The Political Horizon: Cultural Issues in Society

Translate

مئی 13, 2026

This is not the case that I am against "All Baby Boomers"

میرے بلاگز سے یہ دکھائی دے رہا ہوتا ہے کہ جیسے میں بڑی عمر کے بزرگوں کے خلاف ہوں، 

میں carry-forward mechanism کا حامی ہوں

یہ ساتھ والے گولے دیکھ رہے ہیں؟ اس سے آپ کیا اثر لے رہے ہیں، کسی نے کہا ہے کہ دو گیندیں دیکھ رہی ہیں، کوئی اس میں لال اور نیلی گیند دیکھ رہا ہے، جبکہ میں یہاں ان دو گیندوں کو best of two worlds کے طور پر دیکھوں گا۔

Best of Two Worlds

یہ mechanism پر believe کرتا ہوں، کیونکہ ان دو گیندوں کے بیچ میں ایک terminator line بنی ہوئی ہے، جہاں لال اور نیلی گیند دونوں کے اثرات ہیں، ایسا کہیں نہیں کہ دونوں گیندوں کو ایک کر دیں تو individuality ختم ہو جائے گی، آپ کو respect دینی ہوگی کہ آپ دوسرے کو respect دو گے تو دوسرا بھی آپ کا خیال کرے گا۔

THIS IS HIGH TIME - PAKISTANI BABY BOOMERS BE EXPOSED ACCORDINGLY

اس بلاگ پوسٹ میں، میں نے بیوی کے بارے میں بتایا کہ وہ بلا وجہ انگلیاں توڑ رہی ہے، 

میں اسی طرح کا بندہ ہوں، جو Quid-Pro-Quo کی basis پر believe کرتا ہوں، اگر بیوی کا رویہ میرے ساتھ ٹھیک ہوتا، میں گِر پڑھ کر اس کو سپورٹ کرتا، مگر اب اگر یہ Black Michael بننے کا شوق ہے، تو پھر میں بھی Othello ہوں، بیشک اوتھیلو مر جاتا ہے اس ناول میں، مگر یہاں بلیک مائیکل کا کردار یہاں مجھے اپنی بیوی کے ذریعے دیکھ رہا ہوں، ایک جانب میں دیکھ رہا ہوں کہ مجھے بیوی کی بات سننے کا فرض ہے مگرمیری پسند نا پسند کا خیال نہیں رکھنا ضروری ہے، کیونکہ اس بات کا کیا مطلب ہے؛

میں نوکر نہیں ہوں کہ آپ کی بات مانوں

مگر دوسری جانب یہ بات سنوں کہ یہ میری ذمہ داری ہے، اس سے کوئی denial نہیں، مگر intend to take all and give nothing، کیا اس کے اندر یہ سب کچھ بھی آتا ہے؟

میری والدہ مجھے mock کرتے ہوئے

میں اپنی تکلیف بھول کر، نوکری نہیں ہوتے ہوئے بھی بائیکیا چلا کر پیسے کما کر پچھلے مہینے ۵۵۰۰ کی بچے کی چکن پاکس کی ویکسین، اور اس مہینے ۴۵۰۰ کی ویکسین میں سے ۴۰۰۰ جمع کرچکا ہوں، جون میں اس کی ویکسن ہوگی، تو اپنی تکلیف بھول کر وہ خرچہ کرتا ہوں، مگر پھر بھی گھر میں ایسا toxic ماحول، کیا میں اس قابل ہوں؟ اب میرا مسئلہ یہ ہوتا ہے کہ ایک static پوزیشن کے بعد جب میں موومنٹ میں آتا ہوں تو muscular pain شروع ہوجاتا اور اسی وجہ سے میری کمر اور hips درد کرتے، اب میرے اوپر اس وقت یہ صورتحال ہے، تو میری ماں کی جانب سے یہ megalomaniac اور narcissistic طریقہ سے مجھے ٹریٹ کرنا، کہ اپنا علاج کیوں نہیں کراتے؟ مسئلہ رگوں کا ہے، اب اس وقت میں یہ رسک تھوڑی لے سکتا کہ رگ کا علاج بیچ میں چھوڑ دوں کیونکہ بچے کو نہیں چھوڑنا ہے، میں اپنی تکلیف برداشت کرلوں گا مگر بچے کو نہیں دیکھوں گا کہ وہ تکلیف میں رہے، کیونکہ رگ کا علاج بیچ میں روک دیا تو بائیک کے ذریعے کمائی روک سکتی ہے، کیونکہ پاؤں جام ہوگئے تو بائیک چلانا ایک طرف، میں پیدل نہیں چل سکتا، تو ایسے میں گھر میں toxicity اس حد تک ہے، کہ ماں ہوتے ہوئے یہ سمجھنا مشکل ہورہا ہے، کہ بینک میں میری تنخواہ ۳۷۰۰۰ رہی ہے، تو اب ایسے میں کیسے ممکن ہے کہ میں اپنا علاج بھی کروں، اور اس کے ساتھ بچے کی ویکسین کا خرچہ safe کروں، دونوں چیزیں ایک ساتھ اور یک مشت تھوڑی ہوتا ہے۔

🏙️We Fail as Society

مگر معذرت کے ساتھ، غلطی کو غلط ماننے کے بجائے دوسرا بندہ جو ایک ایسی مثال جہاں tolerance کرنا چاہ رہا ہے، مگر جواب میں میرے برداشت کی بس کر دیتے ہیں، اور متعدد بار ایک ہی چیز ہونا، یہی مطلب ہوتا ہے کہ it is all preplanned، کیونکہ گھر میں یہ ماحول بالکل موجود ہے، کہ والدین بالکل ٹھیک ہوتے، چلو مان لیا آپ بالکل ٹھیک ہو، تو آپ نے ہمیں معاشرہ کیسا دیا ہے؟ کیا اس کی ذمہ داری آپ کے اوپر نہیں؟ جو مثال آپ ہمارے سامنے پیش کررہے ہو، اس کی ذمہ داری لے رہے ہیں؟ When you create a toxic environment with bad examples



مکمل تحریر >>

مئی 04, 2026

Society Issue in Karachi

یہ بلاگ میرے کرکٹ بلاگ کے اس پوسٹ سے متعلق ہے، وہاں میں نے پاکستانیوں کی mediocracy کرکٹ کے میدان میں سوالات کئے ہیں یہاں میں پاکستانی معاشرے کے متعلق سوالات اٹھا رہا ہوں۔

پہلے میں کرکٹ سے ہی شروعات کروں گا، ہماری یہ ذہنیت رہی ہے کہ ہم پاکستانی ہیں، فاسٹ بولنگ ہم سے ہے، جبکہ کل پی ایس ایل ۱۱ پشاور زلمی کے نام ہوا ہے، مگر ہماری mediocracy دیکھیں کہ پورے ٹورنامنٹ کا فاسٹ بولر ناحد رانا (ناحید رانا نہیں) نے ہمارے so-called فاسٹ بولرز کو کمند دکھائی ہے۔

معاشرتی تصورات

یہ ہماری معاشرتی تصورات ہے، کیونکہ بحیثیت معاشرہ یہ ہماری سوچ ہے کہ پاکستانی پروڈکٹ خراب ہوتی ہے imported امپورٹڈ چیزیں ذیادہ اچھی ہوتی ہیں، اس کے ساتھ ہماری فیملی سسٹم بھی اسی طرح کا ہے، کہ کسی کو کھلا ہاتھ نہیں دینا ہے، میرا اپنا یہ مسئلہ یہ رہا ہے، کیونکہ میں اس نیچر کا بندہ ہوں کہ میں لائن بنا کر رکھتا ہوں، کچھ چیزیں میں accept کرلوں گا، مگر ذیادہ چیزیں جن کا impact آج نہیں دکھائی دیگا، بلکہ ۱۰، ۲۰ سال کے بعد دیکھائی دیگا، اور جیسے یہ baby boomers نے اپنی ذندگی گزاری ہے کہ اپنے خود کے گول سیٹ نہیں کرنا، مگر اپنے بیٹے یا بیٹی کے ذریعہ اپنی ذندگی گزروانا چاہتے ہیں، یہ ہمارے آج کے بڑوں کی ذہنیت ہے، یہ چیز ان کو سمجھنا چاہئے جو کہ ہم نے نیپال، سری لنکا اور بانگلادیش میں دیکھ چکے ہیں کہ اب ذہنیت کی جنگ ہے، baby boomers اپنی ذہنیت GEN-Z کے اوپر تھوپنے پر لگے ہوئے ہیں، میرے خود کے ساتھ یہی ہورہا ہے، کہ میرے ساتھ گھر میں حجتی رویہ رکھا جارہا ہے، یعنی جیسے انگریزی میں ایک ٹرم استعمال کی جاتی ہے کہ dual faced dagger یعنی مان لوں تو بعد میں میرا بھی یہی حال ہوگا کہ میں اپنی ذندگی اپنے بیٹے کے ذریعے گزاروں گا، نہیں مانوں گا، تو ایسے میں میرے ساتھ یہی ہورہا ہے کہ مجھے دکھایا جارہا ہے کہ میں بدتمیز ہوں، مگر یہاں یہ بے بی بومرز میں ایک مستقل احساس کمتری ہے کہ نیچے والی جنریشن کواپنے "قابو" میں رکھنا، کیونکہ یہ چیز میں نے ان بے بی بومرز میں دیکھی ہے، کہ argument جیتنا ضروری ہے، either by hook or by crook، کیونکہ ایک اور چیز جو میں نے دیکھی ہے کہ بے بی بومرز اپنے آپ کو موجودہ ٹائم سے مطابقت کرنا اپنی شان کے خلاف سمجھتے ہیں، اور ایسے میں میرے سامنے ایک بڑے صاحب فخریہ کہتے ہیں، Hit and Run، یعنی جیسے شرارتی بچے گرمی میں دروازہ بجا کر بھاگ جاتے تھے، یہ مائنڈ سیٹ کو پروموٹ کررہیں ہیں، اور ایسے میں اگر یہ چیز میں اپنی بیوی اور بچے کے اوپر اثر انداز نا ہونے کے لئے point zero پر روک رہا ہوں، اور وہاں میرے گھر کے بڑے یہ چیز میری موجودگی میں اثر انداز کرانا چاہتے ہیں، اور ایسے میں میرے ساتھ وہی حرکت کررہیں جو الادین میں جادوگر نے جیسمین کو نقلی چراغ دے کر اصلی چراغ یعنی  میرے فیملی پر say کو out of context کیا جارہا ہے، یعنی انگریزی میں کہا جاتا ہے، waiting for disaster، کیونکہ ابھی سے میں دیکھنا شروع کردیا ہے کہ میری بیوی میری suggestions کو importance نہیں دے رہی ہے، اور یہی بات ہے، میری فیملی میں ایسے واقعات ہوچکے ہیں، جن کو سختی کر کے میں روک رہا ہوں، تو ایسے میں ایک جانب میرے والدین سے رکاوٹ آرہی ہے، دوسری جانب بیوی، اس کا ایک نقصان یہی ہے کہ آگے مستقبل میں میری بیوی میری ایک نہیں سنے گی، میں جس طرح کا بندہ ہوں، میں فرنچ میں ایک ٹرم quid-pro-quo یعنی جیسا کرو گے ویسا بھرو گے، میرے ساتھ اچھا رہو گے تو میں جی جان لگا کر تمہارے ساتھ کھڑا رہوں گا، اور ایسے میں میرے والدین میرے لئے ایسے مشکلات کھڑے کررہے ہیں، اور اس میں کوئی شرم نہیں کہ صرف اسی لئے کہ جب میرا بچہ نہیں ہوا تھا، تو تب میرے پیچھے پڑ گئے تھے کہ میں اپنی بیوی کو ڈاکٹرز، حکیم صاحب اور مولوی صاحبان کے پاس بھیجوں، اور ایسے میں اب پزل کو ملاؤں تو ایسے میں یہ بات روز اول عیاں ہے، کہ ان بے بی بومرز کی ego اس چیز پر hurt ہوئی ہے، تو ایسے میں اس چیز کا قوی امکان ہے کہ اس جانب سے میرے خود کے ساتھ اسکورز settle کریں گے، اور جیسے میں نے کہا کہ یہ چیز جب میں پزلز کے سارے pieces کو جمع کررہا ہوں، تو یہ impact آتا ہے۔

Carry Forward ذہنیت کے بجائے قابو کرنے کی ذہنیت کرنا

سوسائٹی اسی طرح بنتی ہے جیسے نوکیا کا مشہور سلوگن رہا ہے کہ Connecting People، یہ ذہنیت ہمیں اپنانی ہوگی، بالکل ویسے ہی ہے جیسے آپکی ایک انگلی کی امپریشن ساتھ والی انگلی سے کبھی ملاپ نہیں ہوگا، یہ میں نے کچھ دن پہلے نادرہ کے دفتر میں دیکھا تھا، کیونکہ میرے والد صاحب کے انگلی کے نشانات نہیں آرہے تھے، تو ایسے میں فیملی میمبر ہونے کے ناطے میں نے ان کی جگہ انگلی کے نشانات دئے تھے، اور اس پر بھی میرے انگوٹھے کے بجائے شہادت کی انگلی اور انگوٹھی والی انگلی کے امپریشن آئے تھے، کیونکہ میں بائیک چلاتے ہوئے آیا تھا، تو انگوٹھا rugged ہورہا تھا، تو ایسے میں جو لوگ نادرہ میں انگوٹھے لگائے ہیں، ان کو اندازہ ہوگا کہ کسی کے لئے جب آپ انگوٹھا لگاتے ہیں تو سسٹم پر آنے والے پرومپٹ کے حساب سے آپ کو انگوٹھا لگانا ہوتا ہے، ایسے میں آٹومیٹک پرومپٹ انگوٹھے کا آیا، مگر جیسے میں نے پتایا، بائیک کے accelerator پر ہونے کی وجہ سے نشان نہیں آیا، پھر سیکنڈ attempt شہادت کی انگلی کی آئی، وہ آگئی، اس کئ بعد دوسری attempt میری بیچ والی انگلی یعنی ring finger کی آئی، اس وقت میں نے امپریشن کے متعلق اُس آپریٹر سے پوچھا کہ کیا ہماری انگلیاں ہر انگلی ایک دوسرے سے فرق ہوتا ہے؟ جس پر اس نے ہاں میں جواب دیا، جس سے مجھے یہ اندازہ ہوا کہ جب ایک جسم میں موجود پانچوں انگلیاں ایک دوسرے سے فرق رکھتی ہیں، تو ایسے میں ہم کیسے یہ امید لگا کر رکھیں ہیں کہ بجائے والد carry forward ذہنیت کے مطابق بیٹے میں جو فرق ہے، اس کو accept کریں، اس کو اپنے نقش قدم پر چلانے میں اتنے اتاولے ہوجاتے ہیں کہ اولاد کی اپنی unique touch and feel کو ختم کرنے پر تلے ہوئے ہوتے ہیں، ایسے میں نیپال، سری لنکا اور بانگلادیش میں جو ہوا، وہ یہی ذہنیت کا تصادم تھا۔

اور ہمارہ معاشرہ اسی تصادم کی جانب جارہا ہے

مجھے یہ بات بے بی بومرز کی سمجھ نہیں آتی، ہم جونئرز کے سامنے کیسی مثالیں کھڑی کرہیں ہیں، ذیادہ تر بڑے بزرگ ہمیں یہ سمجھاتے ہیں کہ hit-and-run یہ نہیں دیکھ رہیں ہیں کہ اسکا معاشرتی تصادم کیسا ہوگا؟ کیونکہ ہمارہ معاشرہ ایسا شعبدے بازی سے بھر پور بن چکا ہے، کہ الامان الحفیظ، میں شعبدے بازی کو اس لئے نہیں اٹھا رہا ہوں کیونکہ in the long run میں یہ لوڈ اُٹھانے کا قابل نہیں ہوں، تو ایسے میں اپنی لائن کلئیر رکھ رہا ہوں، مگر یہاں میرے خود کے گھر والے مجھے اس جانب ڈلنے پر تلے ہوئے ہیں، 

میں اپنی تعریف نہیں کرنی مگر بات یہی ہے کہ میں calculated چلنے والا بندہ ہوں، اور یہاں عقیدت مندی اور تعبیداری کے نام پر مجھے بلیک میل کیا جارہا ہے، تاکہ کسی بھی حال میں، میں ان کے "نقش قدم" اور فرمانبرداری پر چلوں، یعنی فرمانبرداری کے نام پر مجھے exploit کیا جارہا ہے، جس میں میرے خود کئ والدین شامل ہیں، کیونکہ ان کے اس ایکشن کی وجہ سے میری بیوی مجھے for-granted لینا شروع کردیا ہے، تو خود بتائیں، آگے میرے لئے میرے خود کے والدین میرے لئے کیا بُن رہیں ہیں؟ 

The Political Horizon: While doing inDriving, noted one aspect 📌



مکمل تحریر >>

اپریل 01, 2026

Over-Sexualization of Women in Pakistan: A Threat to Education, Identity, and Society

پاکستان میں عورت کی Over-Sexualization: جب جسمانی ساخت سوچ پر غالب آ جائے | The Rise of Over-Sexualization in Pakistani Society

ہم نے ترجیحات بدل دیں—اور اب نتائج بھگت رہے ہیں

Studies show that women in Pakistan are often perceived as objects of attraction, which restricts their mobility and confidence , in public spaces, An in-depth analysis of how over-sexualization of women in Pakistan is impacting education, societal values, and gender equality in the digital age.

پاکستانی معاشرے میں ایک خاموش مگر خطرناک تبدیلی آ چکی ہے۔
ہم بظاہر تعلیم، آزادی اور empowerment کی بات کرتے ہیں—
مگر عملی طور پر ہم نے ایک ایسا ماحول بنا دیا ہے جہاں جسمانی ساخت، خاص طور پر “thick figure”، سوچ اور maturity پر غالب آتی جا رہی ہے۔

یہ بات سننے میں تلخ لگے گی، مگر ground reality یہی ہے:
آج perception، capability سے زیادہ powerful ہو چکا ہے۔

تعلیم موجود ہے، مگر direction غائب ہے

ہم فخر سے کہتے ہیں کہ خواتین کی تعلیم میں اضافہ ہوا ہے—اور یہ حقیقت بھی ہے۔
مگر سوال یہ ہے کہ:

کیا اس تعلیم نے سوچ کو mature کیا؟
یا صرف presentation کو polish کیا؟

آج ایک پڑھی لکھی عورت بھی اسی معاشرتی pressure کا شکار ہے جہاں:

  • appearance کو value دی جاتی ہے

  • جسمانی ساخت کو highlight کیا جاتا ہے

  • اور maturity کو secondary بنا دیا جاتا ہے

یہ ایک خطرناک shift ہے۔

Thick Figure کا obsession — ایک نیا معیار

سوشل میڈیا نے beauty standards کو اس حد تک distort کر دیا ہے کہ اب ایک خاص جسمانی ساخت کو aggressively


promote کیا جا رہا ہے۔

“thick”، “curvy”، “attractive body”—
یہ الفاظ اب صرف تعریف نہیں رہے، بلکہ ایک social currency بن چکے ہیں۔

مسئلہ یہ نہیں کہ کوئی اپنی body کو appreciate کرے—
مسئلہ یہ ہے کہ:

جب پوری شناخت جسم تک محدود ہو جائے،
تو سوچ، کردار اور intellect خود بخود پس منظر میں چلے جاتے ہیں۔

عورت خود کو define کر رہی ہے—یا define کی جا رہی ہے؟

یہاں ایک critical سوال پیدا ہوتا ہے:

کیا عورت خود یہ راستہ اختیار کر رہی ہے؟
یا وہ ایک ایسے system کا حصہ بن رہی ہے جو اسے یہی سکھا رہا ہے؟

کیونکہ:

  • algorithm اسی content کو push کرتا ہے جو visually engaging ہو

  • audience اسی کو reward کرتی ہے جو attention grab کرے

  • اور پھر وہی trend normalize ہو جاتا ہے

نتیجہ؟
ایک ایسا cycle جہاں جسمانی نمائش کو کامیابی سے جوڑ دیا گیا ہے۔

maturity کیوں پیچھے رہ گئی؟

جب ایک معاشرہ:

  • سوچ کے بجائے جسم کو highlight کرے

  • depth کے بجائے display کو reward کرے

  • اور character کے بجائے appearance کو promote کرے

تو پھر maturity naturally پیچھے رہ جاتی ہے۔

یہ کسی ایک عورت کا مسئلہ نہیں—
یہ ایک systemic failure ہے۔

مرد کا کردار بھی واضح ہے

یہ سارا بوجھ صرف عورت پر ڈال دینا آسان ہے—
مگر حقیقت یہ ہے کہ مرد اس system کا equally حصہ ہے۔

  • وہ دیکھتا ہے

  • وہ پسند کرتا ہے

  • وہ share کرتا ہے

  • اور پھر وہی معیار set کرتا ہے

پھر وہی مرد شکایت بھی کرتا ہے کہ “معاشرہ بگڑ گیا ہے”

یہ تضاد ہی اس مسئلے کی جڑ ہے۔

Zombie Society — جہاں سب کچھ surface-level ہے

ہم ایک ایسے معاشرے میں داخل ہو چکے ہیں جہاں:

  • گفتگو shallow ہو گئی ہے

  • ترجیحات artificial ہو گئی ہیں

  • اور انسان خود ایک “visual identity” بن کر رہ گیا ہے

یہی وہ کیفیت ہے جہاں
سوچ مر جاتی ہے، اور صرف appearance زندہ رہتی ہے۔

اصل نقصان کیا ہے؟

سب سے بڑا نقصان یہ ہے کہ:

  • اصل قابلیت ignore ہو رہی ہے

  • meaningful گفتگو ختم ہو رہی ہے

  • اور نئی نسل ایک distorted معیار کے ساتھ grow کر رہی ہے

جہاں کامیابی کا مطلب یہ نہیں کہ آپ کیا سوچتے ہیں—
بلکہ یہ ہے کہ آپ کیسے نظر آتے ہیں۔

سیدھی بات

اگر ہم واقعی ایک balanced معاشرہ چاہتے ہیں تو:

  • عورت کو صرف جسم تک محدود نہ کریں

  • اور نہ ہی اسے اس نہج پر لے جائیں جہاں وہ خود کو اسی lens سے دیکھنے لگے

  • تعلیم کو صرف degree نہیں، بلکہ mindset بنائیں

آخری بات

یہ مسئلہ عورت کا نہیں،
یہ ہماری اجتماعی ترجیحات کا ہے۔

ہم نے:

  • پہلے عورت کو قید کیا

  • اب اسے ایک خاص شکل میں ڈھال دیا

اور دونوں صورتوں میں ہم نے اسے مکمل انسان نہیں مانا۔

اگر اب بھی ہم نے اپنی سوچ کو درست نہ کیا،
تو ہم ایک ایسے معاشرے میں تبدیل ہو جائیں گے جہاں:

جسم جیت جائے گا،
اور شعور ہمیشہ کے لیے ہار جائے گا۔



مکمل تحریر >>

جنوری 04, 2025

ہمارے معاشرتی تضاد

مجھے پورا یقین ہے کہ ہم خود ان مسائل کو بڑھا چڑھا کر اپنے اوپر مسلط کرتے ہیں۔ ممکن ہے کہ میری رائے سخت لگے، مگر حقیقت یہی ہے کہ اگر صحیح رہنمائی اور ہدایات پر عمل کیا جائے تو ہمارے یہاں کوئی ایسا مسئلہ نہیں جو حل نہ ہوسکے۔ مسئلہ ہماری غفلت اور غیر سنجیدہ رویے کا ہے، نہ کہ مسائل کی پیچیدگی کا۔

ہم نے خود ہی ایسا معاشرہ تشکیل کر دیا ہے 

  • جہاں خود کو عقل نہیں، وہاں دوسروں کے عیب تلاش کر کے خود کو برتر ثابت کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔
  • ایجوکیشن کے نام پر محض رٹہ سسٹم کو فروغ دیا جا رہا ہے، جس کے نتیجے میں ذہنی طور پر مفلوج افراد (Zombies) تیار کیے جا رہے ہیں، جن کی عالمی سطح پر کوئی اہمیت نہیں۔
  • اگر واقعی اتنے لوگ پاکستان سے بیرون ملک جا رہے ہیں تو وہ عالمی سطح پر کیوں نمایاں نہیں؟ دبئی یا سعودی عرب کے علاوہ دیگر ترقی یافتہ ممالک میں ان کی نمائندگی کیوں نہیں؟ کیا ہم نے ان کی تعلیم اس معیار کی دی ہے کہ وہ عالمی سطح پر اپنی شناخت بنا سکیں؟
  • کیا ہمارے معاشرے میں تعلیم و تربیت کے عمل کو مؤثر اور مثبت انداز میں استعمال کیا جا رہا ہے؟
  • کیا ہم نے سیکھنے اور سکھانے کے ایسے مواقع پیدا کیے ہیں جہاں باہمی تعاون (Collaboration) کو فروغ دیا جاتا ہو اور اجتماعی ترقی کو ممکن بنایا جائے؟
  • کیا ہمارا تعلیمی نظام محض نمبر لینے تک محدود ہو چکا ہے، یا واقعی میں تخلیقی سوچ اور عملی مہارتوں کو فروغ دیتا ہے؟
  • کیا ہم اپنے نوجوانوں کو صرف ڈگری کے پیچھے بھگانے کے بجائے اصل زندگی کی مہارتیں سکھا رہے ہیں؟
  • کیا سیکھنے اور سکھانے کے عمل میں تنقیدی سوچ اور سوال کرنے کی حوصلہ افزائی کی جا رہی ہے؟
  • ہمارے ادارے کیا واقعی قابلیت اور محنت کی بنیاد پر افراد کو آگے بڑھا رہے ہیں یا محض سفارشی اور خوشامدی کلچر کو فروغ دیا جا رہا ہے؟
  • کیا ہم نے اپنی اخلاقی اقدار اور سماجی شعور کو تعلیمی نظام کا لازمی حصہ بنایا ہے یا صرف کتابی تعلیم تک محدود کر دیا ہے؟
  • کیا ہمارے تعلیمی ادارے طلبہ کو عالمی معیار کے مطابق تیار کر رہے ہیں یا محض ڈگریاں بانٹنے کے مراکز بن چکے ہیں؟
  • کیا ہم اپنی ناکامیوں کا ذمہ دار خود کو سمجھتے ہیں یا دوسروں پر الزام تراشی کو ترجیح دیتے ہیں؟
  • کیا واقعی ہم نے تعلیم کو ایک تبدیلی کا ذریعہ بنایا ہے یا اسے کاروبار بنا کر رکھ دیا ہے؟

ہم "صحیح" ہیں!

یہ ذہنیت نے ہماری عقل اور سمجھ بوجھ کو سلب کر لیا ہے۔ انسان ہمیشہ ارتقاء کرتا آیا ہے، لیکن آج جس اخلاقی پستی میں ہم گر چکے ہیں، وہ اس لیے ہے کہ ہم نے ترقی پر فل اسٹاپ لگا دیا ہے اور اپنے آپ کو یہ سمجھ کر مطمئن ہو گئے ہیں کہ ہم ہمیشہ درست ہیں۔

تم بھی تو یہی بات کررہے ہو!

میں نے یہاں "کولیبریشن" کا لفظ استعمال کیا ہے، جسے ہماری رٹہ بازی کی صلاحیتیں نہیں سمجھ سکتیں۔ اب میں یہاں کولیبریشن کی تعریف نہیں بتاؤں گا، کیونکہ ہم نے پہلے ہی اس کا بیڑہ غرق کر دیا ہے، منہ کے سامنے دے کر۔ ہم اسلام کے سوداگر بنے پھرتے ہیں، حالانکہ اسلام نے ہمیں یہ نہیں سکھایا کہ اپنا گریبان چھوڑ کر دوسروں کو دیکھتے رہیں۔ یہ یہودیوں کی روش تھی، جسے ہم نے اپنالیا ہے۔ دونوں طریقوں میں بہت فرق ہے (اور یہ دونوں طریقے کیا ہیں، خود ہی سمجھ لو)۔ مگر اس میں ایک اور بات ہے کہ ہمارے اندر سمجھ بوجھ کا فقدان ہے، جس کی وجہ سے ہم ان دونوں پہلوؤں میں فرق نہیں کر پاتے۔

بچوں کو کیا بنا رہے ہیں، صرف اپنے آپ کو صحیح ثابت کرنے کے لئے

ہوسکتا ہے کہ میں یہاں غلط ہوں، مگر میں یہ سمجھتا ہوں کہ یہ ایک احساس کمتری کی قسم ہے۔ جب ہمارے بزرگ اس پوزیشن پر پہنچتے ہیں جہاں فیصلہ سازی ان کے ہاتھ میں ہوتی ہے، تو اللہ نے انہیں یہ حکم دیا ہے کہ وہ ذمہ داری کا مظاہرہ کریں۔ لیکن کیا بحیثیت معاشرہ ہم میں سے کوئی بھی اپنی ذمہ داری نبھا رہا ہے؟

یہ صورتحال مشکل لگ سکتی ہے، لیکن یہ ضروری ہے کہ ہم یہ تسلیم کریں کہ ذمہ داری ایک مشترکہ کوشش ہے۔ تبدیلی ہمارے اندر سے شروع ہوتی ہے، اور صرف باہمی سمجھوتے اور مشترکہ جوابدہی کے ذریعے ہی ہم ترقی کرسکتے ہیں۔ ہم سب کا کردار ہے ایک بہتر مستقبل کی تشکیل میں، اور صرف تعاون اور خود احتساب کے ذریعے ہی ہم آگے بڑھ سکتے ہیں۔

مکمل تحریر >>

بلاگ میں مزید دیکھیں

You might like

$results={5}

Search me