Pages

14/2/26

کراچی والوں نے کیسے برباد کیا!

Karachi is jungle, but a jungle of concrete
کراچی کی تاریخی تاریخ کو ہم کراچی والوں نے کیسے برباد کیا: سبز پٹیوں، رہائشی توازن اور 1958 کے ماسٹر پلان کو روند کر — اور اب زمین خریدتے وقت ROI کا حساب بھی بھول جاتے ہیں!

سلام علیکم دوستو،  
میں مرتضیٰ معیز ہوں (@MoizMurtaza)، کراچی کا ایک ایسا شہری جو اس شہر سے گہری محبت کرتا ہے مگر اس کی تباہی دیکھ کر خون کھول رہا ہے۔ یہ بلاگ میرا شدید غصہ اور مایوسی ہے — کوئی نرم لہجہ نہیں، سیدھا سیدھا الزام ہے ہم سب پر، خاص طور پر ہمارے بزرگوں کی اس سوچ پر جو آج بھی زندہ ہے اور millennials کو اسی راہ پر دھکیل رہی ہے۔  

کل شام Saddar کی گلیوں میں بائیک پر گھوم رہا تھا — Shaheen Complex سے Merewether Clock Tower تک، پھر Mauripur Road کی طرف۔ پرانی عمارتیں، تاریخی دیواریں، وہ جگہیں جو کبھی سبز اور کھلی تھیں — اب سب کنکریٹ کا ڈھیر بن چکی ہیں۔ دل خون کے آنسو رو رہا تھا۔  

میں پوچھتا ہوں:  

کیا ہم نے کراچی کی اس عظیم تاریخی تاریخ کو خود اپنے ہاتھوں سے برباد نہیں کیا؟  

سب سے بڑی جڑ یہ ہے کہ ہم کراچی والے زمین خریدتے وقت ROI (Return on Investment) کا حساب بھی نہیں لگاتے — خاص طور پر (سفر) کی لاگت کو بالکل نظر انداز کر دیتے ہیں۔ ایک پلاٹ خریدتے ہیں، گھر بنا لیتے ہیں، اور پھر روزانہ کے سفر کی لاگت، ٹریفک کا دکھ، ایندھن کا خرچہ، وقت کی بربادی — یہ سب بھول جاتے ہیں۔ نتیجہ؟ ہم خود اور ہماری اولاد کو اذیت میں ڈال دیتے ہیں۔ یہ ذمہ داری صرف SBCA (Sindh Building Control Authority) اور بلڈرز پر نہیں، بلکہ ہم خریداروں پر بھی ہے! یہ لاپرواہی ہی کراچی کی تمام مسائل کی جڑ ہے — سبز پٹیوں کی تباہی، آبادی کا دھماکہ، ٹریفک کا ہنگامہ، اور تاریخی ورثے کا خاتمہ۔

1958 کا ماسٹر پلان — جو کاغذ پر رہ گیا اور ہمارے ROI کے حساب کی کمی نے مزید تباہ کیا

1958 میں Doxiadis Associates نے کراچی کا Master Plan تیار کیا تھا۔ یہ پلان شہر کو منظم بنانے کا خواب تھا:  
- زوننگ (رہائشی، کمرشل، صنعتی، سبز علاقے)  
- وسیع سبز پٹیوں اور پارکس کا نظام  
- موثر پبلک ٹرانسپورٹ (بس، ٹرین، ٹرام)  
- Old City (سدر، لیاری، کھارادر، میٹھادر) کو تاریخی مرکز کے طور پر محفوظ رکھنا  
- آبادی کنٹرول کے لیے سیٹلائٹ ٹاؤنز  

آج دیکھیں تو کیا ہوا؟ پلان کو روند دیا۔ اور اس کی ایک بڑی وجہ ہماری زمین خریدنے کی عادت ہے جہاں ہم ROI کا حساب لگاتے وقت کام्यूٹ کی لاگت بھول جاتے ہیں۔ ایک پلاٹ شہر سے دور خریدا، گھر بنایا — پھر روزانہ 2-3 گھنٹے سفر، ہزاروں روپے ایندھن پر، صحت تباہ، اولاد سکول جانے میں پریشان۔ یہ لاپرواہی SBCA کی منظوریوں کی کرپشن، بلڈرز کی لالچ، اور ہم خریداروں کی بے فکری سے ہوتی ہے۔ نتیجہ؟ شہر پھیلتا گیا، سبز پٹیاں ختم، آبادی بے قابو۔

ہمارے بزرگوں کی نصیحت نے شہر کو تباہ کیا — اور ROI کی لاپرواہی نے مزید زہر گھولا

بزرگوں نے کہا: "بیٹا، زمین میں پیسہ لگاؤ، پلاٹ لے لو، گھر بنا لو۔" ہم millennials نے مان لیا۔  
لیکن کیا سوچا کہ یہ پلاٹ خریدتے وقت ROI کا مکمل حساب لگائیں؟ نہیں! ہم صرف "قیمت بڑھے گی" دیکھتے ہیں، کام्यूٹ کی لاگت بھول جاتے ہیں۔  
- سبز پٹیوں پر قبضہ: Malir، Gadap، Super Highway کی کھلی زمینیں پلاٹوں میں تبدیل  
- نئی اسکیمیں: DHA، Bahria، Scheme 33 — دور دراز علاقوں میں، جہاں کامیوٹ ایک اذیت  

نتیجہ؟  

- روزانہ لاکھوں لوگ اپنی گاڑیوں پر شہر آتے ہیں، ٹریفک جام  
- اولاد کو سکول/کالج کے لیے گھنٹوں سفر، صحت اور تعلیم تباہ  
- SBCA منظوری دیتا ہے بغیر ٹرانسپورٹ پلان، بلڈر پیسہ بناتے ہیں، ہم خریدار بعد میں روتے ہیں  

یہ لاپرواہی کراچی کی تمام مسائل کی جڑ ہے: سبز پٹیاں ختم، آلودگی بڑھ گئی، تاریخی عمارتیں دم گھٹنے سے گر رہی ہیں۔

پبلک ٹرانسپورٹ کا جنازہ نکال دیا — اور کامیوٹ لاگت کی لاپرواہی نے اسے دفن کیا

1958 پلان میں پبلک ٹرانسپورٹ کا زبردست نظام تھا: سرکلر ریلوے، بس روٹس، ٹرام۔  
آج؟  
- سرکلر ریلوے تباہ، بحالی کے وعدے جھوٹے  
- لوکل بسیں گندی، غیر محفوظ، تاخیر سے بھری  
- میٹرو بس محدود روٹس تک  
- Old City میں ٹرانسپورٹ: وہی پرانی بسیں، رکشے، چنگچی — غیر منظم، آلودگی پھیلانے والے  

اگر ہم پبلک ٹرانسپورٹ استعمال کرتے تو گاڑیاں کم ہوتیں، سبز پٹیاں بچتیں۔ لیکن زمین خریدتے وقت کامیوٹ لاگت کا حساب نہیں لگایا، تو اب روزانہ کا دکھ بھگت رہے ہیں۔ SBCA، بلڈرز اور ہم خریدار — سب ذمہ دار!

آبادی کا دھماکہ — ROI کی لاپرواہی کا نتیجہ

1958 میں آبادی 18-20 لاکھ — آج 3 کروڑ۔  
یہ غیر منصوبہ بند مہاجرت، ووٹ بینک کی سیاست، اور زمین مافیا کا نتیجہ ہے۔  
دور دراز پلاٹ خریدے بغیر ROI کا حساب (کامیوٹ لاگت سمیت)، شہر پھیلتا گیا۔ نتیجہ؟ پانی، بجلی، سیوریج ناکافی۔ اولاد کو یہ اذیت وراثت میں مل رہی ہے۔

سیدھا الزام اور حقیقت

- بزرگوں نے زمین کی سرمایہ کاری سکھائی، ہم نے ROI کا مکمل حساب نہیں لگایا  
- SBCA نے غلط منظوریاں دیں، بلڈرز نے لالچ کیا، ہم نے اندھا دھند خریدا  
- نتیجہ: سبز پٹیاں ختم، ٹریفک، آلودگی، تاریخی تباہی  

یہ سب مل کر کراچی کی جڑیں کاٹ رہے ہیں۔

اب کیا کریں؟ (اگر بچانا چاہتے ہیں تو)

1. بزرگوں سے کہیں: اب زمین کی بجائے شہر کی بقا اور ROI کا مکمل حساب سکھائیں (کامیوٹ لاگت سمیت)  
2. زمین خریدنے سے پہلے ROI حساب کریں: سفر کی لاگت، وقت، صحت کا نقصان  
3. SBCA اور بلڈرز پر دباؤ ڈالیں: نئی اسکیموں میں پبلک ٹرانسپورٹ اور سبز پٹیاں لازمی  
4. پبلک ٹرانسپورٹ استعمال کریں، اپنی گاڑی کم نکالیں  
5. آبادی کنٹرول اور ڈی سینٹرلائزیشن کی بات کریں  
6. تاریخی عمارتوں کی بحالی کا مطالبہ کریں  

اگر اب نہ جاگے تو ہماری اولاد ہمیں کوسے گی۔  

ویڈیو دیکھیں: https://youtu.be/h_X41-WYdAk?si=JhjJCN2tbkOL4pSG  

اگر آپ بھی Saddar کی گلیوں میں گھوم کر اداس ہوئے ہیں تو آواز اٹھائیں۔ ہم مل کر کچھ کریں — ورنہ سب ختم ہو جائے گا۔  

اللہ حافظ!  
- مرتضیٰ معیز، کراچی سے  
(14 فروری 2026)


مکمل تحریر >>

13/2/26

کراچی میں یہودی: بائیک پر سوار ہو کر Saddar کی گلیوں میں ایک انجانہ سفر - یہودیوں کی کہانی تک پہنچنے کا راستہ



سلام علیکم دوستو،  
میں **مرتضیٰ معیز** ہوں (@MoizMurtaza)، کراچی کا ایک عام شہری جو اکثر بائیک پر شہر کی گلیوں میں گھومتا رہتا ہوں۔ آج کا یہ بلاگ بالکل میرا ذاتی ہے – کوئی تیاری نہیں، بس دل کی بات۔ کل شام تقریباً 4 بجے کے قریب میں بائیک پر Saddar کی طرف نکلا تھا۔ بس یوں ہی، شہر کو دیکھنے، سمجھنے کے لیے۔  

میں Shaheen Complex سے شروع ہوا – وہ جگہ جہاں I.I. Chundrigar Road شروع ہوتی ہے، ڈاکٹر ضیاء الدین احمد
روڈ اور ایم آر کیانی روڈ کا چوراہا۔ وہاں سے Tower کی طرف نکلا، یعنی Merewether Clock Tower کی طرف۔ راستے میں وہ پرانی عمارتیں، بینکوں کی بلند بلڈنگز، پرانے آفسز، اور وہ ہلچل جو کراچی کی دھڑکن ہے – سب دیکھتا رہا۔  

پھر Tower سے نکل کر Mauripur Road کی طرف مڑ گیا۔ وہاں سے لیاری ایکسپریس وے اور پرانی کچی آبادیاں شروع ہو جاتی ہیں۔ راستے میں پرانی ہیرٹیج بلڈنگز، کچھ خستہ حال، کچھ اب بھی کھڑی، اور وہ احساس جو آج کے کراچی میں بالکل نہیں ملتا – ایک پرانا، متنوع، رنگین شہر جو اب دھندلا سا ہو گیا ہے۔  

میں رکتے رکتے سوچ میں پڑ گیا:  
**یہ پرانا علاقہ آج کے کراچی سے اتنا مختلف کیوں لگتا ہے؟**  
یہ تنگ گلیاں، پرانی دیواریں، Merewether Clock Tower، Khaliqdina Hall، Denso Hall، اور وہ سب جو M.A. Jinnah Road پر ہیں – یہ سب کب کے ہیں؟ کون لوگ یہاں رہتے تھے؟ کیوں اب یہاں کی رونق کم ہو گئی ہے؟ یہ عمارتیں کس نے بنائیں؟ یہاں کی تاریخ کیا ہے؟  

یہ سوالات ذہن میں گھومتے رہے۔ گھر آ کر میں نے فون نکالا اور تھوڑی تحقیق کی۔ پھر Zaviya چینل کی ایک ویڈیو ملی: "Jews in Karachi: Untold Truth About the Hidden Jews of Pakistan"۔ ویڈیو دیکھی تو لگا جیسے میرے سوالات کا جواب مل گیا۔ یہودی کمیونٹی کی کہانی – جو Saddar، رانچو لائن، اور پرانے علاقوں میں رہتی تھی – بالکل اسی راستے سے جڑی ہوئی تھی جو میں کل گھوم رہا تھا۔ اسی طرح ہندو کمیونٹی کی بھی۔  

یہ بلاگ اسی تجسس سے لکھا ہے۔ بائیک پر گھومتے ہوئے جو سوالات ذہن میں آئے، وہی یہاں لکھ رہا ہوں۔ کوئی AI نہیں، بس میری اپنی سوچ اور دل کی بات۔

وہ راستہ جو مجھے سوچنے پر مجبور کر گیا

- Shaheen Complex سے Tower تک (I.I. Chundrigar Road): یہ روڈ کراچی کا فنانشل ہارٹ ہے۔ Shaheen Complex سے شروع ہو کر Merewether Clock Tower تک جاتی ہے۔ راستے میں پرانی بینک بلڈنگز، Habib Bank Plaza، اور وہ پرانی آفسز جو برطانوی دور کی ہیں۔ یہاں یہودی تاجر بھی کاروبار کرتے تھے – قالین، تجارت۔  
- Tower سے Mauripur Road تک: Tower سے نکل کر Mauripur کی طرف، جہاں پرانی کچی آبادیاں، Crown Cinema جیسی جگہیں، اور وہ احساس جو بتاتا ہے کہ یہ علاقہ کبھی کتنا زندہ تھا۔ یہاں سے لیاری کی طرف جاتے ہوئے پرانی ہیرٹیج سائٹس نظر آتی ہیں – جو آج خستہ حال ہیں۔  

یہ راستہ دیکھ کر لگتا ہے کہ کراچی کبھی ایک کاسموپولیٹن شہر تھا، جہاں یہودی، ہندو، پارسی، مسلم سب مل کر رہتے تھے۔ آج وہ تنوع کہاں ہے؟ یہ سوال مجھے چین نہیں لینے دے رہا تھا۔

یہودیوں کی شراکت: جو عمارتیں آج بھی کھڑی ہیں
ویڈیو میں بتایا گیا کہ یہودی کمیونٹی 19ویں صدی میں آئی، تعداد 2000 تک پہنچی۔  
- موسیٰ سوماک نے قائد اعظم ہاؤس، بی وی ایس سکول، خالد دینا ہال جیسی عمارتیں بنائیں – جو M.A. Jinnah Road اور Saddar کے قریب ہیں۔  
- راہیم فیملی قالین کا کاروبار کرتی تھی، یورپ ایکسپورٹ کرتی تھی۔  
- تعلیم میں یہودی ٹیچرز تھے۔  


یہ سب Saddar اور Tower کے آس پاس تھا – وہی جگہ جہاں میں کل گھوم رہا تھا۔ یہ دیکھ کر حیرت ہوئی کہ یہ عمارتیں آج بھی کھڑی ہیں، لیکن ان کے پیچھے کی کہانی تقریباً بھلا دی گئی ہے۔

ہندوؤں کی شراکت: کراچی کا "ماڈرن" باپ
ہندو کمیونٹی پارٹیشن سے پہلے اکثریت تھی۔  
- سیٹھ ہرچندرائی وشنداس کو "ماڈرن کراچی کا باپ" کہتے ہیں – تجارت، بینکنگ۔  
- ہندو جمنازیم (اب NAPA)، ہسپتال، پارکس۔  
- M.A. Jinnah Road پر Swaminarayan Mandir جیسی جگہیں۔  

یہ سب پرانے علاقوں میں تھا – جو آج بھی نظر آتا ہے، لیکن خالی سا۔ یہ دیکھ کر دل اداس ہو جاتا ہے کہ یہ سب کس طرح ختم ہو گیا۔

ہم نے کیسے سب برباد کیا

کل بائیک پر سوچ رہا تھا: یہ شہر ہم نے خود تباہ کیا۔  
- مذہبی انتہا پسندی: 70 کی دہائی سے یہودی اور ہندو چلے گئے۔  
- سیاسی فسادات: 80 کی دہائی سے لڑائیاں، ایم کیو ایم، نسلی تنازعات۔  
- غیر پلانڈ ترقی: آبادی 3 کروڑ، ٹریفک، آلودگی، سیلاب۔  
- کرپشن: پلانز بنے، نافذ نہیں ہوئے۔  

یہ سب دیکھ کر دل اداس ہو جاتا ہے۔ ہم نے اپنے ہاتھوں سے اس شہر کی روح کو کمزور کر دیا۔

ویڈیو کا لنک اور میری اپیل

اگر آپ بھی Saddar، Tower، Mauripur کی طرف جاتے ہیں تو یہ سوچیں۔ اگر کوئی یاد ہے، کوئی پرانی بات یاد آتی ہے، تو ضرور شیئر کریں۔  

ویڈیو دیکھیں: https://youtu.be/h_X41-WYdAk?si=JhjJCN2tbkOL4pSG  

اللہ حافظ!  
- مرتضیٰ معیز، کراچی سے  
(13 فروری 2026، شام)


مکمل تحریر >>

4/2/26

بلاگ: کراچی کی غیر منظم ترقی، ماسٹر پلان کی ناکامیاں اور 2047 کی تجاویز

کراچی، پاکستان کا سب سے بڑا شہر اور معاشی حب، آج ایک بے ربط اور غیر منظم شہر کی شکل اختیار کر چکا ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا ہم نے اس شہر کو کسی منصوبہ بندی کے تحت ترقی دی ہے یا اسے کرائے کی ذہنیت اور ذاتی مفاد کے تحت بگاڑنے دیا ہے؟


شہروں کی ترقی کا بنیادی ڈھانچہ

دنیا کے ترقی یافتہ شہروں میں ایک واضح ماسٹر پلان ہوتا ہے، جس میں زمین کی تقسیم اور استعمال کے تناسب طے کیے جاتے ہیں:

  • رہائشی علاقے (Residential): 40–50٪
  • سبزہ زار اور پارکس (Greenery): 15–20٪
  • ٹرانسپورٹ و انفراسٹرکچر (Transportation): 10–15٪
  • تجارتی علاقے (Commercial): 10–15٪
  • صنعتی علاقے (Industrial): تقریباً 10٪

یہ تناسب اس لیے ضروری ہے کہ شہر متوازن ہو اور عوام کو رہائش، روزگار، تفریح اور نقل و حمل کی سہولت یکساں طور پر میسر آئے۔


کراچی کی حقیقت اور ماسٹر پلان کی ناکامیاں

کراچی میں یہ تناسب بکھر گیا ہے۔ پانچ ماسٹر پلان بنائے گئے لیکن کوئی بھی نافذ نہ ہو سکا۔ آج کراچی میں:

  • گرین ایریاز 15٪ کے بجائے صرف 3٪ رہ گئے ہیں۔
  • صنعتی زونز پر رہائشی اور کمرشل قبضہ ہو چکا ہے۔
  • ٹرانسپورٹ کے لیے زمین مختص نہ ہونے کے باعث روزانہ لاکھوں افراد ٹریفک جام میں پھنسے رہتے ہیں۔
  • شہر کی 62٪ آبادی کچی آبادیوں میں رہتی ہے۔

یہ ناکامیاں اس بات کا ثبوت ہیں کہ ہم نے اجتماعی ذمہ داری کو نظرانداز کیا اور ذاتی مفاد کو ترجیح دی۔


کرائے کی آمدنی اور حضرت عمر فاروقؓ کی مثال

ہمارے 40 سال سے زائد عمر کے طبقے نے "کچھ نہ کرو اور آسان پیسہ کماؤ" کی ذہنیت کو فروغ دیا ہے۔ یہ طبقہ معیشت میں کوئی نئی پیداوار یا جدت نہیں لاتا، بلکہ صرف کرائے کی آمدنی پر جینا چاہتا ہے۔

حضرت عمر فاروقؓ نے فرمایا کہ اگر گھوڑا اللہ کے سامنے فریاد کرے کہ اسے بلاوجہ مشقت میں ڈالا گیا، تو میں اس کے جواب دینے کے قابل نہیں ہوں۔ یہ مثال ہمیں بتاتی ہے کہ ہر عمل کا حساب دینا ہوگا۔ آج ہم زمین کو بے ہنگم تعمیرات اور کرائے کے منصوبوں میں جھونک کر، معیشت کو نقصان پہنچا رہے ہیں۔


تعلیم کا شعبہ اور متبادل راستے

کراچی اور پاکستان کے لیے ایک اور سنگین مسئلہ یہ ہے کہ ہمارا تعلیمی نظام یکسانیت پر زور دیتا ہے۔ ہم چاہتے ہیں کہ ہر بچہ ایک ہی ڈگر پر چلے، لیکن حقیقت یہ ہے کہ:

  • کیا ہماری ہر انگلی ایک ہی لمبائی کی ہے؟
  • اگر قدرت نے ہمیں مختلف بنایا ہے تو ہم دوسروں سے یہ توقع کیوں رکھتے ہیں کہ وہ سب ایک جیسے ہوں؟

یہی تنوع ایک صحت مند معاشرے کی بنیاد ہے۔ اگر ہم سب کو ایک ہی راستے پر چلنے پر مجبور کریں گے، تو ہم نہ صرف ان کی صلاحیتوں کو ضائع کریں گے بلکہ معاشرے کو بھی جمود کا شکار بنا دیں گے۔
اور یہی ذہنیت کراچی کی تباہی اور غیر منظم ترقی کی ذمہ دار ہے، کیونکہ ہر شخص صرف اپنی "حصے کی توثیق" چاہتا ہے، بجائے اس کے کہ وہ ایک چین اسپرکٹ کی طرح برتاؤ کرے، جہاں ہر چین کو آگے بڑھنے کا منصفانہ موقع ملتا ہے، نہ کہ ایک دوسرے کو کھینچ کر پیچھے لے جانے کی کوشش کی جاتی ہے۔


ماسٹر پلان 2047 کی تجاویز

اب کراچی کے لیے گریٹر کراچی ریجنل پلان 2047 (GKRP 2047) تیار کیا جا رہا ہے، جس میں درج ذیل نکات شامل ہیں:

  • شہر کو 25 سالہ وژن کے تحت دوبارہ منظم کرنا۔
  • ماحولیاتی خطرات (ہیٹ ویوز، پانی کی کمی، کلائمیٹ چینج) سے نمٹنے کے لیے اقدامات۔
  • ٹرانسپورٹ اور انفراسٹرکچر کو جدید خطوط پر استوار کرنا۔
  • گرین ایریاز کو بڑھانا اور کچی آبادیوں کو منظم ہاؤسنگ میں تبدیل کرنا۔
  • شہر کی گورننس کو شفاف اور شراکتی بنانا۔ Urban Resource Centre cackarachi.com

یہ تجاویز درست سمت میں ہیں، لیکن اگر ہم نے اجتماعی ذمہ داری اور تعلیم کے تنوع کو نظرانداز کیا تو یہ منصوبہ بھی پچھلے ماسٹر پلانز کی طرح ناکام ہو جائے گا۔


نتیجہ

کراچی کی غیر منظم ترقی صرف ایک شہری مسئلہ نہیں، بلکہ ایک اجتماعی اخلاقی بحران ہے۔ ماسٹر پلان 2047 ہمیں موقع دیتا ہے کہ ہم اپنی غلطیوں کو درست کریں، لیکن اس کے لیے ہمیں کرائے کی ذہنیت، ذاتی مفاد اور یکسانیت پر مبنی تعلیم کو ترک کرنا ہوگا۔

کراچی کو بچانے کے لیے ہمیں اپنی ذہنیت بدلنی ہوگی۔ کرائے کی آسان آمدنی کے بجائے، ہمیں پیداوار، جدت، تعلیم اور اجتماعی ذمہ داری کو اپنانا ہوگا۔ ورنہ یہ شہر ہماری غفلت اور لالچ کی زندہ مثال بن کر رہ جائے گا۔



مکمل تحریر >>

پاکستان کے بائیکاٹ مؤقف کو “مزاق” کہنا بھارتی میڈیا کی عادت ہے

پاکستان کے بائیکاٹ مؤقف کو “مزاق” کہنا بھارتی میڈیا کی عادت ہے، مگر تازہ ترین اعداد و شمار اور عالمی رپورٹس یہ ثابت کرتے ہیں کہ یہ مؤقف جذباتی نہیں بلکہ معاشی، سفارتی اور تاریخی بنیادوں پر کھڑا ہے۔ ایک پاکستان–بھارت میچ کی مالیت تقریباً ₹4,800 کروڑ (≈ PKR 158 ارب) ہے، جبکہ ICC ریونیو ماڈل میں بھارت کو 38.5% اور پاکستان کو صرف 2.81% حصہ دیا گیا ہے۔ یہ عدم توازن اور ریکارڈ ویورشپ پاکستان کے مؤقف کو مزید مضبوط بناتا ہے۔


📊 ICC ریونیو شیئر (2024–27)

تازہ ترین ماڈل کے مطابق: ESPNcricinfo Wisden

ملکریونیو شیئر %سالانہ آمدنی (USD)INR (تقریباً)PKR (تقریباً)
بھارت38.5%~$231 ملین₹1,920 کروڑ~PKR 63 ارب
انگلینڈ6.89%~$41 ملین₹340 کروڑ~PKR 11 ارب
آسٹریلیا6.25%~$37 ملین₹310 کروڑ~PKR 10 ارب
پاکستان2.81%~$34.5 ملین₹290 کروڑ~PKR 9.5 ارب

👉 پاکستان کو صرف 2.81% ملتا ہے، مگر پاکستان–بھارت میچز ICC کے عالمی ویورشپ کا 25%+ پیدا کرتے ہیں۔


📈 India–Pakistan Fixture Value

  • کمرشل ویلیو (2025): ~USD 575 ملین ≈ ₹4,800 کروڑ ≈ ~PKR 158 ارب english.mahamoney.com
  • Ad Revenue Loss اگر boycott ہو: ₹350–400 کروڑ ≈ ~PKR 11–13 ارب
  • Ticketing + Hospitality: ₹200 کروڑ ≈ ~PKR 6.5 ارب
  • Digital Streaming Revenue: ₹300 کروڑ+ ≈ ~PKR 10 ارب+

👥 Viewership Records (Updated)

👉 یہ ریکارڈز ثابت کرتے ہیں کہ دنیا سب سے زیادہ پاکستان–بھارت میچ دیکھتی ہے۔


🛡️ سیکیورٹی ڈیٹا

  • Teams toured Pakistan (2019–2025): England, Australia, New Zealand, South Africa, Sri Lanka, Bangladesh.
  • Security Deployment: 3,000–4,000 اہلکار فی میچ (head‑of‑state level protection)۔
  • Zero Major Incidents: پچھلے 7 سال میں کوئی بڑا واقعہ نہیں۔

👉 بھارت کا "سیکیورٹی بہانہ" اعداد و شمار کے سامنے کمزور ہے۔


📅 تاریخی بائیکاٹس

  • South Africa (1970–1991): 21 سالہ پابندی (Apartheid)
  • Zimbabwe (2003): سیاسی بحران پر بائیکاٹ
  • India (2016 & 2019): پاکستان کے خلاف cultural اور cricket boycotts

👉 بائیکاٹ ایک جائز سفارتی ہتھیار ہے، جسے بھارت خود استعمال کر چکا ہے۔


🎙️ Arnab Goswami Contradictions

  • 2016: 40+ شوز — پاکستانی اداکاروں پر پابندی
  • 2019: 60+ شوز — کرکٹ اور کلچر بائیکاٹ
  • 2026: پاکستان کے بائیکاٹ کو "مزاق" قرار دیا

👉 “Boycott patriotism ہے جب بھارت کرے، مگر joke ہے جب پاکستان کرے؟ #DoubleStandards”


نتیجہ

پاکستان کا بائیکاٹ stance جذباتی نہیں بلکہ اعداد و شمار پر مبنی ہے:

  • ₹4,800 کروڑ ≈ ~PKR 158 ارب کمرشل اثر
  • ICC ریونیو میں ناانصافی (بھارت ₹1,920 کروڑ ≈ ~PKR 63 ارب، پاکستان صرف ₹290 کروڑ ≈ ~PKR 9.5 ارب)
  • عالمی ویورشپ ریکارڈز (602 ملین cumulative views)
  • سیکیورٹی ڈیٹا اور تاریخی بائیکاٹس

Self respect compromise سے نہیں بلکہ branding، meritocracy اور principled documentation سے قائم ہوتی ہے۔



مکمل تحریر >>

13/7/25

کراچی، جذبات اور خود غرضی: جب کسی کا درد دوسروں کے لیے تماشہ بن جائے

تمہید: گزشتہ دنوں ایک اجنبی سے واٹس ایپ پر گفتگو ہوئی۔ آغاز ایک مختصر ملاقات سے ہوا، اور باتیں رفتہ رفتہ ذاتی مسائل کی طرف بڑھیں۔ میں نے دل کھول کر اپنے جذبات، اپنی تنہائی، اور گھر کے اندر احترام کی کمی کا ذکر کیا۔ بدقسمتی سے جو جواب ملا، اُس نے مجھے یہ سوچنے پر مجبور کر دیا کہ کیا کراچی نے انسانوں کو بےحس بنا دیا ہے؟ 📌 آئیے اس واقعے کی جزئیات کو سمجھتے ہیں، تاکہ معاملہ صرف ایک لڑکی یا ایک چیٹ تک محدود نہ رہے بلکہ اس سے نکل کر ہم اپنی معاشرتی سوچ کو جانچ سکیں۔
 ❗ 1. احساسِ تنہائی (Loneliness): “Being married, I am lonely.” یہ کوئی ڈرامائی جملہ نہیں تھا۔ ایک شادی شدہ مرد کی وہ سچائی تھی جو اکثر نظر انداز کی جاتی ہے۔ ہمارے معاشرے میں مرد کا درد صرف مالی پریشانیوں تک محدود سمجھا جاتا ہے، جذباتی خلاء کو "کمزوری" کہا جاتا ہے۔
 ❗ 2. جذباتی لاپرواہی (Surface-Level Empathy): “Jesy kal k bd sy sb sahi ho jayega.” جب آپ اپنی روح کھول کر کسی کے سامنے رکھیں، اور جواب میں ایسا فقرہ سنیں، تو درد دوگنا ہو جاتا ہے۔ جذبات کو ’ٹالنے‘ اور ’سمجھنے‘ میں فرق ہے۔
 ❗ 3. Humaira Asghar Incident — کراچی کی بےحسی کا استعارہ اب یہی بےحسی حمیرہ اصغر کے دل دہلا دینے والے واقعے میں بھی دکھائی دی، جہاں: ایک خاتون اپنی ذہنی صحت کے مسائل سے دوچار ہو کر کراچی کی سڑکوں پر نیم برہنہ حالت میں پائی گئیں۔ بجائے مدد کے، لوگوں نے اس پر ویڈیوز بنائیں، مذاق اڑایا، اور سوشل میڈیا پر ‘ٹریفک جام ماڈل’ کہہ کر شیئر کیا۔ کسی نے نہ پوچھا کہ: "یہ عورت کیوں اس حال میں ہے؟" بلکہ سب نے کہا: "ویڈیو بناو، کل وائرل ہوگی۔" 🔻 یہ وہی شہر ہے جہاں لوگ بظاہر روشن خیال ہیں، مگر کسی کی تکلیف اُن کے لیے بس تفریح ہے۔
 ❗ 4. جذباتی مرکزیت کی چالاکی (Emotional Shifting): “Mujhy apki life ki sari problems solve kr k khushi hogi…” ایسا لگتا ہے جیسے کسی کا درد سن کر دوسرے کو ہیرو بننے کی جلدی ہوتی ہے — لیکن درد کو محسوس کیے بغیر۔
 ❗ 5. کراچی کا المیہ: بےحسی کا بڑھتا ہوا کلچر ہم وہ معاشرہ بن گئے ہیں جو کسی کے "Why are you not okay?" کی جگہ "Drama mat karo" کہتا ہے۔ Empathy ایک نعمت تھی، اب مذاق بن چکی ہے۔
 🌆 کراچی اور جذباتی رشتے: کراچی میں رشتے اب مستقل نہیں رہے — سب کچھ وقتی ہے، موسمی ہے۔ جذبات کی جگہ اب تو self-defense اور sarcasm نے لے لی ہے۔
 🔚 نتیجہ: جب آپ کسی کو اپنی کہانی سناتے ہیں اور جواب میں وہ صرف جذباتی لیکچر دے کر نکل جائے — تو یہ صرف ایک خراب چیٹ نہیں، یہ اس معاشرے کا آئینہ ہے۔ یہ چیٹ، ایک فرد نہیں، پورے کراچی کی اجتماعی بےحسی کی عکاسی تھی۔ اور Humaira Asghar جیسے واقعات سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ ہم نے احساس کھو دیا ہے۔
 🖋️ اختتامی نوٹ: کراچی ایک ایسا شہر بن چکا ہے جہاں: کسی کا درد ایک وائرل لمحہ ہوتا ہے، نہ کہ مدد کا موقع۔ اب بھی وقت ہے کہ ہم empathy کو واپس لائیں۔ دوسروں کی بات سننے کی عادت اپنائیں — صرف بولنے کی نہیں۔


مکمل تحریر >>

بلاگ میں مزید دیکھیں

You might like

$results={5}

Search me

Translate