سلام علیکم دوستو!
میں مرتضیٰ معیز ہوں، کراچی کا رہنے والا، اور آج پھر وہی بات کر رہا ہوں جو ہر گلی محلے میں گونج رہی ہے: مہنگائی۔ یہ بات پورے پاکستان کی نہیں، خاص طور پر کراچی کی ہے جہاں ہر چیز روزانہ کی بنیاد پر مہنگی ہو رہی ہے – روٹی سے لے کر پھلوں تک، پیٹرول سے کرایہ تک۔ یہ میرا اپنا لکھا ہوا ہے، کوئی مشین یا AI کی مدد نہیں لی، بس دل کی بات اور روزمرہ کے مشاہدات۔ آئیے سیدھے مسئلے کی جڑ تک جاتے ہیں۔
سب سے پہلے: مہنگائی کیا ہوتی ہے؟
مہنگائی کا مطلب ہے کہ چیزیں مسلسل مہنگی ہو رہی ہیں اور آپ کے پیسوں کی خریداری کی طاقت کم ہو رہی ہے۔ آج جو چیز 100 روپے میں مل رہی تھی، کل 120-130 میں ملے گی۔ کراچی جیسے شہر میں جہاں کروڑوں لوگ رہتے ہیں، آمدنی وہی پرانی، لیکن خرچہ آسمان چھو رہا ہے۔ نتیجہ؟ لوگ قرضوں میں ڈوب رہے ہیں، بچت ختم، اور ذہنی تناؤ بڑھ رہا ہے۔
کراچی میں مہنگائی کی اصل وجہ کیا ہے؟
بہت سے لوگ کہتے ہیں کہ حکومت، آئی ایم ایف، ڈالر کی قیمت، پیٹرول، یا عالمی مارکیٹ – یہ سب تو ہیں، لیکن ایک بہت بڑی وجہ ہم خود ہیں۔ ہماری اپنی سوچ اور رویہ۔
ہم دکاندار بھی ہیں، صارف بھی ہیں، اور بیچنے والے بھی۔ مسئلہ یہ ہے کہ ہر کوئی ہر چیز پر زیادہ سے زیادہ منافع کمانا چاہتا ہے – ایک ہی چیز پر، ایک ہی وقت میں۔
مثال کے طور پر:
ایک دکاندار سوچتا ہے کہ "اگر میں آج ایک کیلو آلو 10 روپے منافع پر بیچوں تو ٹھیک ہے، لیکن اگر 20-25 روپے منافع لوں تو کیا ہوگا؟" وہ 25 روپے لگا دیتا ہے۔ پھر اگلا دکاندار سوچتا ہے "اگر وہ 25 لگا رہا ہے تو میں 30-35 لگاؤں گا"۔ نتیجہ؟ ایک ہی دن میں آلو کی قیمت 50-60 روپے کلو تک پہنچ جاتی ہے جبکہ تھوک میں 30-35 تھی۔
یہ ہر چیز کے ساتھ ہو رہا ہے – سبزی، پھل، دودھ، روٹی، گوشت، حتیٰ کہ چھوٹی چھوٹی چیزیں جیسے بسکٹ یا چائے کی پتی۔
ہمارا غلط رویہ: منافع فی یونٹ پر فوکس کرنا
ہمارا سب سے بڑا غلط فہمی یہ ہے کہ ہر ایک چیز پر زیادہ منافع کمانا چاہیے۔
- اگر ایک روٹی پر 5 روپے منافع لیا جائے تو "کم" لگتا ہے۔
- لیکن اگر وہی روٹی 3-4 روپے منافع پر بیچی جائے تو کیا ہوگا؟ لوگ زیادہ خریدیں گے۔ ایک خاندان دن میں 10 روٹیاں لیتا تھا، اب 15-20 لے گا کیونکہ سستی لگیں گی۔
- نتیجہ: کم منافع فی روٹی، لیکن زیادہ فروخت → کل (overall) منافع زیادہ۔
یہی اصول ہر چیز پر چیزپر ہوتا ہے:
- اگر دودھ 20 روپے لیٹر سستا ہو تو لوگ 2-3 لیٹر لیں گے بجائے ایک کے۔
- اگر پھل سستے ہوں تو لوگ درجنوں میں خریدیں گے، ضائع بھی کم ہوگا کیونکہ جلدی ختم ہو جائیں گے۔
- اگر کرایہ مناسب ہو تو لوگ زیادہ سفر کریں گے، دکانیں زیادہ چلیں گی۔
لیکن ہم کیا کرتے ہیں؟ ایک چیز پر زیادہ منافع مارتے ہیں → لوگ کم خریدتے ہیں → فروخت کم → پھر قیمت اور بڑھا دیتے
ہیں → چرخہ چلتا رہتا ہے۔
ہیں → چرخہ چلتا رہتا ہے۔
متبادل سوچ – کیا کرنا چاہیے؟
1. منافع کو روزانہ/ہفتہ وار دیکھیں، نہ کہ ہر آئٹم پر۔
کل منافع 5000 روپے کا ہونا چاہیے تو 1000 چیزیں بیچ کر 5 روپے فی چیز، یا 500 چیزیں بیچ کر 10 روپے فی چیز – دونوں ایک جیسا نتیجہ۔ لیکن پہلا طریقہ بہتر ہے کیونکہ گاہک واپس آئیں گے۔
2. حجم بڑھائیں، منافع کم رکھیں۔
زیادہ گاہک = زیادہ گردش = زیادہ کل منافع۔
3. صارف کی جیب کا خیال رکھیں۔
اگر صارف کو لگے کہ "یہ قیمت مناسب ہے" تو وہ نہ صرف خریدے گا بلکہ بار بار آئے گا، دوسروں کو بھی بتائے گا۔ یہ لمبے عرصے کا کاروبار ہے، نہ کہ ایک دن کا ہڑپ کرنا۔
4. ہم سب مل کر کنٹرول کریں۔
اگر دکاندار کم منافع پر بیچے، صارف زیادہ خریدے، سپلائرز کو بھی حجم ملے – سب کا فائدہ۔ مہنگائی خود بخود کم ہو جائے گی۔
آخری بات
کراچی میں مہنگائی صرف بیرونی وجوہات سے نہیں بڑھ رہی، ہماری لالچ اور قلیل مدتی سوچ بھی اسے ہوا دے رہی ہے۔ اگر ہم اپنا رویہ بدلیں – منافع فی یونٹ کی بجائے کل حجم اور روزانہ منافع پر توجہ دیں – تو بہت حد تک مہنگائی کو روکا جا سکتا ہے۔
یہ میری ذاتی رائے ہے، میرا مشاہدہ ہے۔ آپ کیا سوچتے ہیں؟ کمنٹس میں بتائیں۔
اگر ہم سب نے مل کر یہ تبدیلی لائی تو کراچی دوبارہ سستا اور خوشحال ہو سکتا ہے۔
اللہ ہم سب کو ہمت دے۔
کراچی
0 Comments:
ایک تبصرہ شائع کریں