ہماری روزمرہ زندگی کو اگر غور سے دیکھا جائے تو ایک عجیب تضاد نظر آتا ہے۔ ہم بڑے خواب دیکھتے ہیں، بڑی باتیں کرتے ہیں، دنیا کے نظام پر تبصرہ کرتے ہیں—لیکن اپنی ذاتی زندگی میں نظم، مستقل مزاجی اور محنت کو داخل ہونے نہیں دیتے۔
ہم اپنے آپ کو ذہین سمجھتے ہیں، لیکن اپنی توانائی کو بے مقصد گفتگو، فضول بحث اور وقتی تسکین میں ضائع کر دیتے ہیں۔
کراچی کی گلیوں میں بیٹھا ہر شخص ایک “تجزیہ کار” ہے—سیاست، معیشت، کرکٹ، عالمی طاقتیں—سب پر رائے تیار۔ مگر جب بات اپنی ذات کی آئے، تو ہم خاموش ہو جاتے ہیں۔
کیونکہ وہاں نہ جگاڑ کام آتا ہے، نہ باتیں۔
ہم نے اپنی زندگی کو اس طرح ترتیب دیا ہے کہ ہمیں کبھی اپنی کمزوریوں کا سامنا ہی نہ کرنا پڑے۔ ہم مصروف رہتے ہیں—لیکن بامقصد نہیں۔ ہم تھکے ہوئے ہوتے ہیں—لیکن کسی نتیجے کے بغیر۔
یہ ایک ایسا دائرہ ہے جس میں ہم خود کو مصروف رکھ کر خود سے ہی بچتے رہتے ہیں۔
ہماری سب سے بڑی غلطی شاید یہ ہے کہ ہم نے “صلاحیت کے احساس” کو ہی کامیابی سمجھ لیا ہے۔
ہمیں لگتا ہے کہ اگر ہم کچھ سمجھتے ہیں، تو ہم کچھ کر بھی سکتے ہیں۔
لیکن سمجھنا اور کرنا—یہ دو الگ دنیائیں ہیں، اور ہم اکثر پہلی میں ہی خوش رہتے ہیں۔
ہم اپنی ناکامیوں کا الزام نظام، حالات، یا دوسروں پر ڈال دیتے ہیں۔
یہ ایک آسان راستہ ہے—کیونکہ اس میں ہمیں خود کو بدلنے کی ضرورت نہیں پڑتی۔
سوال یہ نہیں کہ ہم میں صلاحیت ہے یا نہیں۔
سوال یہ ہے کہ کیا ہم اپنی زندگی کو اس سطح پر لے جانے کے لیے تیار ہیں جہاں محنت، نظم، اور خاموشی سے کام کرنا ضروری ہو جاتا ہے؟کیونکہ جب تک ہم اپنی زندگی کو سنجیدگی سے نہیں لیتے، تب تک ہم صرف ایک کہانی سناتے رہیں گے—
ایسی کہانی جس میں ہم ہمیشہ کامیاب ہوتے ہیں،
مگر حقیقت میں کچھ بھی حاصل نہیں کرتے۔
0 Comments:
ایک تبصرہ شائع کریں