The Political Horizon

Translate

اکتوبر 11, 2026

پاکستانی میوزک، کرکٹ اور قومی شناخت: ہم اپنی پہچان کہاں چھوڑ آئے؟

پاکستانی میوزک، کرکٹ اور قومی شناخت: ہم اپنی پہچان کہاں چھوڑ آئے؟

سیدھی بات، No بکواس

کچھ لوگوں نے یہ کہنا ہے کہ یہ بلاگ لکھنے میں دیری ہوگئی، اصل میں اس طرح کے ٹاپکس میرے زیادہ دلچسپی کے ہوتے ہیں مگر اس دوران میں اپنی اتنی مصروفیات میں تھا، اور جس کی بناہ پر میں اس ٹائم نہیں لکھ سکا، in short فیملی مصروفیات تھیں مگر یہ میرے ذہن میں بالکل تھا کہ اس بارے میں لکھوں گا، میں اس طرح کے بلاگ کے لیے لمبی تمہید نہیں باندھوں گا۔ جیسے Sprite کے اشتہار کا سلوگن ہے، ”سیدھی بات، No بکواس“، میں بھی سیدھا موضوع پر آتا ہوں۔

مسئلہ صرف موسیقی کا نہیں۔ مسئلہ یہ ہے کہ جب کسی ملک کو عالمی سطح پر اپنی ثقافت، شناخت اور تخلیقی صلاحیت پیش کرنے کا موقع ملتا ہے، تو کیا وہ اس موقع کو اپنی پہچان اجاگر کرنے کے لیے استعمال کرتا ہے؟

یا ہم اتنے عرصے سے معمولی معیار کو قبول کرتے کرتے یہ سوال پوچھنا ہی بھول گئے ہیں کہ ہماری اپنی آواز کہاں ہے؟

نوری سے آغاز: جب پاکستانی میوزک ڈیجیٹل دنیا سے جڑ رہا تھا


یہ ویڈیو دیکھیے۔ نوری کا گانا Do Dil پاکستانی میوزک کے اس دور کی یاد دلاتا ہے جب مقامی بینڈز اپنی الگ آواز، اپنے تجربات اور اپنی شناخت کے ساتھ سامنے آ رہے تھے۔

اس ویڈیو کی اشاعت اور گانے کی ریلیز کے سال کا تقابل کرنے پر ایک دلچسپ پہلو سامنے آتا ہے: پاکستانی موسیقی سے وابستہ لوگ اس وقت بھی ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کو استعمال کر رہے تھے، جب پاکستان میں یوٹیوب تک رسائی پر پابندی عائد تھی۔

ہم میں سے بہت سے لوگ اس دور میں انٹرنیٹ استعمال کرنا سیکھ رہے تھے۔ یوٹیوب تک رسائی کے لیے VPN کا استعمال بھی ہمارے لیے ایک نئی چیز تھی۔ اس ماحول میں کسی پاکستانی بینڈ کی ویڈیو کا یوٹیوب پر موجود ہونا اس بات کی یاد دہانی ہے کہ موسیقی اور ڈیجیٹل کلچر کی دنیا میں پاکستانی فن کار اور سامعین بھی تبدیلیوں سے جڑ رہے تھے۔

یہاں میرا مقصد ماضی کو موجودہ دور سے بہتر قرار دینا نہیں۔ میں صرف ایک بنیادی فرق کی طرف توجہ دلانا چاہتا ہوں۔

اس دور کے پاکستانی میوزک میں اپنی ایک آواز محسوس ہوتی تھی۔ بینڈز کی موسیقی، گلوکاری، سازوں کے انتخاب اور مجموعی انداز میں ایک ایسا تخلیقی تجربہ تھا جسے محض کسی عالمی یا علاقائی رجحان کی نقل قرار دینا آسان نہیں تھا۔[

اس تاریخی تقابل کا مقصد یہ دکھانا ہے کہ پاکستانی موسیقی کی ڈیجیٹل دنیا سے وابستگی کوئی نئی بات نہیں۔ اصل سوال یہ ہے کہ وقت گزرنے کے ساتھ ہماری تخلیقی شناخت کس سمت میں گئی؟

یہ سب بتانے کا مقصد کیا ہے؟

اب فاسٹ فارورڈ کرتے ہیں 2022 کی طرف۔

جنوبی ایشیا کی موسیقی میں جدید پروڈکشن، بین الاقوامی تعاون اور مختلف ثقافتی اثرات کا امتزاج کوئی غیر معمولی بات نہیں۔ پاکستانی فن کار بھی اس تبدیلی کا حصہ رہے ہیں۔ جدید ساز استعمال کرنا، نئی پروڈکشن اپنانا یا عالمی سامعین تک پہنچنے کی کوشش کرنا بذاتِ خود کوئی مسئلہ نہیں۔

مسئلہ اس وقت پیدا ہوتا ہے جب جدیدیت کے نام پر مقامی شناخت پس منظر میں چلی جائے۔

میرے لیے موسیقی میں پاکستانی ہونا صرف اردو بول یا کسی روایتی ساز کے استعمال کا نام نہیں۔ اس میں دھن کی ساخت، تال، سازوں کی ترتیب، زبان، ثقافتی احساس اور اس تخلیقی سوچ کا بھی حصہ ہے جو موسیقی کو اپنے خطے سے جوڑتی ہے۔

اسی لیے جب میں 2025 کی چیمپئنز ٹرافی اور پھر 2026 کے ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ کی موسیقی کا تقابل کرتا ہوں، تو میرے ذہن میں صرف یہ سوال نہیں آتا کہ کون سا گانا زیادہ catchy تھا۔

میرا سوال یہ ہے: کیا ہم عالمی سطح کے کھیلوں کے ایونٹس کو اپنی ثقافتی شناخت پیش کرنے کے لیے استعمال کر رہے ہیں، یا صرف ایک ایسا عالمی ساونڈ تیار کر رہے ہیں جو کسی بھی ملک کے ٹورنامنٹ کے ساتھ فٹ ہو سکتا ہے؟



چیمپئنز ٹرافی 2025: پاکستان کی میزبانی، مگر پاکستانی شناخت کہاں؟

[ویڈیو: یاسر اختر کا انٹرویو]

یاسر اختر کے انٹرویو میں موسیقی اور شناخت سے متعلق اٹھنے والا سوال میرے لیے اہم ہے۔ ان کے لہجے میں ایک طرف امید نظر آتی ہے، لیکن دوسری طرف یہ شکوہ بھی محسوس ہوتا ہے کہ پاکستانی موسیقی کی اپنی شناخت کو کتنی اہمیت دی جا رہی ہے۔

یہاں میں ایک بات واضح کرنا چاہتا ہوں: چیمپئنز ٹرافی 2025 کا آفیشل گانا Jeeto Baazi Khel Ke تھا، جسے عاطف اسلم نے گایا، جبکہ اس کی پروڈکشن عبداللہ صدیقی نے کی اور بول عدنان دھول اور اسفند یار اسد نے لکھے۔ آئی سی سی نے اس کی ویڈیو کو پاکستان کی ثقافت، بازاروں، گلیوں اور کرکٹ کے ماحول کی نمائندگی کے طور پر پیش کیا تھا، مگر میرا یہاں تنقید یہی ہے کہ پورا پاکستان نا ہی ایسا ہے، بلکہ ایک چھوٹا سا علاقہ میں اتنی diversity ہے، میں بائیک رائیڈنگ کرتا ہوں، میں نے کراچی میں ہی اتنی demographic variation دیکھی ہے، ایسے میں اگر آپ پورے پاکستان کی بات کریں تو یہ کیسے ممکن ہے کہ پورا پاکستان ایسی گلیوں پر مشتمل ہے، حالانکہ مجھے سیگریٹ کو پروموٹ نہیں کرنا چاہئے مگر شعیب منصور کا ایک شو تھا جہاں فخر عالم، سلمان احمد وغیرہ تھے، انہوں نے بیشک دوسرے ممالک کا ٹریول کیا مگر انہوں نے ہمارے دماغ کھولے کے دنیا ایسی بھی ہے، صرف روشنیاں نہیں، تو اسی بنیاد پر پورے پاکستان کو ان تنگ گلیوں میں بند کرنا کہاں کی عقلمندی ہے؟؟؟

۔ https://www.icc-cricket.com/tournaments/champions-trophy-2025/news/official-song-for-icc-men-s-champions-trophy-2025-released

لیکن کسی گانے کے ساتھ پاکستانی فن کاروں کا منسلک ہونا اور اس کے اندر پاکستانی موسیقی کی نمایاں شناخت محسوس ہونا دو الگ سوال ہیں۔

ایک پاکستانی سامع کی حیثیت سے مجھے یہ موسیقی سنتے ہوئے وہ ثقافتی انفرادیت پوری طرح محسوس نہیں ہوئی جس کی مجھے پاکستان میں منعقد ہونے والے اتنے بڑے ٹورنامنٹ سے توقع تھی۔ میں یہاں اسٹرنگز کا فین ہوتے ہوئے سر کئے یہ پہاڑ کا Karaoke سے کمپئیر کروں گا، تو پاکستانی ٹچ کے بجائے یہ بالی ووڈ ٹچ زیادہ لگ رہا تھا۔

یہ میرا ذاتی تنقیدی تاثر ہے، کوئی ایسی معروضی حقیقت نہیں جس پر ہر سامع کا متفق ہونا ضروری ہو۔

لیکن سوال اپنی جگہ موجود ہے: جب پاکستان کو تقریباً تین دہائیوں بعد مردوں کے ایک بڑے آئی سی سی ایونٹ کی میزبانی کا موقع ملا، تو کیا ہماری موسیقی اور ثقافتی پیش کش اس تاریخی موقع کے شایانِ شان تھی؟

کسی بھی عالمی ایونٹ کا آفیشل گانا صرف پس منظر میں چلنے والی موسیقی نہیں ہوتا۔ یہ اس ایونٹ کی یادداشت کا حصہ بنتا ہے۔ لوگ اسے میچز کے ساتھ یاد رکھتے ہیں، اس کی ویڈیوز دیکھتے ہیں، اسے سوشل میڈیا پر شیئر کرتے ہیں اور بالآخر اس کے ذریعے میزبان ملک کے بارے میں بھی ایک تاثر قائم کر سکتے ہیں۔

اسی لیے میں سمجھتا ہوں کہ ایسے موقع پر ثقافتی شناخت کو ایک ثانوی چیز نہیں سمجھنا چاہیے۔


2025 کی چیمپئنز ٹرافی اور جنگ کے بیانیے کا سوال

یہاں ایک اور پہلو بھی ہے جسے نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔

چیمپئنز ٹرافی 19 فروری 2025 کو شروع ہوئی۔ اس کے چند ماہ بعد، 7 مئی 2025 کو بھارت نے پاکستان اور پاکستان کے زیرِ انتظام علاقوں میں حملے کیے۔ ان واقعات کے درمیان سیاسی اور عسکری کشیدگی کا ایک وسیع تناظر موجود تھا۔

لیکن میں ان دونوں واقعات کو ایک ہی چیز قرار نہیں دوں گا۔ کسی میوزک ویڈیو یا ثقافتی پروڈکشن کو کسی فوجی کارروائی سے پہلے کی منظم ففتھ جنریشن وار کا حصہ ثابت کرنے کے لیے ٹھوس شواہد درکار ہیں۔ صرف یہ محسوس ہونا کہ موسیقی کسی دوسرے ملک کے انداز سے ملتی ہے، اس دعوے کے لیے کافی نہیں۔

البتہ اس سے ایک الگ اور اہم سوال ضرور پیدا ہوتا ہے: کیا ہم قومی سطح پر ثقافتی ابلاغ کی اہمیت کو سمجھتے ہیں؟

اگر دوسرے ممالک اپنی موسیقی، فلموں، کھیلوں اور تفریحی صنعت کے ذریعے اپنی ثقافتی موجودگی کو مضبوط بناتے ہیں، تو پاکستان کو بھی اپنے تخلیقی شعبوں پر توجہ دینی چاہیے۔

ثقافتی شناخت کا دفاع محض جذباتی بیانات سے نہیں ہوتا۔ اس کے لیے اچھے فن کار، مضبوط پروڈکشن، تخلیقی آزادی اور ایسے ادارے درکار ہیں جو مقامی صلاحیت کو عالمی معیار تک پہنچانے میں سرمایہ کاری کریں۔          

آئی سی سی ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ 2026: میزبان دو، مگر ثقافتی آواز کس کی؟

اب آتے ہیں 2026 کے آئی سی سی مینز ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ کی طرف۔

اس ٹورنامنٹ کی میزبانی بھارت اور سری لنکا نے مشترکہ طور پر کی۔ اس کا آفیشل گانا Feel the Thrill تھا، جسے بھارتی موسیقار اور گلوکار انیرودھ روی چندر نے ترتیب دیا اور گایا۔ آئی سی سی نے اسے 30 جنوری 2026 کو جاری کیا تھا۔ https://www.icc-cricket.com/media-releases/icc-launches-feel-the-thrill-as-official-song-of-icc-men-s-t20-world-cup-2026

یہاں میری تنقید انیرودھ کی صلاحیت یا بھارتی موسیقی کی مقبولیت پر نہیں ہے۔ کسی فن کار کو صرف اس کی قومیت کی بنیاد پر منتخب کرنا یا مسترد کرنا خود ایک محدود سوچ ہوگی۔

میرا سوال سری لنکا کی ثقافتی نمائندگی کے بارے میں ہے۔

اگر کوئی ٹورنامنٹ دو ممالک میں منعقد ہو رہا ہو، تو کیا اس کی عالمی تشہیر میں دونوں ممالک کی ثقافتوں کو نمایاں کرنے کا موقع نہیں ہونا چاہیے؟ کیا سری لنکا کی موسیقی، مقامی ساز، زبانیں اور فن کار اس بڑے ایونٹ کے ثقافتی تاثر میں نمایاں کردار ادا نہیں کر سکتے تھے؟

میرے نزدیک یہی وہ سوال ہے جو 2026 کے ٹورنامنٹ کی موسیقی سنتے ہوئے پیدا ہوتا ہے۔

جنوبی ایشیا کی موسیقی میں مشترکہ اثرات ہونا فطری ہے۔ پاکستانی، بھارتی، سری لنکن اور بنگلہ دیشی موسیقی کے درمیان بعض مماثلتیں بھی موجود ہیں۔ لیکن مشترکہ ثقافتی خطے کا حصہ ہونے کا مطلب یہ نہیں کہ ہر ملک اپنی انفرادی شناخت کو نظرانداز کر دے۔

ایک عالمی ایونٹ میں بین الاقوامی اپیل اور مقامی شناخت ایک دوسرے کی مخالف نہیں ہیں۔ اچھی تخلیقی حکمتِ عملی دونوں کو ساتھ لے کر چل سکتی ہے۔

سری لنکا کی میزبانی محض اس بات سے مکمل نہیں ہوتی کہ اس کے گراؤنڈز میں میچ کھیلے جائیں۔ ثقافتی نمائندگی بھی اس تجربے کا حصہ بن سکتی ہے۔

بنگلہ دیش 2014: میزبان ملک کی شناخت کیوں اہم ہے؟

2014 کے آئی سی سی ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ کی میزبانی بنگلہ دیش نے کی تھی۔ اس ایونٹ کو یاد کرتے ہوئے میرے لیے ایک بنیادی سوال اہم ہے: جب کوئی ملک عالمی کرکٹ ٹورنامنٹ کی میزبانی کرتا ہے، تو وہ دنیا کو اپنے بارے میں کیا دکھاتا ہے؟

میری تنقید کا مرکز کسی مخصوص ٹورنامنٹ کو زیادہ یا کم دلچسپ قرار دینا نہیں۔ میں خود موسیقی، خصوصاً کراوکی اور سازوں کی موسیقی، توجہ سے سنتا ہوں۔ اسی لیے ٹورنامنٹ کی موسیقی اور اسکور کارڈ کے دوران چلنے والی دھنیں بھی میرے لیے محض پس منظر کا شور نہیں ہوتیں۔

2026 کے ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ کی موسیقی میں مجھے جنوبی ایشیائی موسیقی کے جدید انداز کا امتزاج محسوس ہوا۔ بعض دھنوں میں ستار جیسے روایتی سازوں اور الیکٹرک گٹار جیسی جدید آوازوں کا امتزاج سننے میں دلچسپ تھا۔

اس کے برعکس، 2025 کی چیمپئنز ٹرافی کے بعض میوزک حصوں میں مجھے ایک مختلف اور نسبتاً مغربی، آرکیسٹرل انداز محسوس ہوا۔ یہ موسیقی سے متعلق میرا ذاتی تاثر ہے، لیکن اسی تاثر نے مجھے یہ سوچنے پر مجبور کیا کہ پاکستان کے اپنے موسیقی کے وسائل اور روایات کو مزید نمایاں کرنے کی گنجائش موجود تھی۔

سوال یہ نہیں کہ موسیقی میں ستار لازماً ہونا چاہیے، یا ہر پاکستانی گانے میں روایتی ساز شامل کیے جائیں۔ ایسا کرنا بھی شناخت کو ایک فارمولے میں محدود کر دینا ہوگا۔

سوال یہ ہے کہ کیا تخلیقی ٹیم نے اس ملک کی موسیقی، اس کے جدید بینڈز، اس کے علاقائی سازوں اور اس کی متنوع ثقافت کو پوری طرح دریافت کیا؟

پاکستان کی موسیقی صرف ایک صنف یا ایک زبان تک محدود نہیں۔ اس میں پاپ، راک، قوالی، کلاسیکی موسیقی، صوفی روایت، علاقائی زبانیں اور جدید الیکٹرانک پروڈکشن سب شامل ہو سکتے ہیں۔

اگر ہم یہ تنوع ایک عالمی ایونٹ میں پیش نہیں کرتے، تو پھر اسے عالمی سطح پر متعارف کرانے کے مواقع کہاں تلاش کریں گے؟

پاکستان، سری لنکا اور جنوبی افریقہ: میزبانی کے مواقع کا تقابل

یہاں کرکٹ کی میزبانی کی تاریخ بھی اہم ہے۔

پاکستان نے 1987 کے کرکٹ ورلڈ کپ میں بھارت کے ساتھ، 1996 کے ورلڈ کپ میں بھارت اور سری لنکا کے ساتھ، اور پھر 2025 کی چیمپئنز ٹرافی کی میزبانی کی۔ 2025 کا ایونٹ پاکستان میں ہونے کے باوجود بھارت کے میچز اور فائنل سے متعلق انتظامات مختلف تھے، اس لیے میزبانی کے اعداد و شمار بیان کرتے وقت مکمل سیاق و سباق ضروری ہے۔

سری لنکا نے بھی 1996 کے ورلڈ کپ کی مشترکہ میزبانی کی، 2012 کے ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ کی میزبانی کی، اور 2026 کے ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ میں بھارت کے ساتھ شریک میزبان رہا۔ جنوبی افریقہ نے 2003 کے ورلڈ کپ کی میزبانی کی، 2007 کے ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ کی میزبانی کی، اور 2027 کے ورلڈ کپ میں زمبابوے اور نمیبیا کے ساتھ شریک میزبان ہے۔

ان اعداد و شمار سے یہ نتیجہ نکالنا درست نہیں ہوگا کہ کسی ملک کی قومی شناخت صرف آئی سی سی ٹورنامنٹس کی تعداد سے ناپی جا سکتی ہے۔ میزبانی کے مواقع سیاسی، مالی، انتظامی، بنیادی ڈھانچے اور آئی سی سی کے انتخابی عمل سے بھی متاثر ہوتے ہیں۔

لیکن ان مواقع کا ایک ثقافتی پہلو ضرور ہے۔

جب کسی ملک کو عالمی ایونٹ کی میزبانی ملتی ہے، تو اسے دنیا کے سامنے اپنی ثقافت، فن، سیاحت، مہمان نوازی اور تخلیقی صلاحیت پیش کرنے کا موقع بھی ملتا ہے۔

پاکستان کے لیے 2025 کی چیمپئنز ٹرافی اسی لحاظ سے ایک اہم موقع تھا۔ اگر ہم مستقبل میں مزید عالمی ایونٹس حاصل کرنا چاہتے ہیں، تو ہمیں صرف گراؤنڈز، سیکیورٹی اور انتظامات پر نہیں بلکہ اس بات پر بھی غور کرنا چاہیے کہ ہم اپنے ملک کا تجربہ دنیا کے سامنے کس انداز میں پیش کریں گے۔

آئی سی سی کے 2021 میں اعلان کردہ مردوں کے بڑے ٹورنامنٹس کے شیڈول میں 2024 سے 2031 تک کے میزبان مقرر کیے گئے تھے۔ اس پروگرام کے مطابق پاکستان کے لیے 2025 کی چیمپئنز ٹرافی کے بعد اس عرصے میں کوئی اور مردوں کا بڑا آئی سی سی وائٹ بال ایونٹ مختص نہیں تھا۔ https://www.icc-cricket.com/news/usa-to-stage-t20-world-cup-2024-2031-icc-mens-tournament-hosts-confirmed

اس کا مطلب یہ نہیں کہ پاکستان 2032 تک کوئی بھی آئی سی سی ایونٹ منعقد نہیں کر سکتا؛ مستقبل کے شیڈول اور مختلف زمروں کے ٹورنامنٹس الگ فیصلوں سے تبدیل ہو سکتے ہیں۔ البتہ یہ حقیقت ضرور ہے کہ عالمی ایونٹس کی میزبانی مستقل بنیادوں پر حاصل کرنے کے لیے منصوبہ بندی، انتظامی صلاحیت اور قابلِ اعتماد انفراسٹرکچر اہم ہیں۔

اور جب ہمیں ایسا موقع ملے، تو اسے صرف ایک کھیلوں کے ایونٹ تک محدود نہیں رکھنا چاہیے۔ اسے اپنی ثقافت اور تخلیقی صنعت کو عالمی سطح پر متعارف کرانے کا موقع بھی سمجھنا چاہیے۔

اصل مسئلہ میوزک نہیں، ہماری ترجیحات ہیں

یہاں آ کر میری تنقید کا اصل نکتہ سامنے آتا ہے۔

مجھے یہ اعتراض نہیں کہ پاکستان عالمی موسیقی کے اثرات قبول کرتا ہے۔ ثقافتیں ایک دوسرے سے سیکھتی ہیں، نئے ساز اپناتی ہیں، نئے انداز تخلیق کرتی ہیں اور وقت کے ساتھ بدلتی ہیں۔

مجھے اعتراض اس بات پر ہے کہ ہم اپنی شناخت کو واضح طور پر پیش کرنے کے لیے کتنی سنجیدہ کوشش کرتے ہیں۔

اگر پاکستان کے پاس باصلاحیت موسیقار، گلوکار، پروڈیوسرز، بینڈز اور علاقائی موسیقی کی بھرپور روایت موجود ہے، تو کسی بڑے عالمی ایونٹ کے لیے تخلیقی منصوبہ بندی کرتے وقت ان تمام وسائل کو منظم انداز میں کیوں نہ استعمال کیا جائے؟

اگر سری لنکا شریک میزبان ہے، تو اس کی موسیقی کو نمایاں جگہ کیوں نہ دی جائے؟

اگر پاکستان اپنے ملک میں چیمپئنز ٹرافی منعقد کر رہا ہے، تو اس کی ثقافتی پیش کش ایسی کیوں نہ ہو جسے دنیا برسوں بعد بھی پاکستانی شناخت کے ساتھ یاد رکھے؟

ان سوالات کا جواب کسی دوسرے ملک کی موسیقی کو کمتر قرار دینے میں نہیں۔ جواب اپنی تخلیقی صنعت کو بہتر بنانے، واضح ثقافتی وژن قائم کرنے اور اعلیٰ معیار کے کام میں سرمایہ کاری کرنے میں ہے۔

ہمیں یہ سمجھنا ہوگا کہ قومی شناخت کسی سرکاری نعرے کا نام نہیں۔ یہ اس بات میں بھی ظاہر ہوتی ہے کہ ہم کیا تخلیق کرتے ہیں، دنیا کو کیا دکھاتے ہیں، اور اپنے ثقافتی ورثے کو جدید دنیا میں کس انداز سے آگے لے کر جاتے ہیں۔

نتیجہ: ہم قوم ہیں یا صرف ہجوم؟

میں اپنے مضمون کا آغاز اسی بات سے کرنا چاہتا تھا کہ سیدھی بات کی جائے۔

میرے لیے اصل مسئلہ یہ نہیں کہ 2025 کی چیمپئنز ٹرافی کا گانا کس نوعیت کا تھا، یا 2026 کے ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ میں کس موسیقار نے کام کیا۔ اصل مسئلہ یہ ہے کہ ہم اپنی ثقافتی شناخت کے بارے میں کتنے باشعور ہیں اور اسے عالمی سطح پر پیش کرنے کے لیے کتنی سنجیدہ منصوبہ بندی کرتے ہیں۔

پاکستان نے بڑے کرکٹ ایونٹس کی میزبانی کے لیے طویل انتظار کیا۔ 2025 کی چیمپئنز ٹرافی ہمارے لیے اپنی صلاحیت دکھانے کا ایک اہم موقع تھی۔ لیکن کسی بھی موقع سے فائدہ اٹھانے کے لیے صرف ایونٹ منعقد کرنا کافی نہیں؛ اس کے ذریعے اپنی ثقافت، موسیقی اور تخلیقی صنعت کو بھی آگے بڑھانا چاہیے۔

جب ہم اپنی ترجیحات کا جائزہ نہیں لیتے، اپنے فن کاروں کو مناسب مواقع نہیں دیتے، اور قومی شناخت کو صرف جذباتی نعروں تک محدود کر دیتے ہیں، تو ہمیں خود سے مشکل سوالات پوچھنے چاہییں۔

کیا ہم واقعی اپنی پہچان بنانے میں سنجیدہ ہیں، یا صرف دوسروں کے بنائے ہوئے معیار کے مطابق خود کو ڈھالتے جا رہے ہیں؟

میں اس طرزِ عمل کو ایک قومی ناکامی سمجھتا ہوں۔ اور اسی لیے میرا سوال سخت ہے: اگر ہم اپنی ثقافت، اپنے فن اور اپنی شناخت کی قدر خود نہیں کریں گے، تو دنیا سے اس قدر کی توقع کس بنیاد پر رکھیں گے؟

قومی شناخت کو زندہ رکھنے کے لیے صرف ماضی پر فخر کافی نہیں۔ ہمیں حال میں کچھ ایسا تخلیق بھی کرنا ہوگا جس پر مستقبل فخر کر سکے۔

سیدھی بات، No بکواس۔

مکمل تحریر >>

مئی 31, 2026

کراچی کے معاشرے میں بزرگوں کی مداخلت: میاں بیوی کے رشتوں کو کمزور کرنے والی خاموش سیاست

کچھ بزرگوں کا اصل مسئلہ بے وقعتی نہیں، بے وقعت ہو جانے کا خوف ہے

کراچی کے معاشرے میں ایک خاموش مگر خطرناک رجحان تیزی سے بڑھ رہا ہے، جہاں بعض خاندانوں میں میاں بیوی کے تعلقات کو مضبوط بنانے کے بجائے ان کے درمیان فاصلے پیدا کیے جاتے ہیں۔ مالی حیثیت، خاندانی کنٹرول، جذباتی دباؤ اور غیر ضروری مداخلت نے بہت سے گھروں کا سکون متاثر کیا ہے۔ یہ مضمون انہی رویوں کا جائزہ لیتا ہے جو بظاہر خاندانی فکر کے نام پر کیے جاتے ہیں مگر اکثر ان کے نتائج تعلقات میں بداعتمادی، اختلافات اور ذہنی دباؤ کی صورت میں سامنے آتے ہیں۔

کراچی کے معاشرے میں ایک عجیب بیماری خاموشی سے پھیل رہی ہے۔

یہ بیماری غربت نہیں۔

یہ بیماری بے روزگاری نہیں۔

یہ بیماری مہنگائی بھی نہیں۔

یہ بیماری وہ ذہنیت ہے جو عمر کے ساتھ حکمت پیدا کرنے کے بجائے دوسروں پر اپنی گرفت برقرار رکھنے کو کامیابی سمجھتی ہے۔

ہمارے معاشرے میں بعض لوگ خود کو بزرگ تو کہتے ہیں، مگر بزرگوں والی ذمہ داری نبھانے کے بجائے اپنی اہمیت برقرار رکھنے کی جنگ لڑتے رہتے ہیں۔

ان کا سب سے بڑا خوف یہ نہیں ہوتا کہ اولاد ناکام ہو جائے۔

ان کا سب سے بڑا خوف یہ ہوتا ہے کہ اولاد ان کے بغیر کامیاب ہو جائے۔

کیونکہ جس دن نوجوان اپنی سوچ، اپنی محنت اور اپنی صلاحیت کے بل بوتے پر کھڑا ہو گیا، اسی دن مصنوعی اختیار کی دکان بند ہو جاتی ہے۔

یہی وجہ ہے کہ بعض لوگ رہنمائی نہیں کرتے، راستے میں رکاوٹیں کھڑی کرتے ہیں۔

وہ اصلاح نہیں کرتے، اشتعال دلاتے ہیں۔

وہ غلطی روکنے کی کوشش نہیں کرتے، بلکہ بعض اوقات نوجوانوں کو غلطی کی طرف دھکیلتے ہیں تاکہ بعد میں یہ کہہ سکیں:

"ہم نے پہلے ہی کہا تھا۔"

گویا مقصد مسئلہ حل کرنا نہیں، بلکہ اپنی پیشگوئی درست ثابت کرنا ہوتا ہے۔

ایسے لوگ نوجوان کو مضبوط دیکھنا نہیں چاہتے۔

وہ نوجوان کو غلطی کرتے دیکھنا چاہتے ہیں۔

کیونکہ ہر غلطی ان کے لیے ایک نئی تقریر کا موقع بن جاتی ہے۔

ہر ناکامی ان کی پرانی برتری کو زندہ کر دیتی ہے۔

ہر بحران انہیں دوبارہ اہم بنا دیتا ہے۔

اور یہی وہ مقام ہے جہاں خاندان میدانِ جنگ بننا شروع ہو جاتا ہے۔

بعض لوگ شوہر اور بیوی کے درمیان اختلاف ختم نہیں کرواتے، بلکہ اختلاف کو ایندھن فراہم کرتے ہیں۔

وہ براہِ راست حملہ نہیں کرتے۔

وہ کان بھرتے ہیں۔

شکوک پیدا کرتے ہیں۔

غلط فہمیاں بڑھاتے ہیں۔

اور پھر تماشائی بن کر بیٹھ جاتے ہیں۔

جبکہ نقصان ایک پورے خاندان کا ہو رہا ہوتا ہے۔

اس سے بھی زیادہ خطرناک چیز وہ ذہنیت ہے جس نے انسان کی قیمت کو صرف پیسے سے جوڑ دیا ہے۔

آج بہت سے گھروں میں کردار کی نہیں، آمدنی کی عزت ہوتی ہے۔

اخلاق کی نہیں، تنخواہ کی اہمیت ہوتی ہے۔

علم کی نہیں، بینک بیلنس کی قدر ہوتی ہے۔

اگر پیسہ آ رہا ہو تو خامیاں بھی خوبی بن جاتی ہیں۔

اور اگر مالی مشکلات آ جائیں تو سالوں کی قربانیاں بھی بھلا دی جاتی ہیں۔

گویا انسان نہیں، اس کی تنخواہ زندہ ہے۔

یہ سوچ صرف ظالمانہ نہیں، انتہائی سطحی بھی ہے۔

کیونکہ جو معاشرہ پیسے کو انسان سے بڑا بنا دیتا ہے، وہاں منافقت پھلتی پھولتی ہے اور کردار دفن ہو جاتا ہے۔

حقیقی بزرگ وہ نہیں جو ہر وقت اپنی عمر کا حوالہ دیں۔

حقیقی بزرگ وہ ہیں جن کی موجودگی سے نوجوان مضبوط ہوں۔

جن کی صحبت سے اعتماد پیدا ہو۔

جن کی بات سے راستے کھلیں۔

جن کی رہنمائی سے غلطیاں کم ہوں۔

اور جن کی وجہ سے خاندان جڑے رہیں۔

لیکن جو لوگ اپنی اہمیت برقرار رکھنے کے لیے اختلافات پیدا کریں، لوگوں کو ایک دوسرے کے خلاف کھڑا کریں، نوجوانوں کو اشتعال دلائیں، اور پھر ان کی ناکامیوں پر اپنی دانائی کا جھنڈا گاڑیں، وہ دراصل احترام نہیں کما رہے ہوتے۔

وہ صرف اپنے خوف کو چھپا رہے ہوتے ہیں۔

وقت بدل رہا ہے۔

نئی نسل کو غلام نہیں، رہنما چاہیے۔

نئی نسل کو حکم دینے والے نہیں، سمجھنے والے چاہیے۔

اور سب سے بڑھ کر، نئی نسل کو ایسے لوگ چاہیے جو انہیں گرنے سے بچائیں، نہ کہ انہیں دھکا دے کر پھر اپنی دور اندیشی کے قصے سنائیں۔

کیونکہ تاریخ میں وہ لوگ یاد نہیں رکھے جاتے جنہوں نے دوسروں کو چھوٹا رکھا۔

تاریخ میں وہ لوگ یاد رکھے جاتے ہیں جنہوں نے دوسروں کو بڑا ہونے دیا۔

میاں بیوی کے درمیان دراڑیں پیدا کرنا تاکہ اپنی اہمیت برقرار رکھی جا سکے

ہمارے معاشرے کا ایک بڑا المیہ یہ ہے کہ بہت سے لوگ دوسروں کی زندگی کو سکون سے چلتے ہوئے برداشت نہیں کر سکتے۔ اگر کوئی شخص اپنی بیوی، اپنے بچوں اور اپنے کام کے ساتھ ایک سادہ اور پُرسکون زندگی گزارنا چاہے، بغیر کسی سوشل ویلیڈیشن، بغیر کسی ڈرامے اور بغیر کسی توجہ کے، تو اسے ایسا کرنے نہیں دیا جاتا۔

ایسا لگتا ہے جیسے بعض لوگوں کی اپنی اہمیت کا دارومدار ہی اس بات پر ہو کہ وہ دوسروں کے معاملات میں کس حد تک دخل اندازی کر سکتے ہیں۔

جب میں بینک میں کام کرتا تھا اور میرے ہاں بچے کی آمد متوقع تھی، تو ایک کولیگ نے اشاروں میں کہا تھا کہ "دیکھ لینا، چیزیں مشکل ہو جائیں گی۔" اس وقت میں نے اس بات کو زیادہ اہمیت نہیں دی۔ مجھے لگا کہ شاید یہ عام گھریلو چیلنجز کی بات کر رہا ہے۔

لیکن آج 2026 میں کھڑے ہو کر پیچھے دیکھتا ہوں تو وہ جملہ بالکل واضح نظر آتا ہے۔

مشکل صرف مالی حالات یا ذمہ داریوں کی نہیں ہوتی۔

اصل مشکل وہ لوگ ہوتے ہیں جو ایک نئے خاندان کو اپنے پاؤں پر کھڑا ہوتے نہیں دیکھ سکتے۔

میں نے کراچی کا وہ دور بھی دیکھا ہے جب نوجوانوں کے پاس مصروفیات تھیں۔ سنگم گراؤنڈ جیسے میدانوں میں صبح، دوپہر اور شام کرکٹ ہوتی تھی۔ فلڈ لائٹس تو نہیں تھیں، لیکن بانس لگا کر لائٹیں ٹانگ دی جاتی تھیں اور کھیل جاری رہتا تھا۔ لوگوں کے پاس وقت کم تھا اور مصروفیات زیادہ تھیں۔

آج صورتحال مختلف ہے۔

مصروفیت کم ہے، مداخلت زیادہ ہے۔

تعمیر کم ہے، تبصرے زیادہ ہیں۔

اور افسوس کی بات یہ ہے کہ بہت سے لوگ اپنی زندگی بہتر بنانے کے بجائے دوسروں کی زندگی پر اثر انداز ہونے میں دلچسپی رکھتے ہیں۔

میں ایک بات پر یقین رکھتا ہوں:

انسان وہی پاتا ہے جو وہ دوسروں کے لیے چاہتا ہے۔

نیت صاف ہو تو راستے بھی صاف ہوتے ہیں۔

لیکن جب کسی کی توجہ اپنی تعمیر کے بجائے دوسروں کی زندگیوں پر مرکوز ہو جائے تو پھر تعلقات کمزور ہونا شروع ہو جاتے ہیں۔

میرے معاملے میں سب سے تکلیف دہ بات یہ نہیں تھی کہ میری نوکری دسمبر 2025 میں گئی۔

تکلیف دہ بات یہ تھی کہ اس کے بعد مجھے جس حمایت کی ضرورت تھی، وہ مجھے نہیں ملی۔

میں نے اپنی بیوی کے ساتھ ہمیشہ ایک پارٹنر کی طرح کھڑے ہونے کی کوشش کی۔ جب اس کی والدہ کا انتقال ہوا، میں نے ہر ممکن حد تک اس کا ساتھ دیا۔ جب میری والدہ نے اسے پیر فقیر یا غیر ضروری روحانی راستوں کی طرف لے جانے کی بات کی، تو میں نے اپنی بیوی کی عزت اور خودمختاری کے لیے کھل کر مؤقف اختیار کیا۔

اس وقت میری ترجیح اپنی بیوی تھی کیونکہ وہ میری شریکِ حیات تھی۔

لیکن آج جب میں اپنے مشکل ترین دور سے گزرا، تو صورتحال بالکل الٹ دکھائی دی۔

مجھے محسوس ہوا کہ میری بیوی میرے ساتھ کھڑے ہونے کے بجائے انہی لوگوں کے مؤقف کے قریب ہوتی چلی گئی جن کے مقابلے میں میں نے اس کے لیے کھڑے ہونے کا انتخاب کیا تھا۔

یہاں ایک بڑا سوال پیدا ہوتا ہے۔

میاں بیوی کا رشتہ کس چیز پر قائم ہوتا ہے؟

سمجھ بوجھ پر؟

اعتماد پر؟

یا پھر اس بات پر کہ جب ایک فریق کمزور ہو تو دوسرا اس کی کمزوری کو اپنے فائدے کے لیے استعمال کرے؟

میرے نزدیک میاں بیوی کا رشتہ اتحاد کا نام ہے، اتحاد کے خلاف بننے والی سیاسی صف بندیوں کا نہیں۔

جب میں کھلے ذہن سے پورے سلسلے کو دیکھتا ہوں، تو ایک چیز بار بار سامنے آتی ہے۔

بعض اوقات خاندانوں میں اختلافات حادثاتی نہیں ہوتے۔

انہیں پروان چڑھایا جاتا ہے۔

انہیں ہوا دی جاتی ہے۔

انہیں اس لیے زندہ رکھا جاتا ہے تاکہ کچھ لوگ اپنی اہمیت برقرار رکھ سکیں۔

کیونکہ اگر شوہر اور بیوی ایک دوسرے کو سمجھنے لگیں، ایک دوسرے کے ساتھ کھڑے ہو جائیں، اور اپنے فیصلے خود کرنے لگیں، تو بہت سے غیر ضروری کردار غیر متعلق ہو جاتے ہیں۔

یہی وجہ ہے کہ بعض لوگ مسائل حل نہیں کرتے، بلکہ مسائل کو زندہ رکھتے ہیں۔

بعض لوگ غلط فہمیاں دور نہیں کرتے، بلکہ انہیں بڑھاتے ہیں۔

اور بعض لوگ نوجوانوں کو غلطیوں سے بچانے کے بجائے ایسے حالات پیدا کرتے ہیں جہاں غلطی کا امکان بڑھ جائے، تاکہ بعد میں وہ اپنی دانائی کا اعلان کر سکیں۔

میرا مقصد الزام لگانا نہیں۔

میرا مقصد ایک رویے کی نشاندہی کرنا ہے۔

وہ رویہ جس میں خاندان کی مضبوطی سے زیادہ اپنی اہمیت عزیز ہو جاتی ہے۔

وہ رویہ جس میں حمایت کی جگہ حساب کتاب لے لیتا ہے۔

اور وہ رویہ جس میں ایک بیٹے، ایک شوہر اور ایک باپ کی مشکلات کو سمجھنے کے بجائے انہیں پرانے اسکور برابر کرنے کے موقع کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔

یہ رویہ صرف افراد کو نہیں توڑتا۔

یہ پورے خاندانوں کو اندر سے کھوکھلا کر دیتا ہے۔

مکمل تحریر >>

مئی 13, 2026

This is not the case that I am against "All Baby Boomers"

میرے بلاگز سے یہ دکھائی دے رہا ہوتا ہے کہ جیسے میں بڑی عمر کے بزرگوں کے خلاف ہوں، 

میں carry-forward mechanism کا حامی ہوں

یہ ساتھ والے گولے دیکھ رہے ہیں؟ اس سے آپ کیا اثر لے رہے ہیں، کسی نے کہا ہے کہ دو گیندیں دیکھ رہی ہیں، کوئی اس میں لال اور نیلی گیند دیکھ رہا ہے، جبکہ میں یہاں ان دو گیندوں کو best of two worlds کے طور پر دیکھوں گا۔

Best of Two Worlds

یہ mechanism پر believe کرتا ہوں، کیونکہ ان دو گیندوں کے بیچ میں ایک terminator line بنی ہوئی ہے، جہاں لال اور نیلی گیند دونوں کے اثرات ہیں، ایسا کہیں نہیں کہ دونوں گیندوں کو ایک کر دیں تو individuality ختم ہو جائے گی، آپ کو respect دینی ہوگی کہ آپ دوسرے کو respect دو گے تو دوسرا بھی آپ کا خیال کرے گا۔

THIS IS HIGH TIME - PAKISTANI BABY BOOMERS BE EXPOSED ACCORDINGLY

اس بلاگ پوسٹ میں، میں نے بیوی کے بارے میں بتایا کہ وہ بلا وجہ انگلیاں توڑ رہی ہے، 

میں اسی طرح کا بندہ ہوں، جو Quid-Pro-Quo کی basis پر believe کرتا ہوں، اگر بیوی کا رویہ میرے ساتھ ٹھیک ہوتا، میں گِر پڑھ کر اس کو سپورٹ کرتا، مگر اب اگر یہ Black Michael بننے کا شوق ہے، تو پھر میں بھی Othello ہوں، بیشک اوتھیلو مر جاتا ہے اس ناول میں، مگر یہاں بلیک مائیکل کا کردار یہاں مجھے اپنی بیوی کے ذریعے دیکھ رہا ہوں، ایک جانب میں دیکھ رہا ہوں کہ مجھے بیوی کی بات سننے کا فرض ہے مگرمیری پسند نا پسند کا خیال نہیں رکھنا ضروری ہے، کیونکہ اس بات کا کیا مطلب ہے؛

میں نوکر نہیں ہوں کہ آپ کی بات مانوں

مگر دوسری جانب یہ بات سنوں کہ یہ میری ذمہ داری ہے، اس سے کوئی denial نہیں، مگر intend to take all and give nothing، کیا اس کے اندر یہ سب کچھ بھی آتا ہے؟

میری والدہ مجھے mock کرتے ہوئے

میں اپنی تکلیف بھول کر، نوکری نہیں ہوتے ہوئے بھی بائیکیا چلا کر پیسے کما کر پچھلے مہینے ۵۵۰۰ کی بچے کی چکن پاکس کی ویکسین، اور اس مہینے ۴۵۰۰ کی ویکسین میں سے ۴۰۰۰ جمع کرچکا ہوں، جون میں اس کی ویکسن ہوگی، تو اپنی تکلیف بھول کر وہ خرچہ کرتا ہوں، مگر پھر بھی گھر میں ایسا toxic ماحول، کیا میں اس قابل ہوں؟ اب میرا مسئلہ یہ ہوتا ہے کہ ایک static پوزیشن کے بعد جب میں موومنٹ میں آتا ہوں تو muscular pain شروع ہوجاتا اور اسی وجہ سے میری کمر اور hips درد کرتے، اب میرے اوپر اس وقت یہ صورتحال ہے، تو میری ماں کی جانب سے یہ megalomaniac اور narcissistic طریقہ سے مجھے ٹریٹ کرنا، کہ اپنا علاج کیوں نہیں کراتے؟ مسئلہ رگوں کا ہے، اب اس وقت میں یہ رسک تھوڑی لے سکتا کہ رگ کا علاج بیچ میں چھوڑ دوں کیونکہ بچے کو نہیں چھوڑنا ہے، میں اپنی تکلیف برداشت کرلوں گا مگر بچے کو نہیں دیکھوں گا کہ وہ تکلیف میں رہے، کیونکہ رگ کا علاج بیچ میں روک دیا تو بائیک کے ذریعے کمائی روک سکتی ہے، کیونکہ پاؤں جام ہوگئے تو بائیک چلانا ایک طرف، میں پیدل نہیں چل سکتا، تو ایسے میں گھر میں toxicity اس حد تک ہے، کہ ماں ہوتے ہوئے یہ سمجھنا مشکل ہورہا ہے، کہ بینک میں میری تنخواہ ۳۷۰۰۰ رہی ہے، تو اب ایسے میں کیسے ممکن ہے کہ میں اپنا علاج بھی کروں، اور اس کے ساتھ بچے کی ویکسین کا خرچہ safe کروں، دونوں چیزیں ایک ساتھ اور یک مشت تھوڑی ہوتا ہے۔

🏙️We Fail as Society

مگر معذرت کے ساتھ، غلطی کو غلط ماننے کے بجائے دوسرا بندہ جو ایک ایسی مثال جہاں tolerance کرنا چاہ رہا ہے، مگر جواب میں میرے برداشت کی بس کر دیتے ہیں، اور متعدد بار ایک ہی چیز ہونا، یہی مطلب ہوتا ہے کہ it is all preplanned، کیونکہ گھر میں یہ ماحول بالکل موجود ہے، کہ والدین بالکل ٹھیک ہوتے، چلو مان لیا آپ بالکل ٹھیک ہو، تو آپ نے ہمیں معاشرہ کیسا دیا ہے؟ کیا اس کی ذمہ داری آپ کے اوپر نہیں؟ جو مثال آپ ہمارے سامنے پیش کررہے ہو، اس کی ذمہ داری لے رہے ہیں؟ When you create a toxic environment with bad examples



مکمل تحریر >>

This is High Time - Pakistani Baby Boomers be exposed accordingly

یہاں میرا یہ لکھنے کا مقصد نہیں کہ میں دشمنیاں پال رہا ہوں، کیونکہ کافی بے بی بومرز ایسے ہیں، جو Millennials اور آنے والی جنریشنز کو ساتھ لے کر چلنا چاہتے ہیں، اس کے لئے وہ نئی جنریشنز کے ساتھ چیزیں سیکھتے ہیں، اور ایسا محسوس نہیں کراتے کہ جیسے ان کی اسکلز اور چیزیں کسی سے کم ہیں، کیونکہ عزتِ نفس ایک ایسی چیز ہے جو کسی زبان کا محتاج نہیں، یہاں تک کہ اگر کسی جانور کے ساتھ اچھا behave کرو، تو وہ بھی جواب میں اپنی زبان میں شکریہ کرتا۔

میرے ساتھ

میری بلی تھی، اب ختم ہوگئی، کافی پرانی تھی، کیونکہ اسکی ماں میرے پاس چھوڑ کر گئی تھی، اور میرے والد (بیشک ابھی مجھے گالیاں دیں گے)، مگر وہ بھی یہ بات مانیں گے کہ میری وہ بلی کی ماں میرے پاس اپنا بچہ چھوڑ کر چلی گئی تھی، اب یہ نہیں پتا کہ واقعی میں چھوڑ کر گئی تھی یا پھر ایسا ہوا کہ ادھر چھوڑا اور ادھر اس کے اوپر سے گاڑی گزر گئی کیونکہ اس کے بعد پھر کبھی وہ نہیں دکھائی دی، اور وہ COVID کے دن تھے، کیونکہ مجھے یاد ہے، کہ میں اس بچہ کو صرف حوصلہ دیتا تھا، اور COVID کے دنوں میں gloves کا بہت استعمال ہوتا تھا، تو اسی synthetic gloves میں پن سے چھوٹا سراخ کر کے اس کو Millac پلاتا تھا، حالانکہ اپنی اماں سے ڈانٹ کھاتا تھا مگر میرا یہ ماننا تھا کہ اس ماحول میں جانوروں کو اکیلا کیونکر چھوڑوں، اور اسی وجہ سے اپنے آخری ٹائم تک میرے والد، میری والدہ، میری بیوی سے ڈانٹ کھا کر میرے کمرے میں آجاتا تھا، کیونکہ اس کو سکون ہوتا تھا کہ یہ بندہ مجھے کبھی نہیں دھتکارے گا۔

اب بات اس چھوٹے بلی کے بچے سے اپنی زندگی میں آرہی ہے

جہاں میری اس نیچر کو تین طرف سے exploit کیا جارہا ہے، کیونکہ اس وقت گھر میں تین دھاری تلوار پر زندگی گزار رہا ہوں، یہاں مسئلہ یہ ہے، کہ دو عورتوں (میری ماں اور میری بیوی)،  ایک مرد (میرے والد) اپنی جانب میری ہاں رکھنا چاہتے ورنہ "کیفے قبائیل" والی ذہنیت میرے اوپر implement کرنے کی کوشش ہے، اور یہ بلاگ لکھانے کا مقصد یہی ہے کہ اس چیز کا ریکارڈ رکھنا چاہتا ہوں۔

میری بیوی aka چڑھتے سورج کی پجاری

میری بیوی کا مسئلہ یہی ہے کہ اس کو کوئی نا کوئی shoulder چاہئے ہوتا ہے، کہ اپنے آپ کو اس کے پیچھے چھپائے، emotional and ethically کمزور ہے، آج میرے پاس نوکری نہیں ہے، بیشک اس میں میری خود کی بھی کمزوری ہے، کیونکہ میرے ساتھ scam ہوا، مگر ایسی صورتحال میں بیوی کو میرے ساتھ کھڑا ہونا چاہئے، مگر یہاں بات یہی ہے کہ میں نے اپنی زندگی Integrity کے ساتھ گزاری، مگر اب مجھے بغلیں جھانکنے والا بنانا چاہتی ہے، کیونکہ اس کے پاس کوئی جواز نہیں تھا، یہی ایک جواز تھا جہاں وہ مجھے ہٹ کر سکتی تھی، اور معذرت کے ساتھ مجھے ہٹ کیا، کیونکہ عورتوں کو یہ بات سمجھنی چاہئے، کہ ہر مرد کی ایک سیلف رسپیکٹ ہوتی ہے، ایسے میں اپنے اسکورز سیٹل کرنے کے لئے اس aspect کو exploit کرنے میں پیش پیش ہے، کیونکہ اس نے یہ سوچا کہ اس vulnerable condition میں، میں ٹوٹ جاؤں گا، خود بتاؤ، جب بچہ پیدا ہوا تھا تو ۹۵۰۰۰ خود ارینج کئے تھے، صرف اماں سے ۲۰۰ ڈالرز لئے تھے، وہ integrity کے ساتھ واپس PKR سے USD میں کنورٹ کرکے واپس بھی دئے، اب اس بندے کو ایسے exploit کررہے ہیں، صرف اس لئے کہ آپ کی رضامندی حاصل ہو؟

میری ماں

میری شادی سے پہلے میری ماں کا رویہ ایسا تھا کہ میری رائے کی کوئی اہمیت نہیں، شادی کے کارڈ پر بھی احسان جتانے کے لئے ۳ کارڈز دئے کہ تمہاری شادی کے لئے ہم نے پیسہ دیا ہے، جب یہ رویہ رہے گا، تو کس چیز کی عزت کی بات کررہے ہیں؟ کس چیز کی طاقت چاہئے؟ آپ نے فیملی چلانی ہے یا WWE؟ اس پر یہ کہ اس صورتحال میں بھی آخری ٹائم تک میں اپنے والدین کے لئے بولتا رہا، مگر اب صورتحال یہ ہے کہ میری بیوی کی صورت میں ان کو میری ڈگ ڈگی مل چکی ہے، صرف اس لئے کہ میری ماں مجھے کنٹرول نہیں کرسکتی، کیونکہ میں اپنے decisions میں جب No بول دیا، تو وہ No ہوگا، مائنس، مائنس پلس نہیں ہوتا، میں نے اپنا سسٹم ایسا سمپل رکھا ہے، مگر یہاں یہی ہے، کہ میں نا بولوں تو میری بیوی کو استعمال کرنے پر لگے ہوئے ہیں، کہ بادل نخواستہ "مجھے اثرات کو اپنے اوپر لوں" یہ سب کچھ ڈاکیو منٹ کرنے کا مقصد یہی ہے کہ میں خود کو تیار رکھوں، اور یہ تیاری ہی ہے کہ یہ سب کچھ میں لکھ کر ڈاکیو منٹ کررہا ہوں، کیونکہ جو toxicity میری زندگی میں میری ماں نے پھلائی ہے، اور میری بیوی کو چسکا لگ چکا ہے، کیونکہ میری ماں نے خود راستہ دکھایا ہے کہ مرتضی کو ایسا ٹریٹ کرو، 

میرے والد صاحب

آپ کسی بار بی کیو والے کے پاس گئے ہو؟ وہاں steaks لگے ہوئے ہوتے ہیں، اور ساتھ میں ایک پنکھا ہوتا ہے، میرے والد وہ پنکھا ہیں، جو ہمیشہ confrontation کو اور گرم کرتے، اور یہ موقع بابا نے دیا، کیونکہ مام اور بابا کی طرف داری کی ایک وجہ یہی ہے کہ میں اپنا فوکس ہمیشہ آن رکھتا ہوں، بابا اسی بات پر چڑتے کہ میں جواب ہمیشہ پوائنٹ پر ٹھوک کر دیتا ہوں، اسی وجہ سے میری اس نیچر کو بابا attitude بولتے، اور یہ attitude مجھ سے ختم کرنے پر تلے ہوئے ہیں، اور جیسے میں بار بار یہ بات لکھ رہا ہوں کہ یہ بلاگ لکھنے کا مقصد یہی ہے سب چیزیں آن اکاؤنٹ رہے۔

ابھی، ابھی

میں عصر کی نماز پڑھ کر آیا ہوں، اور میری بیوی نے یہ حرکت کی ہوئی ہے کہ کمرے کی کھڑکی پر پردے ڈال دئے، جبکہ میرا کمرہ ہوا کے رخ پر ہے، زرا بھی کھڑکی covered ہوجائے گی تو کمرہ Urban Island Effect کے rule کے حساب سے تپنا شروع ہوجائے گا، جبکہ اس کو فائیو اسٹار کمپلیکس میں رہنے کی عادت ہے جہاں ایک کھڑکی کھلے تو دوسرے گھر میں جھانکنا شروع، خود میرا خود کا ذاتی تجربہ ہے کہ واش روم میں گیا تو ساتھ والے فلیٹ کی واش روم میں فلش کرنے کی آواز آرہی تھی، ایسے میں، میں نے یہی کیا کہ کھڑکی کھول دی، اور پردے ہٹادئے، کیونکہ کمرہ ہوادار اچھا لگتا ہے، نا کہ یہ کہ congested رہے، ایسے میں، میں نے دو رخی تلوار کی بات کی، وہی ہوا، کہ 

پورا دن کمرہ اپنے حساب سے کھلا رکھتے، اب زرا سا کھڑکی بند کی، بچہ کا خیال نہیں

 میں نے جواب دیا

اگر میرے ساتھ رویہ صحیح رکھتے، میں خود پوری کھڑکی بند کرتا، مگر اب چونکہ تم نے مجھے ضد پر لائے ہو، اب برداشت کرو

اس کے جواب میں اس نے جواب دیا

اپنا علاج کرائیں

اسی وجہ سے میں یہ سب کچھ ڈاکیو منٹ کررہا ہوں، کیونکہ اب بہت ہوچکا ہے، میں again یہ بات لکھوں گا کہ اگر اللہ دیکھ رہا ہے، تو مجھے انصاف چاہئے، کیونکہ یہاں میرے لئے صورتحال ایسی بنا رہیں ہیں کہ میرے "غصہ"😡 کوhighlight کیا جا رہا ہے، اور اس کے لئے جیسے مصطفی کو paralized کردیا ہے، وہی tactic یہاں کررہے ہیں، اور اسی لئے میں یہ سب کچھ ڈاکیو منٹ کررہا ہوں۔

اسی لئے ان سب کا ریکارڈ میں نے Google Drive کے اس فولڈر میں ڈال دیا ہے کیونکہ ویسے Blogger مجھے اجازت نہیں دیتا کہ میں آڈیو فائل یہاں ڈالوں، مگر اب میں چیزیں upload کردوں گا، کیونکہ یہ لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ مجھے اپنے قابو میں کرکے میری تعریف کریں گے بصورت دیگر میری عزت تار، تار کریں گے۔

میری بیوی کے ساتھ مسئلہ

میری بیوی کے ساتھ مسئلہ یہی ہے کہ وہ جانتی ہے کہ میں جب اسٹینڈ لوں گا تو گھر تک چھوڑ کر آؤں گا، ایسے میں وہ میری integrity توڑ کر اپنے گھر والوں کے سامنے دکھانا چاہتی ہے کہ وہ اتنی مضبوط ہے، عورت مضبوط اپنے شوہر کے ساتھ رہتی ہے، نا کہ رشتہ میں کسی کو include کر کے، اب ایسے میں ڈرامہ وہ شروع کررہی ہے، مگر ختم میں ہی کروں گا، کیونکہ سب کچھ میں رکارڈ پر ڈال رہا ہوں، اور ریکارڈ پر ڈالنے کے ساتھ یہ سب کچھ لکھائی میں بھی کررہا ہوں، کیونکہ جیسے میں نے لکھا ہے کہ لکھنے کی عادت سے مجھے فوکس کرنے میں آسانی ہوتی ہے، ایسے میں یہاں سارا کھیل فوکس کا ہے، کیونکہ اب میں کھل کر ریکارڈ کھیلوں گا، جب ۳ لوگ مجھ کمزور کے ساتھ مقابلہ بازی کررہے ہیں، تو ایسا ہی صحیح، اب سب black-and-white ہوگا، اور کھل کر ہوگا۔

Again یہ سب کچھ کا یہ بالکل مقصد نہیں کہ میں نے بدلہ لینا ہے

مگر بات یہ ہے کہ جیسے بھی ہیں، اس وقت جس vulnerable پوزیشن میں ہوں، میرے والدین ہی میری سپورٹ ہیں، مگر اس سپورٹ کی اتنی بڑی قیمت؟ کہ مجھے ایسے اکیلا کیا جارہا ہے؟ وہ بھی ۳ جانب سے؟

مکمل تحریر >>

مئی 12, 2026

Baby Boomers not doing good to coming generations

الٹی بحث کرنے سے کیا سکھا رہے ہیں؟

پہلے غلط مثال کھڑی کرتے ہیں، اسکے بعد کارٹل والی mentality تھوپتےہیں۔

میرے خود کے ساتھ

میں نے اپنی فیملی میں پہلے ہی دیکھا ہے کہ ان ایکشنز کا کیا ری ایکشن آئے گا، تو دوبارہ آنکھ بند کر کے ان کی باتوں کو accept کروں کہ بعد میں الزام میرے اوپر آئے کہ مرتضی نے سب کیا؟ یہ mentality ہے، اور یہ بلاگ لکھنے کا مقصد یہی ہے کہ میرے ہاتھ پاؤں باندھ دئے ہیں، اس کے بعد آنے والے نتائج کا ذمہ دار میں ہوں گا، 

مگر یہاں ہمارے Baby Boomers ہمیشہ غلط example سیٹ کی

معذرت کے ساتھ ایسی صورتحال میں، جہاں میرے اوپر پریشر ڈالا جارہا ہے کہ ان دونوں (والدین) کے نقش قدم پر چلوں ورنہ تمہاری بیوی ہمارے قبضہ میں ہے، یہ سب ان کے behavior سے پتا چل رہا ہے، کہ ان کا موڈ یہی ہے، کہ میں ان کی بات مانوں، ورنہ بیوی کا پریشر رہے۔

میرے اپنے والدین نے اپنے ہی بیٹے کو ایسا بنا دیا ہے کہ اس کی بیوی اس کی نہیں سن رہی ہے

مجھے قبضہ کرنے کی عادت نہیں، نا ہی میں بیوی کو قابو کرنے کا شوقین ہوں، بلکہ عورتیں اگر یہ پڑھ رہی ہیں تو خود بتائیں کہ وہ شوہر جو بیوی کا اپنا بینک اکاؤنٹ بنا کر دے، بجائے غیر ضروری دیسی عورت جس کا دلچسپی کا محور یہی ہے کہ فلاں نے یہ کیا، اس نے وہ کیا، یہ چیز میں اپنی فیملی میں ہونا نہیں پسند کرتا، اور جب میں یہ سب کچھ دیکھ رہا ہوں تو روکنے کے لئے پہلے پیار سے بولوں، میری بات کو اگنور کرے، کیونکہ پیچھے سے میرے والد میری بیوی کو spoil کررہے ہیں۔

میری نوکری نہیں ہے

اس چیز کا طعنہ مجھے ایسے دیا جارہا ہے، ایسے میں بیوی کی اور فیملی کی سپورٹ چاہئے، سپورٹ کا مطلب پیسوں کی سپورٹ نہیں، مورل سپورٹ ہے، یہاں والدین اپنے خود کے پرسنل اسکورز سیٹل کررہے ہیں، اس کے مقابلے میں بیوی اپنے، کیونکہ بیوی کے خلاف میں نے اسٹینڈ لیا تھا، کیونکہ کچھ circumstances ایسے ہوئے تھے جہاں میں نے اس کی طرف داری نہیں کی تھی، کیونکہ یہ چیزیں میں اپنے گھر میں (پھر سے کہوں، گھر سے مطلب میری فیملی، نا کہ وہ چار دیواری جہاں رہ رہا ہوں)، اور معذرت کے ساتھ کبھی کبھی سوچتا ہوں کہ الٹی بحث اس بندے کے ساتھ جو introvert ہے، اس سے بحث جیت کر اس سے یہ حق چھینا جارہا ہے، کہ اپنے خود کے گھر (گھر سے مراد میری فیملی، چار دیواری نہیں) بار بار یہ repeat کررہا ہوں کہ میرے خاندان میں ایسے حُجتی لوگ ہیں، جو ایسی petty چیزوں کی اسکرین شاٹ لے کر بولتے ہیں اور میں یہ چیز پسند نہیں کرتا، کہ میرے گھر (میری فیملی، چار دیواری نہیں) پر impose کرے، اس پر سونے پہ سہاگہ میرے والدین میری integrity توڑ رہیں ہیں، 

میں ایسا کس حوالے سے کہہ رہا ہوں؟

میں ایسا اسی لئے کہہ رہا ہوں کہ بات ہمیشہ یہاں سے شروع ہوتی ہے کہ مرتضی (عنیز) غصہ کرتا ہے، مگر بڑے بننے کا شوق ہے تو یہ تو دیکھیں کہ ایسا ری ایکشن کیوں آرہا ہے؟ بڑوں کا کام یہی ہوتا ہے، کیفے قبائیل نہیں بناتے کہ ہمارے قبیلے میں رہنا ہے، تو ہماری ماننی پڑے گا، اور میں نے اپنے گناہ گار آنکھوں سے دیکھا ہے، کہ ماضی میں ان کے ایکشنز کا کیا ری ایکشن آیا، تو ایسے میں اگر میں احتیاط کررہا ہوں، تو میری خود کی ریپوٹیشن reputation خراب کررہے ہیں۔

بیوی کو سپورٹ

عورتیں یہ بات سے بالکل relate کریں گی، کہ اس وقت جب میری خود کی ماں میرے اور میری بیوی کے پیچھے ہاتھ دھو کر بیٹھی ہوئی تھی، اتنی کہ ایک جانب میری ماں بولتی ہے، کہ میری بیوی کو میرے ساتھ بھیجواؤ، اپنے مولوی صاحب وغیرہ کے جھمیلوں میں تم دونوں کو ڈالوں گی، اور دوسری جانب میری بیوی کرائے کے گھر کے لئے، وہاں اپنی بیوی کی سیلف رسپیکٹ self-respect کا خیال کیا، بلکہ اس کا ذہن صاف کیا، جس کی وجہ سے اس نے بچہ conceive کیا، مگر fast forward ایک سال بعد کیونکہ مارچ ۲۰۲۵ میں میرا بچہ ہوا، اور اب مئی ۲۰۲۶ ہے، ایک سال پہلے وہ اس صورتحال میں تھی، وہاں میں اس کی سپورٹ پر کھڑا رہا، اور آج یہ صورتحال ہے کہ کمرے کا دروازہ بند ہے، بیوی الٹا سنا رہی، وہی بیوی جو ماں سے بچنے کے لئے کرائے کا گھر demand کررہی تھی، آج اسی عورت کی زبان بول رہی ہے،

اکیلے کمرے میں

اس وقت اکیلے کمرے میں یہ لائن لکھ رہا ہوں، میرے ساتھ ہر کوئی اپنے اسکورز سیٹل settle کررہا ہے، اب اگر اللہ موجود ہے، تو مجھے اس اللہ سے انصاف چاہئے، 

کیا یہ سب کچھ ہونے کے بعد میری بیوی میری عزت کرے گی؟ عزت سے مطلب at the time needed میرے ساتھ کھڑی ہو؟ اسی وجہ سے ان baby boomers کو سمجھانے کی ضرورت ہے، ایک اسٹینڈ لینے کی وجہ سے یہ چیزیں face کررہا ہوں، اگر اللہ موجود ہے، تو میری مدد کریں۔

اب یہ بات کہ میری بیوی کو میرے خلاف کر کے یہ لوگ کیا prove کرنا چاہتے؟

یہ کہ میں ان کی ہاں میں ہاں ملاؤں؟ جیتے جی کبھی میں نہیں مانوں گا، چاہے کچھ بھی ہوجائے، اور میں یہ بات کہہ رہا ہوں، کہ اگر اللہ موجود ہے، دیکھ لیں، یہ آج کل کے والدین والدین پریمیئر لیگ کھیل رہے ہیں، مجھے انصاف چاہئے، میں نے کبھی یہ نہیں چاہا کہ مجھے طاقت چاہئے، میں نے اپنے کام سے کام رکھنا ہے، I am not hungry for validation from individuals as the only Validation requires is from Allah۔



مکمل تحریر >>

بلاگ میں مزید دیکھیں

You might like

$results={5}

Search me