کچھ بزرگوں کا اصل مسئلہ بے وقعتی نہیں، بے وقعت ہو جانے کا خوف ہے
کراچی کے معاشرے میں ایک خاموش مگر خطرناک رجحان تیزی سے بڑھ رہا ہے، جہاں بعض خاندانوں میں میاں بیوی کے تعلقات کو مضبوط بنانے کے بجائے ان کے درمیان فاصلے پیدا کیے جاتے ہیں۔ مالی حیثیت، خاندانی کنٹرول، جذباتی دباؤ اور غیر ضروری مداخلت نے بہت سے گھروں کا سکون متاثر کیا ہے۔ یہ مضمون انہی رویوں کا جائزہ لیتا ہے جو بظاہر خاندانی فکر کے نام پر کیے جاتے ہیں مگر اکثر ان کے نتائج تعلقات میں بداعتمادی، اختلافات اور ذہنی دباؤ کی صورت میں سامنے آتے ہیں۔
کراچی کے معاشرے میں ایک عجیب بیماری خاموشی سے پھیل رہی ہے۔
یہ بیماری غربت نہیں۔
یہ بیماری بے روزگاری نہیں۔
یہ بیماری مہنگائی بھی نہیں۔
یہ بیماری وہ ذہنیت ہے جو عمر کے ساتھ حکمت پیدا کرنے کے بجائے دوسروں پر اپنی گرفت برقرار رکھنے کو کامیابی سمجھتی ہے۔
ہمارے معاشرے میں بعض لوگ خود کو بزرگ تو کہتے ہیں، مگر بزرگوں والی ذمہ داری نبھانے کے بجائے اپنی اہمیت برقرار رکھنے کی جنگ لڑتے رہتے ہیں۔
ان کا سب سے بڑا خوف یہ نہیں ہوتا کہ اولاد ناکام ہو جائے۔
ان کا سب سے بڑا خوف یہ ہوتا ہے کہ اولاد ان کے بغیر کامیاب ہو جائے۔
کیونکہ جس دن نوجوان اپنی سوچ، اپنی محنت اور اپنی صلاحیت کے بل بوتے پر کھڑا ہو گیا، اسی دن مصنوعی اختیار کی دکان بند ہو جاتی ہے۔
یہی وجہ ہے کہ بعض لوگ رہنمائی نہیں کرتے، راستے میں رکاوٹیں کھڑی کرتے ہیں۔
وہ اصلاح نہیں کرتے، اشتعال دلاتے ہیں۔
وہ غلطی روکنے کی کوشش نہیں کرتے، بلکہ بعض اوقات نوجوانوں کو غلطی کی طرف دھکیلتے ہیں تاکہ بعد میں یہ کہہ سکیں:
"ہم نے پہلے ہی کہا تھا۔"
گویا مقصد مسئلہ حل کرنا نہیں، بلکہ اپنی پیشگوئی درست ثابت کرنا ہوتا ہے۔
ایسے لوگ نوجوان کو مضبوط دیکھنا نہیں چاہتے۔
وہ نوجوان کو غلطی کرتے دیکھنا چاہتے ہیں۔
کیونکہ ہر غلطی ان کے لیے ایک نئی تقریر کا موقع بن جاتی ہے۔
ہر ناکامی ان کی پرانی برتری کو زندہ کر دیتی ہے۔
ہر بحران انہیں دوبارہ اہم بنا دیتا ہے۔
اور یہی وہ مقام ہے جہاں خاندان میدانِ جنگ بننا شروع ہو جاتا ہے۔
بعض لوگ شوہر اور بیوی کے درمیان اختلاف ختم نہیں کرواتے، بلکہ اختلاف کو ایندھن فراہم کرتے ہیں۔
وہ براہِ راست حملہ نہیں کرتے۔
وہ کان بھرتے ہیں۔
شکوک پیدا کرتے ہیں۔
غلط فہمیاں بڑھاتے ہیں۔
اور پھر تماشائی بن کر بیٹھ جاتے ہیں۔
جبکہ نقصان ایک پورے خاندان کا ہو رہا ہوتا ہے۔
اس سے بھی زیادہ خطرناک چیز وہ ذہنیت ہے جس نے انسان کی قیمت کو صرف پیسے سے جوڑ دیا ہے۔
آج بہت سے گھروں میں کردار کی نہیں، آمدنی کی عزت ہوتی ہے۔
اخلاق کی نہیں، تنخواہ کی اہمیت ہوتی ہے۔
علم کی نہیں، بینک بیلنس کی قدر ہوتی ہے۔
اگر پیسہ آ رہا ہو تو خامیاں بھی خوبی بن جاتی ہیں۔
اور اگر مالی مشکلات آ جائیں تو سالوں کی قربانیاں بھی بھلا دی جاتی ہیں۔
گویا انسان نہیں، اس کی تنخواہ زندہ ہے۔
یہ سوچ صرف ظالمانہ نہیں، انتہائی سطحی بھی ہے۔
کیونکہ جو معاشرہ پیسے کو انسان سے بڑا بنا دیتا ہے، وہاں منافقت پھلتی پھولتی ہے اور کردار دفن ہو جاتا ہے۔
حقیقی بزرگ وہ نہیں جو ہر وقت اپنی عمر کا حوالہ دیں۔
حقیقی بزرگ وہ ہیں جن کی موجودگی سے نوجوان مضبوط ہوں۔
جن کی صحبت سے اعتماد پیدا ہو۔
جن کی بات سے راستے کھلیں۔
جن کی رہنمائی سے غلطیاں کم ہوں۔
اور جن کی وجہ سے خاندان جڑے رہیں۔
لیکن جو لوگ اپنی اہمیت برقرار رکھنے کے لیے اختلافات پیدا کریں، لوگوں کو ایک دوسرے کے خلاف کھڑا کریں، نوجوانوں کو اشتعال دلائیں، اور پھر ان کی ناکامیوں پر اپنی دانائی کا جھنڈا گاڑیں، وہ دراصل احترام نہیں کما رہے ہوتے۔
وہ صرف اپنے خوف کو چھپا رہے ہوتے ہیں۔
وقت بدل رہا ہے۔
نئی نسل کو غلام نہیں، رہنما چاہیے۔
نئی نسل کو حکم دینے والے نہیں، سمجھنے والے چاہیے۔
اور سب سے بڑھ کر، نئی نسل کو ایسے لوگ چاہیے جو انہیں گرنے سے بچائیں، نہ کہ انہیں دھکا دے کر پھر اپنی دور اندیشی کے قصے سنائیں۔
کیونکہ تاریخ میں وہ لوگ یاد نہیں رکھے جاتے جنہوں نے دوسروں کو چھوٹا رکھا۔
تاریخ میں وہ لوگ یاد رکھے جاتے ہیں جنہوں نے دوسروں کو بڑا ہونے دیا۔
میاں بیوی کے درمیان دراڑیں پیدا کرنا تاکہ اپنی اہمیت برقرار رکھی جا سکے
ہمارے معاشرے کا ایک بڑا المیہ یہ ہے کہ بہت سے لوگ دوسروں کی زندگی کو سکون سے چلتے ہوئے برداشت نہیں کر سکتے۔ اگر کوئی شخص اپنی بیوی، اپنے بچوں اور اپنے کام کے ساتھ ایک سادہ اور پُرسکون زندگی گزارنا چاہے، بغیر کسی سوشل ویلیڈیشن، بغیر کسی ڈرامے اور بغیر کسی توجہ کے، تو اسے ایسا کرنے نہیں دیا جاتا۔
ایسا لگتا ہے جیسے بعض لوگوں کی اپنی اہمیت کا دارومدار ہی اس بات پر ہو کہ وہ دوسروں کے معاملات میں کس حد تک دخل اندازی کر سکتے ہیں۔
جب میں بینک میں کام کرتا تھا اور میرے ہاں بچے کی آمد متوقع تھی، تو ایک کولیگ نے اشاروں میں کہا تھا کہ "دیکھ لینا، چیزیں مشکل ہو جائیں گی۔" اس وقت میں نے اس بات کو زیادہ اہمیت نہیں دی۔ مجھے لگا کہ شاید یہ عام گھریلو چیلنجز کی بات کر رہا ہے۔
لیکن آج 2026 میں کھڑے ہو کر پیچھے دیکھتا ہوں تو وہ جملہ بالکل واضح نظر آتا ہے۔
مشکل صرف مالی حالات یا ذمہ داریوں کی نہیں ہوتی۔
اصل مشکل وہ لوگ ہوتے ہیں جو ایک نئے خاندان کو اپنے پاؤں پر کھڑا ہوتے نہیں دیکھ سکتے۔
میں نے کراچی کا وہ دور بھی دیکھا ہے جب نوجوانوں کے پاس مصروفیات تھیں۔ سنگم گراؤنڈ جیسے میدانوں میں صبح، دوپہر اور شام کرکٹ ہوتی تھی۔ فلڈ لائٹس تو نہیں تھیں، لیکن بانس لگا کر لائٹیں ٹانگ دی جاتی تھیں اور کھیل جاری رہتا تھا۔ لوگوں کے پاس وقت کم تھا اور مصروفیات زیادہ تھیں۔
آج صورتحال مختلف ہے۔
مصروفیت کم ہے، مداخلت زیادہ ہے۔
تعمیر کم ہے، تبصرے زیادہ ہیں۔
اور افسوس کی بات یہ ہے کہ بہت سے لوگ اپنی زندگی بہتر بنانے کے بجائے دوسروں کی زندگی پر اثر انداز ہونے میں دلچسپی رکھتے ہیں۔
میں ایک بات پر یقین رکھتا ہوں:
انسان وہی پاتا ہے جو وہ دوسروں کے لیے چاہتا ہے۔
نیت صاف ہو تو راستے بھی صاف ہوتے ہیں۔
لیکن جب کسی کی توجہ اپنی تعمیر کے بجائے دوسروں کی زندگیوں پر مرکوز ہو جائے تو پھر تعلقات کمزور ہونا شروع ہو جاتے ہیں۔
میرے معاملے میں سب سے تکلیف دہ بات یہ نہیں تھی کہ میری نوکری دسمبر 2025 میں گئی۔
تکلیف دہ بات یہ تھی کہ اس کے بعد مجھے جس حمایت کی ضرورت تھی، وہ مجھے نہیں ملی۔
میں نے اپنی بیوی کے ساتھ ہمیشہ ایک پارٹنر کی طرح کھڑے ہونے کی کوشش کی۔ جب اس کی والدہ کا انتقال ہوا، میں نے ہر ممکن حد تک اس کا ساتھ دیا۔ جب میری والدہ نے اسے پیر فقیر یا غیر ضروری روحانی راستوں کی طرف لے جانے کی بات کی، تو میں نے اپنی بیوی کی عزت اور خودمختاری کے لیے کھل کر مؤقف اختیار کیا۔
اس وقت میری ترجیح اپنی بیوی تھی کیونکہ وہ میری شریکِ حیات تھی۔
لیکن آج جب میں اپنے مشکل ترین دور سے گزرا، تو صورتحال بالکل الٹ دکھائی دی۔
مجھے محسوس ہوا کہ میری بیوی میرے ساتھ کھڑے ہونے کے بجائے انہی لوگوں کے مؤقف کے قریب ہوتی چلی گئی جن کے مقابلے میں میں نے اس کے لیے کھڑے ہونے کا انتخاب کیا تھا۔
یہاں ایک بڑا سوال پیدا ہوتا ہے۔
میاں بیوی کا رشتہ کس چیز پر قائم ہوتا ہے؟
سمجھ بوجھ پر؟
اعتماد پر؟
یا پھر اس بات پر کہ جب ایک فریق کمزور ہو تو دوسرا اس کی کمزوری کو اپنے فائدے کے لیے استعمال کرے؟
میرے نزدیک میاں بیوی کا رشتہ اتحاد کا نام ہے، اتحاد کے خلاف بننے والی سیاسی صف بندیوں کا نہیں۔
جب میں کھلے ذہن سے پورے سلسلے کو دیکھتا ہوں، تو ایک چیز بار بار سامنے آتی ہے۔
بعض اوقات خاندانوں میں اختلافات حادثاتی نہیں ہوتے۔
انہیں پروان چڑھایا جاتا ہے۔
انہیں ہوا دی جاتی ہے۔
انہیں اس لیے زندہ رکھا جاتا ہے تاکہ کچھ لوگ اپنی اہمیت برقرار رکھ سکیں۔
کیونکہ اگر شوہر اور بیوی ایک دوسرے کو سمجھنے لگیں، ایک دوسرے کے ساتھ کھڑے ہو جائیں، اور اپنے فیصلے خود کرنے لگیں، تو بہت سے غیر ضروری کردار غیر متعلق ہو جاتے ہیں۔
یہی وجہ ہے کہ بعض لوگ مسائل حل نہیں کرتے، بلکہ مسائل کو زندہ رکھتے ہیں۔
بعض لوگ غلط فہمیاں دور نہیں کرتے، بلکہ انہیں بڑھاتے ہیں۔
اور بعض لوگ نوجوانوں کو غلطیوں سے بچانے کے بجائے ایسے حالات پیدا کرتے ہیں جہاں غلطی کا امکان بڑھ جائے، تاکہ بعد میں وہ اپنی دانائی کا اعلان کر سکیں۔
میرا مقصد الزام لگانا نہیں۔
میرا مقصد ایک رویے کی نشاندہی کرنا ہے۔
وہ رویہ جس میں خاندان کی مضبوطی سے زیادہ اپنی اہمیت عزیز ہو جاتی ہے۔
وہ رویہ جس میں حمایت کی جگہ حساب کتاب لے لیتا ہے۔
اور وہ رویہ جس میں ایک بیٹے، ایک شوہر اور ایک باپ کی مشکلات کو سمجھنے کے بجائے انہیں پرانے اسکور برابر کرنے کے موقع کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔
یہ رویہ صرف افراد کو نہیں توڑتا۔
یہ پورے خاندانوں کو اندر سے کھوکھلا کر دیتا ہے۔
0 Comments:
ایک تبصرہ شائع کریں