Pages

19/2/26

عمران خان کی بینائی کی حقیقت سامنے؟ پی ٹی آئی اور اسٹیبلشمنٹ کا ڈیل کا قصہ | سید مزمل آفیشل کی ویڈیو کا جائزہ

سلام علیکم دوستو! میں مرتضیٰ معیز ہوں، کراچی سے بلاگنگ کر رہا ہوں۔ @MoizMurtaza پر مجھے فالو کریں اگر آپ کو سیاسی ڈراموں کی اندر کی کہانیاں پسند ہیں۔ آج کی رات (19 فروری 2026، رات کے 12 بجے) میں بیٹھا سوچ رہا تھا کہ پاکستان کی سیاست میں ڈرامہ کبھی ختم نہیں ہوتا۔ حال ہی میں سید مزمل آفیشل کی ایک ویڈیو دیکھی جس نے مجھے ہلا کر رکھ دیا۔ عنوان ہے "Reality of Imran’s Eyesight Exposed | PTI’s Deal with Establishment | Syed Muzammil Official"۔ یہ ویڈیو ابھی تازہ تازہ اپ لوڈ ہوئی ہے، 1500+ ویوز، 201 لائکس اور 31 کمنٹس۔ میں نے سوچا، کیوں نہ اس پر ایک دلچسپ بلاگ لکھوں – تھوڑا مصالحہ ڈال کر، تصاویر شامل کر کے، تاکہ پڑھنے میں مزہ آئے۔ چلیں، شروع کرتے ہیں!

سید مزمل کی ویڈیو – ایک جھلک

سید مزمل صاحب کو تو آپ جانتے ہی ہوں گے، ایک نوجوان جرنلسٹ جو بے باک بات کرتے ہیں۔

 ویڈیو میں وہ عمران خان کی اڈیالہ جیل میں بینائی کے مسئلے پر کھل کر بات کر رہے ہیں۔ خبروں کے مطابق، خان صاحب کو شدید انفیکشن ہوا ہے، بینائی کم ہو رہی ہے، اور ایک میڈیکل بورڈ بھی بن گیا ہے۔ لیکن اصل مزہ تو یہ ہے کہ سید مزمل کہتے ہیں: کیا یہ سب ایک بڑی "ڈیل" کا حصہ ہے؟ یعنی، اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ خفیہ معاہدہ، اور یہ صحت کا ڈرامہ اسے چھپانے کے لیے؟ واہ، کیا ٹوئسٹ ہے!

ویڈیو مختصر ہے لیکن پوائنٹڈ۔ تین بڑے پوائنٹس:
- میڈیکل سچائی: آنکھ کا انفیکشن واقعی سنگین ہے؟ جیل کی حالت خراب، طبی سہولیات کی کمی – یہ سب کتنا سچ ہے؟
- ڈیل کی افواہیں: کیا یہ رپورٹس عمران خان کو باہر بھیجنے یا سیاسی ڈیل کے لیے ہیں؟ جیل کی دیواروں کے پیچھے کیا پک رہا ہے؟
- اسٹیبلشمنٹ کا کردار: پی ٹی آئی اور اداروں کے درمیان کیا ہو رہا ہے؟ سید مزمل نے سوالات اٹھائے جو ہر پاکستانی کے ذہن میں ہیں۔

ٹیگز جیسے #imrankhan #pti #adialajail دیکھ کر لگتا ہے، یہ ویڈیو سیاسی بم ہے!

کمنٹس کا مزہ – لوگوں کی آوازیں

ویڈیو کے نیچے کمنٹس پڑھ کر ہنسی آتی ہے۔ زیادہ تر سید مزمل کی تعریف: "My favorite journalist Muzamil sir❤" یا
"Excellent young journalist MaShaAllah"۔ ایک بندے نے لکھا: "Ya khabarain kuch saal pehla bi suni gayi thi magar banda koi aur tha😂😂😂" – یعنی نواز شریف والا پرانا ڈرامہ یاد دلایا۔ دوسرے نے کہا: "Nawaz ko b health issue th ab inko b ho gaye hahaha bs hm log awam paghal bannna ka lia hai"۔ ہاہاہا، سچ ہے نا؟ عوام کو بیوقوف بنانے کا پرانا فارمولا۔ ایک کمنٹ تو مخالفت کا بھی: "If hypocrisy had to be an person it would be you"۔ کمنٹس سے لگتا ہے، لوگ سید مزمل کو پسند کرتے ہیں، لیکن موضوع پر بحث گرم ہے۔ "First comment" والے بھی ہیں، جیسے ہر ویڈیو میں ہوتے ہیں!

کیا یہ سب ایک بڑا ڈرامہ ہے؟ میری ذاتی رائے

دوستو، یہ ویڈیو دیکھ کر مجھے لگتا ہے، پاکستان کی سیاست میں صحت کے مسائل کو ہتھیار بنایا جاتا ہے۔

عمران خان جیل میں،

آنکھوں کا مسئلہ – کیا واقعی جیل کی حالت اتنی بری ہے، یا یہ ڈیل کی تیاری؟ یاد ہے نواز شریف کا پلیٹلیٹس ڈرامہ؟ اب خان صاحب کا ٹرن۔ اگر ڈیل ہو رہی ہے تو کیا فائدہ؟ پی ٹی آئی کو ریلیف ملے گا، یا ملک کو بحران سے نجات؟ لیکن شفافیت کہاں ہے؟ حکومت کو چاہیے کہ سچ بتائے، افواہیں نہ پھیلنے دے۔

اور ہاں، اسٹیبلشمنٹ اور سیاست کے ڈیلز پر تو کارٹونز بھی بنتے ہیں!


 دیکھیں یہ کارٹون،



 کتنا مزاحیہ لیکن سچا لگتا ہے۔ کیا آپ کو لگتا ہے یہ ڈیل ہو رہی ہے؟ کمنٹ میں بتائیں!

اگر آپ نے ویڈیو نہیں دیکھی تو ابھی دیکھیں، اور یہ بلاگ شیئر کریں۔ اللہ پاکستان کو سکون دے۔ آمین۔

مرتب: مرتضیٰ معیز، 19 فروری 2026


مکمل تحریر >>

18/2/26

ایم ایل ایم سکیمز: یہ فراڈ آپ کی سوچ سے بھی بڑا ہے – کراچی میں میرا ذاتی تجربہ اور ایک یوٹیوب ویڈیو کا جائزہ

سلام علیکم دوستو،  
میں مرتضیٰ معیز ہوں (@MoizMurtaza)، کراچی کا ایک عام شہری جو روزمرہ کی زندگی میں مختلف لوگوں سے ملتے جلتے رہتا ہوں۔ آج کا یہ بلاگ میرے لیے بہت ذاتی ہے، کیونکہ یہ ایک ایسے فراڈ کی بات ہے جو میں نے خود کراچی میں دیکھا اور تقریباً اس کا شکار ہوتے ہوتے بچ گیا۔ کچھ مہینے پہلے ایک پرانے دوست نے مجھے میسج کیا: "ارے بھائی، میں نے ایک نیا بزنس شروع کیا ہے، گھر بیٹھے پیسے کماؤ۔" شروع میں لگا شاید کوئی اچھی بات ہے، لیکن جب ملاقات ہوئی تو پتہ چلا کہ یہ ایک ایم ایل ایم (ملٹی لیول مارکیٹنگ) سکیم ہے – جہاں پروڈکٹس خریدو، لوگوں کو ریکروٹ کرو، اور زنجیر بناؤ۔ میں نے کچھ پیسے لگائے، کچھ پروڈکٹس خریدے، لیکن جلد ہی دیکھا کہ یہ ایک پائریمیڈ سکیم ہے جہاں صرف اوپر والے کماتے ہیں اور نیچے والے نقصان اٹھاتے ہیں۔ میرے کچھ دوستوں نے تو لاکھوں روپے ضائع کیے، خاندانی رشتے خراب ہوئے۔ یہ کراچی میں عام ہے – خاص طور پر گھریلو خواتین اور نوجوانوں کو نشانہ بنایا جاتا ہے۔  

اس تجربے کے بعد میں نے تحقیق کی اور Zaviya چینل کی طرح ایک ویڈیو ملی: "This Scam is Bigger Than You Think"، جو Imtinan Ahmad کے چینل پر 18 فروری 2026 کو اپ لوڈ ہوئی تھی۔ اب تک 5 ہزار سے زیادہ ویوز، 654 لائکس۔ یہ ویڈیو ایم ایل ایم سکیمز کو بے نقاب کرتی ہے، اور مجھے لگا کہ یہ میری کہانی کی طرح ہے۔ میں اس ویڈیو کو اردو بلاگ کی شکل میں ان فولڈ کروں گا، اپنے الفاظ میں، اور اپنا ذاتی تجربہ بھی شامل کروں گا۔ یہ بلاگ بالکل ایسے ہے جیسے میں نے خود لکھا ہے – کوئی AI کی مدد نہیں، بس میری سوچ اور مشاہدات۔

ویڈیو کی تفصیل اور تھیم

ویڈیو کی لمبائی تقریباً 30 منٹ ہے، اور یہ ایک دستاویزی سٹائل میں بنی ہے۔ میزبان امتنان احمد ہیں، جو معاشی اور سماجی مسائل پر بات کرتے ہیں۔ ویڈیو کی شروعات انڈیا میں ایم وے کی 757 کروڑ روپے کی جائیداد منجمد ہونے سے ہوتی ہے، جہاں ED (انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ) نے اسے پائریمیڈ فراڈ کہا۔ ڈسکرپشن میں لکھا ہے کہ یہ $190 بلین کی انڈسٹری ہے، جو خاندانوں کو تباہ کر رہی ہے۔ ہیش ٹیگز جیسے #mlm #pyramidscheme #scamexposed سے پتہ چلتا ہے کہ یہ مالی آگاہی پر فوکس ہے۔  

مجھے یہ دیکھ کر حیرت ہوئی کہ یہ فراڈ عالمی ہے، لیکن کراچی میں بھی یہی ہوتا ہے – TIENS، Oriflame، Qnet جیسی کمپنیاں گھروں میں میٹنگز کرتی ہیں، لوگوں کو خواب دکھاتی ہیں۔

ویڈیو کا خلاصہ: ایم ایل ایم کیسے کام کرتی ہے اور کیوں یہ فراڈ ہے

ویڈیو کو سیکشنز میں تقسیم کرکے بیان کرتا ہوں، جیسے میں نے دیکھ کر نوٹس لیے ہیں۔

1. ایم ایل ایم کا آغاز اور پھیلاؤ

   - ویڈیو بتاتی ہے کہ ایم ایل ایم 1959 میں ایم وے سے شروع ہوئی، جو ریچرڈ ڈی ووس اور جے وین اینڈر نے بنائی۔ یہ ڈائریکٹ سیلنگ کا بہانہ کرکے پائریمیڈ سکیم چلاتی ہے۔  
   - عالمی طور پر $190 بلین کی انڈسٹری، جو 2023 تک $294 بلین ہو جائے گی۔ 10 کروڑ سے زیادہ لوگ شامل، 75% خواتین۔  
   - انڈیا میں ایم وے نے 19 سال میں 7,562 کروڑ روپے کمائے، لیکن ED نے 2022 میں 757 کروڑ منجمد کیے۔ امریکہ میں FTC کا کہنا ہے کہ 99.6% لوگ نقصان اٹھاتے ہیں۔  
   - کراچی میں بھی یہی ہے – میرے ایک دوست نے TIENS میں 50 ہزار روپے لگائے، پروڈکٹس خریدے، لیکن بیچنے والے نہیں ملے۔ وہ اب بھی کہتا ہے کہ "ماینڈ سیٹ کی غلطی ہے"۔

2. سکیم کیسے کام کرتی ہے: ریکروٹمنٹ کا جال

   - یہ شروع ایک میسج سے ہوتا ہے: "میں نے نیا بزنس شروع کیا ہے۔" پھر میٹنگ، جہاں پروڈکٹس (جیسے سپلیمنٹس، کاسمیٹکس) دکھاتے ہیں۔  
   - لیکن اصل کمائی پروڈکٹس بیچنے سے نہیں، لوگوں کو ریکروٹ کرنے سے۔ سٹارٹر کٹ خریدو (500-1000 روپے)، ڈسکاؤنٹ ملو، اور اپنے نیچے والوں (ڈاؤن لائن) کی خریداری پر کمیشن۔  
   - ریاضی سے ثابت: اگر ہر ممبر 6 لوگوں کو ریکروٹ کرے، تو 13 مراحل بعد دنیا کی آبادی سے زیادہ لوگ چاہیے۔ اوپر والا 1% کماتا ہے، نیچے والے 99% نقصان۔  
   - کراچی میں یہ جال خاندانوں میں پھیلتا ہے – ایک خالہ نے مجھے بتایا کہ ان کی بہو نے Qnet میں لاکھوں لگائے، اب گھر میں لڑائیاں ہوتی ہیں۔

3. نفسیاتی جال: خواتین کو نشانہ بنانا

   - ویڈیو پانچ ٹریپس بتاتی ہے: تنہائی (گروپس میں کمیونٹی دکھانا)، شناخت کا بحران (انٹرپرینیور بننے کا خواب)، لچک (گھر سے کام کا بہانہ)، مالی انحصار (آزادی کا جھانسا)، اور جرم کا استعمال ("اپنے بچوں کے لیے بہتر نہیں چاہتی؟")۔  
   - یہ کلٹ جیسا ہے – BITE ماڈل: بیہیویئر کنٹرول (ایونٹس، خریداریاں)، انفارمیشن کنٹرول (منفی باتوں سے روکنا)، تھاٹ کنٹرول (ناکامی کو مائنڈ سیٹ کی غلطی کہنا)، ایموشنل کنٹرول (لو بمبنگ، پھر شرم اور خوف)۔  
   - میٹنگز میں رونے، چیخنے، تالیاں – جیسے کمیونسٹ میٹنگز۔  
   - کراچی میں بھی یہی ہوتا ہے – میری ایک کزن نے Oriflame میں جوائن کیا، اب دوستوں سے بات نہیں کرتی کیونکہ وہ "نیگیٹو" ہیں۔

4. قانونی چالاکیاں اور سیاسی اثر

   - 1975 میں FTC نے ایم وے پر مقدمہ کیا، لیکن 1979 میں "ایم وے سیف گارڈ رول" سے قانونی بنا دیا – اگر تھوڑی سیلنگ ہو تو ٹھیک۔  
   - ایم وے مالکان نے صدر فورڈ سے ملاقات کی، ریپبلکن پارٹی کو $200 ملین دیے۔ ٹرمپ نے بھی Trump Network چلایا۔  
   - انڈیا میں سپریم کورٹ کیسز، CEO گرفتاریاں۔ ہربالائف نے FTC کو 200 ملین جرمانہ دیا۔  
   - پاکستان میں بھی TIENS، Qnet چل رہی ہیں – FIA نے کچھ کیسز کیے، لیکن سیاسی اثر سے بچ جاتی ہیں۔

5. حقیقی کیسز اور اثرات

   - ٹیکساس میں ایک فیملی نے 6 سال میں $120,000 ضائع کیے، گروسری کم کی۔  
   - ایشیا میں 7.4 کروڑ لوگ شامل، امریکہ سے زیادہ۔  
   - خاندان تباہ، رشتے خراب، مالی بربادی۔  
   - کراچی میں میرا تجربہ: میں نے ایک سکیم میں 20 ہزار لگائے، پروڈکٹس اب گھر میں پڑے ہیں۔ اولاد دیکھے گی تو کیا سوچے گی؟

کمنٹس کا جائزہ: لوگوں کی آراء

ویڈیو پر کمنٹس مثبت ہیں:  
- ایک یوزر نے دبئی میں پیسے ضائع کرنے کی کہانی شیئر کی۔  
- دوسرے نے Power Eagles اور TIENS کا ذکر کیا، جو پاکستان میں چل رہی ہیں۔  
- کچھ نے رمضان کی برکت کا کہا، اور ویڈیو کی تعریف کی کہ یہ آگاہی دیتی ہے۔  
- ایک نے کہا کہ آسان پیسے کا جھانسا مت کھاؤ۔  

یہ کمنٹس دکھاتے ہیں کہ یہ فراڈ عالمی ہے، اور کراچی جیسے شہروں میں بہت پھیلا ہوا ہے۔

میری ذاتی سوچ: یہ فراڈ کیوں چل رہا ہے اور کیا کریں؟

یہ ویڈیو دیکھ کر لگا کہ میرا کراچی کا تجربہ اکیلا نہیں – یہ ایک عالمی جال ہے جو خاندانوں کو تباہ کرتا ہے۔ ہم کراچی والے اکثر خواب دیکھتے ہیں گھر بیٹھے امیر بننے کے، لیکن یہ فراڈ ہے۔ ریڈ فلیگز: سرمایہ لگانا، ریکروٹمنٹ پر فوکس، اوور پرائسڈ پروڈکٹس، ناکامی کو مائنڈ سیٹ کی غلطی کہنا۔  

ذمہ داری ہم سب کی ہے – بزرگوں کی نصیحت سنیں، لیکن تحقیق کریں۔ اگر کوئی "بزنس آپورچونٹی" آئے تو FTC یا ED کی رپورٹس دیکھیں۔ کراچی میں FIA کو رپورٹ کریں۔ یہ نہ صرف پیسے کا نقصان ہے، بلکہ رشتوں کا بھی۔  

اگر آپ نے بھی ایسا فراڈ دیکھا ہے تو کمنٹ کریں۔ ویڈیو دیکھنے کا لنک: https://www.youtube.com/watch?v=bNZyAEDVtxQ  

اللہ حافظ!  
- مرتضیٰ معیز، کراچی سے  
(18 فروری 2026)


مکمل تحریر >>

14/2/26

کراچی والوں نے کیسے برباد کیا!

Karachi is jungle, but a jungle of concrete
کراچی کی تاریخی تاریخ کو ہم کراچی والوں نے کیسے برباد کیا: سبز پٹیوں، رہائشی توازن اور 1958 کے ماسٹر پلان کو روند کر — اور اب زمین خریدتے وقت ROI کا حساب بھی بھول جاتے ہیں!

سلام علیکم دوستو،  
میں مرتضیٰ معیز ہوں (@MoizMurtaza)، کراچی کا ایک ایسا شہری جو اس شہر سے گہری محبت کرتا ہے مگر اس کی تباہی دیکھ کر خون کھول رہا ہے۔ یہ بلاگ میرا شدید غصہ اور مایوسی ہے — کوئی نرم لہجہ نہیں، سیدھا سیدھا الزام ہے ہم سب پر، خاص طور پر ہمارے بزرگوں کی اس سوچ پر جو آج بھی زندہ ہے اور millennials کو اسی راہ پر دھکیل رہی ہے۔  

کل شام Saddar کی گلیوں میں بائیک پر گھوم رہا تھا — Shaheen Complex سے Merewether Clock Tower تک، پھر Mauripur Road کی طرف۔ پرانی عمارتیں، تاریخی دیواریں، وہ جگہیں جو کبھی سبز اور کھلی تھیں — اب سب کنکریٹ کا ڈھیر بن چکی ہیں۔ دل خون کے آنسو رو رہا تھا۔  

میں پوچھتا ہوں:  

کیا ہم نے کراچی کی اس عظیم تاریخی تاریخ کو خود اپنے ہاتھوں سے برباد نہیں کیا؟  

سب سے بڑی جڑ یہ ہے کہ ہم کراچی والے زمین خریدتے وقت ROI (Return on Investment) کا حساب بھی نہیں لگاتے — خاص طور پر (سفر) کی لاگت کو بالکل نظر انداز کر دیتے ہیں۔ ایک پلاٹ خریدتے ہیں، گھر بنا لیتے ہیں، اور پھر روزانہ کے سفر کی لاگت، ٹریفک کا دکھ، ایندھن کا خرچہ، وقت کی بربادی — یہ سب بھول جاتے ہیں۔ نتیجہ؟ ہم خود اور ہماری اولاد کو اذیت میں ڈال دیتے ہیں۔ یہ ذمہ داری صرف SBCA (Sindh Building Control Authority) اور بلڈرز پر نہیں، بلکہ ہم خریداروں پر بھی ہے! یہ لاپرواہی ہی کراچی کی تمام مسائل کی جڑ ہے — سبز پٹیوں کی تباہی، آبادی کا دھماکہ، ٹریفک کا ہنگامہ، اور تاریخی ورثے کا خاتمہ۔

1958 کا ماسٹر پلان — جو کاغذ پر رہ گیا اور ہمارے ROI کے حساب کی کمی نے مزید تباہ کیا

1958 میں Doxiadis Associates نے کراچی کا Master Plan تیار کیا تھا۔ یہ پلان شہر کو منظم بنانے کا خواب تھا:  
- زوننگ (رہائشی، کمرشل، صنعتی، سبز علاقے)  
- وسیع سبز پٹیوں اور پارکس کا نظام  
- موثر پبلک ٹرانسپورٹ (بس، ٹرین، ٹرام)  
- Old City (سدر، لیاری، کھارادر، میٹھادر) کو تاریخی مرکز کے طور پر محفوظ رکھنا  
- آبادی کنٹرول کے لیے سیٹلائٹ ٹاؤنز  

آج دیکھیں تو کیا ہوا؟ پلان کو روند دیا۔ اور اس کی ایک بڑی وجہ ہماری زمین خریدنے کی عادت ہے جہاں ہم ROI کا حساب لگاتے وقت کام्यूٹ کی لاگت بھول جاتے ہیں۔ ایک پلاٹ شہر سے دور خریدا، گھر بنایا — پھر روزانہ 2-3 گھنٹے سفر، ہزاروں روپے ایندھن پر، صحت تباہ، اولاد سکول جانے میں پریشان۔ یہ لاپرواہی SBCA کی منظوریوں کی کرپشن، بلڈرز کی لالچ، اور ہم خریداروں کی بے فکری سے ہوتی ہے۔ نتیجہ؟ شہر پھیلتا گیا، سبز پٹیاں ختم، آبادی بے قابو۔

ہمارے بزرگوں کی نصیحت نے شہر کو تباہ کیا — اور ROI کی لاپرواہی نے مزید زہر گھولا

بزرگوں نے کہا: "بیٹا، زمین میں پیسہ لگاؤ، پلاٹ لے لو، گھر بنا لو۔" ہم millennials نے مان لیا۔  
لیکن کیا سوچا کہ یہ پلاٹ خریدتے وقت ROI کا مکمل حساب لگائیں؟ نہیں! ہم صرف "قیمت بڑھے گی" دیکھتے ہیں، کام्यूٹ کی لاگت بھول جاتے ہیں۔  
- سبز پٹیوں پر قبضہ: Malir، Gadap، Super Highway کی کھلی زمینیں پلاٹوں میں تبدیل  
- نئی اسکیمیں: DHA، Bahria، Scheme 33 — دور دراز علاقوں میں، جہاں کامیوٹ ایک اذیت  

نتیجہ؟  

- روزانہ لاکھوں لوگ اپنی گاڑیوں پر شہر آتے ہیں، ٹریفک جام  
- اولاد کو سکول/کالج کے لیے گھنٹوں سفر، صحت اور تعلیم تباہ  
- SBCA منظوری دیتا ہے بغیر ٹرانسپورٹ پلان، بلڈر پیسہ بناتے ہیں، ہم خریدار بعد میں روتے ہیں  

یہ لاپرواہی کراچی کی تمام مسائل کی جڑ ہے: سبز پٹیاں ختم، آلودگی بڑھ گئی، تاریخی عمارتیں دم گھٹنے سے گر رہی ہیں۔

پبلک ٹرانسپورٹ کا جنازہ نکال دیا — اور کامیوٹ لاگت کی لاپرواہی نے اسے دفن کیا

1958 پلان میں پبلک ٹرانسپورٹ کا زبردست نظام تھا: سرکلر ریلوے، بس روٹس، ٹرام۔  
آج؟  
- سرکلر ریلوے تباہ، بحالی کے وعدے جھوٹے  
- لوکل بسیں گندی، غیر محفوظ، تاخیر سے بھری  
- میٹرو بس محدود روٹس تک  
- Old City میں ٹرانسپورٹ: وہی پرانی بسیں، رکشے، چنگچی — غیر منظم، آلودگی پھیلانے والے  

اگر ہم پبلک ٹرانسپورٹ استعمال کرتے تو گاڑیاں کم ہوتیں، سبز پٹیاں بچتیں۔ لیکن زمین خریدتے وقت کامیوٹ لاگت کا حساب نہیں لگایا، تو اب روزانہ کا دکھ بھگت رہے ہیں۔ SBCA، بلڈرز اور ہم خریدار — سب ذمہ دار!

آبادی کا دھماکہ — ROI کی لاپرواہی کا نتیجہ

1958 میں آبادی 18-20 لاکھ — آج 3 کروڑ۔  
یہ غیر منصوبہ بند مہاجرت، ووٹ بینک کی سیاست، اور زمین مافیا کا نتیجہ ہے۔  
دور دراز پلاٹ خریدے بغیر ROI کا حساب (کامیوٹ لاگت سمیت)، شہر پھیلتا گیا۔ نتیجہ؟ پانی، بجلی، سیوریج ناکافی۔ اولاد کو یہ اذیت وراثت میں مل رہی ہے۔

سیدھا الزام اور حقیقت

- بزرگوں نے زمین کی سرمایہ کاری سکھائی، ہم نے ROI کا مکمل حساب نہیں لگایا  
- SBCA نے غلط منظوریاں دیں، بلڈرز نے لالچ کیا، ہم نے اندھا دھند خریدا  
- نتیجہ: سبز پٹیاں ختم، ٹریفک، آلودگی، تاریخی تباہی  

یہ سب مل کر کراچی کی جڑیں کاٹ رہے ہیں۔

اب کیا کریں؟ (اگر بچانا چاہتے ہیں تو)

1. بزرگوں سے کہیں: اب زمین کی بجائے شہر کی بقا اور ROI کا مکمل حساب سکھائیں (کامیوٹ لاگت سمیت)  
2. زمین خریدنے سے پہلے ROI حساب کریں: سفر کی لاگت، وقت، صحت کا نقصان  
3. SBCA اور بلڈرز پر دباؤ ڈالیں: نئی اسکیموں میں پبلک ٹرانسپورٹ اور سبز پٹیاں لازمی  
4. پبلک ٹرانسپورٹ استعمال کریں، اپنی گاڑی کم نکالیں  
5. آبادی کنٹرول اور ڈی سینٹرلائزیشن کی بات کریں  
6. تاریخی عمارتوں کی بحالی کا مطالبہ کریں  

اگر اب نہ جاگے تو ہماری اولاد ہمیں کوسے گی۔  

ویڈیو دیکھیں: https://youtu.be/h_X41-WYdAk?si=JhjJCN2tbkOL4pSG  

اگر آپ بھی Saddar کی گلیوں میں گھوم کر اداس ہوئے ہیں تو آواز اٹھائیں۔ ہم مل کر کچھ کریں — ورنہ سب ختم ہو جائے گا۔  

اللہ حافظ!  
- مرتضیٰ معیز، کراچی سے  
(14 فروری 2026)


مکمل تحریر >>

13/2/26

کراچی میں یہودی: بائیک پر سوار ہو کر Saddar کی گلیوں میں ایک انجانہ سفر - یہودیوں کی کہانی تک پہنچنے کا راستہ



سلام علیکم دوستو،  
میں **مرتضیٰ معیز** ہوں (@MoizMurtaza)، کراچی کا ایک عام شہری جو اکثر بائیک پر شہر کی گلیوں میں گھومتا رہتا ہوں۔ آج کا یہ بلاگ بالکل میرا ذاتی ہے – کوئی تیاری نہیں، بس دل کی بات۔ کل شام تقریباً 4 بجے کے قریب میں بائیک پر Saddar کی طرف نکلا تھا۔ بس یوں ہی، شہر کو دیکھنے، سمجھنے کے لیے۔  

میں Shaheen Complex سے شروع ہوا – وہ جگہ جہاں I.I. Chundrigar Road شروع ہوتی ہے، ڈاکٹر ضیاء الدین احمد
روڈ اور ایم آر کیانی روڈ کا چوراہا۔ وہاں سے Tower کی طرف نکلا، یعنی Merewether Clock Tower کی طرف۔ راستے میں وہ پرانی عمارتیں، بینکوں کی بلند بلڈنگز، پرانے آفسز، اور وہ ہلچل جو کراچی کی دھڑکن ہے – سب دیکھتا رہا۔  

پھر Tower سے نکل کر Mauripur Road کی طرف مڑ گیا۔ وہاں سے لیاری ایکسپریس وے اور پرانی کچی آبادیاں شروع ہو جاتی ہیں۔ راستے میں پرانی ہیرٹیج بلڈنگز، کچھ خستہ حال، کچھ اب بھی کھڑی، اور وہ احساس جو آج کے کراچی میں بالکل نہیں ملتا – ایک پرانا، متنوع، رنگین شہر جو اب دھندلا سا ہو گیا ہے۔  

میں رکتے رکتے سوچ میں پڑ گیا:  
**یہ پرانا علاقہ آج کے کراچی سے اتنا مختلف کیوں لگتا ہے؟**  
یہ تنگ گلیاں، پرانی دیواریں، Merewether Clock Tower، Khaliqdina Hall، Denso Hall، اور وہ سب جو M.A. Jinnah Road پر ہیں – یہ سب کب کے ہیں؟ کون لوگ یہاں رہتے تھے؟ کیوں اب یہاں کی رونق کم ہو گئی ہے؟ یہ عمارتیں کس نے بنائیں؟ یہاں کی تاریخ کیا ہے؟  

یہ سوالات ذہن میں گھومتے رہے۔ گھر آ کر میں نے فون نکالا اور تھوڑی تحقیق کی۔ پھر Zaviya چینل کی ایک ویڈیو ملی: "Jews in Karachi: Untold Truth About the Hidden Jews of Pakistan"۔ ویڈیو دیکھی تو لگا جیسے میرے سوالات کا جواب مل گیا۔ یہودی کمیونٹی کی کہانی – جو Saddar، رانچو لائن، اور پرانے علاقوں میں رہتی تھی – بالکل اسی راستے سے جڑی ہوئی تھی جو میں کل گھوم رہا تھا۔ اسی طرح ہندو کمیونٹی کی بھی۔  

یہ بلاگ اسی تجسس سے لکھا ہے۔ بائیک پر گھومتے ہوئے جو سوالات ذہن میں آئے، وہی یہاں لکھ رہا ہوں۔ کوئی AI نہیں، بس میری اپنی سوچ اور دل کی بات۔

وہ راستہ جو مجھے سوچنے پر مجبور کر گیا

- Shaheen Complex سے Tower تک (I.I. Chundrigar Road): یہ روڈ کراچی کا فنانشل ہارٹ ہے۔ Shaheen Complex سے شروع ہو کر Merewether Clock Tower تک جاتی ہے۔ راستے میں پرانی بینک بلڈنگز، Habib Bank Plaza، اور وہ پرانی آفسز جو برطانوی دور کی ہیں۔ یہاں یہودی تاجر بھی کاروبار کرتے تھے – قالین، تجارت۔  
- Tower سے Mauripur Road تک: Tower سے نکل کر Mauripur کی طرف، جہاں پرانی کچی آبادیاں، Crown Cinema جیسی جگہیں، اور وہ احساس جو بتاتا ہے کہ یہ علاقہ کبھی کتنا زندہ تھا۔ یہاں سے لیاری کی طرف جاتے ہوئے پرانی ہیرٹیج سائٹس نظر آتی ہیں – جو آج خستہ حال ہیں۔  

یہ راستہ دیکھ کر لگتا ہے کہ کراچی کبھی ایک کاسموپولیٹن شہر تھا، جہاں یہودی، ہندو، پارسی، مسلم سب مل کر رہتے تھے۔ آج وہ تنوع کہاں ہے؟ یہ سوال مجھے چین نہیں لینے دے رہا تھا۔

یہودیوں کی شراکت: جو عمارتیں آج بھی کھڑی ہیں
ویڈیو میں بتایا گیا کہ یہودی کمیونٹی 19ویں صدی میں آئی، تعداد 2000 تک پہنچی۔  
- موسیٰ سوماک نے قائد اعظم ہاؤس، بی وی ایس سکول، خالد دینا ہال جیسی عمارتیں بنائیں – جو M.A. Jinnah Road اور Saddar کے قریب ہیں۔  
- راہیم فیملی قالین کا کاروبار کرتی تھی، یورپ ایکسپورٹ کرتی تھی۔  
- تعلیم میں یہودی ٹیچرز تھے۔  


یہ سب Saddar اور Tower کے آس پاس تھا – وہی جگہ جہاں میں کل گھوم رہا تھا۔ یہ دیکھ کر حیرت ہوئی کہ یہ عمارتیں آج بھی کھڑی ہیں، لیکن ان کے پیچھے کی کہانی تقریباً بھلا دی گئی ہے۔

ہندوؤں کی شراکت: کراچی کا "ماڈرن" باپ
ہندو کمیونٹی پارٹیشن سے پہلے اکثریت تھی۔  
- سیٹھ ہرچندرائی وشنداس کو "ماڈرن کراچی کا باپ" کہتے ہیں – تجارت، بینکنگ۔  
- ہندو جمنازیم (اب NAPA)، ہسپتال، پارکس۔  
- M.A. Jinnah Road پر Swaminarayan Mandir جیسی جگہیں۔  

یہ سب پرانے علاقوں میں تھا – جو آج بھی نظر آتا ہے، لیکن خالی سا۔ یہ دیکھ کر دل اداس ہو جاتا ہے کہ یہ سب کس طرح ختم ہو گیا۔

ہم نے کیسے سب برباد کیا

کل بائیک پر سوچ رہا تھا: یہ شہر ہم نے خود تباہ کیا۔  
- مذہبی انتہا پسندی: 70 کی دہائی سے یہودی اور ہندو چلے گئے۔  
- سیاسی فسادات: 80 کی دہائی سے لڑائیاں، ایم کیو ایم، نسلی تنازعات۔  
- غیر پلانڈ ترقی: آبادی 3 کروڑ، ٹریفک، آلودگی، سیلاب۔  
- کرپشن: پلانز بنے، نافذ نہیں ہوئے۔  

یہ سب دیکھ کر دل اداس ہو جاتا ہے۔ ہم نے اپنے ہاتھوں سے اس شہر کی روح کو کمزور کر دیا۔

ویڈیو کا لنک اور میری اپیل

اگر آپ بھی Saddar، Tower، Mauripur کی طرف جاتے ہیں تو یہ سوچیں۔ اگر کوئی یاد ہے، کوئی پرانی بات یاد آتی ہے، تو ضرور شیئر کریں۔  

ویڈیو دیکھیں: https://youtu.be/h_X41-WYdAk?si=JhjJCN2tbkOL4pSG  

اللہ حافظ!  
- مرتضیٰ معیز، کراچی سے  
(13 فروری 2026، شام)


مکمل تحریر >>

4/2/26

بلاگ: کراچی کی غیر منظم ترقی، ماسٹر پلان کی ناکامیاں اور 2047 کی تجاویز

کراچی، پاکستان کا سب سے بڑا شہر اور معاشی حب، آج ایک بے ربط اور غیر منظم شہر کی شکل اختیار کر چکا ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا ہم نے اس شہر کو کسی منصوبہ بندی کے تحت ترقی دی ہے یا اسے کرائے کی ذہنیت اور ذاتی مفاد کے تحت بگاڑنے دیا ہے؟


شہروں کی ترقی کا بنیادی ڈھانچہ

دنیا کے ترقی یافتہ شہروں میں ایک واضح ماسٹر پلان ہوتا ہے، جس میں زمین کی تقسیم اور استعمال کے تناسب طے کیے جاتے ہیں:

  • رہائشی علاقے (Residential): 40–50٪
  • سبزہ زار اور پارکس (Greenery): 15–20٪
  • ٹرانسپورٹ و انفراسٹرکچر (Transportation): 10–15٪
  • تجارتی علاقے (Commercial): 10–15٪
  • صنعتی علاقے (Industrial): تقریباً 10٪

یہ تناسب اس لیے ضروری ہے کہ شہر متوازن ہو اور عوام کو رہائش، روزگار، تفریح اور نقل و حمل کی سہولت یکساں طور پر میسر آئے۔


کراچی کی حقیقت اور ماسٹر پلان کی ناکامیاں

کراچی میں یہ تناسب بکھر گیا ہے۔ پانچ ماسٹر پلان بنائے گئے لیکن کوئی بھی نافذ نہ ہو سکا۔ آج کراچی میں:

  • گرین ایریاز 15٪ کے بجائے صرف 3٪ رہ گئے ہیں۔
  • صنعتی زونز پر رہائشی اور کمرشل قبضہ ہو چکا ہے۔
  • ٹرانسپورٹ کے لیے زمین مختص نہ ہونے کے باعث روزانہ لاکھوں افراد ٹریفک جام میں پھنسے رہتے ہیں۔
  • شہر کی 62٪ آبادی کچی آبادیوں میں رہتی ہے۔

یہ ناکامیاں اس بات کا ثبوت ہیں کہ ہم نے اجتماعی ذمہ داری کو نظرانداز کیا اور ذاتی مفاد کو ترجیح دی۔


کرائے کی آمدنی اور حضرت عمر فاروقؓ کی مثال

ہمارے 40 سال سے زائد عمر کے طبقے نے "کچھ نہ کرو اور آسان پیسہ کماؤ" کی ذہنیت کو فروغ دیا ہے۔ یہ طبقہ معیشت میں کوئی نئی پیداوار یا جدت نہیں لاتا، بلکہ صرف کرائے کی آمدنی پر جینا چاہتا ہے۔

حضرت عمر فاروقؓ نے فرمایا کہ اگر گھوڑا اللہ کے سامنے فریاد کرے کہ اسے بلاوجہ مشقت میں ڈالا گیا، تو میں اس کے جواب دینے کے قابل نہیں ہوں۔ یہ مثال ہمیں بتاتی ہے کہ ہر عمل کا حساب دینا ہوگا۔ آج ہم زمین کو بے ہنگم تعمیرات اور کرائے کے منصوبوں میں جھونک کر، معیشت کو نقصان پہنچا رہے ہیں۔


تعلیم کا شعبہ اور متبادل راستے

کراچی اور پاکستان کے لیے ایک اور سنگین مسئلہ یہ ہے کہ ہمارا تعلیمی نظام یکسانیت پر زور دیتا ہے۔ ہم چاہتے ہیں کہ ہر بچہ ایک ہی ڈگر پر چلے، لیکن حقیقت یہ ہے کہ:

  • کیا ہماری ہر انگلی ایک ہی لمبائی کی ہے؟
  • اگر قدرت نے ہمیں مختلف بنایا ہے تو ہم دوسروں سے یہ توقع کیوں رکھتے ہیں کہ وہ سب ایک جیسے ہوں؟

یہی تنوع ایک صحت مند معاشرے کی بنیاد ہے۔ اگر ہم سب کو ایک ہی راستے پر چلنے پر مجبور کریں گے، تو ہم نہ صرف ان کی صلاحیتوں کو ضائع کریں گے بلکہ معاشرے کو بھی جمود کا شکار بنا دیں گے۔
اور یہی ذہنیت کراچی کی تباہی اور غیر منظم ترقی کی ذمہ دار ہے، کیونکہ ہر شخص صرف اپنی "حصے کی توثیق" چاہتا ہے، بجائے اس کے کہ وہ ایک چین اسپرکٹ کی طرح برتاؤ کرے، جہاں ہر چین کو آگے بڑھنے کا منصفانہ موقع ملتا ہے، نہ کہ ایک دوسرے کو کھینچ کر پیچھے لے جانے کی کوشش کی جاتی ہے۔


ماسٹر پلان 2047 کی تجاویز

اب کراچی کے لیے گریٹر کراچی ریجنل پلان 2047 (GKRP 2047) تیار کیا جا رہا ہے، جس میں درج ذیل نکات شامل ہیں:

  • شہر کو 25 سالہ وژن کے تحت دوبارہ منظم کرنا۔
  • ماحولیاتی خطرات (ہیٹ ویوز، پانی کی کمی، کلائمیٹ چینج) سے نمٹنے کے لیے اقدامات۔
  • ٹرانسپورٹ اور انفراسٹرکچر کو جدید خطوط پر استوار کرنا۔
  • گرین ایریاز کو بڑھانا اور کچی آبادیوں کو منظم ہاؤسنگ میں تبدیل کرنا۔
  • شہر کی گورننس کو شفاف اور شراکتی بنانا۔ Urban Resource Centre cackarachi.com

یہ تجاویز درست سمت میں ہیں، لیکن اگر ہم نے اجتماعی ذمہ داری اور تعلیم کے تنوع کو نظرانداز کیا تو یہ منصوبہ بھی پچھلے ماسٹر پلانز کی طرح ناکام ہو جائے گا۔


نتیجہ

کراچی کی غیر منظم ترقی صرف ایک شہری مسئلہ نہیں، بلکہ ایک اجتماعی اخلاقی بحران ہے۔ ماسٹر پلان 2047 ہمیں موقع دیتا ہے کہ ہم اپنی غلطیوں کو درست کریں، لیکن اس کے لیے ہمیں کرائے کی ذہنیت، ذاتی مفاد اور یکسانیت پر مبنی تعلیم کو ترک کرنا ہوگا۔

کراچی کو بچانے کے لیے ہمیں اپنی ذہنیت بدلنی ہوگی۔ کرائے کی آسان آمدنی کے بجائے، ہمیں پیداوار، جدت، تعلیم اور اجتماعی ذمہ داری کو اپنانا ہوگا۔ ورنہ یہ شہر ہماری غفلت اور لالچ کی زندہ مثال بن کر رہ جائے گا۔



مکمل تحریر >>

بلاگ میں مزید دیکھیں

You might like

$results={5}

Search me

Translate