The Political Horizon: Society Issue in Karachi

Translate

مئی 04, 2026

Society Issue in Karachi

یہ بلاگ میرے کرکٹ بلاگ کے اس پوسٹ سے متعلق ہے، وہاں میں نے پاکستانیوں کی mediocracy کرکٹ کے میدان میں سوالات کئے ہیں یہاں میں پاکستانی معاشرے کے متعلق سوالات اٹھا رہا ہوں۔

پہلے میں کرکٹ سے ہی شروعات کروں گا، ہماری یہ ذہنیت رہی ہے کہ ہم پاکستانی ہیں، فاسٹ بولنگ ہم سے ہے، جبکہ کل پی ایس ایل ۱۱ پشاور زلمی کے نام ہوا ہے، مگر ہماری mediocracy دیکھیں کہ پورے ٹورنامنٹ کا فاسٹ بولر ناحد رانا (ناحید رانا نہیں) نے ہمارے so-called فاسٹ بولرز کو کمند دکھائی ہے۔

معاشرتی تصورات

یہ ہماری معاشرتی تصورات ہے، کیونکہ بحیثیت معاشرہ یہ ہماری سوچ ہے کہ پاکستانی پروڈکٹ خراب ہوتی ہے imported امپورٹڈ چیزیں ذیادہ اچھی ہوتی ہیں، اس کے ساتھ ہماری فیملی سسٹم بھی اسی طرح کا ہے، کہ کسی کو کھلا ہاتھ نہیں دینا ہے، میرا اپنا یہ مسئلہ یہ رہا ہے، کیونکہ میں اس نیچر کا بندہ ہوں کہ میں لائن بنا کر رکھتا ہوں، کچھ چیزیں میں accept کرلوں گا، مگر ذیادہ چیزیں جن کا impact آج نہیں دکھائی دیگا، بلکہ ۱۰، ۲۰ سال کے بعد دیکھائی دیگا، اور جیسے یہ baby boomers نے اپنی ذندگی گزاری ہے کہ اپنے خود کے گول سیٹ نہیں کرنا، مگر اپنے بیٹے یا بیٹی کے ذریعہ اپنی ذندگی گزروانا چاہتے ہیں، یہ ہمارے آج کے بڑوں کی ذہنیت ہے، یہ چیز ان کو سمجھنا چاہئے جو کہ ہم نے نیپال، سری لنکا اور بانگلادیش میں دیکھ چکے ہیں کہ اب ذہنیت کی جنگ ہے، baby boomers اپنی ذہنیت GEN-Z کے اوپر تھوپنے پر لگے ہوئے ہیں، میرے خود کے ساتھ یہی ہورہا ہے، کہ میرے ساتھ گھر میں حجتی رویہ رکھا جارہا ہے، یعنی جیسے انگریزی میں ایک ٹرم استعمال کی جاتی ہے کہ dual faced dagger یعنی مان لوں تو بعد میں میرا بھی یہی حال ہوگا کہ میں اپنی ذندگی اپنے بیٹے کے ذریعے گزاروں گا، نہیں مانوں گا، تو ایسے میں میرے ساتھ یہی ہورہا ہے کہ جھے دیکھایا جارہا ہے کہ میں بدتمیز ہوں، مگر یہاں یہ بے بی بومرز میں ایک احساس کمتری ہے کہ نیچے والی جنریشن کواپنے "قابو" میں رکھنا، اور جیسے میں نے کہا کہ یہ چیز جب میں پزلز کے سارے pieces کو جمع کررہا ہوں، تو یہ impact آتا ہے۔

Carry Forward ذہنیت کے بجائے قابو کرنے کی ذہنیت کرنا

سوسائٹی اسی طرح بنتی ہے جیسے نوکیا کا مشہور سلوگن رہا ہے کہ Connecting People، یہ ذہنیت ہمیں اپنانی ہوگی، بالکل ویسے ہی ہے جیسے آپکی ایک انگلی کی امپریشن ساتھ والی انگلی سے کبھی ملاپ نہیں ہوگا، یہ میں نے کچھ دن پہلے نادرہ کے دفتر میں دیکھا تھا، کیونکہ میرے والد صاحب کے انگلی کے نشانات نہیں آرہے تھے، تو ایسے میں فیملی میمبر ہونے کے ناطے میں نے ان کی جگہ انگلی کے نشانات دئے تھے، اور اس پر بھی میرے انگوٹھے کے بجائے شہادت کی انگلی اور انگوٹھی والی انگلی کے امپریشن آئے تھے، کیونکہ میں بائیک چلاتے ہوئے آیا تھا، تو انگوٹھا rugged ہورہا تھا، تو ایسے میں جو لوگ نادرہ میں انگوٹھے لگائے ہیں، ان کو اندازہ ہوگا کہ کسی کے لئے جب آپ انگوٹھا لگاتے ہیں تو سسٹم پر آنے والے پرومپٹ کے حساب سے آپ کو انگوٹھا لگانا ہوتا ہے، ایسے میں آٹومیٹک پرومپٹ انگوٹھے کا آیا، مگر جیسے میں نے پتایا، بائیک کے accelerator پر ہونے کی وجہ سے نشان نہیں آیا، پھر سیکنڈ attempt شہادت کی انگلی کی آئی، وہ آگئی، اس کئ بعد دوسری attempt میری بیچ والی انگلی یعنی ring finger کی آئی، اس وقت میں نے امپریشن کے متعلق اُس آپریٹر سے پوچھا کہ کیا ہماری انگلیاں ہر انگلی ایک دوسرے سے فرق ہوتا ہے؟ جس پر اس نے ہاں میں جواب دیا، جس سے مجھے یہ اندازہ ہوا کہ جب ایک جسم میں موجود پانچوں انگلیاں ایک دوسرے سے فرق رکھتی ہیں، تو ایسے میں ہم کیسے یہ امید لگا کر رکھیں ہیں کہ بجائے والد carry forward ذہنیت کے مطابق بیٹے میں جو فرق ہے، اس کو accept کریں، اس کو اپنے نقش قدم پر چلانے میں اتنے اتاولے ہوجاتے ہیں کہ اولاد کی اپنی unique touch and feel کو ختم کرنے پر تلے ہوئے ہوتے ہیں، ایسے میں نیپال، سری لنکا اور بانگلادیش میں جو ہوا، وہ یہی ذہنیت کا تصادم تھا۔

اور ہمارہ معاشرہ اسی تصادم کی جانب جارہا ہے

مجھے یہ بات بے بی بومرز کی سمجھ نہیں آتی، ہم جونئرز کے سامنے کیسی مثالیں کھڑی کرہیں ہیں، ذیادہ تر بڑے بزرگ ہمیں یہ سمجھاتے ہیں کہ hit-and-run یہ نہیں دیکھ رہیں ہیں کہ اسکا معاشرتی تصادم کیسا ہوگا؟ کیونکہ ہمارہ معاشرہ ایسا شعبدے بازی سے بھر پور بن چکا ہے، کہ الامان الحفیظ، میں شعبدے بازی کو اس لئے نہیں اٹھا رہا ہوں کیونکہ in the long run میں یہ لوڈ اُٹھانے کا قابل نہیں ہوں، تو ایسے میں اپنی لائن کلئیر رکھ رہا ہوں، مگر یہاں میرے خود کے گھر والے مجھے اس جانب ڈلنے پر تلے ہوئے ہیں، 

میں اپنی تعریف نہیں کرنی مگر بات یہی ہے کہ میں calculated چلنے والا بندہ ہوں، اور یہاں عقیدت مندی اور تعبیداری کے نام پر مجھے بلیک میل کیا جارہا ہے، تاکہ کسی بھی حال میں، میں ان کے "نقش قدم" اور فرمانبرداری پر چلوں، یعنی فرمانبرداری کے نام پر مجھے exploit کیا جارہا ہے، جس میں میرے خود کئ والدین شامل ہیں، کیونکہ ان کے اس ایکشن کی وجہ سے میری بیوی مجھے for-granted لینا شروع کردیا ہے، تو خود بتائیں، آگے میرے لئے میرے خود کے والدین میرے لئے کیا بُن رہیں ہیں؟ 

The Political Horizon: While doing inDriving, noted one aspect 📌



بلاگ میں مزید دیکھیں

You might like

$results={5}

Search me