The Political Horizon: Baby Boomers doing their politics

Translate

مئی 12, 2026

Baby Boomers doing their politics

اصل مسئلہ صرف یہ نہیں کہ Baby Boomers بوڑھے ہو چکے ہیں۔ ہر نسل ایک دن بوڑھی ہوتی ہے۔ اصل بحران یہ ہے کہ آج بھی بہت سے سیاسی نظام اُن ذہنی سانچوں میں قید ہیں جو ایک ایسے دور میں تشکیل پائے تھے جہاں دنیا کی رفتار، معیشت، آبادی، ٹیکنالوجی اور سماجی ساخت آج سے یکسر مختلف تھی۔

آج کی نوجوان نسل ایک ایسے معاشی اور ذہنی دباؤ میں زندہ ہے جہاں گھر خریدنا خواب بنتا جا رہا ہے، نوکریاں غیر مستحکم ہیں، ذہنی صحت تباہ ہو رہی ہے، اور سوشل میڈیا نے انسان کو مسلسل نفسیاتی مقابلے میں دھکیل دیا ہے۔ لیکن سیاست اب بھی انہی پرانے نعروں، مصنوعی نظریاتی جنگوں، اور ٹی وی اسکرینوں پر چلنے والے جذباتی ڈراموں میں پھنسی ہوئی ہے۔

ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے کئی سیاسی اشرافیہ مستقبل تعمیر کرنے کے بجائے اپنے ماضی کو محفوظ بنانے میں مصروف ہیں۔

یہی وہ مقام ہے جہاں نوجوان نسل کے اندر غصہ جنم لیتا ہے۔

انہیں صرف عمر سے مسئلہ نہیں۔ انہیں اس منافقت سے مسئلہ ہے جہاں وہی نسل جو صبر، قربانی، اور برداشت کے لیکچر دیتی رہی، خود نسبتاً آسان معاشی دور میں ترقی کر کے اوپر پہنچی، اور پھر رفتہ رفتہ وہ دروازے بند کر دیے جن سے نئی نسل اوپر آ سکتی تھی۔

آج ایک نوجوان کو وہ بنیادی استحکام حاصل کرنے کے لیے کئی گنا زیادہ جدوجہد کرنا پڑتی ہے جو پچھلی نسلوں کو نسبتاً کم دباؤ میں میسر تھا۔

لیکن یہاں ایک اہم حقیقت بھی موجود ہے۔

ہر Baby Boomer مسئلے کی جڑ نہیں، اور ہر نوجوان خودکار طور پر ذہین، باشعور یا انقلابی نہیں۔ کئی بزرگ نسلوں نے ہی انسانی حقوق، آزادی اظہار، مزدور حقوق، اور سماجی اصلاحات کی بنیادیں بھی رکھی تھیں۔ مسئلہ صرف عمر نہیں۔ مسئلہ ذہنی جمود ہے۔

خطرناک بات یہ ہے کہ کئی حکمران طبقات اب بھی نئی دنیا کو پرانے چشمے سے دیکھ رہے ہیں۔ وہ ڈیجیٹل دور کی نفسیات کو نہیں سمجھتے۔ وہ نوجوانوں کے اندر بڑھتی ہوئی existential anxiety کو نہیں سمجھتے۔ وہ یہ نہیں سمجھتے کہ مسلسل معاشی عدم استحکام انسان کے اندر اداروں کے خلاف خاموش نفرت پیدا کرتا ہے۔

نتیجتاً سیاست حقیقت سے کٹ کر صرف ایک جذباتی تھیٹر بنتی جا رہی ہے۔

الفاظ بدلتے ہیں، چہرے بدلتے ہیں، مگر نظام کی روح وہی رہتی ہے۔

مزید تشویشناک بات یہ ہے کہ نئی قیادت بھی اکثر حقیقی تبدیلی کے لیے نہیں بلکہ پرانے نظام کی وفادار نقل بننے کے لیے تیار کی جاتی ہے۔ سیاسی جماعتیں سوچنے والے افراد نہیں بلکہ obedient چہرے پیدا کر رہی ہیں۔ اسی لیے نسلوں کی منتقلی صرف ظاہری رہ جاتی ہے، ساختی نہیں۔

عام انسان اب اس تضاد کو محسوس کرنے لگا ہے۔

وہ دیکھتا ہے کہ قربانی ہمیشہ عوام سے مانگی جاتی ہے مگر طاقتور طبقات خود کو ہر بحران سے محفوظ رکھتے ہیں۔

وہ دیکھتا ہے کہ جذباتی نعرے strategic planning کی جگہ لے چکے ہیں۔

وہ دیکھتا ہے کہ سنجیدہ گفتگو کی جگہ شخصیت پرستی، شور، اور مصنوعی polarization نے لے لی ہے۔

اور جب معاشرہ اداروں پر یقین کھونا شروع کر دے، تو پھر conspiracy theories، انتہاپسندی، اور اجتماعی ذہنی تھکن جنم لیتی ہے۔

سب سے بڑا خطرہ صرف نسلوں کا ٹکراؤ نہیں۔

سب سے بڑا خطرہ یہ ہے کہ معاشرہ یہ یقین کھو دے کہ اس کے نظام خود کو درست بھی کر سکتے ہیں۔

کیونکہ تاریخ میں سب سے خطرناک لمحہ وہ ہوتا ہے جب ماضی سے چمٹے ہوئے لوگ مستقبل کو پیدا ہونے سے روکنے لگتے ہیں۔



بلاگ میں مزید دیکھیں

You might like

$results={5}

Search me