The Political Horizon: Family Dynamics

Translate

مئی 31, 2026

کراچی کے معاشرے میں بزرگوں کی مداخلت: میاں بیوی کے رشتوں کو کمزور کرنے والی خاموش سیاست

کچھ بزرگوں کا اصل مسئلہ بے وقعتی نہیں، بے وقعت ہو جانے کا خوف ہے

کراچی کے معاشرے میں ایک خاموش مگر خطرناک رجحان تیزی سے بڑھ رہا ہے، جہاں بعض خاندانوں میں میاں بیوی کے تعلقات کو مضبوط بنانے کے بجائے ان کے درمیان فاصلے پیدا کیے جاتے ہیں۔ مالی حیثیت، خاندانی کنٹرول، جذباتی دباؤ اور غیر ضروری مداخلت نے بہت سے گھروں کا سکون متاثر کیا ہے۔ یہ مضمون انہی رویوں کا جائزہ لیتا ہے جو بظاہر خاندانی فکر کے نام پر کیے جاتے ہیں مگر اکثر ان کے نتائج تعلقات میں بداعتمادی، اختلافات اور ذہنی دباؤ کی صورت میں سامنے آتے ہیں۔

کراچی کے معاشرے میں ایک عجیب بیماری خاموشی سے پھیل رہی ہے۔

یہ بیماری غربت نہیں۔

یہ بیماری بے روزگاری نہیں۔

یہ بیماری مہنگائی بھی نہیں۔

یہ بیماری وہ ذہنیت ہے جو عمر کے ساتھ حکمت پیدا کرنے کے بجائے دوسروں پر اپنی گرفت برقرار رکھنے کو کامیابی سمجھتی ہے۔

ہمارے معاشرے میں بعض لوگ خود کو بزرگ تو کہتے ہیں، مگر بزرگوں والی ذمہ داری نبھانے کے بجائے اپنی اہمیت برقرار رکھنے کی جنگ لڑتے رہتے ہیں۔

ان کا سب سے بڑا خوف یہ نہیں ہوتا کہ اولاد ناکام ہو جائے۔

ان کا سب سے بڑا خوف یہ ہوتا ہے کہ اولاد ان کے بغیر کامیاب ہو جائے۔

کیونکہ جس دن نوجوان اپنی سوچ، اپنی محنت اور اپنی صلاحیت کے بل بوتے پر کھڑا ہو گیا، اسی دن مصنوعی اختیار کی دکان بند ہو جاتی ہے۔

یہی وجہ ہے کہ بعض لوگ رہنمائی نہیں کرتے، راستے میں رکاوٹیں کھڑی کرتے ہیں۔

وہ اصلاح نہیں کرتے، اشتعال دلاتے ہیں۔

وہ غلطی روکنے کی کوشش نہیں کرتے، بلکہ بعض اوقات نوجوانوں کو غلطی کی طرف دھکیلتے ہیں تاکہ بعد میں یہ کہہ سکیں:

"ہم نے پہلے ہی کہا تھا۔"

گویا مقصد مسئلہ حل کرنا نہیں، بلکہ اپنی پیشگوئی درست ثابت کرنا ہوتا ہے۔

ایسے لوگ نوجوان کو مضبوط دیکھنا نہیں چاہتے۔

وہ نوجوان کو غلطی کرتے دیکھنا چاہتے ہیں۔

کیونکہ ہر غلطی ان کے لیے ایک نئی تقریر کا موقع بن جاتی ہے۔

ہر ناکامی ان کی پرانی برتری کو زندہ کر دیتی ہے۔

ہر بحران انہیں دوبارہ اہم بنا دیتا ہے۔

اور یہی وہ مقام ہے جہاں خاندان میدانِ جنگ بننا شروع ہو جاتا ہے۔

بعض لوگ شوہر اور بیوی کے درمیان اختلاف ختم نہیں کرواتے، بلکہ اختلاف کو ایندھن فراہم کرتے ہیں۔

وہ براہِ راست حملہ نہیں کرتے۔

وہ کان بھرتے ہیں۔

شکوک پیدا کرتے ہیں۔

غلط فہمیاں بڑھاتے ہیں۔

اور پھر تماشائی بن کر بیٹھ جاتے ہیں۔

جبکہ نقصان ایک پورے خاندان کا ہو رہا ہوتا ہے۔

اس سے بھی زیادہ خطرناک چیز وہ ذہنیت ہے جس نے انسان کی قیمت کو صرف پیسے سے جوڑ دیا ہے۔

آج بہت سے گھروں میں کردار کی نہیں، آمدنی کی عزت ہوتی ہے۔

اخلاق کی نہیں، تنخواہ کی اہمیت ہوتی ہے۔

علم کی نہیں، بینک بیلنس کی قدر ہوتی ہے۔

اگر پیسہ آ رہا ہو تو خامیاں بھی خوبی بن جاتی ہیں۔

اور اگر مالی مشکلات آ جائیں تو سالوں کی قربانیاں بھی بھلا دی جاتی ہیں۔

گویا انسان نہیں، اس کی تنخواہ زندہ ہے۔

یہ سوچ صرف ظالمانہ نہیں، انتہائی سطحی بھی ہے۔

کیونکہ جو معاشرہ پیسے کو انسان سے بڑا بنا دیتا ہے، وہاں منافقت پھلتی پھولتی ہے اور کردار دفن ہو جاتا ہے۔

حقیقی بزرگ وہ نہیں جو ہر وقت اپنی عمر کا حوالہ دیں۔

حقیقی بزرگ وہ ہیں جن کی موجودگی سے نوجوان مضبوط ہوں۔

جن کی صحبت سے اعتماد پیدا ہو۔

جن کی بات سے راستے کھلیں۔

جن کی رہنمائی سے غلطیاں کم ہوں۔

اور جن کی وجہ سے خاندان جڑے رہیں۔

لیکن جو لوگ اپنی اہمیت برقرار رکھنے کے لیے اختلافات پیدا کریں، لوگوں کو ایک دوسرے کے خلاف کھڑا کریں، نوجوانوں کو اشتعال دلائیں، اور پھر ان کی ناکامیوں پر اپنی دانائی کا جھنڈا گاڑیں، وہ دراصل احترام نہیں کما رہے ہوتے۔

وہ صرف اپنے خوف کو چھپا رہے ہوتے ہیں۔

وقت بدل رہا ہے۔

نئی نسل کو غلام نہیں، رہنما چاہیے۔

نئی نسل کو حکم دینے والے نہیں، سمجھنے والے چاہیے۔

اور سب سے بڑھ کر، نئی نسل کو ایسے لوگ چاہیے جو انہیں گرنے سے بچائیں، نہ کہ انہیں دھکا دے کر پھر اپنی دور اندیشی کے قصے سنائیں۔

کیونکہ تاریخ میں وہ لوگ یاد نہیں رکھے جاتے جنہوں نے دوسروں کو چھوٹا رکھا۔

تاریخ میں وہ لوگ یاد رکھے جاتے ہیں جنہوں نے دوسروں کو بڑا ہونے دیا۔

میاں بیوی کے درمیان دراڑیں پیدا کرنا تاکہ اپنی اہمیت برقرار رکھی جا سکے

ہمارے معاشرے کا ایک بڑا المیہ یہ ہے کہ بہت سے لوگ دوسروں کی زندگی کو سکون سے چلتے ہوئے برداشت نہیں کر سکتے۔ اگر کوئی شخص اپنی بیوی، اپنے بچوں اور اپنے کام کے ساتھ ایک سادہ اور پُرسکون زندگی گزارنا چاہے، بغیر کسی سوشل ویلیڈیشن، بغیر کسی ڈرامے اور بغیر کسی توجہ کے، تو اسے ایسا کرنے نہیں دیا جاتا۔

ایسا لگتا ہے جیسے بعض لوگوں کی اپنی اہمیت کا دارومدار ہی اس بات پر ہو کہ وہ دوسروں کے معاملات میں کس حد تک دخل اندازی کر سکتے ہیں۔

جب میں بینک میں کام کرتا تھا اور میرے ہاں بچے کی آمد متوقع تھی، تو ایک کولیگ نے اشاروں میں کہا تھا کہ "دیکھ لینا، چیزیں مشکل ہو جائیں گی۔" اس وقت میں نے اس بات کو زیادہ اہمیت نہیں دی۔ مجھے لگا کہ شاید یہ عام گھریلو چیلنجز کی بات کر رہا ہے۔

لیکن آج 2026 میں کھڑے ہو کر پیچھے دیکھتا ہوں تو وہ جملہ بالکل واضح نظر آتا ہے۔

مشکل صرف مالی حالات یا ذمہ داریوں کی نہیں ہوتی۔

اصل مشکل وہ لوگ ہوتے ہیں جو ایک نئے خاندان کو اپنے پاؤں پر کھڑا ہوتے نہیں دیکھ سکتے۔

میں نے کراچی کا وہ دور بھی دیکھا ہے جب نوجوانوں کے پاس مصروفیات تھیں۔ سنگم گراؤنڈ جیسے میدانوں میں صبح، دوپہر اور شام کرکٹ ہوتی تھی۔ فلڈ لائٹس تو نہیں تھیں، لیکن بانس لگا کر لائٹیں ٹانگ دی جاتی تھیں اور کھیل جاری رہتا تھا۔ لوگوں کے پاس وقت کم تھا اور مصروفیات زیادہ تھیں۔

آج صورتحال مختلف ہے۔

مصروفیت کم ہے، مداخلت زیادہ ہے۔

تعمیر کم ہے، تبصرے زیادہ ہیں۔

اور افسوس کی بات یہ ہے کہ بہت سے لوگ اپنی زندگی بہتر بنانے کے بجائے دوسروں کی زندگی پر اثر انداز ہونے میں دلچسپی رکھتے ہیں۔

میں ایک بات پر یقین رکھتا ہوں:

انسان وہی پاتا ہے جو وہ دوسروں کے لیے چاہتا ہے۔

نیت صاف ہو تو راستے بھی صاف ہوتے ہیں۔

لیکن جب کسی کی توجہ اپنی تعمیر کے بجائے دوسروں کی زندگیوں پر مرکوز ہو جائے تو پھر تعلقات کمزور ہونا شروع ہو جاتے ہیں۔

میرے معاملے میں سب سے تکلیف دہ بات یہ نہیں تھی کہ میری نوکری دسمبر 2025 میں گئی۔

تکلیف دہ بات یہ تھی کہ اس کے بعد مجھے جس حمایت کی ضرورت تھی، وہ مجھے نہیں ملی۔

میں نے اپنی بیوی کے ساتھ ہمیشہ ایک پارٹنر کی طرح کھڑے ہونے کی کوشش کی۔ جب اس کی والدہ کا انتقال ہوا، میں نے ہر ممکن حد تک اس کا ساتھ دیا۔ جب میری والدہ نے اسے پیر فقیر یا غیر ضروری روحانی راستوں کی طرف لے جانے کی بات کی، تو میں نے اپنی بیوی کی عزت اور خودمختاری کے لیے کھل کر مؤقف اختیار کیا۔

اس وقت میری ترجیح اپنی بیوی تھی کیونکہ وہ میری شریکِ حیات تھی۔

لیکن آج جب میں اپنے مشکل ترین دور سے گزرا، تو صورتحال بالکل الٹ دکھائی دی۔

مجھے محسوس ہوا کہ میری بیوی میرے ساتھ کھڑے ہونے کے بجائے انہی لوگوں کے مؤقف کے قریب ہوتی چلی گئی جن کے مقابلے میں میں نے اس کے لیے کھڑے ہونے کا انتخاب کیا تھا۔

یہاں ایک بڑا سوال پیدا ہوتا ہے۔

میاں بیوی کا رشتہ کس چیز پر قائم ہوتا ہے؟

سمجھ بوجھ پر؟

اعتماد پر؟

یا پھر اس بات پر کہ جب ایک فریق کمزور ہو تو دوسرا اس کی کمزوری کو اپنے فائدے کے لیے استعمال کرے؟

میرے نزدیک میاں بیوی کا رشتہ اتحاد کا نام ہے، اتحاد کے خلاف بننے والی سیاسی صف بندیوں کا نہیں۔

جب میں کھلے ذہن سے پورے سلسلے کو دیکھتا ہوں، تو ایک چیز بار بار سامنے آتی ہے۔

بعض اوقات خاندانوں میں اختلافات حادثاتی نہیں ہوتے۔

انہیں پروان چڑھایا جاتا ہے۔

انہیں ہوا دی جاتی ہے۔

انہیں اس لیے زندہ رکھا جاتا ہے تاکہ کچھ لوگ اپنی اہمیت برقرار رکھ سکیں۔

کیونکہ اگر شوہر اور بیوی ایک دوسرے کو سمجھنے لگیں، ایک دوسرے کے ساتھ کھڑے ہو جائیں، اور اپنے فیصلے خود کرنے لگیں، تو بہت سے غیر ضروری کردار غیر متعلق ہو جاتے ہیں۔

یہی وجہ ہے کہ بعض لوگ مسائل حل نہیں کرتے، بلکہ مسائل کو زندہ رکھتے ہیں۔

بعض لوگ غلط فہمیاں دور نہیں کرتے، بلکہ انہیں بڑھاتے ہیں۔

اور بعض لوگ نوجوانوں کو غلطیوں سے بچانے کے بجائے ایسے حالات پیدا کرتے ہیں جہاں غلطی کا امکان بڑھ جائے، تاکہ بعد میں وہ اپنی دانائی کا اعلان کر سکیں۔

میرا مقصد الزام لگانا نہیں۔

میرا مقصد ایک رویے کی نشاندہی کرنا ہے۔

وہ رویہ جس میں خاندان کی مضبوطی سے زیادہ اپنی اہمیت عزیز ہو جاتی ہے۔

وہ رویہ جس میں حمایت کی جگہ حساب کتاب لے لیتا ہے۔

اور وہ رویہ جس میں ایک بیٹے، ایک شوہر اور ایک باپ کی مشکلات کو سمجھنے کے بجائے انہیں پرانے اسکور برابر کرنے کے موقع کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔

یہ رویہ صرف افراد کو نہیں توڑتا۔

یہ پورے خاندانوں کو اندر سے کھوکھلا کر دیتا ہے۔

مکمل تحریر >>

مئی 13, 2026

This is not the case that I am against "All Baby Boomers"

میرے بلاگز سے یہ دکھائی دے رہا ہوتا ہے کہ جیسے میں بڑی عمر کے بزرگوں کے خلاف ہوں، 

میں carry-forward mechanism کا حامی ہوں

یہ ساتھ والے گولے دیکھ رہے ہیں؟ اس سے آپ کیا اثر لے رہے ہیں، کسی نے کہا ہے کہ دو گیندیں دیکھ رہی ہیں، کوئی اس میں لال اور نیلی گیند دیکھ رہا ہے، جبکہ میں یہاں ان دو گیندوں کو best of two worlds کے طور پر دیکھوں گا۔

Best of Two Worlds

یہ mechanism پر believe کرتا ہوں، کیونکہ ان دو گیندوں کے بیچ میں ایک terminator line بنی ہوئی ہے، جہاں لال اور نیلی گیند دونوں کے اثرات ہیں، ایسا کہیں نہیں کہ دونوں گیندوں کو ایک کر دیں تو individuality ختم ہو جائے گی، آپ کو respect دینی ہوگی کہ آپ دوسرے کو respect دو گے تو دوسرا بھی آپ کا خیال کرے گا۔

THIS IS HIGH TIME - PAKISTANI BABY BOOMERS BE EXPOSED ACCORDINGLY

اس بلاگ پوسٹ میں، میں نے بیوی کے بارے میں بتایا کہ وہ بلا وجہ انگلیاں توڑ رہی ہے، 

میں اسی طرح کا بندہ ہوں، جو Quid-Pro-Quo کی basis پر believe کرتا ہوں، اگر بیوی کا رویہ میرے ساتھ ٹھیک ہوتا، میں گِر پڑھ کر اس کو سپورٹ کرتا، مگر اب اگر یہ Black Michael بننے کا شوق ہے، تو پھر میں بھی Othello ہوں، بیشک اوتھیلو مر جاتا ہے اس ناول میں، مگر یہاں بلیک مائیکل کا کردار یہاں مجھے اپنی بیوی کے ذریعے دیکھ رہا ہوں، ایک جانب میں دیکھ رہا ہوں کہ مجھے بیوی کی بات سننے کا فرض ہے مگرمیری پسند نا پسند کا خیال نہیں رکھنا ضروری ہے، کیونکہ اس بات کا کیا مطلب ہے؛

میں نوکر نہیں ہوں کہ آپ کی بات مانوں

مگر دوسری جانب یہ بات سنوں کہ یہ میری ذمہ داری ہے، اس سے کوئی denial نہیں، مگر intend to take all and give nothing، کیا اس کے اندر یہ سب کچھ بھی آتا ہے؟

میری والدہ مجھے mock کرتے ہوئے

میں اپنی تکلیف بھول کر، نوکری نہیں ہوتے ہوئے بھی بائیکیا چلا کر پیسے کما کر پچھلے مہینے ۵۵۰۰ کی بچے کی چکن پاکس کی ویکسین، اور اس مہینے ۴۵۰۰ کی ویکسین میں سے ۴۰۰۰ جمع کرچکا ہوں، جون میں اس کی ویکسن ہوگی، تو اپنی تکلیف بھول کر وہ خرچہ کرتا ہوں، مگر پھر بھی گھر میں ایسا toxic ماحول، کیا میں اس قابل ہوں؟ اب میرا مسئلہ یہ ہوتا ہے کہ ایک static پوزیشن کے بعد جب میں موومنٹ میں آتا ہوں تو muscular pain شروع ہوجاتا اور اسی وجہ سے میری کمر اور hips درد کرتے، اب میرے اوپر اس وقت یہ صورتحال ہے، تو میری ماں کی جانب سے یہ megalomaniac اور narcissistic طریقہ سے مجھے ٹریٹ کرنا، کہ اپنا علاج کیوں نہیں کراتے؟ مسئلہ رگوں کا ہے، اب اس وقت میں یہ رسک تھوڑی لے سکتا کہ رگ کا علاج بیچ میں چھوڑ دوں کیونکہ بچے کو نہیں چھوڑنا ہے، میں اپنی تکلیف برداشت کرلوں گا مگر بچے کو نہیں دیکھوں گا کہ وہ تکلیف میں رہے، کیونکہ رگ کا علاج بیچ میں روک دیا تو بائیک کے ذریعے کمائی روک سکتی ہے، کیونکہ پاؤں جام ہوگئے تو بائیک چلانا ایک طرف، میں پیدل نہیں چل سکتا، تو ایسے میں گھر میں toxicity اس حد تک ہے، کہ ماں ہوتے ہوئے یہ سمجھنا مشکل ہورہا ہے، کہ بینک میں میری تنخواہ ۳۷۰۰۰ رہی ہے، تو اب ایسے میں کیسے ممکن ہے کہ میں اپنا علاج بھی کروں، اور اس کے ساتھ بچے کی ویکسین کا خرچہ safe کروں، دونوں چیزیں ایک ساتھ اور یک مشت تھوڑی ہوتا ہے۔

🏙️We Fail as Society

مگر معذرت کے ساتھ، غلطی کو غلط ماننے کے بجائے دوسرا بندہ جو ایک ایسی مثال جہاں tolerance کرنا چاہ رہا ہے، مگر جواب میں میرے برداشت کی بس کر دیتے ہیں، اور متعدد بار ایک ہی چیز ہونا، یہی مطلب ہوتا ہے کہ it is all preplanned، کیونکہ گھر میں یہ ماحول بالکل موجود ہے، کہ والدین بالکل ٹھیک ہوتے، چلو مان لیا آپ بالکل ٹھیک ہو، تو آپ نے ہمیں معاشرہ کیسا دیا ہے؟ کیا اس کی ذمہ داری آپ کے اوپر نہیں؟ جو مثال آپ ہمارے سامنے پیش کررہے ہو، اس کی ذمہ داری لے رہے ہیں؟ When you create a toxic environment with bad examples



مکمل تحریر >>

This is High Time - Pakistani Baby Boomers be exposed accordingly

یہاں میرا یہ لکھنے کا مقصد نہیں کہ میں دشمنیاں پال رہا ہوں، کیونکہ کافی بے بی بومرز ایسے ہیں، جو Millennials اور آنے والی جنریشنز کو ساتھ لے کر چلنا چاہتے ہیں، اس کے لئے وہ نئی جنریشنز کے ساتھ چیزیں سیکھتے ہیں، اور ایسا محسوس نہیں کراتے کہ جیسے ان کی اسکلز اور چیزیں کسی سے کم ہیں، کیونکہ عزتِ نفس ایک ایسی چیز ہے جو کسی زبان کا محتاج نہیں، یہاں تک کہ اگر کسی جانور کے ساتھ اچھا behave کرو، تو وہ بھی جواب میں اپنی زبان میں شکریہ کرتا۔

میرے ساتھ

میری بلی تھی، اب ختم ہوگئی، کافی پرانی تھی، کیونکہ اسکی ماں میرے پاس چھوڑ کر گئی تھی، اور میرے والد (بیشک ابھی مجھے گالیاں دیں گے)، مگر وہ بھی یہ بات مانیں گے کہ میری وہ بلی کی ماں میرے پاس اپنا بچہ چھوڑ کر چلی گئی تھی، اب یہ نہیں پتا کہ واقعی میں چھوڑ کر گئی تھی یا پھر ایسا ہوا کہ ادھر چھوڑا اور ادھر اس کے اوپر سے گاڑی گزر گئی کیونکہ اس کے بعد پھر کبھی وہ نہیں دکھائی دی، اور وہ COVID کے دن تھے، کیونکہ مجھے یاد ہے، کہ میں اس بچہ کو صرف حوصلہ دیتا تھا، اور COVID کے دنوں میں gloves کا بہت استعمال ہوتا تھا، تو اسی synthetic gloves میں پن سے چھوٹا سراخ کر کے اس کو Millac پلاتا تھا، حالانکہ اپنی اماں سے ڈانٹ کھاتا تھا مگر میرا یہ ماننا تھا کہ اس ماحول میں جانوروں کو اکیلا کیونکر چھوڑوں، اور اسی وجہ سے اپنے آخری ٹائم تک میرے والد، میری والدہ، میری بیوی سے ڈانٹ کھا کر میرے کمرے میں آجاتا تھا، کیونکہ اس کو سکون ہوتا تھا کہ یہ بندہ مجھے کبھی نہیں دھتکارے گا۔

اب بات اس چھوٹے بلی کے بچے سے اپنی زندگی میں آرہی ہے

جہاں میری اس نیچر کو تین طرف سے exploit کیا جارہا ہے، کیونکہ اس وقت گھر میں تین دھاری تلوار پر زندگی گزار رہا ہوں، یہاں مسئلہ یہ ہے، کہ دو عورتوں (میری ماں اور میری بیوی)،  ایک مرد (میرے والد) اپنی جانب میری ہاں رکھنا چاہتے ورنہ "کیفے قبائیل" والی ذہنیت میرے اوپر implement کرنے کی کوشش ہے، اور یہ بلاگ لکھانے کا مقصد یہی ہے کہ اس چیز کا ریکارڈ رکھنا چاہتا ہوں۔

میری بیوی aka چڑھتے سورج کی پجاری

میری بیوی کا مسئلہ یہی ہے کہ اس کو کوئی نا کوئی shoulder چاہئے ہوتا ہے، کہ اپنے آپ کو اس کے پیچھے چھپائے، emotional and ethically کمزور ہے، آج میرے پاس نوکری نہیں ہے، بیشک اس میں میری خود کی بھی کمزوری ہے، کیونکہ میرے ساتھ scam ہوا، مگر ایسی صورتحال میں بیوی کو میرے ساتھ کھڑا ہونا چاہئے، مگر یہاں بات یہی ہے کہ میں نے اپنی زندگی Integrity کے ساتھ گزاری، مگر اب مجھے بغلیں جھانکنے والا بنانا چاہتی ہے، کیونکہ اس کے پاس کوئی جواز نہیں تھا، یہی ایک جواز تھا جہاں وہ مجھے ہٹ کر سکتی تھی، اور معذرت کے ساتھ مجھے ہٹ کیا، کیونکہ عورتوں کو یہ بات سمجھنی چاہئے، کہ ہر مرد کی ایک سیلف رسپیکٹ ہوتی ہے، ایسے میں اپنے اسکورز سیٹل کرنے کے لئے اس aspect کو exploit کرنے میں پیش پیش ہے، کیونکہ اس نے یہ سوچا کہ اس vulnerable condition میں، میں ٹوٹ جاؤں گا، خود بتاؤ، جب بچہ پیدا ہوا تھا تو ۹۵۰۰۰ خود ارینج کئے تھے، صرف اماں سے ۲۰۰ ڈالرز لئے تھے، وہ integrity کے ساتھ واپس PKR سے USD میں کنورٹ کرکے واپس بھی دئے، اب اس بندے کو ایسے exploit کررہے ہیں، صرف اس لئے کہ آپ کی رضامندی حاصل ہو؟

میری ماں

میری شادی سے پہلے میری ماں کا رویہ ایسا تھا کہ میری رائے کی کوئی اہمیت نہیں، شادی کے کارڈ پر بھی احسان جتانے کے لئے ۳ کارڈز دئے کہ تمہاری شادی کے لئے ہم نے پیسہ دیا ہے، جب یہ رویہ رہے گا، تو کس چیز کی عزت کی بات کررہے ہیں؟ کس چیز کی طاقت چاہئے؟ آپ نے فیملی چلانی ہے یا WWE؟ اس پر یہ کہ اس صورتحال میں بھی آخری ٹائم تک میں اپنے والدین کے لئے بولتا رہا، مگر اب صورتحال یہ ہے کہ میری بیوی کی صورت میں ان کو میری ڈگ ڈگی مل چکی ہے، صرف اس لئے کہ میری ماں مجھے کنٹرول نہیں کرسکتی، کیونکہ میں اپنے decisions میں جب No بول دیا، تو وہ No ہوگا، مائنس، مائنس پلس نہیں ہوتا، میں نے اپنا سسٹم ایسا سمپل رکھا ہے، مگر یہاں یہی ہے، کہ میں نا بولوں تو میری بیوی کو استعمال کرنے پر لگے ہوئے ہیں، کہ بادل نخواستہ "مجھے اثرات کو اپنے اوپر لوں" یہ سب کچھ ڈاکیو منٹ کرنے کا مقصد یہی ہے کہ میں خود کو تیار رکھوں، اور یہ تیاری ہی ہے کہ یہ سب کچھ میں لکھ کر ڈاکیو منٹ کررہا ہوں، کیونکہ جو toxicity میری زندگی میں میری ماں نے پھلائی ہے، اور میری بیوی کو چسکا لگ چکا ہے، کیونکہ میری ماں نے خود راستہ دکھایا ہے کہ مرتضی کو ایسا ٹریٹ کرو، 

میرے والد صاحب

آپ کسی بار بی کیو والے کے پاس گئے ہو؟ وہاں steaks لگے ہوئے ہوتے ہیں، اور ساتھ میں ایک پنکھا ہوتا ہے، میرے والد وہ پنکھا ہیں، جو ہمیشہ confrontation کو اور گرم کرتے، اور یہ موقع بابا نے دیا، کیونکہ مام اور بابا کی طرف داری کی ایک وجہ یہی ہے کہ میں اپنا فوکس ہمیشہ آن رکھتا ہوں، بابا اسی بات پر چڑتے کہ میں جواب ہمیشہ پوائنٹ پر ٹھوک کر دیتا ہوں، اسی وجہ سے میری اس نیچر کو بابا attitude بولتے، اور یہ attitude مجھ سے ختم کرنے پر تلے ہوئے ہیں، اور جیسے میں بار بار یہ بات لکھ رہا ہوں کہ یہ بلاگ لکھنے کا مقصد یہی ہے سب چیزیں آن اکاؤنٹ رہے۔

ابھی، ابھی

میں عصر کی نماز پڑھ کر آیا ہوں، اور میری بیوی نے یہ حرکت کی ہوئی ہے کہ کمرے کی کھڑکی پر پردے ڈال دئے، جبکہ میرا کمرہ ہوا کے رخ پر ہے، زرا بھی کھڑکی covered ہوجائے گی تو کمرہ Urban Island Effect کے rule کے حساب سے تپنا شروع ہوجائے گا، جبکہ اس کو فائیو اسٹار کمپلیکس میں رہنے کی عادت ہے جہاں ایک کھڑکی کھلے تو دوسرے گھر میں جھانکنا شروع، خود میرا خود کا ذاتی تجربہ ہے کہ واش روم میں گیا تو ساتھ والے فلیٹ کی واش روم میں فلش کرنے کی آواز آرہی تھی، ایسے میں، میں نے یہی کیا کہ کھڑکی کھول دی، اور پردے ہٹادئے، کیونکہ کمرہ ہوادار اچھا لگتا ہے، نا کہ یہ کہ congested رہے، ایسے میں، میں نے دو رخی تلوار کی بات کی، وہی ہوا، کہ 

پورا دن کمرہ اپنے حساب سے کھلا رکھتے، اب زرا سا کھڑکی بند کی، بچہ کا خیال نہیں

 میں نے جواب دیا

اگر میرے ساتھ رویہ صحیح رکھتے، میں خود پوری کھڑکی بند کرتا، مگر اب چونکہ تم نے مجھے ضد پر لائے ہو، اب برداشت کرو

اس کے جواب میں اس نے جواب دیا

اپنا علاج کرائیں

اسی وجہ سے میں یہ سب کچھ ڈاکیو منٹ کررہا ہوں، کیونکہ اب بہت ہوچکا ہے، میں again یہ بات لکھوں گا کہ اگر اللہ دیکھ رہا ہے، تو مجھے انصاف چاہئے، کیونکہ یہاں میرے لئے صورتحال ایسی بنا رہیں ہیں کہ میرے "غصہ"😡 کوhighlight کیا جا رہا ہے، اور اس کے لئے جیسے مصطفی کو paralized کردیا ہے، وہی tactic یہاں کررہے ہیں، اور اسی لئے میں یہ سب کچھ ڈاکیو منٹ کررہا ہوں۔

اسی لئے ان سب کا ریکارڈ میں نے Google Drive کے اس فولڈر میں ڈال دیا ہے کیونکہ ویسے Blogger مجھے اجازت نہیں دیتا کہ میں آڈیو فائل یہاں ڈالوں، مگر اب میں چیزیں upload کردوں گا، کیونکہ یہ لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ مجھے اپنے قابو میں کرکے میری تعریف کریں گے بصورت دیگر میری عزت تار، تار کریں گے۔

میری بیوی کے ساتھ مسئلہ

میری بیوی کے ساتھ مسئلہ یہی ہے کہ وہ جانتی ہے کہ میں جب اسٹینڈ لوں گا تو گھر تک چھوڑ کر آؤں گا، ایسے میں وہ میری integrity توڑ کر اپنے گھر والوں کے سامنے دکھانا چاہتی ہے کہ وہ اتنی مضبوط ہے، عورت مضبوط اپنے شوہر کے ساتھ رہتی ہے، نا کہ رشتہ میں کسی کو include کر کے، اب ایسے میں ڈرامہ وہ شروع کررہی ہے، مگر ختم میں ہی کروں گا، کیونکہ سب کچھ میں رکارڈ پر ڈال رہا ہوں، اور ریکارڈ پر ڈالنے کے ساتھ یہ سب کچھ لکھائی میں بھی کررہا ہوں، کیونکہ جیسے میں نے لکھا ہے کہ لکھنے کی عادت سے مجھے فوکس کرنے میں آسانی ہوتی ہے، ایسے میں یہاں سارا کھیل فوکس کا ہے، کیونکہ اب میں کھل کر ریکارڈ کھیلوں گا، جب ۳ لوگ مجھ کمزور کے ساتھ مقابلہ بازی کررہے ہیں، تو ایسا ہی صحیح، اب سب black-and-white ہوگا، اور کھل کر ہوگا۔

Again یہ سب کچھ کا یہ بالکل مقصد نہیں کہ میں نے بدلہ لینا ہے

مگر بات یہ ہے کہ جیسے بھی ہیں، اس وقت جس vulnerable پوزیشن میں ہوں، میرے والدین ہی میری سپورٹ ہیں، مگر اس سپورٹ کی اتنی بڑی قیمت؟ کہ مجھے ایسے اکیلا کیا جارہا ہے؟ وہ بھی ۳ جانب سے؟

مکمل تحریر >>

مئی 12, 2026

Baby Boomers not doing good to coming generations

الٹی بحث کرنے سے کیا سکھا رہے ہیں؟

پہلے غلط مثال کھڑی کرتے ہیں، اسکے بعد کارٹل والی mentality تھوپتےہیں۔

میرے خود کے ساتھ

میں نے اپنی فیملی میں پہلے ہی دیکھا ہے کہ ان ایکشنز کا کیا ری ایکشن آئے گا، تو دوبارہ آنکھ بند کر کے ان کی باتوں کو accept کروں کہ بعد میں الزام میرے اوپر آئے کہ مرتضی نے سب کیا؟ یہ mentality ہے، اور یہ بلاگ لکھنے کا مقصد یہی ہے کہ میرے ہاتھ پاؤں باندھ دئے ہیں، اس کے بعد آنے والے نتائج کا ذمہ دار میں ہوں گا، 

مگر یہاں ہمارے Baby Boomers ہمیشہ غلط example سیٹ کی

معذرت کے ساتھ ایسی صورتحال میں، جہاں میرے اوپر پریشر ڈالا جارہا ہے کہ ان دونوں (والدین) کے نقش قدم پر چلوں ورنہ تمہاری بیوی ہمارے قبضہ میں ہے، یہ سب ان کے behavior سے پتا چل رہا ہے، کہ ان کا موڈ یہی ہے، کہ میں ان کی بات مانوں، ورنہ بیوی کا پریشر رہے۔

میرے اپنے والدین نے اپنے ہی بیٹے کو ایسا بنا دیا ہے کہ اس کی بیوی اس کی نہیں سن رہی ہے

مجھے قبضہ کرنے کی عادت نہیں، نا ہی میں بیوی کو قابو کرنے کا شوقین ہوں، بلکہ عورتیں اگر یہ پڑھ رہی ہیں تو خود بتائیں کہ وہ شوہر جو بیوی کا اپنا بینک اکاؤنٹ بنا کر دے، بجائے غیر ضروری دیسی عورت جس کا دلچسپی کا محور یہی ہے کہ فلاں نے یہ کیا، اس نے وہ کیا، یہ چیز میں اپنی فیملی میں ہونا نہیں پسند کرتا، اور جب میں یہ سب کچھ دیکھ رہا ہوں تو روکنے کے لئے پہلے پیار سے بولوں، میری بات کو اگنور کرے، کیونکہ پیچھے سے میرے والد میری بیوی کو spoil کررہے ہیں۔

میری نوکری نہیں ہے

اس چیز کا طعنہ مجھے ایسے دیا جارہا ہے، ایسے میں بیوی کی اور فیملی کی سپورٹ چاہئے، سپورٹ کا مطلب پیسوں کی سپورٹ نہیں، مورل سپورٹ ہے، یہاں والدین اپنے خود کے پرسنل اسکورز سیٹل کررہے ہیں، اس کے مقابلے میں بیوی اپنے، کیونکہ بیوی کے خلاف میں نے اسٹینڈ لیا تھا، کیونکہ کچھ circumstances ایسے ہوئے تھے جہاں میں نے اس کی طرف داری نہیں کی تھی، کیونکہ یہ چیزیں میں اپنے گھر میں (پھر سے کہوں، گھر سے مطلب میری فیملی، نا کہ وہ چار دیواری جہاں رہ رہا ہوں)، اور معذرت کے ساتھ کبھی کبھی سوچتا ہوں کہ الٹی بحث اس بندے کے ساتھ جو introvert ہے، اس سے بحث جیت کر اس سے یہ حق چھینا جارہا ہے، کہ اپنے خود کے گھر (گھر سے مراد میری فیملی، چار دیواری نہیں) بار بار یہ repeat کررہا ہوں کہ میرے خاندان میں ایسے حُجتی لوگ ہیں، جو ایسی petty چیزوں کی اسکرین شاٹ لے کر بولتے ہیں اور میں یہ چیز پسند نہیں کرتا، کہ میرے گھر (میری فیملی، چار دیواری نہیں) پر impose کرے، اس پر سونے پہ سہاگہ میرے والدین میری integrity توڑ رہیں ہیں، 

میں ایسا کس حوالے سے کہہ رہا ہوں؟

میں ایسا اسی لئے کہہ رہا ہوں کہ بات ہمیشہ یہاں سے شروع ہوتی ہے کہ مرتضی (عنیز) غصہ کرتا ہے، مگر بڑے بننے کا شوق ہے تو یہ تو دیکھیں کہ ایسا ری ایکشن کیوں آرہا ہے؟ بڑوں کا کام یہی ہوتا ہے، کیفے قبائیل نہیں بناتے کہ ہمارے قبیلے میں رہنا ہے، تو ہماری ماننی پڑے گا، اور میں نے اپنے گناہ گار آنکھوں سے دیکھا ہے، کہ ماضی میں ان کے ایکشنز کا کیا ری ایکشن آیا، تو ایسے میں اگر میں احتیاط کررہا ہوں، تو میری خود کی ریپوٹیشن reputation خراب کررہے ہیں۔

بیوی کو سپورٹ

عورتیں یہ بات سے بالکل relate کریں گی، کہ اس وقت جب میری خود کی ماں میرے اور میری بیوی کے پیچھے ہاتھ دھو کر بیٹھی ہوئی تھی، اتنی کہ ایک جانب میری ماں بولتی ہے، کہ میری بیوی کو میرے ساتھ بھیجواؤ، اپنے مولوی صاحب وغیرہ کے جھمیلوں میں تم دونوں کو ڈالوں گی، اور دوسری جانب میری بیوی کرائے کے گھر کے لئے، وہاں اپنی بیوی کی سیلف رسپیکٹ self-respect کا خیال کیا، بلکہ اس کا ذہن صاف کیا، جس کی وجہ سے اس نے بچہ conceive کیا، مگر fast forward ایک سال بعد کیونکہ مارچ ۲۰۲۵ میں میرا بچہ ہوا، اور اب مئی ۲۰۲۶ ہے، ایک سال پہلے وہ اس صورتحال میں تھی، وہاں میں اس کی سپورٹ پر کھڑا رہا، اور آج یہ صورتحال ہے کہ کمرے کا دروازہ بند ہے، بیوی الٹا سنا رہی، وہی بیوی جو ماں سے بچنے کے لئے کرائے کا گھر demand کررہی تھی، آج اسی عورت کی زبان بول رہی ہے،

اکیلے کمرے میں

اس وقت اکیلے کمرے میں یہ لائن لکھ رہا ہوں، میرے ساتھ ہر کوئی اپنے اسکورز سیٹل settle کررہا ہے، اب اگر اللہ موجود ہے، تو مجھے اس اللہ سے انصاف چاہئے، 

کیا یہ سب کچھ ہونے کے بعد میری بیوی میری عزت کرے گی؟ عزت سے مطلب at the time needed میرے ساتھ کھڑی ہو؟ اسی وجہ سے ان baby boomers کو سمجھانے کی ضرورت ہے، ایک اسٹینڈ لینے کی وجہ سے یہ چیزیں face کررہا ہوں، اگر اللہ موجود ہے، تو میری مدد کریں۔

اب یہ بات کہ میری بیوی کو میرے خلاف کر کے یہ لوگ کیا prove کرنا چاہتے؟

یہ کہ میں ان کی ہاں میں ہاں ملاؤں؟ جیتے جی کبھی میں نہیں مانوں گا، چاہے کچھ بھی ہوجائے، اور میں یہ بات کہہ رہا ہوں، کہ اگر اللہ موجود ہے، دیکھ لیں، یہ آج کل کے والدین والدین پریمیئر لیگ کھیل رہے ہیں، مجھے انصاف چاہئے، میں نے کبھی یہ نہیں چاہا کہ مجھے طاقت چاہئے، میں نے اپنے کام سے کام رکھنا ہے، I am not hungry for validation from individuals as the only Validation requires is from Allah۔



مکمل تحریر >>

Baby Boomers doing their politics

اصل مسئلہ صرف یہ نہیں کہ Baby Boomers بوڑھے ہو چکے ہیں۔ ہر نسل ایک دن بوڑھی ہوتی ہے۔ اصل بحران یہ ہے کہ آج بھی بہت سے سیاسی نظام اُن ذہنی سانچوں میں قید ہیں جو ایک ایسے دور میں تشکیل پائے تھے جہاں دنیا کی رفتار، معیشت، آبادی، ٹیکنالوجی اور سماجی ساخت آج سے یکسر مختلف تھی۔

آج کی نوجوان نسل ایک ایسے معاشی اور ذہنی دباؤ میں زندہ ہے جہاں گھر خریدنا خواب بنتا جا رہا ہے، نوکریاں غیر مستحکم ہیں، ذہنی صحت تباہ ہو رہی ہے، اور سوشل میڈیا نے انسان کو مسلسل نفسیاتی مقابلے میں دھکیل دیا ہے۔ لیکن سیاست اب بھی انہی پرانے نعروں، مصنوعی نظریاتی جنگوں، اور ٹی وی اسکرینوں پر چلنے والے جذباتی ڈراموں میں پھنسی ہوئی ہے۔

ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے کئی سیاسی اشرافیہ مستقبل تعمیر کرنے کے بجائے اپنے ماضی کو محفوظ بنانے میں مصروف ہیں۔

یہی وہ مقام ہے جہاں نوجوان نسل کے اندر غصہ جنم لیتا ہے۔

انہیں صرف عمر سے مسئلہ نہیں۔ انہیں اس منافقت سے مسئلہ ہے جہاں وہی نسل جو صبر، قربانی، اور برداشت کے لیکچر دیتی رہی، خود نسبتاً آسان معاشی دور میں ترقی کر کے اوپر پہنچی، اور پھر رفتہ رفتہ وہ دروازے بند کر دیے جن سے نئی نسل اوپر آ سکتی تھی۔

آج ایک نوجوان کو وہ بنیادی استحکام حاصل کرنے کے لیے کئی گنا زیادہ جدوجہد کرنا پڑتی ہے جو پچھلی نسلوں کو نسبتاً کم دباؤ میں میسر تھا۔

لیکن یہاں ایک اہم حقیقت بھی موجود ہے۔

ہر Baby Boomer مسئلے کی جڑ نہیں، اور ہر نوجوان خودکار طور پر ذہین، باشعور یا انقلابی نہیں۔ کئی بزرگ نسلوں نے ہی انسانی حقوق، آزادی اظہار، مزدور حقوق، اور سماجی اصلاحات کی بنیادیں بھی رکھی تھیں۔ مسئلہ صرف عمر نہیں۔ مسئلہ ذہنی جمود ہے۔

خطرناک بات یہ ہے کہ کئی حکمران طبقات اب بھی نئی دنیا کو پرانے چشمے سے دیکھ رہے ہیں۔ وہ ڈیجیٹل دور کی نفسیات کو نہیں سمجھتے۔ وہ نوجوانوں کے اندر بڑھتی ہوئی existential anxiety کو نہیں سمجھتے۔ وہ یہ نہیں سمجھتے کہ مسلسل معاشی عدم استحکام انسان کے اندر اداروں کے خلاف خاموش نفرت پیدا کرتا ہے۔

نتیجتاً سیاست حقیقت سے کٹ کر صرف ایک جذباتی تھیٹر بنتی جا رہی ہے۔

الفاظ بدلتے ہیں، چہرے بدلتے ہیں، مگر نظام کی روح وہی رہتی ہے۔

مزید تشویشناک بات یہ ہے کہ نئی قیادت بھی اکثر حقیقی تبدیلی کے لیے نہیں بلکہ پرانے نظام کی وفادار نقل بننے کے لیے تیار کی جاتی ہے۔ سیاسی جماعتیں سوچنے والے افراد نہیں بلکہ obedient چہرے پیدا کر رہی ہیں۔ اسی لیے نسلوں کی منتقلی صرف ظاہری رہ جاتی ہے، ساختی نہیں۔

عام انسان اب اس تضاد کو محسوس کرنے لگا ہے۔

وہ دیکھتا ہے کہ قربانی ہمیشہ عوام سے مانگی جاتی ہے مگر طاقتور طبقات خود کو ہر بحران سے محفوظ رکھتے ہیں۔

وہ دیکھتا ہے کہ جذباتی نعرے strategic planning کی جگہ لے چکے ہیں۔

وہ دیکھتا ہے کہ سنجیدہ گفتگو کی جگہ شخصیت پرستی، شور، اور مصنوعی polarization نے لے لی ہے۔

اور جب معاشرہ اداروں پر یقین کھونا شروع کر دے، تو پھر conspiracy theories، انتہاپسندی، اور اجتماعی ذہنی تھکن جنم لیتی ہے۔

سب سے بڑا خطرہ صرف نسلوں کا ٹکراؤ نہیں۔

سب سے بڑا خطرہ یہ ہے کہ معاشرہ یہ یقین کھو دے کہ اس کے نظام خود کو درست بھی کر سکتے ہیں۔

کیونکہ تاریخ میں سب سے خطرناک لمحہ وہ ہوتا ہے جب ماضی سے چمٹے ہوئے لوگ مستقبل کو پیدا ہونے سے روکنے لگتے ہیں۔



مکمل تحریر >>

مئی 04, 2026

Society Issue in Karachi

یہ بلاگ میرے کرکٹ بلاگ کے اس پوسٹ سے متعلق ہے، وہاں میں نے پاکستانیوں کی mediocracy کرکٹ کے میدان میں سوالات کئے ہیں یہاں میں پاکستانی معاشرے کے متعلق سوالات اٹھا رہا ہوں۔

پہلے میں کرکٹ سے ہی شروعات کروں گا، ہماری یہ ذہنیت رہی ہے کہ ہم پاکستانی ہیں، فاسٹ بولنگ ہم سے ہے، جبکہ کل پی ایس ایل ۱۱ پشاور زلمی کے نام ہوا ہے، مگر ہماری mediocracy دیکھیں کہ پورے ٹورنامنٹ کا فاسٹ بولر ناحد رانا (ناحید رانا نہیں) نے ہمارے so-called فاسٹ بولرز کو کمند دکھائی ہے۔

معاشرتی تصورات

یہ ہماری معاشرتی تصورات ہے، کیونکہ بحیثیت معاشرہ یہ ہماری سوچ ہے کہ پاکستانی پروڈکٹ خراب ہوتی ہے imported امپورٹڈ چیزیں ذیادہ اچھی ہوتی ہیں، اس کے ساتھ ہماری فیملی سسٹم بھی اسی طرح کا ہے، کہ کسی کو کھلا ہاتھ نہیں دینا ہے، میرا اپنا یہ مسئلہ یہ رہا ہے، کیونکہ میں اس نیچر کا بندہ ہوں کہ میں لائن بنا کر رکھتا ہوں، کچھ چیزیں میں accept کرلوں گا، مگر ذیادہ چیزیں جن کا impact آج نہیں دکھائی دیگا، بلکہ ۱۰، ۲۰ سال کے بعد دیکھائی دیگا، اور جیسے یہ baby boomers نے اپنی ذندگی گزاری ہے کہ اپنے خود کے گول سیٹ نہیں کرنا، مگر اپنے بیٹے یا بیٹی کے ذریعہ اپنی ذندگی گزروانا چاہتے ہیں، یہ ہمارے آج کے بڑوں کی ذہنیت ہے، یہ چیز ان کو سمجھنا چاہئے جو کہ ہم نے نیپال، سری لنکا اور بانگلادیش میں دیکھ چکے ہیں کہ اب ذہنیت کی جنگ ہے، baby boomers اپنی ذہنیت GEN-Z کے اوپر تھوپنے پر لگے ہوئے ہیں، میرے خود کے ساتھ یہی ہورہا ہے، کہ میرے ساتھ گھر میں حجتی رویہ رکھا جارہا ہے، یعنی جیسے انگریزی میں ایک ٹرم استعمال کی جاتی ہے کہ dual faced dagger یعنی مان لوں تو بعد میں میرا بھی یہی حال ہوگا کہ میں اپنی ذندگی اپنے بیٹے کے ذریعے گزاروں گا، نہیں مانوں گا، تو ایسے میں میرے ساتھ یہی ہورہا ہے کہ مجھے دکھایا جارہا ہے کہ میں بدتمیز ہوں، مگر یہاں یہ بے بی بومرز میں ایک مستقل احساس کمتری ہے کہ نیچے والی جنریشن کواپنے "قابو" میں رکھنا، کیونکہ یہ چیز میں نے ان بے بی بومرز میں دیکھی ہے، کہ argument جیتنا ضروری ہے، either by hook or by crook، کیونکہ ایک اور چیز جو میں نے دیکھی ہے کہ بے بی بومرز اپنے آپ کو موجودہ ٹائم سے مطابقت کرنا اپنی شان کے خلاف سمجھتے ہیں، اور ایسے میں میرے سامنے ایک بڑے صاحب فخریہ کہتے ہیں، Hit and Run، یعنی جیسے شرارتی بچے گرمی میں دروازہ بجا کر بھاگ جاتے تھے، یہ مائنڈ سیٹ کو پروموٹ کررہیں ہیں، اور ایسے میں اگر یہ چیز میں اپنی بیوی اور بچے کے اوپر اثر انداز نا ہونے کے لئے point zero پر روک رہا ہوں، اور وہاں میرے گھر کے بڑے یہ چیز میری موجودگی میں اثر انداز کرانا چاہتے ہیں، اور ایسے میں میرے ساتھ وہی حرکت کررہیں جو الادین میں جادوگر نے جیسمین کو نقلی چراغ دے کر اصلی چراغ یعنی  میرے فیملی پر say کو out of context کیا جارہا ہے، یعنی انگریزی میں کہا جاتا ہے، waiting for disaster، کیونکہ ابھی سے میں دیکھنا شروع کردیا ہے کہ میری بیوی میری suggestions کو importance نہیں دے رہی ہے، اور یہی بات ہے، میری فیملی میں ایسے واقعات ہوچکے ہیں، جن کو سختی کر کے میں روک رہا ہوں، تو ایسے میں ایک جانب میرے والدین سے رکاوٹ آرہی ہے، دوسری جانب بیوی، اس کا ایک نقصان یہی ہے کہ آگے مستقبل میں میری بیوی میری ایک نہیں سنے گی، میں جس طرح کا بندہ ہوں، میں فرنچ میں ایک ٹرم quid-pro-quo یعنی جیسا کرو گے ویسا بھرو گے، میرے ساتھ اچھا رہو گے تو میں جی جان لگا کر تمہارے ساتھ کھڑا رہوں گا، اور ایسے میں میرے والدین میرے لئے ایسے مشکلات کھڑے کررہے ہیں، اور اس میں کوئی شرم نہیں کہ صرف اسی لئے کہ جب میرا بچہ نہیں ہوا تھا، تو تب میرے پیچھے پڑ گئے تھے کہ میں اپنی بیوی کو ڈاکٹرز، حکیم صاحب اور مولوی صاحبان کے پاس بھیجوں، اور ایسے میں اب پزل کو ملاؤں تو ایسے میں یہ بات روز اول عیاں ہے، کہ ان بے بی بومرز کی ego اس چیز پر hurt ہوئی ہے، تو ایسے میں اس چیز کا قوی امکان ہے کہ اس جانب سے میرے خود کے ساتھ اسکورز settle کریں گے، اور جیسے میں نے کہا کہ یہ چیز جب میں پزلز کے سارے pieces کو جمع کررہا ہوں، تو یہ impact آتا ہے۔

Carry Forward ذہنیت کے بجائے قابو کرنے کی ذہنیت کرنا

سوسائٹی اسی طرح بنتی ہے جیسے نوکیا کا مشہور سلوگن رہا ہے کہ Connecting People، یہ ذہنیت ہمیں اپنانی ہوگی، بالکل ویسے ہی ہے جیسے آپکی ایک انگلی کی امپریشن ساتھ والی انگلی سے کبھی ملاپ نہیں ہوگا، یہ میں نے کچھ دن پہلے نادرہ کے دفتر میں دیکھا تھا، کیونکہ میرے والد صاحب کے انگلی کے نشانات نہیں آرہے تھے، تو ایسے میں فیملی میمبر ہونے کے ناطے میں نے ان کی جگہ انگلی کے نشانات دئے تھے، اور اس پر بھی میرے انگوٹھے کے بجائے شہادت کی انگلی اور انگوٹھی والی انگلی کے امپریشن آئے تھے، کیونکہ میں بائیک چلاتے ہوئے آیا تھا، تو انگوٹھا rugged ہورہا تھا، تو ایسے میں جو لوگ نادرہ میں انگوٹھے لگائے ہیں، ان کو اندازہ ہوگا کہ کسی کے لئے جب آپ انگوٹھا لگاتے ہیں تو سسٹم پر آنے والے پرومپٹ کے حساب سے آپ کو انگوٹھا لگانا ہوتا ہے، ایسے میں آٹومیٹک پرومپٹ انگوٹھے کا آیا، مگر جیسے میں نے پتایا، بائیک کے accelerator پر ہونے کی وجہ سے نشان نہیں آیا، پھر سیکنڈ attempt شہادت کی انگلی کی آئی، وہ آگئی، اس کئ بعد دوسری attempt میری بیچ والی انگلی یعنی ring finger کی آئی، اس وقت میں نے امپریشن کے متعلق اُس آپریٹر سے پوچھا کہ کیا ہماری انگلیاں ہر انگلی ایک دوسرے سے فرق ہوتا ہے؟ جس پر اس نے ہاں میں جواب دیا، جس سے مجھے یہ اندازہ ہوا کہ جب ایک جسم میں موجود پانچوں انگلیاں ایک دوسرے سے فرق رکھتی ہیں، تو ایسے میں ہم کیسے یہ امید لگا کر رکھیں ہیں کہ بجائے والد carry forward ذہنیت کے مطابق بیٹے میں جو فرق ہے، اس کو accept کریں، اس کو اپنے نقش قدم پر چلانے میں اتنے اتاولے ہوجاتے ہیں کہ اولاد کی اپنی unique touch and feel کو ختم کرنے پر تلے ہوئے ہوتے ہیں، ایسے میں نیپال، سری لنکا اور بانگلادیش میں جو ہوا، وہ یہی ذہنیت کا تصادم تھا۔

اور ہمارہ معاشرہ اسی تصادم کی جانب جارہا ہے

مجھے یہ بات بے بی بومرز کی سمجھ نہیں آتی، ہم جونئرز کے سامنے کیسی مثالیں کھڑی کرہیں ہیں، ذیادہ تر بڑے بزرگ ہمیں یہ سمجھاتے ہیں کہ hit-and-run یہ نہیں دیکھ رہیں ہیں کہ اسکا معاشرتی تصادم کیسا ہوگا؟ کیونکہ ہمارہ معاشرہ ایسا شعبدے بازی سے بھر پور بن چکا ہے، کہ الامان الحفیظ، میں شعبدے بازی کو اس لئے نہیں اٹھا رہا ہوں کیونکہ in the long run میں یہ لوڈ اُٹھانے کا قابل نہیں ہوں، تو ایسے میں اپنی لائن کلئیر رکھ رہا ہوں، مگر یہاں میرے خود کے گھر والے مجھے اس جانب ڈلنے پر تلے ہوئے ہیں، 

میں اپنی تعریف نہیں کرنی مگر بات یہی ہے کہ میں calculated چلنے والا بندہ ہوں، اور یہاں عقیدت مندی اور تعبیداری کے نام پر مجھے بلیک میل کیا جارہا ہے، تاکہ کسی بھی حال میں، میں ان کے "نقش قدم" اور فرمانبرداری پر چلوں، یعنی فرمانبرداری کے نام پر مجھے exploit کیا جارہا ہے، جس میں میرے خود کئ والدین شامل ہیں، کیونکہ ان کے اس ایکشن کی وجہ سے میری بیوی مجھے for-granted لینا شروع کردیا ہے، تو خود بتائیں، آگے میرے لئے میرے خود کے والدین میرے لئے کیا بُن رہیں ہیں؟ 

The Political Horizon: While doing inDriving, noted one aspect 📌



مکمل تحریر >>

اپریل 15, 2026

Family Dynamics in Pakistani Homes: Boundaries & Emotional Cost

فیملی ڈائینامکس: پرائیویسی، عزتِ نفس اور شادی شدہ زندگی کا دباؤ

پاکستانی گھروں میں فیملی ڈائینامکس اکثر محبت، ذمہ داری اور مداخلت کے درمیان الجھ جاتے ہیں۔ شادی شدہ زندگی، پرائیویسی، self-respect اور emotional boundaries جیسے مسائل ہمارے معاشرے میں اکثر نظر انداز کر دیے جاتے ہیں۔ یہ تحریر ایک پوڈکاسٹ کے تناظر میں میرے ذاتی تجربے، مشاہدے اور اندرونی کشمکش کا عکس ہے۔

پوڈکاسٹ فیملی ڈائینامکس کے متعلق ہے، اس متعلقہ پوڈکاسٹ میں ایک لڑکا، جو کہ میری طرح کی صورتحال سے گزر رہا ہے، جہاں لڑکا اپنی بیوی اور ۶ مہینے کے بچے کے ساتھ اپنے والدین، بھائی اور بھابھی کے ساتھ رہتا ہے۔

میاں بیوی اور وقت کی کمی

اس واقعہ میں میاں اور بیوی دونوں کام بھی کرتے ہیں، ساتھ میں بیوی بچہ بھی سنبھالتی ہے۔ دونوں میاں بیوی نوکری پیشہ ہیں اور ایک ہی علاقے میں مختلف اوقات میں جاتے ہیں۔ لڑکا زیادہ تر شام کی نوکری کرتا ہے، جبکہ بیوی صبح کے اوقات میں جاتی ہے۔ روزانہ تقریباً دو گھنٹے سفر میں لگ جاتے ہیں۔ ایسے میں میاں بیوی کے پاس ایک دوسرے کے لیے معیاری وقت نہ ہونے کے برابر رہ جاتا ہے۔

شادی میں الگ پرائیویسی کیوں ضروری ہے؟

میں دوبارہ پورا پوڈکاسٹ نقل کر کے بلاگ لمبا نہیں کرنا چاہتا، مگر میں اس سے اس لیے relate کرتا ہوں کیونکہ میری اپنی فیملی میں بھی میری individuality کو توڑنے کی مسلسل کوشش ہوئی۔ حالانکہ میں نے زندگی بھر ان لوگوں کو satisfy کرنے کی کوشش کی، مگر آخر میں یہ سننا کہ "تم نے زندگی میں کیا کیا؟" کسی انسان کے جذبات کی توہین ہے۔

یہی چیز اس لڑکے کے ساتھ بھی ہو رہی تھی۔ والدین کو یہ سمجھنا چاہیے کہ شادی کے بعد ان کا بیٹا ایک الگ entity ہے۔ اس کی پہلی ذمہ داری اب اس کی بیوی اور بچہ ہیں۔ والدین کا کردار رہنمائی دینا ہے، اپنی مرضی مسلط کرنا نہیں۔

اگر میاں بیوی ہفتے اور اتوار کو تھوڑا وقت اکٹھا گزارنا چاہیں، دروازہ بند کر کے movie دیکھ لیں یا سکون سے بیٹھ جائیں، تو اسے غلط زاویے سے نہیں دیکھنا چاہیے۔ ہر جوڑے کو dignity اور emotional space کی ضرورت ہوتی ہے۔

گھریلو موازنہ اور unnecessary expectations

اس لڑکے کی بھابھی نے بھی اس کی بیوی کو گھر کے کام کے پیمانے پر جانچا۔ یہی مسئلہ ہمارے معاشرے میں عام ہے: ہم ہر انسان کو ایک ہی سانچے میں ڈھالنا چاہتے ہیں، حالانکہ جیسے ہاتھ کی انگلیاں ایک جیسی نہیں ہوتیں، ویسے ہی ہر انسان کی capacity، مزاج اور حالات مختلف ہوتے ہیں۔

میری اپنی زندگی اور self-respect کا بحران

میرے ساتھ بھی یہی ہو رہا ہے۔ میں اپنے والدین کو چھوڑنا نہیں چاہتا، کیونکہ جیسے بھی ہیں، وہ میرے لیے اہم ہیں، اور میں ان کی support بننا چاہتا ہوں۔ مگر بار بار میری self-respect کو humiliate کرنا، میری integrity کو روز توڑنا، اور میری individuality کو ignore کرنا ایک ایسا زخم ہے جو وقت کے ساتھ گہرا ہوتا جاتا ہے۔

میرا ہمیشہ یہی ماننا رہا ہے کہ truth کی تین شکلیں ہوتی ہیں: ایک میرا سچ، ایک دوسرے کا سچ، اور ایک اصل سچ۔ اسی لیے یہ تحریر کسی کو guilty ٹھہرانے کے لیے نہیں، بلکہ ایک starting point initiate کرنے کے لیے ہے۔

گھر میں privacy اور emotional surveillance

اگر میں privacy کی بات کرتا ہوں، تو مسئلہ صرف دروازہ knock کرنے کا نہیں۔ مسئلہ وہ invisible surveillance ہے، جہاں آپ کو مسلسل محسوس ہو کہ آپ observe ہو رہے ہیں۔ ایک introvert انسان کے لیے یہ چیز اندر سے توڑ دینے والی ہوتی ہے۔

جب میں کہتا ہوں کہ مجھے یہ سب پسند نہیں، تو جواب ملتا ہے کہ میں overthink کر رہا ہوں۔ مگر جب گھر والے ہی آپ کو مسلسل invalidate کریں، تو بیوی کے سامنے، اپنے بچے کے سامنے، اور اپنے ہی دل میں آپ کی عزت کیسے سلامت رہے؟

nuclear family کا سوال اور ذہنی تھکن

زندگی اتنی کڑوی ہو چکی ہے کہ اب میں nuclear family کے بارے میں سوچتا ہوں۔ میں جانتا ہوں کہ اس کی قیمت ہوگی، سختیاں آئیں گی، مگر ہر سکون کی ایک قیمت ہوتی ہے۔ اصل سوال یہ ہے کہ کیا ایک انسان اپنی mental peace بچانے کے لیے اتنا قدم بھی نہ اٹھائے؟

میرا غصہ میرا اصل مزاج نہیں، بلکہ برسوں کی تلخی کا نتیجہ ہے۔ مسئلہ یہ نہیں کہ میں react کرتا ہوں، مسئلہ یہ ہے کہ میرے react کرنے سے پہلے کیا کچھ میرے اندر بھرا جا چکا ہوتا ہے۔

ہمارے بڑوں کا مداخلتی رویہ

فیملی ڈائینامکس اور گھریلو boundaries کا دائرہ کارہمارے گھروں میں اکثر دلچسپی اس بات میں زیادہ ہوتی ہے کہ دوسرا بندہ کیا کر رہا ہے، بجائے اس کے کہ ہر شخص کی individuality کو سمجھا جائے۔ خاندان ایک دوسرے کے دائرے میں مداخلت کرنے کے بجائے ایک healthy middle circle create کرے، جہاں support ہو مگر suffocation نہ ہو۔


یہ دونوں دائرے اسی بات کی نمائندگی کرتے ہیں کہ ہر انسان کی ایک ذاتی space ہوتی ہے۔ بڑوں کی ذمہ داری یہ ہے کہ وہ boundaries کو سمجھیں اور مثال قائم کریں، نہ کہ مداخلت کو حق سمجھیں۔

Reference Video

Judging Relatives | Ask Ganjiswag #224


فیملی pressure صرف شادی تک محدود نہیں۔ یہ ہمارے broader social mindset کی عکاسی کرتا ہے، جہاں emotional boundaries کو اکثر نظر انداز کر دیا جاتا ہے۔ اسی موضوع پر میرا ایک اور مضمون یہاں پڑھیں: معاشرتی رویوں پر میرا تجزیہ۔

اکثر پوچھے جانے والے سوالات

کیا شادی کے بعد الگ پرائیویسی مانگنا غلط ہے؟

نہیں، healthy boundaries رشتوں کو بہتر بناتی ہیں اور میاں بیوی کو emotional space دیتی ہیں۔

کیا joint family میں emotional pressure عام ہے؟

ہاں، خاص طور پر جب حدود واضح نہ ہوں اور ہر چیز کو control کرنے کی کوشش ہو۔

کیا nuclear family بننا selfishness ہے؟

نہیں، بعض اوقات ذہنی سکون، عزت نفس اور رشتے بچانے کے لیے healthy distance ضروری ہوتا ہے۔

فیملی محبت کا نام ہے، مگر محبت کا مطلب control نہیں۔ ہر انسان، چاہے وہ بیٹا ہو، شوہر ہو یا باپ، اپنی individuality اور dignity کا حق رکھتا ہے۔ حدود قائم کرنا بغاوت نہیں، بلکہ ذہنی بقا کی ایک شکل ہے۔

مکمل تحریر >>

اپریل 03, 2026

عورت کی عزت یا استحقاق؟ پاکستانی معاشرے میں Privilege اور Equality کی حقیقت

پاکستان میں عورت کی عزت یا privilege کا مسئلہ

عزت یا استحقاق؟ جب معاشرتی رعایت کو حق سے آگے سمجھ لیا جائے

ایک چھوٹا واقعہ، ایک بڑی سوچ

آج ایک سادہ سا واقعہ پیش آیا—مگر اس نے ایک بڑی سماجی حقیقت کو بے نقاب کر دیا۔

میں اے ٹی ایم سے پیسے نکلوانے گیا۔ چار لوگ پہلے سے لائن میں کھڑے تھے۔
جیسے جیسے باری آگے بڑھ رہی تھی، ایک خاتون آئیں اور سیدھا آ کر میرے آگے کھڑی ہو گئیں۔

میں نے نرمی سے کہا:
“خاتون، براہِ کرم لائن فالو کریں، سب اپنی باری کا انتظار کر رہے ہیں۔”

جو جواب آیا، وہ زیادہ دلچسپ تھا:
“بھائی، عورت ذات کا بھی کوئی خیال ہوتا ہے۔”

یہ وہ لمحہ تھا جہاں مسئلہ واضح ہو گیا—
یہاں بات سہولت یا احترام کی نہیں تھی،
یہاں بات استحقاق (privilege) کی تھی۔

عزت: جو دی جاتی ہے، یا جو لی جاتی ہے؟

ہمارے معاشرے میں عورت کو عزت دینے کی روایت موجود ہے—
بلکہ بعض اوقات حد سے زیادہ موجود ہے۔

  • لائن میں آگے کر دینا

  • پہلے راستہ دینا

  • نرم رویہ اختیار کرنا

یہ سب معاشرتی تربیت کا حصہ ہیں۔

مگر سوال یہ ہے:
کیا ہر رعایت، حق بن جاتی ہے؟

جب ایک خاتون یہ توقع رکھے کہ وہ صرف اپنی جنس کی بنیاد پر دوسروں کا حق لے سکتی ہے—
تو یہ عزت نہیں، بلکہ اس کا غلط استعمال ہے۔

برابری یا سہولت کا انتخاب؟

ہم ایک طرف برابری (equality) کی بات کرتے ہیں،
اور دوسری طرف selective سہولت (selective privilege) چاہتے ہیں۔

  • جہاں فائدہ ہو، وہاں “عورت ہونے” کا حوالہ

  • جہاں ذمہ داری آئے، وہاں “برابری” کی بات

یہ تضاد صرف confusion نہیں پیدا کرتا—
یہ معاشرتی توازن کو بھی خراب کرتا ہے۔

مسئلہ کہاں ہے؟

مسئلہ عورت ہونے میں نہیں،
مسئلہ اس mindset میں ہے جہاں:

  • عزت کو entitlement سمجھ لیا جائے

  • رعایت کو حق بنا لیا جائے

  • اور اصولوں کو situation کے مطابق توڑا جائے

لائن میں کھڑا ہونا ایک basic civic sense ہے—
اس کا تعلق gender سے نہیں، discipline سے ہے۔

ردعمل اور حقیقت

جب میں نے واضح انداز میں کہا کہ:
“لگتا ہے آپ کے بھی دو ہاتھ اور دو پاؤں ہیں، جیسے میرے ہیں—تو براہ کرم لائن میں کھڑی ہوں”

تو وہ پیچھے ہٹ گئیں—
مگر جاتے جاتے ایک جملہ ضرور کہا:
“پتہ نہیں کہاں سے آ جاتے ہیں، عزت کا خیال نہیں ہے”

یہی اصل مسئلہ ہے—
عزت کا مطلب بدل دیا گیا ہے۔

اصل بات: Feminism یا Misinterpretation؟

یہاں ایک اہم distinction سمجھنا ضروری ہے:

Feminism کا اصل مقصد برابری ہے،
مگر جو ہم ground پر دیکھ رہے ہیں، وہ اکثر اس کی misinterpretation ہے۔

  • برابری کا مطلب یہ نہیں کہ آپ اصول توڑیں

  • اور نہ ہی یہ کہ آپ دوسروں کے حقوق پر فوقیت حاصل کریں

اگر عزت چاہیے،
تو اصولوں کا احترام بھی کرنا ہوگا۔

سیدھی بات

معاشرہ تب balanced ہوگا جب:

  • مرد عورت کو انسان سمجھے، نہ کہ صرف ایک “soft corner”

  • اور عورت عزت کو privilege نہیں، بلکہ mutual respect سمجھے

آخری جملہ

یہ واقعہ چھوٹا تھا—
مگر اس نے ایک بڑی حقیقت واضح کر دی:

جب عزت کو حق سے آگے لے جایا جائے،
تو وہ عزت نہیں رہتی—وہ استحقاق بن جاتی ہے۔





مکمل تحریر >>

مارچ 31, 2026

پاکستان میں عورت کی Over-Sexualization اور تعلیم | تجزیہ معاشرہ | How Over-Sexualization is Undermining Women’s Education in Pakistan

پاکستان میں جنس کو حد سے زیادہ موضوعِ بحث بنانا: ایک

خاموش سماجی زوال

ہم مسئلے کو سمجھنا نہیں چاہتے، ہم اسے بڑھا رہے ہیں

  • “🕒 5 min read”

پاکستانی معاشرے میں ایک عجیب تضاد جنم لے چکا ہے۔ ہم بظاہر “حیا” اور “اخلاقیات” کے علمبردار بنتے ہیں، مگر عملی طور پر جیسے میں نے پہلے اوپر یہ لکھا ہے کہ بحیثیت مسلمان ہمارے قول و فعل میں ہمیشہ تضاد ہے، جس کی بناہ پر ہم نے ہر چیز کو جنس کے چشمے سے دیکھنا شروع کر دیا ہے۔ مرد ہو یا عورت، دونوں کو اس حد تک sexualize کر دیا گیا ہے کہ اب شخصیت، کردار، قابلیت—سب کچھ پیچھے رہ گیا ہے، اور جسم آگے آ گیا ہے۔

یہ صرف میڈیا کا مسئلہ نہیں، یہ ہمارا اجتماعی رویہ بن چکا ہے۔

عورت: عزت کے نام پر قید، مگر نظر ہمیشہ جسمانی خدوخال پر

ہم بڑے فخر سے کہتے ہیں کہ “عورت ہماری عزت ہے” — مگر سچ یہ ہے کہ ہم نے اسی عزت کو ایک ایسے فریم میں قید کر دیا ہے جہاں اس کی پہچان صرف اس کے جسم سے جڑ کر رہ گئی ہے۔

لباس پر بحث، چلنے کے انداز پر تبصرے، آواز کے اتار چڑھاؤ تک پر فیصلے—یہ سب اس بات کا ثبوت ہیں کہ ہم عورت کو ایک مکمل انسان نہیں، بلکہ ایک objectified وجود کے طور پر دیکھنے کے عادی ہو چکے ہیں۔

یا تو ہمیں یہ ماننا ہوگا کہ عورت کو اپنی مرضی سے جینے، پہننے اور اظہار کرنے کا مکمل حق ہے—اور ہمیں اپنی نظریں اور سوچ درست کرنی ہوگی—
یا پھر ہم کھل کر یہ تسلیم کر لیں کہ ہم ایک hypocritical معاشرہ ہیں جو دوہرا معیار لے کر چل رہا ہے۔
آج کے دور میں یہ ممکن نہیں—اور نہ ہی یہ درست ہے—مگر اس حقیقت کو قبول کرنے کے بجائے ہم ایک عجیب سی Zombie Society بنا رہے ہیں:

جہاں لوگ زندہ تو ہیں، مگر سوچ مردہ ہو چکی ہے۔

کیا ہم واقعی عورت کو اس کی اصل قابلیت کے مطابق جگہ دے رہے ہیں؟
Girls are equally responsible
for gathering opposite gender 
attraction


یہ کوئی کمزوری نہیں، یہ ایک functional strength ہے—مگر ہم نے اس طاقت کو یا تو دبا دیا ہے، یا اسے غلط سمت میں موڑ دیا ہے۔
معذرت کے ساتھ—آپ نے انہیں موقع کب دیا؟
مگر اس وقت ہمیں آئینہ دیکھنے کی ضرورت ہے۔
تو وہ یا تو ٹوٹ جائے گا، یا پھر اپنی توانائی کو غلط سمت میں استعمال کرے گا۔
جیسے بیج آپ بوتے ہیں، ویسا ہی پھل آپ کو ملتا ہے۔
ہم نے عورت کو confined کیا—اور اب ہم اسی confinement کے نتائج بھگت رہے ہیں۔

اب جو بات میں کرنے جا رہا ہوں، وہ بہت سوں کو ناگوار گزرے گی—مگر مسئلہ یہی ہے کہ ہم سچ سننے کے عادی نہیں رہے۔

اگر ایک طرف ہم عورت کو glamorized انداز میں پیش کرتے ہیں، تو دوسری طرف ہم خود اپنی ذہنی تربیت کرنے کے لیے تیار نہیں۔

مسئلہ یہ نہیں کہ زمانہ بدل گیا ہے، مسئلہ یہ ہے کہ ہماری سوچ ابھی تک وہیں کھڑی ہے جہاں عورت کو چار دیواری میں قید رکھ کر “کنٹرول” کیا جاتا تھا۔

آپ میری اس بات سے اختلاف کر سکتے ہیں—مگر ایک لمحہ رک کر خود سے سوال کریں:

حقیقت یہ ہے کہ عورت کے اندر وہ مشاہدہ، وہ سمجھ، وہ emotional intelligence ہے جو اکثر مردوں میں نہیں پائی جاتی۔

ہم نے ایک ایسے معاشرے کی تشکیل کی ہے جہاں:

  • عورت کو محدود رکھا جاتا ہے
  • اس کی آزادی کو مشکوک بنایا جاتا ہے
  • اور پھر اسی محدودیت کے اندر اسے gossip، comparison اور غیر ضروری باتوں میں الجھا دیا جاتا ہے

یہ ایک self-created trap ہے۔

اور پھر ہم شکوہ کرتے ہیں کہ عورتیں سنجیدہ کردار ادا نہیں کر رہیں؟

میں یہ بات صرف عورت کے لیے نہیں کر رہا—مرد بھی اس نظام کا شکار ہے، اور میں اس پر بھی بات کروں گا—

آپ کسی انسان کو confined کریں گے، اس کی توانائی کو suppress کریں گے، اس کی سوچ کو limit کریں گے—

اور آج ہم بالکل وہی دیکھ رہے ہیں۔

اس لیے شکایت کرنے سے پہلے ایک بات یاد رکھیں:

مزید افسوسناک بات یہ ہے کہ یہی ذہنیت گھروں سے شروع ہوتی ہے۔
باپ، بھائی، شوہر—سب اپنی اپنی “boundary” کھینچتے ہیں، مگر اصل میں یہ boundaries عورت کے احترام کے لیے نہیں بلکہ اپنی insecurity کو چھپانے کے لیے ہوتی ہیں۔

ہم جس معاشرتی تبدیلی کو “ترقی” سمجھ رہے ہیں، وہ دراصل ایک پیچیدہ اور خطرناک موڑ ہے—اور اس کو سمجھنے کے لیے جذبات نہیں، حقائق دیکھنے ہوں گے۔

مطالعہ بتاتا ہے کہ کراچی میں عورت کا کردار تیزی سے بدل رہا ہے۔ ایک وقت تھا جب عورت گھر تک محدود تھی، باہر نکلنا بھی ممکن نہیں تھا۔ آج وہ تعلیم حاصل کر رہی ہے، نوکری کر رہی ہے، سفر کر رہی ہے، اور اپنی زندگی کے فیصلے خود لینے کی طرف بڑھ رہی ہے۔ مزید پڑھیں
یہ تبدیلی صرف معاشی نہیں، بلکہ سماجی اور ذہنی سطح پر بھی ہے—جہاں مرد اور عورت کے درمیان interaction بڑھا ہے، social media نے نئے narratives create کیے ہیں، اور نئی نسل نے روایتی boundaries کو challenge کیا ہے۔ (IIED)

لیکن یہاں ایک خطرناک twist آتا ہے—
ہم نے عورت کو “آزاد” تو کیا، مگر اسے “انسان” بنانے کے بجائے ایک نئے انداز میں sexualize کرنا شروع کر دیا۔

پہلے عورت کو چار دیواری میں قید کر کے control کیا جاتا تھا،
آج اسے social media پر expose کر کے define کیا جا رہا ہے۔

فرق صرف طریقے کا ہے، mindset وہی ہے۔

آزادی نہیں، نئی شکل میں objectification

آج Instagram، TikTok اور YouTube پر ایک نیا trend normalize ہو چکا ہے—
جہاں عورت کو “confident” یا “bold” کے نام پر دراصل ایک visual commodity میں تبدیل کیا جا رہا ہے۔

BBW، NSFW جیسے الفاظ اب taboo نہیں رہے—
بلکہ openly discuss ہوتے ہیں، trend بنتے ہیں، اور algorithm انہیں push کرتا ہے۔

یہاں سوال یہ نہیں کہ عورت کو اپنی مرضی سے جینے کا حق ہے یا نہیں—
وہ حق unquestionable ہے۔

اصل سوال یہ ہے:
کیا ہم نے آزادی کو dignity کے ساتھ balance کیا ہے؟ یا اسے صرف attention economy کا fuel بنا دیا ہے؟

میڈیا اور سوشل میڈیا: narrative کون لکھ رہا ہے؟

جیسا کہ تحقیق میں بھی واضح ہے، میڈیا—خاص طور پر YouTube اور global platforms—نے relationship norms، body image، اور gender identity کو redefine کیا ہے۔ (IIED)

مگر مسئلہ یہ ہے کہ:

  • یہ narrative organically نہیں آ رہا

  • بلکہ curated ہے، monetized ہے

  • اور attention capture کرنے کے لیے design کیا گیا ہے

نتیجہ؟
عورت اب گھر میں قید نہیں—
مگر algorithm کی قید میں ہے۔

Zombie Society — اب اس کا نیا ورژن

میں نے پہلے کہا تھا کہ ہم ایک Zombie Society بنا رہے ہیں—
اب اس کی نئی شکل دیکھیں:

  • مرد عورت کو دیکھتا ہے، مگر سمجھتا نہیں

  • عورت خود کو express کرتی ہے، مگر define algorithm کرتا ہے

  • معاشرہ debate کرتا ہے، مگر direction کسی کے پاس نہیں

یہ آزادی نہیں، یہ controlled chaos ہے۔

اصل نقصان کہاں ہو رہا ہے؟

سب سے بڑا نقصان یہ ہے کہ:

  • عورت کی اصل صلاحیت (decision-making, emotional intelligence) پس منظر میں جا رہی ہے


جسم foreground میں آ رہا ہے

  • اور identity ایک visual brand بن کر رہ گئی ہے

اور افسوس کی بات یہ ہے کہ
یہ سب کچھ ہم خود کر رہے ہیں—
کسی نے ہم پر مسلط نہیں کیا۔

سیدھی بات

اگر آپ واقعی عورت کو empower کرنا چاہتے ہیں،
تو اسے یا تو قید نہ کریں،
اور اگر آزاد کریں—
تو اسے بازار نہ بنائیں۔

ورنہ آپ صرف ایک extreme سے دوسرے extreme میں جا رہے ہیں—
اور دونوں صورتوں میں نقصان عورت کا بھی ہے، اور معاشرے کا بھی۔

آخر میں ایک بات واضح رکھیں:
عورت کو “محفوظ” بنانے کے نام پر قید کرنا بھی ظلم ہے،
اور “آزاد” بنانے کے نام پر اسے object بنا دینا بھی ظلم ہے۔

اور ہم، بطور معاشرہ، بدقسمتی سے دونوں کر رہے ہیں۔

مرد: طاقت کا بوجھ، خواہش کا دباؤ

یہ مسئلہ صرف عورت تک محدود نہیں۔ مرد بھی اس over-sexualization کا شکار ہے، مگر ایک مختلف زاویے سے۔

ایک مرد سے توقع کی جاتی ہے کہ وہ ہمیشہ dominant ہو، emotionally detached ہو، اور ہر وقت اپنی masculinity ثابت کرے۔
اس کے جذبات کی کوئی اہمیت نہیں، اس کی کمزوری کو کمزوری نہیں بلکہ “ناکامی” سمجھا جاتا ہے۔

نتیجہ؟
ایک ایسا مرد جو اندر سے ٹوٹا ہوا ہے مگر باہر سے “مضبوط” نظر آنے کی اداکاری کر رہا ہے۔

سوشل میڈیا: جہاں سب کچھ “content” ہے

سوشل میڈیا نے اس مسئلے کو amplify کر دیا ہے۔
ہر چیز اب engagement کے لیے ہے—thumbnail، caption، reel—سب کچھ اس طرح design کیا جاتا ہے کہ نظر ٹھہرے، خواہ وہ کسی کی عزت کی قیمت پر ہی کیوں نہ ہو۔

ہم criticize بھی کرتے ہیں اور consume بھی۔
ہم کہتے ہیں “یہ غلط ہے” مگر scroll کرنا نہیں چھوڑتے۔

یہ منافقت نہیں تو اور کیا ہے؟

اصل مسئلہ: ہماری سوچ کی تربیت

ہم نے کبھی اپنی سوچ کو تربیت دینے کی کوشش ہی نہیں کی۔
ہم نے اپنی خواہشات کو discipline کرنے کے بجائے انہیں justify کرنا سیکھ لیا ہے۔

ہمیں یہ سمجھنا ہوگا کہ:

  • attraction فطری ہے
  • مگر objectification ایک choice ہے

اور ہم نے بطور معاشرہ بار بار یہی غلط choice کی ہے۔

اس کا انجام کیا ہوگا؟

اگر یہی چلتا رہا تو:

  • رشتے superficial ہوتے جائیں گے
  • trust ختم ہوتا جائے گا
  • اور ایک ایسا معاشرہ بنے گا جہاں ہر کوئی ایک دوسرے کو شک کی نظر سے دیکھے گا

یہ صرف اخلاقی مسئلہ نہیں، یہ ایک societal collapse کی foundation ہے۔

تعلیم تک عورت کی رسائی آسان ہوئی—مگر ہمیں یہ ماننے میں ہچکچاہٹ نہیں ہونی چاہیے کہ ہم نے اس تبدیلی کو بھی آدھا ادھورا سمجھا ہے۔

اعداد و شمار صاف بتاتے ہیں کہ کراچی میں خواتین کی خواندگی 1981 میں تقریباً 49٪ سے بڑھ کر 2017 تک 71٪ ہو گئی۔
یہ اضافہ کسی “روشن خیالی کے انقلاب” کا نتیجہ نہیں تھا، بلکہ ایک معاشی مجبوری تھی—یہاں تک کہ کم درجے کی نوکریوں کے لیے بھی پڑھنا لکھنا ضروری ہو گیا۔

اسی طرح، تعلیم کو شادی کے معیار کا حصہ بھی بنایا گیا—مگر یہاں بھی نیت صاف نہیں تھی۔
مرد کے لیے پڑھی لکھی بیوی “status symbol” بن گئی،
اور عورت کے لیے تعلیم ایک بہتر رشتہ حاصل کرنے کا ذریعہ۔

سوال یہ ہے:
کیا ہم نے تعلیم کو سوچ بدلنے کے لیے استعمال کیا؟ یا صرف اسے ایک social filter بنا دیا؟

کیونکہ اگر تعلیم واقعی mindset بدل رہی ہوتی،
تو آج بھی ہم عورت کو اس کے جسم، لباس اور ظاہری presentation کے پیمانے پر judge نہ کر رہے ہوتے۔

تلخ حقیقت یہ ہے:
ہم نے عورت کو پڑھا لکھا تو دیا،
مگر اسے سمجھا نہیں۔

ہم نے اس کی literacy بڑھائی،
مگر اپنی mentality نہیں بدلی۔

نتیجہ؟
ایک ایسی “educated society” جہاں degree تو ہے،
مگر نظر اب بھی وہی پرانی ہے—
جو عورت کو انسان نہیں، ایک refined object کے طور پر دیکھتی ہے۔

ہمیں کیا بدلنا ہوگا؟

یہ تبدیلی کسی قانون یا campaign سے نہیں آئے گی۔ یہ ہر فرد کی ذاتی accountability سے آئے گی۔

  • اپنی نظر کو control کرنا سیکھیں
  • ہر انسان کو انسان سمجھیں، نہ کہ ایک جسم
  • اپنی خواہشات کو justify کرنے کے بجائے انہیں discipline کریں

اور سب سے بڑھ کر،
اپنے بچوں کو وہ سکھائیں جو ہم خود نہیں سیکھ سکے۔


یہ بلاگ کسی ایک gender کے خلاف نہیں، بلکہ اس mindset کے خلاف ہے جو ہمیں آہستہ آہستہ اندر سے کھوکھلا کر رہا ہے۔ اور یہاں میرا یہ بالکل نہیں کہنا ہے کہ مرد ذات بالکل اللہ میاں کی گائے ہے، انگلش میں ایک کہاوت ہے، کہ it requires two hands to create a clap، ایسے میں اگر آپ تالی کے ایک ہاتھ ہو، تو ایسے میں ہاتھ ہونے کے ناطے کچھ ذمہ داری دونوں جنس پر لاگو ہوتے ہیں۔

اگر ہم نے اب بھی خود کو نہیں بدلا،
تو آنے والی نسلیں ہمیں معاف نہیں کریں گی۔



مکمل تحریر >>

مارچ 27, 2026

ہماری زندگی — ایک مسلسل دھوکہ یا آرام دہ فریب؟

ماری سب سے بڑی مہارت شاید یہ نہیں کہ ہم کچھ کر سکتے ہیں، بلکہ یہ ہے کہ ہم خود کو یہ یقین دلا سکتے ہیں کہ ہم سب کچھ کر سکتے ہیں۔ یہی وہ مقام ہے جہاں ہماری زندگی ایک حقیقت نہیں، بلکہ ایک “آرام دہ فریب” بن جاتی ہے۔

ہماری روزمرہ زندگی کو اگر غور سے دیکھا جائے تو ایک عجیب تضاد نظر آتا ہے۔ ہم بڑے خواب دیکھتے ہیں، بڑی باتیں کرتے ہیں، دنیا کے نظام پر تبصرہ کرتے ہیں—لیکن اپنی ذاتی زندگی میں نظم، مستقل مزاجی اور محنت کو داخل ہونے نہیں دیتے۔
ہم اپنے آپ کو ذہین سمجھتے ہیں، لیکن اپنی توانائی کو بے مقصد گفتگو، فضول بحث اور وقتی تسکین میں ضائع کر دیتے ہیں۔

کراچی کی گلیوں میں بیٹھا ہر شخص ایک “تجزیہ کار” ہے—سیاست، معیشت، کرکٹ، عالمی طاقتیں—سب پر رائے تیار۔ مگر جب بات اپنی ذات کی آئے، تو ہم خاموش ہو جاتے ہیں۔
کیونکہ وہاں نہ جگاڑ کام آتا ہے، نہ باتیں۔

ہم نے اپنی زندگی کو اس طرح ترتیب دیا ہے کہ ہمیں کبھی اپنی کمزوریوں کا سامنا ہی نہ کرنا پڑے۔ ہم مصروف رہتے ہیں—لیکن بامقصد نہیں۔ ہم تھکے ہوئے ہوتے ہیں—لیکن کسی نتیجے کے بغیر۔
یہ ایک ایسا دائرہ ہے جس میں ہم خود کو مصروف رکھ کر خود سے ہی بچتے رہتے ہیں۔

ہماری سب سے بڑی غلطی شاید یہ ہے کہ ہم نے “صلاحیت کے احساس” کو ہی کامیابی سمجھ لیا ہے۔
ہمیں لگتا ہے کہ اگر ہم کچھ سمجھتے ہیں، تو ہم کچھ کر بھی سکتے ہیں۔
لیکن سمجھنا اور کرنا—یہ دو الگ دنیائیں ہیں، اور ہم اکثر پہلی میں ہی خوش رہتے ہیں۔

ہم اپنی ناکامیوں کا الزام نظام، حالات، یا دوسروں پر ڈال دیتے ہیں۔
یہ ایک آسان راستہ ہے—کیونکہ اس میں ہمیں خود کو بدلنے کی ضرورت نہیں پڑتی۔

سوال یہ نہیں کہ ہم میں صلاحیت ہے یا نہیں۔

سوال یہ ہے کہ کیا ہم اپنی زندگی کو اس سطح پر لے جانے کے لیے تیار ہیں جہاں محنت، نظم، اور خاموشی سے کام کرنا ضروری ہو جاتا ہے؟

کیونکہ جب تک ہم اپنی زندگی کو سنجیدگی سے نہیں لیتے، تب تک ہم صرف ایک کہانی سناتے رہیں گے—
ایسی کہانی جس میں ہم ہمیشہ کامیاب ہوتے ہیں،
مگر حقیقت میں کچھ بھی حاصل نہیں کرتے۔



مکمل تحریر >>

مارچ 24, 2026

کہنے کو میں "جگاڑو" ہوں

عنوان: "جگاڑ کا عالمی مرکز — کراچی سے ناسا تک"

پاکستانی، اور خاص طور پر کراچی والا، ایک عجیب مخلوق ہے۔ یہ وہ قوم ہے جو اگر کچھ نہ بھی کرے، تب بھی خود کو ہر میدان کا چیمپئن سمجھتی ہے۔ یہاں قابلیت سے زیادہ “جگاڑ” کو عزت دی جاتی ہے، اور عجیب بات یہ ہے کہ اکثر جگاڑ بھی صرف باتوں میں ہی ہوتا ہے۔

کراچی کے ہر دوسرے شخص کو سنیں تو لگتا ہے کہ اگر دنیا میں کوئی مسئلہ ہے، تو اس کا حل اس کے پاس پہلے سے موجود ہے—بس کسی نے پوچھا نہیں۔ ٹریفک جام ہو؟ “یار یہ تو میں ایک گھنٹے میں ٹھیک کر دوں۔” معیشت ڈوب رہی ہو؟ “دو دن دے دو، سب سیدھا کر دوں گا۔”
لیکن جب حقیقت میں کچھ کرنے کا وقت آئے، تو وہی شخص چائے کی چسکی لے کر کہتا ہے: “سسٹم ہی خراب ہے بھائی، ہم کیا کریں؟”

یہاں ایک اور دلچسپ ذہنیت بھی ہے—ہم سمجھتے ہیں کہ دنیا ہم سے چل رہی ہے۔ ایسے بات کرتے ہیں جیسے
“امریکہ کے راکٹ بھی اصل میں پاکستان سے ہی لانچ ہوتے ہیں، بس نام ان کا لگا ہوتا ہے۔”
یعنی اگر کوئی کامیابی کہیں بھی ہو، تو اس میں ہمارا “چھپا ہوا کردار” ضرور ہوتا ہے۔

کراچی میں بیٹھا ایک عام بندہ خود کو اس سطح پر لے جاتا ہے جہاں وہ خود کو دنیا کے ٹاپ تھنک ٹینک سے اوپر سمجھتا ہے، لیکن اپنی گلی کا کچرا تک منظم نہیں کر سکتا۔
یہ تضاد نہیں، یہ ایک مکمل طرزِ زندگی ہے۔

اصل مسئلہ یہ نہیں کہ ہم میں صلاحیت نہیں۔ مسئلہ یہ ہے کہ ہم نے “صلاحیت کے illusion” کو ہی حقیقت مان لیا ہے۔ ہم نے


محنت کے بجائے باتوں میں سکون ڈھونڈ لیا ہے، اور خود کو یقین دلا دیا ہے کہ ہم سب کچھ کر سکتے ہیں—بس کرنا نہیں چاہتے۔

کراچی والا خاص طور پر اس آرٹ میں ماہر ہے۔ وہ اپنے آپ کو “جگاڑو” کہہ کر فخر محسوس کرتا ہے، لیکن حقیقت میں وہ نہ نظام بنا سکتا ہے، نہ اسے برقرار رکھ سکتا ہے۔
وہ صرف اس نظام کے بیچ سے اپنا راستہ نکالنا جانتا ہے—اور اسے ہی کامیابی سمجھ بیٹھا ہے۔

شاید وقت آ گیا ہے کہ ہم ایک مشکل سوال خود سے پوچھیں:
کیا ہم واقعی قابل ہیں، یا صرف اپنے ذہن میں ایک فرضی دنیا کے بادشاہ ہیں؟

کیونکہ اگر راکٹ واقعی ہم سے لانچ ہو رہے ہوتے، تو کم از کم ہماری سڑکیں تو زمین سے سیدھی ہوتی۔



مکمل تحریر >>

مارچ 20, 2026

کراچی: جب غلط کو غلط کہنا بھی “بُکِش Bookish” کہلا جائے

کراچی کا اصل بحران سڑکوں پر نہیں—

ذہنوں میں ہے۔

وہ ذہن جو یہ ماننے کو تیار نہیں کہ

“غلط، غلط ہی ہوتا ہے… چاہے سب ہی کیوں نہ کر رہے ہوں۔”



میگالومینیاک سوسائٹی کیسے بنتی ہے؟

یہ کسی ایک دن میں نہیں ہوتا۔
یہ ایک behavioral conditioning ہے—جو نسل در نسل منتقل ہوتی ہے۔

جب بزرگ:

  • خود کو ultimate authority سمجھیں

  • اپنی غلطی ماننے کے بجائے اسے justify کریں

  • اور نوجوانوں کے سوال کو “بُکِش” یا “نظریاتی” کہہ کر dismiss کریں

تو وہ دراصل ایک ایسی سوسائٹی بنا رہے ہوتے ہیں جہاں:

“میں ٹھیک ہوں کیونکہ میں بڑا ہوں”
نہ کہ
“میں ٹھیک ہوں کیونکہ میں درست ہوں”

یہی میگالومینیا کی جڑ ہے۔


کراچی کی سڑک: ایک چھوٹا منظر، ایک بڑی بیماری

Wrong-way چلنا کراچی میں ایک عام بات ہے۔

جب آپ اس پر سوال اٹھاتے ہیں تو جواب آتا ہے:

  • “یہ پاکستان ہے”

  • “یہاں ایسے ہی ہوتا ہے”

  • “زیادہ کتابی نہ بنو”

یہ وہی لمحہ ہے جہاں:

اخلاقیات کو practical نہ ہونے کا طعنہ دے کر ختم کر دیا جاتا ہے۔


مذہبی اصول کیا کہتے ہیں؟

اسلام کا اصول واضح ہے:

برائی کو ہاتھ سے روکو

نہ ہو سکے تو زبان سے
اور اگر یہ بھی نہ ہو تو دل میں برا جانو

مگر کراچی میں کیا ہو رہا ہے؟

  • ہاتھ سے روکنا تو دور

  • زبان سے بھی نہیں

  • بلکہ دل میں بھی برا ماننا ختم ہو رہا ہے

یہ وہ آخری درجہ ہے جسے کمزور ایمان کہا گیا—
اور یہی آج کا societal baseline بنتا جا رہا ہے۔


بزرگوں کی ذمہ داری: Followership نہیں، Framework

کچھ بزرگوں کا یہ ماننا کہ:

“Millennials آخرکار ہماری طرح بن جائیں گے”

یہی سب سے خطرناک مفروضہ ہے۔

کیونکہ:

  • نسلیں copy نہیں کرتیں، observe کرتی ہیں

  • وہ وہی بنتی ہیں جو وہ دیکھتی ہیں، نہ کہ سنتی ہیں

اگر وہ دیکھیں:

  • قانون توڑنا acceptable ہے

  • غلطی پر ضد کرنا acceptable ہے

  • اور authority کو question نہ کرنا ضروری ہے

تو وہ بھی یہی adopt کریں گے—
بلکہ مزید aggressive انداز میں۔


Global Case Studies: دنیا نے یہ مسئلہ کیسے حل کیا؟

یہ مسئلہ صرف کراچی کا نہیں تھا۔ دنیا کے کئی معاشروں نے یہ فیز گزارا—اور باہر نکلے۔


1. جاپان: Post-WWII Discipline Shift

جاپان میں جنگ کے بعد:

  • chaos

  • institutional collapse

  • survival mindset

موجود تھا۔

مگر انہوں نے کیا کیا؟

  • Civic discipline کو cultural value بنایا

  • بزرگوں نے خود rules follow کیے

  • بچوں کو سکھایا نہیں—دکھایا

آج:

جاپان میں کوئی wrong-way نہیں چلتا
کیونکہ وہاں “کوئی دیکھ نہیں رہا” کا concept ہی irrelevant ہے


2. سنگاپور: Zero Tolerance Model

1960s میں سنگاپور:

  • corruption

  • lawlessness

  • public disorder

کا شکار تھا۔

انہوں نے:

  • strict laws بنائے

  • مگر اس سے زیادہ اہم:
    leadership نے خود مثال قائم کی

Lee Kuan Yew کا ماڈل یہی تھا:

“Law is not advice. It is expectation.”

آج:

  • wrong parking بھی rare ہے

  • civic sense ایک identity بن چکی ہے


3. جرمنی: Accountability Culture

جرمنی میں:

  • rules breaking کو smartness نہیں سمجھا جاتا

  • بلکہ social disgrace سمجھا جاتا ہے

یہ کیسے آیا؟

  • elders نے WWII کے بعد اپنی غلطیوں کو accept کیا

  • نئی نسل کو accountability as identity دی


کراچی کہاں کھڑا ہے؟

کراچی میں مسئلہ یہ ہے:

  • قانون کمزور ہے

  • مگر mindset اس سے بھی کمزور ہے

یہاں:

  • غلطی کو normalize کیا جاتا ہے

  • اور درست بات کو “idealistic” کہہ کر reject کیا جاتا ہے

یہ وہی لمحہ ہے جہاں:

society اپنے زوال کو خود legitimize کرتی ہے


ایک کڑوی حقیقت: Elders as Multipliers

ہر بزرگ صرف ایک فرد نہیں ہوتا—
وہ ایک multiplier ہوتا ہے۔

اگر وہ:

  • غلطی کو justify کرے
    → تو وہ 5 لوگوں کو متاثر کرے گا

اگر وہ:

  • درست رویہ دکھائے
    → تو وہ 50 لوگوں کو بدل سکتا ہے

یہی اصل ذمہ داری ہے—
جو اکثر نظرانداز ہو رہی ہے۔


آخری سوال (جو آپ کو خود سے پوچھنا ہے)

جب آپ wrong-way جاتے ہیں،
جب آپ قانون توڑتے ہیں،
جب آپ سوال کرنے والے کو “بُکِش Bookish” کہتے ہیں—

تو کیا آپ صرف ایک عمل کر رہے ہیں؟
یا ایک پوری نسل کو shape کر رہے ہیں؟


نتیجہ: امید کہاں ہے؟

امید وہاں ہے جہاں:

  • بزرگ خود کو “untouchable” نہ سمجھیں

  • بلکہ accountable سمجھیں

  • نوجوان خود کو “rebellious” نہ سمجھیں

  • بلکہ responsible سمجھیں


معاشرہ قانون سے نہیں بدلتا
مثال سے بدلتا ہے

اور اگر مثال ہی خراب ہو—
تو پھر ہر نسل اگلی نسل کے لیے
مزید بگڑا ہوا ورژن چھوڑ کر جاتی ہے۔


یہ تحریر کسی کے خلاف نہیں—
یہ ایک آئینہ ہے۔

اب دیکھنا یہ ہے:
اس میں ہم خود کو دیکھتے ہیں، یا صرف دوسروں کو؟



مکمل تحریر >>

مارچ 19, 2026

کراچی: اندھیرے میں روشنی کی تلاش — جب نسلیں ٹکراتی نہیں، ٹوٹتی ہیں

کراچی کا مسئلہ صرف انفراسٹرکچر، ٹریفک یا گورننس نہیں ہے۔ اصل بحران ایک ذہنی اور نسلی ٹکراؤ ہے
Our elders have been promoting wrong examples
without understanding that every action which 
they take now, have consequences in future

—جہاں بات اختلاف کی نہیں، بلکہ سننے کی صلاحیت کے خاتمے کی ہے۔

یہ ایک تاریک حقیقت ہے، مگر اس کے اندر ایک امید بھی چھپی ہے—اگر ہم اسے پہچان لیں۔


ایک اور تجربہ: جب بحث، مکالمہ نہیں رہتی

ایک بزرگ سے گفتگو ہوئی۔ موضوع سادہ تھا:
ذمہ داری کہاں سے شروع ہوتی ہے؟

ان کا مؤقف واضح تھا:

“ہر ذمہ داری حکومت کی ہے۔ عوام دنیا بھر میں ایک جیسے ہوتے ہیں—غیر ذمہ دار۔”

میرا نقطہ نظر مختلف تھا:

“تبدیلی نیچے سے اوپر (Down-to-Up) آتی ہے، نہ کہ صرف اوپر سے نیچے (Up-to-Down)۔”

مگر بات یہاں ختم نہیں ہوئی—یہ مکالمہ جلد ہی confrontation میں بدل گیا۔

آخرکار میں نے صاف کہا:

“آپ اس بحث کو جیتنا چاہتے ہیں، حل نہیں کرنا چاہتے۔ کیونکہ آپ سننے کے لیے تیار نہیں ہیں۔”

یہ جملہ بحث جیتنے کے لیے نہیں تھا—
یہ ایک diagnosis تھا۔


اصل دکھ: علم کا خزانہ، مگر دروازہ بند

میں ان لوگوں میں سے ہوں جو بزرگوں کی باتوں کو Gold سمجھتے ہیں۔

جب میں کراچی کے پرانے علاقوں میں جاتا ہوں، اور میرے والد بتاتے ہیں:

  • اس سڑک کا پرانا نام کیا تھا

  • کون سی عمارت کس دور کی ہے

تو وہ معلومات میرے لیے صرف تاریخ نہیں—
وراثت ہوتی ہے۔

میں خود کو ایک “Gold Miner” سمجھتا ہوں—
جو بزرگوں کے تجربات سے سونا نکالنا چاہتا ہے۔

مگر جب وہی بزرگ:

  • مکالمے کو مقابلہ بنا دیں

  • سوال کو بے ادبی سمجھیں

  • اور خود کو “ناقابلِ سوال authority” بنا لیں

تو یہ صرف مایوسی نہیں—
یہ ایک سماجی نقصان ہے۔


یہ رویہ آیا کہاں سے؟ (Global Context)

یہ صرف کراچی یا پاکستان کا مسئلہ نہیں ہے—یہ ایک Global Behavioral Pattern ہے۔

Baby Boomers کی Grooming:

  • جنگ کے بعد کا دور (Post-WWII stability)

  • سخت hierarchical systems

  • authority = respect کا براہِ راست تعلق

  • survival-based thinking

Millennials کی Grooming:

  • globalization

  • information access (internet revolution)

  • questioning mindset

  • collaboration over hierarchy


اعداد و شمار کیا کہتے ہیں؟

  • Harvard Business Review کے مطابق:
    70% Millennials سمجھتے ہیں کہ leadership میں listening skills کی کمی ہے

  • Deloitte Global Survey:
    49% Millennials believe elders resist change even when evidence is clear

  • World Values Survey:
    → developing societies میں hierarchical thinking اب بھی dominant ہے

یہ صرف perception نہیں—
یہ ایک measurable behavioral divide ہے۔


کراچی میں اس کا خطرناک رخ

کراچی میں یہ clash مزید شدید ہو جاتا ہے کیونکہ:

  • یہاں institutional systems کمزور ہیں

  • family system overburdened ہے

  • elders اپنی authority کو last line of control سمجھتے ہیں

نتیجہ؟

Ripple Effect (لہری اثر)

  • گھر میں conflict

  • شادیوں میں manipulation

  • نوجوانوں میں frustration

  • اور پھر یہی نوجوان…
    اسی رویے کو adopt کر لیتے ہیں


مذہبی پہلو: ذمہ داری یا اختیار؟

یہاں ایک حساس مگر ضروری نکتہ:

کچھ بزرگ جب اپنی بات منوانے میں ناکام ہوتے ہیں، تو وہ ایک غیر محسوس انداز میں خود کو

“اللہ کی نمائندگی”

سمجھنے لگتے ہیں۔

حالانکہ حقیقت کیا ہے؟

  • اسلام میں ذمہ داری (Accountability) بنیادی اصول ہے

  • اور ساتھ ہی یہ بھی کہا گیا:

    “مومن ایک سوراخ سے دو بار نہیں ڈسا جاتا”

تو سوال یہ ہے:
اگر غلطی ایک بار ہوئی، تو کیا اسے اگلی نسل پر دہرانا دانشمندی ہے؟


Double Trap: جیت بھی ہار ہے

یہ pattern واضح ہے:

  1. اگر نوجوان خاموش رہے
    → اسے قبولیت سمجھا جاتا ہے

  2. اگر وہ سوال کرے
    → اسے بغاوت کہا جاتا ہے

یہ صرف control نہیں—
یہ ایک designed psychological loop ہے


اصل سوال (جو جواب نہیں، احتساب مانگتا ہے)

کیا یہ رویہ معاشرے میں
بگاڑ کی لہر (Ripple Effect) نہیں پیدا کر رہا؟

یہ سوال میں آپ سے نہیں پوچھ رہا—
یہ ہر اس شخص سے ہے جو authority رکھتا ہے۔

اپنے آپ سے پوچھیں۔
اللہ کے سامنے خود کو جوابدہ سمجھ کر پوچھیں۔


امید کہاں ہے؟

اندھیرا مکمل نہیں ہے۔

وہ بزرگ جو:

  • پہلے trust build کرتے ہیں

  • پھر سنتے ہیں

  • اور پھر رہنمائی کرتے ہیں

وہی اصل Chain-Sprocket ہیں—
جو نسلوں کو جوڑتے ہیں، توڑتے نہیں۔


آخری بات: فیصلہ آپ کا ہے

یہ جنگ Millennials vs Baby Boomers کی نہیں—
یہ جنگ ہے:

Ego vs Accountability
Control vs Continuity

اگر بزرگ خود کو “Final Authority” سمجھیں گے
تو نسلیں ٹوٹیں گی

اگر وہ خود کو “Link in Chain” سمجھیں گے
تو نسلیں آگے بڑھیں گی


میں کوئی مفتی نہیں۔
میں کوئی فیصلہ سنانے والا نہیں۔
میں صرف ایک مشاہدہ کرنے والا ہوں—

مگر ایک بات یقین سے کہہ سکتا ہوں:

جب سننا ختم ہو جائے،
تو معاشرے بولنا بھی چھوڑ دیتے ہیں۔



مکمل تحریر >>

بلاگ میں مزید دیکھیں

You might like

$results={5}

Search me