Pages

19/2/26

سدھیر چودھری: ہندوستانی میڈیا کا سب سے بڑا جھوٹا، نفرت کا تاجر اور پروپیگنڈا کا بادشاہ – اعداد و شمار، FIRs اور حقائق کے ساتھ سیدھا سیدھا الزام!


سلام علیکم دوستو،  
آج کا یہ بلاگ سدھیر چودھری پر ہے – آج تک اور زی نیوز کا وہ متنازع اینکر جو "ڈی این اے" اور "بلیک اینڈ وائٹ" جیسے پروگراموں کے ذریعے ہندوستان کی میڈیا کو تباہ کر رہا ہے۔  

میں سیدھا سیدھا اور بغیر کسی لچک کے اعلان کرتا ہوں:  

سدھیر چودھری ایک صحافی نہیں ہے – وہ ایک مکمل
پروپیگنڈا مشین ہے، جھوٹ کا بادشاہ ہے، اور نفرت کا سب سے بڑا تاجر ہے۔  

یہ بندہ جان بوجھ کر جھوٹ بولتا ہے، مذہبی تقسیم پیدا کرتا ہے، اور ویوز اور TRP کے لیے ملک کی ہم آہنگی کو تباہ کر رہا ہے۔ اگر ہندوستان کی میڈیا میں سب سے بڑا زہر ہے تو وہ سدھیر چودھری کا نام ہے – اور میں اسے بغیر کسی ہچکچاہٹ کے بے نقاب کر رہا ہوں۔  

ورلڈ اکنامک فورم کی 2024 گلوبل رسک رپورٹ واضح طور پر کہتی ہے: غلط معلومات کا خطرہ ہندوستان میں دنیا کا سب سے بڑا ہے۔ ایک سروے سے ثابت ہوا کہ 57% ہندوستانی غلط معلومات کا شکار ہو چکے ہیں۔ UNESCO-Ipsos سروے 2023 کے مطابق 85% ہندوستانیوں نے آن لائن نفرت انگیز مواد دیکھا اور 64% کا کہنا ہے کہ سوشل میڈیا اور ٹی وی اس کا سب سے بڑا ذریعہ ہے۔ 2014 سے VIP نفرت انگیز تقریروں میں 500% اضافہ ہوا ہے (NDTV کی تحقیق)۔ کرونا دور میں فیک نیوز میں 214% اضافہ ہوا۔ اور سدھیر چودھری جیسے اینکرز اس زہر کو ٹی وی پر پھیلا رہے ہیں۔  

یہ اعداد و شمار اور حقائق بتاتے ہیں کہ سدھیر کی رپورٹنگ صرف جھوٹ نہیں – یہ ملک کی سماجی ہم آہنگی کو منظم طور پر تباہ کرنے کا ہتھیار ہے۔  

سدھیر کا جھوٹ اور فیک نیوز کا ریکارڈ – اعداد و شمار اور FIRs کے ساتھ

- عما کھرانہ فیک سٹنگ آپریشن (2007): لائیو انڈیا ٹی وی پر (جہاں سدھیر CEO اور ایڈیٹر تھے) ایک مکمل جھوٹا سٹنگ چلایا گیا۔ ٹیچر عما کھرانہ پر طوائف ہونے کا الزام لگایا گیا۔ ایک لڑکی کو اداکارہ بنا کر دکھایا گیا۔ نتیجہ؟ ہجوم نے حملہ کیا، عما گرفتار ہوئیں، اور وزارت اطلاعات نے چینل پر 1 ماہ کی پابندی لگائی۔ یہ 2007 کا واقعہ ہے جو سدھیر کی جیل کی پہلی وجہ بھی بنا۔  
- کرناٹک کی اقلیتی سکیم پر جھوٹی خبر (2023): سدھیر نے اپنے شو میں دعویٰ کیا کہ کرناٹک حکومت صرف مسلمانوں، کرسچنز اور دیگر اقلیتوں کو مالی مدد دے رہی ہے، ہندوؤں کو چھوڑ کر۔ یہ بالکل جھوٹ تھا – سکیم تمام اقلیتوں کے لیے تھی۔ نتیجہ؟ بنگلور پولیس نے FIR درج کی (سیکشن 153A اور 505 کے تحت نفرت پھیلانے کا الزام)، اور کرناٹک ہائی کورٹ نے 19 ستمبر 2023 تک کوئی کارروائی نہ کرنے کا حکم دیا۔  
- مہوا موئترا کی تقریر پر جھوٹا الزام (2019): سدھیر نے دعویٰ کیا کہ ٹی ایم سی کی ایم پی مہوا موئترا نے اپنی پہلی پارلیمنٹ تقریر ایک 2017 آرٹیکل سے پلاجیریزڈ کی۔ یہ جھوٹ تھا – تقریر اوریجنل تھی، لیکن زی نیوز نے غلط موازنہ کیا۔ یہ اپوزیشن کو بدنام کرنے کی کوشش تھی۔  
- جہاد چارٹ کا پروپیگنڈا (2020): "زمین جہاد" شو میں ایک "جہاد چارٹ" دکھایا، جو ایک فیس بک پیج "Boycott Halal in India" سے چوری کیا گیا تھا۔ یہ اسلاموفوبیا پھیلاتا ہے اور بے بنیاد تھا۔ Alt News نے اسے بے نقاب کیا، اور FIR بھی درج ہوئی (سیکشن 295A کے تحت مذہبی جذبات کو ٹھیس پہنچانے کا الزام)۔  
- ٹیبلیغی جماعت پر جھوٹ (2020): کرونا کے شروع میں ٹیبلیغی جماعت کو لاک ڈاؤن توڑنے کا ذمہ دار ٹھہرایا اور کہا کہ "ان کے لیڈرشپ کو جیل میں ڈالو"۔ بعد میں عدالتوں نے ثابت کیا کہ ایونٹ لاک ڈاؤن سے پہلے تھا۔ اس سے اسلاموفوبیا بڑھا اور مسلمانوں پر حملے ہوئے۔  
- پینٹاگون دھماکے کی جھوٹی خبر (2023): ریپبلک ٹی وی نے ایک AI جنریٹڈ تصویر دکھا کر دعویٰ کیا کہ امریکہ میں پینٹاگون کے قریب دھماکہ ہوا۔ یہ RT (روس) کے ٹویٹ سے لیا گیا تھا، جو QAnon سے جڑا تھا۔ بعد میں معافی ماننی پڑی۔  
- وائرل کلپ پر غلط ملک کا الزام (2025): ڈی ڈی نیوز پر ایک کلپ دکھایا جو "پاکستانیوں کا مذاق" کہہ کر پیش کیا، لیکن وہ ایک ہندوستانی کنٹینٹ کریئٹر وکاشو تومر کا تھا۔ یہ قومی نفرت بڑھانے کی کوشش تھی۔  

میں assertive طور پر کہتا ہوں: یہ صحافت نہیں ہے – یہ نفرت کی فیکٹری ہے۔ سدھیر جان بوجھ کر جھوٹ بولتا ہے تاکہ ویوز ملیں اور حکومت خوش رہے۔ یہ گودی میڈیا کا سب سے بڑا چہرہ ہے۔

مسلمانوں کے خلاف نفرت کا سب سے بڑا ذریعہ

سدھیر نے "وائٹ کالر جہاد" جیسے الفاظ ایجاد کیے – کہا کہ تعلیم یافتہ مسلمان ملک دشمن ہیں۔ کشمیری رہنماؤں کو منافق اور غدار کہا۔  

یہ سب کچھ ایک ہی مقصد سے: ہندوستان کے 20 کروڑ مسلمانوں کے خلاف نفرت بڑھانا۔ سدھیر جب مسلمانوں کی بات کرتا ہے تو اس کی آواز میں زہر ہوتا ہے، جبکہ BJP کی ناکامیوں پر مکمل خاموشی۔  

میں assertive طور پر کہتا ہوں: سدھیر چودھری ہندوستان کی جمہوریت اور ہم آہنگی کا دشمن ہے۔ وہ مذہبی تقسیم پیدا کر کے ملک کو تباہ کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔

حکومت کی کٹھ پتلی اور اپوزیشن پر حملے

- اپوزیشن لیڈرز کو "غدار"، "ملک دشمن"، "پاکستان زدہ" کہتا ہے۔  
- حکومت کی ناکامیوں (بے روزگاری، مہنگائی، کسان احتجاج) پر مکمل خاموشی۔  

سدھیر BJP-RSS کی حمایت میں ایک زندہ ہتھیار ہے۔ وہ چیخ کر بحث کرتا ہے، مہمانوں کو ذلیل کرتا ہے، اور جب کوئی اسے چیلنج کرتا ہے تو بحث ختم کر دیتا ہے۔ یہ صحافت نہیں، ڈرامہ ہے۔

میری ذاتی تنقید: سدھیر ایک سماجی زہر ہے

میں سیدھا کہتا ہوں: سدھیر چودھری ہندوستانی میڈیا کا سب سے بڑا داغ ہے۔ وہ جھوٹ بول کر، نفرت پھیلا کر پیسہ کماتا ہے۔ اس کی وجہ سے لاکھوں لوگوں میں نفرت بڑھ رہی ہے، خاندان تقسیم ہو رہے ہیں، اور ملک کی سماجی ہم آہنگی تباہ ہو رہی ہے۔  

اگر ہندوستان کی میڈیا ایسے اینکرز کو برداشت کرتی رہی تو جمہوریت کا جنازہ نکل جائے گا۔ سدھیر جیسے لوگوں کو بائیکاٹ کرنا چاہیے، ان کے چینلز کو نہ دیکھنا چاہیے، اور فیک نیوز کے خلاف آواز اٹھانی چاہیے۔  

اگر آپ بھی سدھیر کی کسی جھوٹی خبر کا شکار ہوئے ہیں یا اس کی مثال جانتے ہیں تو کمنٹ میں ضرور بتائیں۔ ہم سب مل کر اس زہر کو روکیں۔  

اللہ حافظ!  
- مرتضیٰ معیز، کراچی سے  
(19 فروری 2026)


مکمل تحریر >>

عمران خان کی بینائی کی حقیقت سامنے؟ پی ٹی آئی اور اسٹیبلشمنٹ کا ڈیل کا قصہ | سید مزمل آفیشل کی ویڈیو کا جائزہ

سلام علیکم دوستو! میں مرتضیٰ معیز ہوں، کراچی سے بلاگنگ کر رہا ہوں۔ @MoizMurtaza پر مجھے فالو کریں اگر آپ کو سیاسی ڈراموں کی اندر کی کہانیاں پسند ہیں۔ آج کی رات (19 فروری 2026، رات کے 12 بجے) میں بیٹھا سوچ رہا تھا کہ پاکستان کی سیاست میں ڈرامہ کبھی ختم نہیں ہوتا۔ حال ہی میں سید مزمل آفیشل کی ایک ویڈیو دیکھی جس نے مجھے ہلا کر رکھ دیا۔ عنوان ہے "Reality of Imran’s Eyesight Exposed | PTI’s Deal with Establishment | Syed Muzammil Official"۔ یہ ویڈیو ابھی تازہ تازہ اپ لوڈ ہوئی ہے، 1500+ ویوز، 201 لائکس اور 31 کمنٹس۔ میں نے سوچا، کیوں نہ اس پر ایک دلچسپ بلاگ لکھوں – تھوڑا مصالحہ ڈال کر، تصاویر شامل کر کے، تاکہ پڑھنے میں مزہ آئے۔ چلیں، شروع کرتے ہیں!

سید مزمل کی ویڈیو – ایک جھلک

سید مزمل صاحب کو تو آپ جانتے ہی ہوں گے، ایک نوجوان جرنلسٹ جو بے باک بات کرتے ہیں۔

 ویڈیو میں وہ عمران خان کی اڈیالہ جیل میں بینائی کے مسئلے پر کھل کر بات کر رہے ہیں۔ خبروں کے مطابق، خان صاحب کو شدید انفیکشن ہوا ہے، بینائی کم ہو رہی ہے، اور ایک میڈیکل بورڈ بھی بن گیا ہے۔ لیکن اصل مزہ تو یہ ہے کہ سید مزمل کہتے ہیں: کیا یہ سب ایک بڑی "ڈیل" کا حصہ ہے؟ یعنی، اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ خفیہ معاہدہ، اور یہ صحت کا ڈرامہ اسے چھپانے کے لیے؟ واہ، کیا ٹوئسٹ ہے!

ویڈیو مختصر ہے لیکن پوائنٹڈ۔ تین بڑے پوائنٹس:
- میڈیکل سچائی: آنکھ کا انفیکشن واقعی سنگین ہے؟ جیل کی حالت خراب، طبی سہولیات کی کمی – یہ سب کتنا سچ ہے؟
- ڈیل کی افواہیں: کیا یہ رپورٹس عمران خان کو باہر بھیجنے یا سیاسی ڈیل کے لیے ہیں؟ جیل کی دیواروں کے پیچھے کیا پک رہا ہے؟
- اسٹیبلشمنٹ کا کردار: پی ٹی آئی اور اداروں کے درمیان کیا ہو رہا ہے؟ سید مزمل نے سوالات اٹھائے جو ہر پاکستانی کے ذہن میں ہیں۔

ٹیگز جیسے #imrankhan #pti #adialajail دیکھ کر لگتا ہے، یہ ویڈیو سیاسی بم ہے!

کمنٹس کا مزہ – لوگوں کی آوازیں

ویڈیو کے نیچے کمنٹس پڑھ کر ہنسی آتی ہے۔ زیادہ تر سید مزمل کی تعریف: "My favorite journalist Muzamil sir❤" یا
"Excellent young journalist MaShaAllah"۔ ایک بندے نے لکھا: "Ya khabarain kuch saal pehla bi suni gayi thi magar banda koi aur tha😂😂😂" – یعنی نواز شریف والا پرانا ڈرامہ یاد دلایا۔ دوسرے نے کہا: "Nawaz ko b health issue th ab inko b ho gaye hahaha bs hm log awam paghal bannna ka lia hai"۔ ہاہاہا، سچ ہے نا؟ عوام کو بیوقوف بنانے کا پرانا فارمولا۔ ایک کمنٹ تو مخالفت کا بھی: "If hypocrisy had to be an person it would be you"۔ کمنٹس سے لگتا ہے، لوگ سید مزمل کو پسند کرتے ہیں، لیکن موضوع پر بحث گرم ہے۔ "First comment" والے بھی ہیں، جیسے ہر ویڈیو میں ہوتے ہیں!

کیا یہ سب ایک بڑا ڈرامہ ہے؟ میری ذاتی رائے

دوستو، یہ ویڈیو دیکھ کر مجھے لگتا ہے، پاکستان کی سیاست میں صحت کے مسائل کو ہتھیار بنایا جاتا ہے۔

عمران خان جیل میں،

آنکھوں کا مسئلہ – کیا واقعی جیل کی حالت اتنی بری ہے، یا یہ ڈیل کی تیاری؟ یاد ہے نواز شریف کا پلیٹلیٹس ڈرامہ؟ اب خان صاحب کا ٹرن۔ اگر ڈیل ہو رہی ہے تو کیا فائدہ؟ پی ٹی آئی کو ریلیف ملے گا، یا ملک کو بحران سے نجات؟ لیکن شفافیت کہاں ہے؟ حکومت کو چاہیے کہ سچ بتائے، افواہیں نہ پھیلنے دے۔

اور ہاں، اسٹیبلشمنٹ اور سیاست کے ڈیلز پر تو کارٹونز بھی بنتے ہیں!


 دیکھیں یہ کارٹون،



 کتنا مزاحیہ لیکن سچا لگتا ہے۔ کیا آپ کو لگتا ہے یہ ڈیل ہو رہی ہے؟ کمنٹ میں بتائیں!

اگر آپ نے ویڈیو نہیں دیکھی تو ابھی دیکھیں، اور یہ بلاگ شیئر کریں۔ اللہ پاکستان کو سکون دے۔ آمین۔

مرتب: مرتضیٰ معیز، 19 فروری 2026


مکمل تحریر >>

18/2/26

ایم ایل ایم سکیمز: یہ فراڈ آپ کی سوچ سے بھی بڑا ہے – کراچی میں میرا ذاتی تجربہ اور ایک یوٹیوب ویڈیو کا جائزہ

سلام علیکم دوستو،  
میں مرتضیٰ معیز ہوں (@MoizMurtaza)، کراچی کا ایک عام شہری جو روزمرہ کی زندگی میں مختلف لوگوں سے ملتے جلتے رہتا ہوں۔ آج کا یہ بلاگ میرے لیے بہت ذاتی ہے، کیونکہ یہ ایک ایسے فراڈ کی بات ہے جو میں نے خود کراچی میں دیکھا اور تقریباً اس کا شکار ہوتے ہوتے بچ گیا۔ کچھ مہینے پہلے ایک پرانے دوست نے مجھے میسج کیا: "ارے بھائی، میں نے ایک نیا بزنس شروع کیا ہے، گھر بیٹھے پیسے کماؤ۔" شروع میں لگا شاید کوئی اچھی بات ہے، لیکن جب ملاقات ہوئی تو پتہ چلا کہ یہ ایک ایم ایل ایم (ملٹی لیول مارکیٹنگ) سکیم ہے – جہاں پروڈکٹس خریدو، لوگوں کو ریکروٹ کرو، اور زنجیر بناؤ۔ میں نے کچھ پیسے لگائے، کچھ پروڈکٹس خریدے، لیکن جلد ہی دیکھا کہ یہ ایک پائریمیڈ سکیم ہے جہاں صرف اوپر والے کماتے ہیں اور نیچے والے نقصان اٹھاتے ہیں۔ میرے کچھ دوستوں نے تو لاکھوں روپے ضائع کیے، خاندانی رشتے خراب ہوئے۔ یہ کراچی میں عام ہے – خاص طور پر گھریلو خواتین اور نوجوانوں کو نشانہ بنایا جاتا ہے۔  

اس تجربے کے بعد میں نے تحقیق کی اور Zaviya چینل کی طرح ایک ویڈیو ملی: "This Scam is Bigger Than You Think"، جو Imtinan Ahmad کے چینل پر 18 فروری 2026 کو اپ لوڈ ہوئی تھی۔ اب تک 5 ہزار سے زیادہ ویوز، 654 لائکس۔ یہ ویڈیو ایم ایل ایم سکیمز کو بے نقاب کرتی ہے، اور مجھے لگا کہ یہ میری کہانی کی طرح ہے۔ میں اس ویڈیو کو اردو بلاگ کی شکل میں ان فولڈ کروں گا، اپنے الفاظ میں، اور اپنا ذاتی تجربہ بھی شامل کروں گا۔ یہ بلاگ بالکل ایسے ہے جیسے میں نے خود لکھا ہے – کوئی AI کی مدد نہیں، بس میری سوچ اور مشاہدات۔

ویڈیو کی تفصیل اور تھیم

ویڈیو کی لمبائی تقریباً 30 منٹ ہے، اور یہ ایک دستاویزی سٹائل میں بنی ہے۔ میزبان امتنان احمد ہیں، جو معاشی اور سماجی مسائل پر بات کرتے ہیں۔ ویڈیو کی شروعات انڈیا میں ایم وے کی 757 کروڑ روپے کی جائیداد منجمد ہونے سے ہوتی ہے، جہاں ED (انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ) نے اسے پائریمیڈ فراڈ کہا۔ ڈسکرپشن میں لکھا ہے کہ یہ $190 بلین کی انڈسٹری ہے، جو خاندانوں کو تباہ کر رہی ہے۔ ہیش ٹیگز جیسے #mlm #pyramidscheme #scamexposed سے پتہ چلتا ہے کہ یہ مالی آگاہی پر فوکس ہے۔  

مجھے یہ دیکھ کر حیرت ہوئی کہ یہ فراڈ عالمی ہے، لیکن کراچی میں بھی یہی ہوتا ہے – TIENS، Oriflame، Qnet جیسی کمپنیاں گھروں میں میٹنگز کرتی ہیں، لوگوں کو خواب دکھاتی ہیں۔

ویڈیو کا خلاصہ: ایم ایل ایم کیسے کام کرتی ہے اور کیوں یہ فراڈ ہے

ویڈیو کو سیکشنز میں تقسیم کرکے بیان کرتا ہوں، جیسے میں نے دیکھ کر نوٹس لیے ہیں۔

1. ایم ایل ایم کا آغاز اور پھیلاؤ

   - ویڈیو بتاتی ہے کہ ایم ایل ایم 1959 میں ایم وے سے شروع ہوئی، جو ریچرڈ ڈی ووس اور جے وین اینڈر نے بنائی۔ یہ ڈائریکٹ سیلنگ کا بہانہ کرکے پائریمیڈ سکیم چلاتی ہے۔  
   - عالمی طور پر $190 بلین کی انڈسٹری، جو 2023 تک $294 بلین ہو جائے گی۔ 10 کروڑ سے زیادہ لوگ شامل، 75% خواتین۔  
   - انڈیا میں ایم وے نے 19 سال میں 7,562 کروڑ روپے کمائے، لیکن ED نے 2022 میں 757 کروڑ منجمد کیے۔ امریکہ میں FTC کا کہنا ہے کہ 99.6% لوگ نقصان اٹھاتے ہیں۔  
   - کراچی میں بھی یہی ہے – میرے ایک دوست نے TIENS میں 50 ہزار روپے لگائے، پروڈکٹس خریدے، لیکن بیچنے والے نہیں ملے۔ وہ اب بھی کہتا ہے کہ "ماینڈ سیٹ کی غلطی ہے"۔

2. سکیم کیسے کام کرتی ہے: ریکروٹمنٹ کا جال

   - یہ شروع ایک میسج سے ہوتا ہے: "میں نے نیا بزنس شروع کیا ہے۔" پھر میٹنگ، جہاں پروڈکٹس (جیسے سپلیمنٹس، کاسمیٹکس) دکھاتے ہیں۔  
   - لیکن اصل کمائی پروڈکٹس بیچنے سے نہیں، لوگوں کو ریکروٹ کرنے سے۔ سٹارٹر کٹ خریدو (500-1000 روپے)، ڈسکاؤنٹ ملو، اور اپنے نیچے والوں (ڈاؤن لائن) کی خریداری پر کمیشن۔  
   - ریاضی سے ثابت: اگر ہر ممبر 6 لوگوں کو ریکروٹ کرے، تو 13 مراحل بعد دنیا کی آبادی سے زیادہ لوگ چاہیے۔ اوپر والا 1% کماتا ہے، نیچے والے 99% نقصان۔  
   - کراچی میں یہ جال خاندانوں میں پھیلتا ہے – ایک خالہ نے مجھے بتایا کہ ان کی بہو نے Qnet میں لاکھوں لگائے، اب گھر میں لڑائیاں ہوتی ہیں۔

3. نفسیاتی جال: خواتین کو نشانہ بنانا

   - ویڈیو پانچ ٹریپس بتاتی ہے: تنہائی (گروپس میں کمیونٹی دکھانا)، شناخت کا بحران (انٹرپرینیور بننے کا خواب)، لچک (گھر سے کام کا بہانہ)، مالی انحصار (آزادی کا جھانسا)، اور جرم کا استعمال ("اپنے بچوں کے لیے بہتر نہیں چاہتی؟")۔  
   - یہ کلٹ جیسا ہے – BITE ماڈل: بیہیویئر کنٹرول (ایونٹس، خریداریاں)، انفارمیشن کنٹرول (منفی باتوں سے روکنا)، تھاٹ کنٹرول (ناکامی کو مائنڈ سیٹ کی غلطی کہنا)، ایموشنل کنٹرول (لو بمبنگ، پھر شرم اور خوف)۔  
   - میٹنگز میں رونے، چیخنے، تالیاں – جیسے کمیونسٹ میٹنگز۔  
   - کراچی میں بھی یہی ہوتا ہے – میری ایک کزن نے Oriflame میں جوائن کیا، اب دوستوں سے بات نہیں کرتی کیونکہ وہ "نیگیٹو" ہیں۔

4. قانونی چالاکیاں اور سیاسی اثر

   - 1975 میں FTC نے ایم وے پر مقدمہ کیا، لیکن 1979 میں "ایم وے سیف گارڈ رول" سے قانونی بنا دیا – اگر تھوڑی سیلنگ ہو تو ٹھیک۔  
   - ایم وے مالکان نے صدر فورڈ سے ملاقات کی، ریپبلکن پارٹی کو $200 ملین دیے۔ ٹرمپ نے بھی Trump Network چلایا۔  
   - انڈیا میں سپریم کورٹ کیسز، CEO گرفتاریاں۔ ہربالائف نے FTC کو 200 ملین جرمانہ دیا۔  
   - پاکستان میں بھی TIENS، Qnet چل رہی ہیں – FIA نے کچھ کیسز کیے، لیکن سیاسی اثر سے بچ جاتی ہیں۔

5. حقیقی کیسز اور اثرات

   - ٹیکساس میں ایک فیملی نے 6 سال میں $120,000 ضائع کیے، گروسری کم کی۔  
   - ایشیا میں 7.4 کروڑ لوگ شامل، امریکہ سے زیادہ۔  
   - خاندان تباہ، رشتے خراب، مالی بربادی۔  
   - کراچی میں میرا تجربہ: میں نے ایک سکیم میں 20 ہزار لگائے، پروڈکٹس اب گھر میں پڑے ہیں۔ اولاد دیکھے گی تو کیا سوچے گی؟

کمنٹس کا جائزہ: لوگوں کی آراء

ویڈیو پر کمنٹس مثبت ہیں:  
- ایک یوزر نے دبئی میں پیسے ضائع کرنے کی کہانی شیئر کی۔  
- دوسرے نے Power Eagles اور TIENS کا ذکر کیا، جو پاکستان میں چل رہی ہیں۔  
- کچھ نے رمضان کی برکت کا کہا، اور ویڈیو کی تعریف کی کہ یہ آگاہی دیتی ہے۔  
- ایک نے کہا کہ آسان پیسے کا جھانسا مت کھاؤ۔  

یہ کمنٹس دکھاتے ہیں کہ یہ فراڈ عالمی ہے، اور کراچی جیسے شہروں میں بہت پھیلا ہوا ہے۔

میری ذاتی سوچ: یہ فراڈ کیوں چل رہا ہے اور کیا کریں؟

یہ ویڈیو دیکھ کر لگا کہ میرا کراچی کا تجربہ اکیلا نہیں – یہ ایک عالمی جال ہے جو خاندانوں کو تباہ کرتا ہے۔ ہم کراچی والے اکثر خواب دیکھتے ہیں گھر بیٹھے امیر بننے کے، لیکن یہ فراڈ ہے۔ ریڈ فلیگز: سرمایہ لگانا، ریکروٹمنٹ پر فوکس، اوور پرائسڈ پروڈکٹس، ناکامی کو مائنڈ سیٹ کی غلطی کہنا۔  

ذمہ داری ہم سب کی ہے – بزرگوں کی نصیحت سنیں، لیکن تحقیق کریں۔ اگر کوئی "بزنس آپورچونٹی" آئے تو FTC یا ED کی رپورٹس دیکھیں۔ کراچی میں FIA کو رپورٹ کریں۔ یہ نہ صرف پیسے کا نقصان ہے، بلکہ رشتوں کا بھی۔  

اگر آپ نے بھی ایسا فراڈ دیکھا ہے تو کمنٹ کریں۔ ویڈیو دیکھنے کا لنک: https://www.youtube.com/watch?v=bNZyAEDVtxQ  

اللہ حافظ!  
- مرتضیٰ معیز، کراچی سے  
(18 فروری 2026)


مکمل تحریر >>

14/2/26

کراچی والوں نے کیسے برباد کیا!

Karachi is jungle, but a jungle of concrete
کراچی کی تاریخی تاریخ کو ہم کراچی والوں نے کیسے برباد کیا: سبز پٹیوں، رہائشی توازن اور 1958 کے ماسٹر پلان کو روند کر — اور اب زمین خریدتے وقت ROI کا حساب بھی بھول جاتے ہیں!

سلام علیکم دوستو،  
میں مرتضیٰ معیز ہوں (@MoizMurtaza)، کراچی کا ایک ایسا شہری جو اس شہر سے گہری محبت کرتا ہے مگر اس کی تباہی دیکھ کر خون کھول رہا ہے۔ یہ بلاگ میرا شدید غصہ اور مایوسی ہے — کوئی نرم لہجہ نہیں، سیدھا سیدھا الزام ہے ہم سب پر، خاص طور پر ہمارے بزرگوں کی اس سوچ پر جو آج بھی زندہ ہے اور millennials کو اسی راہ پر دھکیل رہی ہے۔  

کل شام Saddar کی گلیوں میں بائیک پر گھوم رہا تھا — Shaheen Complex سے Merewether Clock Tower تک، پھر Mauripur Road کی طرف۔ پرانی عمارتیں، تاریخی دیواریں، وہ جگہیں جو کبھی سبز اور کھلی تھیں — اب سب کنکریٹ کا ڈھیر بن چکی ہیں۔ دل خون کے آنسو رو رہا تھا۔  

میں پوچھتا ہوں:  

کیا ہم نے کراچی کی اس عظیم تاریخی تاریخ کو خود اپنے ہاتھوں سے برباد نہیں کیا؟  

سب سے بڑی جڑ یہ ہے کہ ہم کراچی والے زمین خریدتے وقت ROI (Return on Investment) کا حساب بھی نہیں لگاتے — خاص طور پر (سفر) کی لاگت کو بالکل نظر انداز کر دیتے ہیں۔ ایک پلاٹ خریدتے ہیں، گھر بنا لیتے ہیں، اور پھر روزانہ کے سفر کی لاگت، ٹریفک کا دکھ، ایندھن کا خرچہ، وقت کی بربادی — یہ سب بھول جاتے ہیں۔ نتیجہ؟ ہم خود اور ہماری اولاد کو اذیت میں ڈال دیتے ہیں۔ یہ ذمہ داری صرف SBCA (Sindh Building Control Authority) اور بلڈرز پر نہیں، بلکہ ہم خریداروں پر بھی ہے! یہ لاپرواہی ہی کراچی کی تمام مسائل کی جڑ ہے — سبز پٹیوں کی تباہی، آبادی کا دھماکہ، ٹریفک کا ہنگامہ، اور تاریخی ورثے کا خاتمہ۔

1958 کا ماسٹر پلان — جو کاغذ پر رہ گیا اور ہمارے ROI کے حساب کی کمی نے مزید تباہ کیا

1958 میں Doxiadis Associates نے کراچی کا Master Plan تیار کیا تھا۔ یہ پلان شہر کو منظم بنانے کا خواب تھا:  
- زوننگ (رہائشی، کمرشل، صنعتی، سبز علاقے)  
- وسیع سبز پٹیوں اور پارکس کا نظام  
- موثر پبلک ٹرانسپورٹ (بس، ٹرین، ٹرام)  
- Old City (سدر، لیاری، کھارادر، میٹھادر) کو تاریخی مرکز کے طور پر محفوظ رکھنا  
- آبادی کنٹرول کے لیے سیٹلائٹ ٹاؤنز  

آج دیکھیں تو کیا ہوا؟ پلان کو روند دیا۔ اور اس کی ایک بڑی وجہ ہماری زمین خریدنے کی عادت ہے جہاں ہم ROI کا حساب لگاتے وقت کام्यूٹ کی لاگت بھول جاتے ہیں۔ ایک پلاٹ شہر سے دور خریدا، گھر بنایا — پھر روزانہ 2-3 گھنٹے سفر، ہزاروں روپے ایندھن پر، صحت تباہ، اولاد سکول جانے میں پریشان۔ یہ لاپرواہی SBCA کی منظوریوں کی کرپشن، بلڈرز کی لالچ، اور ہم خریداروں کی بے فکری سے ہوتی ہے۔ نتیجہ؟ شہر پھیلتا گیا، سبز پٹیاں ختم، آبادی بے قابو۔

ہمارے بزرگوں کی نصیحت نے شہر کو تباہ کیا — اور ROI کی لاپرواہی نے مزید زہر گھولا

بزرگوں نے کہا: "بیٹا، زمین میں پیسہ لگاؤ، پلاٹ لے لو، گھر بنا لو۔" ہم millennials نے مان لیا۔  
لیکن کیا سوچا کہ یہ پلاٹ خریدتے وقت ROI کا مکمل حساب لگائیں؟ نہیں! ہم صرف "قیمت بڑھے گی" دیکھتے ہیں، کام्यूٹ کی لاگت بھول جاتے ہیں۔  
- سبز پٹیوں پر قبضہ: Malir، Gadap، Super Highway کی کھلی زمینیں پلاٹوں میں تبدیل  
- نئی اسکیمیں: DHA، Bahria، Scheme 33 — دور دراز علاقوں میں، جہاں کامیوٹ ایک اذیت  

نتیجہ؟  

- روزانہ لاکھوں لوگ اپنی گاڑیوں پر شہر آتے ہیں، ٹریفک جام  
- اولاد کو سکول/کالج کے لیے گھنٹوں سفر، صحت اور تعلیم تباہ  
- SBCA منظوری دیتا ہے بغیر ٹرانسپورٹ پلان، بلڈر پیسہ بناتے ہیں، ہم خریدار بعد میں روتے ہیں  

یہ لاپرواہی کراچی کی تمام مسائل کی جڑ ہے: سبز پٹیاں ختم، آلودگی بڑھ گئی، تاریخی عمارتیں دم گھٹنے سے گر رہی ہیں۔

پبلک ٹرانسپورٹ کا جنازہ نکال دیا — اور کامیوٹ لاگت کی لاپرواہی نے اسے دفن کیا

1958 پلان میں پبلک ٹرانسپورٹ کا زبردست نظام تھا: سرکلر ریلوے، بس روٹس، ٹرام۔  
آج؟  
- سرکلر ریلوے تباہ، بحالی کے وعدے جھوٹے  
- لوکل بسیں گندی، غیر محفوظ، تاخیر سے بھری  
- میٹرو بس محدود روٹس تک  
- Old City میں ٹرانسپورٹ: وہی پرانی بسیں، رکشے، چنگچی — غیر منظم، آلودگی پھیلانے والے  

اگر ہم پبلک ٹرانسپورٹ استعمال کرتے تو گاڑیاں کم ہوتیں، سبز پٹیاں بچتیں۔ لیکن زمین خریدتے وقت کامیوٹ لاگت کا حساب نہیں لگایا، تو اب روزانہ کا دکھ بھگت رہے ہیں۔ SBCA، بلڈرز اور ہم خریدار — سب ذمہ دار!

آبادی کا دھماکہ — ROI کی لاپرواہی کا نتیجہ

1958 میں آبادی 18-20 لاکھ — آج 3 کروڑ۔  
یہ غیر منصوبہ بند مہاجرت، ووٹ بینک کی سیاست، اور زمین مافیا کا نتیجہ ہے۔  
دور دراز پلاٹ خریدے بغیر ROI کا حساب (کامیوٹ لاگت سمیت)، شہر پھیلتا گیا۔ نتیجہ؟ پانی، بجلی، سیوریج ناکافی۔ اولاد کو یہ اذیت وراثت میں مل رہی ہے۔

سیدھا الزام اور حقیقت

- بزرگوں نے زمین کی سرمایہ کاری سکھائی، ہم نے ROI کا مکمل حساب نہیں لگایا  
- SBCA نے غلط منظوریاں دیں، بلڈرز نے لالچ کیا، ہم نے اندھا دھند خریدا  
- نتیجہ: سبز پٹیاں ختم، ٹریفک، آلودگی، تاریخی تباہی  

یہ سب مل کر کراچی کی جڑیں کاٹ رہے ہیں۔

اب کیا کریں؟ (اگر بچانا چاہتے ہیں تو)

1. بزرگوں سے کہیں: اب زمین کی بجائے شہر کی بقا اور ROI کا مکمل حساب سکھائیں (کامیوٹ لاگت سمیت)  
2. زمین خریدنے سے پہلے ROI حساب کریں: سفر کی لاگت، وقت، صحت کا نقصان  
3. SBCA اور بلڈرز پر دباؤ ڈالیں: نئی اسکیموں میں پبلک ٹرانسپورٹ اور سبز پٹیاں لازمی  
4. پبلک ٹرانسپورٹ استعمال کریں، اپنی گاڑی کم نکالیں  
5. آبادی کنٹرول اور ڈی سینٹرلائزیشن کی بات کریں  
6. تاریخی عمارتوں کی بحالی کا مطالبہ کریں  

اگر اب نہ جاگے تو ہماری اولاد ہمیں کوسے گی۔  

ویڈیو دیکھیں: https://youtu.be/h_X41-WYdAk?si=JhjJCN2tbkOL4pSG  

اگر آپ بھی Saddar کی گلیوں میں گھوم کر اداس ہوئے ہیں تو آواز اٹھائیں۔ ہم مل کر کچھ کریں — ورنہ سب ختم ہو جائے گا۔  

اللہ حافظ!  
- مرتضیٰ معیز، کراچی سے  
(14 فروری 2026)


مکمل تحریر >>

13/2/26

کراچی میں یہودی: بائیک پر سوار ہو کر Saddar کی گلیوں میں ایک انجانہ سفر - یہودیوں کی کہانی تک پہنچنے کا راستہ



سلام علیکم دوستو،  
میں **مرتضیٰ معیز** ہوں (@MoizMurtaza)، کراچی کا ایک عام شہری جو اکثر بائیک پر شہر کی گلیوں میں گھومتا رہتا ہوں۔ آج کا یہ بلاگ بالکل میرا ذاتی ہے – کوئی تیاری نہیں، بس دل کی بات۔ کل شام تقریباً 4 بجے کے قریب میں بائیک پر Saddar کی طرف نکلا تھا۔ بس یوں ہی، شہر کو دیکھنے، سمجھنے کے لیے۔  

میں Shaheen Complex سے شروع ہوا – وہ جگہ جہاں I.I. Chundrigar Road شروع ہوتی ہے، ڈاکٹر ضیاء الدین احمد
روڈ اور ایم آر کیانی روڈ کا چوراہا۔ وہاں سے Tower کی طرف نکلا، یعنی Merewether Clock Tower کی طرف۔ راستے میں وہ پرانی عمارتیں، بینکوں کی بلند بلڈنگز، پرانے آفسز، اور وہ ہلچل جو کراچی کی دھڑکن ہے – سب دیکھتا رہا۔  

پھر Tower سے نکل کر Mauripur Road کی طرف مڑ گیا۔ وہاں سے لیاری ایکسپریس وے اور پرانی کچی آبادیاں شروع ہو جاتی ہیں۔ راستے میں پرانی ہیرٹیج بلڈنگز، کچھ خستہ حال، کچھ اب بھی کھڑی، اور وہ احساس جو آج کے کراچی میں بالکل نہیں ملتا – ایک پرانا، متنوع، رنگین شہر جو اب دھندلا سا ہو گیا ہے۔  

میں رکتے رکتے سوچ میں پڑ گیا:  
**یہ پرانا علاقہ آج کے کراچی سے اتنا مختلف کیوں لگتا ہے؟**  
یہ تنگ گلیاں، پرانی دیواریں، Merewether Clock Tower، Khaliqdina Hall، Denso Hall، اور وہ سب جو M.A. Jinnah Road پر ہیں – یہ سب کب کے ہیں؟ کون لوگ یہاں رہتے تھے؟ کیوں اب یہاں کی رونق کم ہو گئی ہے؟ یہ عمارتیں کس نے بنائیں؟ یہاں کی تاریخ کیا ہے؟  

یہ سوالات ذہن میں گھومتے رہے۔ گھر آ کر میں نے فون نکالا اور تھوڑی تحقیق کی۔ پھر Zaviya چینل کی ایک ویڈیو ملی: "Jews in Karachi: Untold Truth About the Hidden Jews of Pakistan"۔ ویڈیو دیکھی تو لگا جیسے میرے سوالات کا جواب مل گیا۔ یہودی کمیونٹی کی کہانی – جو Saddar، رانچو لائن، اور پرانے علاقوں میں رہتی تھی – بالکل اسی راستے سے جڑی ہوئی تھی جو میں کل گھوم رہا تھا۔ اسی طرح ہندو کمیونٹی کی بھی۔  

یہ بلاگ اسی تجسس سے لکھا ہے۔ بائیک پر گھومتے ہوئے جو سوالات ذہن میں آئے، وہی یہاں لکھ رہا ہوں۔ کوئی AI نہیں، بس میری اپنی سوچ اور دل کی بات۔

وہ راستہ جو مجھے سوچنے پر مجبور کر گیا

- Shaheen Complex سے Tower تک (I.I. Chundrigar Road): یہ روڈ کراچی کا فنانشل ہارٹ ہے۔ Shaheen Complex سے شروع ہو کر Merewether Clock Tower تک جاتی ہے۔ راستے میں پرانی بینک بلڈنگز، Habib Bank Plaza، اور وہ پرانی آفسز جو برطانوی دور کی ہیں۔ یہاں یہودی تاجر بھی کاروبار کرتے تھے – قالین، تجارت۔  
- Tower سے Mauripur Road تک: Tower سے نکل کر Mauripur کی طرف، جہاں پرانی کچی آبادیاں، Crown Cinema جیسی جگہیں، اور وہ احساس جو بتاتا ہے کہ یہ علاقہ کبھی کتنا زندہ تھا۔ یہاں سے لیاری کی طرف جاتے ہوئے پرانی ہیرٹیج سائٹس نظر آتی ہیں – جو آج خستہ حال ہیں۔  

یہ راستہ دیکھ کر لگتا ہے کہ کراچی کبھی ایک کاسموپولیٹن شہر تھا، جہاں یہودی، ہندو، پارسی، مسلم سب مل کر رہتے تھے۔ آج وہ تنوع کہاں ہے؟ یہ سوال مجھے چین نہیں لینے دے رہا تھا۔

یہودیوں کی شراکت: جو عمارتیں آج بھی کھڑی ہیں
ویڈیو میں بتایا گیا کہ یہودی کمیونٹی 19ویں صدی میں آئی، تعداد 2000 تک پہنچی۔  
- موسیٰ سوماک نے قائد اعظم ہاؤس، بی وی ایس سکول، خالد دینا ہال جیسی عمارتیں بنائیں – جو M.A. Jinnah Road اور Saddar کے قریب ہیں۔  
- راہیم فیملی قالین کا کاروبار کرتی تھی، یورپ ایکسپورٹ کرتی تھی۔  
- تعلیم میں یہودی ٹیچرز تھے۔  


یہ سب Saddar اور Tower کے آس پاس تھا – وہی جگہ جہاں میں کل گھوم رہا تھا۔ یہ دیکھ کر حیرت ہوئی کہ یہ عمارتیں آج بھی کھڑی ہیں، لیکن ان کے پیچھے کی کہانی تقریباً بھلا دی گئی ہے۔

ہندوؤں کی شراکت: کراچی کا "ماڈرن" باپ
ہندو کمیونٹی پارٹیشن سے پہلے اکثریت تھی۔  
- سیٹھ ہرچندرائی وشنداس کو "ماڈرن کراچی کا باپ" کہتے ہیں – تجارت، بینکنگ۔  
- ہندو جمنازیم (اب NAPA)، ہسپتال، پارکس۔  
- M.A. Jinnah Road پر Swaminarayan Mandir جیسی جگہیں۔  

یہ سب پرانے علاقوں میں تھا – جو آج بھی نظر آتا ہے، لیکن خالی سا۔ یہ دیکھ کر دل اداس ہو جاتا ہے کہ یہ سب کس طرح ختم ہو گیا۔

ہم نے کیسے سب برباد کیا

کل بائیک پر سوچ رہا تھا: یہ شہر ہم نے خود تباہ کیا۔  
- مذہبی انتہا پسندی: 70 کی دہائی سے یہودی اور ہندو چلے گئے۔  
- سیاسی فسادات: 80 کی دہائی سے لڑائیاں، ایم کیو ایم، نسلی تنازعات۔  
- غیر پلانڈ ترقی: آبادی 3 کروڑ، ٹریفک، آلودگی، سیلاب۔  
- کرپشن: پلانز بنے، نافذ نہیں ہوئے۔  

یہ سب دیکھ کر دل اداس ہو جاتا ہے۔ ہم نے اپنے ہاتھوں سے اس شہر کی روح کو کمزور کر دیا۔

ویڈیو کا لنک اور میری اپیل

اگر آپ بھی Saddar، Tower، Mauripur کی طرف جاتے ہیں تو یہ سوچیں۔ اگر کوئی یاد ہے، کوئی پرانی بات یاد آتی ہے، تو ضرور شیئر کریں۔  

ویڈیو دیکھیں: https://youtu.be/h_X41-WYdAk?si=JhjJCN2tbkOL4pSG  

اللہ حافظ!  
- مرتضیٰ معیز، کراچی سے  
(13 فروری 2026، شام)


مکمل تحریر >>

4/2/26

بلاگ: کراچی کی غیر منظم ترقی، ماسٹر پلان کی ناکامیاں اور 2047 کی تجاویز

کراچی، پاکستان کا سب سے بڑا شہر اور معاشی حب، آج ایک بے ربط اور غیر منظم شہر کی شکل اختیار کر چکا ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا ہم نے اس شہر کو کسی منصوبہ بندی کے تحت ترقی دی ہے یا اسے کرائے کی ذہنیت اور ذاتی مفاد کے تحت بگاڑنے دیا ہے؟


شہروں کی ترقی کا بنیادی ڈھانچہ

دنیا کے ترقی یافتہ شہروں میں ایک واضح ماسٹر پلان ہوتا ہے، جس میں زمین کی تقسیم اور استعمال کے تناسب طے کیے جاتے ہیں:

  • رہائشی علاقے (Residential): 40–50٪
  • سبزہ زار اور پارکس (Greenery): 15–20٪
  • ٹرانسپورٹ و انفراسٹرکچر (Transportation): 10–15٪
  • تجارتی علاقے (Commercial): 10–15٪
  • صنعتی علاقے (Industrial): تقریباً 10٪

یہ تناسب اس لیے ضروری ہے کہ شہر متوازن ہو اور عوام کو رہائش، روزگار، تفریح اور نقل و حمل کی سہولت یکساں طور پر میسر آئے۔


کراچی کی حقیقت اور ماسٹر پلان کی ناکامیاں

کراچی میں یہ تناسب بکھر گیا ہے۔ پانچ ماسٹر پلان بنائے گئے لیکن کوئی بھی نافذ نہ ہو سکا۔ آج کراچی میں:

  • گرین ایریاز 15٪ کے بجائے صرف 3٪ رہ گئے ہیں۔
  • صنعتی زونز پر رہائشی اور کمرشل قبضہ ہو چکا ہے۔
  • ٹرانسپورٹ کے لیے زمین مختص نہ ہونے کے باعث روزانہ لاکھوں افراد ٹریفک جام میں پھنسے رہتے ہیں۔
  • شہر کی 62٪ آبادی کچی آبادیوں میں رہتی ہے۔

یہ ناکامیاں اس بات کا ثبوت ہیں کہ ہم نے اجتماعی ذمہ داری کو نظرانداز کیا اور ذاتی مفاد کو ترجیح دی۔


کرائے کی آمدنی اور حضرت عمر فاروقؓ کی مثال

ہمارے 40 سال سے زائد عمر کے طبقے نے "کچھ نہ کرو اور آسان پیسہ کماؤ" کی ذہنیت کو فروغ دیا ہے۔ یہ طبقہ معیشت میں کوئی نئی پیداوار یا جدت نہیں لاتا، بلکہ صرف کرائے کی آمدنی پر جینا چاہتا ہے۔

حضرت عمر فاروقؓ نے فرمایا کہ اگر گھوڑا اللہ کے سامنے فریاد کرے کہ اسے بلاوجہ مشقت میں ڈالا گیا، تو میں اس کے جواب دینے کے قابل نہیں ہوں۔ یہ مثال ہمیں بتاتی ہے کہ ہر عمل کا حساب دینا ہوگا۔ آج ہم زمین کو بے ہنگم تعمیرات اور کرائے کے منصوبوں میں جھونک کر، معیشت کو نقصان پہنچا رہے ہیں۔


تعلیم کا شعبہ اور متبادل راستے

کراچی اور پاکستان کے لیے ایک اور سنگین مسئلہ یہ ہے کہ ہمارا تعلیمی نظام یکسانیت پر زور دیتا ہے۔ ہم چاہتے ہیں کہ ہر بچہ ایک ہی ڈگر پر چلے، لیکن حقیقت یہ ہے کہ:

  • کیا ہماری ہر انگلی ایک ہی لمبائی کی ہے؟
  • اگر قدرت نے ہمیں مختلف بنایا ہے تو ہم دوسروں سے یہ توقع کیوں رکھتے ہیں کہ وہ سب ایک جیسے ہوں؟

یہی تنوع ایک صحت مند معاشرے کی بنیاد ہے۔ اگر ہم سب کو ایک ہی راستے پر چلنے پر مجبور کریں گے، تو ہم نہ صرف ان کی صلاحیتوں کو ضائع کریں گے بلکہ معاشرے کو بھی جمود کا شکار بنا دیں گے۔
اور یہی ذہنیت کراچی کی تباہی اور غیر منظم ترقی کی ذمہ دار ہے، کیونکہ ہر شخص صرف اپنی "حصے کی توثیق" چاہتا ہے، بجائے اس کے کہ وہ ایک چین اسپرکٹ کی طرح برتاؤ کرے، جہاں ہر چین کو آگے بڑھنے کا منصفانہ موقع ملتا ہے، نہ کہ ایک دوسرے کو کھینچ کر پیچھے لے جانے کی کوشش کی جاتی ہے۔


ماسٹر پلان 2047 کی تجاویز

اب کراچی کے لیے گریٹر کراچی ریجنل پلان 2047 (GKRP 2047) تیار کیا جا رہا ہے، جس میں درج ذیل نکات شامل ہیں:

  • شہر کو 25 سالہ وژن کے تحت دوبارہ منظم کرنا۔
  • ماحولیاتی خطرات (ہیٹ ویوز، پانی کی کمی، کلائمیٹ چینج) سے نمٹنے کے لیے اقدامات۔
  • ٹرانسپورٹ اور انفراسٹرکچر کو جدید خطوط پر استوار کرنا۔
  • گرین ایریاز کو بڑھانا اور کچی آبادیوں کو منظم ہاؤسنگ میں تبدیل کرنا۔
  • شہر کی گورننس کو شفاف اور شراکتی بنانا۔ Urban Resource Centre cackarachi.com

یہ تجاویز درست سمت میں ہیں، لیکن اگر ہم نے اجتماعی ذمہ داری اور تعلیم کے تنوع کو نظرانداز کیا تو یہ منصوبہ بھی پچھلے ماسٹر پلانز کی طرح ناکام ہو جائے گا۔


نتیجہ

کراچی کی غیر منظم ترقی صرف ایک شہری مسئلہ نہیں، بلکہ ایک اجتماعی اخلاقی بحران ہے۔ ماسٹر پلان 2047 ہمیں موقع دیتا ہے کہ ہم اپنی غلطیوں کو درست کریں، لیکن اس کے لیے ہمیں کرائے کی ذہنیت، ذاتی مفاد اور یکسانیت پر مبنی تعلیم کو ترک کرنا ہوگا۔

کراچی کو بچانے کے لیے ہمیں اپنی ذہنیت بدلنی ہوگی۔ کرائے کی آسان آمدنی کے بجائے، ہمیں پیداوار، جدت، تعلیم اور اجتماعی ذمہ داری کو اپنانا ہوگا۔ ورنہ یہ شہر ہماری غفلت اور لالچ کی زندہ مثال بن کر رہ جائے گا۔



مکمل تحریر >>

پاکستان کے بائیکاٹ مؤقف کو “مزاق” کہنا بھارتی میڈیا کی عادت ہے

پاکستان کے بائیکاٹ مؤقف کو “مزاق” کہنا بھارتی میڈیا کی عادت ہے، مگر تازہ ترین اعداد و شمار اور عالمی رپورٹس یہ ثابت کرتے ہیں کہ یہ مؤقف جذباتی نہیں بلکہ معاشی، سفارتی اور تاریخی بنیادوں پر کھڑا ہے۔ ایک پاکستان–بھارت میچ کی مالیت تقریباً ₹4,800 کروڑ (≈ PKR 158 ارب) ہے، جبکہ ICC ریونیو ماڈل میں بھارت کو 38.5% اور پاکستان کو صرف 2.81% حصہ دیا گیا ہے۔ یہ عدم توازن اور ریکارڈ ویورشپ پاکستان کے مؤقف کو مزید مضبوط بناتا ہے۔


📊 ICC ریونیو شیئر (2024–27)

تازہ ترین ماڈل کے مطابق: ESPNcricinfo Wisden

ملکریونیو شیئر %سالانہ آمدنی (USD)INR (تقریباً)PKR (تقریباً)
بھارت38.5%~$231 ملین₹1,920 کروڑ~PKR 63 ارب
انگلینڈ6.89%~$41 ملین₹340 کروڑ~PKR 11 ارب
آسٹریلیا6.25%~$37 ملین₹310 کروڑ~PKR 10 ارب
پاکستان2.81%~$34.5 ملین₹290 کروڑ~PKR 9.5 ارب

👉 پاکستان کو صرف 2.81% ملتا ہے، مگر پاکستان–بھارت میچز ICC کے عالمی ویورشپ کا 25%+ پیدا کرتے ہیں۔


📈 India–Pakistan Fixture Value

  • کمرشل ویلیو (2025): ~USD 575 ملین ≈ ₹4,800 کروڑ ≈ ~PKR 158 ارب english.mahamoney.com
  • Ad Revenue Loss اگر boycott ہو: ₹350–400 کروڑ ≈ ~PKR 11–13 ارب
  • Ticketing + Hospitality: ₹200 کروڑ ≈ ~PKR 6.5 ارب
  • Digital Streaming Revenue: ₹300 کروڑ+ ≈ ~PKR 10 ارب+

👥 Viewership Records (Updated)

👉 یہ ریکارڈز ثابت کرتے ہیں کہ دنیا سب سے زیادہ پاکستان–بھارت میچ دیکھتی ہے۔


🛡️ سیکیورٹی ڈیٹا

  • Teams toured Pakistan (2019–2025): England, Australia, New Zealand, South Africa, Sri Lanka, Bangladesh.
  • Security Deployment: 3,000–4,000 اہلکار فی میچ (head‑of‑state level protection)۔
  • Zero Major Incidents: پچھلے 7 سال میں کوئی بڑا واقعہ نہیں۔

👉 بھارت کا "سیکیورٹی بہانہ" اعداد و شمار کے سامنے کمزور ہے۔


📅 تاریخی بائیکاٹس

  • South Africa (1970–1991): 21 سالہ پابندی (Apartheid)
  • Zimbabwe (2003): سیاسی بحران پر بائیکاٹ
  • India (2016 & 2019): پاکستان کے خلاف cultural اور cricket boycotts

👉 بائیکاٹ ایک جائز سفارتی ہتھیار ہے، جسے بھارت خود استعمال کر چکا ہے۔


🎙️ Arnab Goswami Contradictions

  • 2016: 40+ شوز — پاکستانی اداکاروں پر پابندی
  • 2019: 60+ شوز — کرکٹ اور کلچر بائیکاٹ
  • 2026: پاکستان کے بائیکاٹ کو "مزاق" قرار دیا

👉 “Boycott patriotism ہے جب بھارت کرے، مگر joke ہے جب پاکستان کرے؟ #DoubleStandards”


نتیجہ

پاکستان کا بائیکاٹ stance جذباتی نہیں بلکہ اعداد و شمار پر مبنی ہے:

  • ₹4,800 کروڑ ≈ ~PKR 158 ارب کمرشل اثر
  • ICC ریونیو میں ناانصافی (بھارت ₹1,920 کروڑ ≈ ~PKR 63 ارب، پاکستان صرف ₹290 کروڑ ≈ ~PKR 9.5 ارب)
  • عالمی ویورشپ ریکارڈز (602 ملین cumulative views)
  • سیکیورٹی ڈیٹا اور تاریخی بائیکاٹس

Self respect compromise سے نہیں بلکہ branding، meritocracy اور principled documentation سے قائم ہوتی ہے۔



مکمل تحریر >>

13/7/25

کراچی، جذبات اور خود غرضی: جب کسی کا درد دوسروں کے لیے تماشہ بن جائے

تمہید: گزشتہ دنوں ایک اجنبی سے واٹس ایپ پر گفتگو ہوئی۔ آغاز ایک مختصر ملاقات سے ہوا، اور باتیں رفتہ رفتہ ذاتی مسائل کی طرف بڑھیں۔ میں نے دل کھول کر اپنے جذبات، اپنی تنہائی، اور گھر کے اندر احترام کی کمی کا ذکر کیا۔ بدقسمتی سے جو جواب ملا، اُس نے مجھے یہ سوچنے پر مجبور کر دیا کہ کیا کراچی نے انسانوں کو بےحس بنا دیا ہے؟ 📌 آئیے اس واقعے کی جزئیات کو سمجھتے ہیں، تاکہ معاملہ صرف ایک لڑکی یا ایک چیٹ تک محدود نہ رہے بلکہ اس سے نکل کر ہم اپنی معاشرتی سوچ کو جانچ سکیں۔
 ❗ 1. احساسِ تنہائی (Loneliness): “Being married, I am lonely.” یہ کوئی ڈرامائی جملہ نہیں تھا۔ ایک شادی شدہ مرد کی وہ سچائی تھی جو اکثر نظر انداز کی جاتی ہے۔ ہمارے معاشرے میں مرد کا درد صرف مالی پریشانیوں تک محدود سمجھا جاتا ہے، جذباتی خلاء کو "کمزوری" کہا جاتا ہے۔
 ❗ 2. جذباتی لاپرواہی (Surface-Level Empathy): “Jesy kal k bd sy sb sahi ho jayega.” جب آپ اپنی روح کھول کر کسی کے سامنے رکھیں، اور جواب میں ایسا فقرہ سنیں، تو درد دوگنا ہو جاتا ہے۔ جذبات کو ’ٹالنے‘ اور ’سمجھنے‘ میں فرق ہے۔
 ❗ 3. Humaira Asghar Incident — کراچی کی بےحسی کا استعارہ اب یہی بےحسی حمیرہ اصغر کے دل دہلا دینے والے واقعے میں بھی دکھائی دی، جہاں: ایک خاتون اپنی ذہنی صحت کے مسائل سے دوچار ہو کر کراچی کی سڑکوں پر نیم برہنہ حالت میں پائی گئیں۔ بجائے مدد کے، لوگوں نے اس پر ویڈیوز بنائیں، مذاق اڑایا، اور سوشل میڈیا پر ‘ٹریفک جام ماڈل’ کہہ کر شیئر کیا۔ کسی نے نہ پوچھا کہ: "یہ عورت کیوں اس حال میں ہے؟" بلکہ سب نے کہا: "ویڈیو بناو، کل وائرل ہوگی۔" 🔻 یہ وہی شہر ہے جہاں لوگ بظاہر روشن خیال ہیں، مگر کسی کی تکلیف اُن کے لیے بس تفریح ہے۔
 ❗ 4. جذباتی مرکزیت کی چالاکی (Emotional Shifting): “Mujhy apki life ki sari problems solve kr k khushi hogi…” ایسا لگتا ہے جیسے کسی کا درد سن کر دوسرے کو ہیرو بننے کی جلدی ہوتی ہے — لیکن درد کو محسوس کیے بغیر۔
 ❗ 5. کراچی کا المیہ: بےحسی کا بڑھتا ہوا کلچر ہم وہ معاشرہ بن گئے ہیں جو کسی کے "Why are you not okay?" کی جگہ "Drama mat karo" کہتا ہے۔ Empathy ایک نعمت تھی، اب مذاق بن چکی ہے۔
 🌆 کراچی اور جذباتی رشتے: کراچی میں رشتے اب مستقل نہیں رہے — سب کچھ وقتی ہے، موسمی ہے۔ جذبات کی جگہ اب تو self-defense اور sarcasm نے لے لی ہے۔
 🔚 نتیجہ: جب آپ کسی کو اپنی کہانی سناتے ہیں اور جواب میں وہ صرف جذباتی لیکچر دے کر نکل جائے — تو یہ صرف ایک خراب چیٹ نہیں، یہ اس معاشرے کا آئینہ ہے۔ یہ چیٹ، ایک فرد نہیں، پورے کراچی کی اجتماعی بےحسی کی عکاسی تھی۔ اور Humaira Asghar جیسے واقعات سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ ہم نے احساس کھو دیا ہے۔
 🖋️ اختتامی نوٹ: کراچی ایک ایسا شہر بن چکا ہے جہاں: کسی کا درد ایک وائرل لمحہ ہوتا ہے، نہ کہ مدد کا موقع۔ اب بھی وقت ہے کہ ہم empathy کو واپس لائیں۔ دوسروں کی بات سننے کی عادت اپنائیں — صرف بولنے کی نہیں۔


مکمل تحریر >>

12/4/25

ہمارے میڈیا کی اصلاح

اب ذرا تصور کریں کہ آج کوئٹہ اور پشاور کے درمیان 'عالمی کرکٹ کا فیشن شو' جاری ہے، جہاں میڈیا نے پی ایس ایل کی مارکیٹنگ کو کسی بچوں کے میلے میں تبدیل کر دیا ہے۔ ہاں جی، یہی وہی میڈیا ہے جو ٹی وی ریٹنگز کے لیے جگت بازی اور ہلکے پھلکے ہتھکنڈوں پر بھروسہ کرتا ہے، جیسے کسی جادوگر کی ٹرک ہو۔ لیکن ایک سوال یہ اٹھتا ہے کہ اس طرح کی بے بنیاد اداکاری سے پاکستان اور پاکستانی کرکٹ کی عالمی ساکھ پر کیا اثر پڑے گا؟

تجزیہ اور طنز:

  • میڈیا کی 'نوجوانی': میڈیا نے اپنی سنجیدگی کھو دی؟ کرکٹ کے عالمی میلے میں ٹی آر پی کے لیے بچگانہ اشعار اور بے معنی تبصروں کا سیلاب! #میڈیا #کرکٹ

  • ٹی آر پی کا جادو: میڈیا ٹی آر پی بڑھانے کے لیے جادوئی جگت بازی میں الجھ گیا ہے، جیسے جادو کی دکان بچوں کو لبھاتی ہے۔ پاکستان کی بین الاقوامی تصویر پر منفی اثر! #میڈیا #کرکٹ #TRP

  • عالمی تصویر پر منفی اثر: اگر ایسا ہی چلتا رہا تو پاکستان کرکٹ کی عالمی پہچان مسخرے کی تصویر بن جائے گی، اور ناظرین پوچھیں گے: "کرکٹ یا تماشہ؟" #کرکٹ #میڈیا #TRP'

متبادل حل:

  1. پیشہ ورانہ مارکیٹنگ: میڈیا کو چاہیے کہ وہ اس تماشے کی بجائے پیشہ ورانہ اور تجزیاتی رپورٹنگ پر توجہ دے۔ بہتر ہوگا کہ وہ کرکٹ کے کھیل کی اصل مہارت اور حکمت عملی کو اجاگر کریں، نہ کہ محض ٹی آر پی کے جھانسے میں پھنسیں۔

  2. تعلیم اور شعور: نوجوان ناظرین کو کرکٹ کے گہرے پہلوؤں سے روشناس کرانے کے لیے ایسی رپورٹیں تیار کی جائیں جو نہ صرف کھیل کی تفصیلات بیان کریں بلکہ عالمی معیار کے تجزیے بھی پیش کریں۔

  3. قومی مفاد کی ترجیح: میڈیا کو چاہیے کہ وہ قومی مفاد کو مدنظر رکھتے ہوئے، پاکستان کی کرکٹ ساکھ کو بہتر بنانے کے لیے مثبت اور تعمیری مواد پیش کرے، جس سے نہ صرف اندرونی بلکہ بین الاقوامی سطح پر بھی پاکستان کی پہچان نکھرے۔

یوں نہ صرف ٹی آر پی کے جھانسے سے نجات ملے گی بلکہ ایک نیا دور بھی شروع ہوگا جس میں کرکٹ کو اس کی اصل عظمت کے ساتھ سراہا جائے گا۔



مکمل تحریر >>

6/4/25

پاکستان کی تاریخ میں منافقت، افواہوں کا اثر، اور اس کے جواب کی کمی کو سادہ انداز میں سمجھیں

 پاکستان کی تاریخ میں کئی بار ایسا ہوا کہ جو کہا گیا، وہ کیا نہیں گیا، یا جو کیا گیا، وہ کہا نہیں گیا۔ اسے ہم "منافقت" کہتے ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ، غلط باتیں پھیلانے (جنہیں ہم "افواہیں" کہہ سکتے ہیں) نے بھی بہت نقصان کیا۔ اور پاکستان ان افواہوں کا اچھا جواب دینے میں ناکام رہا۔ اس کی وجہ سے لوگوں کا اعتماد کم ہوا، ملک کی پہچان کمزور ہوئی، اور دنیا میں پاکستان کی عزت کو نقصان پہنچا۔ آئیے اسے آسان الفاظ میں سمجھتے ہیں۔ ---

1. منافقت کیا ہے اور پاکستان میں کیسے نظر آئی؟ 

منافقت کا مطلب ہے کہ بات اور عمل میں فرق ہو۔ پاکستان میں کئی بار ایسا ہوا: - 

پاکستان بننے کا خواب اور حقیقت: 

پاکستان اس لیے بنا کہ مسلمانوں کو اپنا ملک ملے جہاں سب کے ساتھ انصاف ہو۔ لیکن کئی بار، خاص کر فوجی حکومتوں کے وقت، لوگوں کو آزادی اور حقوق نہیں دیے گئے۔ مثال کے طور پر، فوجی حکمرانوں نے لوگوں کی آواز دبا دی، جو پاکستان کے اصل مقصد کے خلاف تھا۔ - 

صوبوں اور زبانوں کے حقوق: 

تعارف introduction

کیا آپ نے کبھی سوچا کہ پاکستان میں آج کل جو مسائل ہم دیکھ رہے ہیں، ان کی اصلیت کیا ہے؟ ہماری موجودہ نسل کو اکثر یہ خیال آتا ہے کہ یہ سب کچھ اچانک شروع ہوا، لیکن حقیقت اس سے کہیں مختلف ہے۔ میں یہ کہہ رہا ہوں، اور شاید کچھ لوگوں کو یہ بات ناگوار گزرے، مگر ماننا پڑے گا کہ یہ مسائل یکدم ہمارے سامنے نہیں آئے۔ ان کی جڑیں ہمارے ماضی میں، بالخصوص پاکستان کی آزادی کے وقت سے ہی موجود ہیں۔ یہ ایک ایسی کہانی ہے جو ہمیں اپنی تاریخ کی طرف مڑ کر دیکھنے پر مجبور کرتی ہے۔

قائد اعظم کے بعد کا پاکستان after demise of Quaid-e-Azam

پاکستان کی تشکیل 14 اگست 1947 کو ہوئی، اور اس عظیم خواب کو حقیقت میں بدلنے والے قائد اعظم محمد علی جناح تھے۔ لیکن بدقسمتی سے، پاکستان کے قیام کے صرف ایک سال بعد، ستمبر 1948 میں ان کا انتقال ہو گیا۔ ان کے جانے کے بعد ملک کی باگ ڈور سنبھالنے والوں نے ایسی راہ اختیار کی کہ بہت سے لوگوں کا خیال ہے کہ پاکستان اپنے اصل مقصد سے ہٹ گیا، گویا اسے 'ہائی جیک' کر لیا گیا۔
اس دور میں ایک اہم قدم 1949 میں اٹھایا گیا، جب پاکستان کی دستور ساز اسمبلی نے 'قرارداد مقاصد' منظور کی۔ اس قرارداد میں یہ وعدہ کیا گیا کہ پاکستان ایک اسلامی جمہوریہ ہوگا، جہاں تمام شہریوں کو برابر کے حقوق دیے جائیں گے، اور اقلیتوں کے مفادات کا خیال رکھا جائے گا۔ لیکن عملی طور پر ان وعدوں پر عمل نہ ہو سکا، اور یہیں سے مسائل نے جنم لینا شروع کیا۔

زبان کا مسئلہ اور صوبائی ناراضگی grievances at the start of Pakistan while respecting regional languages

جب پاکستان نے اردو کو اپنی قومی زبان قرار دیا، تو اس فیصلے نے ملک کے اندر لسانی تنوع کو نظرانداز کر دیا۔ بنگالی، سندھی، اور بلوچی جیسی زبانیں پس منظر میں چلی گئیں۔ اس سے لوگوں میں یہ احساس پیدا ہوا کہ ان کی ثقافت اور شناخت کو اہمیت نہیں دی جا رہی۔ خاص طور پر مشرقی پاکستان میں، جہاں بنگالی اکثریت تھی، یہ فیصلہ ناقابل قبول تھا۔ 1952 میں ڈھاکہ میں زبان کے تحریک کے دوران، جب طلبہ نے اپنی زبان کے حق کے لیے آواز اٹھائی، تو پولیس کی فائرنگ سے کئی افراد شہید ہوئے۔ اس واقعے نے بنگالی قوم پرستی کو ہوا دی، اور ناراضگی بڑھتی چلی گئی۔
اسی طرح، سندھ، بلوچستان، اور دیگر علاقوں میں بھی اپنی زبانوں اور ثقافت کو نظر انداز کرنے کی وجہ سے مرکز سے دوری بڑھنے لگی۔ لوگوں کو لگا کہ جو برابری کے وعدے کیے گئے تھے، وہ محض کاغذوں تک محدود رہ گئے۔

مشرقی پاکستان کا الگ ہونا annexation of East Pakistan into Bangladesh

یہ ناراضگی 1971 میں اپنے عروج پر پہنچی، جب مشرقی پاکستان پاکستان سے الگ ہو کر بنگلہ دیش بن گیا۔ یہ صرف ایک لسانی تنازعہ نہیں تھا، بلکہ سیاسی اور معاشی ناانصافیوں کا نتیجہ تھا۔ 1970 کے انتخابات کے بعد سیاسی بحران پیدا ہوا، اور فوجی کارروائی نے حالات کو مزید خراب کر دیا۔ بھارت کی مدد سے مشرقی پاکستان نے آزادی حاصل کی، اور پاکستان دو حصوں میں تقسیم ہو گیا۔ یہ ہماری تاریخ کا ایک دردناک باب ہے، جس نے ملک کی جغرافیائی اور سیاسی ساخت کو ہمیشہ کے لیے بدل دیا۔

دیگر صوبوں میں بڑھتی ہوئی بے چینی complex relationship between provinces

مشرقی پاکستان کے الگ ہونے کے بعد بھی دیگر صوبوں میں ناراضگی ختم نہ ہوئی۔ بلوچستان، جہاں قدرتی وسائل کی بہتات ہے، وہاں ترقی کی کمی اور سیاسی حقوق کی پامالی نے علیحدگی پسند تحریکوں کو جنم دیا۔ سندھ میں، خاص طور پر کراچی جیسے شہروں میں، لسانی اور نسلی تناؤ نے حالات کو پیچیدہ بنا دیا۔ خیبر پختونخواہ میں پشتون قوم پرستی اور افغانستان سے قربت کی وجہ سے بعض اوقات علیحدگی کی باتیں بھی سامنے آئیں۔ ان سب کا نتیجہ یہ نکلا کہ صوبوں اور مرکز کے درمیان اعتماد کا فقدان بڑھتا گیا۔

بیرونی خطرات اور مخالفین کے عزائم external factors impacting internal circumstances

ان اندرونی کمزوریوں کا فائدہ ہمارے مخالفین نے اٹھایا۔ کچھ انڈین بلاگرز اور تجزیہ کاروں کے مطابق، بلوچستان پر ان کی نظر ہے، اور وہاں علیحدگی پسند تحریکوں کو ہوا دے کر مداخلت کی جا سکتی ہے۔ اسی طرح، خیبر پختونخواہ کو افغانستان میں ضم کرنے اور سندھ کو 'سندھو دیش' بنانے کی باتیں بھی کی جاتی ہیں۔ ان کے خیال میں، اگر یہ سب ہو گیا، تو پاکستان صرف وسطی اور شمالی پنجاب تک محدود رہ جائے گا۔ یہ محض پروپیگنڈا نہیں، بلکہ ہماری اپنی خامیوں کا نتیجہ ہے، جنہوں نے مخالفین کو ایسے مواقع فراہم کیے۔

نتیجہ end result

یہ سب دیکھ کر ایک بات واضح ہوتی ہے کہ ہم نے خود اپنی غلطیوں سے اپنے مخالفین کے ہاتھ مضبوط کیے ہیں۔ اگر ہم نے وقت پر اپنی پالیسیوں کو درست کیا ہوتا، صوبوں کو ان کے جائز حقوق دیے ہوتے، اور قومی یکجہتی کو فروغ دیا ہوتا، تو آج حالات مختلف ہوتے۔ ماضی سے سبق سیکھتے ہوئے ہمیں اب ایک ایسا پاکستان بنانا ہوگا جہاں ہر صوبے اور ہر شہری کو برابری کا حق ملے۔ کیا ہم اپنی تاریخ کے ان دروس کو سمجھ کر ایک متحد اور مضبوط پاکستان کی بنیاد رکھ سکتے ہیں؟ یہ سوال ہم سب کے سامنے ہے، اور اس کا جواب ہمارے عمل سے ہی ملے گا

2. افواہوں نے کیا نقصان کیا؟

 افواہوں کا مطلب ہے غلط یا یکطرفہ باتیں پھیلانا تاکہ لوگ ان پر یقین کر لیں۔ پاکستان میں یہ دو طرح سے ہوا: -

اندرونی افواہیں(internal conflicts): 

فوجی حکومتوں نے پاکستان میں میڈیا اور سکولوں کی کتابوں پر سخت کنٹرول رکھا۔ انہوں نے صرف وہی معلومات عوام تک پہنچائیں جو ان کے ایجنڈے کے مطابق تھیں، اور کئی بار سچ کو چھپا کر غلط بیانیہ پیش کیا گیا۔ اس کے نتیجے میں لوگوں میں الجھن پیدا ہوئی اور وہ درست حقائق سے محروم رہے۔

باہر سے افواہوں کا کردار

دوسری طرف، بھارت اور پاکستان نے ایک دوسرے کے خلاف پروپیگنڈے کی جنگ لڑی، خاص طور پر کشمیر کے معاملے پر۔ بھارت نے پاکستان پر الزام لگایا کہ وہ دہشت گردی کو فروغ دیتا ہے، جبکہ پاکستان نے بھارت کو خطے میں امن کو سبوتاژ کرنے کا ذمہ دار ٹھہرایا۔ ان الزامات نے دونوں ممالک کی حکومتوں کو اندرونی طور پر مضبوط کرنے میں تو مدد دی، لیکن عالمی سطح پر پاکستان کی ساکھ کو شدید نقصان پہنچا۔

یہ صورتحال اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ کس طرح معلومات پر کنٹرول اور باہمی افواہوں نے نہ صرف اندرونی طور پر عوام کو گمراہ کیا بلکہ پاکستان کی بین الاقوامی شبیہ کو بھی دھچکا لگایا۔3. پاکستان جواب کیوں نہ دے سکا؟ 
پاکستان ان افواہوں کا اچھا جواب نہیں دے سکا، جس سے مسائل بڑھ گئے: - 

دنیا میں غلط سمجھا گیا: 

پاکستان نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں واقعی بہت بڑا نقصان اٹھایا ہے۔ ہزاروں لوگوں کی جانیں گئیں اور اربوں روپے معاشی تباہی میں ضائع ہوئے۔ یہ ایک ناقابلِ تردید حقیقت ہے کہ پاکستان نے اس جنگ میں ایک فرنٹ لائن ریاست کے طور پر کردار ادا کیا، لیکن بدقسمتی سے دنیا کو یہ سمجھانے میں کامیاب نہیں ہو سکا کہ وہ خود دہشت گردی کا شکار ہے، نہ کہ اس کا ذمہ دار۔ آپ کے اس نکتے میں بہت وزن ہے، اور اس کی کئی وجوہات ہیں جن پر غور کرنے کی ضرورت ہے۔

پاکستان کے نقصانات

پاکستان نے 9/11 کے بعد سے دہشت گردی کے خلاف عالمی جنگ میں حصہ لیا اور اس کی بھاری قیمت چکائی۔ اعداد و شمار کے مطابق، 80,000 سے زائد پاکستانی شہری اور فوجی دہشت گردی کی بھینٹ چڑھ چکے ہیں۔ معاشی طور پر، پاکستان کو تقریباً 126 ارب ڈالر سے زیادہ کا نقصان ہوا۔ اس کے علاوہ، لاکھوں لوگ بے گھر ہوئے، اور ملک کے بنیادی ڈھانچے کو شدید نقصان پہنچا۔ یہ قربانیاں اس بات کا ثبوت ہیں کہ پاکستان نے دہشت گردی کے خلاف سنجیدہ کوششیں کیں۔

دنیا کے سامنے ناکامی کی وجوہات

لیکن سوال یہ ہے کہ پھر بھی عالمی برادری پاکستان کو شک کی نگاہ سے کیوں دیکھتی ہے؟ اس کی چند اہم وجوہات ہیں:

1. جغرافیائی محل وقوع:

 پاکستان کی سرحد افغانستان سے ملتی ہے، جو دہشت گردی کا ایک بڑا مرکز رہا ہے۔ اس قربت کی وجہ سے پاکستان پر الزام لگایا جاتا ہے کہ وہ دہشت گردوں کو پناہ دیتا ہے، حالانکہ پاکستان نے ان کے خلاف بڑے پیمانے پر آپریشنز کیے ہیں۔   

2. منفی میڈیا تصویر:

 عالمی میڈیا میں پاکستان کی تصویر اکثر منفی پیش کی جاتی ہے۔ بعض ممالک، جیسے بھارت، اس تاثر کو تقویت دیتے ہیں کہ پاکستان دہشت گردی کی سرپرستی کرتا ہے۔ اس کے مقابلے میں پاکستان اپنی قربانیوں کو مؤثر طریقے سے اجاگر نہیں کر سکا۔

3. سفارتی کمزوری:

 پاکستان کی سفارت کاری عالمی سطح پر اپنا موقف واضح کرنے میں ناکام رہی ہے۔ اس کی وجہ سے دنیا کو یہ سمجھانا مشکل ہوا کہ پاکستان دہشت گردی کا شکار ہے اور اس کے خلاف لڑ رہا ہے۔

4. اندرونی مسائل:

 سیاسی عدم استحکام، کرپشن، اور اداروں کی کمزوری نے بھی پاکستان کی ساکھ کو نقصان پہنچایا۔ اس سے عالمی برادری میں یہ تاثر مضبوط ہوا کہ پاکستان دہشت گردی کے خلاف پوری طرح سنجیدہ نہیں۔

پاکستان کی کامیابیاں

اس کے باوجود، یہ کہنا غلط ہوگا کہ پاکستان نے کچھ نہیں کیا۔ آپریشن ضربِ عضب اور رد الفساد جیسے فوجی آپریشنز نے دہشت گردی کی کمر توڑ دی۔ دہشت گرد حملوں میں نمایاں کمی آئی، اور پاکستان نے امریکہ اور نیٹو افواج کے ساتھ بھی تعاون کیا۔ لیکن اس تعاون اور قربانیوں کے باوجود، عالمی سطح پر پاکستان کو وہ پذیرائی نہیں ملی جس کا وہ مستحق ہے۔

آگے کا راستہ

اس صورتحال کو بہتر کرنے کے لیے پاکستان کو چند اقدامات اٹھانے ہوں گے:
  • سفارتی کوششوں میں بہتری: عالمی فورمز جیسے اقوام متحدہ پر اپنا موقف مضبوطی سے پیش کرنا ہوگا۔
  • میڈیا حکمت عملی: اپنی کامیابیوں اور قربانیوں کو اجاگر کرنے کے لیے ایک مؤثر میڈیا مہم چلانی چاہیے۔
  • اندرونی استحکام: اداروں کو مضبوط کرنا اور سیاسی استحکام لانا ضروری ہے تاکہ دنیا کو پاکستان کی سنجیدگی پر یقین ہو۔

نتیجہ

آپ کا کہنا بالکل درست ہے کہ پاکستان نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں بہت نقصان اٹھایا، لیکن اس کی کہانی کو دنیا تک پہنچانے میں ناکامی رہی۔ اس ناکامی کو دور کرنے کے لیے ایک جامع حکمت عملی کی ضرورت ہے جو سفارت کاری، میڈیا، اور اندرونی اصلاحات پر مبنی ہو۔ پاکستان نہ صرف دہشت گردی کا شکار ہے بلکہ اس کے خلاف لڑنے والا ایک بہادر ملک بھی ہے—بس اسے اپنی آواز دنیا تک زیادہ مؤثر طریقے سے پہنچانے کی ضرورت ہے۔ 

3. میڈیا اور بات چیت (negotiations) کی کمزوری: 

آپ نے بالکل درست کہا کہ پاکستان نے میڈیا اور عالمی سطح پر رابطے کو مؤثر طریقے سے استعمال نہیں کیا، جس کی وجہ سے دوسروں کے بیانیے غالب رہے۔ اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ پاکستان کی ساکھ کو نقصان پہنچا اور لوگوں میں مایوسی بڑھی۔ آئیے اس کے اسباب اور اثرات کو تفصیل سے دیکھتے ہیں۔

وجوہات

پاکستان کے اس ناکام رابطے کے پیچھے چند اہم وجوہات ہیں:  
  • میڈیا حکمت عملی کی کمی: پاکستان نے اپنی کامیابیوں، قربانیوں اور ترقی کو دنیا کے سامنے پیش کرنے کے لیے کوئی مضبوط میڈیا حکمت عملی نہیں اپنائی۔ اس کے برعکس، مخالف ممالک نے اپنے پروپیگنڈے کو منظم اور مؤثر انداز میں پھیلایا، جس سے پاکستان کی آواز دب گئی۔  
  • سفارتی کمزوری: عالمی فورمز جیسے اقوام متحدہ یا دیگر پلیٹ فارمز پر پاکستان کی نمائندگی کمزور رہی۔ اس کی وجہ سے پاکستان کا موقف سنجیدگی سے نہیں لیا گیا۔  
  • اندرونی مسائل: ملک کے اندر سیاسی عدم استحکام اور اداروں کی کمزوری نے بھی پاکستان کی عالمی ساکھ کو کمزور کیا۔ جب اندرونی طور پر مضبوطی نہ ہو، تو باہر کی دنیا میں اثر کم ہوتا ہے۔

نتائج

اس صورتحال کے پاکستان پر گہرے اثرات مرتب ہوئے:  
  • منفی شبیہ کا پھیلاؤ: دنیا بھر میں پاکستان کو ایک ایسے ملک کے طور پر دیکھا جانے لگا جو دہشت گردی اور عدم استحکام سے جڑا ہوا ہے، حالانکہ حقیقت اس سے مختلف ہے۔ اس منفی بیانیے نے پاکستان کی اصل قربانیوں اور کوششوں کو پس پشت ڈال دیا۔  
  • عوام میں مایوسی: پاکستانی عوام کو لگا کہ ان کی محنت اور قربانیوں کو عالمی سطح پر تسلیم نہیں کیا جا رہا۔ اس سے ان میں بے چینی اور ناامیدی بڑھی۔  
میں یہاں اپنی بات پر ثابت قدم رہوں گا کہ میڈیا اور رابطے کی اس ناکامی نے پاکستان کو بہت نقصان پہنچایا۔ لیکن اسے بہتر کرنے کے لیے ابھی بھی راستے موجود ہیں۔ پاکستان کو اپنی آواز کو مضبوط اور مؤثر بنانے کے لیے میڈیا حکمت عملی کو بہتر کرنا ہوگا، سفارتی سطح پر سرگرمی بڑھانی ہوگی، اور اندرونی طور پر اداروں کو مستحکم کرنا ہوگا۔ اسی طرح سے پاکستان اپنی ساکھ کو بہتر بنا سکتا ہے اور اپنے لوگوں کے اعتماد کو بحال کر سکتا ہے۔

4. اس سب کے کیا اثرات ہوئے؟ 

منافقت، افواہوں، اور جواب نہ دینے سے بہت سے مسائل پیدا ہوئے: - 

لوگوں کا بھروسہ ختم ہوا: 

بار بار جھوٹ اور غلط باتوں سے لوگوں نے حکومت پر یقین کرنا چھوڑ دیا۔ -

ملک کی پہچان کمزور ہوئی: 

سچ نہ بتانے اور افواہوں کی وجہ سے لوگوں کو اپنی تاریخ اور مقصد سمجھنے میں مشکل ہوئی۔ -

دنیا میں عزت کم ہوئی:

 باہر سے آنے والی افواہوں کا جواب نہ دینے سے پاکستان کے لیے سفارتی اور معاشی نقصان ہوا۔

5. اس کا حل کیا ہو سکتا ہے؟

ان مسائل کو دور کرنے کے لیے کچھ آسان چیزیں کی جا سکتی ہیں: -

سچائی اور اچھی تعلیم:

سکولوں میں سچی تاریخ پڑھائی جائے اور لوگوں کو سوچنے کی طاقت دی جائے تاکہ وہ افواہوں سے بچ سکیں۔ - 
بہتر بات چیت میڈیا اور سفارت کاری کو مضبوط کر کے پاکستان اپنی بات دنیا تک پہنچا سکتا ہے۔ -

لوگوں کو باخبر کرنا:

عوام کو سچ بتا کر انہیں مضبوط کیا جائے تاکہ وہ افواہوں سے لڑ سکیں اور حکومت سے سوال پوچھ سکیں۔ 

آخر میں(last words)    

 پاکستان کی تاریخ میں منافقت، افواہوں کا زور، اور ان کا جواب نہ دینے کی کمزوری نے بہت نقصان کیا۔ اس سے لوگوں کا اعتماد، ملک کی پہچان، اور دنیا میں عزت متاثر ہوئی۔ اگر سچائی کو اپنایا جائے، بات چیت بہتر کی جائے، اور لوگوں کو باخبر کیا جائے، تو پاکستان ان مسائل سے نکل سکتا ہے اور اپنی کہانی کو بہتر بنا سکتا ہے۔
مکمل تحریر >>

2/2/25

پاکستانی قوم کی رسیدیں جمع کرنے کا ہوکا

پاکستان اس وقت چیمپئنز ٹرافی 2025 کے بخار میں مبتلا ہے، ہر طرف جوش و خروش نظر آ رہا ہے، لیکن ایک سوال جو مجھے مسلسل پریشان کر رہا ہے: کیا ہم واقعی اس بڑے ایونٹ کے لیے تیار ہیں؟ مجھے یاد ہے جب پاکستان اور آسٹریلیا کی سیریز کے دوران ای ٹکٹنگ کا سسٹم BookMe.pk کے ذریعے ہوا تھا، تب چیزیں قدرے منظم اور آسان لگ رہی تھیں۔ میں اور میری بیوی کراچی ٹیسٹ دیکھنے گئے تھے، اور صرف دو QR کوڈ والے پرنٹس لے کر ہم باآسانی انٹری حاصل کر سکے۔ لیکن اب، کیا ہم وہی سہولت اور پروفیشنلزم چیمپئنز ٹرافی میں دیکھیں گے؟ یا پھر ایک بار وہی بدنظمی، بلیک میں ٹکٹوں کی فروخت، اور عام شائقین کے ساتھ دھوکہ دہی کا بازار گرم ہوگا؟ پاکستان میں کرکٹ صرف ایک کھیل نہیں، بلکہ ایک جذباتی وابستگی ہے، لیکن افسوس کی بات یہ ہے کہ جب بھی کوئی بڑا ایونٹ آتا ہے، تو ہمارے منتظمین کی نااہلی سب پر عیاں ہو جاتی ہے۔ کیا اس بار کچھ نیا ہوگا، یا پھر وہی پرانی کہانی؟

موجودہ (ای) ٹکٹنگ سسٹم

چیمپئنز ٹرافی 2025 کے لیے ایک بار پھر وہی پرانا اور فرسودہ "آرڈر اینڈ ڈیلیور" والا نظام نافذ کر دیا گیا ہے، جہاں آپ کو پہلے PCB.TCS.COM.PK پر جا کر آرڈر دینا ہوگا۔ لیکن کہانی یہاں ختم نہیں ہوتی! ایک شناختی کارڈ پر صرف چار ٹکٹوں کی حد لگا دی گئی ہے، اور اس کے بعد آپ کو ایک یونیک نمبر یا اپنا CNIC نمبر فراہم کرنا ہوگا۔

یہی وہ نکتہ ہے جہاں میرا اعتراض ہے۔

یہ نظام بظاہر تو منظم لگتا ہے، مگر حقیقت میں انتہائی خطرناک ہے۔ پاکستان میں شناختی کارڈز کے ساتھ فراڈ اور ڈیٹا لیک کے

آفیشل ٹی سی ایس کا ہوم پیج اسکرین شاٹ

 سیکڑوں واقعات پہلے بھی ہو چکے ہیں، خاص طور پر سم کارڈز کے اجرا کے دوران جب ہزاروں لوگ اپنی لاعلمی میں کسی اور کے نام پر رجسٹرڈ سمز کے بوجھ تلے دب چکے تھے۔ تو کیا ہمیں اس بار بھی وہی دھوکہ دہی دیکھنے کو ملے گی؟

کیا واقعی PCB اور TCS کے پاس وہ سیکیورٹی میکانزم موجود ہے جو عوام کے ڈیٹا کو محفوظ رکھ سکے؟ یا پھر ہم ایک اور بڑے اسکینڈل کی طرف بڑھ رہے ہیں؟ کیا اس بار بھی عام کرکٹ شائقین کے ساتھ زیادتی ہوگی، اور ٹکٹیں صرف "بااثر افراد" کے ہاتھ لگیں گی؟

پاکستان کرکٹ بورڈ کی انتظامی صلاحیت ہمیشہ سوالیہ نشان رہی ہے، اور چیمپئنز ٹرافی 2025 کے ٹکٹنگ سسٹم کے ساتھ جو پہلا تاثر مل رہا ہے، وہ قطعی طور پر امید افزا نہیں ہے۔

رسیدیں جمع کرنے کا ہوکا

یہی بیوروکریسی کی دقیانوسی سوچ ہے جو ہر جگہ ہماری ترقی میں رکاوٹ بنی ہوئی ہے۔ کاغذ کا بے دریغ استعمال، غیر ضروری مراحل، اور عوام کو خواری میں ڈالنے والا سسٹم—یہ سب کچھ میں نے 2024 کے انتخابات میں بھی اپنی آنکھوں سے دیکھا تھا۔

مجھے یاد ہے کہ ایک سیدھے سادے ووٹنگ کے عمل کو کتنا پیچیدہ بنا دیا گیا تھا۔ ایک ہی چھوٹے سے کمرے میں چھ مختلف پریزائیڈنگ افسران ایک کام انجام دے رہے تھے، جو ایک ہی بندہ بھی سنبھال سکتا تھا۔

  1. پہلا شخص صرف مجھے اندر داخل کر رہا تھا۔
  2. دوسرا شخص میرا CNIC چیک کرکے رجسٹر پر انٹری کر رہا تھا۔
  3. تیسرا شخص نیشنل اسمبلی کا ہرا بیلٹ پیپر دے رہا تھا۔
  4. چوتھا شخص پروونشل اسمبلی کا سفید بیلٹ پیپر دے رہا تھا۔
  5. پانچواں شخص یہ چیک کر رہا تھا کہ میں نے دونوں بیلٹ پیپر لے لیے ہیں۔
  6. اور چھٹا شخص صرف اور صرف مجھے انگوٹھے پر ٹھپہ لگانے کے لیے بیٹھا تھا!

یہ سب کیا تھا؟ صرف ایک پروسیس کو مصنوعی طور پر پیچیدہ بنا کر عوام کو استعمال کرنے کا ایک نیا طریقہ۔ افسوسناک پہلو یہ تھا کہ ہمارے عوام خود بھی اس عمل کا حصہ بننے پر فخر محسوس کر رہے تھے۔

اور اب یہی کچھ چیمپئنز ٹرافی 2025 کے ٹکٹنگ سسٹم میں دہرایا جا رہا ہے۔

  1. پہلے آپ PCB.TCS.COM.PK پر آرڈر کریں گے۔
  2. پھر صرف چار ٹکٹوں کی حد میں بندھے رہیں گے۔
  3. اس کے بعد آپ کو یا تو ایک "یونیک کوڈ" یا اپنا شناختی کارڈ نمبر لے کر ٹی سی ایس کے دفتر جانا ہوگا۔
  4. وہاں جا کر فزیکل ٹکٹ پرنٹ کرایا جائے گا۔

یہ سب فضول مشقت کیوں؟ کیا یہ کام ایک سادہ QR کوڈ پرنٹ کرکے گھر بیٹھے حل نہیں کیا جا سکتا؟ میں نے پاکستان-آسٹریلیا 2022 کے ٹیسٹ میچ کے لیے BookMe.pk کے ذریعے دو QR ٹکٹ خریدے اور آرام سے اسٹیڈیم میں انٹری لی۔ لیکن جب یہی ٹکٹنگ کا نظام 2019 کی پاکستان-سری لنکا سیریز میں TCS کے پاس تھا، تب بھی مجھے بہادرآباد کے TCS آفس جا کر فزیکل ٹکٹ پرنٹ کرانا پڑا تھا!

یہ کونسی ڈیجیٹلائزیشن ہے؟

یہ سہولت ہے یا ایک اور عذاب؟

کیا PCB اور TCS واقعی عوام کو آسانی دینا چاہتے ہیں، یا بس انہیں خواری میں ڈال کر یہ تاثر دینا چاہتے ہیں کہ "انتظامات بہت سخت ہیں"؟

یہی دقیانوسی سوچ ہمیں ترقی نہیں کرنے دیتی۔ یہاں ہر معاملے میں غیر ضروری پیچیدگیاں ڈال دی جاتی ہیں، اور عوام بھی اس کو تقدیر سمجھ کر خاموش ہو جاتے ہیں۔ کیا ہم کبھی اس "بیوروکریسی کے وائرس" سے آزاد ہو سکیں گے؟ یا پھر ہمیشہ کی طرح ہمیں استعمال کیا جاتا رہے گا؟

مگر میں نے یہ بھی دیکھا ہے

یہ رسیدیں جمع کرنے کا ہوکا شاید ہماری قوم کی سرشت میں شامل ہو چکا ہے۔ ایک سیدھے سادے QR کوڈ کو بھی "صحیح" پرنٹ کرانے کے لیے خوار ہونا ضروری سمجھا جاتا ہے! مجھے یاد ہے کہ جب جنوبی افریقہ نے 2021 میں پاکستان کا دورہ کیا تھا، تب بھی یہی بکھیڑا تھا۔ لوگ اپنے QR کوڈز کو "درست" پرنٹ کرانے کے لیے مشرق سینٹر جا رہے تھے، تاکہ وہ اسکین ہو سکے۔ یہ کونسی دقیانوسی سوچ ہے؟ QR کوڈ میں ایسی کوئی حد بندی نہیں ہوتی، یہ ایک ڈیجیٹل سسٹم ہے، نہ کہ کوئی قدیم زمانے کی مہر!

میں ہر روز بینک میں چیکس پر QR کوڈ کی ویلیڈیشن دیکھتا ہوں، جہاں بس لیزر کو ہلکی سی جھلک ملے، تو ڈیٹا فائل میں منتقل ہو جاتا ہے۔ پھر بھی، پاکستان جیسے ملک میں ایک سادہ QR کوڈ بھی اتنا بڑا مسئلہ بنا دیا جاتا ہے۔ اصل مسئلہ یہ نہیں کہ QR کوڈ اسکین نہیں ہوتا، اصل مسئلہ یہ ہے کہ عوام کو خواری کی لت لگ چکی ہے! ہمارے لوگ رسیدیں جمع کرنے اور لائنوں میں لگنے کو "اصل سسٹم" سمجھتے ہیں، جبکہ اصل ڈیجیٹل ترقی اس کے برعکس ہے۔

یہی "کاغذ پر اندھا اعتماد" ہے جو ہمارے سسٹم کو پیچھے لے جا رہا ہے۔ ہم آج بھی فزیکل کاغذی ثبوت کے بغیر سچ کو سچ ماننے کو تیار نہیں۔ یہی وجہ ہے کہ جب تک ہاتھ میں پرچی نہ ہو، ہماری قوم کو سکون نہیں آتا۔ ڈیجیٹل انقلاب آیا، مگر ہم اب بھی TCS کے چکر لگانے میں ہی اپنی شان سمجھتے ہیں!

ٹھپہ

پاکستانیوں کی ٹھپہ سے محبت اور کاغذی ثبوت کے بغیر نہ ماننے کی ضد مجھے کبھی سمجھ نہیں آئی۔ میرے سامنے کی مثال لے لیں—میرے اپنے گھر کے K-Electric کے بل کا معاملہ۔ میں نے بل کی ادائیگی آن لائن کی، مگر پھر بھی ٹھپہ کے بغیر کسی کو یقین نہیں آیا! Due date 30 تاریخ تھی، مگر آج 5 دن گزر چکے ہیں، نہ K-Electric کی ایپ پر کوئی اپڈیٹ، نہ کسی بینکنگ ایپ پر "Payment Done" کا پیغام! یہ کونسا جدید نظام ہے جو خودکار بینکنگ کے نام پر بھی سست روی کا شکار ہے؟

یہ سب کچھ لکھنے کا مقصد یہ ہے کہ manual banking کو متبادل کے طور پر رکھیں، مگر خودکار بینکنگ کو مکمل طور پر اختیار تو کریں! مگر نہیں، ہماری قوم کو لائنوں میں لگنے اور ٹھپہ لگوانے کا چسکا لگ چکا ہے۔ اور جب یہی قوم غیر ضروری خواری اور وقت کے ضیاع پر اعتراض کرتی ہے، تو منافقت اور نوسر بازی اپنے عروج پر نظر آتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اب پاکستانی کرنسی کو بھی تبدیل کیا جا رہا ہے، کیونکہ بہت سے "ایماندار" پاکستانیوں نے کالے دھن کو روپوں کی شکل میں گھروں میں چھپا رکھا ہے۔

یہ سب دیکھ کر مجھے اللہ کا وہ فرمان یاد آتا ہے:
"جیسی رعایا ہوگی، ویسے ہی حکمران ان پر مسلط کیے جائیں گے۔"

اور میں یہ حقیقت اپنی آنکھوں کے سامنے دیکھ رہا ہوں۔ یہی وہ قوم ہے جو خود دھوکہ دیتی ہے، پھر حکمرانوں سے شفافیت کی امید بھی رکھتی ہے۔ اپنی بددیانتی کو نظرانداز کر کے، صرف دوسروں کو کوسنا ہماری قومی عادت بن چکی ہے!



مکمل تحریر >>

19/1/25

Why looking average is more important in Pakistan and why we are lagging behind!

جب میں یہ بلاگ لکھ رہا ہوں، تو ساتھ ہی یوٹیوب پر ایک ویڈیو دیکھ رہا ہوں جو حیرت انگیز طور پر میرے حالیہ حالات سے جڑی ہوئی محسوس ہو رہی ہے۔ یہ ویڈیو ان ہی مسائل پر روشنی ڈالتی ہے جن سے میں گزر رہا ہوں: گھریلو ناچاقی، جذباتی الجھنیں، اور ایسے حالات جو دوسروں کو فائدہ اٹھانے کا موقع دے سکتے ہیں۔

میں 35 سال کا ایک ذمہ دار شخص ہوں، اور زندگی کے تجربات نے مجھے یہ سکھایا ہے کہ مسائل کو سمجھنا اور ان کا تجزیہ کرنا کتنا ضروری ہے۔ مگر یہ عجیب بات ہے کہ وہ مسائل جو مجھے واضح نظر آ رہے ہیں، میری والدہ، جو 60 سال کی زندگی گزار چکی ہیں، ان کو نظر نہیں آ رہے۔

یہی وہ خلا ہے جو ہمارے درمیان ناچاقی کو جنم دے رہا ہے۔ وہ اپنی نیت سے غلط نہیں ہیں، لیکن ان کے تجربات، سوچ اور جذبات میرے موجودہ حالات سے مطابقت نہیں رکھتے۔ یہی وجہ ہے کہ جب میں ان سے اپنے نقطہ نظر کو بیان کرنے کی کوشش کرتا ہوں، تو وہ اسے نظر انداز کر دیتی ہیں یا اسے غلط سمجھ لیتی ہیں۔

تیسرے کا فائدہ

ایسے حالات میں سب سے زیادہ خطرہ یہ ہوتا ہے کہ کوئی تیسرا شخص، جو اس صورت حال کو سمجھتا ہو، ان اختلافات کا فائدہ اٹھا سکتا ہے۔ یہی وہ بات ہے جو مجھے سب سے زیادہ فکر مند کرتی ہے۔ ہماری جذباتی کمزوری اور نااتفاقی کسی اور کے لیے موقع بن سکتی ہے، اور یہ وہ چیز ہے جسے نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔

آگے کا راستہ

یہ سب لکھتے ہوئے میں یہ سوچ رہا ہوں کہ اس مسئلے کا حل کیا ہو سکتا ہے؟

  • سب سے پہلے، میں اپنی والدہ کے ساتھ بات چیت کا راستہ کھلا رکھنے کی کوشش کروں گا۔ ان کے ساتھ وقت گزار کر انہیں اپنے حالات اور جذبات کو بہتر طریقے سے سمجھانے کی کوشش کروں گا۔
  • دوسرا، میں اپنی ذات پر کام کروں گا، تاکہ میں جذباتی طور پر مضبوط رہوں اور کسی بھی تیسرے شخص کے اثر سے محفوظ رہوں۔
  • تیسرا، میں یہ سمجھنے کی کوشش کروں گا کہ اختلافات کے باوجود، گھر کی یکجہتی کو کیسے برقرار رکھا جا سکتا ہے۔

گھر کے تعلقات اور جذباتی پیچیدگیاں آسان نہیں ہوتیں، لیکن اگر ان پر توجہ دی جائے اور تحمل سے کام لیا جائے، تو ان کے حل بھی ممکن ہیں۔ یہ بلاگ لکھتے ہوئے مجھے ایک بار پھر یہ احساس ہوا کہ مسئلے کو سمجھنا اور اس کا تجزیہ کرنا ہی پہلا قدم ہے۔ اب وقت ہے عمل کرنے کا، تاکہ میں نہ صرف اپنے حالات کو بہتر بنا سکوں بلکہ اپنے گھر کے تعلقات کو بھی محفوظ رکھ سکوں۔

عزت اور رویے: نسلوں کے درمیان ایک پل

میرا ماننا ہے کہ وقت ایک ایسا پہیہ ہے جو ہمیشہ چلتا رہتا ہے۔ آج میرے والدین جس مقام پر ہیں، 20 یا 30 سال بعد میں بھی وہیں پہنچ جاؤں گا۔ یہی سوچ مجھے اپنے رویے اور اقدار کے بارے میں مزید حساس بناتی ہے۔ میں سمجھتا ہوں کہ عزت ایک ایسی چیز ہے جو نہ صرف دی جانی چاہیے بلکہ کمائی بھی جاتی ہے۔

جب میں یہ کہتا ہوں کہ عزت میں deserve کرتا ہوں، تو اس کے ساتھ یہ بھی میرا ایمان ہے کہ میرے والدین کی بھی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ وہی رویہ اپنائیں جو وہ خود دوسروں سے اپنے لیے چاہتے ہیں۔ یہ اصول، "Treat others just like you want yourself to be treated"، نہ صرف زندگی کو آسان بناتا ہے بلکہ نسلوں کے درمیان ایک مضبوط پل بھی بناتا ہے۔

یہاں میرا مقصد ہرگز بڑوں کی عزت یا ان کے تجربے کو کم تر دکھانا نہیں ہے۔ ان کی زندگی کے تجربات اور قربانیاں ہماری زندگی کی بنیاد ہیں۔ لیکن ایک بات واضح ہے کہ عزت دو طرفہ راستہ ہے۔ اگر والدین یہ توقع رکھتے ہیں کہ ان کے بچے ان کی عزت کریں گے اور ان کی بات مانیں گے، تو اس کے لیے یہ بھی ضروری ہے کہ وہ بچوں کو سنیں، ان کے جذبات کو سمجھیں، اور انہیں وہ مقام دیں جس کے وہ مستحق ہیں۔

زندگی کے اس سفر میں، ہر نسل کو ایک دوسرے کا ساتھ دینا ہوتا ہے۔ والدین اپنی زندگی کے اس مرحلے پر جہاں رہنمائی فراہم کرتے ہیں، وہاں بچوں کے جذبات اور سوچ کو بھی جگہ دینا ضروری ہے۔ اسی طرح، بچوں کا فرض ہے کہ وہ اپنے والدین کے تجربات اور مشوروں کا احترام کریں۔

میری سوچ کا خلاصہ یہ ہے کہ عزت اور محبت کی بنیاد مساوات اور انصاف پر ہونی چاہیے۔ اگر ہم اپنے بڑوں کے ساتھ وہی سلوک کریں جو ہم اپنی بڑھاپے میں دوسروں سے چاہتے ہیں، تو نہ صرف خاندان میں سکون ہوگا بلکہ ہمارے رشتے بھی زیادہ مضبوط ہوں گے۔

اسٹیٹس ٹریپ: ہماری پرمپرا اور معاشرتی الجھنیں

یہ ایک سادہ سی بات ہے، لیکن حیرت کی بات یہ ہے کہ یہی سادگی میرے گھر میں بحث کا باعث بن رہی ہے۔ میری والدہ اور ان کے نقش قدم پر چلتی ہوئی میری بیوی بھی اسی سوچ کی پیروی کر رہی ہیں، جس نے مجھے گہرے تجزیے پر مجبور کر دیا ہے۔ اس معاملے میں ہمیں یہ سمجھنا ہوگا کہ "اسٹیٹس ٹریپ" کیا ہے اور یہ ہماری زندگیوں پر کس طرح اثر انداز ہو رہا ہے۔

ہمارے معاشرے میں اکثر یہ سوچ پروان چڑھائی جاتی ہے کہ اپنی اولاد کو اسی راستے پر چلایا جائے جس پر والدین چلے ہیں۔ اسے ہندی میں "پرمپرا" کہتے ہیں، اور انگریزی میں "لیگیسی"۔ یہ خیال کہ ہماری اولاد ہمارے نقش قدم پر چلتی رہے، ایک طرف تو خوبصورت لگتا ہے، لیکن دوسری طرف یہ ایک گہرے مسئلے کو جنم دیتا ہے۔ اس لیگیسی کے چکر میں ہم مستقبل کے امکانات کو محدود کر رہے ہیں اور نئی نسل کو غیر ضروری دباؤ کا شکار بنا رہے ہیں۔

اب اگر ہم اس مسئلے کو مزید گہرائی سے دیکھیں تو سوال یہ اٹھتا ہے کہ کیا ہم اسٹیٹس اور دکھاوے کے چکر میں اپنی اور اپنی نسلوں کی زندگی برباد کر رہے ہیں؟ مثال کے طور پر، اگر آپ کی سالانہ آمدنی 4 لاکھ ہے، لیکن آپ ایک ایسی چیز خریدنے کا سوچ رہے ہیں جس کی قیمت 10 لاکھ ہے، صرف اس لیے کہ آپ دنیا کے سامنے اپنی حیثیت ظاہر کر سکیں، تو یہ دنیا کی سب سے بڑی بے وقوفی ہوگی۔

یہی وہ سوچ ہے جو ہمارے معاشرے میں بڑھتی ہوئی معاشی اور سماجی برائیوں کا باعث بن رہی ہے۔ ہم اپنے وسائل سے زیادہ خرچ کرنے کی عادت کو اپنی شان سمجھتے ہیں، لیکن اس کے نتیجے میں نہ صرف ہمارا اپنا مستقبل خطرے میں پڑتا ہے بلکہ ہماری آنے والی نسلیں بھی قرض اور مشکلات کا شکار ہو جاتی ہیں۔

کسے ذمہ دار ٹھہرائیں؟
اس الجھن کے لیے ذمہ داری کس پر ڈالی جائے؟ والدین پر، جو اپنی اولاد کو اپنی پرانی روایات میں جکڑتے ہیں؟ یا معاشرے پر، جو اسٹیٹس اور دکھاوے کو اہمیت دیتا ہے؟ شاید دونوں۔ والدین کا فرض ہے کہ وہ اپنی نسلوں کو آزادانہ فیصلے کرنے دیں، اور معاشرے کو یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ حیثیت کا مطلب دکھاوا نہیں بلکہ حقیقی خوشحالی ہے۔

آگے کا راستہ
یہ وقت ہے کہ ہم اپنی سوچ اور عمل کو تبدیل کریں۔ ہمیں اپنی ضروریات اور خواہشات کے درمیان فرق کو سمجھنا ہوگا۔ اپنی نسلوں کو پرمپرا کے جال سے آزاد کرکے ان کے لیے بہتر مواقع پیدا کرنے چاہئیں، تاکہ وہ اپنی زندگی کے فیصلے خود کریں اور دکھاوے کے بجائے حقیقی خوشی کو اہمیت دیں۔

یہ بلاگ صرف ایک سوال نہیں بلکہ ایک دعوتِ فکر ہے۔ کیا ہم اپنی نسلوں کو آزاد اور خودمختار بنانا چاہتے ہیں، یا انہیں اسٹیٹس ٹریپ کا غلام؟ فیصلہ ہمارے ہاتھ میں ہے۔

کیا ہمارے لئے واقعی میں ضروری ہے کہ ہم اس گولڈی لوکس زون کے پیرادوکس میں اپنے آپ کو پھنسا کر رکھیں؟

شناخت کا بحران: کیا ہم صحیح اور غلط کا تعین کر پا رہے ہیں؟

انگریزی زبان میں اسے identification کہتے ہیں—یعنی یہ سمجھنا اور پہچاننا کہ ہمارے لیے کیا صحیح ہے اور کیا غلط۔ سوال یہ ہے کہ کیا ہم نے ایسا کوئی نظام یا mechanism بنایا ہے جس کی مدد سے ہم اس فرق کو واضح کر سکیں؟ یا ہم محض اپنی ضد، انا، اور موروثی روایات کے بوجھ تلے دبے ہوئے ہیں، جو نہ صرف ہمیں بلکہ ہماری آئندہ نسلوں کو بھی متاثر کر رہی ہیں؟

ہمارے بڑے، اپنی دانائی اور تجربے کے زور پر ہمیشہ یہ سمجھتے ہیں کہ وہی ہر بات میں صحیح ہیں۔ ان کے اس خودساختہ "صحیح ہونے" کے احساس نے ان کی آنکھوں پر ایسی پٹی باندھ دی ہے کہ انہیں یہ دکھائی ہی نہیں دیتا کہ اس ضد اور جبر کے چکر میں وہ اپنے ہی مستقبل کے ساتھ کیسا غیر ذمہ دارانہ کھیل کھیل رہے ہیں۔

ہماری ترجیحات اور ان کا اثر
یہ پہچان کہ کیا صحیح ہے اور کیا غلط، ہر نسل کے لیے ضروری ہے۔ لیکن جب بڑی نسل اپنی ترجیحات کو نئی نسل پر مسلط کرتی ہے، تو نہ صرف ان کی تخلیقی صلاحیتیں دبتی ہیں بلکہ وہ جذباتی اور ذہنی طور پر بھی شدید دباؤ کا شکار ہو جاتے ہیں۔

یہ مسئلہ صرف گھریلو سطح تک محدود نہیں، بلکہ ہمارے معاشرتی اور ثقافتی نظام کا حصہ بن چکا ہے۔ Identification کا مطلب یہ بھی ہے کہ ہم اپنی زندگی کے اصولوں کو واضح کریں، اپنی ضروریات کو خواہشات سے الگ کریں، اور اس بات کو سمجھیں کہ ہماری ترجیحات کا اثر نہ صرف ہم پر بلکہ ہماری آئندہ نسلوں پر بھی ہوگا۔

آگے کا راستہ
اب وقت آ گیا ہے کہ ہم خود کو اس جمود سے آزاد کریں۔ ہمیں ایک ایسا نظام بنانے کی ضرورت ہے جہاں ہر نسل کے افراد کو اپنی شناخت بنانے کا موقع ملے۔

  1. بات چیت کو فروغ دیں: بڑوں کو یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ ان کا تجربہ قیمتی ہے، لیکن ان کے تجربات ہر وقت اور ہر حال میں قابلِ عمل نہیں ہوتے۔ نئی نسل کے خیالات کو سننا اور سمجھنا ضروری ہے۔
  2. تعلیم اور شعور: ہمیں اپنی تعلیم اور تربیت کے ذریعے بچوں میں یہ صلاحیت پیدا کرنی چاہیے کہ وہ اپنی ضروریات اور خوابوں کو سمجھ سکیں، اور اپنے لیے صحیح فیصلے کر سکیں۔
  3. لچکدار رویہ: ہمیں اپنے رویوں میں لچک پیدا کرنی ہوگی۔ دنیا بدل رہی ہے، اور پرانی روایات کے ساتھ جڑے رہنے کے بجائے ہمیں ان روایات کو نئے حالات کے مطابق ڈھالنا ہوگا۔

یہ بلاگ محض ایک سوال نہیں بلکہ ایک دعوتِ فکر ہے۔ کیا ہم اپنی نسلوں کو آزاد، خودمختار، اور تخلیقی بنانا چاہتے ہیں، یا انہیں اپنے اصولوں کے تنگ دائرے میں قید رکھنا چاہتے ہیں؟ فیصلہ ہم سب کے ہاتھ میں ہے۔ آئیں، identification کے ذریعے صحیح اور غلط کا فرق سمجھیں اور ایک بہتر مستقبل کی بنیاد رکھیں۔



مکمل تحریر >>

12/1/25

The Assassination of Fatima Jinnah: A Historical Re-examination

001 00:00:21,940 --> 00:00:23,520 The topic of this lecture is 
002 00:00:23,520 --> 00:00:26,820 The target of those who silently rule over the rulers. 
003 00:00:28,420 --> 00:00:31,080 Respected Fatima Jinnah used to get up early in the morning. 
004 00:00:31,619 --> 00:00:33,460 She did not eat anything as soon as she got up in the morning. 
005 00:00:34,040 --> 00:00:37,180 Her life is at stake. She is in danger. She is on target. 
006 00:00:38,000 --> 00:00:42,080 Respected Fatima Jinnah locks Fatima's room with her own hands. 
007 00:00:42,480 --> 00:00:44,780 She brings some clothes that were given in the laundry. 
008 00:00:46,480 --> 00:00:51,220 This DIG was the father of Allah Namaz Tareen Jahangir Tareen. 
009 00:00:51,520 --> 00:00:54,660 I am going to my house and will call you back in 5 minutes. 
010 00:00:55,560 --> 00:00:56,940 When they reached the room with Lady Hidayatullah, 
011 00:00:58,900 --> 00:00:59,880 both of them went to the doctor. 
012 00:01:00,820 --> 00:01:02,360 The writer has written that 
013 00:01:02,360 --> 00:01:08,540 these were the three women from whom Allah had to bring this matter out. 
014 00:01:08,880 --> 00:01:12,700 Mir Zafarullah Khan Jamali, who is no longer with us, 
015 00:01:13,060 --> 00:01:14,340 used to be the bodyguard of Respected Fatima Jinnah. 
016 00:01:15,540 --> 00:01:17,200 I met a man in Canada, 
017 00:01:17,400 --> 00:01:18,700 because I used to sit there in this matter. 
018 00:01:20,080 --> 00:01:23,500 So they were slapped on their necks. 
019 00:01:23,560 --> 00:01:25,440 And they must have argued on something. 
020 00:01:25,840 --> 00:01:30,460 So the dagger or any sharp weapon that the killer had brought with her, 
021 00:01:30,460 --> 00:01:33,100 was hit on the right side of her neck. 
022 00:01:33,940 --> 00:01:34,460 It was 4 inches. 
023 00:01:56,800 --> 00:01:59,480 Milati Isma, i.e. Respected Fatima Jinnah, 
024 00:01:59,780 --> 00:02:05,800 had realized that her life was in grave danger at the time. 
025 00:02:05,860 --> 00:02:09,320 Because after 1948, i.e. after Qadi Azam Rehmatullah, 
026 00:02:09,680 --> 00:02:12,320 some such incidents began to take place, 
027 00:02:12,960 --> 00:02:17,620 due to which he kept realizing that his life had come to a standstill. 
028 00:02:17,620 --> 00:02:20,780 After the visit of Quaid-e-Azam Rehmatullah to the United States, 
029 00:02:21,580 --> 00:02:25,620 till his martyrdom, i.e. till the martyrdom of Respected Fatima Jinnah, 
030 00:02:26,560 --> 00:02:30,760 he was on the target of those who quietly ruled over the rulers. 
031 00:02:32,260 --> 00:02:34,480 And he had a good idea about this. 
032 00:02:35,080 --> 00:02:37,680 And a famous personality at that time, Mir Zayed Hussain, 
033 00:02:38,140 --> 00:02:41,280 has expressed that he knew 
034 00:02:41,280 --> 00:02:47,400 that there were three important personalities on the target of the rulers of the establishment. 
035 00:02:47,680 --> 00:02:49,340 One of them was Respected Fatima Jinnah. 
036 00:02:49,760 --> 00:02:51,260 I will talk about this later. 
037 00:02:52,080 --> 00:02:54,300 Field Marshal Ayub Khan himself was present at the time. 
038 00:02:54,620 --> 00:02:56,780 Respected Fatima Jinnah was a candidate for the election of 1965. 
039 00:02:59,140 --> 00:03:01,660 And he was defeated in the same way, 
040 00:03:02,300 --> 00:03:04,480 i.e. the results changed overnight, 
041 00:03:04,520 --> 00:03:06,400 as if they had come by themselves. 
042 00:03:06,400 --> 00:03:12,820 It was exactly the same as the elections of December 1970 and then the elections of 2024. 
043 00:03:13,700 --> 00:03:16,700 I would like to tell you that even at that time, 
044 00:03:17,140 --> 00:03:21,740 i.e. in 1965, American Support was quietly behind the government of Pakistan. 
045 00:03:24,240 --> 00:03:28,220 The reason for this was that he did not want Respected Fatima Jinnah 
046 00:03:28,220 --> 00:03:30,860 to win the election as a candidate for the presidency 
047 00:03:30,860 --> 00:03:34,460 and become the owner of the black and white race. 
048 00:03:34,460 --> 00:03:38,460 Because his policy was the same as that of Quaid-e-Azam Rehmatullah, 
049 00:03:39,360 --> 00:03:41,260 i.e. his sister's policy, 
050 00:03:41,680 --> 00:03:45,900 which was the policy of our respected Qaid-e-Azam Muhammad-ul-Jinnah Rehmatullah Ali. 
051 00:03:47,780 --> 00:03:52,640 And the American establishment never wanted to implement the policy of Qaid-e-Azam on this country. 
052 00:03:53,960 --> 00:03:56,360 Today and at that time, the difference was that 
053 00:03:56,360 --> 00:04:01,080 the Secretary Advisor of the United States, David Dean Rusk, 
054 00:04:01,080 --> 00:04:05,080 and the National Security Advisor of the United States, Lt. Gen. Marsha Carter. 
055 00:04:05,640 --> 00:04:08,460 Later, at the time of the 1970 election, 
056 00:04:09,480 --> 00:04:12,040 Henry Kissinger, the Secretary Advisor of the United States, 
057 00:04:12,400 --> 00:04:15,040 who stabbed Yahya Khan in the back in Western Pakistan, 
058 00:04:15,459 --> 00:04:16,800 and you all know what happened in the 2024 election. 
059 00:04:22,720 --> 00:04:24,440 On the evening of July 8, 1967, 
060 00:04:25,400 --> 00:04:27,580 when Respected Fatima Jinnah went to attend the wedding of the late Qaid-e-Azam 
061 00:04:27,580 --> 00:04:33,040 and the former Prime Minister of Hyderabad, Laiqa Ali Khan's daughter. 
062 00:04:34,860 --> 00:04:36,700 She was in great shape. 
063 00:04:37,500 --> 00:04:39,020 She was in excellent health. 
064 00:04:39,740 --> 00:04:42,700 All the people who attended the wedding there, 
065 00:04:43,120 --> 00:04:45,800 all testify that she was absolutely fit. 
066 00:04:46,640 --> 00:04:49,200 There was no such problem in her, 
067 00:04:49,380 --> 00:04:52,460 which can be said to cause a sudden heart attack. 
068 00:04:53,100 --> 00:04:54,900 This was not the era of today. 
069 00:04:54,900 --> 00:04:58,520 There was no such thing as a sudden heart attack after eating and drinking. 
070 00:04:59,160 --> 00:05:01,500 She was supposed to leave for the wedding at about 8 o'clock, 
071 00:05:01,980 --> 00:05:05,980 but due to some events, she was a little late. 
072 00:05:06,660 --> 00:05:10,140 At 11 o'clock, she actually reached her Qasr-e-Fatima in Clifton. 
073 00:05:10,420 --> 00:05:13,240 Let me tell you again that this is today's Mohatta Palace, 
074 00:05:13,380 --> 00:05:14,420 which I will call Qasr-e-Fatima. 
075 00:05:15,920 --> 00:05:17,020 It should be called Qasr-e-Fatima. 
076 00:05:18,420 --> 00:05:20,540 Because if you look at the newspapers of that time, 
077 00:05:20,540 --> 00:05:23,620 then Mohatta Palace is written as Qasr-e-Fatima, 
078 00:05:24,420 --> 00:05:25,740 which was later changed. 
079 00:05:26,280 --> 00:05:29,220 Respected Fatima Jinnah reached her home at about 11 o'clock, 
080 00:05:30,800 --> 00:05:31,740 i.e. Qasr-e-Fatima. 
081 00:05:31,940 --> 00:05:33,840 After that, she goes to her room. 
082 00:05:34,660 --> 00:05:37,260 Here I would like to tell my viewers that 
083 00:05:38,600 --> 00:05:41,540 Respected Fatima Jinnah used to live alone in Qasr-e-Fatima. 
084 00:05:41,680 --> 00:05:43,480 Sometimes her sister used to come, 
085 00:05:43,960 --> 00:05:45,380 or her son Akbar used to come. 
086 00:05:45,760 --> 00:05:47,760 But this night, Respected Fatima was alone. 
087 00:05:47,760 --> 00:05:50,840 The servants used to work all day and leave at night. 
088 00:05:51,420 --> 00:05:53,260 Respected Fatima Jinnah knew very well 
089 00:05:53,260 --> 00:05:55,760 that her life was at stake, 
090 00:05:55,980 --> 00:05:57,600 that she was in danger, she was on target. 
091 00:05:58,540 --> 00:06:00,600 So, Respected Fatima Jinnah used to lock 
092 00:06:00,600 --> 00:06:02,740 the entire Qasr-e-Fatima with her own hands, 
093 00:06:02,980 --> 00:06:04,660 and she always kept a bunch of keys with her. 
094 00:06:05,820 --> 00:06:07,820 It was her habit that she used to check 
095 00:06:07,820 --> 00:06:09,140 every door before going to sleep at night 
096 00:06:09,140 --> 00:06:09,980 and lock them. 
097 00:06:10,420 --> 00:06:12,640 And then by locking the door of her room, 
098 00:06:13,460 --> 00:06:15,100 i.e. by closing the door from inside, 
099 00:06:15,100 --> 00:06:15,420 by locking it, 
100 00:06:15,780 --> 00:06:16,520 by setting a lock, 
101 00:06:16,540 --> 00:06:19,580 by locking the one door from inside, 
102 00:06:19,580 --> 00:06:22,080 which is her terrace or balcony, 
103 00:06:22,640 --> 00:06:24,240 from where she used to watch the lawn outside, 
104 00:06:24,740 --> 00:06:27,060 she used to lock that door as well. 
105 00:06:27,580 --> 00:06:29,420 And inside, the door of her dressing room, 
106 00:06:29,420 --> 00:06:30,880 which used to be open in her bedroom, 
107 00:06:31,380 --> 00:06:32,520 she used to lock that as well 
108 00:06:32,940 --> 00:06:33,960 and then she used to go to sleep on her bed. 
109 00:06:35,280 --> 00:06:36,180 She was so cautious. 
110 00:06:36,840 --> 00:06:38,440 And then that night, i.e. the night of the week, 
111 00:06:38,760 --> 00:06:39,940 when she returns from her wedding ceremony, 
112 00:06:40,620 --> 00:06:42,980 then by habit, she locks up the entire Qasr-e-Fatima 
113 00:06:42,980 --> 00:06:44,260 She locks the door and goes to her room. 
114 00:06:45,540 --> 00:06:48,560 The next morning, at 8 am, her servant, 
115 00:06:48,880 --> 00:06:51,500 whose name was Abdul Rauf, comes to her house. 
116 00:06:52,440 --> 00:06:54,720 Fatima Jinnah was used to waking up early in the morning. 
117 00:06:55,200 --> 00:06:56,980 She did not eat anything as soon as she got up in the morning. 
118 00:06:57,780 --> 00:06:59,560 Her servant Abdul Rauf used to come, 
119 00:06:59,560 --> 00:07:01,740 and after that, he used to prepare his own things. 
120 00:07:04,720 --> 00:07:07,960 But Fatima Jinnah herself did not come down and give her keys 
121 00:07:07,960 --> 00:07:08,060 to come inside the house. 
122 00:07:08,060 --> 00:07:10,660 In fact, she used to open the back window of her bed, 
123 00:07:11,700 --> 00:07:13,460 or the door of the terrace, 
124 00:07:13,760 --> 00:07:14,820 and she used to throw the key down, 
125 00:07:15,440 --> 00:07:18,480 and then she used to open the main entrance of Fatima's palace 
126 00:07:18,480 --> 00:07:19,520 and then she used to come inside. 
127 00:07:20,720 --> 00:07:23,080 Respected Fatima Jinnah's door was locked from inside. 
128 00:07:23,900 --> 00:07:26,940 When she used to get ready and go downstairs for breakfast, 
129 00:07:27,060 --> 00:07:30,100 she used to open the door and go downstairs. 
130 00:07:31,180 --> 00:07:32,760 She used to give all the other instructions 
131 00:07:32,760 --> 00:07:35,260 to Abdul Rauf from the gallery or window above. 
132 00:07:36,280 --> 00:07:40,360 After Abdul Rauf, the next cook used to prepare the breakfast accordingly 
133 00:07:40,960 --> 00:07:43,260 because Abdul Rauf was the head of other servants. 
134 00:07:44,060 --> 00:07:46,760 The next morning, Abdul Rauf brings some clothes 
135 00:07:46,760 --> 00:07:47,840 that were given in the laundry. 
136 00:07:49,720 --> 00:07:50,880 He was there at 8 o'clock in the morning, 
137 00:07:52,160 --> 00:07:54,180 but the window of Fatima's house was not opened, 
138 00:07:54,400 --> 00:07:55,000 nor was the door of the terrace. 
139 00:07:57,180 --> 00:07:59,540 Abdul Rauf knew that Fatima Jinnah had gone to attend 
140 00:07:59,540 --> 00:08:01,260 a wedding ceremony on Sunday and Sunday. 
141 00:08:02,480 --> 00:08:05,300 He thought that Fatima must be very tired, 
142 00:08:05,680 --> 00:08:07,820 so she was trying to rest, but her eyes did not open. 
143 00:08:09,320 --> 00:08:11,080 All the servants had come by around 10 o'clock, 
144 00:08:11,560 --> 00:08:13,800 but there was no sound from Fatima Jinnah's room, 
145 00:08:15,500 --> 00:08:16,460 and no door was opened. 
146 00:08:17,020 --> 00:08:18,180 These people waited a little longer, 
147 00:08:18,620 --> 00:08:19,420 but they did not have the courage 
148 00:08:19,420 --> 00:08:20,940 because Fatima Jinnah had such a personality 
149 00:08:20,940 --> 00:08:22,360 that she had a disease. 
150 00:08:22,980 --> 00:08:23,580 She was the sister of Qaid-e-Azam, 
151 00:08:24,320 --> 00:08:27,020 so definitely some effects came to her. 
152 00:08:27,840 --> 00:08:31,240 While waiting, it was almost 1 o'clock. 
153 00:08:32,020 --> 00:08:33,179 These people were all worried. 
154 00:08:33,700 --> 00:08:35,340 As soon as the call to prayer began, 
155 00:08:35,539 --> 00:08:39,280 Abdul Rauf got worried and went to Fatima Jinnah's 
156 00:08:39,280 --> 00:08:43,120 very close friend, Lady Hidayatullah, 
157 00:08:43,600 --> 00:08:44,980 who is known as Begum Soghra Hidayatullah. 
158 00:08:47,080 --> 00:08:50,400 He ran to her and gave her all the information. 
159 00:08:51,000 --> 00:08:54,480 Begum Hidayatullah came running with her, 
160 00:08:54,980 --> 00:08:57,000 so she saw that all these people 
161 00:08:57,000 --> 00:08:58,200 were sitting outside in the lawn. 
162 00:08:59,380 --> 00:09:00,020 They had come in from the main gate. 
163 00:09:01,580 --> 00:09:03,500 They were all inside from the main gate 
164 00:09:03,500 --> 00:09:04,180 of this boundary wall, 
165 00:09:05,060 --> 00:09:07,340 but the door of the residential building 
166 00:09:07,340 --> 00:09:08,280 inside was not open. 
167 00:09:09,760 --> 00:09:10,860 While waiting for her, 
168 00:09:10,860 --> 00:09:11,640 she asked for the key. 
169 00:09:12,080 --> 00:09:13,300 When she got the key, the door opened. 
170 00:09:13,560 --> 00:09:15,480 Lady Hidayatullah did not understand anything. 
171 00:09:16,040 --> 00:09:17,740 All of them called out to her, 
172 00:09:18,740 --> 00:09:19,780 but there was no answer. 
173 00:09:20,380 --> 00:09:22,180 Finally, it was decided to break 
174 00:09:22,180 --> 00:09:23,080 the door of this entrance. 
175 00:09:23,820 --> 00:09:26,460 At the same time, one of the servants 
176 00:09:26,460 --> 00:09:27,880 said that he had a key, 
177 00:09:28,820 --> 00:09:29,700 so let's check it, 
178 00:09:30,000 --> 00:09:30,980 maybe the door will open. 
179 00:09:31,160 --> 00:09:34,780 He gave her the key and put it on the door. 
180 00:09:35,340 --> 00:09:37,940 Coincidentally, the door of the main entrance 
181 00:09:37,940 --> 00:09:40,900 of the building opened. 
182 00:09:41,960 --> 00:09:44,460 All the people ran to the door. 
183 00:09:45,120 --> 00:09:47,740 The door of Fatima Jinnah's bedroom 
184 00:09:47,740 --> 00:09:49,160 was locked from inside. 
185 00:09:49,520 --> 00:09:51,060 No one had the key. 
186 00:09:51,060 --> 00:09:53,480 So, it was decided to break this door. 
187 00:09:54,400 --> 00:09:56,360 When Hidayatullah said, 
188 00:09:56,560 --> 00:09:58,180 one of the servants broke the door. 
189 00:09:58,720 --> 00:10:00,060 Lady Hidayatullah asked them 
190 00:10:00,060 --> 00:10:00,740 to stay outside, 
191 00:10:00,980 --> 00:10:02,400 but they went inside. 
192 00:10:02,840 --> 00:10:04,740 I would like to tell you that 
193 00:10:04,740 --> 00:10:07,060 all these things have been 
194 00:10:07,060 --> 00:10:07,700 messed up in history. 
195 00:10:08,300 --> 00:10:10,360 Many writers have messed it up. 
196 00:10:10,980 --> 00:10:12,540 After a lot of thinking, 
197 00:10:13,800 --> 00:10:16,600 I have added all these facts 
198 00:10:16,600 --> 00:10:17,040 to my experience. 
199 00:10:17,580 --> 00:10:19,320 It was always said to break the door 
200 00:10:19,320 --> 00:10:21,520 and go inside the house. 
201 00:10:21,520 --> 00:10:22,280 That is wrong. 
202 00:10:22,900 --> 00:10:23,740 The door was not broken 
203 00:10:23,740 --> 00:10:24,500 and went inside the house. 
204 00:10:25,200 --> 00:10:25,640 It was opened with the key. 
205 00:10:26,840 --> 00:10:29,700 The door of the lady's room 
206 00:10:29,700 --> 00:10:31,060 was broken. 
207 00:10:31,580 --> 00:10:32,680 Because this matter was presented 
208 00:10:32,680 --> 00:10:34,080 as a conspiracy theory 
209 00:10:34,080 --> 00:10:37,060 and the facts were ignored. 
210 00:10:37,480 --> 00:10:38,020 I have discussed this in my 
211 00:10:38,020 --> 00:10:39,020 previous video. 
212 00:10:39,760 --> 00:10:40,180 I have discussed about the 
213 00:10:40,180 --> 00:10:40,500 Fatima Jinnah's palace. 
214 00:10:40,500 --> 00:10:41,480 I have also discussed about 
215 00:10:44,700 --> 00:10:46,960 This is the case of 1967. 
216 00:10:47,840 --> 00:10:48,100 I have already discussed 
217 00:10:48,100 --> 00:10:50,680 the 1974 incident in my 
218 00:10:50,680 --> 00:10:51,260 previous video. 
219 00:10:51,920 --> 00:10:54,160 You can watch that in this clip. 
220 00:10:54,980 --> 00:10:55,220 I have mentioned about 
221 00:10:55,220 --> 00:10:55,520 the first incident of 
222 00:10:55,520 --> 00:10:58,520 the palace of Fatima Jinnah. 
223 00:11:00,260 --> 00:11:01,100 One of the children 
224 00:11:01,100 --> 00:11:03,560 met with a very old lady. 
225 00:11:05,060 --> 00:11:06,660 What did the lady say? 
226 00:11:07,020 --> 00:11:08,440 This is also a part of history 
227 00:11:08,440 --> 00:11:11,040 and most of the people don't know that. 
228 00:11:11,040 --> 00:11:14,720 Now we come back to the room of Mrs. Fatima Jinnah 
229 00:11:14,720 --> 00:11:15,900 that after breaking her door, 
230 00:11:16,500 --> 00:11:19,240 Lady Hidayetullah came inside and told all the servants to wait outside. 
231 00:11:19,940 --> 00:11:22,500 Because they didn't know that Mrs. Fatima was in this condition inside. 
232 00:11:23,220 --> 00:11:25,560 She goes inside and in a few moments, 
233 00:11:26,600 --> 00:11:27,880 comes back out of fear. 
234 00:11:29,180 --> 00:11:32,360 After that, she closes the door and tells the servants to go downstairs. 
235 00:11:33,220 --> 00:11:34,740 She takes all the servants downstairs, 
236 00:11:35,400 --> 00:11:36,420 tells them to stay outside 
237 00:11:36,420 --> 00:11:38,980 and then tells them that she is going to her house 
238 00:11:38,980 --> 00:11:41,740 and will be back in five minutes. 
239 00:11:42,420 --> 00:11:44,580 All the servants wait downstairs and she goes to her house. 
240 00:11:45,020 --> 00:11:47,900 After reaching her house, Lady Hidayetullah makes four calls. 
241 00:11:49,780 --> 00:11:52,240 The first call is to Commissioner Karachi, 
242 00:11:52,600 --> 00:11:53,620 whose name was Darbar Ali, 
243 00:11:54,100 --> 00:11:57,500 and he was a very special man of Ayub Khan. 
244 00:11:58,360 --> 00:12:02,000 The second call is to CMH's Dr. Colonel Qasim, 
245 00:12:02,180 --> 00:12:03,020 who is also known as Colonel Jafri. 
246 00:12:04,280 --> 00:12:10,720 The third call is to CMH's Dr. Colonel Shah. 
247 00:12:11,200 --> 00:12:14,780 The fourth call is to a relative of hers, 
248 00:12:14,780 --> 00:12:17,220 a woman whose name was Noorul Sabah, 
249 00:12:17,580 --> 00:12:18,780 so that she can reach there for her support. 
250 00:12:20,640 --> 00:12:21,380 She used to live nearby, 
251 00:12:21,880 --> 00:12:24,560 and a few people came with her to join her. 
252 00:12:24,780 --> 00:12:28,720 As soon as Lady Hidayetullah's call reached Darbar Ali, 
253 00:12:29,140 --> 00:12:31,720 Darbar Ali immediately called 
254 00:12:31,720 --> 00:12:35,260 the DIG of that time, Allah Nawaz Kareem, 
255 00:12:35,700 --> 00:12:39,100 who used to live very close to Fatima Jinnah's house. 
256 00:12:39,840 --> 00:12:41,260 Here I would like to tell you that 
257 00:12:41,260 --> 00:12:43,540 this DIG, Allah Nawaz Kareem, 
258 00:12:44,320 --> 00:12:45,900 was the father of Jahangir Kareem. 
259 00:12:46,420 --> 00:12:47,280 After this phone conversation, 
260 00:12:47,840 --> 00:12:49,880 DIG Karachi left his house immediately, 
261 00:12:50,020 --> 00:12:51,500 and Commissioner Karachi also left his house. 
262 00:12:52,880 --> 00:12:54,700 No news had come out until they reached Qasim Fatima, 
263 00:12:57,540 --> 00:12:59,520 and this time was almost two quarters. 
264 00:13:00,300 --> 00:13:02,140 Here I would like to tell you that 
265 00:13:02,140 --> 00:13:04,480 Fatima Jinnah and Qaid-e-Azam, 
266 00:13:04,660 --> 00:13:08,360 who our nation considers to be only two siblings, 
267 00:13:08,640 --> 00:13:10,780 they were actually seven siblings, 
268 00:13:11,120 --> 00:13:12,760 four sisters and three brothers. 
269 00:13:13,360 --> 00:13:15,580 I would like to make a detailed video about them, 
270 00:13:15,620 --> 00:13:16,840 starting from Qaid-e-Azam's grandfather, 
271 00:13:17,620 --> 00:13:18,760 and tell you about their family history. 
272 00:13:20,280 --> 00:13:22,120 If you want me to discuss this, 
273 00:13:22,160 --> 00:13:23,620 kindly let me know in the comments. 
274 00:13:24,540 --> 00:13:28,000 Qaid-e-Azam's family, or Fatima Jinnah's family, 
275 00:13:28,000 --> 00:13:30,380 was spread across India and the rest of the country. 
276 00:13:31,900 --> 00:13:32,940 This sister and brother, 
277 00:13:33,600 --> 00:13:34,860 who were present in Karachi, 
278 00:13:35,180 --> 00:13:36,080 were informed immediately. 
279 00:13:36,680 --> 00:13:37,720 Who informed them? 
280 00:13:38,240 --> 00:13:39,140 It was not written anywhere, 
281 00:13:39,420 --> 00:13:40,120 nothing was known. 
282 00:13:40,840 --> 00:13:42,880 In my opinion, it was Lady Qaid-e-Azam 
283 00:13:42,880 --> 00:13:44,180 who informed her sisters. 
284 00:13:45,400 --> 00:13:48,160 At that time, there was one sister 
285 00:13:48,160 --> 00:13:49,340 and one brother of Fatima Jinnah in Karachi. 
286 00:13:50,080 --> 00:13:50,940 This news spread in the Jinnah family 
287 00:13:52,760 --> 00:13:54,720 that Fatima Jinnah has passed away. 
288 00:13:55,440 --> 00:13:57,640 Fatima Jinnah was a very well-known figure. 
289 00:13:58,340 --> 00:13:59,960 That is why this news spread like wildfire 
290 00:14:01,020 --> 00:14:01,540 in the city. 
291 00:14:02,220 --> 00:14:04,120 However, this news came out 
292 00:14:04,120 --> 00:14:04,240 from the government. 
293 00:14:04,900 --> 00:14:06,020 Because at that time, 
294 00:14:06,220 --> 00:14:08,260 it was the death of a very well-known woman. 
295 00:14:09,220 --> 00:14:10,260 Now, it was the responsibility of the government 
296 00:14:11,340 --> 00:14:12,640 to take care of her funeral. 
297 00:14:15,920 --> 00:14:17,680 That is why a government official 
298 00:14:17,680 --> 00:14:19,920 called the office of her community. 
299 00:14:21,680 --> 00:14:22,900 That is, the Jinnah family, 
300 00:14:22,980 --> 00:14:24,600 because Asna-e-Ashri Shia 
301 00:14:24,600 --> 00:14:26,500 belonged to the Khawja family. 
302 00:14:27,000 --> 00:14:28,860 It was called to her office 
303 00:14:28,860 --> 00:14:31,820 so that the people of the Khawja community 
304 00:14:31,820 --> 00:14:33,280 could come for the funeral 
305 00:14:33,280 --> 00:14:33,840 or send the Ghussals 
306 00:14:34,280 --> 00:14:35,320 so that they could be washed 
307 00:14:36,300 --> 00:14:38,600 and the funeral procession 
308 00:14:38,600 --> 00:14:39,060 could also be completed. 
309 00:14:39,820 --> 00:14:41,920 From this office of the Khawja community, 
310 00:14:42,440 --> 00:14:43,300 a man named Muslim Chadiu 
311 00:14:44,220 --> 00:14:46,240 called Haji Hidayatullah, 
312 00:14:46,480 --> 00:14:48,640 who was an elderly man who used to wash. 
313 00:14:48,640 --> 00:14:50,340 This Haji Hidayatullah 
314 00:14:50,340 --> 00:14:53,600 is known as Haji Kallu in history. 
315 00:14:53,600 --> 00:14:55,600 This Haji Kallu appointed 
316 00:14:56,220 --> 00:14:59,540 three women Ghussals 
317 00:14:59,540 --> 00:15:00,680 on the command of the community. 
318 00:15:01,260 --> 00:15:02,240 Fatima Syed, 
319 00:15:02,720 --> 00:15:03,500 Fatima Qasim 
320 00:15:03,500 --> 00:15:05,960 and Fatima Mirjubai. 
321 00:15:06,620 --> 00:15:07,700 Look at the miracle of nature 
322 00:15:07,700 --> 00:15:11,260 that these three women Ghussals 
323 00:15:11,260 --> 00:15:12,260 who were going to wash 
324 00:15:12,260 --> 00:15:14,000 the dead women, 
325 00:15:14,480 --> 00:15:15,960 their names were Fatima 
326 00:15:15,960 --> 00:15:17,280 and the name of the deceased 
327 00:15:17,280 --> 00:15:18,880 was also Fatima. 
328 00:15:19,620 --> 00:15:20,660 So, these three Fatimas 
329 00:15:20,660 --> 00:15:21,680 were going to wash Fatima. 
330 00:15:30,160 --> 00:15:31,520 These three women 
331 00:15:34,560 --> 00:15:36,300 Because Fatima Jinnah 
332 00:15:36,300 --> 00:15:38,600 was also present in her room 
333 00:15:38,600 --> 00:15:40,520 and in her bed at that time. 
334 00:15:40,700 --> 00:15:41,360 The people who wrote in the past 
335 00:15:41,360 --> 00:15:43,800 have drawn her picture 
336 00:15:43,800 --> 00:15:46,160 by saying that when they 
337 00:15:46,160 --> 00:15:47,140 reached her room with Lady Hidayatullah 
338 00:15:48,360 --> 00:15:50,080 then both the doctors 
339 00:15:50,080 --> 00:15:50,600 also became sick. 
340 00:15:51,240 --> 00:15:51,780 The people who wrote in the past 
341 00:15:51,780 --> 00:15:53,020 have written that when the doctors 
342 00:15:53,020 --> 00:15:54,060 saw the scene of the room 
343 00:15:54,060 --> 00:15:55,160 they were shocked. 
344 00:15:56,020 --> 00:15:57,540 Commissioner Karachi had already 
345 00:15:57,540 --> 00:16:00,480 given the order that all the people 
346 00:16:00,480 --> 00:16:01,940 present here will not 
347 00:16:01,940 --> 00:16:03,220 utter a word. 
348 00:16:04,840 --> 00:16:06,340 No servant was allowed to leave 
349 00:16:06,340 --> 00:16:06,760 the room. 
350 00:16:08,000 --> 00:16:09,260 The police were also present 
351 00:16:09,260 --> 00:16:09,600 there. 
352 00:16:09,600 --> 00:16:10,660 The doctors 
353 00:16:10,660 --> 00:16:11,520 who were present there 
354 00:16:11,520 --> 00:16:14,180 also became sick. 
355 00:16:15,390 --> 00:16:16,340 These same doctors 
356 00:16:16,340 --> 00:16:17,300 in the same room 
357 00:16:17,300 --> 00:16:19,680 of Fatima Jinnah 
358 00:16:19,680 --> 00:16:21,860 issued a certificate 
359 00:16:21,860 --> 00:16:23,860 which stated the reason of death 
360 00:16:23,860 --> 00:16:27,820 as cardiorespiratory failure 
361 00:16:27,820 --> 00:16:29,940 i.e. heart attack. 
362 00:16:30,360 --> 00:16:31,260 This certificate 
363 00:16:31,260 --> 00:16:34,300 was issued within a few hours 
364 00:16:34,300 --> 00:16:35,040 of their visit 
365 00:16:35,040 --> 00:16:36,460 to the lady's house. 
366 00:16:39,600 --> 00:16:40,320 Lady Hidayatullah 
367 00:16:40,320 --> 00:16:41,300 was a strong woman 
368 00:16:41,300 --> 00:16:43,220 but she became sick 
369 00:16:43,220 --> 00:16:43,320 after seeing the condition 
370 00:16:43,320 --> 00:16:44,520 of her best friend. 
371 00:16:47,300 --> 00:16:47,880 She called Noor-e-Saba 
372 00:16:47,880 --> 00:16:49,640 for her support 
373 00:16:49,640 --> 00:16:52,340 as there was no woman 
374 00:16:52,340 --> 00:16:53,280 present there at that time. 
375 00:16:53,720 --> 00:16:56,020 A writer named 
376 00:16:56,020 --> 00:16:57,080 Shakir Hussain Shakir 
377 00:16:57,080 --> 00:16:57,180 wrote in a private meeting 
378 00:16:57,180 --> 00:17:01,940 that when Lady Hidayatullah 
379 00:17:01,940 --> 00:17:03,940 broke the door of the room 
380 00:17:03,940 --> 00:17:06,079 Lady Hidayatullah 
381 00:17:06,079 --> 00:17:06,680 was bedridden 
382 00:17:06,680 --> 00:17:07,839 and Noor-e-Saba 
383 00:17:07,839 --> 00:17:09,119 was also bedridden. 
384 00:17:09,960 --> 00:17:10,359 She was bedridden 
385 00:17:10,359 --> 00:17:10,760 while sitting on her bed. 
386 00:17:14,220 --> 00:17:16,359 Both Lady Hidayatullah 
387 00:17:16,359 --> 00:17:18,640 and Noor-e-Saba saw 
388 00:17:18,640 --> 00:17:19,740 that the door of their room 
389 00:17:19,740 --> 00:17:21,020 was broken 
390 00:17:22,740 --> 00:17:24,740 but the door of 
391 00:17:25,940 --> 00:17:27,440 the dressing room 
392 00:17:27,440 --> 00:17:27,540 on the opposite side 
393 00:17:27,540 --> 00:17:29,100 was open 
394 00:17:29,100 --> 00:17:30,460 and the door 
395 00:17:30,460 --> 00:17:31,200 of the dressing room 
396 00:17:31,200 --> 00:17:32,940 on the terrace 
397 00:17:35,560 --> 00:17:36,900 was also open. 
398 00:17:37,340 --> 00:17:38,080 Lady Hidayatullah 
399 00:17:38,080 --> 00:17:39,660 used to lock 
400 00:17:39,660 --> 00:17:41,940 the terrace door 
401 00:17:43,620 --> 00:17:44,980 and also 
402 00:17:44,980 --> 00:17:47,260 lock the dressing room 
403 00:17:48,060 --> 00:17:48,800 and used to sleep 
404 00:17:48,800 --> 00:17:50,020 with the room fully packed 
405 00:17:50,860 --> 00:17:52,740 while both the doors were open. 
406 00:17:53,760 --> 00:17:54,560 Lady Hidayatullah 
407 00:17:54,560 --> 00:17:56,180 was bedridden 
408 00:19:51,280 --> 00:19:56,740 Ghori Chitti Mohd. Fatima Jinnah, who after her natural death turned even more pale, 
409 00:19:57,440 --> 00:19:58,800 her body had turned blue. 
410 00:19:59,760 --> 00:20:03,160 On her right cheek, straight cheek or right cheek, 
411 00:20:03,620 --> 00:20:07,260 there were signs of severe swelling and finger marks. 
412 00:20:07,780 --> 00:20:10,940 As if she had been slapped on the face. 
413 00:20:11,760 --> 00:20:15,860 There was a mark of a hand on her neck, as if her neck had been pressed. 
414 00:20:15,860 --> 00:20:20,920 My uncle, who was with her, Shaukat Hayat Khan, from Muslim League, 
415 00:20:21,840 --> 00:20:29,040 he used to swear that there were marks of strangulation on his neck. 
416 00:20:29,200 --> 00:20:31,040 Her neck was swollen. 
417 00:20:31,860 --> 00:20:34,180 And apart from that, there were signs of injury on her knees. 
418 00:20:35,620 --> 00:20:39,920 And on her body, in many places, there was a blue mark, 
419 00:20:39,920 --> 00:20:41,680 as if she had been beaten very badly. 
420 00:20:42,560 --> 00:20:46,060 On her neck, on the right side, there was a 4-inch cut, 
421 00:20:46,580 --> 00:20:47,700 from which blood had flowed and had frozen. 
422 00:20:48,520 --> 00:20:50,000 And this wound was stitched with a thread. 
423 00:20:51,420 --> 00:20:53,600 And apart from that, on the right side of her stomach, 
424 00:20:54,600 --> 00:20:58,060 there was a very fine hole, as if someone had hit something, 
425 00:20:58,460 --> 00:20:59,940 a fine needle or something. 
426 00:21:00,760 --> 00:21:05,820 And from that place, blood, pus, and a strange smell was coming out, 
427 00:21:06,020 --> 00:21:06,920 which was very smelly. 
428 00:21:06,920 --> 00:21:11,620 Due to the smell of blood, there was a bad smell in the air of the room. 
429 00:21:13,500 --> 00:21:15,000 Fatima Syed had told me all these things. 
430 00:21:15,120 --> 00:21:16,680 And what Fatima Syed had to say was that, 
431 00:21:16,860 --> 00:21:19,600 Respected Fatima Jinnah's entire clothes were stained with blood. 
432 00:21:20,640 --> 00:21:23,760 And apart from that, her bedsheet was also turning red with blood. 
433 00:21:24,460 --> 00:21:26,460 Even though she did not want to, she washed it there. 
434 00:21:27,080 --> 00:21:27,540 She buried the dead body. 
435 00:21:29,460 --> 00:21:33,020 And after that, all three of them came out and tried to investigate again. 
436 00:21:33,020 --> 00:21:37,180 One of the government officials there threatened them, 
437 00:21:37,640 --> 00:21:40,420 that keep your mouth shut, otherwise this will happen to you as well. 
438 00:21:40,800 --> 00:21:42,780 Saying this, they were asked to leave. 
439 00:21:43,820 --> 00:21:48,200 Fatima Syed was more sensible among the three women who washed the bodies. 
440 00:21:48,500 --> 00:21:49,960 Before leaving, she said that, 
441 00:21:50,040 --> 00:21:53,170 Respected Fatima Jinnah's shirt and that blood-stained bedsheet, 
442 00:21:53,780 --> 00:21:55,800 which she had brought with her to wash, 
443 00:21:56,160 --> 00:21:57,820 she kept it in that bag and left. 
444 00:21:59,360 --> 00:22:01,620 Or before leaving, she took it with her. 
445 00:22:01,620 --> 00:22:04,300 So that if ever she needed it, she could present it as evidence. 
446 00:22:06,140 --> 00:22:07,860 But she was later threatened, 
447 00:22:08,280 --> 00:22:09,800 because of which she got scared. 
448 00:22:10,260 --> 00:22:12,000 And then she kept eating the food inside. 
449 00:22:12,860 --> 00:22:17,360 And then in 1971, on 17th January 1971, 
450 00:22:18,660 --> 00:22:20,620 her statement was presented as evidence in front of the court. 
451 00:22:22,140 --> 00:22:23,200 Now, according to my experience, 
452 00:22:23,720 --> 00:22:24,800 I will illustrate this whole matter. 
453 00:22:26,160 --> 00:22:27,900 This was an open and shut case. 
454 00:22:28,360 --> 00:22:30,380 And it could have easily led to murder. 
455 00:22:32,180 --> 00:22:35,320 But literally, the evidence was erased here. 
456 00:22:36,800 --> 00:22:38,780 No photography was taken here, 
457 00:22:39,460 --> 00:22:41,120 which is taken at that time as well, 
458 00:22:41,560 --> 00:22:42,820 of any murder investigation. 
459 00:22:44,280 --> 00:22:46,400 It is done by forensic, nothing of that sort was done. 
460 00:22:47,640 --> 00:22:48,920 No post-mortem was done. 
461 00:22:49,960 --> 00:22:51,180 Within the next few hours, 
462 00:22:52,240 --> 00:22:55,120 her death certificate was also made and presented, 
463 00:22:55,340 --> 00:22:57,040 in which the heart attack was shown. 
464 00:22:57,040 --> 00:22:58,800 All of this was not like that. 
465 00:22:59,220 --> 00:23:02,660 In fact, there was an entire lobby behind it. 
466 00:23:03,140 --> 00:23:05,100 Respected Fatima, what I think, 
467 00:23:05,480 --> 00:23:07,260 and as much as my mind works, 
468 00:23:07,960 --> 00:23:11,620 and as much as I can visualize this scene, 
469 00:23:13,620 --> 00:23:17,140 is that when Respected Fatima Jinnah came to her room, 
470 00:23:18,520 --> 00:23:20,520 then that murderer, whoever he was, 
471 00:23:20,720 --> 00:23:22,380 he was already there at that time. 
472 00:23:22,660 --> 00:23:25,480 And he was waiting for Respected Fatima Jinnah to come in, 
473 00:23:25,480 --> 00:23:27,300 and attack her. 
474 00:23:27,320 --> 00:23:29,460 As soon as Respected Fatima Jinnah locked her door, 
475 00:23:30,520 --> 00:23:31,400 she was attacked at the same time. 
476 00:23:32,000 --> 00:23:33,820 Respected Fatima Jinnah was an old woman, 
477 00:23:34,800 --> 00:23:35,640 she tried to resist, 
478 00:23:37,060 --> 00:23:38,520 she was beaten up, 
479 00:23:38,560 --> 00:23:39,320 she was kicked and punched. 
480 00:23:40,460 --> 00:23:41,860 In which she fell again and again, 
481 00:23:42,040 --> 00:23:43,700 and because of that, her knees were torn. 
482 00:23:45,940 --> 00:23:47,660 This Fatima Syed also witnessed her knees being torn. 
483 00:23:48,000 --> 00:23:51,080 Respected Fatima Jinnah also collided with the furniture in the room, 
484 00:23:51,480 --> 00:23:53,400 which had blue marks on her body. 
485 00:23:54,300 --> 00:23:55,940 In this same room, 
486 00:23:56,640 --> 00:23:58,740 whatever was there, 
487 00:23:58,760 --> 00:24:00,980 which Fatima Syed referred to as a fine hole, 
488 00:24:02,080 --> 00:24:02,940 I think, 
489 00:24:03,320 --> 00:24:04,860 it was either a needle of a ball, 
490 00:24:06,640 --> 00:24:07,960 or something else, 
491 00:24:08,360 --> 00:24:10,360 which Respected Fatima used to keep in her room. 
492 00:24:11,560 --> 00:24:13,100 That thing was picked up by the murderer, 
493 00:24:13,580 --> 00:24:14,540 and he gave it to her in her stomach. 
494 00:24:15,080 --> 00:24:16,360 That too, straight to her hand. 
495 00:24:16,600 --> 00:24:19,780 A fine hole, in which blood and a mother were coming out. 
496 00:24:21,200 --> 00:24:22,160 Doctors know this, 
497 00:24:22,160 --> 00:24:25,860 that blood and a mother are only kept upstairs. 
498 00:24:26,380 --> 00:24:27,980 If an intestine is hit inside, 
499 00:24:28,340 --> 00:24:28,900 it gets punctured, 
500 00:24:29,520 --> 00:24:32,460 and a mother in the intestine, 
501 00:24:32,460 --> 00:24:33,440 which Respected Allah has kept, 
502 00:24:33,540 --> 00:24:34,380 which is very smelly, 
503 00:24:34,720 --> 00:24:36,820 it moves the food inside. 
504 00:24:37,540 --> 00:24:39,380 So, that mother came out with blood and a mother, 
505 00:24:39,380 --> 00:24:43,080 and she made the room smelly. 
506 00:24:43,520 --> 00:24:44,900 That mother was coming out. 
507 00:24:45,340 --> 00:24:48,780 So, it was 99.99% that her intestine was punctured. 
508 00:24:50,960 --> 00:24:53,340 Doctors can tell this in more detail, 
509 00:24:53,500 --> 00:24:55,440 and those who are associated with this profession, 
510 00:24:55,820 --> 00:24:57,640 also know that it must be an intestine. 
511 00:24:58,740 --> 00:25:00,000 We will see one more thing, 
512 00:25:00,300 --> 00:25:01,340 that Respected Fatima Jinnah, 
513 00:25:01,560 --> 00:25:03,400 had marks of slaps on her right cheek. 
514 00:25:04,580 --> 00:25:05,260 It was not on the opposite side, 
515 00:25:05,520 --> 00:25:06,180 it was on the straight side. 
516 00:25:06,380 --> 00:25:09,400 It means that the murderer was left-handed. 
517 00:25:09,980 --> 00:25:12,680 If you are a right-hander, 
518 00:25:13,040 --> 00:25:14,240 then if someone slaps you, 
519 00:25:14,380 --> 00:25:15,820 will you give the right punch first, 
520 00:25:17,380 --> 00:25:18,760 or will you give the right slap first? 
521 00:25:18,760 --> 00:25:20,500 Because you have a strong hand. 
522 00:25:20,800 --> 00:25:22,040 So, Respected Fatima Jinnah, 
523 00:25:22,100 --> 00:25:23,960 who was hit, was on the straight cheek. 
524 00:25:24,300 --> 00:25:25,200 It means that if she was in front, 
525 00:25:25,460 --> 00:25:27,860 then her straight cheek was in the left hand. 
526 00:25:28,800 --> 00:25:30,880 So, she was caught and slapped. 
527 00:25:31,880 --> 00:25:33,360 And there was a mark on her neck, 
528 00:25:34,060 --> 00:25:35,400 which was of the grip, on the neck. 
529 00:25:36,280 --> 00:25:37,580 Not everyone marks it. 
530 00:25:38,640 --> 00:25:39,660 So, she was pressed from the neck, 
531 00:25:40,520 --> 00:25:42,040 and slaps were slapped on her. 
532 00:25:42,480 --> 00:25:44,200 And she must have argued on something. 
533 00:25:44,580 --> 00:25:47,720 So, a dagger or any sharp weapon, 
534 00:25:47,840 --> 00:25:48,740 which the murderer had with him, 
535 00:25:49,400 --> 00:25:51,940 was hit on the right side of her neck. 
536 00:25:52,640 --> 00:25:53,260 It was a 4-inch dagger. 
537 00:25:53,460 --> 00:25:54,400 Because a 4-inch dagger is made 
538 00:25:54,400 --> 00:25:55,180 with a lot of difficulty. 
539 00:25:55,600 --> 00:25:56,420 It was a 4-inch cross. 
540 00:25:57,960 --> 00:25:59,400 You can imagine, 
541 00:25:59,580 --> 00:26:01,400 if it was hit on the right side, 
542 00:26:01,640 --> 00:26:02,900 then it was hit from the left hand. 
543 00:26:03,740 --> 00:26:05,700 And it was never hit like this. 
544 00:26:06,460 --> 00:26:07,620 Whenever the murderer attacks, 
545 00:26:08,140 --> 00:26:09,060 he does a shrag, 
546 00:26:10,120 --> 00:26:11,220 from top to bottom. 
547 00:26:11,920 --> 00:26:13,460 No one will do it like this, 
548 00:26:13,600 --> 00:26:15,920 or like this, or like this. 
549 00:26:15,920 --> 00:26:16,700 It was a shrag. 
550 00:26:17,220 --> 00:26:18,380 So, a 4-inch dagger is made. 
551 00:26:18,940 --> 00:26:19,760 It was a 4-inch dagger. 
552 00:26:19,780 --> 00:26:20,660 It was very difficult. 
553 00:26:21,000 --> 00:26:22,040 It was not hit like this. 
554 00:26:23,180 --> 00:26:24,300 It was a straight cross. 
555 00:26:25,540 --> 00:26:26,940 So, this was the mark of a 4-inch dagger. 
556 00:26:28,440 --> 00:26:30,080 And Mahtaba Fawla Jinnah, 
557 00:26:30,460 --> 00:26:31,100 may Allah have mercy on her soul, 
558 00:26:31,880 --> 00:26:32,600 was also slapped on her neck. 
559 00:26:33,420 --> 00:26:34,040 Maybe later, 
560 00:26:35,000 --> 00:26:36,040 one of the senior doctors 
561 00:26:36,040 --> 00:26:36,900 saw this. 
562 00:26:37,440 --> 00:26:40,660 Because the murderer must have been 
563 00:26:40,660 --> 00:26:41,380 a professional. 
564 00:26:41,600 --> 00:26:42,840 I don't think he was a murderer. 
565 00:26:43,380 --> 00:26:46,520 And a murderer doesn't have enough time 
566 00:26:46,520 --> 00:26:47,940 to cut a person's throat 
567 00:26:47,940 --> 00:26:49,480 and then release him. 
568 00:26:50,460 --> 00:26:51,180 Maybe later, 
569 00:26:51,680 --> 00:26:52,240 one of the senior doctors 
570 00:26:52,240 --> 00:26:53,020 saw this. 
571 00:26:56,620 --> 00:26:58,800 We will talk about those 
572 00:26:58,800 --> 00:26:59,580 who are part of the record. 
573 00:27:00,420 --> 00:27:01,540 These two doctors came. 
574 00:27:02,280 --> 00:27:03,380 So, this was the whole scene. 
575 00:27:04,020 --> 00:27:05,160 And Mahtaba Fatima Jinnah 
576 00:27:05,160 --> 00:27:07,320 didn't sit on a bed and fall. 
577 00:27:07,320 --> 00:27:09,180 Rather, after resisting, 
578 00:27:10,420 --> 00:27:11,580 she was pushed 
579 00:27:11,580 --> 00:27:12,420 and fell on a bed. 
580 00:27:13,760 --> 00:27:15,020 She didn't sit on a bed 
581 00:27:15,020 --> 00:27:16,620 because if she did, 
582 00:27:18,120 --> 00:27:19,720 her legs would have 
583 00:27:19,720 --> 00:27:20,700 been hanging out of the bed. 
584 00:27:21,540 --> 00:27:23,980 So, her legs were not hanging 
585 00:27:24,260 --> 00:27:25,680 Rather, she was on a bed. 
586 00:27:26,340 --> 00:27:28,460 If the murder was done 
587 00:27:28,460 --> 00:27:28,560 in a proper manner, 
588 00:27:30,180 --> 00:27:32,500 then it was not difficult 
589 00:27:32,500 --> 00:27:32,700 to catch the murderer. 
590 00:27:32,700 --> 00:27:34,120 But neither was there 
591 00:27:34,120 --> 00:27:34,340 any attention 
592 00:27:34,340 --> 00:27:37,840 nor was there any 
593 00:27:37,840 --> 00:27:39,260 intention to catch the murderer. 
594 00:27:42,480 --> 00:27:45,720 There were two important 
595 00:27:45,720 --> 00:27:46,200 points in the will 
596 00:27:46,200 --> 00:27:46,760 Number one, 
597 00:27:48,260 --> 00:27:50,740 Mahtaba Fatima Jinnah should be 
598 00:27:50,740 --> 00:27:52,340 given a medical university 
599 00:27:52,340 --> 00:27:53,440 for her. 
600 00:27:55,520 --> 00:27:56,480 Secondly, 
601 00:27:56,820 --> 00:27:57,460 in her will, 
602 00:27:58,740 --> 00:27:59,220 she should be given 
603 00:27:59,220 --> 00:27:59,320 a proper burial 
604 00:27:59,320 --> 00:27:59,860 with Qaid-e-Azam. 
605 00:28:03,720 --> 00:28:04,760 These were the two points 
606 00:28:04,760 --> 00:28:05,540 in her will. 
607 00:28:07,780 --> 00:28:08,880 Burying her with Qaid-e-Azam 
608 00:28:09,960 --> 00:28:10,800 means that the people 
609 00:28:10,800 --> 00:28:12,800 at Qaid-e-Azam's grave 
610 00:28:14,060 --> 00:28:15,120 are buried right below 
611 00:28:15,120 --> 00:28:16,760 the talisman of Qaid-e-Azam. 
612 00:28:17,940 --> 00:28:20,680 They are buried right 
613 00:28:20,680 --> 00:28:21,860 next to Qaid-e-Azam. 
614 00:28:22,180 --> 00:28:24,480 But her second will was not 
615 00:28:24,480 --> 00:28:25,560 heard or accepted. 
616 00:28:25,560 --> 00:28:27,060 During the burial, 
617 00:28:27,660 --> 00:28:28,560 the government 
618 00:28:28,560 --> 00:28:30,180 put a lot of pressure. 
619 00:28:30,700 --> 00:28:31,460 By 10th July, 
620 00:28:31,900 --> 00:28:33,440 the news had spread 
621 00:28:33,440 --> 00:28:34,860 that Mahtaba Fatima Jinnah 
622 00:28:34,860 --> 00:28:35,440 had been martyred. 
623 00:28:36,520 --> 00:28:38,900 This was happening 
624 00:28:38,900 --> 00:28:41,120 on 9th July. 
625 00:28:42,320 --> 00:28:44,040 Now we are talking about 
626 00:28:44,040 --> 00:28:44,300 the day of Peer. 
627 00:28:45,340 --> 00:28:47,100 A lot of people 
628 00:28:48,160 --> 00:28:49,780 wanted to know 
629 00:28:49,780 --> 00:28:51,000 what had happened. 
630 00:28:53,060 --> 00:28:54,380 Mahtaba Fatima Jinnah 
631 00:28:54,380 --> 00:28:55,000 was shocked to hear 
632 00:28:56,600 --> 00:28:57,580 that she had been martyred. 
633 00:28:58,280 --> 00:28:59,020 She had had a heart attack. 
634 00:28:59,720 --> 00:29:00,220 On 10th July, 
635 00:29:00,760 --> 00:29:02,060 the whole of Pakistan knew 
636 00:29:02,060 --> 00:29:03,660 that Mahtaba Fatima Jinnah 
637 00:29:03,660 --> 00:29:07,160 was no longer a member 
638 00:29:09,380 --> 00:29:12,500 Only a few elite families 
639 00:29:12,500 --> 00:29:12,860 knew about this. 
640 00:29:12,860 --> 00:29:13,880 Till the afternoon of 2nd July, 
641 00:29:16,060 --> 00:29:17,380 all matters were under 
642 00:29:17,380 --> 00:29:18,220 the control of the government. 
643 00:29:18,220 --> 00:29:19,140 But in the afternoon, 
644 00:29:21,960 --> 00:29:23,940 when it was announced 
645 00:29:23,940 --> 00:29:25,560 that Mahtaba Fatima Jinnah 
646 00:29:25,560 --> 00:29:26,960 would be buried 
647 00:29:26,960 --> 00:29:27,080 in the graveyard of 
648 00:29:27,080 --> 00:29:27,560 Mewa Shah. 
649 00:29:29,300 --> 00:29:31,340 The government did not want 
650 00:29:31,340 --> 00:29:33,380 Mahtaba Fatima Jinnah to be buried 
651 00:29:33,380 --> 00:29:34,300 in the graveyard. 
652 00:29:38,320 --> 00:29:39,520 This was a matter 
653 00:29:39,520 --> 00:29:42,540 that created a lot of 
654 00:29:42,540 --> 00:29:43,920 anger and pressure 
655 00:29:43,920 --> 00:29:44,120 in Karachi. 
656 00:29:45,420 --> 00:29:47,000 The commissioner of Karachi 
657 00:29:47,000 --> 00:29:48,960 was very much 
658 00:29:48,960 --> 00:29:50,040 concerned about this matter. 
659 00:29:50,400 --> 00:29:50,980 Darbar Ali, 
660 00:29:52,140 --> 00:29:52,300 the D.I.G. 
661 00:29:52,300 --> 00:29:53,340 of Karachi, 
662 00:29:56,620 --> 00:29:58,000 the commissioner of Karachi 
663 00:29:58,000 --> 00:29:58,980 and Isfahan


مکمل تحریر >>

بلاگ میں مزید دیکھیں

You might like

$results={5}

Search me

Translate