Pages

4/3/26

پڑھائی کا اصل مقصد: چھوٹی ذہنیت چھوڑو، بڑا سوچو!

سلام علیکم دوستو!  
میں مرتضیٰ معیز ہوں (@MoizMurtaza)، کراچی کا رہنے والا۔ آج دل میں ایک بہت بڑا سوال ہے جو مجھے رات دن کھاتا رہتا ہے: پڑھائی کا اصل مقصد کیا ہے؟ کیا صرف ڈگری لے کر نوکری ڈھونڈنا ہے؟ کیا صرف نمبر لانا ہے؟ یا کچھ اور؟  

میں سیدھا کہتا ہوں: پڑھائی کا بنیادی مقصد یہ ہے کہ انسان چھوٹی ذہنیت چھوڑ کر بڑے پیمانے پر سوچنا سیکھے۔ اپنا اچھا برا دیکھے، pros اور cons کا تجزیہ کرے، اور دوسروں کے ساتھ بھی ویسا ہی رویہ رکھے جیسا وہ خود اپنے لیے پسند کرتا ہے۔ لیکن افسوس، ہم بحیثیت قوم اس مقصد سے بہت دور نکل آئے ہیں۔

کراچی کی "رونگ وے" والی ذہنیت

کراچی میں "رونگ وے" ایک طرح کا نظریہ بن چکا ہے۔ ایک طرف سے بائیک آ رہی ہو، دوسری طرف سے گاڑی – دونوں ایک دوسرے کو پیچھے دھکیلنے کی کوشش کریں گے۔ گلی اتنی تنگ ہے کہ ایک کو راستہ دینا پڑے گا، لیکن کوئی تیار نہیں۔ میں خود انڈرائیو پر کئی بار کسٹمرز سے کہہ چکا ہوں:  
"بھائی، میں رونگ وے سے ڈرتا ہوں۔ ایک بار میرا چالان ہو چکا ہے صرف اس لیے کہ میرے پیچھے والے نے ہیلمٹ نہیں پہنا تھا۔"  

لوگ حیران ہوتے ہیں۔ کہتے ہیں "ارے یار، سب تو کرتے ہیں!"  
میں پوچھتا ہوں: پڑھے لکھے ہونے کا فائدہ کیا ہوا اگر pros اور cons کا تجزیہ نہیں آتا؟ ایک چھوٹی سی غلطی کی وجہ سے پورا نظام متاثر ہو رہا ہے، اور ہم اب بھی "سب کرتے ہیں" والے بچکانہ بہانے پر قائم ہیں۔

ہماری intellectual dishonesty

ہمارے اندر ایک بہت بڑی بیماری ہے – intellectual dishonesty۔ ہم جانتے ہیں کہ غلط ہے، پھر بھی کرتے ہیں۔ ہمارے بزرگوں کے دور میں اگر کسی کے پاس طاقت ہوتی تھی تو وہ اسے ذمہ داری سمجھ کر استعمال کرتا تھا۔  

حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے دور کی مثال دیکھیں۔ جب ایک شخص مچھلی لے کر آیا تو حضرت عمر نے فرمایا کہ یہ تو غریبوں کا حق ہے۔ انہوں نے مچھلی پورے گاؤں میں بانٹ دی۔ غلط مثال قائم کرنے کی بجائے انصاف کیا۔  

آج fast-forward کر کے دیکھیں:  

50 روپے کی مہندی کے لیے کوئٹہ سے کراچی چارٹر فلائٹ کروا دی جاتی ہے۔  
ایک شخص کی ذاتی خوشی کے لیے لاکھوں روپے کا ایندھن ضائع، درجنوں لوگوں کا وقت ضائع، ماحول متاثر۔  

یہ کوئی چھوٹی بات نہیں۔ یہ ہماری احساس کمتری کی مثال ہے۔ ہم سوچتے ہیں کہ "اگر میں نے یہ نہیں کیا تو لوگ کیا کہیں گے؟" اس لیے چھوٹی ذہنیت میں پھنسے رہتے ہیں۔

روزِ قیامت کا سوال

میں اکثر خود سے پوچھتا ہوں:  
کیا میں اللہ کے سامنے جا کر یہ کہہ سکوں گا کہ "یا اللہ، میں نے دوسروں کے لیے آسانی پیدا کی تھی"؟  
یا مجھے شرمندہ ہو کر کہنا پڑے گا کہ "یا اللہ، میں نے تو صرف اپنا راستہ صاف کرنے کی کوشش کی تھی، دوسروں کو روک دیا تھا"؟  

ہم judgmental بننے سے پہلے خود مسلمان بننے کی کوشش کریں۔ دوسروں کو نصیحت کرنے سے پہلے خود ذمہ داری کا مظاہرہ کریں۔  

اگر ہم نے آج رونگ وے کیا، دوسروں کو تنگ کیا، چھوٹی ذہنیت اپنائی، تو اس کا repercussion کیا ہوگا؟  
- معاشرہ تقسیم ہو جائے گا  
- اعتماد ختم ہو جائے گا  
- اور سب سے بڑھ کر، اللہ کے سامنے جواب دہی ہوگی  

اب بدلنے کا وقت ہے

دوستو، پڑھائی کا اصل مقصد یہی ہے کہ ہم بڑے سوچیں۔  
- گلی تنگ ہے تو ایک طرف والا رک جائے۔  
- افطار کا وقت ہے تو دوسرے کو راستہ دے دو۔  
- طاقت ہے تو ذمہ داری سے استعمال کرو۔  
- اور سب سے بڑھ کر: چھوٹی ذہنیت چھوڑو، بڑا سوچو۔  

میں خود سے وعدہ کرتا ہوں کہ اب رونگ وے نہیں کروں گا، چاہے کتنا ہی تاخیر ہو جائے۔ دوسروں کو تنگ نہیں کروں گا۔ اور جب بھی موقع ملے، دوسروں کے لیے آسانی پیدا کروں گا۔  

آپ بھی سوچیں۔  
کیا ہم اب بھی چھوٹی ذہنیت میں پھنسے رہیں گے، یا پڑھے لکھے ہونے کا اصل مقصد پورا کریں گے؟  

کمنٹس میں ضرور بتائیں۔  
اللہ ہمیں وہ عقل دے کہ ہم بڑے سوچیں، ذمہ دار بنیں، اور روزِ قیامت شرمندہ نہ ہوں۔  

مرتضیٰ معیز  
کراچی  
4 مارچ 2026  

#چھوٹی_ذہنیت_چھوڑو 
#بڑا_سوچو 
#ذمہ_داری 
#اسلامی_اخلاق 
#کراچی_کی_حقیقت 
#اپنا_رویہ_بدلو 
#روز_قیامت_کا_سوال 
#PakistanZindabad


بلاگ میں مزید دیکھیں

You might like

$results={5}

Search me

Translate