر رہے ہیں۔ یہ شارٹ ایک سادہ کہانی ہے جو ہمیں بتاتی ہے کہ ہم بچت اور سرمایہ کاری کی ذہنیت کو چھوڑ کر صرف دکھاوے اور کھپت کی کلچر کو فروغ دے رہے ہیں۔ اور یہ برتاؤ ہماری مہنگائی کا سب سے بڑا سبب ہے! ہم خود اسے پیدا کر رہے ہیں، اور پھر الزام دوسروں پر ڈالتے ہیں۔ یہ intellectual dishonesty ہے، اور مجھے اس پر شدید غصہ ہے۔ یہ میرا اپنا لکھا ہوا ہے، دل کی بات اور روزمرہ کے مشاہدات کی بنیاد پر – کوئی AI نہیں، بس وہ حقیقت جو ہمیں جھنجھوڑتی ہے اور بدلنے پر مجبور کرتی ہے۔
شارٹ کی کہانی کیا ہے؟
شارٹ میں دو لوگوں کی کہانی ہے: لوقا اور ڈیلن۔
لوقا ایک سڑک کا بیچنے والا ہے جو دن بھر محنت کرتا ہے، کمر درد کرتی ہے، پاؤں سوج جاتے ہیں، لیکن جیب خالی رہتی ہے۔ وہ ڈیلن کو دیکھ کر حسد کرتا ہے، جو ایک خودساختہ کروڑ پتی ہے اور لگژری کار میں گزرتا ہے۔ لوقا سوچتا ہے کہ "یہ تو خوش قسمت ہے، اگر ہم دونوں ایک جیسے شروعات سے شروع کریں تو میں اس سے بہتر ہوں گا"۔
پھر ایک چیلنج آتا ہے: دونوں کو ایک ہی پوزیشن میں ڈالا جاتا ہے – ایک کریٹ سیب اور 50 ڈالر۔ دیکھیں کون آگے نکلتا ہے۔
لوقا اپنے سیب 1 ڈالر میں بیچتا ہے، 20 سیب بیچ کر 20 ڈالر کماتا ہے، اور اسے ایک مہنگے سٹیک ڈنر پر خرچ کر دیتا ہے۔ سوچتا ہے "میں نے محنت کی، میں اس کا مستحق ہوں"۔
ڈیلن سیبوں کو چمکاتا ہے، انہیں ٹکڑوں میں کاٹ کر 2 ڈالر میں بیچتا ہے، یعنی اپنے کلائنٹس کو کچھ نا کچھ value-added فراہم کیں، جس کی وجہ سے۔ جلدی بیچ کر کمائی بچاتا ہے، ایک سستی روٹی کھاتا ہے، اور باقی پیسے بچا لیتا ہے۔
5 دنوں میں لوقا کے سیب خراب ہونے لگتے ہیں، وہ مایوس ہو کر قیمتیں کم کرتا ہے، اور بس کھانے پینے تک محدود رہتا ہے۔
ڈیلن اپنی کمائی سے مزید کریٹ خریدتا ہے، جم والوں کو صحت بخش سنیکس دیتا ہے، ایک طالب علم کو کمیشن پر ڈلیوری کے لیے رکھتا ہے، اور کاروبار بڑھاتا ہے، یہاں یہ بات بتانا چاہوں گا کہ کاروباری ذہنیت کے لئے کلائنٹس کو اپنی پروڈکٹ کو کسی نا کسی طرح کی value-added فراہم کرنے پر تلا ہوا تھا۔
آخری دن لوقا خالی کریٹ پر بیٹھا ہے، اس کے 50 ڈالر ختم ہو چکے ہیں۔ ڈیلن ایک چھوٹا کاروبار بنا کر 2000 ڈالر کما چکا ہے۔
پیغام: لوقا نے سیبوں کو "کھانا" سمجھا، ڈیلن نے انہیں "بیج" سمجھا۔ غریب اپنی کمائی خرچ کر کے امیر لگنے کی کوشش کرتے ہیں، امیر اپنی کمائی سرمایہ کاری کر کے امیر بنتے ہیں۔
ہم کیسے برتاؤ کر رہے ہیں؟ – دکھاوے اور کھپت کی کلچر جو مہنگائی کو ہوا دے رہی ہے
- ہم محنت کرتے ہیں، لیکن کمائی کو دکھاوے پر خرچ کر دیتے ہیں۔ "میں مستحق ہوں" کہہ کر مہنگی چیزیں خریدتے ہیں، بچت نہیں کرتے۔ کراچی کی سڑکوں پر دیکھیں – ٹریفک جام، لیکن لوگ Hilux جیسی گاڑیاں چلاتے ہیں جو سڑکوں کے لیے موزوں ہی نہیں۔ کراچی میں Toyota Hilux ایک سٹیٹس سمبل بن چکی ہے – طاقت، دولت اور دھونس کا نشان۔ کراچی میں 280 سے زیادہ Hilux فروخت کے لیے دستیاب ہیں، اور یہ گاڑیاں سیاستدانوں اور امیر لوگوں کی طرف سے استعمال ہوتی ہیں تاکہ ٹریفک میں آسانی سے نکل سکیں اور دوسروں کو ڈرائیں گے۔ لیکن ہماری سڑکیں اس کے لیے بنی ہی نہیں – گڑھے، ٹوٹی ہوئی، اور ٹریفک کا حال تو سب جانتے ہیں۔ پھر بھی یہ گاڑیاں کیوں؟ صرف دکھاوے کے لیے! یہ Hilux درآمد شدہ ہے یا درآمد شدہ پارٹس سے بنی ہے، جو ہماری معیشت کو کمزور کرتی ہے۔
- ہم حسد کرتے ہیں – دوسروں کو دیکھ کر سوچتے ہیں "یہ خوش قسمت ہے"، اپنی غلطیوں کو دیکھتے نہیں۔
- ہم قلیل مدتی خوشی پر فوکس کرتے ہیں – ایک دن کی کمائی پر عیش، اگلے دن کے لیے کچھ نہیں بچاتے۔ کراچی میں لوگ تنخواہ ملتے ہی شاپنگ، ریسٹورنٹس، مہنگی چیزیں – پھر مہینے کے آخر میں قرض لیتے ہیں۔
- اور سب سے بڑھ کر – ہم دکھاوے اور کھپت کی کلچر کو فروغ دے رہے ہیں۔ Hilux جیسی گاڑیاں خرید کر دکھاوا کرتے ہیں، حالانکہ سڑکیں اسے برداشت نہیں کر سکتیں۔ یہ صرف پیسے کی بربادی نہیں، بلکہ سول ذمہ داری کی خلاف ورزی ہے۔ ہماری سڑکیں ٹوٹی ہوئی ہیں، ٹریفک جام ہے، اور یہ بڑی گاڑیاں ٹریفک کو اور خراب کرتی ہیں، دوسروں کو تکلیف دیتی ہیں۔ یہ صرف affording کا مسئلہ نہیں، بلکہ سماج کے ساتھ ذمہ داری کا ہے – ہم دوسروں کی زندگیوں کو مشکل بنا رہے ہیں صرف اپنے دکھاوے کے لیے۔
یہ برتاؤ ہماری مہنگائی کا سب سے بڑا سبب ہے۔ جب ہم بچت اور سرمایہ کاری کی بجائے دکھاوے پر پیسہ اڑاتے ہیں، تو درآمد شدہ چیزیں بڑھتی ہیں، روپیہ کمزور ہوتا ہے، اور مہنگائی آسمان چھوتی ہے۔ پاکستان میں مہنگائی کی شرح 2024 میں 12.6 فیصد تھی، اور مئی 2023 میں یہ ریکارڈ 37.97 فیصد تک پہنچ گئی۔ یہ صرف بیرونی عوامل کی وجہ سے نہیں، بلکہ ہمارے صارفین کی خرچ کرنے کی عادت کی وجہ سے ہے – لگژری گاڑیاں، مہنگی چیزیں، دکھاوا۔ یہ ڈیمانڈ پل انفلیشن ہے، جو ہم خود پیدا کر رہے ہیں۔ مجھے شدید غصہ ہے کہ ہم خود اس مہنگائی کے ذمہ دار ہیں، اور پھر الزام حکومت، IMF، یا بیرونی سازشوں پر ڈالتے ہیں۔
ہم کیسا برتاؤ کریں؟ – بچت اور سرمایہ کاری کی ذہنیت اپناؤ
ڈیلن کی طرح بنیں، اور مجھے افسوس ہے کہ ہم یہ نہیں کر رہے:
- کمائی کو "بیج" سمجھیں – سرمایہ کاری کریں، کاروبار بڑھائیں۔ چھوٹے کاروبار شروع کریں، نوکریاں پیدا کریں، معیشت کو واپس لوٹائیں۔
- محنت کو چالاکی سے جوڑیں – سیب چمکانا، کاٹنا، ڈلیوری کرنا۔ اپنی کمائی کو ضائع نہ کرو، بلکہ اسے بڑھاؤ۔
- بچت کریں، سستی روٹی کھائیں اگر ضروری ہو، لیکن مستقبل سوچیں۔ دکھاوے کی بجائے عملی بنیں۔ Hilux جیسی گاڑی خریدنے کی بجائے، سڑکوں کے لیے موزوں گاڑی خریدو، اور باقی پیسہ سرمایہ کاری کرو۔
- حسد کی بجائے سیکھیں – دوسروں کی کامیابی کو موقع سمجھیں۔
یہ برتاؤ معیشت کو مضبوط کرے گا۔ نئی نوکریاں، نئی صنعتیں، کم مہنگائی۔ اگر ہم یہ کریں تو مہنگائی کی شرح کم ہوگی، جیسے سنگاپور اور امریکہ میں ہے جہاں کاروباریوں کو سپورٹ ملتی ہے اور مہنگائی 2-4 فیصد رہتی ہے۔
لیکن ہم؟ ہم دکھاوے میں لگے ہیں، Hilux خرید کر فخر کرتے ہیں جبکہ سڑکیں ٹوٹی ہوئی ہیں، اور سماج کو تکلیف دے رہے ہیں۔ یہ صرف مالی غلطی نہیں، بلکہ سول ذمہ داری کی ناکامی ہے۔ ہم دوسروں کی زندگیوں کو مشکل بنا رہے ہیں صرف اپنے ego کے لیے۔
آخری بات
دوستو، یہ شارٹ ہمیں یاد دلاتا ہے کہ ہم لوقا کی طرح مایوس رہیں گے یا ڈیلن کی طرح امیر بنیں گے؟ ہم خود مہنگائی کے ذمہ دار ہیں – دکھاوے اور کھپت کی کلچر چھوڑو، بچت اور سرمایہ کاری اپناؤ۔ Hilux خریدنے سے پہلے سوچو کہ کیا یہ سماج کے لیے ٹھیک ہے؟
آپ کیا سوچتے ہیں؟ کیا ہم اب بھی دکھاوے میں لگے رہیں گے، یا بدلیں گے؟ کمنٹس میں بتائیں۔
مرتضیٰ معیز
کراچی
9 مارچ 2026