The Political Horizon: K-Electric Load Shedding in Pakistan | Karachi Power Crisis Analysis | جب تک برائی کوبرا نہیں مانیں گے

Translate

30/3/26

K-Electric Load Shedding in Pakistan | Karachi Power Crisis Analysis | جب تک برائی کوبرا نہیں مانیں گے

یہ کوئی Netflix کی سیریز کی ریلیز ٹائمنگز نہیں ہیں—یہ میرے علاقے میں K-Electric کی بجلی فراہمی کا شیڈول ہے۔ ایک ایسا “شو” جس کا ہر ایپی سوڈ اذیت، غیر یقینی، اور بے بسی سے بھرا ہوا ہے—اور جس کا کوئی کلائمکس نہیں، صرف بار بار دہرایا جانے والا انتشار ہے۔

مسئلہ صرف لوڈشیڈنگ نہیں ہے۔ مسئلہ وہ رویہ ہے جس کے ساتھ اسے ہم پر تھوپا جا رہا ہے۔ ایک ایسی کمپنی جو اپنی distribution کو بہتر بنانے کے بجائے، اسی بوسیدہ نظام کو گھسیٹ کر چلا رہی ہے—اور صارفین کو اس حد تک عادی بنا رہی ہے کہ وہ شکایت کرنا بھی چھوڑ دیں۔

آپ ای میل کریں—جواب آئے گا۔ مگر جواب نہیں، ایک copy-paste رسمِ ادا۔ ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے آپ انسان نہیں، ایک ٹکٹ نمبر ہیں۔ ایک ایسا نظام جہاں accountability کا کوئی تصور نہیں، صرف procedural دھوکہ ہے۔

اور پھر یہی وہ لمحہ ہے جہاں انسان سوچتا ہے:
“بس، اب کافی ہے—solar ہی لگا لیتے ہیں۔”

لیکن سوال یہ ہے کہ کیا ہر مسئلے کا حل escape ہے؟
کیا ہر شہری اپنی جیب سے متبادل نظام کھڑا کرے، اور ادارے اپنی نااہلی پر مطمئن رہیں؟

اصل تضاد یہاں جنم لیتا ہے۔

ہم ایک ایسی قوم ہیں جو قول میں بڑے اصولوں کی بات کرتی ہے، مگر فعل میں ہر سطح پر compromise کر جاتی ہے۔ ہم انصاف، دیانت، اور بہتری کی بات کرتے ہیں—مگر جب موقع آتا ہے، تو یا تو خاموش ہو جاتے ہیں یا اسی بگڑے ہوئے نظام کا حصہ بن جاتے ہیں۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ نہ یہاں Sri Lanka جیسی collapse ہوئی، نہ Bangladesh جیسی شدید معاشی ہلچل—مگر عوام کے ساتھ سلوک ایسا جیسے سب کچھ برباد ہو چکا ہو، اور اب جو مل رہا ہے اسی پر شکر کرو۔

یہ imposed mediocrity ہے۔
یہ وہ کیفیت ہے جہاں ادارے بہتری کی کوشش نہیں کرتے، کیونکہ نظام ابھی چل رہا ہے۔
“کام چل رہا ہے”—یہی سب سے بڑا جرم ہے۔

اور اس سب کے اوپر، رویہ ایسا جیسے ان کے بغیر دنیا رک جائے گی۔

سوال سادہ ہے، مگر جواب پیچیدہ:
یہ سب کب تک چلے گا؟

کب ہم واقعی اپنے اصولوں پر کھڑے ہوں گے؟
کب ہمارے “بڑے” واقعی بڑے دل کا مظاہرہ کریں گے؟
کب ادارے ذمہ داری کو بوجھ نہیں، امانت سمجھیں گے؟

جب تک ہم اس تضاد کو پہچان کر اس کے خلاف کھڑے نہیں ہوتے—یہ “شو” چلتا رہے گا۔

اور ہم… صرف اگلے ایپی سوڈ کا انتظار کرتے رہیں گے۔





بلاگ میں مزید دیکھیں

You might like

$results={5}

Search me