Pages

28/2/26

رمضان میں افطار سے پہلے کی افراتفری – ہم نے اسلام کی روح کو خود ہی زخمی کر دیا

سلام علیکم دوستو!  
میں مرتضیٰ معیز ہوں (@MoizMurtaza)، کراچی کا رہنے والا، اور آج دل میں ایک عجیب سی بے چینی ہے۔ رمضان کے دنوں میں، جب سورج ڈوبنے والا ہوتا ہے، تو کراچی کی سڑکیں ایک جنگ کا منظر بن جاتی ہیں۔ ہر شخص، ہر گاڑی، ہر موٹرسائیکل والا بس ایک ہی چیز چاہتا ہے: **جلدی سے گھر پہنچنا**۔ ٹریفک سگنل پر ہارن، لین توڑنا، دوسروں کو کاٹنا، بچوں اور خواتین کو خطرے میں ڈالنا – یہ سب کچھ افطار کے وقت عام ہو جاتا ہے۔  

میں کئی بار یہ منظر دیکھ چکا ہوں، لیکن ایک دن کا واقعہ میرے دل میں اب تک بیٹھا ہوا ہے۔

کورنگی کا وہ دن جو مجھے آج تک یاد ہے

رمضان کا وسطی عشرہ تھا۔ میں کورنگی میں تھا، اپنی پرانی بائیک پر۔ اچانک انجن میں آواز آئی اور پھر مکمل جام ہو گیا – پسٹن کا مسئلہ۔ سورج ڈوبنے میں بس 10-12 منٹ باقی تھے۔ میں سڑک کے کنارے کھڑا تھا، گھبراہٹ میں تھا کہ افطار کا وقت ہو جائے گا اور میں گھر بھی نہیں پہنچ سکوں گا۔  

ایک شخص اپنی بائیک پر آیا۔ عمر تقریباً 45-50 سال، سادہ لباس، پیچھے بیوی بیٹھی تھی۔ اس نے دیکھا کہ میں پریشان ہوں۔ بغیر کچھ پوچھے بولا:  
"بھائی، کیا ہوا؟"  

میں نے بتایا کہ بائیک جام ہو گئی ہے۔  
وہ فوراً اترا، اپنی بائیک روکی، اور کہا:  
"چلو، میں تمہیں شاہراہ فیصل تک ٹو کرتا ہوں۔ وہاں ورکشاپ ہے، وہاں ٹھیک ہو جائے گی۔ جلدی کرو، وقت کم ہے۔"  

میں نے کہا: "بھائی، آپ کا بھی افطار ہو جائے گا۔"  
وہ مسکرایا اور بولا:  
"افطار تو اللہ کرائے گا۔ پہلے تمہیں گھر پہنچا دوں۔"  

اس نے اپنی بائیک سے میری بائیک کو ٹو کیا، اور شاہراہ فیصل تک لے گیا۔ راستے میں ٹریفک تیز تھا، لوگ ہارن بجاتے جا رہے تھے، لیکن وہ بالکل پرسکون تھا۔ وہاں پہنچ کر اس نے ورکشاپ والوں سے بات کی، میری بائیک ٹھیک کروائی، اور جب میں نے شکریہ ادا کرنے لگا تو بولا:  
"شکریہ کی کیا ضرورت ہے؟ جو دوسروں کے لیے کرو گے، اللہ تمہارے لیے کرے گا۔"  

وہ شخص چلا گیا۔ میں نے افطار وہیں ورکشاپ پر کیا، اور گھر پہنچا۔ آج تک وہ چہرہ یاد ہے۔

اسلام ہمیں کیا سکھاتا ہے؟

اسلام ہمیں روزہ رکھنے کا حکم دیتا ہے، لیکن ساتھ ہی یہ بھی کہ:  
- دوسروں کی آسانی کرو، تنگی مت کرو  
- اپنے بھائی کے لیے وہی پسند کرو جو اپنے لیے پسند کرتے ہو  
- افطار کے وقت جلدی میں ہونے والے کو راستہ دو، مدد کرو  
- نفس پر قابو رکھو، دوسروں کی تکلیف کو نظر انداز مت کرو  

لیکن ہم کیا کر رہے ہیں؟  

- افطار سے پہلے ہر شخص ایک دوسرے سے آگے نکلنے کی دوڑ میں لگا ہوتا ہے۔  
- جو شخص جلدی میں ہے، اسے راستہ دینے کی بجائے ہم اسے اور روکتے ہیں۔  
- جو شخص پھنس جاتا ہے، اسے چھوڑ کر آگے نکل جاتے ہیں۔  

یہ نرگسیت ہے۔ یہ خودغرضی ہے۔ یہ وہ رویہ ہے جو رمضان کی اصل روح کو مارتا ہے۔

جو ہم دوسروں کے ساتھ کرتے ہیں، واپس آتا ہے

اس شخص نے مجھے راستہ دیا، وقت دیا، مدد کی – اور مجھے ایک سبق دیا کہ اللہ دیکھ رہا ہے۔  
اگر ہم دوسرے کو گھر پہنچنے میں آسانی پیدا کریں، تو اللہ ہمارے لیے آسانی پیدا کرے گا۔  
اگر ہم دوسرے کو تکلیف دیں، تو اللہ ہمارے لیے بھی تنگی پیدا کرے گا۔  

میں نے اس دن دیکھا کہ ایک شخص نے اپنا افطار کا وقت قربان کر کے دوسرے کی مدد کی – اور اللہ نے اسے بھی، مجھے بھی، اور شاید اس کے گھر والوں کو بھی برکت دی۔

کیا ہم اب بھی یہی سبق سیکھیں گے؟

میں پوچھتا ہوں:  
- کیا ہم رمضان میں بھی دوڑ لگاتے رہیں گے؟  
- کیا ہم دوسروں کو راستہ دینے کی بجائے انہیں روکتے رہیں گے؟  
- کیا ہم یہ سمجھیں گے کہ افطار کا وقت سب کا ایک جیسا ہے، اور سب کو گھر پہنچنا ہے؟  

یا پھر ہم اس شخص کی طرح بنیں گے جو رک کر مدد کرتا ہے، راستہ دیتا ہے، اور سمجھتا ہے کہ جو دوسروں کے لیے کرو گے، اللہ تمہارے لیے کرے گا۔

میں آج سے یہ عہد کرتا ہوں کہ افطار کے وقت اگر کوئی جلدی میں ہو تو میں راستہ دوں گا۔ اگر کوئی پھنس جائے تو مدد کروں گا۔ کیونکہ اللہ دیکھ رہا ہے۔

آپ کیا فیصلہ کرتے ہیں؟  

کیا ہم رمضان کو مقابلہ بنائیں گے، یا آسانی پیدا کرنے کا ذریعہ؟  

کمنٹس میں بتائیں۔  
اللہ ہم سب کو دوسروں کے لیے آسانی پیدا کرنے کی توفیق دے۔  
رمضان مبارک ہو – ایک ایسا رمضان جس میں ہمارے دل بھی روزے دار ہوں۔  

مرتضیٰ معیز  
کراچی  
27 فروری 2026


مکمل تحریر >>

26/2/26

بھروسہ کر کے تو دیکھو – ہم خود اپنے پاؤں پر کلہاڑی مار رہے ہیں

سلام علیکم دوستو!  
میں مرتضیٰ معیز ہوں (@MoizMurtaza)، کراچی کا رہنے والا، اور آج دل بہت بھاری ہے۔ یہ بلاگ امتنان احمد صاحب کے وائرل یوٹیوب شارٹ "Bharosa Kar Kay Dekho | Trust" سے متاثر ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ جب زندگی میں ہر طرف اندھیرا چھا جائے، ہر دروازہ بند لگے، تو بس اللہ پر بھروسہ کر کے تو دیکھو – وہ راستہ ضرور کھول دے گا۔ یہ بات سن کر آنکھیں نم ہو جاتی ہیں، کیونکہ یہ سچ ہے۔ لیکن سچائی یہ بھی ہے کہ ہم خود اس بھروسے کو کچل رہے ہیں۔ ہماری اپنی حرکتوں نے، ہماری اپنی بے اعتمادی نے، ہمارے اپنے لالچ نے، ہمارے اپنے ڈر نے – ہمارا معاشرہ، ہمارا شہر، ہمارا مستقبل سب تباہ کر دیا ہے۔ اور اب جب میں یہ لکھ رہا ہوں تو غصہ بھی آ رہا ہے، اور رونے کا دل بھی کر رہا ہے۔

ہم نے خود کیا کیا ہے؟

- ہم نے ایک دوسرے پر بھروسہ کرنا چھوڑ دیا۔ دوستوں سے بات کرتے وقت دل میں شک رکھتے ہیں، کاروبار میں ایمانداری چھوڑ کر دھوکہ دیتے ہیں، رشتوں میں کھل کر بات کرنے کی بجائے چھپا کر رکھتے ہیں۔
- ہم نے دکانیں چلانے والوں کو دیکھا ہے جو "یہ چیز ختم ہو گئی" کہہ کر جعلی بیچتے ہیں، اور پھر گاہک کم آتے ہیں تو کہتے ہیں "لوگ بھروسہ نہیں کرتے"۔ بھائی، بھروسہ تو تم نے پہلے ہی توڑ دیا تھا!
- ہم نے کراچی کو دیکھا ہے جہاں ٹریفک میں ایک دوسرے کو گالیاں دیتے ہیں، سیوریج کی وجہ سے گلیاں ندی بن جاتی ہیں، لیکن کوئی ذمہ دار نہیں بنتا۔ ہم سب کہتے ہیں "حکومت کرے"، لیکن خود صفائی نہیں کرتے، خود اصول نہیں مانتے۔
- ہم نے نوجوانوں کو دیکھا ہے – 64 فیصد آبادی جو مستقبل ہے۔ لیکن ہم انہیں بھروسہ نہیں دیتے۔ نہ تعلیم دیتے ہیں، نہ نوکریاں دیتے ہیں، نہ کہتے ہیں کہ "بیٹا، تم کر سکتے ہو"۔ ہم کہتے ہیں "یہ دور برا ہے، کچھ نہیں ہو سکتا"۔ ہم نے ان کے خواب چھین لیے ہیں۔
- اور سب سے بڑی بات: ہم نے اللہ پر بھی پورا بھروسہ نہیں کیا۔ دعا مانگتے ہیں، لیکن دل میں کہتے ہیں "شاید نہ ہو"۔ پھر جب نہ ہو تو کہتے ہیں "اللہ نے نہیں دیا"۔ بھائی، اللہ نے تو راستہ کھولنے کی کوشش کی تھی، لیکن ہم نے خود ہی دروازہ بند کر دیا تھا۔

یہ سب ہم نے کیا ہے۔ ہماری اپنی حرکتوں نے۔ ہماری اپنی بے اعتمادی نے۔ ہماری اپنی سستی نے۔ ہماری اپنی خود غرضی نے۔ اور اب جب میں یہ لکھ رہا ہوں تو آنکھوں میں آنسو آ رہے ہیں، کیونکہ یہ درد ہمارا اپنا ہے۔ ہم خود کو تباہ کر رہے ہیں، اور پھر دوسروں کو موردِ الزام ٹھہراتے ہیں۔

 لیکن اب بھی امید ہے… بہت امید ہے

دوستو، میں رو رہا ہوں، لیکن مایوس نہیں ہوں۔ کیونکہ اللہ نے ہمیں یہ دل دیا ہے جو اب بھی دھڑک رہا ہے۔ اب بھی ہمارے اندر وہ چنگاری ہے جو بھڑک سکتی ہے۔  
- اگر ہم آج سے ایک دوسرے پر بھروسہ کرنا شروع کر دیں…  
- اگر ہم اپنے کاروبار میں ایمانداری کا راستہ اپنائیں…  
- اگر ہم نوجوانوں کو کہیں "بیٹا، تم سے بہت کچھ ہو سکتا ہے"…  
- اگر ہم رشتوں میں کھل کر بات کریں، شک کو دل سے نکال دیں…  
- اگر ہم اللہ سے کہیں "یا اللہ، اب تو مجھے ہمت دے، میں کوشش کروں گا"…  

تو پھر راستے ضرور کھلیں گے۔ اللہ نے کبھی کسی کو نہیں چھوڑا جس نے سچے دل سے بھروسہ کیا۔  
میں جانتا ہوں کہ ہم نے بہت نقصان کر دیا ہے۔ کراچی ڈوب رہا ہے، مہنگائی کھا رہی ہے، نوجوان مایوس ہیں۔ لیکن اب بھی وقت ہے۔ اب بھی ہم بدل سکتے ہیں۔  

میں آج رو رہا ہوں، کیونکہ مجھے اپنے آپ پر شرمندگی ہے۔ ہم سب پر شرمندگی ہے۔ لیکن یہ آنسو امید کے آنسو ہیں۔ یہ درد تبدیلی کا درد ہے۔  
بس ایک بار بھروسہ کر کے تو دیکھو – اپنے آپ پر، ایک دوسرے پر، اور سب سے بڑھ کر اللہ پر۔  
میں یقین رکھتا ہوں کہ ہم بدل جائیں گے۔ ہمارا کراچی دوبارہ خوشحال ہو گا۔ ہمارے نوجوان اڑان بھریں گے۔ ہمارے رشتے مضبوط ہوں گے۔  

کیونکہ اللہ نے وعدہ کیا ہے:  
"جو مجھ پر بھروسہ کرے گا، میں اسے مایوس نہیں کروں گا۔"

آپ بھی رو لو تھوڑا… اور پھر اٹھو۔  
ہم سب مل کر یہ بھروسہ واپس لائیں گے۔  

اللہ ہم سب کو ہمت دے، اور ہمارے دلوں سے بے اعتمادی کا زہر نکال دے۔ 

مرتضیٰ معیز  
کراچی  
26 فروری 2026


مکمل تحریر >>

25/2/26

دنیا تخلیقی صلاحیتوں کی طرف بڑھ رہی ہے، اور ہم دھوکہ دہی میں الجھے ہوئے ہیں!

سلام علیکم دوستو!  
میں مرتضیٰ معیز ہوں (@MoizMurtaza)، کراچی کا رہنے والا، اور آج میں ایک وائرل یوٹیوب شارٹ "Every
Electrician Hates Him For What He Did" سے متاثر ہو کر یہ بلاگ لکھ رہا ہوں۔ یہ شارٹس جو دنیا بھر میں وائرل ہو رہے ہیں، وہ ایک ایسے شخص کی بات کرتے ہیں جو بجلی کا کام کرتا ہے، لیکن اس نے ایسا کچھ کیا کہ باقی تمام الیکٹریشن اس سے نفرت کرنے لگے۔ کیوں؟ کیونکہ اس نے بہت ہی تخلیقی، صاف ستھرا، تیز اور جدید طریقہ اپنایا – وائرنگ کو اس طرح کیا کہ گھر والے اب ہر الیکٹریشن سے کہتے ہیں "وہی طریقہ کرو جو اس نے کیا تھا!"۔ باقی الیکٹریشن پریشان ہیں کیونکہ انہیں اب پرانے، سستے اور غیر محفوظ طریقوں پر کام کرنا پڑتا ہے، اور گاہک انہیں قبول نہیں کرتے۔

یہ شارٹ دیکھ کر مجھے ایک بات بہت شدید محسوس ہوئی: دنیا تیزی سے تخلیقی صلاحیتوں، جدت اور بہتری کی طرف بڑھ رہی ہے، اور ہم پاکستان میں اب بھی دھوکہ دہی، جھوٹی باتیں اور پرانے طریقوں میں الجھے ہوئے ہیں!

دنیا کیا کر رہی ہے؟

- ایک شخص نے وائرنگ کا نیا، محفوظ اور خوبصورت طریقہ ایجاد کیا → باقی الیکٹریشن "نفرت" کر رہے ہیں کیونکہ وہ پیچھے رہ گئے۔
- یوٹیوب، ٹک ٹاک پر لاکھوں لوگ ایسے ویڈیوز دیکھ رہے ہیں جہاں لوگ پرانے مسائل کو نئے، تخلیقی حل سے حل کر رہے ہیں – DIY ٹولز، ہوشیار ہینڈی کرافٹس، تیز ٹرکس۔
- دنیا میں الیکٹریشن، پلمبر، کارپینٹر سب مقابلہ کر رہے ہیں کہ کون بہتر، تیز اور صارف دوست کام کرے گا۔ جو پیچھے رہا، وہ بازار سے باہر ہو جائے گا۔

یہ "ہیش ٹیگ" ہے: #Innovation #DIY #GeniusHacks – لوگ انہیں شیئر کرتے ہیں کیونکہ وہ دیکھنا چاہتے ہیں کہ انسان کتنا ذہین ہو سکتا ہے۔

اور ہم پاکستان میں کیا کر رہے ہیں؟

ہم دھوکہ دہی میں مگن ہیں!  
- الیکٹریشن آتا ہے، "بھائی، یہ وائرنگ پرانی ہے، نیا لگانا پڑے گا" کہہ کر 2 گھنٹے کا کام 2 دن میں کرتا ہے، اور پیسے ضائع کرتا ہے۔
- دکاندار "یہ چیز ختم ہو گئی" کہہ کر مہنگی بیچتا ہے، جبکہ اسٹاک میں پڑی ہے۔
- کاروباری "یہ میرا خاص طریقہ ہے" کہہ کر پرانا، غیر معیاری کام کرتے ہیں، اور جب کوئی نیا آئیڈیا لائے تو "یہ تو کام نہیں کرے گا" کہہ کر رد کر دیتے ہیں۔
- ہمارے ہاں "تجربہ" کا مطلب 30 سال پرانا طریقہ ہے، نہ کہ 30 سال میں سیکھی نئی چیزیں۔

جیسے میرے پچھلے بلاگس میں کراچی کی مہنگائی، غلط ترقی اور نوجوانوں کی ضائع ہوتی صلاحیت پر بات کی – سب ایک ہی چیز ہے: لالچ، سستی اور جدت سے نفرت۔ دنیا نئی ایجادات کر رہی ہے، ہم "بلوف" مار رہے ہیں کہ "ہمارا طریقہ بہترین ہے"۔

یہ کیوں خطرناک ہے؟

- اگر ہم جدت نہ لائے تو ہماری مہنگائی، بے روزگاری اور تباہی بڑھتی جائے گی۔
- نوجوان دیکھ رہے ہیں کہ دنیا میں ایک شخص نے ایک ٹرک سے لاکھوں کمائے، اور ہمارے ہاں "ڈگری" اور "تجربہ" کا نام پر بیٹھے لوگ بس بلوف مار رہے ہیں۔
- کراچی جیسے شہر میں، جہاں ہر چیز مہنگی ہو رہی ہے، اگر ہم تخلیقی حل نہ لائے تو لوگ اور غریب ہوتے جائیں گے۔

اب کیا کریں؟ (کھرے لہجے میں)

بس کرو یہ بلوف مارنا!  
- الیکٹریشن ہو، دکاندار ہو، کاروباری ہو – نئی چیزیں سیکھو، یوٹیوب دیکھو، ٹیسٹ کرو، بہتر بنو۔
- منافع فی یونٹ کی بجائے حجم اور گاہک کی خوشی پر توجہ دو (جیسے مہنگائی والے بلاگ میں کہا)۔
- نوجوانوں کو کہو: "جدت کرو، نہ کہ پرانے طریقوں پر بیٹھے رہو"۔
- اگر کوئی نیا آئیڈیا لائے تو "واہ" کہو، نہ کہ "یہ تو نہیں چلے گا"۔

دنیا آگے بڑھ رہی ہے – تخلیقی لوگ بادشاہ بن رہے ہیں۔ ہم اگر اب بھی بلوف مارتے رہے تو پیچھے رہ جائیں گے، اور پھر افسوس بھی نہیں ہوگا کیونکہ وقت گزر جائے گا۔

یہ شارٹ دیکھ کر مجھے غصہ آیا، کیونکہ یہ ہمیں آئینہ دکھا رہا ہے: دنیا نفرت کر رہی ہے پرانے طریقوں سے، اور ہم انہیں "تجربہ" کہہ کر گلے لگائے بیٹھے ہیں۔

آپ کیا سوچتے ہیں؟ کیا ہم بھی جدت کی طرف بڑھیں گے، یا بلوف مارتے رہیں گے؟  
کمنٹس میں بتائیں۔  
اللہ ہمیں ہمت دے کہ ہم بھی دنیا کی طرح تخلیقی بنیں۔  

کراچی  
25 فروری 2026


مکمل تحریر >>

24/2/26

پاکستان کی نوجوان قوم کی حیران کن حقیقت

سلام علیکم دوستو!  
میں مرتضیٰ معیز ہوں، کراچی کا رہنے والا، اور آج میں ایک یوٹیوب شارٹ سے متاثر ہو کر یہ بلاگ لکھ رہا ہوں جس کا عنوان ہے "The SHOCKING Truth About Pakistan's Young Nation"۔ یہ شارٹ ویڈیو پاکستان کی آبادی کی ایک ایسی حقیقت کو سامنے لاتی ہے جو واقعی حیران کن ہے، اور میں اسے اپنے الفاظ میں کھول کر بیان کروں گا۔ یہ میرا اپنا لکھا ہوا ہے، روزمرہ کے مشاہدات اور اعداد و شمار کی بنیاد پر۔ آئیے دیکھتے ہیں کہ پاکستان کی یہ "نوجوان قوم" کیا ہے، کیوں یہ حیران کن ہے، اور اس کے کیا اثرات ہو سکتے ہیں۔

پاکستان کی نوجوان قوم کیا ہے؟

پاکستان کو "نوجوان قوم" کہنے کا مطلب یہ ہے کہ ہماری آبادی کا بڑا حصہ نوجوانوں پر مشتمل ہے۔ یہ کوئی شعری بات نہیں، بلکہ اعداد و شمار کی حقیقت ہے۔ اقوام متحدہ اور دیگر رپورٹس کے مطابق، پاکستان کی کل آبادی تقریباً 25 کروڑ سے زیادہ ہے، اور اس میں سے 64 فیصد لوگ 30 سال سے کم عمر کے ہیں۔ جی ہاں، 64 فیصد! اس کا مطلب ہے کہ تقریباً دو تہائی پاکستانی نوجوان ہیں۔ خاص طور پر، 15 سے 29 سال کی عمر کے لوگ 29 فیصد ہیں – یہ وہ گروپ ہے جو "یوتھ" کہلاتا ہے۔

یہ اعداد حیران کن ہیں کیونکہ دنیا کے بیشتر ممالک میں آبادی بوڑھی ہو رہی ہے۔ مثال کے طور پر، چین میں اوسط عمر 52 سال تک پہنچنے والی ہے، برطانیہ میں 42، جبکہ پاکستان میں اوسط عمر صرف 20.4 سال ہے۔ 2050 تک بھی یہ صرف 26 سال تک پہنچے گی۔ یہ "یوتھ بلج" ہے – یعنی نوجوانوں کی ایک لہر جو ملک کو آگے بڑھا سکتی ہے یا مسائل پیدا کر سکتی ہے۔

کیوں یہ حقیقت "حیران کن" ہے؟

یہ حقیقت حیران کن ہے کیونکہ یہ ایک موقع بھی ہے اور چیلنج بھی۔ ایک طرف، اتنی نوجوان آبادی کا مطلب ہے کہ ہمارے پاس مزدور قوت، نئی سوچیں، اور ترقی کی صلاحیت ہے۔ تصور کریں: اگر یہ نوجوان تعلیم یافتہ ہوں، نوکریاں پائیں، اور ملک کی معیشت میں حصہ ڈالیں تو پاکستان ایک طاقتور ملک بن سکتا ہے۔ یہ وہی ہے جو چین اور بھارت نے کیا – اپنی نوجوان آبادی کو استعمال کر کے معاشی انقلاب لائے۔

لیکن دوسری طرف، یہ حیران کن اس لیے ہے کیونکہ ہم اس موقع کو ضائع کر رہے ہیں۔ پاکستان میں نوجوانوں کی شرح نمو دنیا میں سب سے زیادہ ہے (تقریباً 2 فیصد سالانہ)، اور بچوں کی پیدائش کی شرح بھی جنوبی ایشیا میں سب سے زیادہ (3.6 بچے فی خاتون)۔ نتیجہ؟ وسائل کم، مسائل زیادہ۔ نوجوان بے روزگار ہیں، مہنگائی کی زد میں ہیں، اور تعلیم کا معیار ناقص ہے۔ ایک رپورٹ کے مطابق، 60 فیصد نوجوانوں کو مناسب تعلیم، نوکری، یا معاشی مواقع نہیں ملتے۔ یہ "بلج" ایک دھماکہ خیز بم کی طرح ہے جو پھٹ سکتا ہے اگر نہ سنبھالا جائے۔

ہمارے نوجوانوں کے سامنے چیلنجز

اب دیکھیں کہ یہ نوجوان قوم کس حال میں ہے:
- بے روزگاری اور مہنگائی: میرے پچھلے بلاگ میں میں نے کراچی کی مہنگائی پر بات کی تھی۔ یہ نوجوان، جو ملک کا مستقبل ہیں، مہنگائی کی وجہ سے پریشان ہیں۔ نوکریاں نہیں، اور اگر ہیں تو تنخواہ کم۔ تقریباً 80 فیصد لوگ 40 سال سے کم عمر کے ہیں، اور یہ سب اپنے بچوں کی پرورش کے سالوں میں ہیں – لیکن وسائل کہاں؟
- تعلیم کی کمی: لاکھوں نوجوان سکول نہیں جا پاتے۔ جو جاتے ہیں، وہاں معیار ناقص۔ نتیجہ؟ ہنر مند مزدور قوت کی کمی، اور ملک کی ترقی رک جاتی ہے۔
- سیاسی اور سماجی مسائل: نوجوانوں کی یہ لہر اگر ناراض ہو تو انقلاب لا سکتی ہے، جیسے عمران خان کی تحریک میں دیکھا۔ لیکن اگر استعمال نہ کیا جائے تو انتہا پسندی، جرائم، اور مایوسی پھیلتی ہے۔
- ماحولیاتی اور معاشی دباؤ: کراچی کی تباہی کے بلاگ میں میں نے بتایا تھا کہ غلط ترقی اور لالچ شہر کو تباہ کر رہے ہیں۔ یہ نوجوان آبادی وسائل پر مزید دباؤ ڈال رہی ہے – پانی، بجلی، رہائش۔ اگر ابھی پلاننگ نہ کی تو 2050 تک آبادی اور بڑھے گی، اور مسائل آسمان چھوئیں گے۔

یہ موقع کیسے استعمال کریں؟

یہ حیران کن حقیقت کو تبدیل کرنے کا وقت ہے۔ ہمیں چاہیے:
1. تعلیم پر سرمایہ کاری: ہر نوجوان کو معیاری تعلیم دیں، خاص طور پر ہنر سیکھنے والے کورسز۔
2. نوکریاں پیدا کریں: کاروبار کو آسان بنائیں، نوجوانوں کو سٹارٹ اپس شروع کرنے میں مدد دیں۔ حجم پر توجہ دیں، جیسے مہنگائی والے بلاگ میں کہا۔
3. خاندانی منصوبہ بندی: پیدائش کی شرح کو کنٹرول کریں تاکہ آبادی متوازن رہے۔
4. سیاسی شرکت: نوجوانوں کو سیاست میں لائے، تاکہ وہ اپنا مستقبل خود بنائیں۔

اگر ہم یہ نہ کریں تو یہ "نوجوان قوم" ایک لعنت بن جائے گی – بے روزگاری، غربت، اور عدم استحکام۔

آخری بات

دوستو، یہ یوٹیوب شارٹ کی حقیقت ہے جو ہمیں جھنجھوڑتی ہے: پاکستان دنیا کی سب سے نوجوان قوموں میں سے ایک ہے، لیکن ہم اسے ضائع کر رہے ہیں۔ یہ حیران کن ہے کیونکہ یہ ہمارا مستقبل ہے۔ میرے پچھلے بلاگس کی طرح، یہ بھی ہمارے رویے پر منحصر ہے – لالچ چھوڑیں، پائیدار ترقی پر توجہ دیں۔

آپ کیا سوچتے ہیں؟ کمنٹس میں بتائیں۔ اللہ پاکستان کو ترقی دے۔  
کراچی  
24 فروری 2026


مکمل تحریر >>

23/2/26

کراچی کی تباہی: مہنگائی اور غلط ترقی کا گہرا رشتہ

سلام علیکم دوستو!  
میں مرتضیٰ معیز ہوں، کراچی کا رہنے والا، اور آج میں اپنے پچھلے بلاگ "کراچی میں مہنگائی کیوں بڑھ رہی ہے؟" کو ایک اور اہم موضوع سے جوڑ رہا ہوں  کراچی کی تباہی۔ یہ بلاگ ڈان نیوز کے ایک آرٹیکل "DESTROYING KARACHI THROUGH ‘DEVELOPMENT’" سے متاثر ہے، جو کراچی کی غلط ترقی اور رئیل اسٹیٹ پروجیکٹس کی وجہ سے ہونے والی تباہی پر روشنی ڈالتا ہے۔ میں یہاں یہ بتانا چاہتا ہوں کہ مہنگائی کی وجہ سے کراچی کو جو نقصان پہنچ رہا ہے، وہ صرف معاشی نہیں بلکہ یہ شہر کی مجموعی تباہی کا حصہ ہے۔ نہ صرف ہم نے اس رویے سے کراچی کو تباہ کیا ہے بلکہ مجموعی مارکیٹ کو بھی مسخ کر دیا ہے۔ یہ میرا اپنا لکھا ہوا ہے، دل کی بات اور مشاہدات کی بنیاد پر۔

مہنگائی اور تباہی کا رشتہ

میرے پچھلے بلاگ میں میں نے بتایا تھا کہ کراچی میں مہنگائی کی ایک بڑی وجہ ہمارا اپنا رویہ ہے – ہر چیز پر زیادہ سے زیادہ منافع کمانے کی لالچ۔ دکاندار ایک ہی چیز پر زیادہ منافع مارتے ہیں، جس سے قیمتیں آسمان چھو جاتی ہیں، لوگ کم خریدتے ہیں، اور یہ چرخہ چلتا رہتا ہے۔ اب اسے کراچی کی تباہی سے جوڑیں: وہ تباہی جو غلط ترقی، ہائی رائز عمارتوں، اور رئیل اسٹیٹ کی اندھا دھند دوڑ سے ہو رہی ہے۔ یہ دونوں ایک ہی سکے کے دو رخ ہیں – لالچ اور قلیل مدتی سوچ۔

ڈان کے آرٹیکل میں بتایا گیا ہے کہ کراچی کی ماسٹر پلانز کو نظر انداز کیا جا رہا ہے، زوننگ قوانین کی خلاف ورزی ہو رہی ہے، اور ہائی رائز عمارتیں بغیر حفاظتی اقدامات کے بنائی جا رہی ہیں۔ یہ وہی لالچ ہے جو مہنگائی میں نظر آتی ہے: بلڈر مافیا زیادہ سے زیادہ منافع کے لیے قوانین توڑتے ہیں، گرین اسپیسز کو ختم کرتے ہیں، اور شہر کو ایک نازک ماحولیاتی نظام میں تبدیل کر دیتے ہیں۔ نتیجہ؟ بارشوں میں سیلاب، گلیاں ندیوں میں تبدیل، اور لوگوں کی جانیں ضائع۔ اگست 2025 کی بارشوں نے یہ ثابت کر دیا کہ کراچی ڈوب رہا ہے – نہ صرف پانی میں بلکہ غلط فیصلوں میں۔

ہم نے کراچی کو اس طرح کیسے تباہ کیا؟

یہ تباہی صرف جسمانی نہیں، معاشی بھی ہے، اور مہنگائی اس کا ایک بڑا ہتھیار ہے۔ 
- لالچ کی زنجیر: جیسے دکاندار ایک چیز پر زیادہ منافع مارتے ہیں اور کل فروخت کم ہو جاتی ہے، ویسے ہی بلڈرز ایک پلاٹ پر زیادہ سے زیادہ فلورز بناتے ہیں (فلوور ایریا ریشو کو 1.75:1 سے 4:1 تک بڑھا کر)، بغیر یہ سوچے کہ پانی، بجلی، سیوریج کا کیا ہوگا۔ نتیجہ: ایک پلاٹ جو ایک فیملی کے لیے تھا، اب 50-60 فیملیز (1000 سے زیادہ لوگ) رکھتا ہے۔ یہ strain شہر کے وسائل پر ڈالتا ہے، جس سے مہنگائی بڑھتی ہے – پانی مہنگا، بجلی مہنگی، ٹرانسپورٹ مہنگی۔
- ماحولیاتی نقصان: کراچی کے ساحلوں پر پروجیکٹس مینگرووز کو تباہ کر رہے ہیں، جو کاربن جذب کرنے والے اہم جنگلات ہیں۔ یہ تباہی سیلاب کا خطرہ بڑھاتی ہے، جو پھر معیشت کو متاثر کرتی ہے – کاروبار بند، لوگ بے روزگار، اور مہنگائی آسمان چھو جاتی ہے کیونکہ سپلائی چین ٹوٹ جاتی ہے۔
- رہائشیوں پر اثر: ہائی رائزز میں رہنے والے لوگ گرمی، آلودگی، اور تناؤ کا شکار ہیں۔ ایک سروے کے مطابق، 64% لوگ مستقل تکلیف میں ہیں۔ یہ ذہنی صحت خراب کرتی ہے، کام کی صلاحیت کم کرتی ہے، اور معاشی پیداوار گھٹتی ہے – جو مہنگائی کو مزید ہوا دیتی ہے۔

ہم نے کراچی کو تباہ کیا ہے اس لالچ سے جو مہنگائی کو جنم دیتا ہے اور ترقی کو غلط رخ دیتا ہے۔ شہر جو کبھی خوشحال تھا، اب ڈوب رہا ہے، جل رہا ہے، اور ٹوٹ رہا ہے۔

مجموعی مارکیٹ کو کیسے مسخ کیا؟

یہ صرف کراچی کی تباہی نہیں، بلکہ مجموعی مارکیٹ کی مسخ شدگی ہے۔ 
- سپیکولیٹو گروتھ: آرٹیکل میں بتایا گیا ہے کہ زمین کی استعمال قدر پر نہیں، بلکہ منافع پر ہو رہی ہے۔ یہ سپیکولیشن مارکیٹ کو distort کرتی ہے – رئیل اسٹیٹ میں پیسہ لگتا ہے، نہ کہ پیداواری کاموں میں۔ نتیجہ: معاشی عدم توازن، جہاں امیر مزید امیر ہوتے ہیں اور غریب مہنگائی کی زد میں آتے ہیں۔
- ریسورس کی کمی: غلط ترقی وسائل کو ختم کرتی ہے، جس سے اشیاء کی قیمتیں بڑھتی ہیں۔ مثال کے طور پر، گرین اسپیسز ختم ہونے سے درجہ حرارت بڑھتا ہے، جو زراعت کو متاثر کرتا ہے – پھل، سبزیاں مہنگیں، اور مہنگائی کا چرخہ چلتا ہے۔
- مصرفیت کی ترغیب: مالز اور ہائی رائزز مصرفیت کو بڑھاوا دیتے ہیں، بغیر پائیداری کے۔ یہ مارکیٹ کو distort کرتی ہے – لوگ ضروریات کی بجائے لگژری پر خرچ کرتے ہیں، قرض بڑھتے ہیں، اور معیشت کمزور ہوتی ہے۔
- بلڈر مافیا کا راج: قوانین توڑنے اور ایمنسٹی فیس سے بلڈنگز، مارکیٹ کو غیر منصفانہ بناتے ہیں۔ یہ مقابلہ ختم کرتا ہے، چھوٹے کاروبار تباہ ہوتے ہیں، اور بڑے پلیئرز مونوپولی قائم کرتے ہیں – جو مہنگائی کو مستقل بناتا ہے۔

مجموعی طور پر، یہ لالچ مارکیٹ کو مسخ کر رہی ہے: معاشی عدم مساوات بڑھ رہی ہے، وسائل ضائع ہو رہے ہیں، اور کراچی کی معیشت ایک نازک دھاگے پر لٹک رہی ہے۔

آخری بات

دوستو، مہنگائی اور غلط ترقی دونوں کراچی کو تباہ کر رہی ہیں، اور یہ ہمارا اپنا کیا دھرا ہے۔ اگر ہم اپنا رویہ نہ بدلیں – منافع کی بجائے پائیداری اور حجم پر توجہ دیں – تو یہ شہر مزید برباد ہوگا۔ آرٹیکل میں کہا گیا ہے کہ "پولیوٹر پیز پرنسپل" اپنانا چاہیے، جہاں تباہی کرنے والے اس کی قیمت ادا کریں۔ ہمیں بھی ایسا کرنا ہوگا۔

آپ کیا سوچتے ہیں؟ کمنٹس میں بتائیں۔ اللہ کراچی کو بچائے۔  
کراچی


مکمل تحریر >>

بلاگ میں مزید دیکھیں

You might like

$results={5}

Search me

Translate