عنوان: "جگاڑ کا عالمی مرکز — کراچی سے ناسا تک"
پاکستانی، اور خاص طور پر کراچی والا، ایک عجیب مخلوق ہے۔ یہ وہ قوم ہے جو اگر کچھ نہ بھی کرے، تب بھی خود کو ہر میدان کا چیمپئن سمجھتی ہے۔ یہاں قابلیت سے زیادہ “جگاڑ” کو عزت دی جاتی ہے، اور عجیب بات یہ ہے کہ اکثر جگاڑ بھی صرف باتوں میں ہی ہوتا ہے۔
کراچی کے ہر دوسرے شخص کو سنیں تو لگتا ہے کہ اگر دنیا میں کوئی مسئلہ ہے، تو اس کا حل اس کے پاس پہلے سے موجود ہے—بس کسی نے پوچھا نہیں۔ ٹریفک جام ہو؟ “یار یہ تو میں ایک گھنٹے میں ٹھیک کر دوں۔” معیشت ڈوب رہی ہو؟ “دو دن دے دو، سب سیدھا کر دوں گا۔”
لیکن جب حقیقت میں کچھ کرنے کا وقت آئے، تو وہی شخص چائے کی چسکی لے کر کہتا ہے: “سسٹم ہی خراب ہے بھائی، ہم کیا کریں؟”
یہاں ایک اور دلچسپ ذہنیت بھی ہے—ہم سمجھتے ہیں کہ دنیا ہم سے چل رہی ہے۔ ایسے بات کرتے ہیں جیسے
“امریکہ کے راکٹ بھی اصل میں پاکستان سے ہی لانچ ہوتے ہیں، بس نام ان کا لگا ہوتا ہے۔”
یعنی اگر کوئی کامیابی کہیں بھی ہو، تو اس میں ہمارا “چھپا ہوا کردار” ضرور ہوتا ہے۔
کراچی میں بیٹھا ایک عام بندہ خود کو اس سطح پر لے جاتا ہے جہاں وہ خود کو دنیا کے ٹاپ تھنک ٹینک سے اوپر سمجھتا ہے، لیکن اپنی گلی کا کچرا تک منظم نہیں کر سکتا۔
یہ تضاد نہیں، یہ ایک مکمل طرزِ زندگی ہے۔
اصل مسئلہ یہ نہیں کہ ہم میں صلاحیت نہیں۔ مسئلہ یہ ہے کہ ہم نے “صلاحیت کے illusion” کو ہی حقیقت مان لیا ہے۔ ہم نے
محنت کے بجائے باتوں میں سکون ڈھونڈ لیا ہے، اور خود کو یقین دلا دیا ہے کہ ہم سب کچھ کر سکتے ہیں—بس کرنا نہیں چاہتے۔
کراچی والا خاص طور پر اس آرٹ میں ماہر ہے۔ وہ اپنے آپ کو “جگاڑو” کہہ کر فخر محسوس کرتا ہے، لیکن حقیقت میں وہ نہ نظام بنا سکتا ہے، نہ اسے برقرار رکھ سکتا ہے۔
وہ صرف اس نظام کے بیچ سے اپنا راستہ نکالنا جانتا ہے—اور اسے ہی کامیابی سمجھ بیٹھا ہے۔
شاید وقت آ گیا ہے کہ ہم ایک مشکل سوال خود سے پوچھیں:
کیا ہم واقعی قابل ہیں، یا صرف اپنے ذہن میں ایک فرضی دنیا کے بادشاہ ہیں؟
کیونکہ اگر راکٹ واقعی ہم سے لانچ ہو رہے ہوتے، تو کم از کم ہماری سڑکیں تو زمین سے سیدھی ہوتی۔


0 Comments:
ایک تبصرہ شائع کریں