سلام علیکم دوستو!
میں مرتضیٰ معیز ہوں (@MoizMurtaza)، کراچی کا رہنے والا، اور آج دل میں ایک عجیب سی بے چینی ہے۔ رمضان کے دنوں میں، جب سورج ڈوبنے والا ہوتا ہے، تو کراچی کی سڑکیں ایک جنگ کا منظر بن جاتی ہیں۔ ہر شخص، ہر گاڑی، ہر موٹرسائیکل والا بس ایک ہی چیز چاہتا ہے: **جلدی سے گھر پہنچنا**۔ ٹریفک سگنل پر ہارن، لین توڑنا، دوسروں کو کاٹنا، بچوں اور خواتین کو خطرے میں ڈالنا – یہ سب کچھ افطار کے وقت عام ہو جاتا ہے۔
میں کئی بار یہ منظر دیکھ چکا ہوں، لیکن ایک دن کا واقعہ میرے دل میں اب تک بیٹھا ہوا ہے۔
کورنگی کا وہ دن جو مجھے آج تک یاد ہے
رمضان کا وسطی عشرہ تھا۔ میں کورنگی میں تھا، اپنی پرانی بائیک پر۔ اچانک انجن میں آواز آئی اور پھر مکمل جام ہو گیا – پسٹن کا مسئلہ۔ سورج ڈوبنے میں بس 10-12 منٹ باقی تھے۔ میں سڑک کے کنارے کھڑا تھا، گھبراہٹ میں تھا کہ افطار کا وقت ہو جائے گا اور میں گھر بھی نہیں پہنچ سکوں گا۔
ایک شخص اپنی بائیک پر آیا۔ عمر تقریباً 45-50 سال، سادہ لباس، پیچھے بیوی بیٹھی تھی۔ اس نے دیکھا کہ میں پریشان ہوں۔ بغیر کچھ پوچھے بولا:
"بھائی، کیا ہوا؟"
میں نے بتایا کہ بائیک جام ہو گئی ہے۔
وہ فوراً اترا، اپنی بائیک روکی، اور کہا:
"چلو، میں تمہیں شاہراہ فیصل تک ٹو کرتا ہوں۔ وہاں ورکشاپ ہے، وہاں ٹھیک ہو جائے گی۔ جلدی کرو، وقت کم ہے۔"
میں نے کہا: "بھائی، آپ کا بھی افطار ہو جائے گا۔"
وہ مسکرایا اور بولا:
"افطار تو اللہ کرائے گا۔ پہلے تمہیں گھر پہنچا دوں۔"
اس نے اپنی بائیک سے میری بائیک کو ٹو کیا، اور شاہراہ فیصل تک لے گیا۔ راستے میں ٹریفک تیز تھا، لوگ ہارن بجاتے جا رہے تھے، لیکن وہ بالکل پرسکون تھا۔ وہاں پہنچ کر اس نے ورکشاپ والوں سے بات کی، میری بائیک ٹھیک کروائی، اور جب میں نے شکریہ ادا کرنے لگا تو بولا:
"شکریہ کی کیا ضرورت ہے؟ جو دوسروں کے لیے کرو گے، اللہ تمہارے لیے کرے گا۔"
وہ شخص چلا گیا۔ میں نے افطار وہیں ورکشاپ پر کیا، اور گھر پہنچا۔ آج تک وہ چہرہ یاد ہے۔
اسلام ہمیں کیا سکھاتا ہے؟
اسلام ہمیں روزہ رکھنے کا حکم دیتا ہے، لیکن ساتھ ہی یہ بھی کہ:
- دوسروں کی آسانی کرو، تنگی مت کرو
- اپنے بھائی کے لیے وہی پسند کرو جو اپنے لیے پسند کرتے ہو
- افطار کے وقت جلدی میں ہونے والے کو راستہ دو، مدد کرو
- نفس پر قابو رکھو، دوسروں کی تکلیف کو نظر انداز مت کرو
لیکن ہم کیا کر رہے ہیں؟
- افطار سے پہلے ہر شخص ایک دوسرے سے آگے نکلنے کی دوڑ میں لگا ہوتا ہے۔
- جو شخص جلدی میں ہے، اسے راستہ دینے کی بجائے ہم اسے اور روکتے ہیں۔
- جو شخص پھنس جاتا ہے، اسے چھوڑ کر آگے نکل جاتے ہیں۔
یہ نرگسیت ہے۔ یہ خودغرضی ہے۔ یہ وہ رویہ ہے جو رمضان کی اصل روح کو مارتا ہے۔
جو ہم دوسروں کے ساتھ کرتے ہیں، واپس آتا ہے
اس شخص نے مجھے راستہ دیا، وقت دیا، مدد کی – اور مجھے ایک سبق دیا کہ اللہ دیکھ رہا ہے۔
اگر ہم دوسرے کو گھر پہنچنے میں آسانی پیدا کریں، تو اللہ ہمارے لیے آسانی پیدا کرے گا۔
اگر ہم دوسرے کو تکلیف دیں، تو اللہ ہمارے لیے بھی تنگی پیدا کرے گا۔
میں نے اس دن دیکھا کہ ایک شخص نے اپنا افطار کا وقت قربان کر کے دوسرے کی مدد کی – اور اللہ نے اسے بھی، مجھے بھی، اور شاید اس کے گھر والوں کو بھی برکت دی۔
کیا ہم اب بھی یہی سبق سیکھیں گے؟
میں پوچھتا ہوں:
- کیا ہم رمضان میں بھی دوڑ لگاتے رہیں گے؟
- کیا ہم دوسروں کو راستہ دینے کی بجائے انہیں روکتے رہیں گے؟
- کیا ہم یہ سمجھیں گے کہ افطار کا وقت سب کا ایک جیسا ہے، اور سب کو گھر پہنچنا ہے؟
یا پھر ہم اس شخص کی طرح بنیں گے جو رک کر مدد کرتا ہے، راستہ دیتا ہے، اور سمجھتا ہے کہ جو دوسروں کے لیے کرو گے، اللہ تمہارے لیے کرے گا۔
میں آج سے یہ عہد کرتا ہوں کہ افطار کے وقت اگر کوئی جلدی میں ہو تو میں راستہ دوں گا۔ اگر کوئی پھنس جائے تو مدد کروں گا۔ کیونکہ اللہ دیکھ رہا ہے۔
آپ کیا فیصلہ کرتے ہیں؟
کیا ہم رمضان کو مقابلہ بنائیں گے، یا آسانی پیدا کرنے کا ذریعہ؟
کمنٹس میں بتائیں۔
اللہ ہم سب کو دوسروں کے لیے آسانی پیدا کرنے کی توفیق دے۔
رمضان مبارک ہو – ایک ایسا رمضان جس میں ہمارے دل بھی روزے دار ہوں۔
مرتضیٰ معیز
کراچی
27 فروری 2026