The Political Horizon

Translate

مئی 04, 2026

Society Issue in Karachi

یہ بلاگ میرے کرکٹ بلاگ کے اس پوسٹ سے متعلق ہے، وہاں میں نے پاکستانیوں کی mediocracy کرکٹ کے میدان میں سوالات کئے ہیں یہاں میں پاکستانی معاشرے کے متعلق سوالات اٹھا رہا ہوں۔

پہلے میں کرکٹ سے ہی شروعات کروں گا، ہماری یہ ذہنیت رہی ہے کہ ہم پاکستانی ہیں، فاسٹ بولنگ ہم سے ہے، جبکہ کل پی ایس ایل ۱۱ پشاور زلمی کے نام ہوا ہے، مگر ہماری mediocracy دیکھیں کہ پورے ٹورنامنٹ کا فاسٹ بولر ناحد رانا (ناحید رانا نہیں) نے ہمارے so-called فاسٹ بولرز کو کمند دکھائی ہے۔

معاشرتی تصورات

یہ ہماری معاشرتی تصورات ہے، کیونکہ بحیثیت معاشرہ یہ ہماری سوچ ہے کہ پاکستانی پروڈکٹ خراب ہوتی ہے imported امپورٹڈ چیزیں ذیادہ اچھی ہوتی ہیں، اس کے ساتھ ہماری فیملی سسٹم بھی اسی طرح کا ہے، کہ کسی کو کھلا ہاتھ نہیں دینا ہے، میرا اپنا یہ مسئلہ یہ رہا ہے، کیونکہ میں اس نیچر کا بندہ ہوں کہ میں لائن بنا کر رکھتا ہوں، کچھ چیزیں میں accept کرلوں گا، مگر ذیادہ چیزیں جن کا impact آج نہیں دکھائی دیگا، بلکہ ۱۰، ۲۰ سال کے بعد دیکھائی دیگا، اور جیسے یہ baby boomers نے اپنی ذندگی گزاری ہے کہ اپنے خود کے گول سیٹ نہیں کرنا، مگر اپنے بیٹے یا بیٹی کے ذریعہ اپنی ذندگی گزروانا چاہتے ہیں، یہ ہمارے آج کے بڑوں کی ذہنیت ہے، یہ چیز ان کو سمجھنا چاہئے جو کہ ہم نے نیپال، سری لنکا اور بانگلادیش میں دیکھ چکے ہیں کہ اب ذہنیت کی جنگ ہے، baby boomers اپنی ذہنیت GEN-Z کے اوپر تھوپنے پر لگے ہوئے ہیں، میرے خود کے ساتھ یہی ہورہا ہے، کہ میرے ساتھ گھر میں حجتی رویہ رکھا جارہا ہے، یعنی جیسے انگریزی میں ایک ٹرم استعمال کی جاتی ہے کہ dual faced dagger یعنی مان لوں تو بعد میں میرا بھی یہی حال ہوگا کہ میں اپنی ذندگی اپنے بیٹے کے ذریعے گزاروں گا، نہیں مانوں گا، تو ایسے میں میرے ساتھ یہی ہورہا ہے کہ جھے دیکھایا جارہا ہے کہ میں بدتمیز ہوں، مگر یہاں یہ بے بی بومرز میں ایک احساس کمتری ہے کہ نیچے والی جنریشن کواپنے "قابو" میں رکھنا، اور جیسے میں نے کہا کہ یہ چیز جب میں پزلز کے سارے pieces کو جمع کررہا ہوں، تو یہ impact آتا ہے۔

Carry Forward ذہنیت کے بجائے قابو کرنے کی ذہنیت کرنا

سوسائٹی اسی طرح بنتی ہے جیسے نوکیا کا مشہور سلوگن رہا ہے کہ Connecting People، یہ ذہنیت ہمیں اپنانی ہوگی، بالکل ویسے ہی ہے جیسے آپکی ایک انگلی کی امپریشن ساتھ والی انگلی سے کبھی ملاپ نہیں ہوگا، یہ میں نے کچھ دن پہلے نادرہ کے دفتر میں دیکھا تھا، کیونکہ میرے والد صاحب کے انگلی کے نشانات نہیں آرہے تھے، تو ایسے میں فیملی میمبر ہونے کے ناطے میں نے ان کی جگہ انگلی کے نشانات دئے تھے، اور اس پر بھی میرے انگوٹھے کے بجائے شہادت کی انگلی اور انگوٹھی والی انگلی کے امپریشن آئے تھے، کیونکہ میں بائیک چلاتے ہوئے آیا تھا، تو انگوٹھا rugged ہورہا تھا، تو ایسے میں جو لوگ نادرہ میں انگوٹھے لگائے ہیں، ان کو اندازہ ہوگا کہ کسی کے لئے جب آپ انگوٹھا لگاتے ہیں تو سسٹم پر آنے والے پرومپٹ کے حساب سے آپ کو انگوٹھا لگانا ہوتا ہے، ایسے میں آٹومیٹک پرومپٹ انگوٹھے کا آیا، مگر جیسے میں نے پتایا، بائیک کے accelerator پر ہونے کی وجہ سے نشان نہیں آیا، پھر سیکنڈ attempt شہادت کی انگلی کی آئی، وہ آگئی، اس کئ بعد دوسری attempt میری بیچ والی انگلی یعنی ring finger کی آئی، اس وقت میں نے امپریشن کے متعلق اُس آپریٹر سے پوچھا کہ کیا ہماری انگلیاں ہر انگلی ایک دوسرے سے فرق ہوتا ہے؟ جس پر اس نے ہاں میں جواب دیا، جس سے مجھے یہ اندازہ ہوا کہ جب ایک جسم میں موجود پانچوں انگلیاں ایک دوسرے سے فرق رکھتی ہیں، تو ایسے میں ہم کیسے یہ امید لگا کر رکھیں ہیں کہ بجائے والد carry forward ذہنیت کے مطابق بیٹے میں جو فرق ہے، اس کو accept کریں، اس کو اپنے نقش قدم پر چلانے میں اتنے اتاولے ہوجاتے ہیں کہ اولاد کی اپنی unique touch and feel کو ختم کرنے پر تلے ہوئے ہوتے ہیں، ایسے میں نیپال، سری لنکا اور بانگلادیش میں جو ہوا، وہ یہی ذہنیت کا تصادم تھا۔

اور ہمارہ معاشرہ اسی تصادم کی جانب جارہا ہے

مجھے یہ بات بے بی بومرز کی سمجھ نہیں آتی، ہم جونئرز کے سامنے کیسی مثالیں کھڑی کرہیں ہیں، ذیادہ تر بڑے بزرگ ہمیں یہ سمجھاتے ہیں کہ hit-and-run یہ نہیں دیکھ رہیں ہیں کہ اسکا معاشرتی تصادم کیسا ہوگا؟ کیونکہ ہمارہ معاشرہ ایسا شعبدے بازی سے بھر پور بن چکا ہے، کہ الامان الحفیظ، میں شعبدے بازی کو اس لئے نہیں اٹھا رہا ہوں کیونکہ in the long run میں یہ لوڈ اُٹھانے کا قابل نہیں ہوں، تو ایسے میں اپنی لائن کلئیر رکھ رہا ہوں، مگر یہاں میرے خود کے گھر والے مجھے اس جانب ڈلنے پر تلے ہوئے ہیں، 

میں اپنی تعریف نہیں کرنی مگر بات یہی ہے کہ میں calculated چلنے والا بندہ ہوں، اور یہاں عقیدت مندی اور تعبیداری کے نام پر مجھے بلیک میل کیا جارہا ہے، تاکہ کسی بھی حال میں، میں ان کے "نقش قدم" اور فرمانبرداری پر چلوں، یعنی فرمانبرداری کے نام پر مجھے exploit کیا جارہا ہے، جس میں میرے خود کئ والدین شامل ہیں، کیونکہ ان کے اس ایکشن کی وجہ سے میری بیوی مجھے for-granted لینا شروع کردیا ہے، تو خود بتائیں، آگے میرے لئے میرے خود کے والدین میرے لئے کیا بُن رہیں ہیں؟ 

The Political Horizon: While doing inDriving, noted one aspect 📌



مکمل تحریر >>

مئی 03, 2026

While doing inDriving, noted one aspect

یہاں میں نے inDrive کرتے ہوئے ایک چیز نوٹ کی کہ ہمارے کراچی میں درخت خاص طور پر کراچی کے اپنے نیم اور برگد کے درخت جو میں نے اپنے والد صاحب سے بھی سنا تھا، کہ انچولی وغیرہ یہ علاقوں میں بادام کے درخت ہوتے تھے، مگر اب یہ سب کچھ کا نام و نشان نہیں، شاید اولڈ سٹی ایریا میں نشانیاں دیکھیں ہیں، 

مگر اب

ایک جانب ہم گلوبل وارمنگ کا راگ الاپ رہیں ہیں مگر دوسری جانب لکڑی کے بیو پاری دندناتے ہوئے کراچی میں درختوں کو ختم کررہے ہیں، مگر ہم کچھ بولتے نہیں، نا ہی ہم میں اخلاقی جرات ہے کہ اس بات پر آواز اونچی کریں، مگر معاشرتی طور پر ہم اتنے گر چکے ہیں کہ کچھ بولنے کی پوزیشن میں ہی نہیں ہیں۔

پارکنگ

کراچی کو اتنا بڑھا دیا ہے کہ یہ احساس نہیں ہے، کوئی فیملی کے ساتھ گھر پر آئے گا، تو اپنے ساتھ ایک عدد بائیک تو کم سے کم لائے گا، تو ایسے میں ہاوسنگ پروجیکٹس لاوؐنچ کررہیں ہیں، مگر basic ضروریات فراہم نہیں کی جاتی ہیں۔

کراچی میں سیاست یا پھر سیاسی کراچی

اس وقت صورتحال اس طرح کی ہے کہ کراچی میں سیاسی اکھاڑا کیا جارہا ہے، مطلب کراچی ہر ایک کی ضرورت نہیں، کچھ چیزیں ایسی ہوتی ہیں جو کراچی کے بھجوانے کے بجائے ان کے اپنے علاقے میں فراہم کی جاسکتی ہیں کیونکہ یہاں سیاسی جماعتیں اپنے ووٹ بینک کو کراچی میں سیٹل کررہیں ہیں تاکہ statistics میں بتا سکیں کہ کراچی سے یہ ووٹ ہمیں ملا، مگر جس حالات میں لارہیں ہیں، ہمارے لئے بھی مسائل ہورہیں ہیں اور کراچی بحیثیت شہر ایک اونر شپ کے بغیر ہے، ایسے میں مجھے خود یہی لگ رہا ہے کہ سری لنکا میں جو کچھ ہوا ہے، وہی کچھ یہاں ہونے لگا ہے کیونکہ میں نے جو نوٹ کیا ہے، اس کے حساب سے کراچی والے تپ رہیں ہیں، کیونکہ برداشت کی ایک حد ہوتی ہے اور لوگوں میں برداشت ختم ہونا شروع ہوگیا ہے، اس پر یہ کہ کراچی کا اپنا ماحول اس influx کی وجہ سے خراب ہورہا ہے، 

جس طرح سے برہم سے وہ کراچی میں رہ رہیں ہیں، بالکل ایسے جیسے ہم ان سے دب کر رہیں، سیاسی جماعتوں کو بھی باور کرایا جائے کہ یہ لوگ کنٹرول نہیں بلکہ verify کرنے کے لئے کہ چیزیں صحیح سے چل رہی ہیں، دنیا بھر میں ایسا ہی ہوتا ہے، پولیس وغیرہ سب independently کام کرتے، یہاں سیاسی بھرتیاں ہوتی ہیں  کیونکہ سنگا پور بھی اسی طرح سے ترقی پر آیا ہے، تو ایسے میں طاقت کے نشے کے بجائے authorization موڈ پر آئیں 



مکمل تحریر >>

اپریل 28, 2026

inDriving and my Experiences through different parts of so-called North Korea looked Sindh in Karachi

یہ بلاگ لکھنے کا ارادہ بالکل نہیں تھا مگر میرے ساتھ ہوا یہ کہ میں پلان کررہا تھا کہ آج کے دن کہاں کہاں کی رائیڈز لوں، کونسے علاقوں میں، تو ایسے میں رستوں کو دیکھ رہا تھا ایسے میں گوگل ارتھ Google Earth پر historic imagery کے آپشن پر گیا، chronological order میں دیکھا 

کراچی ۲۰۲۰ کے ادوار میں
کراچی اتنا اجڑا ہوا لگ رہا ہے، کراچی کی زبان میں بات کروں تو کراچی کی بجا دی ہے، صرف اپنی سوچ کی وجہ سے کیونکہ ہمارے بڑوں نے ہمارے ذہنوں میں یہ باتیں ڈالی ہوئی ہیں کہ اپنی اسکلز کو پالش کرنے کے بجائے پراپرٹی میں انویسٹ کرو، شارٹ کٹ کی جانب راغب کروایا ہے۔

کراچی ۲۰۱۹ کے ادوار میں
ذیادہ فرق نہیں لگا مگر تھوڑا کھلا کھلا لگ رہا، بیشک ان لوگوں کا یہی کہنا ہے کہ SBCA کی این او سی موجود ہے، مگر lets be realistic، کیا اس طرح کراچی کی بجانے کو انویسٹمنٹ بولیں گے؟

On Ground میں نے خود دیکھا ہے کہ کراچی میں اوپن اسپیس نا ہونے کے برابر ہے، اوپن اسپیس سے مراد جہاں ریلیکس کرسکیں، جبکہ یہاں رلیکیس کرنے کے لئے ironically چائے خانے ہیں، میں کسی کاروبار کو برا نہیں بول رہا ہوں بلکہ ہمارے غیر انسانی رہن سہن کو criticize کررہا ہوں کیونکہ خود بتائیں ایسے غیر انسانی رہن سہن میں کیسے انسان بنائیں گے؟

کراچی ۲۰۱۸ کے ادوار میں
اب خود دیکھیں، اسلام میں بھی یہی کہا ہے کہ آنے والا زمانہ پچھلے زمانے سے گیا گزرہ ہوگا، خود بتادیں اوپر سے کراچی دیکھنے میں کیسا pathetic لگ رہا ہے؟ میری زبان میں کہوں تو ماچس کی ذبیا میں پوری دنیا کو سمو دیا ہے، میں مانتا ہوں، میری زبان ایسی ہی ہے، کیونکہ اسی طرح ہم کراچی والے باتیں کرتے ہیں، مگر خود بتائیں، اپنے دل پر ہاتھ رکھ کر بتائیں، اگر آپ کسی بچے کے والدین ہیں یا پھر بننے والے ہیں یا خواہش ہے، تو کیا انویسٹمنٹ کے نام پر ایسا مستقبل اپنے بچوں کے نام پر چھوڑ کر جائیں گے؟ یہ کیسی سوچ پروان چڑھا رہے ہیں؟

کراچی ۲۰۱۵ کے زمانے میں
inDrive میں ایک چیز میں نے دیکھی، کہ nature wise ہم لوگ بہت اچھے ہیں مگر civic sense میں مار کھاتے ہیں، 

جلد بازی، اللہ راضی

یہ ایک چیز ایسی ہے، چاہے میں کراچی میں کلفٹن کے علاقے میں رہوں یا پھر اسکیم ۳۳ میں، ہر ایک کو ایسی جلدی کہ الامان الحفیظ، مجھے ہنسی آئی ایک رائیڈ میں نے ڈی ایچ اے بلاک ۶ سے لی، ۲۳ منٹ میں گلزار ہجری پی سی ایس آئی آر سوسائیٹی پہنچایا تو اترتے ہوئے بولا کہ بائیک تھوڑی تیز چلا لیا کرو، جبکہ اس کے بات میں نے گھر آکر لیپ ٹاپ پر ان ڈرائیو کا ڈیٹا ایکسسل شیٹ پر ڈالا تو ۲۳ منٹ کے حساب سے ایوریج ۴۹ کلومیٹر فی گھنٹہ اسپیڈ تھی، اب اگر اس کو بھی ہلکا بولیں گے خاص طور پر یہ کہ میرے روٹ پر مشہور زمانہ کراچی کا یونیورسٹی روڈ بھی شامل تھا، جہاں پھنسنا ویسا ہی ہے، جیسے مچھلی کھانے میں چانس ہوتے ہیں کہ کانٹا آجائے۔

Co-curriculum activities کے بجائے ہر جگہ residential buildings

کراچی کے ماحول کو بہتر بنانے کے لئے ہر کھلی اسپیس کو SBCA NOC کے نام پر پارکس، اوپن اسپیسز کے نام پر residential building اور شادی خانے یعنی  banquets بنا رہیں ہیں، یہ کھل کر ایک چیز عیاں کررہیں ہیں کہ بحیثیت قوم ہمارے پاس آگے کے لئے کوئی پلان نہیں، اس کی وجہ سے ایک چیز جو میں نے نوٹ کی کہ کراچی چھوڑ کر لوگ اسکیم ۳۳ کی جانب جارہیں ہیں، جن کی اوقات ہے، وہی لوگ gated communities کی جانب جارہیں ہیں، کیونکہ ایک تو اِن سوسائیٹی میں سکون ہے، اپنے کام سے کام رکھا جارہا ہے، نا کہ اندرون کراچی جہاں کراچی کے مختلف علاقوں سے لوگوں کو لا لا کر بسایا جارہا ہے۔

کراچی کو اونر شپ چاہئے، سیاسی اکھاڑہ نہیں

کراچی ایک اونر شپ مانگ رہا ہے، معذرت کے ساتھ، یہاں اس بیشرمی کے ساتھ سیاست کی جارہی ہے، کہ اس وقت میرے علاقے میں ۵۰ سال کے بعد پہلا پارک بن رہا ہے، میں خود mid-30s میں ہوں، تو اپنی زندگی میں پہلی بار دیکھ رہا ہوں کہ میرے علاقے میں پارک بن رہا ہے، باقی SBCA NOC کی آڑ میں پارکس اور برساتی نالوں کی زمین کو ریزیڈنشل پلاٹس بنا دئے، صرف اس لئے کہ ہم سوال نہیں کرتے، اور جو سوال کرتا ہے، اس کو اتنا گندا کرو کہ وہ خود تم سا بن جائے، خود بتائیں کہ میرے علاقے میں ۵۰ سال کے بعد بارک بن رہا ہے، جبکہ ۳ ایسی زمینیں ہیں جو پارک کی تھیں مگر این او سی کے نام پر ان کو ریزیڈنشل بلڈنگ میں تبدیل کر کے کونسا نیک کام کیا ہے؟

علاقے میں پارک بنا رہیں ہیں، مگر اس کی کنسٹرکشن کے سامنے سیاسی جماعت کے جھنڈے کا مقصد؟

کیا یہ کام کے لئے سیاسی وابستگی دکھانا ضروری ہے؟ کیا ہم اتنے Narcissistic ہوچکے ہیں، کہ حیدری ماڈل کالونی کے entrance پر بھی ایک سیاسی جماعت جو اس پورے علاقے پر rule کرتی ہے، بتارہی ہے کہ ہم نے "cosmetic" کام کرایا، میں cosmetic اسی لئے کہہ رہا ہوںِ، معذرت کراچی کی زبان دوبارہ بولوں گا، مگر لیپا پوتی کر کے اور stoned pavement اور نئی LED lighting کر کے آپ کہہ رہیں ہیں کہ علاقے کو upgrade کردیا؟ کیا اس upgrade کے بعد لوگوں کا standard of living کا standard اوپر گیا؟

لیپا پوتی کے علاوہ پارکس اور پارکنگ ایریا پر کام کیا؟


یہ چیزیں ہوتی ہیں، جوmatter کرتی ہیں، کیونکہ کوئی اگر آپ کی residential building میں اپنی جمع پونجی لے کر آرہا ہے تو یہ یقینی ہے کہ وہ اپنی گاڑی لے کر آئے گا، جب گاڑی لے کر آئے گا تو ایسے میں اس کو پارکنگ چاہئے ہوگی، اس کے علاوہ پارکس وغیرہ ایسی جگہ جہاں فارغ ٹائم پر ریلیکس کرسکیں، کراچی کو سیاسی اکھاڑہ بنانے کے بجائے اور ساتھ میں real estate mess بنانے کے بجائے پلان کریں کہ civilians کہاں خوش ہوں گے؟ ان کی کیا ضرورت ہے، بجائے اسکے کہ انویسٹمنٹ کے نام پر کراچی کو بدصورت بنا کر "کراچی ہمارا ہے" کی مہم کرنے پر لگے ہوئے ہیں، کراچی ہمارا ہے کے علاوہ بھی چیزیں ہوتی ہیں، کراچی ہمارا ہے، اور کراچی کی اونرشپ دوالگ چیزیں ہیں۔

کیا یہ سیاسی جماعتیں کراچی کی بہتری کے لئے کام کررہی ہیں؟ اور ہماری کیا ذمہ داری ہے؟

قائد اعظم کے ۱۴ نکات میں مشہور زمانہ ۹ پوائنٹ؛

۹۔ Sindh should be separated from Bombay Presidency

میرا یہی ماننا ہے، خاص طور پر کراچی کی حالت زار دیکھ کر کہ کراچی میں پہلے major influx کو روکا جائے، اس کے لئے سیاسی وابستگی کو روکا جائے، کیونکہ اس سیاسی وابستگی کا نا ہی کراچی کو نا ہی کراچی میں رہنے والوں کے زندگی میں کوئی positive تبدیلی نہیں آرہی ہے، تو ایسے میں کراچی اس وقت bleed کررہا ہے کہ سیاسی جماعتوں کو اور خاص طور پر یہ ذہنیت کو پہلے روکا جائے۔

اوپر میں نے لکھا کہ inDrive پر میں نے پایا؟

نیچر وائز میں نے کافی ایسے لوگوں سے ملاقات ہوئی، خاص طور پر ایک رائیڈ جس کو میں مینشن کروں گا، جنہوں نے الٹا میری مدد کی، ان کو میں نے قائد آباد کی طرف سے وہ روڈ جو ماڈل کالونی کی جانب سڑک سے میں نے ان کو پک کیا، اور ان کو گلزار ہجری کے علاقے سچل گوٹھ کی جانب جانا تھا،ایسے میں رستے میں مجھے اندازہ ہوا کہ پیٹرول کم ہورہا ہے، وہ بھی میرے خیال میں بائیک رائڈر تھے، سمجھ گئے، اور خود بولے کہ بیٹا، پریشان نہیں ہو زیادہ ریس نہیں دو، اور یہاں سے نکلو، یہ روڈ معین آباد کی جانب نکلے گا، وہاں ٹوٹل کا پمپ ہے، حالانکہ میں اردو اسپیکر اور وہ سندھی، مگر بات انسانیت کی تھی، اور یہی بات میں بتانا چاہتا ہوں کہ انہوں نے دیکھ لیا تھا کہ میں گھبرا رہا تھا، کیونکہ رات کے ۱۰:۳۰ ہوچکے تھے اور کراچی میں لاک ڈاؤن لگ چکا تھا، ایسے میں رستے میں مجھے ہمت دیتے رہے، اور یہ کہ جب سچل گوٹھ چھوڑ دیا تو انسانیت کے ناطے پوچھا بھی کہ یہ پیٹرول میں معمار پہنچ جاؤ گے؟ یہ چھوٹی چھوٹی چیزیں ہوتیں ہیں جو ایسی صورتحال میں matter کرتی ہیں، مگر یہ باتیں کرنے کا مقصد یہی ہے کہ سیاسی وابستگی سے بالاتر ہوکر یہ بھی دیکھیں کہ جہاں ہم رہ رہیں ہیں، وہ جگہ کیسی بنا رہیں ہیں؟ غیر ضروری influx صرف اسی لئے کہ آپ کی سیاسی شناخت اس شہر میں رہے، آپ اپنے خود کے ہم زبان لوگوں کے ساتھ ظلم کررہے ہیں، لوگوں میں مسئلہ نہیں، مگر میرا یہی ماننا ہے کہ اگر یہ ضروری بھی ہے تو کوئی mechanism ہونا چاہئے جہاں یہ influx کو legitimate رکھا جائے۔ کراچی کے علاوہ بھی سندھ ہے، سندھ کو بھی ویسے ہی develop کریں کیونکہ کراچی ہر ایک کی ضرورت نہیں، کچھ چیزیں ان کی گھروں کی طرف ہی حل ہوسکتی ہیں، اییسے لوگوں کی ضرورت نہیں۔

دائرے موجود ہیں، نیچے کراچی ہے اوپر لاہور ہے، کراچی کے قریب
دوسری لائٹ حیدر آباد کی ہے، اس کے بعد بالکل سناٹا،
پنجاب میں پھر لائٹ دیکھائی دینا شروع ہورہے ہیں

اس نارتھ کوریا کی تصویر کو دیکھ کر اوپر سندھ کی تصویر دیکھیں
کیا سندھ بھی اس نارتھ کوریا کی طرح نہیں دیکھائی دیتی؟ 

نارتھ کوریا اور سندھ!

سندھ کو بھی ہم نے سیاست کی وجہ سے نارتھ کوریا بنا دیا ہے، اور بالکل وہی سوچ جہاں ہماری ذہنیت کے مطابق ہر مسئلہ کا حل شادی اور ہر سکون کے لئے شاپنگ حل ہے، ویسے ہی بجائے اس کے کہ سندھ میں رہنے والوں کو ان کے اپنے علاقوں میں سہولیات فراہم کرنے کے بجائے کراچی میں diffuse کیا جارہا ہے، مگر جب وہ اکیلے کراچی میں رہ رہے ہوتے ہیں کہ ان کا دل ان کے اپنے علاقے میں ہوتا ہے، تو کیا وہ کراچی کو own کریں گے؟ دوسرے کی کیا بات کروں، اگر اس کی جگہ اپنے آپ کو رکھ کر سوچوں تو میں خود اس شہر کو own نہیں کروں گا، کیونکہ شہر وہ ہوتا ہے جہاں سے آپ کی origin ہوتے، ایسے میں سیاست کے بجائے distribution and allocation of resources پر کام کیا جائے، ورنہ آپ کراچی کو بھی سندھ کی طرح نارتھ کوریا بنادو گے! 



مکمل تحریر >>

اپریل 15, 2026

Family Dynamics in Pakistani Homes: Boundaries & Emotional Cost

فیملی ڈائینامکس: پرائیویسی، عزتِ نفس اور شادی شدہ زندگی کا دباؤ

پاکستانی گھروں میں فیملی ڈائینامکس اکثر محبت، ذمہ داری اور مداخلت کے درمیان الجھ جاتے ہیں۔ شادی شدہ زندگی، پرائیویسی، self-respect اور emotional boundaries جیسے مسائل ہمارے معاشرے میں اکثر نظر انداز کر دیے جاتے ہیں۔ یہ تحریر ایک پوڈکاسٹ کے تناظر میں میرے ذاتی تجربے، مشاہدے اور اندرونی کشمکش کا عکس ہے۔

پوڈکاسٹ فیملی ڈائینامکس کے متعلق ہے، اس متعلقہ پوڈکاسٹ میں ایک لڑکا، جو کہ میری طرح کی صورتحال سے گزر رہا ہے، جہاں لڑکا اپنی بیوی اور ۶ مہینے کے بچے کے ساتھ اپنے والدین، بھائی اور بھابھی کے ساتھ رہتا ہے۔

میاں بیوی اور وقت کی کمی

اس واقعہ میں میاں اور بیوی دونوں کام بھی کرتے ہیں، ساتھ میں بیوی بچہ بھی سنبھالتی ہے۔ دونوں میاں بیوی نوکری پیشہ ہیں اور ایک ہی علاقے میں مختلف اوقات میں جاتے ہیں۔ لڑکا زیادہ تر شام کی نوکری کرتا ہے، جبکہ بیوی صبح کے اوقات میں جاتی ہے۔ روزانہ تقریباً دو گھنٹے سفر میں لگ جاتے ہیں۔ ایسے میں میاں بیوی کے پاس ایک دوسرے کے لیے معیاری وقت نہ ہونے کے برابر رہ جاتا ہے۔

شادی میں الگ پرائیویسی کیوں ضروری ہے؟

میں دوبارہ پورا پوڈکاسٹ نقل کر کے بلاگ لمبا نہیں کرنا چاہتا، مگر میں اس سے اس لیے relate کرتا ہوں کیونکہ میری اپنی فیملی میں بھی میری individuality کو توڑنے کی مسلسل کوشش ہوئی۔ حالانکہ میں نے زندگی بھر ان لوگوں کو satisfy کرنے کی کوشش کی، مگر آخر میں یہ سننا کہ "تم نے زندگی میں کیا کیا؟" کسی انسان کے جذبات کی توہین ہے۔

یہی چیز اس لڑکے کے ساتھ بھی ہو رہی تھی۔ والدین کو یہ سمجھنا چاہیے کہ شادی کے بعد ان کا بیٹا ایک الگ entity ہے۔ اس کی پہلی ذمہ داری اب اس کی بیوی اور بچہ ہیں۔ والدین کا کردار رہنمائی دینا ہے، اپنی مرضی مسلط کرنا نہیں۔

اگر میاں بیوی ہفتے اور اتوار کو تھوڑا وقت اکٹھا گزارنا چاہیں، دروازہ بند کر کے movie دیکھ لیں یا سکون سے بیٹھ جائیں، تو اسے غلط زاویے سے نہیں دیکھنا چاہیے۔ ہر جوڑے کو dignity اور emotional space کی ضرورت ہوتی ہے۔

گھریلو موازنہ اور unnecessary expectations

اس لڑکے کی بھابھی نے بھی اس کی بیوی کو گھر کے کام کے پیمانے پر جانچا۔ یہی مسئلہ ہمارے معاشرے میں عام ہے: ہم ہر انسان کو ایک ہی سانچے میں ڈھالنا چاہتے ہیں، حالانکہ جیسے ہاتھ کی انگلیاں ایک جیسی نہیں ہوتیں، ویسے ہی ہر انسان کی capacity، مزاج اور حالات مختلف ہوتے ہیں۔

میری اپنی زندگی اور self-respect کا بحران

میرے ساتھ بھی یہی ہو رہا ہے۔ میں اپنے والدین کو چھوڑنا نہیں چاہتا، کیونکہ جیسے بھی ہیں، وہ میرے لیے اہم ہیں، اور میں ان کی support بننا چاہتا ہوں۔ مگر بار بار میری self-respect کو humiliate کرنا، میری integrity کو روز توڑنا، اور میری individuality کو ignore کرنا ایک ایسا زخم ہے جو وقت کے ساتھ گہرا ہوتا جاتا ہے۔

میرا ہمیشہ یہی ماننا رہا ہے کہ truth کی تین شکلیں ہوتی ہیں: ایک میرا سچ، ایک دوسرے کا سچ، اور ایک اصل سچ۔ اسی لیے یہ تحریر کسی کو guilty ٹھہرانے کے لیے نہیں، بلکہ ایک starting point initiate کرنے کے لیے ہے۔

گھر میں privacy اور emotional surveillance

اگر میں privacy کی بات کرتا ہوں، تو مسئلہ صرف دروازہ knock کرنے کا نہیں۔ مسئلہ وہ invisible surveillance ہے، جہاں آپ کو مسلسل محسوس ہو کہ آپ observe ہو رہے ہیں۔ ایک introvert انسان کے لیے یہ چیز اندر سے توڑ دینے والی ہوتی ہے۔

جب میں کہتا ہوں کہ مجھے یہ سب پسند نہیں، تو جواب ملتا ہے کہ میں overthink کر رہا ہوں۔ مگر جب گھر والے ہی آپ کو مسلسل invalidate کریں، تو بیوی کے سامنے، اپنے بچے کے سامنے، اور اپنے ہی دل میں آپ کی عزت کیسے سلامت رہے؟

nuclear family کا سوال اور ذہنی تھکن

زندگی اتنی کڑوی ہو چکی ہے کہ اب میں nuclear family کے بارے میں سوچتا ہوں۔ میں جانتا ہوں کہ اس کی قیمت ہوگی، سختیاں آئیں گی، مگر ہر سکون کی ایک قیمت ہوتی ہے۔ اصل سوال یہ ہے کہ کیا ایک انسان اپنی mental peace بچانے کے لیے اتنا قدم بھی نہ اٹھائے؟

میرا غصہ میرا اصل مزاج نہیں، بلکہ برسوں کی تلخی کا نتیجہ ہے۔ مسئلہ یہ نہیں کہ میں react کرتا ہوں، مسئلہ یہ ہے کہ میرے react کرنے سے پہلے کیا کچھ میرے اندر بھرا جا چکا ہوتا ہے۔

ہمارے بڑوں کا مداخلتی رویہ

فیملی ڈائینامکس اور گھریلو boundaries کا دائرہ کارہمارے گھروں میں اکثر دلچسپی اس بات میں زیادہ ہوتی ہے کہ دوسرا بندہ کیا کر رہا ہے، بجائے اس کے کہ ہر شخص کی individuality کو سمجھا جائے۔ خاندان ایک دوسرے کے دائرے میں مداخلت کرنے کے بجائے ایک healthy middle circle create کرے، جہاں support ہو مگر suffocation نہ ہو۔


یہ دونوں دائرے اسی بات کی نمائندگی کرتے ہیں کہ ہر انسان کی ایک ذاتی space ہوتی ہے۔ بڑوں کی ذمہ داری یہ ہے کہ وہ boundaries کو سمجھیں اور مثال قائم کریں، نہ کہ مداخلت کو حق سمجھیں۔

Reference Video

Judging Relatives | Ask Ganjiswag #224


فیملی pressure صرف شادی تک محدود نہیں۔ یہ ہمارے broader social mindset کی عکاسی کرتا ہے، جہاں emotional boundaries کو اکثر نظر انداز کر دیا جاتا ہے۔ اسی موضوع پر میرا ایک اور مضمون یہاں پڑھیں: معاشرتی رویوں پر میرا تجزیہ۔

اکثر پوچھے جانے والے سوالات

کیا شادی کے بعد الگ پرائیویسی مانگنا غلط ہے؟

نہیں، healthy boundaries رشتوں کو بہتر بناتی ہیں اور میاں بیوی کو emotional space دیتی ہیں۔

کیا joint family میں emotional pressure عام ہے؟

ہاں، خاص طور پر جب حدود واضح نہ ہوں اور ہر چیز کو control کرنے کی کوشش ہو۔

کیا nuclear family بننا selfishness ہے؟

نہیں، بعض اوقات ذہنی سکون، عزت نفس اور رشتے بچانے کے لیے healthy distance ضروری ہوتا ہے۔

فیملی محبت کا نام ہے، مگر محبت کا مطلب control نہیں۔ ہر انسان، چاہے وہ بیٹا ہو، شوہر ہو یا باپ، اپنی individuality اور dignity کا حق رکھتا ہے۔ حدود قائم کرنا بغاوت نہیں، بلکہ ذہنی بقا کی ایک شکل ہے۔

مکمل تحریر >>

اپریل 14, 2026

کراچی کی تباہی: SBCA NOC، ریئل اسٹیٹ مافیا اور شہری نظام کی بربادی

کراچی کی تباہی: پلاٹ، این او سی اور شہری بدنظمی کا اصل چہرہ

کراچی میں زمین خریدنے سے پہلے ایک بنیادی بات ذہن میں رکھیں: آپ صرف پلاٹ نہیں خرید رہے، آپ ایک شہر کے مستقبل پر اثر ڈال رہے ہیں۔ اور یہی وہ بات ہے جسے ہم نے برسوں سے نظر انداز کیا، اور آج کراچی اس کی قیمت دے رہا ہے۔

یہ شہر صرف عمارتوں، سوسائٹیوں اور پلازوں کا مجموعہ نہیں۔ شہر ایک زندہ نظام ہوتا ہے، جس میں رہائش، تجارت، صنعت، پارکس، نکاسی آب، یوٹیلیٹی اسپیس، پارکنگ، ٹرانسپورٹ، اور عوامی سہولت — سب کا اپنا جائز حق ہوتا ہے۔


SBCA کلیئرنس لازمی، مگر صرف کاغذ کافی نہیں

اگر آپ کراچی میں پلاٹ خریدنے جا رہے ہیں، تو SBCA کلیئرنس، لیز، الاٹمنٹ، ماسٹر پلان، اور قانونی حیثیت کی مکمل جانچ لازمی کریں۔ لیکن صرف NOC دیکھ کر مطمئن ہو جانا بھی سادگی ہے۔

کراچی میں مسئلہ صرف غیر قانونی تعمیرات نہیں، بلکہ وہ قانونی تعمیرات بھی ہیں جنہیں کاغذ پر منظوری ملی، مگر زمینی حقیقت میں انہوں نے شہر کا گلا گھونٹ دیا۔

نیشنل اسٹیڈیم: جہاں پارکنگ کی جگہ کالونی بن گئی

نیشنل بینک اسٹیڈیم کراچی کا بڑا اسپورٹس سینٹر ہے۔ فطری طور پر، اس جیسے مقام کے ساتھ وسیع پارکنگ، کھلا سپورٹ انفراسٹرکچر، اور ایونٹ مینجمنٹ اسپیس ہونی چاہیے تھی۔

لیکن اس کے ساتھ جو جگہ اس مقصد کے لیے ہونی چاہیے تھی، وہ نیشنل اسٹیڈیم کالونی کی شکل میں رہائشی استعمال میں چلی گئی۔ اب میچ کے دن لوگ گاڑیاں دور دور پارک کرتے ہیں، حتیٰ کہ نیپا پل کے قریب کرکٹ پارک تک۔ جو کراچی کے رہنے والے ہیں، وہ جانتے ہیں کہ یہ فاصلہ کتنا غیر منطقی ہے۔

سوال یہ ہے: جس زمین کو ایک قومی اسٹیڈیم کی بنیادی شہری ضرورت کے لیے وقف ہونا چاہیے تھا، اسے کالونی بنا کر شہر کو کیا ملا؟

امتیاز میگا: کمرشل ترقی یا شہری بوجھ؟

گulshan-e-Iqbal میں امتیاز میگا جیسے بڑے کمرشل مراکز کی مثال بھی سامنے ہے۔ کاغذ پر این او سی، عمارت مکمل، کاروبار جاری — مگر کیا پارکنگ، رسائی، اور شہری بوجھ کا حساب بھی کیا گیا؟

اتنی بڑی سپر مارکیٹ، مگر مناسب پارکنگ نہ ہونے سے لوگ اطراف کی سڑکوں، لینز اور ڈھلوانوں تک گاڑیاں کھڑی کرتے ہیں۔ یہ صرف ایک سپر مارکیٹ کا مسئلہ نہیں، یہ شہری سوچ کا بحران ہے۔

ہر خالی زمین رہائش کے لیے نہیں ہوتی

ایک صحت مند شہر مختلف حصوں کے توازن سے بنتا ہے:

  • رہائشی زونز
  • کمرشل زونز
  • صنعتی علاقے
  • گرین بیلٹس اور پارکس
  • نکاسی آب کے راستے
  • یوٹیلیٹی کوریڈورز
  • پارکنگ اور عوامی سہولت کی جگہیں

لیکن کراچی میں ہم نے کیا کیا؟ جہاں پارک ہونا تھا، وہاں پلازہ بنا دیا۔ جہاں نالہ تھا، وہاں گھر کھڑا کر دیا۔ جہاں پارکنگ ہونی تھی، وہاں سوسائٹی بنا دی۔ جہاں سانس لینے کی جگہ تھی، وہاں کنکریٹ ڈال دیا۔

پلاٹ خریدنے سے پہلے یہ ضرور دیکھیں

  • کیا زمین ماسٹر پلان کے مطابق ہے؟
  • کیا SBCA کلیئرنس حقیقی جانچ پر مبنی ہے؟
  • کیا بنیادی سہولتیں موجود ہیں؟
  • کیا زمین کسی گرین زون، نالے یا یوٹیلیٹی اسپیس پر تو نہیں؟
  • کیا تعمیر سے شہر پر اضافی بوجھ بڑھے گا؟

کراچی کو پلاٹ نہیں، دیانت دار منصوبہ بندی چاہیے

شہر صرف آپ کے گھر کی دیواروں کا نام نہیں۔ شہر آپ کی سڑک، آپ کی ہوا، آپ کا وقت، اور آپ کے بچوں کے مستقبل کا نام ہے۔

کراچی کو بچانا ہے، تو ہمیں زمین کو صرف “پراپرٹی” نہیں، بلکہ “امانت” سمجھنا ہوگا۔ ورنہ ہم سب مل کر ایک ایسا شہر چھوڑ جائیں گے جہاں ہر طرف عمارتیں ہوں گی، مگر زندگی مسلسل عذاب بن چکی ہوگی۔

مکمل تحریر >>

بلاگ میں مزید دیکھیں

You might like

$results={5}

Search me