19/2/26
سدھیر چودھری: ہندوستانی میڈیا کا سب سے بڑا جھوٹا، نفرت کا تاجر اور پروپیگنڈا کا بادشاہ – اعداد و شمار، FIRs اور حقائق کے ساتھ سیدھا سیدھا الزام!
سدھیر چودھری ایک صحافی نہیں ہے – وہ ایک مکمل
عمران خان کی بینائی کی حقیقت سامنے؟ پی ٹی آئی اور اسٹیبلشمنٹ کا ڈیل کا قصہ | سید مزمل آفیشل کی ویڈیو کا جائزہ
سید مزمل کی ویڈیو – ایک جھلک
کمنٹس کا مزہ – لوگوں کی آوازیں
"Excellent young journalist MaShaAllah"۔ ایک بندے نے لکھا: "Ya khabarain kuch saal pehla bi suni gayi thi magar banda koi aur tha😂😂😂" – یعنی نواز شریف والا پرانا ڈرامہ یاد دلایا۔ دوسرے نے کہا: "Nawaz ko b health issue th ab inko b ho gaye hahaha bs hm log awam paghal bannna ka lia hai"۔ ہاہاہا، سچ ہے نا؟ عوام کو بیوقوف بنانے کا پرانا فارمولا۔ ایک کمنٹ تو مخالفت کا بھی: "If hypocrisy had to be an person it would be you"۔ کمنٹس سے لگتا ہے، لوگ سید مزمل کو پسند کرتے ہیں، لیکن موضوع پر بحث گرم ہے۔ "First comment" والے بھی ہیں، جیسے ہر ویڈیو میں ہوتے ہیں!
کیا یہ سب ایک بڑا ڈرامہ ہے؟ میری ذاتی رائے
18/2/26
ایم ایل ایم سکیمز: یہ فراڈ آپ کی سوچ سے بھی بڑا ہے – کراچی میں میرا ذاتی تجربہ اور ایک یوٹیوب ویڈیو کا جائزہ
ویڈیو کی تفصیل اور تھیم
ویڈیو کا خلاصہ: ایم ایل ایم کیسے کام کرتی ہے اور کیوں یہ فراڈ ہے
1. ایم ایل ایم کا آغاز اور پھیلاؤ
2. سکیم کیسے کام کرتی ہے: ریکروٹمنٹ کا جال
3. نفسیاتی جال: خواتین کو نشانہ بنانا
4. قانونی چالاکیاں اور سیاسی اثر
5. حقیقی کیسز اور اثرات
کمنٹس کا جائزہ: لوگوں کی آراء
میری ذاتی سوچ: یہ فراڈ کیوں چل رہا ہے اور کیا کریں؟
14/2/26
کراچی والوں نے کیسے برباد کیا!
| Karachi is jungle, but a jungle of concrete |
میں پوچھتا ہوں:
کیا ہم نے کراچی کی اس عظیم تاریخی تاریخ کو خود اپنے ہاتھوں سے برباد نہیں کیا؟
1958 کا ماسٹر پلان — جو کاغذ پر رہ گیا اور ہمارے ROI کے حساب کی کمی نے مزید تباہ کیا
ہمارے بزرگوں کی نصیحت نے شہر کو تباہ کیا — اور ROI کی لاپرواہی نے مزید زہر گھولا
نتیجہ؟
پبلک ٹرانسپورٹ کا جنازہ نکال دیا — اور کامیوٹ لاگت کی لاپرواہی نے اسے دفن کیا
آبادی کا دھماکہ — ROI کی لاپرواہی کا نتیجہ
سیدھا الزام اور حقیقت
اب کیا کریں؟ (اگر بچانا چاہتے ہیں تو)
13/2/26
کراچی میں یہودی: بائیک پر سوار ہو کر Saddar کی گلیوں میں ایک انجانہ سفر - یہودیوں کی کہانی تک پہنچنے کا راستہ
روڈ اور ایم آر کیانی روڈ کا چوراہا۔ وہاں سے Tower کی طرف نکلا، یعنی Merewether Clock Tower کی طرف۔ راستے میں وہ پرانی عمارتیں، بینکوں کی بلند بلڈنگز، پرانے آفسز، اور وہ ہلچل جو کراچی کی دھڑکن ہے – سب دیکھتا رہا۔
وہ راستہ جو مجھے سوچنے پر مجبور کر گیا
یہ راستہ دیکھ کر لگتا ہے کہ کراچی کبھی ایک کاسموپولیٹن شہر تھا، جہاں یہودی، ہندو، پارسی، مسلم سب مل کر رہتے تھے۔ آج وہ تنوع کہاں ہے؟ یہ سوال مجھے چین نہیں لینے دے رہا تھا۔
یہ سب Saddar اور Tower کے آس پاس تھا – وہی جگہ جہاں میں کل گھوم رہا تھا۔ یہ دیکھ کر حیرت ہوئی کہ یہ عمارتیں آج بھی کھڑی ہیں، لیکن ان کے پیچھے کی کہانی تقریباً بھلا دی گئی ہے۔
ہم نے کیسے سب برباد کیا
ویڈیو کا لنک اور میری اپیل
4/2/26
بلاگ: کراچی کی غیر منظم ترقی، ماسٹر پلان کی ناکامیاں اور 2047 کی تجاویز
کراچی، پاکستان کا سب سے بڑا شہر اور معاشی حب، آج ایک بے ربط اور غیر منظم شہر کی شکل اختیار کر چکا ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا ہم نے اس شہر کو کسی منصوبہ بندی کے تحت ترقی دی ہے یا اسے کرائے کی ذہنیت اور ذاتی مفاد کے تحت بگاڑنے دیا ہے؟
شہروں کی ترقی کا بنیادی ڈھانچہ
دنیا کے ترقی یافتہ شہروں میں ایک واضح ماسٹر پلان ہوتا ہے، جس میں زمین کی تقسیم اور استعمال کے تناسب طے کیے جاتے ہیں:
- رہائشی علاقے (Residential): 40–50٪
- سبزہ زار اور پارکس (Greenery): 15–20٪
- ٹرانسپورٹ و انفراسٹرکچر (Transportation): 10–15٪
- تجارتی علاقے (Commercial): 10–15٪
- صنعتی علاقے (Industrial): تقریباً 10٪
یہ تناسب اس لیے ضروری ہے کہ شہر متوازن ہو اور عوام کو رہائش، روزگار، تفریح اور نقل و حمل کی سہولت یکساں طور پر میسر آئے۔
کراچی کی حقیقت اور ماسٹر پلان کی ناکامیاں
کراچی میں یہ تناسب بکھر گیا ہے۔ پانچ ماسٹر پلان بنائے گئے لیکن کوئی بھی نافذ نہ ہو سکا۔ آج کراچی میں:
- گرین ایریاز 15٪ کے بجائے صرف 3٪ رہ گئے ہیں۔
- صنعتی زونز پر رہائشی اور کمرشل قبضہ ہو چکا ہے۔
- ٹرانسپورٹ کے لیے زمین مختص نہ ہونے کے باعث روزانہ لاکھوں افراد ٹریفک جام میں پھنسے رہتے ہیں۔
- شہر کی 62٪ آبادی کچی آبادیوں میں رہتی ہے۔
یہ ناکامیاں اس بات کا ثبوت ہیں کہ ہم نے اجتماعی ذمہ داری کو نظرانداز کیا اور ذاتی مفاد کو ترجیح دی۔
کرائے کی آمدنی اور حضرت عمر فاروقؓ کی مثال
ہمارے 40 سال سے زائد عمر کے طبقے نے "کچھ نہ کرو اور آسان پیسہ کماؤ" کی ذہنیت کو فروغ دیا ہے۔ یہ طبقہ معیشت میں کوئی نئی پیداوار یا جدت نہیں لاتا، بلکہ صرف کرائے کی آمدنی پر جینا چاہتا ہے۔
حضرت عمر فاروقؓ نے فرمایا کہ اگر گھوڑا اللہ کے سامنے فریاد کرے کہ اسے بلاوجہ مشقت میں ڈالا گیا، تو میں اس کے جواب دینے کے قابل نہیں ہوں۔ یہ مثال ہمیں بتاتی ہے کہ ہر عمل کا حساب دینا ہوگا۔ آج ہم زمین کو بے ہنگم تعمیرات اور کرائے کے منصوبوں میں جھونک کر، معیشت کو نقصان پہنچا رہے ہیں۔
تعلیم کا شعبہ اور متبادل راستے
کراچی اور پاکستان کے لیے ایک اور سنگین مسئلہ یہ ہے کہ ہمارا تعلیمی نظام یکسانیت پر زور دیتا ہے۔ ہم چاہتے ہیں کہ ہر بچہ ایک ہی ڈگر پر چلے، لیکن حقیقت یہ ہے کہ:
- کیا ہماری ہر انگلی ایک ہی لمبائی کی ہے؟
- اگر قدرت نے ہمیں مختلف بنایا ہے تو ہم دوسروں سے یہ توقع کیوں رکھتے ہیں کہ وہ سب ایک جیسے ہوں؟
یہی تنوع ایک صحت مند معاشرے کی بنیاد ہے۔ اگر ہم سب کو ایک ہی راستے پر چلنے پر مجبور کریں گے، تو ہم نہ صرف ان کی صلاحیتوں کو ضائع کریں گے بلکہ معاشرے کو بھی جمود کا شکار بنا دیں گے۔
اور یہی ذہنیت کراچی کی تباہی اور غیر منظم ترقی کی ذمہ دار ہے، کیونکہ ہر شخص صرف اپنی "حصے کی توثیق" چاہتا ہے، بجائے اس کے کہ وہ ایک چین اسپرکٹ کی طرح برتاؤ کرے، جہاں ہر چین کو آگے بڑھنے کا منصفانہ موقع ملتا ہے، نہ کہ ایک دوسرے کو کھینچ کر پیچھے لے جانے کی کوشش کی جاتی ہے۔
ماسٹر پلان 2047 کی تجاویز
اب کراچی کے لیے گریٹر کراچی ریجنل پلان 2047 (GKRP 2047) تیار کیا جا رہا ہے، جس میں درج ذیل نکات شامل ہیں:
- شہر کو 25 سالہ وژن کے تحت دوبارہ منظم کرنا۔
- ماحولیاتی خطرات (ہیٹ ویوز، پانی کی کمی، کلائمیٹ چینج) سے نمٹنے کے لیے اقدامات۔
- ٹرانسپورٹ اور انفراسٹرکچر کو جدید خطوط پر استوار کرنا۔
- گرین ایریاز کو بڑھانا اور کچی آبادیوں کو منظم ہاؤسنگ میں تبدیل کرنا۔
- شہر کی گورننس کو شفاف اور شراکتی بنانا۔ Urban Resource Centre cackarachi.com
یہ تجاویز درست سمت میں ہیں، لیکن اگر ہم نے اجتماعی ذمہ داری اور تعلیم کے تنوع کو نظرانداز کیا تو یہ منصوبہ بھی پچھلے ماسٹر پلانز کی طرح ناکام ہو جائے گا۔
نتیجہ
کراچی کی غیر منظم ترقی صرف ایک شہری مسئلہ نہیں، بلکہ ایک اجتماعی اخلاقی بحران ہے۔ ماسٹر پلان 2047 ہمیں موقع دیتا ہے کہ ہم اپنی غلطیوں کو درست کریں، لیکن اس کے لیے ہمیں کرائے کی ذہنیت، ذاتی مفاد اور یکسانیت پر مبنی تعلیم کو ترک کرنا ہوگا۔
کراچی کو بچانے کے لیے ہمیں اپنی ذہنیت بدلنی ہوگی۔ کرائے کی آسان آمدنی کے بجائے، ہمیں پیداوار، جدت، تعلیم اور اجتماعی ذمہ داری کو اپنانا ہوگا۔ ورنہ یہ شہر ہماری غفلت اور لالچ کی زندہ مثال بن کر رہ جائے گا۔
پاکستان کے بائیکاٹ مؤقف کو “مزاق” کہنا بھارتی میڈیا کی عادت ہے
پاکستان کے بائیکاٹ مؤقف کو “مزاق” کہنا بھارتی میڈیا کی عادت ہے، مگر تازہ ترین اعداد و شمار اور عالمی رپورٹس یہ ثابت کرتے ہیں کہ یہ مؤقف جذباتی نہیں بلکہ معاشی، سفارتی اور تاریخی بنیادوں پر کھڑا ہے۔ ایک پاکستان–بھارت میچ کی مالیت تقریباً ₹4,800 کروڑ (≈ PKR 158 ارب) ہے، جبکہ ICC ریونیو ماڈل میں بھارت کو 38.5% اور پاکستان کو صرف 2.81% حصہ دیا گیا ہے۔ یہ عدم توازن اور ریکارڈ ویورشپ پاکستان کے مؤقف کو مزید مضبوط بناتا ہے۔
📊 ICC ریونیو شیئر (2024–27)
تازہ ترین ماڈل کے مطابق: ESPNcricinfo Wisden
| ملک | ریونیو شیئر % | سالانہ آمدنی (USD) | INR (تقریباً) | PKR (تقریباً) |
|---|---|---|---|---|
| بھارت | 38.5% | ~$231 ملین | ₹1,920 کروڑ | ~PKR 63 ارب |
| انگلینڈ | 6.89% | ~$41 ملین | ₹340 کروڑ | ~PKR 11 ارب |
| آسٹریلیا | 6.25% | ~$37 ملین | ₹310 کروڑ | ~PKR 10 ارب |
| پاکستان | 2.81% | ~$34.5 ملین | ₹290 کروڑ | ~PKR 9.5 ارب |
👉 پاکستان کو صرف 2.81% ملتا ہے، مگر پاکستان–بھارت میچز ICC کے عالمی ویورشپ کا 25%+ پیدا کرتے ہیں۔
📈 India–Pakistan Fixture Value
- کمرشل ویلیو (2025): ~USD 575 ملین ≈ ₹4,800 کروڑ ≈ ~PKR 158 ارب english.mahamoney.com
- Ad Revenue Loss اگر boycott ہو: ₹350–400 کروڑ ≈ ~PKR 11–13 ارب
- Ticketing + Hospitality: ₹200 کروڑ ≈ ~PKR 6.5 ارب
- Digital Streaming Revenue: ₹300 کروڑ+ ≈ ~PKR 10 ارب+
👥 Viewership Records (Updated)
- ODI World Cup 2023 (Ahmedabad): 3.5 کروڑ peak concurrent viewers on Hotstar (35 million) Cricket Pakistan International Cricket Council
- Champions Trophy 2025 (India–Pakistan clash): 602 ملین cumulative digital views (JioHotstar) Cricket Winner
👉 یہ ریکارڈز ثابت کرتے ہیں کہ دنیا سب سے زیادہ پاکستان–بھارت میچ دیکھتی ہے۔
🛡️ سیکیورٹی ڈیٹا
- Teams toured Pakistan (2019–2025): England, Australia, New Zealand, South Africa, Sri Lanka, Bangladesh.
- Security Deployment: 3,000–4,000 اہلکار فی میچ (head‑of‑state level protection)۔
- Zero Major Incidents: پچھلے 7 سال میں کوئی بڑا واقعہ نہیں۔
👉 بھارت کا "سیکیورٹی بہانہ" اعداد و شمار کے سامنے کمزور ہے۔
📅 تاریخی بائیکاٹس
- South Africa (1970–1991): 21 سالہ پابندی (Apartheid)
- Zimbabwe (2003): سیاسی بحران پر بائیکاٹ
- India (2016 & 2019): پاکستان کے خلاف cultural اور cricket boycotts
👉 بائیکاٹ ایک جائز سفارتی ہتھیار ہے، جسے بھارت خود استعمال کر چکا ہے۔
🎙️ Arnab Goswami Contradictions
- 2016: 40+ شوز — پاکستانی اداکاروں پر پابندی
- 2019: 60+ شوز — کرکٹ اور کلچر بائیکاٹ
- 2026: پاکستان کے بائیکاٹ کو "مزاق" قرار دیا
👉 “Boycott patriotism ہے جب بھارت کرے، مگر joke ہے جب پاکستان کرے؟ #DoubleStandards”
نتیجہ
پاکستان کا بائیکاٹ stance جذباتی نہیں بلکہ اعداد و شمار پر مبنی ہے:
- ₹4,800 کروڑ ≈ ~PKR 158 ارب کمرشل اثر
- ICC ریونیو میں ناانصافی (بھارت ₹1,920 کروڑ ≈ ~PKR 63 ارب، پاکستان صرف ₹290 کروڑ ≈ ~PKR 9.5 ارب)
- عالمی ویورشپ ریکارڈز (602 ملین cumulative views)
- سیکیورٹی ڈیٹا اور تاریخی بائیکاٹس
Self respect compromise سے نہیں بلکہ branding، meritocracy اور principled documentation سے قائم ہوتی ہے۔
13/7/25
کراچی، جذبات اور خود غرضی: جب کسی کا درد دوسروں کے لیے تماشہ بن جائے
12/4/25
ہمارے میڈیا کی اصلاح
اب ذرا تصور کریں کہ آج کوئٹہ اور پشاور کے درمیان 'عالمی کرکٹ کا فیشن شو' جاری ہے، جہاں میڈیا نے پی ایس ایل کی مارکیٹنگ کو کسی بچوں کے میلے میں تبدیل کر دیا ہے۔ ہاں جی، یہی وہی میڈیا ہے جو ٹی وی ریٹنگز کے لیے جگت بازی اور ہلکے پھلکے ہتھکنڈوں پر بھروسہ کرتا ہے، جیسے کسی جادوگر کی ٹرک ہو۔ لیکن ایک سوال یہ اٹھتا ہے کہ اس طرح کی بے بنیاد اداکاری سے پاکستان اور پاکستانی کرکٹ کی عالمی ساکھ پر کیا اثر پڑے گا؟
تجزیہ اور طنز:
-
میڈیا کی 'نوجوانی': میڈیا نے اپنی سنجیدگی کھو دی؟ کرکٹ کے عالمی میلے میں ٹی آر پی کے لیے بچگانہ اشعار اور بے معنی تبصروں کا سیلاب! #میڈیا #کرکٹ
ٹی آر پی کا جادو: میڈیا ٹی آر پی بڑھانے کے لیے جادوئی جگت بازی میں الجھ گیا ہے، جیسے جادو کی دکان بچوں کو لبھاتی ہے۔ پاکستان کی بین الاقوامی تصویر پر منفی اثر! #میڈیا #کرکٹ #TRP
-
عالمی تصویر پر منفی اثر: اگر ایسا ہی چلتا رہا تو پاکستان کرکٹ کی عالمی پہچان مسخرے کی تصویر بن جائے گی، اور ناظرین پوچھیں گے: "کرکٹ یا تماشہ؟" #کرکٹ #میڈیا #TRP'
متبادل حل:
-
پیشہ ورانہ مارکیٹنگ: میڈیا کو چاہیے کہ وہ اس تماشے کی بجائے پیشہ ورانہ اور تجزیاتی رپورٹنگ پر توجہ دے۔ بہتر ہوگا کہ وہ کرکٹ کے کھیل کی اصل مہارت اور حکمت عملی کو اجاگر کریں، نہ کہ محض ٹی آر پی کے جھانسے میں پھنسیں۔
-
تعلیم اور شعور: نوجوان ناظرین کو کرکٹ کے گہرے پہلوؤں سے روشناس کرانے کے لیے ایسی رپورٹیں تیار کی جائیں جو نہ صرف کھیل کی تفصیلات بیان کریں بلکہ عالمی معیار کے تجزیے بھی پیش کریں۔
-
قومی مفاد کی ترجیح: میڈیا کو چاہیے کہ وہ قومی مفاد کو مدنظر رکھتے ہوئے، پاکستان کی کرکٹ ساکھ کو بہتر بنانے کے لیے مثبت اور تعمیری مواد پیش کرے، جس سے نہ صرف اندرونی بلکہ بین الاقوامی سطح پر بھی پاکستان کی پہچان نکھرے۔
یوں نہ صرف ٹی آر پی کے جھانسے سے نجات ملے گی بلکہ ایک نیا دور بھی شروع ہوگا جس میں کرکٹ کو اس کی اصل عظمت کے ساتھ سراہا جائے گا۔
6/4/25
پاکستان کی تاریخ میں منافقت، افواہوں کا اثر، اور اس کے جواب کی کمی کو سادہ انداز میں سمجھیں
1. منافقت کیا ہے اور پاکستان میں کیسے نظر آئی؟
پاکستان بننے کا خواب اور حقیقت:
صوبوں اور زبانوں کے حقوق:
تعارف introduction
قائد اعظم کے بعد کا پاکستان after demise of Quaid-e-Azam
زبان کا مسئلہ اور صوبائی ناراضگی grievances at the start of Pakistan while respecting regional languages
مشرقی پاکستان کا الگ ہونا annexation of East Pakistan into Bangladesh
دیگر صوبوں میں بڑھتی ہوئی بے چینی complex relationship between provinces
بیرونی خطرات اور مخالفین کے عزائم external factors impacting internal circumstances
ان اندرونی کمزوریوں کا فائدہ ہمارے مخالفین نے اٹھایا۔ کچھ انڈین بلاگرز اور تجزیہ کاروں کے مطابق، بلوچستان پر ان کی نظر ہے، اور وہاں علیحدگی پسند تحریکوں کو ہوا دے کر مداخلت کی جا سکتی ہے۔ اسی طرح، خیبر پختونخواہ کو افغانستان میں ضم کرنے اور سندھ کو 'سندھو دیش' بنانے کی باتیں بھی کی جاتی ہیں۔ ان کے خیال میں، اگر یہ سب ہو گیا، تو پاکستان صرف وسطی اور شمالی پنجاب تک محدود رہ جائے گا۔ یہ محض پروپیگنڈا نہیں، بلکہ ہماری اپنی خامیوں کا نتیجہ ہے، جنہوں نے مخالفین کو ایسے مواقع فراہم کیے۔
نتیجہ end result
2. افواہوں نے کیا نقصان کیا؟
اندرونی افواہیں(internal conflicts):
باہر سے افواہوں کا کردار
دنیا میں غلط سمجھا گیا:
پاکستان کے نقصانات
دنیا کے سامنے ناکامی کی وجوہات
1. جغرافیائی محل وقوع:
2. منفی میڈیا تصویر:
3. سفارتی کمزوری:
4. اندرونی مسائل:
پاکستان کی کامیابیاں
آگے کا راستہ
- سفارتی کوششوں میں بہتری: عالمی فورمز جیسے اقوام متحدہ پر اپنا موقف مضبوطی سے پیش کرنا ہوگا۔
- میڈیا حکمت عملی: اپنی کامیابیوں اور قربانیوں کو اجاگر کرنے کے لیے ایک مؤثر میڈیا مہم چلانی چاہیے۔
- اندرونی استحکام: اداروں کو مضبوط کرنا اور سیاسی استحکام لانا ضروری ہے تاکہ دنیا کو پاکستان کی سنجیدگی پر یقین ہو۔
نتیجہ
3. میڈیا اور بات چیت (negotiations) کی کمزوری:
وجوہات
- میڈیا حکمت عملی کی کمی: پاکستان نے اپنی کامیابیوں، قربانیوں اور ترقی کو دنیا کے سامنے پیش کرنے کے لیے کوئی مضبوط میڈیا حکمت عملی نہیں اپنائی۔ اس کے برعکس، مخالف ممالک نے اپنے پروپیگنڈے کو منظم اور مؤثر انداز میں پھیلایا، جس سے پاکستان کی آواز دب گئی۔
- سفارتی کمزوری: عالمی فورمز جیسے اقوام متحدہ یا دیگر پلیٹ فارمز پر پاکستان کی نمائندگی کمزور رہی۔ اس کی وجہ سے پاکستان کا موقف سنجیدگی سے نہیں لیا گیا۔
- اندرونی مسائل: ملک کے اندر سیاسی عدم استحکام اور اداروں کی کمزوری نے بھی پاکستان کی عالمی ساکھ کو کمزور کیا۔ جب اندرونی طور پر مضبوطی نہ ہو، تو باہر کی دنیا میں اثر کم ہوتا ہے۔
نتائج
- منفی شبیہ کا پھیلاؤ: دنیا بھر میں پاکستان کو ایک ایسے ملک کے طور پر دیکھا جانے لگا جو دہشت گردی اور عدم استحکام سے جڑا ہوا ہے، حالانکہ حقیقت اس سے مختلف ہے۔ اس منفی بیانیے نے پاکستان کی اصل قربانیوں اور کوششوں کو پس پشت ڈال دیا۔
- عوام میں مایوسی: پاکستانی عوام کو لگا کہ ان کی محنت اور قربانیوں کو عالمی سطح پر تسلیم نہیں کیا جا رہا۔ اس سے ان میں بے چینی اور ناامیدی بڑھی۔
4. اس سب کے کیا اثرات ہوئے؟
لوگوں کا بھروسہ ختم ہوا:
ملک کی پہچان کمزور ہوئی:
دنیا میں عزت کم ہوئی:
5. اس کا حل کیا ہو سکتا ہے؟
سچائی اور اچھی تعلیم:
لوگوں کو باخبر کرنا:
آخر میں(last words)
2/2/25
پاکستانی قوم کی رسیدیں جمع کرنے کا ہوکا
پاکستان اس وقت چیمپئنز ٹرافی 2025 کے بخار میں مبتلا ہے، ہر طرف جوش و خروش نظر آ رہا ہے، لیکن ایک سوال جو مجھے مسلسل پریشان کر رہا ہے: کیا ہم واقعی اس بڑے ایونٹ کے لیے تیار ہیں؟ مجھے یاد ہے جب پاکستان اور آسٹریلیا کی سیریز کے دوران ای ٹکٹنگ کا سسٹم BookMe.pk کے ذریعے ہوا تھا، تب چیزیں قدرے منظم اور آسان لگ رہی تھیں۔ میں اور میری بیوی کراچی ٹیسٹ دیکھنے گئے تھے، اور صرف دو QR کوڈ والے پرنٹس لے کر ہم باآسانی انٹری حاصل کر سکے۔ لیکن اب، کیا ہم وہی سہولت اور پروفیشنلزم چیمپئنز ٹرافی میں دیکھیں گے؟ یا پھر ایک بار وہی بدنظمی، بلیک میں ٹکٹوں کی فروخت، اور عام شائقین کے ساتھ دھوکہ دہی کا بازار گرم ہوگا؟ پاکستان میں کرکٹ صرف ایک کھیل نہیں، بلکہ ایک جذباتی وابستگی ہے، لیکن افسوس کی بات یہ ہے کہ جب بھی کوئی بڑا ایونٹ آتا ہے، تو ہمارے منتظمین کی نااہلی سب پر عیاں ہو جاتی ہے۔ کیا اس بار کچھ نیا ہوگا، یا پھر وہی پرانی کہانی؟
موجودہ (ای) ٹکٹنگ سسٹم
چیمپئنز ٹرافی 2025 کے لیے ایک بار پھر وہی پرانا اور فرسودہ "آرڈر اینڈ ڈیلیور" والا نظام نافذ کر دیا گیا ہے، جہاں آپ کو پہلے PCB.TCS.COM.PK پر جا کر آرڈر دینا ہوگا۔ لیکن کہانی یہاں ختم نہیں ہوتی! ایک شناختی کارڈ پر صرف چار ٹکٹوں کی حد لگا دی گئی ہے، اور اس کے بعد آپ کو ایک یونیک نمبر یا اپنا CNIC نمبر فراہم کرنا ہوگا۔
یہی وہ نکتہ ہے جہاں میرا اعتراض ہے۔
یہ نظام بظاہر تو منظم لگتا ہے، مگر حقیقت میں انتہائی خطرناک ہے۔ پاکستان میں شناختی کارڈز کے ساتھ فراڈ اور ڈیٹا لیک کے
| آفیشل ٹی سی ایس کا ہوم پیج اسکرین شاٹ |
سیکڑوں واقعات پہلے بھی ہو چکے ہیں، خاص طور پر سم کارڈز کے اجرا کے دوران جب ہزاروں لوگ اپنی لاعلمی میں کسی اور کے نام پر رجسٹرڈ سمز کے بوجھ تلے دب چکے تھے۔ تو کیا ہمیں اس بار بھی وہی دھوکہ دہی دیکھنے کو ملے گی؟
کیا واقعی PCB اور TCS کے پاس وہ سیکیورٹی میکانزم موجود ہے جو عوام کے ڈیٹا کو محفوظ رکھ سکے؟ یا پھر ہم ایک اور بڑے اسکینڈل کی طرف بڑھ رہے ہیں؟ کیا اس بار بھی عام کرکٹ شائقین کے ساتھ زیادتی ہوگی، اور ٹکٹیں صرف "بااثر افراد" کے ہاتھ لگیں گی؟
پاکستان کرکٹ بورڈ کی انتظامی صلاحیت ہمیشہ سوالیہ نشان رہی ہے، اور چیمپئنز ٹرافی 2025 کے ٹکٹنگ سسٹم کے ساتھ جو پہلا تاثر مل رہا ہے، وہ قطعی طور پر امید افزا نہیں ہے۔
رسیدیں جمع کرنے کا ہوکا
یہی بیوروکریسی کی دقیانوسی سوچ ہے جو ہر جگہ ہماری ترقی میں رکاوٹ بنی ہوئی ہے۔ کاغذ کا بے دریغ استعمال، غیر ضروری مراحل، اور عوام کو خواری میں ڈالنے والا سسٹم—یہ سب کچھ میں نے 2024 کے انتخابات میں بھی اپنی آنکھوں سے دیکھا تھا۔
مجھے یاد ہے کہ ایک سیدھے سادے ووٹنگ کے عمل کو کتنا پیچیدہ بنا دیا گیا تھا۔ ایک ہی چھوٹے سے کمرے میں چھ مختلف پریزائیڈنگ افسران ایک کام انجام دے رہے تھے، جو ایک ہی بندہ بھی سنبھال سکتا تھا۔
- پہلا شخص صرف مجھے اندر داخل کر رہا تھا۔
- دوسرا شخص میرا CNIC چیک کرکے رجسٹر پر انٹری کر رہا تھا۔
- تیسرا شخص نیشنل اسمبلی کا ہرا بیلٹ پیپر دے رہا تھا۔
- چوتھا شخص پروونشل اسمبلی کا سفید بیلٹ پیپر دے رہا تھا۔
- پانچواں شخص یہ چیک کر رہا تھا کہ میں نے دونوں بیلٹ پیپر لے لیے ہیں۔
- اور چھٹا شخص صرف اور صرف مجھے انگوٹھے پر ٹھپہ لگانے کے لیے بیٹھا تھا!
یہ سب کیا تھا؟ صرف ایک پروسیس کو مصنوعی طور پر پیچیدہ بنا کر عوام کو استعمال کرنے کا ایک نیا طریقہ۔ افسوسناک پہلو یہ تھا کہ ہمارے عوام خود بھی اس عمل کا حصہ بننے پر فخر محسوس کر رہے تھے۔
اور اب یہی کچھ چیمپئنز ٹرافی 2025 کے ٹکٹنگ سسٹم میں دہرایا جا رہا ہے۔
- پہلے آپ PCB.TCS.COM.PK پر آرڈر کریں گے۔
- پھر صرف چار ٹکٹوں کی حد میں بندھے رہیں گے۔
- اس کے بعد آپ کو یا تو ایک "یونیک کوڈ" یا اپنا شناختی کارڈ نمبر لے کر ٹی سی ایس کے دفتر جانا ہوگا۔
- وہاں جا کر فزیکل ٹکٹ پرنٹ کرایا جائے گا۔
یہ سب فضول مشقت کیوں؟ کیا یہ کام ایک سادہ QR کوڈ پرنٹ کرکے گھر بیٹھے حل نہیں کیا جا سکتا؟ میں نے پاکستان-آسٹریلیا 2022 کے ٹیسٹ میچ کے لیے BookMe.pk کے ذریعے دو QR ٹکٹ خریدے اور آرام سے اسٹیڈیم میں انٹری لی۔ لیکن جب یہی ٹکٹنگ کا نظام 2019 کی پاکستان-سری لنکا سیریز میں TCS کے پاس تھا، تب بھی مجھے بہادرآباد کے TCS آفس جا کر فزیکل ٹکٹ پرنٹ کرانا پڑا تھا!
یہ کونسی ڈیجیٹلائزیشن ہے؟
یہ سہولت ہے یا ایک اور عذاب؟
کیا PCB اور TCS واقعی عوام کو آسانی دینا چاہتے ہیں، یا بس انہیں خواری میں ڈال کر یہ تاثر دینا چاہتے ہیں کہ "انتظامات بہت سخت ہیں"؟
یہی دقیانوسی سوچ ہمیں ترقی نہیں کرنے دیتی۔ یہاں ہر معاملے میں غیر ضروری پیچیدگیاں ڈال دی جاتی ہیں، اور عوام بھی اس کو تقدیر سمجھ کر خاموش ہو جاتے ہیں۔ کیا ہم کبھی اس "بیوروکریسی کے وائرس" سے آزاد ہو سکیں گے؟ یا پھر ہمیشہ کی طرح ہمیں استعمال کیا جاتا رہے گا؟
مگر میں نے یہ بھی دیکھا ہے
یہ رسیدیں جمع کرنے کا ہوکا شاید ہماری قوم کی سرشت میں شامل ہو چکا ہے۔ ایک سیدھے سادے QR کوڈ کو بھی "صحیح" پرنٹ کرانے کے لیے خوار ہونا ضروری سمجھا جاتا ہے! مجھے یاد ہے کہ جب جنوبی افریقہ نے 2021 میں پاکستان کا دورہ کیا تھا، تب بھی یہی بکھیڑا تھا۔ لوگ اپنے QR کوڈز کو "درست" پرنٹ کرانے کے لیے مشرق سینٹر جا رہے تھے، تاکہ وہ اسکین ہو سکے۔ یہ کونسی دقیانوسی سوچ ہے؟ QR کوڈ میں ایسی کوئی حد بندی نہیں ہوتی، یہ ایک ڈیجیٹل سسٹم ہے، نہ کہ کوئی قدیم زمانے کی مہر!
میں ہر روز بینک میں چیکس پر QR کوڈ کی ویلیڈیشن دیکھتا ہوں، جہاں بس لیزر کو ہلکی سی جھلک ملے، تو ڈیٹا فائل میں منتقل ہو جاتا ہے۔ پھر بھی، پاکستان جیسے ملک میں ایک سادہ QR کوڈ بھی اتنا بڑا مسئلہ بنا دیا جاتا ہے۔ اصل مسئلہ یہ نہیں کہ QR کوڈ اسکین نہیں ہوتا، اصل مسئلہ یہ ہے کہ عوام کو خواری کی لت لگ چکی ہے! ہمارے لوگ رسیدیں جمع کرنے اور لائنوں میں لگنے کو "اصل سسٹم" سمجھتے ہیں، جبکہ اصل ڈیجیٹل ترقی اس کے برعکس ہے۔
یہی "کاغذ پر اندھا اعتماد" ہے جو ہمارے سسٹم کو پیچھے لے جا رہا ہے۔ ہم آج بھی فزیکل کاغذی ثبوت کے بغیر سچ کو سچ ماننے کو تیار نہیں۔ یہی وجہ ہے کہ جب تک ہاتھ میں پرچی نہ ہو، ہماری قوم کو سکون نہیں آتا۔ ڈیجیٹل انقلاب آیا، مگر ہم اب بھی TCS کے چکر لگانے میں ہی اپنی شان سمجھتے ہیں!
ٹھپہ
پاکستانیوں کی ٹھپہ سے محبت اور کاغذی ثبوت کے بغیر نہ ماننے کی ضد مجھے کبھی سمجھ نہیں آئی۔ میرے سامنے کی مثال لے لیں—میرے اپنے گھر کے K-Electric کے بل کا معاملہ۔ میں نے بل کی ادائیگی آن لائن کی، مگر پھر بھی ٹھپہ کے بغیر کسی کو یقین نہیں آیا! Due date 30 تاریخ تھی، مگر آج 5 دن گزر چکے ہیں، نہ K-Electric کی ایپ پر کوئی اپڈیٹ، نہ کسی بینکنگ ایپ پر "Payment Done" کا پیغام! یہ کونسا جدید نظام ہے جو خودکار بینکنگ کے نام پر بھی سست روی کا شکار ہے؟
یہ سب کچھ لکھنے کا مقصد یہ ہے کہ manual banking کو متبادل کے طور پر رکھیں، مگر خودکار بینکنگ کو مکمل طور پر اختیار تو کریں! مگر نہیں، ہماری قوم کو لائنوں میں لگنے اور ٹھپہ لگوانے کا چسکا لگ چکا ہے۔ اور جب یہی قوم غیر ضروری خواری اور وقت کے ضیاع پر اعتراض کرتی ہے، تو منافقت اور نوسر بازی اپنے عروج پر نظر آتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اب پاکستانی کرنسی کو بھی تبدیل کیا جا رہا ہے، کیونکہ بہت سے "ایماندار" پاکستانیوں نے کالے دھن کو روپوں کی شکل میں گھروں میں چھپا رکھا ہے۔
یہ سب دیکھ کر مجھے اللہ کا وہ فرمان یاد آتا ہے:
"جیسی رعایا ہوگی، ویسے ہی حکمران ان پر مسلط کیے جائیں گے۔"
اور میں یہ حقیقت اپنی آنکھوں کے سامنے دیکھ رہا ہوں۔ یہی وہ قوم ہے جو خود دھوکہ دیتی ہے، پھر حکمرانوں سے شفافیت کی امید بھی رکھتی ہے۔ اپنی بددیانتی کو نظرانداز کر کے، صرف دوسروں کو کوسنا ہماری قومی عادت بن چکی ہے!
19/1/25
Why looking average is more important in Pakistan and why we are lagging behind!
جب میں یہ بلاگ لکھ رہا ہوں، تو ساتھ ہی یوٹیوب پر ایک ویڈیو دیکھ رہا ہوں جو حیرت انگیز طور پر میرے حالیہ حالات سے جڑی ہوئی محسوس ہو رہی ہے۔ یہ ویڈیو ان ہی مسائل پر روشنی ڈالتی ہے جن سے میں گزر رہا ہوں: گھریلو ناچاقی، جذباتی الجھنیں، اور ایسے حالات جو دوسروں کو فائدہ اٹھانے کا موقع دے سکتے ہیں۔
میں 35 سال کا ایک ذمہ دار شخص ہوں، اور زندگی کے تجربات نے مجھے یہ سکھایا ہے کہ مسائل کو سمجھنا اور ان کا تجزیہ کرنا کتنا ضروری ہے۔ مگر یہ عجیب بات ہے کہ وہ مسائل جو مجھے واضح نظر آ رہے ہیں، میری والدہ، جو 60 سال کی زندگی گزار چکی ہیں، ان کو نظر نہیں آ رہے۔
یہی وہ خلا ہے جو ہمارے درمیان ناچاقی کو جنم دے رہا ہے۔ وہ اپنی نیت سے غلط نہیں ہیں، لیکن ان کے تجربات، سوچ اور جذبات میرے موجودہ حالات سے مطابقت نہیں رکھتے۔ یہی وجہ ہے کہ جب میں ان سے اپنے نقطہ نظر کو بیان کرنے کی کوشش کرتا ہوں، تو وہ اسے نظر انداز کر دیتی ہیں یا اسے غلط سمجھ لیتی ہیں۔
تیسرے کا فائدہ
ایسے حالات میں سب سے زیادہ خطرہ یہ ہوتا ہے کہ کوئی تیسرا شخص، جو اس صورت حال کو سمجھتا ہو، ان اختلافات کا فائدہ اٹھا سکتا ہے۔ یہی وہ بات ہے جو مجھے سب سے زیادہ فکر مند کرتی ہے۔ ہماری جذباتی کمزوری اور نااتفاقی کسی اور کے لیے موقع بن سکتی ہے، اور یہ وہ چیز ہے جسے نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔آگے کا راستہ
یہ سب لکھتے ہوئے میں یہ سوچ رہا ہوں کہ اس مسئلے کا حل کیا ہو سکتا ہے؟- سب سے پہلے، میں اپنی والدہ کے ساتھ بات چیت کا راستہ کھلا رکھنے کی کوشش کروں گا۔ ان کے ساتھ وقت گزار کر انہیں اپنے حالات اور جذبات کو بہتر طریقے سے سمجھانے کی کوشش کروں گا۔
- دوسرا، میں اپنی ذات پر کام کروں گا، تاکہ میں جذباتی طور پر مضبوط رہوں اور کسی بھی تیسرے شخص کے اثر سے محفوظ رہوں۔
- تیسرا، میں یہ سمجھنے کی کوشش کروں گا کہ اختلافات کے باوجود، گھر کی یکجہتی کو کیسے برقرار رکھا جا سکتا ہے۔
گھر کے تعلقات اور جذباتی پیچیدگیاں آسان نہیں ہوتیں، لیکن اگر ان پر توجہ دی جائے اور تحمل سے کام لیا جائے، تو ان کے حل بھی ممکن ہیں۔ یہ بلاگ لکھتے ہوئے مجھے ایک بار پھر یہ احساس ہوا کہ مسئلے کو سمجھنا اور اس کا تجزیہ کرنا ہی پہلا قدم ہے۔ اب وقت ہے عمل کرنے کا، تاکہ میں نہ صرف اپنے حالات کو بہتر بنا سکوں بلکہ اپنے گھر کے تعلقات کو بھی محفوظ رکھ سکوں۔
عزت اور رویے: نسلوں کے درمیان ایک پل
میرا ماننا ہے کہ وقت ایک ایسا پہیہ ہے جو ہمیشہ چلتا رہتا ہے۔ آج میرے والدین جس مقام پر ہیں، 20 یا 30 سال بعد میں بھی وہیں پہنچ جاؤں گا۔ یہی سوچ مجھے اپنے رویے اور اقدار کے بارے میں مزید حساس بناتی ہے۔ میں سمجھتا ہوں کہ عزت ایک ایسی چیز ہے جو نہ صرف دی جانی چاہیے بلکہ کمائی بھی جاتی ہے۔
جب میں یہ کہتا ہوں کہ عزت میں deserve کرتا ہوں، تو اس کے ساتھ یہ بھی میرا ایمان ہے کہ میرے والدین کی بھی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ وہی رویہ اپنائیں جو وہ خود دوسروں سے اپنے لیے چاہتے ہیں۔ یہ اصول، "Treat others just like you want yourself to be treated"، نہ صرف زندگی کو آسان بناتا ہے بلکہ نسلوں کے درمیان ایک مضبوط پل بھی بناتا ہے۔
یہاں میرا مقصد ہرگز بڑوں کی عزت یا ان کے تجربے کو کم تر دکھانا نہیں ہے۔ ان کی زندگی کے تجربات اور قربانیاں ہماری زندگی کی بنیاد ہیں۔ لیکن ایک بات واضح ہے کہ عزت دو طرفہ راستہ ہے۔ اگر والدین یہ توقع رکھتے ہیں کہ ان کے بچے ان کی عزت کریں گے اور ان کی بات مانیں گے، تو اس کے لیے یہ بھی ضروری ہے کہ وہ بچوں کو سنیں، ان کے جذبات کو سمجھیں، اور انہیں وہ مقام دیں جس کے وہ مستحق ہیں۔
زندگی کے اس سفر میں، ہر نسل کو ایک دوسرے کا ساتھ دینا ہوتا ہے۔ والدین اپنی زندگی کے اس مرحلے پر جہاں رہنمائی فراہم کرتے ہیں، وہاں بچوں کے جذبات اور سوچ کو بھی جگہ دینا ضروری ہے۔ اسی طرح، بچوں کا فرض ہے کہ وہ اپنے والدین کے تجربات اور مشوروں کا احترام کریں۔
میری سوچ کا خلاصہ یہ ہے کہ عزت اور محبت کی بنیاد مساوات اور انصاف پر ہونی چاہیے۔ اگر ہم اپنے بڑوں کے ساتھ وہی سلوک کریں جو ہم اپنی بڑھاپے میں دوسروں سے چاہتے ہیں، تو نہ صرف خاندان میں سکون ہوگا بلکہ ہمارے رشتے بھی زیادہ مضبوط ہوں گے۔
اسٹیٹس ٹریپ: ہماری پرمپرا اور معاشرتی الجھنیں
یہ ایک سادہ سی بات ہے، لیکن حیرت کی بات یہ ہے کہ یہی سادگی میرے گھر میں بحث کا باعث بن رہی ہے۔ میری والدہ اور ان کے نقش قدم پر چلتی ہوئی میری بیوی بھی اسی سوچ کی پیروی کر رہی ہیں، جس نے مجھے گہرے تجزیے پر مجبور کر دیا ہے۔ اس معاملے میں ہمیں یہ سمجھنا ہوگا کہ "اسٹیٹس ٹریپ" کیا ہے اور یہ ہماری زندگیوں پر کس طرح اثر انداز ہو رہا ہے۔
ہمارے معاشرے میں اکثر یہ سوچ پروان چڑھائی جاتی ہے کہ اپنی اولاد کو اسی راستے پر چلایا جائے جس پر والدین چلے ہیں۔ اسے ہندی میں "پرمپرا" کہتے ہیں، اور انگریزی میں "لیگیسی"۔ یہ خیال کہ ہماری اولاد ہمارے نقش قدم پر چلتی رہے، ایک طرف تو خوبصورت لگتا ہے، لیکن دوسری طرف یہ ایک گہرے مسئلے کو جنم دیتا ہے۔ اس لیگیسی کے چکر میں ہم مستقبل کے امکانات کو محدود کر رہے ہیں اور نئی نسل کو غیر ضروری دباؤ کا شکار بنا رہے ہیں۔
اب اگر ہم اس مسئلے کو مزید گہرائی سے دیکھیں تو سوال یہ اٹھتا ہے کہ کیا ہم اسٹیٹس اور دکھاوے کے چکر میں اپنی اور اپنی نسلوں کی زندگی برباد کر رہے ہیں؟ مثال کے طور پر، اگر آپ کی سالانہ آمدنی 4 لاکھ ہے، لیکن آپ ایک ایسی چیز خریدنے کا سوچ رہے ہیں جس کی قیمت 10 لاکھ ہے، صرف اس لیے کہ آپ دنیا کے سامنے اپنی حیثیت ظاہر کر سکیں، تو یہ دنیا کی سب سے بڑی بے وقوفی ہوگی۔
یہی وہ سوچ ہے جو ہمارے معاشرے میں بڑھتی ہوئی معاشی اور سماجی برائیوں کا باعث بن رہی ہے۔ ہم اپنے وسائل سے زیادہ خرچ کرنے کی عادت کو اپنی شان سمجھتے ہیں، لیکن اس کے نتیجے میں نہ صرف ہمارا اپنا مستقبل خطرے میں پڑتا ہے بلکہ ہماری آنے والی نسلیں بھی قرض اور مشکلات کا شکار ہو جاتی ہیں۔
کسے ذمہ دار ٹھہرائیں؟
اس الجھن کے لیے ذمہ داری کس پر ڈالی جائے؟ والدین پر، جو اپنی اولاد کو اپنی پرانی روایات میں جکڑتے ہیں؟ یا معاشرے پر، جو اسٹیٹس اور دکھاوے کو اہمیت دیتا ہے؟ شاید دونوں۔ والدین کا فرض ہے کہ وہ اپنی نسلوں کو آزادانہ فیصلے کرنے دیں، اور معاشرے کو یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ حیثیت کا مطلب دکھاوا نہیں بلکہ حقیقی خوشحالی ہے۔
آگے کا راستہ
یہ وقت ہے کہ ہم اپنی سوچ اور عمل کو تبدیل کریں۔ ہمیں اپنی ضروریات اور خواہشات کے درمیان فرق کو سمجھنا ہوگا۔ اپنی نسلوں کو پرمپرا کے جال سے آزاد کرکے ان کے لیے بہتر مواقع پیدا کرنے چاہئیں، تاکہ وہ اپنی زندگی کے فیصلے خود کریں اور دکھاوے کے بجائے حقیقی خوشی کو اہمیت دیں۔
یہ بلاگ صرف ایک سوال نہیں بلکہ ایک دعوتِ فکر ہے۔ کیا ہم اپنی نسلوں کو آزاد اور خودمختار بنانا چاہتے ہیں، یا انہیں اسٹیٹس ٹریپ کا غلام؟ فیصلہ ہمارے ہاتھ میں ہے۔
کیا ہمارے لئے واقعی میں ضروری ہے کہ ہم اس گولڈی لوکس زون کے پیرادوکس میں اپنے آپ کو پھنسا کر رکھیں؟
شناخت کا بحران: کیا ہم صحیح اور غلط کا تعین کر پا رہے ہیں؟
انگریزی زبان میں اسے identification کہتے ہیں—یعنی یہ سمجھنا اور پہچاننا کہ ہمارے لیے کیا صحیح ہے اور کیا غلط۔ سوال یہ ہے کہ کیا ہم نے ایسا کوئی نظام یا mechanism بنایا ہے جس کی مدد سے ہم اس فرق کو واضح کر سکیں؟ یا ہم محض اپنی ضد، انا، اور موروثی روایات کے بوجھ تلے دبے ہوئے ہیں، جو نہ صرف ہمیں بلکہ ہماری آئندہ نسلوں کو بھی متاثر کر رہی ہیں؟
ہمارے بڑے، اپنی دانائی اور تجربے کے زور پر ہمیشہ یہ سمجھتے ہیں کہ وہی ہر بات میں صحیح ہیں۔ ان کے اس خودساختہ "صحیح ہونے" کے احساس نے ان کی آنکھوں پر ایسی پٹی باندھ دی ہے کہ انہیں یہ دکھائی ہی نہیں دیتا کہ اس ضد اور جبر کے چکر میں وہ اپنے ہی مستقبل کے ساتھ کیسا غیر ذمہ دارانہ کھیل کھیل رہے ہیں۔
ہماری ترجیحات اور ان کا اثر
یہ پہچان کہ کیا صحیح ہے اور کیا غلط، ہر نسل کے لیے ضروری ہے۔ لیکن جب بڑی نسل اپنی ترجیحات کو نئی نسل پر مسلط کرتی ہے، تو نہ صرف ان کی تخلیقی صلاحیتیں دبتی ہیں بلکہ وہ جذباتی اور ذہنی طور پر بھی شدید دباؤ کا شکار ہو جاتے ہیں۔
یہ مسئلہ صرف گھریلو سطح تک محدود نہیں، بلکہ ہمارے معاشرتی اور ثقافتی نظام کا حصہ بن چکا ہے۔ Identification کا مطلب یہ بھی ہے کہ ہم اپنی زندگی کے اصولوں کو واضح کریں، اپنی ضروریات کو خواہشات سے الگ کریں، اور اس بات کو سمجھیں کہ ہماری ترجیحات کا اثر نہ صرف ہم پر بلکہ ہماری آئندہ نسلوں پر بھی ہوگا۔
آگے کا راستہ
اب وقت آ گیا ہے کہ ہم خود کو اس جمود سے آزاد کریں۔ ہمیں ایک ایسا نظام بنانے کی ضرورت ہے جہاں ہر نسل کے افراد کو اپنی شناخت بنانے کا موقع ملے۔
- بات چیت کو فروغ دیں: بڑوں کو یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ ان کا تجربہ قیمتی ہے، لیکن ان کے تجربات ہر وقت اور ہر حال میں قابلِ عمل نہیں ہوتے۔ نئی نسل کے خیالات کو سننا اور سمجھنا ضروری ہے۔
- تعلیم اور شعور: ہمیں اپنی تعلیم اور تربیت کے ذریعے بچوں میں یہ صلاحیت پیدا کرنی چاہیے کہ وہ اپنی ضروریات اور خوابوں کو سمجھ سکیں، اور اپنے لیے صحیح فیصلے کر سکیں۔
- لچکدار رویہ: ہمیں اپنے رویوں میں لچک پیدا کرنی ہوگی۔ دنیا بدل رہی ہے، اور پرانی روایات کے ساتھ جڑے رہنے کے بجائے ہمیں ان روایات کو نئے حالات کے مطابق ڈھالنا ہوگا۔
یہ بلاگ محض ایک سوال نہیں بلکہ ایک دعوتِ فکر ہے۔ کیا ہم اپنی نسلوں کو آزاد، خودمختار، اور تخلیقی بنانا چاہتے ہیں، یا انہیں اپنے اصولوں کے تنگ دائرے میں قید رکھنا چاہتے ہیں؟ فیصلہ ہم سب کے ہاتھ میں ہے۔ آئیں، identification کے ذریعے صحیح اور غلط کا فرق سمجھیں اور ایک بہتر مستقبل کی بنیاد رکھیں۔