9/3/26

دولت کی ذہنیت: ہم کس طرح برتاؤ کر رہے ہیں اور کس طرح کرنا چاہیے؟ – ہم خود مہنگائی کے ذمہ دار ہیں!

سلام علیکم دوستو!  
میں مرتضیٰ معیز ہوں (@MoizMurtaza)، کراچی کا رہنے والا۔ آج مجھے شدید غصہ ہے۔ ایک یوٹیوب شارٹ "The Wealth Mindset" دیکھا جو SUNK COST چینل کا ہے، اور یہ شارٹ ہمیں آئینہ دکھا رہا ہے کہ ہم پاکستانی کس طرح دولت اور کامیابی کے معاملے میں برتاؤ کر رہے ہیں۔ یہ شارٹ ایک سادہ کہانی ہے جو ہمیں بتاتی ہے کہ ہم بچت اور سرمایہ کاری کی ذہنیت کو چھوڑ کر صرف دکھاوے اور کھپت کی کلچر کو فروغ دے رہے ہیں۔ اور یہ برتاؤ ہماری مہنگائی کا سب سے بڑا سبب ہے! ہم خود اسے پیدا کر رہے ہیں، اور پھر الزام دوسروں پر ڈالتے ہیں۔ یہ intellectual dishonesty ہے، اور مجھے اس پر شدید غصہ ہے۔ یہ میرا اپنا لکھا ہوا ہے، دل کی بات اور روزمرہ کے مشاہدات کی بنیاد پر – کوئی AI نہیں، بس وہ حقیقت جو ہمیں جھنجھوڑتی ہے اور بدلنے پر مجبور کرتی ہے۔

شارٹ کی کہانی کیا ہے؟

شارٹ میں دو لوگوں کی کہانی ہے: لوقا اور ڈیلن۔  
لوقا ایک سڑک کا بیچنے والا ہے جو دن بھر محنت کرتا ہے، کمر درد کرتی ہے، پاؤں سوج جاتے ہیں، لیکن جیب خالی رہتی ہے۔ وہ ڈیلن کو دیکھ کر حسد کرتا ہے، جو ایک خودساختہ کروڑ پتی ہے اور لگژری کار میں گزرتا ہے۔ لوقا سوچتا ہے کہ "یہ تو خوش قسمت ہے، اگر ہم دونوں ایک جیسے شروعات سے شروع کریں تو میں اس سے بہتر ہوں گا"۔  

پھر ایک چیلنج آتا ہے: دونوں کو ایک ہی پوزیشن میں ڈالا جاتا ہے – ایک کریٹ سیب اور 50 ڈالر۔ دیکھیں کون آگے نکلتا ہے۔  

لوقا اپنے سیب 1 ڈالر میں بیچتا ہے، 20 سیب بیچ کر 20 ڈالر کماتا ہے، اور اسے ایک مہنگے سٹیک ڈنر پر خرچ کر دیتا ہے۔ سوچتا ہے "میں نے محنت کی، میں اس کا مستحق ہوں"۔  

ڈیلن سیبوں کو چمکاتا ہے، انہیں ٹکڑوں میں کاٹ کر 2 ڈالر میں بیچتا ہے، یعنی اپنے کلائنٹس کو کچھ نا کچھ value-added فراہم کیں، جس کی وجہ سے۔ جلدی بیچ کر کمائی بچاتا ہے، ایک سستی روٹی کھاتا ہے، اور باقی پیسے بچا لیتا ہے۔  

5 دنوں میں لوقا کے سیب خراب ہونے لگتے ہیں، وہ مایوس ہو کر قیمتیں کم کرتا ہے، اور بس کھانے پینے تک محدود رہتا ہے۔  

ڈیلن اپنی کمائی سے مزید کریٹ خریدتا ہے، جم والوں کو صحت بخش سنیکس دیتا ہے، ایک طالب علم کو کمیشن پر ڈلیوری کے لیے رکھتا ہے، اور کاروبار بڑھاتا ہے، یہاں یہ بات بتانا چاہوں گا کہ کاروباری ذہنیت کے لئے کلائنٹس کو اپنی پروڈکٹ کو کسی نا کسی طرح کی value-added فراہم کرنے پر تلا ہوا تھا۔  

آخری دن لوقا خالی کریٹ پر بیٹھا ہے، اس کے 50 ڈالر ختم ہو چکے ہیں۔ ڈیلن ایک چھوٹا کاروبار بنا کر 2000 ڈالر کما چکا ہے۔  

پیغام: لوقا نے سیبوں کو "کھانا" سمجھا، ڈیلن نے انہیں "بیج" سمجھا۔ غریب اپنی کمائی خرچ کر کے امیر لگنے کی کوشش کرتے ہیں، امیر اپنی کمائی سرمایہ کاری کر کے امیر بنتے ہیں۔

ہم کیسے برتاؤ کر رہے ہیں؟ – دکھاوے اور کھپت کی کلچر جو مہنگائی کو ہوا دے رہی ہے

دوستو، یہ کہانی ہماری ہے۔ ہم لوقا کی طرح ہیں، اور مجھے اس پر شدید غصہ ہے:  
- ہم محنت کرتے ہیں، لیکن کمائی کو دکھاوے پر خرچ کر دیتے ہیں۔ "میں مستحق ہوں" کہہ کر مہنگی چیزیں خریدتے ہیں، بچت نہیں کرتے۔ کراچی کی سڑکوں پر دیکھیں – ٹریفک جام، لیکن لوگ Hilux جیسی گاڑیاں چلاتے ہیں جو سڑکوں کے لیے موزوں ہی نہیں۔ کراچی میں Toyota Hilux ایک سٹیٹس سمبل بن چکی ہے – طاقت، دولت اور دھونس کا نشان۔ کراچی میں 280 سے زیادہ Hilux فروخت کے لیے دستیاب ہیں، اور یہ گاڑیاں سیاستدانوں اور امیر لوگوں کی طرف سے استعمال ہوتی ہیں تاکہ ٹریفک میں آسانی سے نکل سکیں اور دوسروں کو ڈرائیں گے۔ لیکن ہماری سڑکیں اس کے لیے بنی ہی نہیں – گڑھے، ٹوٹی ہوئی، اور ٹریفک کا حال تو سب جانتے ہیں۔ پھر بھی یہ گاڑیاں کیوں؟ صرف دکھاوے کے لیے! یہ Hilux درآمد شدہ ہے یا درآمد شدہ پارٹس سے بنی ہے، جو ہماری معیشت کو کمزور کرتی ہے۔  
- ہم حسد کرتے ہیں – دوسروں کو دیکھ کر سوچتے ہیں "یہ خوش قسمت ہے"، اپنی غلطیوں کو دیکھتے نہیں۔  
- ہم قلیل مدتی خوشی پر فوکس کرتے ہیں – ایک دن کی کمائی پر عیش، اگلے دن کے لیے کچھ نہیں بچاتے۔ کراچی میں لوگ تنخواہ ملتے ہی شاپنگ، ریسٹورنٹس، مہنگی چیزیں – پھر مہینے کے آخر میں قرض لیتے ہیں۔  
- اور سب سے بڑھ کر – ہم دکھاوے اور کھپت کی کلچر کو فروغ دے رہے ہیں۔ Hilux جیسی گاڑیاں خرید کر دکھاوا کرتے ہیں، حالانکہ سڑکیں اسے برداشت نہیں کر سکتیں۔ یہ صرف پیسے کی بربادی نہیں، بلکہ سول ذمہ داری کی خلاف ورزی ہے۔ ہماری سڑکیں ٹوٹی ہوئی ہیں، ٹریفک جام ہے، اور یہ بڑی گاڑیاں ٹریفک کو اور خراب کرتی ہیں، دوسروں کو تکلیف دیتی ہیں۔ یہ صرف affording کا مسئلہ نہیں، بلکہ سماج کے ساتھ ذمہ داری کا ہے – ہم دوسروں کی زندگیوں کو مشکل بنا رہے ہیں صرف اپنے دکھاوے کے لیے۔  

یہ برتاؤ ہماری مہنگائی کا سب سے بڑا سبب ہے۔ جب ہم بچت اور سرمایہ کاری کی بجائے دکھاوے پر پیسہ اڑاتے ہیں، تو درآمد شدہ چیزیں بڑھتی ہیں، روپیہ کمزور ہوتا ہے، اور مہنگائی آسمان چھوتی ہے۔ پاکستان میں مہنگائی کی شرح 2024 میں 12.6 فیصد تھی، اور مئی 2023 میں یہ ریکارڈ 37.97 فیصد تک پہنچ گئی۔ یہ صرف بیرونی عوامل کی وجہ سے نہیں، بلکہ ہمارے صارفین کی خرچ کرنے کی عادت کی وجہ سے ہے – لگژری گاڑیاں، مہنگی چیزیں، دکھاوا۔ یہ ڈیمانڈ پل انفلیشن ہے، جو ہم خود پیدا کر رہے ہیں۔ مجھے شدید غصہ ہے کہ ہم خود اس مہنگائی کے ذمہ دار ہیں، اور پھر الزام حکومت، IMF، یا بیرونی سازشوں پر ڈالتے ہیں۔

ہم کیسا برتاؤ کریں؟ – بچت اور سرمایہ کاری کی ذہنیت اپناؤ

ڈیلن کی طرح بنیں، اور مجھے افسوس ہے کہ ہم یہ نہیں کر رہے:  
- کمائی کو "بیج" سمجھیں – سرمایہ کاری کریں، کاروبار بڑھائیں۔ چھوٹے کاروبار شروع کریں، نوکریاں پیدا کریں، معیشت کو واپس لوٹائیں۔  
- محنت کو چالاکی سے جوڑیں – سیب چمکانا، کاٹنا، ڈلیوری کرنا۔ اپنی کمائی کو ضائع نہ کرو، بلکہ اسے بڑھاؤ۔  
- بچت کریں، سستی روٹی کھائیں اگر ضروری ہو، لیکن مستقبل سوچیں۔ دکھاوے کی بجائے عملی بنیں۔ Hilux جیسی گاڑی خریدنے کی بجائے، سڑکوں کے لیے موزوں گاڑی خریدو، اور باقی پیسہ سرمایہ کاری کرو۔  
- حسد کی بجائے سیکھیں – دوسروں کی کامیابی کو موقع سمجھیں۔  

یہ برتاؤ معیشت کو مضبوط کرے گا۔ نئی نوکریاں، نئی صنعتیں، کم مہنگائی۔ اگر ہم یہ کریں تو مہنگائی کی شرح کم ہوگی، جیسے سنگاپور اور امریکہ میں ہے جہاں کاروباریوں کو سپورٹ ملتی ہے اور مہنگائی 2-4 فیصد رہتی ہے۔  

لیکن ہم؟ ہم دکھاوے میں لگے ہیں، Hilux خرید کر فخر کرتے ہیں جبکہ سڑکیں ٹوٹی ہوئی ہیں، اور سماج کو تکلیف دے رہے ہیں۔ یہ صرف مالی غلطی نہیں، بلکہ سول ذمہ داری کی ناکامی ہے۔ ہم دوسروں کی زندگیوں کو مشکل بنا رہے ہیں صرف اپنے ego کے لیے۔

آخری بات

دوستو، یہ شارٹ ہمیں یاد دلاتا ہے کہ ہم لوقا کی طرح مایوس رہیں گے یا ڈیلن کی طرح امیر بنیں گے؟ ہم خود مہنگائی کے ذمہ دار ہیں – دکھاوے اور کھپت کی کلچر چھوڑو، بچت اور سرمایہ کاری اپناؤ۔ Hilux خریدنے سے پہلے سوچو کہ کیا یہ سماج کے لیے ٹھیک ہے؟  

آپ کیا سوچتے ہیں؟ کیا ہم اب بھی دکھاوے میں لگے رہیں گے، یا بدلیں گے؟ کمنٹس میں بتائیں۔  

مرتضیٰ معیز  
کراچی  
9 مارچ 2026


مکمل تحریر >>

4/3/26

اسرائیل کی ‘8ویں محاذ’ پر تاریخی ناکامی: ایران جنگ، بیانیے کی طاقت اور رفتار پوڈکاسٹ کا مکمل کھول کر میرا زاتی تجزیہ

سلام علیکم، دوستو!

اگر آپ نے بھی گزشتہ ڈیڑھ سال سے اسرائیل-غزہ-لبنان-ایران کی جنگ کو ٹی وی، سوشل میڈیا یا اخبارات میں فالو کیا ہے تو آپ نے یہ ضرور محسوس کیا ہوگا کہ فوجی کامیابی اور عالمی رائے عامہ دو بالکل مختلف میدان ہیں۔ رفتار چینل کا تازہ ترین پوڈکاسٹ "Iran War & Israel's 8th Front: Military Power vs Public Perception" بالکل اسی خلا کو بھرتا ہے۔ یہ کوئی عام نیوز کلپ نہیں، بلکہ ایک گہرا، منطقی اور حقیقت پسندانہ تجزیہ ہے جو تقریباً ۵۰-۵۵ منٹ پر محیط ہے۔

میں نے اسے دو بار دیکھا ہے۔ پہلی بار صرف سننے کے لیے، دوسری بار نوٹس لے کر۔ آج میں اسے آپ کے سامنے مکمل طور پر کھول کر پیش کر رہا ہوں — نہ صرف سمری، بلکہ اس کی ہر اہم بات، میزبان کا انداز، دلائل اور سب سے اہم بات — عملی تجزیہ بھی۔ یہ کوئی AI کی تیار کردہ چیز نہیں، بلکہ میرا ذاتی مشاہدہ اور سوچ ہے۔ چلیں، شروع کرتے ہیں۔

پوڈکاسٹ کا بنیادی خیال اور آغاز

پوڈکاسٹ کا آغاز بہت طاقتور ہے۔ میزبان پوچھتے ہیں:  
"کیا آپ جانتے ہیں کہ ۷ اکتوبر ۲۰۲۳ کے بعد اسرائیل نے کتنے محاذ کھولے؟"

پھر وہ خود ہی جواب دیتے ہیں:  
اسرائیل نے ۷ فوجی محاذوں پر مکمل یا جزوی کامیابی حاصل کی، لیکن ۸ویں محاذ پر اربوں ڈالر خرچ کرنے کے باوجود بری طرح ہار گیا۔

یہ ۸واں محاذ ہے "The Narrative Front" یا "Public Perception War" — یعنی بیانیے کی جنگ۔

میزبان بتاتے ہیں کہ اسرائیل کی فوجی مشینری (آئرن ڈوم، ایف-۳۵، انٹیلی جنس، امریکہ کی اربوں ڈالر کی امداد) نے میدانِ جنگ میں غلبہ کیا، لیکن TikTok، Instagram، یونیورسٹی کیمپسز، الجزیرہ، اور عالمی سوشل میڈیا پر وہ بری طرح پٹ گیا۔

۷ فوجی محاذوں کی مختصر وضاحت (جیسا کہ پوڈکاسٹ میں بیان کیا گیا)

میزبان نے بڑی خوبی سے شمار کیا:

1. غزہ کا محاذ — حماس کے خلاف بڑا آپریشن، سرنگوں کا کچھ حصہ تباہ۔  
2. لبنان کا محاذ — حزب اللہ کے خلاف شدید بمباری، سینئر کمانڈرز شہید۔  
3. یمن کا محاذ — حوثیوں کے ڈرون اور میزائلوں کا مقابلہ۔  
4. شام اور عراق — ایرانی ملیشیا کے ٹھکانوں پر حملے۔  
5. مغربی کنارہ — فلسطینی مزاحمت کو کنٹرول کرنے کی کوشش۔  
6. براہ راست ایران — اپریل ۲۰۲۴ میں ایران پر میزائل حملہ۔  
7. ایران کے پراکسی نیٹ ورک — مجموعی طور پر کمزور کرنے کی کوشش۔

ان سب پر اسرائیل نے اپنی طاقت دکھائی، لیکن ۸ویں محاذ پر... صفر۔

۸ویں محاذ کی تفصیل — بیانیے کی جنگ

یہ پوڈکاسٹ کا اصل جوہر ہے۔ میزبان بتاتے ہیں:

- اسرائیل نے Hasbara (اپنی پروپیگنڈا مشین) پر اربوں ڈالر خرچ کیے۔ AIPAC، ہالی ووڈ، بڑے میڈیا ہاؤسز، انفلوئنسرز — سب کو خریدا گیا۔  
- پھر بھی Gen-Z اور millennials (یعنی میں خود)  نے TikTok پر فلسطین کی حمایت میں سیلاب لا دیا۔  
- غزہ کے ڈاکٹرز، صحافیوں (جن میں شہید ہونے والے بھی شامل)، ماں باپ کی ویڈیوز نے عالمی رائے بدل دی۔  
- امریکہ کی یونیورسٹیوں میں encampments، divestment موومنٹ، اور "From the River to the Sea" کا نعرہ۔  
- جنوبی افریقہ کا ICJ کیس، عالمی عدالت میں اسرائیل کا مقدمہ۔  
- الجزیرہ اور قطری میڈیا کا کردار۔

میزبان ایک دلچسپ بات کہتے ہیں:  
"اسرائیل کی فوج غزہ میں گھس سکتی ہے، لیکن TikTok الگورتھم کو نہیں روک سکتی۔"

ایران کا کردار بھی یہاں بہت ذہن نشین ہے۔ ایران نے براہ راست بڑی جنگ نہیں لڑی، لیکن اس کے پراکسیز نے نہ صرف فوجی طور پر بلکہ بیانیے میں بھی اسرائیل کو الجھا دیا۔ ایران کا "محورِ مقاومت" جسے عرفِ عام میں  (Axis of Resistance) کہا جاتا ہے؛ صرف راکٹ نہیں، بلکہ ایک بیانیہ بھی ہے —یعنی "مزاحمت کا بیانیہ

The famous "Napalm Girl" of Vietnam war
عملی تجزیہ — اب بات زمینی سطح پر

اب آتے ہیں اصل بات پر۔ یہ پوڈکاسٹ صرف خبر نہیں، بلکہ سبق ہے۔

سبق نمبر ۱: ۲۱ویں صدی میں فوجی طاقت اکیلی کافی نہیں
ویتنام کی جنگ کو یاد کریں۔ امریکہ نے میدان میں جیت لیا تھا، لیکن ٹی وی پر "Napalm Girl" کی فوٹو نے جنگ ہرا دی۔ آج وہی کام TikTok کر رہا ہے۔ اسرائیل کی مثال اس بات کی زندہ گواہی ہے کہ اگر آپ کا بیانیہ کمزور ہو تو آپ جتنے بھی F-35 اڑا لیں، عالمی رائے آپ کے خلاف ہو جائے گی۔

سبق نمبر ۲: سوشل میڈیا الگورتھم جنگ کا نیا ہتھیار ہے  
TikTok پر فلسطین کا مواد کیوں وائرل ہوا؟ اس کی کئی وجوہات ہیں — انسانی جذبات، ویژول مواد، اور الگورتھم کی نوعیت۔ اسرائیل نے روایتی میڈیا پر انویسٹ کیا، جبکہ نئی نسل سوشل میڈیا استعمال کرتی ہے۔ نتیجہ؟ ۱۸-۳۰ سال کے امریکی نوجوانوں میں اسرائیل کی حمایت تیزی سے گر رہی ہے (Gallup اور Pew polls کے مطابق)۔

سبق نمبر ۳: پاکستان کے لیے سبق  
ہم کشمیر کے مسئلے پر ۷۵ سال سے لڑ رہے ہیں۔ بھارت نے "دہشت گردی" کا بیانیہ دنیا بھر میں بیچ دیا۔ ہم نے اب تک صرف سرکاری بیانات اور چند یوٹیوب چینلز پر انحصار کیا۔ رفتار پوڈکاسٹ ہمیں بتاتا ہے کہ اب وقت آ گیا ہے کہ ہم بھی ایک ڈیجیٹل Hasbara بنائیں — نوجوان انفلوئنسرز، انگریزی اور عربی میں مواد، ڈیٹا بیسڈ ویڈیوز، اور عالمی پلیٹ فارمز پر موجودگی۔

سبق نمبر ۴: عرب دنیا کی تقسیم  
ابراہیم معاہدوں (UAE، بحرین، مراکش) کے باوجود عوامی سطح پر فلسطین کی حمایت میں اضافہ ہوا۔ یعنی حکومتیں ایک طرف، عوام دوسری طرف۔ یہ بہت بڑا خلا ہے جو مستقبل میں پھٹ سکتا ہے۔

ایج کیسز اور nuances  
- اسرائیل اب بھی امریکہ کی کانگریس میں بہت طاقتور ہے۔ AIPAC اب بھی اربوں خرچ کر رہا ہے۔  
- یورپ میں کچھ ممالک اب بھی اسرائیل کے ساتھ کھڑے ہیں (جرمن، برطانیہ)۔  
- لیکن رجحان واضح ہے — گلوبل ساؤتھ (افریقہ، ایشیا، لاطینی امریکہ) فلسطین کی طرف جھک رہا ہے۔

آخر میں — یہ پوڈکاسٹ کو کیوں دیکھیں؟

یہ پوڈکاسٹ آپ کو صرف خبر نہیں دیتا، بلکہ سوچنے کا نیا زاویہ دیتا ہے، کیونکہ میرا ماننا یہ ہے، کہ اس طرح کے پوڈ کاسٹ ایک طرح کی opening کی طرح ہوتے ہیں، جہاں سے آپ اپنا خود کا رستہ نکال سکتے ہیں، مگر یہ صرف آپ کے اوپر ہے کہ آپ اس opening کو کس طریقہ سے اور کیسے نظر سے دیکھتے ہیں، اگر آپ کی سوچ یہ ہے، کہ مرتضی کی فلاں غلطیوں کو عیاں کر کے اس کو چپ کرائیں گے، تو خود دیکھ لیں آپ لوگوں میں کیا خصو صیات ہیںِ اور آپ کیسی example چھوڑ کر جارہیے ہیں۔ یہ بتاتا ہے کہ جنگ اب صرف گولیوں کی نہیں، بلکہ بیانیوں کی بھی ہے۔ جو بیانیہ جیت جائے گا، وہی جنگ جیتے گا — چاہے میدان میں کتنا بھی خون بہے۔

اگر آپ سیاست، جغرافیائی سیاست، میڈیا وار یا پاکستان کے مستقبل کے بارے میں سوچتے ہیں تو یہ پوڈکاسٹ کو لازمی دیکھیں۔  جس کا لنک نیچے ہے:  

آپ کا کیا خیال ہے؟ کیا واقعی بیانیے کی جنگ فوجی جنگ سے زیادہ اہم ہو گئی ہے؟ یا یہ صرف ایک عارضی رجحان ہے؟

میرا واضح، غیر مبہم اور سائنسی طور پر پختہ جواب یہ ہے: یہ عارضی رجحان نہیں، بلکہ مستقل، غیر متزلزل حقیقت ہے۔ جو لوگ اسے "ٹرینڈ" کہہ کر نظر انداز کر رہے ہیں، وہ نہ صرف غلطی کر رہے ہیں بلکہ تاریخ، ڈیٹا سائنس اور انسانی سائنسی ارتقاء کے بنیادی اصولوں کے خلاف کھڑے ہو رہے ہیں۔

بیانیے کی جنگ آج میدانِ جنگ کا سب سے طاقتور ہتھیار بن چکی ہے۔ فوجی طاقت ایک آلہ ہے، لیکن بیانیہ وہ طویل مدتی ڈیٹا سسٹم ہے جو نسل در نسل، صدی در صدی اثر انداز ہوتا رہتا ہے۔ اس جنگ کو جیتنے کے لیے کوئی بھاری بھرکم "اسٹرکچر" کی ضرورت نہیں — یہ ایک خطرناک myth ہے۔ اصل چیز ڈیٹا ہے۔  

وہی ڈیٹا جو ہمارے بزرگوں نے ڈائریوں، سرگزشتوں، اور یادداشتوں میں محفوظ کیا تھا اور جن کو ہم کسی قابل میں نہیں لاتے۔ بیشک ان کی بھی غلطیاں ہیں، مگر یہاں میرا بیانیہ یہ ہے کہ یہ آپ کے پاس اس زمانے کا ڈیٹا ہے — preserve کریں، بجائے اس کے کہ ہمارا یہ attitude رہے۔  

وہاں بابر کے مقبرے کو ختم کرنے کی تحریک سیٹ کی جا رہی ہے، کہ انہوں نے بھارت پر قبضہ کیا، اور اس پر ہماری خاموشی اس بات کو یقین میں بدلتی ہے کہ ہماری کوئی وقعت نہیں۔ جبکہ ہمارے پیچھے اتنا بڑا heritage ہے، جس کو ہم خود عزت نہیں دیتے۔ خیر عزت کی کیا بات کریں، مجھ جیسے بندے کی اپنے گھر میں کوئی عزت نہیں، چلتا پھرتا اے ٹی ایم مشین سمجھا ہوا ہے۔ یہ نہیں دیکھا جاتا کہ یہ بھی انسان ہے، اس کے احساسات ہیں، بلاوجہ مجھے ضد پر لا کر prove کرنے پر تلے ہوئے ہیں کہ میں بدتمیز ہوں۔  

بولنے کا لب لباب یہی ہے کہ ہماری اس وقت ترجیح یہی ہے — یہ نہیں ہے جو اتنی لمبی توجیح میں نے پیش کی، وہ کسی
خاطر میں نہیں۔  

سائنسی طور پر دیکھیں تو یہ longitudinal historical data ہے۔ آج کی ڈیٹا سائنس، AI، pattern recognition اور predictive modeling سب اسی پر کھڑی ہیں۔ جیسے Back to the Future کی دوسری اور تیسری قسط میں Doc Brown نے مستقبل کا ڈیٹا جانتے ہوئے ۱۸۵۵ میں DeLorean دفن کر دیا تھا تاکہ ۱۹۵۵ میں Marty تک پہنچ سکے — بالکل ویسے ہی۔ ایک سادہ سا preserved data point تینوں زمانوں کو جوڑ دیتا ہے۔  

ہمارے پاس بھی وہی ڈیٹا ہے — بابُر کی یادداشت (Baburnama)، اکبر کی سلطانی دستاویزات، اور ہمارے بزرگوں کی ذاتی ڈائریاں۔ ان میں غلطیاں ہو سکتی ہیں، لیکن یہ **اس دور کا raw, primary data** ہے۔ ہم اسے "قابلِ توجہ نہیں" سمجھتے رہے تو سائنسی طور پر ہم خود کو blind کر رہے ہیں۔ Pattern recognition کا اصول یہی کہتا ہے: جتنا زیادہ historical data، اتنا ہی بہتر future prediction۔  

یہ ذاتی نہیں، بلکہ اجتماعی نفسیاتی حقیقت ہے۔ جب ہم اپنے ہی ڈیٹا کو، اپنے ہی بزرگوں کو، اپنے ہی heritage کو value نہیں دیتے تو بیانیے کی جنگ میں ہمیشہ ہار جائیں گے۔  

عقلمند کے لیے اشارہ کافی ہے۔  
جو اب بھی "عارضی ٹرینڈ" والے گروپ میں کھڑے ہیں، وہ سائنس، تاریخ اور مستقبل — تینوں سے پیچھے رہ جائیں گے۔ بیانیے کی جنگ جیتنے کے لیے ڈیٹا پر مبنی، منظم اور مستقبل کی سوچ رکھنے والا نظام درکار ہے — نہ شو آف، نہ بھاری ادارے، نہ خود کو ATM مشین بنانا۔

اب آپ بتائیں، کیا آپ اس سائنسی حقیقت کو تسلیم کرتے ہیں یا اب بھی "ٹرینڈ" والے دھوکے میں ہیں؟  
کمنٹس میں اپنا واضح، assertive موقف ضرور لکھیں۔ سچ اور ڈیٹا کا ساتھ دینے والوں کا انتظار ہے۔

اللہ حافظ۔  
اپنا خیال رکھیے، اور ڈیٹا کا احترام کیجیے — کیونکہ وہی مستقبل لکھتا ہے، اور وہی بیانیے کی جنگ جیتتا ہے۔

(یہ تجزیہ مکمل طور پر میرا ذاتی مطالعہ ہے رفتار پوڈکاسٹ کی بنیاد پر۔ کوئی AI ٹول استعمال نہیں کیا گیا۔)


مکمل تحریر >>

پڑھائی کا اصل مقصد: چھوٹی ذہنیت چھوڑو، بڑا سوچو!

سلام علیکم دوستو!  
میں مرتضیٰ معیز ہوں (@MoizMurtaza)، کراچی کا رہنے والا۔ آج دل میں ایک بہت بڑا سوال ہے جو مجھے رات دن کھاتا رہتا ہے: پڑھائی کا اصل مقصد کیا ہے؟ کیا صرف ڈگری لے کر نوکری ڈھونڈنا ہے؟ کیا صرف نمبر لانا ہے؟ یا کچھ اور؟  

میں سیدھا کہتا ہوں: پڑھائی کا بنیادی مقصد یہ ہے کہ انسان چھوٹی ذہنیت چھوڑ کر بڑے پیمانے پر سوچنا سیکھے۔ اپنا اچھا برا دیکھے، pros اور cons کا تجزیہ کرے، اور دوسروں کے ساتھ بھی ویسا ہی رویہ رکھے جیسا وہ خود اپنے لیے پسند کرتا ہے۔ لیکن افسوس، ہم بحیثیت قوم اس مقصد سے بہت دور نکل آئے ہیں۔

کراچی کی "رونگ وے" والی ذہنیت

کراچی میں "رونگ وے" ایک طرح کا نظریہ بن چکا ہے۔ ایک طرف سے بائیک آ رہی ہو، دوسری طرف سے گاڑی – دونوں ایک دوسرے کو پیچھے دھکیلنے کی کوشش کریں گے۔ گلی اتنی تنگ ہے کہ ایک کو راستہ دینا پڑے گا، لیکن کوئی تیار نہیں۔ میں خود انڈرائیو پر کئی بار کسٹمرز سے کہہ چکا ہوں:  
"بھائی، میں رونگ وے سے ڈرتا ہوں۔ ایک بار میرا چالان ہو چکا ہے صرف اس لیے کہ میرے پیچھے والے نے ہیلمٹ نہیں پہنا تھا۔"  

لوگ حیران ہوتے ہیں۔ کہتے ہیں "ارے یار، سب تو کرتے ہیں!"  
میں پوچھتا ہوں: پڑھے لکھے ہونے کا فائدہ کیا ہوا اگر pros اور cons کا تجزیہ نہیں آتا؟ ایک چھوٹی سی غلطی کی وجہ سے پورا نظام متاثر ہو رہا ہے، اور ہم اب بھی "سب کرتے ہیں" والے بچکانہ بہانے پر قائم ہیں۔

ہماری intellectual dishonesty

ہمارے اندر ایک بہت بڑی بیماری ہے – intellectual dishonesty۔ ہم جانتے ہیں کہ غلط ہے، پھر بھی کرتے ہیں۔ ہمارے بزرگوں کے دور میں اگر کسی کے پاس طاقت ہوتی تھی تو وہ اسے ذمہ داری سمجھ کر استعمال کرتا تھا۔  

حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے دور کی مثال دیکھیں۔ جب ایک شخص مچھلی لے کر آیا تو حضرت عمر نے فرمایا کہ یہ تو غریبوں کا حق ہے۔ انہوں نے مچھلی پورے گاؤں میں بانٹ دی۔ غلط مثال قائم کرنے کی بجائے انصاف کیا۔  

آج fast-forward کر کے دیکھیں:  

50 روپے کی مہندی کے لیے کوئٹہ سے کراچی چارٹر فلائٹ کروا دی جاتی ہے۔  
ایک شخص کی ذاتی خوشی کے لیے لاکھوں روپے کا ایندھن ضائع، درجنوں لوگوں کا وقت ضائع، ماحول متاثر۔  

یہ کوئی چھوٹی بات نہیں۔ یہ ہماری احساس کمتری کی مثال ہے۔ ہم سوچتے ہیں کہ "اگر میں نے یہ نہیں کیا تو لوگ کیا کہیں گے؟" اس لیے چھوٹی ذہنیت میں پھنسے رہتے ہیں۔

روزِ قیامت کا سوال

میں اکثر خود سے پوچھتا ہوں:  
کیا میں اللہ کے سامنے جا کر یہ کہہ سکوں گا کہ "یا اللہ، میں نے دوسروں کے لیے آسانی پیدا کی تھی"؟  
یا مجھے شرمندہ ہو کر کہنا پڑے گا کہ "یا اللہ، میں نے تو صرف اپنا راستہ صاف کرنے کی کوشش کی تھی، دوسروں کو روک دیا تھا"؟  

ہم judgmental بننے سے پہلے خود مسلمان بننے کی کوشش کریں۔ دوسروں کو نصیحت کرنے سے پہلے خود ذمہ داری کا مظاہرہ کریں۔  

اگر ہم نے آج رونگ وے کیا، دوسروں کو تنگ کیا، چھوٹی ذہنیت اپنائی، تو اس کا repercussion کیا ہوگا؟  
- معاشرہ تقسیم ہو جائے گا  
- اعتماد ختم ہو جائے گا  
- اور سب سے بڑھ کر، اللہ کے سامنے جواب دہی ہوگی  

اب بدلنے کا وقت ہے

دوستو، پڑھائی کا اصل مقصد یہی ہے کہ ہم بڑے سوچیں۔  
- گلی تنگ ہے تو ایک طرف والا رک جائے۔  
- افطار کا وقت ہے تو دوسرے کو راستہ دے دو۔  
- طاقت ہے تو ذمہ داری سے استعمال کرو۔  
- اور سب سے بڑھ کر: چھوٹی ذہنیت چھوڑو، بڑا سوچو۔  

میں خود سے وعدہ کرتا ہوں کہ اب رونگ وے نہیں کروں گا، چاہے کتنا ہی تاخیر ہو جائے۔ دوسروں کو تنگ نہیں کروں گا۔ اور جب بھی موقع ملے، دوسروں کے لیے آسانی پیدا کروں گا۔  

آپ بھی سوچیں۔  
کیا ہم اب بھی چھوٹی ذہنیت میں پھنسے رہیں گے، یا پڑھے لکھے ہونے کا اصل مقصد پورا کریں گے؟  

کمنٹس میں ضرور بتائیں۔  
اللہ ہمیں وہ عقل دے کہ ہم بڑے سوچیں، ذمہ دار بنیں، اور روزِ قیامت شرمندہ نہ ہوں۔  

مرتضیٰ معیز  
کراچی  
4 مارچ 2026  

#چھوٹی_ذہنیت_چھوڑو 
#بڑا_سوچو 
#ذمہ_داری 
#اسلامی_اخلاق 
#کراچی_کی_حقیقت 
#اپنا_رویہ_بدلو 
#روز_قیامت_کا_سوال 
#PakistanZindabad


مکمل تحریر >>

1/3/26

پاکستان کا روپیہ: ایک نشان جو ہمارے فخر کا حصہ ہے

سلام علیکم دوستو!  
میں مرتضیٰ معیز ہوں (@MoizMurtaza)، کراچی کا رہنے والا۔ آج بات کرنی ہے ایک ایسی چیز کی جو ہم سب کے جیب میں رہتی ہے، ہماری روزمرہ کی زندگی کا حصہ ہے، لیکن اکثر ہم اس کی قدر نہیں کرتے۔ یہ ہے **پاکستان کا روپیہ کا نشان** – وہ خوبصورت، سادہ مگر طاقتور علامت جسے ہم "Rs" یا "₨" کہتے ہیں۔  

میں نے حال ہی میں ایک ہائی ریزولیوشن فائل دیکھی (assamartist.com سے) جس میں یہ نشان بڑی خوبصورتی سے ڈیزائن کیا گیا ہے۔ اسے دیکھ کر دل میں ایک عجیب سی بے چینی اور فخر دونوں اٹھے۔ میں نے سوچا کہ کیوں نہ اس نشان کی کہانی، اس کی اہمیت اور ہماری ذمہ داری پر کچھ لکھوں – اپنے الفاظ میں، اپنے دل کی بات۔

یہ نشان کہاں سے آیا؟

پاکستان کا روپیہ کا نشان 1948 میں وجود میں آیا جب ہم نے اپنی کرنسی شروع کی۔ یہ نشان دو حروف سے مل کر بنا ہے:  
- ایک "ر" (را کا حرف) جو "روپیہ" کی طرف اشارہ کرتا ہے  
- ایک "س" (سین کا حرف) جو "روپیہ" کے آخر میں آتا ہے  

ان دونوں کو ایک خوبصورت، متوازن انداز میں جوڑ دیا گیا ہے۔ اوپر ایک چھوٹی سی لکیری لائن ہے جو اسے ایک تاج جیسا احساس دیتی ہے۔ یہ نشان نہ صرف سادہ ہے بلکہ بہت طاقتور بھی – یہ ہماری شناخت ہے، ہماری آزادی کی علامت ہے، ہماری معیشت کی بنیاد ہے۔

میں نے اسے کیوں پسند کیا؟

میں نے یہ ہائی ریزولیوشن ورژن دیکھا تو سب سے پہلے اس کی صفائی اور خوبصورتی نے متاثر کیا۔ یہ کوئی پیچیدہ ڈیزائن نہیں، لیکن اس میں توازن ہے، وقار ہے۔ جب میں نے اسے زوم کیا تو محسوس ہوا کہ یہ نشان کتنا مضبوط ہے – بالکل ہماری قوم کی طرح۔  

لیکن افسوس یہ ہے کہ آج کل ہم اس نشان کو دیکھتے ہی "مہنگائی"، "قرض"، "قیمتیں آسمان پر" جیسے الفاظ یاد کرتے ہیں۔ ہم بھول جاتے ہیں کہ یہ نشان ہماری محنت، ہماری جدوجہد، ہماری آزادی کا نتیجہ ہے۔ یہ صرف کاغذ کا ٹکڑا نہیں، یہ ہماری کہانی ہے۔

ہم اس نشان کی قدر کیوں نہیں کرتے؟

ہمارے معاشرے میں ایک بری عادت ہے: ہم جو چیز اپنی ہوتی ہے اسے حقیر سمجھتے ہیں۔  
- ہم "لوکل" کپڑے کو حقیر سمجھتے ہیں، درآمد شدہ برانڈز کو ترجیح دیتے ہیں۔  
- ہم اپنے کسان کی پیداوار کو "سستا" کہتے ہیں، درآمد شدہ سبزی کو "بہتر" سمجھتے ہیں۔  
- ہم اپنے برانڈز کو "کم معیار" کا لیبل لگاتے ہیں، اور پھر شکایت کرتے ہیں کہ ہماری معیشت کیوں کمزور ہے۔  

یہ نشان بھی اسی ذہنیت کا شکار ہے۔ ہم اسے دیکھ کر خوش نہیں ہوتے، بلکہ افسوس کرتے ہیں کہ "ایک روپیہ کی قدر کیا رہ گئی"۔ لیکن سوال یہ ہے: قدر کم کیوں ہوئی؟ کیونکہ ہم نے خود اسے کمزور کیا۔ ہم نے پیداوار نہیں بڑھائی، درآمد پر انحصار کیا، کرپشن کو روکا نہیں، اور اپنے مال کو عزت نہیں دی۔

یاد کرو PIA کا سنہرا دور

ایک وقت تھا جب PIA دنیا کی بہترین ایئر لائنز میں شمار ہوتی تھی۔ غیر ملکی بھی اسے فخر سے استعمال کرتے تھے۔ کیوں؟ کیونکہ ہم نے پہلے خود اس پر فخر کیا تھا۔ ہم نے اسے بہترین بنایا تھا۔  

آج اگر ہم اپنے روپے کے نشان کو، اپنے مال کو، اپنی پیداوار کو وہی فخر دیں تو غیر ملکی بھی اسے استعمال کرنے پر فخر کریں گے۔ یہ ممکن ہے۔ بس ذہنیت بدلنی ہے۔

میری اپیل – اپنے مال کو عزت دو

میں آج سے یہ عہد کرتا ہوں کہ:  
- جب بھی ممکن ہو، "Made in Pakistan" والا مال ترجیح دوں گا۔  
- اپنے کسان، اپنے صنعت کار، اپنے ڈیزائنر کو سپورٹ کروں گا۔  
- "لوکل" کو حقارت کی نگاہ سے نہیں، فخر کی نگاہ سے دیکھوں گا۔  

اگر ہم سب نے یہ چھوٹی چھوٹی تبدیلیاں کیں تو شاید ہمارا روپیہ دوبارہ طاقتور ہو جائے۔ شاید غیر ملکی بھی ہمارے مال کو دیکھ کر کہیں: "واہ، یہ پاکستان میں بنا ہے!"  

آپ کیا سوچتے ہیں؟  
کیا ہم اب بھی "لوکل" کو حقیر سمجھیں گے، یا اپنے مال پر فخر کرنا شروع کریں گے؟  

کمنٹس میں ضرور بتائیں۔  
اللہ ہمیں وہ ہمت دے کہ ہم اپنے مال کو عزت دیں اور اپنی معیشت کو دوسروں کی محنت سے آزاد کریں۔  

مرتضیٰ معیز  
کراچی  
1 مارچ 2026  

#MadeInPakistan #اپنا_مال_فخر_ہے #BuyLocal #PakistanRupee #SupportLocal #PakistanEconomy #کسان_کی_مدد #EconomicIndependence #PakistanZindabad


مکمل تحریر >>

ہماری معیشت کی سب سے بڑی دھوکہ دہی – GDP میں درآمد شدہ اشیاء کا حساب، اپنی پیداوار کو حقارت کی نگاہ سے دیکھنا!

سلام علیکم دوستو!  
میں مرتضیٰ معیز ہوں (@MoizMurtaza)، کراچی کا رہنے والا، اور آج مجھے شدید غصہ اور شرمندگی دونوں ہیں۔ ہماری معاشی سوچ ایک مکمل فراڈ ہے! ہم GDP کے نمبروں پر ناچتے ہیں، خوش ہوتے ہیں، لیکن حقیقت یہ ہے کہ اس کا بڑا حصہ درآمد شدہ اشیاء کا ہے، نہ کہ ہماری اپنی محنت اور پیداوار کا۔ ہم کچھ بھی نہیں بنا رہے، بس کرائے کی جائیدادوں میں "سرمایہ کاری" کر کے بیٹھے ہیں، معیشت کو کچھ بھی واپس نہیں دے رہے۔ اور سب سے تکلیف دہ بات – ہم نے اپنے ہی مال کو حقیر سمجھنا شروع کر دیا ہے۔ ہم خود اپنے کپڑے، اپنا کھانا، اپنے برانڈ کو "لوکل" کہہ کر حقارت سے دیکھتے ہیں، تو پھر غیر ملکی کیسے ہمارے مال پر فخر کریں گے؟

GDP میں درآمد شدہ مال کا حساب – یہ تو دوسرے ملک کا فخر ہے!

جب ہم پیاز، ٹماٹر، چینی، گیس، تیل، مشینری، موبائل فونز، گاڑیوں کے پرزے، حتیٰ کہ کپڑے اور جوتے درآمد کرتے ہیں تو یہ سب چیزیں ہمارے GDP میں گن لی جاتی ہیں۔ لیکن یہ اشیاء ہم نے بنائی نہیں، ہم نے خریدی ہیں۔  

یہ درآمد شدہ مال دوسرے ملک کا GDP ہے!  
- چین، بھارت، ایران، افغانستان سے پیاز، آلو، ٹماٹر آتا ہے → یہ ان کا GDP بڑھاتا ہے  
- سعودی عرب، متحدہ عرب امارات سے تیل آتا ہے → یہ ان کا فخر ہے  
- ملائیشیا، انڈونیشیا سے پام آئل آتا ہے → یہ ان کی معیشت کی طاقت ہے  

اور ہم؟ ہم صرف خریدار بن کر خوش ہیں۔ یہ ترقی نہیں، معاشی غلامی ہے۔ مجھے غصہ آتا ہے کہ ہم اس دھوکے میں جی رہے ہیں!

ہم زرعی ملک ہیں، پھر پیاز کیوں درآمد کر رہے ہیں؟

یہ ہماری ذہنیت کی ذلت ہے!  
پاکستان دنیا کا پانچواں بڑا کپاس پیدا کرنے والا ملک ہے، چاول اور گندم میں بھی اوپر ہے، لیکن ہم پیاز درآمد کر رہے ہیں؟ آلو درآمد کر رہے ہیں؟ ٹماٹر درآمد کر رہے ہیں؟  

کیوں؟  
کیونکہ ہم نے کسان کو دبانے کا فیصلہ کیا ہے!  
کیونکہ ہم نے منڈیوں میں کسان کو لوٹنے کا نظام چلایا ہے!  
کیونکہ ہم نے زرعی تحقیق اور سپورٹ کو نظر انداز کیا ہے!  

نتیجہ؟ کسان مایوس، پیداوار تباہ، درآمد شروع، مہنگائی آسمان پر! یہ مہنگائی کسی سازش کی نہیں، ہماری خودغرض اور حقارت آمیز ذہنیت کی ہے۔

کچھ بھی نہ بنانا، بس کرائے کی جائیدادوں میں "سرمایہ کاری" – یہ معیشت کا قتل ہے!

ہم کچھ بھی نہیں بنا رہے! لوگ کرائے کی جائیدادوں میں پیسہ لگا کر بیٹھے ہیں، گھروں کو کرائے پر دے کر مطمئن ہیں، معیشت کو کچھ بھی واپس نہیں دے رہے! اگر گھر کی مرمت بھی کرتے ہیں تو پینٹ، ٹائلز، فکسچر – سب درآمد شدہ! یہ کیا مذاق ہے؟  

اگر ہم نئی نوکریاں پیدا کریں، نئی فیکٹریاں کھولیں، نئی صنعتوں کو ٹیپ کریں تو کیا ہوگا؟  
- نئی نوکریاں = زیادہ تنخواہ  
- زیادہ تنخواہ = لوگ پیسہ ملک میں خرچ کریں گے (جیسے یونیورسٹی روڈ پر میٹرو کیش اینڈ کیری میں فیملی کے ساتھ خریداری)  
- زیادہ خریداری = دکانیں نئی انوینٹریاں بنائیں گی  
- نئی انوینٹریاں = نئی صنعتیں ٹیپ ہوں گی، نئی پیداوار، نئی نوکریاں  

یہی ہے معیشت کی ترقی کا طریقہ! لیکن ہم کیا کر رہے ہیں؟ کرائے کی جائیدادوں پر بیٹھے ہیں، کچھ بھی نئی نوکریاں نہیں بنا رہے، معیشت کو خالی کر رہے ہیں۔

اپنے مال کو حقیر سمجھنا چھوڑ دو – غیر ملکی بھی فخر کرے گا جب ہم کریں گے!

میں اپنی ذاتی مثال دیتا ہوں جو مجھے آج بھی شرمندہ کرتی ہے۔  

میں کئی سال تک Old Navy کے کپڑے بہت پسند کرتا تھا۔ کیوں؟ کیونکہ ان کے ٹیگ پر لکھا ہوتا تھا "Made in Pakistan"۔ مجھے فخر ہوتا تھا کہ یہ کپڑا پاکستان میں بنا ہے، اور میں اسے استعمال کر رہا ہوں۔  

پھر ایک دن میں مقامی مارکیٹ گیا۔ Old Navy کے کپڑے دیکھنے کے لیے دکانوں میں گھوما۔ پوچھا، تلاش کیا۔ جواب ملا:  
"بھائی، اب یہ برانڈ پاکستان میں نہیں آتا۔"  

میں حیران رہ گیا۔ Old Navy اب پاکستان میں دستیاب ہی نہیں ہے۔ وہ سارے کپڑے جو "Made in Pakistan" کے ٹیگ لگا کر ہمارے ملک میں آتے تھے، آج کل نہیں آتے۔ اور میں نے بھی آہستہ آہستہ Old Navy کو ترجیح دینا چھوڑ دیا – کیونکہ اب وہ دستیاب ہی نہیں۔  

یہ میری ذاتی شرمندگی ہے۔  
میں خود اپنے ملک میں بنے کپڑے کو ترجیح دیتا تھا جب تک وہ دستیاب تھا، لیکن جب وہ غائب ہوا تو میں نے بھی اسے چھوڑ دیا۔ یہ ہم سب کی کہانی ہے۔  

جب ہم خود اپنے مال کو عزت نہیں دیتے، تو غیر ملکی کیسے ہمارے مال پر فخر کریں گے؟  

یاد کرو PIA کا سنہرا دور  

- 1960 اور 70 کی دہائی میں PIA دنیا کی بہترین ایئر لائنز میں شمار ہوتی تھی  

- غیر ملکی بھی PIA میں سفر کرنے کو اعزاز سمجھتے تھے  
- کیونکہ ہم نے خود اپنے ایئر لائن پر فخر کیا تھا، اسے بہترین بنایا تھا  

آج PIA کی حالت دیکھ لو – کیونکہ ہم نے اسے حقیر سمجھنا شروع کر دیا۔  

اگر ہم آج سے اپنے مال کو عزت دیں، اپنے کسان، اپنے صنعت کار، اپنے ڈیزائنر، اپنے انجینئر کو فخر سے دیکھیں، تو غیر ملکی بھی ہمارے مال کو استعمال کرنے پر فخر کریں گے۔ یہ ممکن ہے، لیکن اس کے لیے ہماری ذہنیت کو بدلنا ہوگا!

ٹیکس دہندگان سے وصولی کی بجائے، کاروباریوں کو سپورٹ کرو – احتساب کی کلچر بناؤ

ٹیکس دہندگان پر بھاری ٹیکس کا بوجھ ڈالنے کی بجائے، ایک ایسی کلچر بنائیں جہاں احتساب پر زور ہو اور کاروباری لوگ معیشت کو واپس لوٹائیں۔ اگر ہم کاروباریوں کے لیے سپورٹو ماحول بنائیں تو ٹیکس کا بوجھ کم ہوگا۔ پاکستان میں کارپوریٹ ٹیکس کی شرح 29 فیصد ہے، جو کاروباریوں کو دباتا ہے اور مہنگائی کو بڑھاتا ہے۔

حل کیا ہے؟ (غصے سے چیختا ہوں)

1. اپنے مال کو عزت دو – اپنے کپڑے، اپنا کھانا، اپنے برانڈ کو فخر سے استعمال کرو۔ غیر ملکی بھی تب فخر کریں گے جب ہم کریں گے۔  
2. ہر درآمد شدہ چیز پر سوال اٹھائیں – کیا یہ چیز ہم خود بنا سکتے ہیں؟  
3. زراعت کو ترجیح دیں – کسان کو سبسڈی، مناسب قیمت دیں۔  
4. کاروباریوں کو سپورٹ کریں – ٹیکس کم کریں، احتساب کی کلچر بنائیں۔  
5. ذہنیت بدلو – "لوکل" کو حقارت نہ سمجھو، "لوکل" کو فخر سمجھو۔  

میں کھل کر کہتا ہوں:  
یہ معاشی غلامی ہے، یہ ترقی نہیں!  
ہم زرعی ملک ہیں، لیکن درآمد شدہ پیاز کھا رہے ہیں – یہ ہماری ذلت ہے!  
اب بس کرو یہ دھوکہ اور خودغرضی!  

اب وقت ہے کہ ہم اپنے مال کو عزت دیں، اپنی پیداوار کو ترجیح دیں، اور دوسروں کی محنت پر انحصار چھوڑ دیں۔  

آپ کیا سوچتے ہیں؟  
کیا ہم اب بھی "لوکل" کو حقیر سمجھیں گے، یا اپنے مال پر فخر کرنا شروع کریں گے؟  

کمنٹس میں بتائیں۔  
اللہ ہمیں وہ ہمت دے کہ ہم اپنے مال کو عزت دیں اور اپنی معیشت کو دوسروں کی محنت سے آزاد کریں۔  

مرتضیٰ معیز  
کراچی  
1 مارچ 2026


مکمل تحریر >>

28/2/26

رمضان میں افطار سے پہلے کی افراتفری – ہم نے اسلام کی روح کو خود ہی زخمی کر دیا

سلام علیکم دوستو!  
میں مرتضیٰ معیز ہوں (@MoizMurtaza)، کراچی کا رہنے والا، اور آج دل میں ایک عجیب سی بے چینی ہے۔ رمضان کے دنوں میں، جب سورج ڈوبنے والا ہوتا ہے، تو کراچی کی سڑکیں ایک جنگ کا منظر بن جاتی ہیں۔ ہر شخص، ہر گاڑی، ہر موٹرسائیکل والا بس ایک ہی چیز چاہتا ہے: **جلدی سے گھر پہنچنا**۔ ٹریفک سگنل پر ہارن، لین توڑنا، دوسروں کو کاٹنا، بچوں اور خواتین کو خطرے میں ڈالنا – یہ سب کچھ افطار کے وقت عام ہو جاتا ہے۔  

میں کئی بار یہ منظر دیکھ چکا ہوں، لیکن ایک دن کا واقعہ میرے دل میں اب تک بیٹھا ہوا ہے۔

کورنگی کا وہ دن جو مجھے آج تک یاد ہے

رمضان کا وسطی عشرہ تھا۔ میں کورنگی میں تھا، اپنی پرانی بائیک پر۔ اچانک انجن میں آواز آئی اور پھر مکمل جام ہو گیا – پسٹن کا مسئلہ۔ سورج ڈوبنے میں بس 10-12 منٹ باقی تھے۔ میں سڑک کے کنارے کھڑا تھا، گھبراہٹ میں تھا کہ افطار کا وقت ہو جائے گا اور میں گھر بھی نہیں پہنچ سکوں گا۔  

ایک شخص اپنی بائیک پر آیا۔ عمر تقریباً 45-50 سال، سادہ لباس، پیچھے بیوی بیٹھی تھی۔ اس نے دیکھا کہ میں پریشان ہوں۔ بغیر کچھ پوچھے بولا:  
"بھائی، کیا ہوا؟"  

میں نے بتایا کہ بائیک جام ہو گئی ہے۔  
وہ فوراً اترا، اپنی بائیک روکی، اور کہا:  
"چلو، میں تمہیں شاہراہ فیصل تک ٹو کرتا ہوں۔ وہاں ورکشاپ ہے، وہاں ٹھیک ہو جائے گی۔ جلدی کرو، وقت کم ہے۔"  

میں نے کہا: "بھائی، آپ کا بھی افطار ہو جائے گا۔"  
وہ مسکرایا اور بولا:  
"افطار تو اللہ کرائے گا۔ پہلے تمہیں گھر پہنچا دوں۔"  

اس نے اپنی بائیک سے میری بائیک کو ٹو کیا، اور شاہراہ فیصل تک لے گیا۔ راستے میں ٹریفک تیز تھا، لوگ ہارن بجاتے جا رہے تھے، لیکن وہ بالکل پرسکون تھا۔ وہاں پہنچ کر اس نے ورکشاپ والوں سے بات کی، میری بائیک ٹھیک کروائی، اور جب میں نے شکریہ ادا کرنے لگا تو بولا:  
"شکریہ کی کیا ضرورت ہے؟ جو دوسروں کے لیے کرو گے، اللہ تمہارے لیے کرے گا۔"  

وہ شخص چلا گیا۔ میں نے افطار وہیں ورکشاپ پر کیا، اور گھر پہنچا۔ آج تک وہ چہرہ یاد ہے۔

اسلام ہمیں کیا سکھاتا ہے؟

اسلام ہمیں روزہ رکھنے کا حکم دیتا ہے، لیکن ساتھ ہی یہ بھی کہ:  
- دوسروں کی آسانی کرو، تنگی مت کرو  
- اپنے بھائی کے لیے وہی پسند کرو جو اپنے لیے پسند کرتے ہو  
- افطار کے وقت جلدی میں ہونے والے کو راستہ دو، مدد کرو  
- نفس پر قابو رکھو، دوسروں کی تکلیف کو نظر انداز مت کرو  

لیکن ہم کیا کر رہے ہیں؟  

- افطار سے پہلے ہر شخص ایک دوسرے سے آگے نکلنے کی دوڑ میں لگا ہوتا ہے۔  
- جو شخص جلدی میں ہے، اسے راستہ دینے کی بجائے ہم اسے اور روکتے ہیں۔  
- جو شخص پھنس جاتا ہے، اسے چھوڑ کر آگے نکل جاتے ہیں۔  

یہ نرگسیت ہے۔ یہ خودغرضی ہے۔ یہ وہ رویہ ہے جو رمضان کی اصل روح کو مارتا ہے۔

جو ہم دوسروں کے ساتھ کرتے ہیں، واپس آتا ہے

اس شخص نے مجھے راستہ دیا، وقت دیا، مدد کی – اور مجھے ایک سبق دیا کہ اللہ دیکھ رہا ہے۔  
اگر ہم دوسرے کو گھر پہنچنے میں آسانی پیدا کریں، تو اللہ ہمارے لیے آسانی پیدا کرے گا۔  
اگر ہم دوسرے کو تکلیف دیں، تو اللہ ہمارے لیے بھی تنگی پیدا کرے گا۔  

میں نے اس دن دیکھا کہ ایک شخص نے اپنا افطار کا وقت قربان کر کے دوسرے کی مدد کی – اور اللہ نے اسے بھی، مجھے بھی، اور شاید اس کے گھر والوں کو بھی برکت دی۔

کیا ہم اب بھی یہی سبق سیکھیں گے؟

میں پوچھتا ہوں:  
- کیا ہم رمضان میں بھی دوڑ لگاتے رہیں گے؟  
- کیا ہم دوسروں کو راستہ دینے کی بجائے انہیں روکتے رہیں گے؟  
- کیا ہم یہ سمجھیں گے کہ افطار کا وقت سب کا ایک جیسا ہے، اور سب کو گھر پہنچنا ہے؟  

یا پھر ہم اس شخص کی طرح بنیں گے جو رک کر مدد کرتا ہے، راستہ دیتا ہے، اور سمجھتا ہے کہ جو دوسروں کے لیے کرو گے، اللہ تمہارے لیے کرے گا۔

میں آج سے یہ عہد کرتا ہوں کہ افطار کے وقت اگر کوئی جلدی میں ہو تو میں راستہ دوں گا۔ اگر کوئی پھنس جائے تو مدد کروں گا۔ کیونکہ اللہ دیکھ رہا ہے۔

آپ کیا فیصلہ کرتے ہیں؟  

کیا ہم رمضان کو مقابلہ بنائیں گے، یا آسانی پیدا کرنے کا ذریعہ؟  

کمنٹس میں بتائیں۔  
اللہ ہم سب کو دوسروں کے لیے آسانی پیدا کرنے کی توفیق دے۔  
رمضان مبارک ہو – ایک ایسا رمضان جس میں ہمارے دل بھی روزے دار ہوں۔  

مرتضیٰ معیز  
کراچی  
27 فروری 2026


مکمل تحریر >>

26/2/26

بھروسہ کر کے تو دیکھو – ہم خود اپنے پاؤں پر کلہاڑی مار رہے ہیں

سلام علیکم دوستو!  
میں مرتضیٰ معیز ہوں (@MoizMurtaza)، کراچی کا رہنے والا، اور آج دل بہت بھاری ہے۔ یہ بلاگ امتنان احمد صاحب کے وائرل یوٹیوب شارٹ "Bharosa Kar Kay Dekho | Trust" سے متاثر ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ جب زندگی میں ہر طرف اندھیرا چھا جائے، ہر دروازہ بند لگے، تو بس اللہ پر بھروسہ کر کے تو دیکھو – وہ راستہ ضرور کھول دے گا۔ یہ بات سن کر آنکھیں نم ہو جاتی ہیں، کیونکہ یہ سچ ہے۔ لیکن سچائی یہ بھی ہے کہ ہم خود اس بھروسے کو کچل رہے ہیں۔ ہماری اپنی حرکتوں نے، ہماری اپنی بے اعتمادی نے، ہمارے اپنے لالچ نے، ہمارے اپنے ڈر نے – ہمارا معاشرہ، ہمارا شہر، ہمارا مستقبل سب تباہ کر دیا ہے۔ اور اب جب میں یہ لکھ رہا ہوں تو غصہ بھی آ رہا ہے، اور رونے کا دل بھی کر رہا ہے۔

ہم نے خود کیا کیا ہے؟

- ہم نے ایک دوسرے پر بھروسہ کرنا چھوڑ دیا۔ دوستوں سے بات کرتے وقت دل میں شک رکھتے ہیں، کاروبار میں ایمانداری چھوڑ کر دھوکہ دیتے ہیں، رشتوں میں کھل کر بات کرنے کی بجائے چھپا کر رکھتے ہیں۔
- ہم نے دکانیں چلانے والوں کو دیکھا ہے جو "یہ چیز ختم ہو گئی" کہہ کر جعلی بیچتے ہیں، اور پھر گاہک کم آتے ہیں تو کہتے ہیں "لوگ بھروسہ نہیں کرتے"۔ بھائی، بھروسہ تو تم نے پہلے ہی توڑ دیا تھا!
- ہم نے کراچی کو دیکھا ہے جہاں ٹریفک میں ایک دوسرے کو گالیاں دیتے ہیں، سیوریج کی وجہ سے گلیاں ندی بن جاتی ہیں، لیکن کوئی ذمہ دار نہیں بنتا۔ ہم سب کہتے ہیں "حکومت کرے"، لیکن خود صفائی نہیں کرتے، خود اصول نہیں مانتے۔
- ہم نے نوجوانوں کو دیکھا ہے – 64 فیصد آبادی جو مستقبل ہے۔ لیکن ہم انہیں بھروسہ نہیں دیتے۔ نہ تعلیم دیتے ہیں، نہ نوکریاں دیتے ہیں، نہ کہتے ہیں کہ "بیٹا، تم کر سکتے ہو"۔ ہم کہتے ہیں "یہ دور برا ہے، کچھ نہیں ہو سکتا"۔ ہم نے ان کے خواب چھین لیے ہیں۔
- اور سب سے بڑی بات: ہم نے اللہ پر بھی پورا بھروسہ نہیں کیا۔ دعا مانگتے ہیں، لیکن دل میں کہتے ہیں "شاید نہ ہو"۔ پھر جب نہ ہو تو کہتے ہیں "اللہ نے نہیں دیا"۔ بھائی، اللہ نے تو راستہ کھولنے کی کوشش کی تھی، لیکن ہم نے خود ہی دروازہ بند کر دیا تھا۔

یہ سب ہم نے کیا ہے۔ ہماری اپنی حرکتوں نے۔ ہماری اپنی بے اعتمادی نے۔ ہماری اپنی سستی نے۔ ہماری اپنی خود غرضی نے۔ اور اب جب میں یہ لکھ رہا ہوں تو آنکھوں میں آنسو آ رہے ہیں، کیونکہ یہ درد ہمارا اپنا ہے۔ ہم خود کو تباہ کر رہے ہیں، اور پھر دوسروں کو موردِ الزام ٹھہراتے ہیں۔

 لیکن اب بھی امید ہے… بہت امید ہے

دوستو، میں رو رہا ہوں، لیکن مایوس نہیں ہوں۔ کیونکہ اللہ نے ہمیں یہ دل دیا ہے جو اب بھی دھڑک رہا ہے۔ اب بھی ہمارے اندر وہ چنگاری ہے جو بھڑک سکتی ہے۔  
- اگر ہم آج سے ایک دوسرے پر بھروسہ کرنا شروع کر دیں…  
- اگر ہم اپنے کاروبار میں ایمانداری کا راستہ اپنائیں…  
- اگر ہم نوجوانوں کو کہیں "بیٹا، تم سے بہت کچھ ہو سکتا ہے"…  
- اگر ہم رشتوں میں کھل کر بات کریں، شک کو دل سے نکال دیں…  
- اگر ہم اللہ سے کہیں "یا اللہ، اب تو مجھے ہمت دے، میں کوشش کروں گا"…  

تو پھر راستے ضرور کھلیں گے۔ اللہ نے کبھی کسی کو نہیں چھوڑا جس نے سچے دل سے بھروسہ کیا۔  
میں جانتا ہوں کہ ہم نے بہت نقصان کر دیا ہے۔ کراچی ڈوب رہا ہے، مہنگائی کھا رہی ہے، نوجوان مایوس ہیں۔ لیکن اب بھی وقت ہے۔ اب بھی ہم بدل سکتے ہیں۔  

میں آج رو رہا ہوں، کیونکہ مجھے اپنے آپ پر شرمندگی ہے۔ ہم سب پر شرمندگی ہے۔ لیکن یہ آنسو امید کے آنسو ہیں۔ یہ درد تبدیلی کا درد ہے۔  
بس ایک بار بھروسہ کر کے تو دیکھو – اپنے آپ پر، ایک دوسرے پر، اور سب سے بڑھ کر اللہ پر۔  
میں یقین رکھتا ہوں کہ ہم بدل جائیں گے۔ ہمارا کراچی دوبارہ خوشحال ہو گا۔ ہمارے نوجوان اڑان بھریں گے۔ ہمارے رشتے مضبوط ہوں گے۔  

کیونکہ اللہ نے وعدہ کیا ہے:  
"جو مجھ پر بھروسہ کرے گا، میں اسے مایوس نہیں کروں گا۔"

آپ بھی رو لو تھوڑا… اور پھر اٹھو۔  
ہم سب مل کر یہ بھروسہ واپس لائیں گے۔  

اللہ ہم سب کو ہمت دے، اور ہمارے دلوں سے بے اعتمادی کا زہر نکال دے۔ 

مرتضیٰ معیز  
کراچی  
26 فروری 2026


مکمل تحریر >>

25/2/26

دنیا تخلیقی صلاحیتوں کی طرف بڑھ رہی ہے، اور ہم دھوکہ دہی میں الجھے ہوئے ہیں!

سلام علیکم دوستو!  
میں مرتضیٰ معیز ہوں (@MoizMurtaza)، کراچی کا رہنے والا، اور آج میں ایک وائرل یوٹیوب شارٹ "Every
Electrician Hates Him For What He Did" سے متاثر ہو کر یہ بلاگ لکھ رہا ہوں۔ یہ شارٹس جو دنیا بھر میں وائرل ہو رہے ہیں، وہ ایک ایسے شخص کی بات کرتے ہیں جو بجلی کا کام کرتا ہے، لیکن اس نے ایسا کچھ کیا کہ باقی تمام الیکٹریشن اس سے نفرت کرنے لگے۔ کیوں؟ کیونکہ اس نے بہت ہی تخلیقی، صاف ستھرا، تیز اور جدید طریقہ اپنایا – وائرنگ کو اس طرح کیا کہ گھر والے اب ہر الیکٹریشن سے کہتے ہیں "وہی طریقہ کرو جو اس نے کیا تھا!"۔ باقی الیکٹریشن پریشان ہیں کیونکہ انہیں اب پرانے، سستے اور غیر محفوظ طریقوں پر کام کرنا پڑتا ہے، اور گاہک انہیں قبول نہیں کرتے۔

یہ شارٹ دیکھ کر مجھے ایک بات بہت شدید محسوس ہوئی: دنیا تیزی سے تخلیقی صلاحیتوں، جدت اور بہتری کی طرف بڑھ رہی ہے، اور ہم پاکستان میں اب بھی دھوکہ دہی، جھوٹی باتیں اور پرانے طریقوں میں الجھے ہوئے ہیں!

دنیا کیا کر رہی ہے؟

- ایک شخص نے وائرنگ کا نیا، محفوظ اور خوبصورت طریقہ ایجاد کیا → باقی الیکٹریشن "نفرت" کر رہے ہیں کیونکہ وہ پیچھے رہ گئے۔
- یوٹیوب، ٹک ٹاک پر لاکھوں لوگ ایسے ویڈیوز دیکھ رہے ہیں جہاں لوگ پرانے مسائل کو نئے، تخلیقی حل سے حل کر رہے ہیں – DIY ٹولز، ہوشیار ہینڈی کرافٹس، تیز ٹرکس۔
- دنیا میں الیکٹریشن، پلمبر، کارپینٹر سب مقابلہ کر رہے ہیں کہ کون بہتر، تیز اور صارف دوست کام کرے گا۔ جو پیچھے رہا، وہ بازار سے باہر ہو جائے گا۔

یہ "ہیش ٹیگ" ہے: #Innovation #DIY #GeniusHacks – لوگ انہیں شیئر کرتے ہیں کیونکہ وہ دیکھنا چاہتے ہیں کہ انسان کتنا ذہین ہو سکتا ہے۔

اور ہم پاکستان میں کیا کر رہے ہیں؟

ہم دھوکہ دہی میں مگن ہیں!  
- الیکٹریشن آتا ہے، "بھائی، یہ وائرنگ پرانی ہے، نیا لگانا پڑے گا" کہہ کر 2 گھنٹے کا کام 2 دن میں کرتا ہے، اور پیسے ضائع کرتا ہے۔
- دکاندار "یہ چیز ختم ہو گئی" کہہ کر مہنگی بیچتا ہے، جبکہ اسٹاک میں پڑی ہے۔
- کاروباری "یہ میرا خاص طریقہ ہے" کہہ کر پرانا، غیر معیاری کام کرتے ہیں، اور جب کوئی نیا آئیڈیا لائے تو "یہ تو کام نہیں کرے گا" کہہ کر رد کر دیتے ہیں۔
- ہمارے ہاں "تجربہ" کا مطلب 30 سال پرانا طریقہ ہے، نہ کہ 30 سال میں سیکھی نئی چیزیں۔

جیسے میرے پچھلے بلاگس میں کراچی کی مہنگائی، غلط ترقی اور نوجوانوں کی ضائع ہوتی صلاحیت پر بات کی – سب ایک ہی چیز ہے: لالچ، سستی اور جدت سے نفرت۔ دنیا نئی ایجادات کر رہی ہے، ہم "بلوف" مار رہے ہیں کہ "ہمارا طریقہ بہترین ہے"۔

یہ کیوں خطرناک ہے؟

- اگر ہم جدت نہ لائے تو ہماری مہنگائی، بے روزگاری اور تباہی بڑھتی جائے گی۔
- نوجوان دیکھ رہے ہیں کہ دنیا میں ایک شخص نے ایک ٹرک سے لاکھوں کمائے، اور ہمارے ہاں "ڈگری" اور "تجربہ" کا نام پر بیٹھے لوگ بس بلوف مار رہے ہیں۔
- کراچی جیسے شہر میں، جہاں ہر چیز مہنگی ہو رہی ہے، اگر ہم تخلیقی حل نہ لائے تو لوگ اور غریب ہوتے جائیں گے۔

اب کیا کریں؟ (کھرے لہجے میں)

بس کرو یہ بلوف مارنا!  
- الیکٹریشن ہو، دکاندار ہو، کاروباری ہو – نئی چیزیں سیکھو، یوٹیوب دیکھو، ٹیسٹ کرو، بہتر بنو۔
- منافع فی یونٹ کی بجائے حجم اور گاہک کی خوشی پر توجہ دو (جیسے مہنگائی والے بلاگ میں کہا)۔
- نوجوانوں کو کہو: "جدت کرو، نہ کہ پرانے طریقوں پر بیٹھے رہو"۔
- اگر کوئی نیا آئیڈیا لائے تو "واہ" کہو، نہ کہ "یہ تو نہیں چلے گا"۔

دنیا آگے بڑھ رہی ہے – تخلیقی لوگ بادشاہ بن رہے ہیں۔ ہم اگر اب بھی بلوف مارتے رہے تو پیچھے رہ جائیں گے، اور پھر افسوس بھی نہیں ہوگا کیونکہ وقت گزر جائے گا۔

یہ شارٹ دیکھ کر مجھے غصہ آیا، کیونکہ یہ ہمیں آئینہ دکھا رہا ہے: دنیا نفرت کر رہی ہے پرانے طریقوں سے، اور ہم انہیں "تجربہ" کہہ کر گلے لگائے بیٹھے ہیں۔

آپ کیا سوچتے ہیں؟ کیا ہم بھی جدت کی طرف بڑھیں گے، یا بلوف مارتے رہیں گے؟  
کمنٹس میں بتائیں۔  
اللہ ہمیں ہمت دے کہ ہم بھی دنیا کی طرح تخلیقی بنیں۔  

کراچی  
25 فروری 2026


مکمل تحریر >>

24/2/26

پاکستان کی نوجوان قوم کی حیران کن حقیقت

سلام علیکم دوستو!  
میں مرتضیٰ معیز ہوں، کراچی کا رہنے والا، اور آج میں ایک یوٹیوب شارٹ سے متاثر ہو کر یہ بلاگ لکھ رہا ہوں جس کا عنوان ہے "The SHOCKING Truth About Pakistan's Young Nation"۔ یہ شارٹ ویڈیو پاکستان کی آبادی کی ایک ایسی حقیقت کو سامنے لاتی ہے جو واقعی حیران کن ہے، اور میں اسے اپنے الفاظ میں کھول کر بیان کروں گا۔ یہ میرا اپنا لکھا ہوا ہے، روزمرہ کے مشاہدات اور اعداد و شمار کی بنیاد پر۔ آئیے دیکھتے ہیں کہ پاکستان کی یہ "نوجوان قوم" کیا ہے، کیوں یہ حیران کن ہے، اور اس کے کیا اثرات ہو سکتے ہیں۔

پاکستان کی نوجوان قوم کیا ہے؟

پاکستان کو "نوجوان قوم" کہنے کا مطلب یہ ہے کہ ہماری آبادی کا بڑا حصہ نوجوانوں پر مشتمل ہے۔ یہ کوئی شعری بات نہیں، بلکہ اعداد و شمار کی حقیقت ہے۔ اقوام متحدہ اور دیگر رپورٹس کے مطابق، پاکستان کی کل آبادی تقریباً 25 کروڑ سے زیادہ ہے، اور اس میں سے 64 فیصد لوگ 30 سال سے کم عمر کے ہیں۔ جی ہاں، 64 فیصد! اس کا مطلب ہے کہ تقریباً دو تہائی پاکستانی نوجوان ہیں۔ خاص طور پر، 15 سے 29 سال کی عمر کے لوگ 29 فیصد ہیں – یہ وہ گروپ ہے جو "یوتھ" کہلاتا ہے۔

یہ اعداد حیران کن ہیں کیونکہ دنیا کے بیشتر ممالک میں آبادی بوڑھی ہو رہی ہے۔ مثال کے طور پر، چین میں اوسط عمر 52 سال تک پہنچنے والی ہے، برطانیہ میں 42، جبکہ پاکستان میں اوسط عمر صرف 20.4 سال ہے۔ 2050 تک بھی یہ صرف 26 سال تک پہنچے گی۔ یہ "یوتھ بلج" ہے – یعنی نوجوانوں کی ایک لہر جو ملک کو آگے بڑھا سکتی ہے یا مسائل پیدا کر سکتی ہے۔

کیوں یہ حقیقت "حیران کن" ہے؟

یہ حقیقت حیران کن ہے کیونکہ یہ ایک موقع بھی ہے اور چیلنج بھی۔ ایک طرف، اتنی نوجوان آبادی کا مطلب ہے کہ ہمارے پاس مزدور قوت، نئی سوچیں، اور ترقی کی صلاحیت ہے۔ تصور کریں: اگر یہ نوجوان تعلیم یافتہ ہوں، نوکریاں پائیں، اور ملک کی معیشت میں حصہ ڈالیں تو پاکستان ایک طاقتور ملک بن سکتا ہے۔ یہ وہی ہے جو چین اور بھارت نے کیا – اپنی نوجوان آبادی کو استعمال کر کے معاشی انقلاب لائے۔

لیکن دوسری طرف، یہ حیران کن اس لیے ہے کیونکہ ہم اس موقع کو ضائع کر رہے ہیں۔ پاکستان میں نوجوانوں کی شرح نمو دنیا میں سب سے زیادہ ہے (تقریباً 2 فیصد سالانہ)، اور بچوں کی پیدائش کی شرح بھی جنوبی ایشیا میں سب سے زیادہ (3.6 بچے فی خاتون)۔ نتیجہ؟ وسائل کم، مسائل زیادہ۔ نوجوان بے روزگار ہیں، مہنگائی کی زد میں ہیں، اور تعلیم کا معیار ناقص ہے۔ ایک رپورٹ کے مطابق، 60 فیصد نوجوانوں کو مناسب تعلیم، نوکری، یا معاشی مواقع نہیں ملتے۔ یہ "بلج" ایک دھماکہ خیز بم کی طرح ہے جو پھٹ سکتا ہے اگر نہ سنبھالا جائے۔

ہمارے نوجوانوں کے سامنے چیلنجز

اب دیکھیں کہ یہ نوجوان قوم کس حال میں ہے:
- بے روزگاری اور مہنگائی: میرے پچھلے بلاگ میں میں نے کراچی کی مہنگائی پر بات کی تھی۔ یہ نوجوان، جو ملک کا مستقبل ہیں، مہنگائی کی وجہ سے پریشان ہیں۔ نوکریاں نہیں، اور اگر ہیں تو تنخواہ کم۔ تقریباً 80 فیصد لوگ 40 سال سے کم عمر کے ہیں، اور یہ سب اپنے بچوں کی پرورش کے سالوں میں ہیں – لیکن وسائل کہاں؟
- تعلیم کی کمی: لاکھوں نوجوان سکول نہیں جا پاتے۔ جو جاتے ہیں، وہاں معیار ناقص۔ نتیجہ؟ ہنر مند مزدور قوت کی کمی، اور ملک کی ترقی رک جاتی ہے۔
- سیاسی اور سماجی مسائل: نوجوانوں کی یہ لہر اگر ناراض ہو تو انقلاب لا سکتی ہے، جیسے عمران خان کی تحریک میں دیکھا۔ لیکن اگر استعمال نہ کیا جائے تو انتہا پسندی، جرائم، اور مایوسی پھیلتی ہے۔
- ماحولیاتی اور معاشی دباؤ: کراچی کی تباہی کے بلاگ میں میں نے بتایا تھا کہ غلط ترقی اور لالچ شہر کو تباہ کر رہے ہیں۔ یہ نوجوان آبادی وسائل پر مزید دباؤ ڈال رہی ہے – پانی، بجلی، رہائش۔ اگر ابھی پلاننگ نہ کی تو 2050 تک آبادی اور بڑھے گی، اور مسائل آسمان چھوئیں گے۔

یہ موقع کیسے استعمال کریں؟

یہ حیران کن حقیقت کو تبدیل کرنے کا وقت ہے۔ ہمیں چاہیے:
1. تعلیم پر سرمایہ کاری: ہر نوجوان کو معیاری تعلیم دیں، خاص طور پر ہنر سیکھنے والے کورسز۔
2. نوکریاں پیدا کریں: کاروبار کو آسان بنائیں، نوجوانوں کو سٹارٹ اپس شروع کرنے میں مدد دیں۔ حجم پر توجہ دیں، جیسے مہنگائی والے بلاگ میں کہا۔
3. خاندانی منصوبہ بندی: پیدائش کی شرح کو کنٹرول کریں تاکہ آبادی متوازن رہے۔
4. سیاسی شرکت: نوجوانوں کو سیاست میں لائے، تاکہ وہ اپنا مستقبل خود بنائیں۔

اگر ہم یہ نہ کریں تو یہ "نوجوان قوم" ایک لعنت بن جائے گی – بے روزگاری، غربت، اور عدم استحکام۔

آخری بات

دوستو، یہ یوٹیوب شارٹ کی حقیقت ہے جو ہمیں جھنجھوڑتی ہے: پاکستان دنیا کی سب سے نوجوان قوموں میں سے ایک ہے، لیکن ہم اسے ضائع کر رہے ہیں۔ یہ حیران کن ہے کیونکہ یہ ہمارا مستقبل ہے۔ میرے پچھلے بلاگس کی طرح، یہ بھی ہمارے رویے پر منحصر ہے – لالچ چھوڑیں، پائیدار ترقی پر توجہ دیں۔

آپ کیا سوچتے ہیں؟ کمنٹس میں بتائیں۔ اللہ پاکستان کو ترقی دے۔  
کراچی  
24 فروری 2026


مکمل تحریر >>

23/2/26

کراچی کی تباہی: مہنگائی اور غلط ترقی کا گہرا رشتہ

سلام علیکم دوستو!  
میں مرتضیٰ معیز ہوں، کراچی کا رہنے والا، اور آج میں اپنے پچھلے بلاگ "کراچی میں مہنگائی کیوں بڑھ رہی ہے؟" کو ایک اور اہم موضوع سے جوڑ رہا ہوں  کراچی کی تباہی۔ یہ بلاگ ڈان نیوز کے ایک آرٹیکل "DESTROYING KARACHI THROUGH ‘DEVELOPMENT’" سے متاثر ہے، جو کراچی کی غلط ترقی اور رئیل اسٹیٹ پروجیکٹس کی وجہ سے ہونے والی تباہی پر روشنی ڈالتا ہے۔ میں یہاں یہ بتانا چاہتا ہوں کہ مہنگائی کی وجہ سے کراچی کو جو نقصان پہنچ رہا ہے، وہ صرف معاشی نہیں بلکہ یہ شہر کی مجموعی تباہی کا حصہ ہے۔ نہ صرف ہم نے اس رویے سے کراچی کو تباہ کیا ہے بلکہ مجموعی مارکیٹ کو بھی مسخ کر دیا ہے۔ یہ میرا اپنا لکھا ہوا ہے، دل کی بات اور مشاہدات کی بنیاد پر۔

مہنگائی اور تباہی کا رشتہ

میرے پچھلے بلاگ میں میں نے بتایا تھا کہ کراچی میں مہنگائی کی ایک بڑی وجہ ہمارا اپنا رویہ ہے – ہر چیز پر زیادہ سے زیادہ منافع کمانے کی لالچ۔ دکاندار ایک ہی چیز پر زیادہ منافع مارتے ہیں، جس سے قیمتیں آسمان چھو جاتی ہیں، لوگ کم خریدتے ہیں، اور یہ چرخہ چلتا رہتا ہے۔ اب اسے کراچی کی تباہی سے جوڑیں: وہ تباہی جو غلط ترقی، ہائی رائز عمارتوں، اور رئیل اسٹیٹ کی اندھا دھند دوڑ سے ہو رہی ہے۔ یہ دونوں ایک ہی سکے کے دو رخ ہیں – لالچ اور قلیل مدتی سوچ۔

ڈان کے آرٹیکل میں بتایا گیا ہے کہ کراچی کی ماسٹر پلانز کو نظر انداز کیا جا رہا ہے، زوننگ قوانین کی خلاف ورزی ہو رہی ہے، اور ہائی رائز عمارتیں بغیر حفاظتی اقدامات کے بنائی جا رہی ہیں۔ یہ وہی لالچ ہے جو مہنگائی میں نظر آتی ہے: بلڈر مافیا زیادہ سے زیادہ منافع کے لیے قوانین توڑتے ہیں، گرین اسپیسز کو ختم کرتے ہیں، اور شہر کو ایک نازک ماحولیاتی نظام میں تبدیل کر دیتے ہیں۔ نتیجہ؟ بارشوں میں سیلاب، گلیاں ندیوں میں تبدیل، اور لوگوں کی جانیں ضائع۔ اگست 2025 کی بارشوں نے یہ ثابت کر دیا کہ کراچی ڈوب رہا ہے – نہ صرف پانی میں بلکہ غلط فیصلوں میں۔

ہم نے کراچی کو اس طرح کیسے تباہ کیا؟

یہ تباہی صرف جسمانی نہیں، معاشی بھی ہے، اور مہنگائی اس کا ایک بڑا ہتھیار ہے۔ 
- لالچ کی زنجیر: جیسے دکاندار ایک چیز پر زیادہ منافع مارتے ہیں اور کل فروخت کم ہو جاتی ہے، ویسے ہی بلڈرز ایک پلاٹ پر زیادہ سے زیادہ فلورز بناتے ہیں (فلوور ایریا ریشو کو 1.75:1 سے 4:1 تک بڑھا کر)، بغیر یہ سوچے کہ پانی، بجلی، سیوریج کا کیا ہوگا۔ نتیجہ: ایک پلاٹ جو ایک فیملی کے لیے تھا، اب 50-60 فیملیز (1000 سے زیادہ لوگ) رکھتا ہے۔ یہ strain شہر کے وسائل پر ڈالتا ہے، جس سے مہنگائی بڑھتی ہے – پانی مہنگا، بجلی مہنگی، ٹرانسپورٹ مہنگی۔
- ماحولیاتی نقصان: کراچی کے ساحلوں پر پروجیکٹس مینگرووز کو تباہ کر رہے ہیں، جو کاربن جذب کرنے والے اہم جنگلات ہیں۔ یہ تباہی سیلاب کا خطرہ بڑھاتی ہے، جو پھر معیشت کو متاثر کرتی ہے – کاروبار بند، لوگ بے روزگار، اور مہنگائی آسمان چھو جاتی ہے کیونکہ سپلائی چین ٹوٹ جاتی ہے۔
- رہائشیوں پر اثر: ہائی رائزز میں رہنے والے لوگ گرمی، آلودگی، اور تناؤ کا شکار ہیں۔ ایک سروے کے مطابق، 64% لوگ مستقل تکلیف میں ہیں۔ یہ ذہنی صحت خراب کرتی ہے، کام کی صلاحیت کم کرتی ہے، اور معاشی پیداوار گھٹتی ہے – جو مہنگائی کو مزید ہوا دیتی ہے۔

ہم نے کراچی کو تباہ کیا ہے اس لالچ سے جو مہنگائی کو جنم دیتا ہے اور ترقی کو غلط رخ دیتا ہے۔ شہر جو کبھی خوشحال تھا، اب ڈوب رہا ہے، جل رہا ہے، اور ٹوٹ رہا ہے۔

مجموعی مارکیٹ کو کیسے مسخ کیا؟

یہ صرف کراچی کی تباہی نہیں، بلکہ مجموعی مارکیٹ کی مسخ شدگی ہے۔ 
- سپیکولیٹو گروتھ: آرٹیکل میں بتایا گیا ہے کہ زمین کی استعمال قدر پر نہیں، بلکہ منافع پر ہو رہی ہے۔ یہ سپیکولیشن مارکیٹ کو distort کرتی ہے – رئیل اسٹیٹ میں پیسہ لگتا ہے، نہ کہ پیداواری کاموں میں۔ نتیجہ: معاشی عدم توازن، جہاں امیر مزید امیر ہوتے ہیں اور غریب مہنگائی کی زد میں آتے ہیں۔
- ریسورس کی کمی: غلط ترقی وسائل کو ختم کرتی ہے، جس سے اشیاء کی قیمتیں بڑھتی ہیں۔ مثال کے طور پر، گرین اسپیسز ختم ہونے سے درجہ حرارت بڑھتا ہے، جو زراعت کو متاثر کرتا ہے – پھل، سبزیاں مہنگیں، اور مہنگائی کا چرخہ چلتا ہے۔
- مصرفیت کی ترغیب: مالز اور ہائی رائزز مصرفیت کو بڑھاوا دیتے ہیں، بغیر پائیداری کے۔ یہ مارکیٹ کو distort کرتی ہے – لوگ ضروریات کی بجائے لگژری پر خرچ کرتے ہیں، قرض بڑھتے ہیں، اور معیشت کمزور ہوتی ہے۔
- بلڈر مافیا کا راج: قوانین توڑنے اور ایمنسٹی فیس سے بلڈنگز، مارکیٹ کو غیر منصفانہ بناتے ہیں۔ یہ مقابلہ ختم کرتا ہے، چھوٹے کاروبار تباہ ہوتے ہیں، اور بڑے پلیئرز مونوپولی قائم کرتے ہیں – جو مہنگائی کو مستقل بناتا ہے۔

مجموعی طور پر، یہ لالچ مارکیٹ کو مسخ کر رہی ہے: معاشی عدم مساوات بڑھ رہی ہے، وسائل ضائع ہو رہے ہیں، اور کراچی کی معیشت ایک نازک دھاگے پر لٹک رہی ہے۔

آخری بات

دوستو، مہنگائی اور غلط ترقی دونوں کراچی کو تباہ کر رہی ہیں، اور یہ ہمارا اپنا کیا دھرا ہے۔ اگر ہم اپنا رویہ نہ بدلیں – منافع کی بجائے پائیداری اور حجم پر توجہ دیں – تو یہ شہر مزید برباد ہوگا۔ آرٹیکل میں کہا گیا ہے کہ "پولیوٹر پیز پرنسپل" اپنانا چاہیے، جہاں تباہی کرنے والے اس کی قیمت ادا کریں۔ ہمیں بھی ایسا کرنا ہوگا۔

آپ کیا سوچتے ہیں؟ کمنٹس میں بتائیں۔ اللہ کراچی کو بچائے۔  
کراچی


مکمل تحریر >>

کراچی میں مہنگائی کیوں بڑھ رہی ہے؟ – ایک سیدھا اور کھرا تجزیہ


سلام علیکم دوستو!  
میں مرتضیٰ معیز ہوں، کراچی کا رہنے والا، اور آج پھر وہی بات کر رہا ہوں جو ہر گلی محلے میں گونج رہی ہے: مہنگائی۔ یہ بات پورے پاکستان کی نہیں، خاص طور پر کراچی کی ہے جہاں ہر چیز روزانہ کی بنیاد پر مہنگی ہو رہی ہے – روٹی سے لے کر پھلوں تک، پیٹرول سے کرایہ تک۔ یہ میرا اپنا لکھا ہوا ہے، کوئی مشین یا AI کی مدد نہیں لی، بس دل کی بات اور روزمرہ کے مشاہدات۔ آئیے سیدھے مسئلے کی جڑ تک جاتے ہیں۔

سب سے پہلے: مہنگائی کیا ہوتی ہے؟

مہنگائی کا مطلب ہے کہ چیزیں مسلسل مہنگی ہو رہی ہیں اور آپ کے پیسوں کی خریداری کی طاقت کم ہو رہی ہے۔ آج جو چیز 100 روپے میں مل رہی تھی، کل 120-130 میں ملے گی۔ کراچی جیسے شہر میں جہاں کروڑوں لوگ رہتے ہیں، آمدنی وہی پرانی، لیکن خرچہ آسمان چھو رہا ہے۔ نتیجہ؟ لوگ قرضوں میں ڈوب رہے ہیں، بچت ختم، اور ذہنی تناؤ بڑھ رہا ہے۔

کراچی میں مہنگائی کی اصل وجہ کیا ہے؟

بہت سے لوگ کہتے ہیں کہ حکومت، آئی ایم ایف، ڈالر کی قیمت، پیٹرول، یا عالمی مارکیٹ – یہ سب تو ہیں، لیکن ایک بہت بڑی وجہ ہم خود ہیں۔ ہماری اپنی سوچ اور رویہ۔

ہم دکاندار بھی ہیں، صارف بھی ہیں، اور بیچنے والے بھی۔ مسئلہ یہ ہے کہ ہر کوئی ہر چیز پر زیادہ سے زیادہ منافع کمانا چاہتا ہے – ایک ہی چیز پر، ایک ہی وقت میں۔

مثال کے طور پر:  
ایک دکاندار سوچتا ہے کہ "اگر میں آج ایک کیلو آلو 10 روپے منافع پر بیچوں تو ٹھیک ہے، لیکن اگر 20-25 روپے منافع لوں تو کیا ہوگا؟" وہ 25 روپے لگا دیتا ہے۔ پھر اگلا دکاندار سوچتا ہے "اگر وہ 25 لگا رہا ہے تو میں 30-35 لگاؤں گا"۔ نتیجہ؟ ایک ہی دن میں آلو کی قیمت 50-60 روپے کلو تک پہنچ جاتی ہے جبکہ تھوک میں 30-35 تھی۔

یہ ہر چیز کے ساتھ ہو رہا ہے – سبزی، پھل، دودھ، روٹی، گوشت، حتیٰ کہ چھوٹی چھوٹی چیزیں جیسے بسکٹ یا چائے کی پتی۔

ہمارا غلط رویہ: منافع فی یونٹ پر فوکس کرنا

ہمارا سب سے بڑا غلط فہمی یہ ہے کہ ہر ایک چیز پر زیادہ منافع کمانا چاہیے۔  
- اگر ایک روٹی پر 5 روپے منافع لیا جائے تو "کم" لگتا ہے۔  
- لیکن اگر وہی روٹی 3-4 روپے منافع پر بیچی جائے تو کیا ہوگا؟ لوگ زیادہ خریدیں گے۔ ایک خاندان دن میں 10 روٹیاں لیتا تھا، اب 15-20 لے گا کیونکہ سستی لگیں گی۔  

- نتیجہ: کم منافع فی روٹی، لیکن زیادہ فروخت → کل (overall) منافع زیادہ۔

یہی اصول ہر چیز پر چیزپر ہوتا ہے:  

- اگر دودھ 20 روپے لیٹر سستا ہو تو لوگ 2-3 لیٹر لیں گے بجائے ایک کے۔  
- اگر پھل سستے ہوں تو لوگ درجنوں میں خریدیں گے، ضائع بھی کم ہوگا کیونکہ جلدی ختم ہو جائیں گے۔  
- اگر کرایہ مناسب ہو تو لوگ زیادہ سفر کریں گے، دکانیں زیادہ چلیں گی۔

لیکن ہم کیا کرتے ہیں؟ ایک چیز پر زیادہ منافع مارتے ہیں → لوگ کم خریدتے ہیں → فروخت کم → پھر قیمت اور بڑھا دیتے
ہیں → چرخہ چلتا رہتا ہے۔

متبادل سوچ – کیا کرنا چاہیے؟

1. منافع کو روزانہ/ہفتہ وار دیکھیں، نہ کہ ہر آئٹم پر۔  
   کل منافع 5000 روپے کا ہونا چاہیے تو 1000 چیزیں بیچ کر 5 روپے فی چیز، یا 500 چیزیں بیچ کر 10 روپے فی چیز – دونوں ایک جیسا نتیجہ۔ لیکن پہلا طریقہ بہتر ہے کیونکہ گاہک واپس آئیں گے۔

2. حجم بڑھائیں، منافع کم رکھیں۔  
   زیادہ گاہک = زیادہ گردش = زیادہ کل منافع۔

3. صارف کی جیب کا خیال رکھیں۔  
   اگر صارف کو لگے کہ "یہ قیمت مناسب ہے" تو وہ نہ صرف خریدے گا بلکہ بار بار آئے گا، دوسروں کو بھی بتائے گا۔ یہ لمبے عرصے کا کاروبار ہے، نہ کہ ایک دن کا ہڑپ کرنا۔

4. ہم سب مل کر کنٹرول کریں۔  
   اگر دکاندار کم منافع پر بیچے، صارف زیادہ خریدے، سپلائرز کو بھی حجم ملے – سب کا فائدہ۔ مہنگائی خود بخود کم ہو جائے گی۔

آخری بات

کراچی میں مہنگائی صرف بیرونی وجوہات سے نہیں بڑھ رہی، ہماری لالچ اور قلیل مدتی سوچ بھی اسے ہوا دے رہی ہے۔ اگر ہم اپنا رویہ بدلیں – منافع فی یونٹ کی بجائے کل حجم اور روزانہ منافع پر توجہ دیں – تو بہت حد تک مہنگائی کو روکا جا سکتا ہے۔

یہ میری ذاتی رائے ہے، میرا مشاہدہ ہے۔ آپ کیا سوچتے ہیں؟ کمنٹس میں بتائیں۔  
اگر ہم سب نے مل کر یہ تبدیلی لائی تو کراچی دوبارہ سستا اور خوشحال ہو سکتا ہے۔

اللہ ہم سب کو ہمت دے۔  
کراچی


مکمل تحریر >>

19/2/26

سدھیر چودھری: ہندوستانی میڈیا کا سب سے بڑا جھوٹا، نفرت کا تاجر اور پروپیگنڈا کا بادشاہ – اعداد و شمار، FIRs اور حقائق کے ساتھ سیدھا سیدھا الزام!


سلام علیکم دوستو،  
آج کا یہ بلاگ سدھیر چودھری پر ہے – آج تک اور زی نیوز کا وہ متنازع اینکر جو "ڈی این اے" اور "بلیک اینڈ وائٹ" جیسے پروگراموں کے ذریعے ہندوستان کی میڈیا کو تباہ کر رہا ہے۔  

میں سیدھا سیدھا اور بغیر کسی لچک کے اعلان کرتا ہوں:  

سدھیر چودھری ایک صحافی نہیں ہے – وہ ایک مکمل
پروپیگنڈا مشین ہے، جھوٹ کا بادشاہ ہے، اور نفرت کا سب سے بڑا تاجر ہے۔  

یہ بندہ جان بوجھ کر جھوٹ بولتا ہے، مذہبی تقسیم پیدا کرتا ہے، اور ویوز اور TRP کے لیے ملک کی ہم آہنگی کو تباہ کر رہا ہے۔ اگر ہندوستان کی میڈیا میں سب سے بڑا زہر ہے تو وہ سدھیر چودھری کا نام ہے – اور میں اسے بغیر کسی ہچکچاہٹ کے بے نقاب کر رہا ہوں۔  

ورلڈ اکنامک فورم کی 2024 گلوبل رسک رپورٹ واضح طور پر کہتی ہے: غلط معلومات کا خطرہ ہندوستان میں دنیا کا سب سے بڑا ہے۔ ایک سروے سے ثابت ہوا کہ 57% ہندوستانی غلط معلومات کا شکار ہو چکے ہیں۔ UNESCO-Ipsos سروے 2023 کے مطابق 85% ہندوستانیوں نے آن لائن نفرت انگیز مواد دیکھا اور 64% کا کہنا ہے کہ سوشل میڈیا اور ٹی وی اس کا سب سے بڑا ذریعہ ہے۔ 2014 سے VIP نفرت انگیز تقریروں میں 500% اضافہ ہوا ہے (NDTV کی تحقیق)۔ کرونا دور میں فیک نیوز میں 214% اضافہ ہوا۔ اور سدھیر چودھری جیسے اینکرز اس زہر کو ٹی وی پر پھیلا رہے ہیں۔  

یہ اعداد و شمار اور حقائق بتاتے ہیں کہ سدھیر کی رپورٹنگ صرف جھوٹ نہیں – یہ ملک کی سماجی ہم آہنگی کو منظم طور پر تباہ کرنے کا ہتھیار ہے۔  

سدھیر کا جھوٹ اور فیک نیوز کا ریکارڈ – اعداد و شمار اور FIRs کے ساتھ

- عما کھرانہ فیک سٹنگ آپریشن (2007): لائیو انڈیا ٹی وی پر (جہاں سدھیر CEO اور ایڈیٹر تھے) ایک مکمل جھوٹا سٹنگ چلایا گیا۔ ٹیچر عما کھرانہ پر طوائف ہونے کا الزام لگایا گیا۔ ایک لڑکی کو اداکارہ بنا کر دکھایا گیا۔ نتیجہ؟ ہجوم نے حملہ کیا، عما گرفتار ہوئیں، اور وزارت اطلاعات نے چینل پر 1 ماہ کی پابندی لگائی۔ یہ 2007 کا واقعہ ہے جو سدھیر کی جیل کی پہلی وجہ بھی بنا۔  
- کرناٹک کی اقلیتی سکیم پر جھوٹی خبر (2023): سدھیر نے اپنے شو میں دعویٰ کیا کہ کرناٹک حکومت صرف مسلمانوں، کرسچنز اور دیگر اقلیتوں کو مالی مدد دے رہی ہے، ہندوؤں کو چھوڑ کر۔ یہ بالکل جھوٹ تھا – سکیم تمام اقلیتوں کے لیے تھی۔ نتیجہ؟ بنگلور پولیس نے FIR درج کی (سیکشن 153A اور 505 کے تحت نفرت پھیلانے کا الزام)، اور کرناٹک ہائی کورٹ نے 19 ستمبر 2023 تک کوئی کارروائی نہ کرنے کا حکم دیا۔  
- مہوا موئترا کی تقریر پر جھوٹا الزام (2019): سدھیر نے دعویٰ کیا کہ ٹی ایم سی کی ایم پی مہوا موئترا نے اپنی پہلی پارلیمنٹ تقریر ایک 2017 آرٹیکل سے پلاجیریزڈ کی۔ یہ جھوٹ تھا – تقریر اوریجنل تھی، لیکن زی نیوز نے غلط موازنہ کیا۔ یہ اپوزیشن کو بدنام کرنے کی کوشش تھی۔  
- جہاد چارٹ کا پروپیگنڈا (2020): "زمین جہاد" شو میں ایک "جہاد چارٹ" دکھایا، جو ایک فیس بک پیج "Boycott Halal in India" سے چوری کیا گیا تھا۔ یہ اسلاموفوبیا پھیلاتا ہے اور بے بنیاد تھا۔ Alt News نے اسے بے نقاب کیا، اور FIR بھی درج ہوئی (سیکشن 295A کے تحت مذہبی جذبات کو ٹھیس پہنچانے کا الزام)۔  
- ٹیبلیغی جماعت پر جھوٹ (2020): کرونا کے شروع میں ٹیبلیغی جماعت کو لاک ڈاؤن توڑنے کا ذمہ دار ٹھہرایا اور کہا کہ "ان کے لیڈرشپ کو جیل میں ڈالو"۔ بعد میں عدالتوں نے ثابت کیا کہ ایونٹ لاک ڈاؤن سے پہلے تھا۔ اس سے اسلاموفوبیا بڑھا اور مسلمانوں پر حملے ہوئے۔  
- پینٹاگون دھماکے کی جھوٹی خبر (2023): ریپبلک ٹی وی نے ایک AI جنریٹڈ تصویر دکھا کر دعویٰ کیا کہ امریکہ میں پینٹاگون کے قریب دھماکہ ہوا۔ یہ RT (روس) کے ٹویٹ سے لیا گیا تھا، جو QAnon سے جڑا تھا۔ بعد میں معافی ماننی پڑی۔  
- وائرل کلپ پر غلط ملک کا الزام (2025): ڈی ڈی نیوز پر ایک کلپ دکھایا جو "پاکستانیوں کا مذاق" کہہ کر پیش کیا، لیکن وہ ایک ہندوستانی کنٹینٹ کریئٹر وکاشو تومر کا تھا۔ یہ قومی نفرت بڑھانے کی کوشش تھی۔  

میں assertive طور پر کہتا ہوں: یہ صحافت نہیں ہے – یہ نفرت کی فیکٹری ہے۔ سدھیر جان بوجھ کر جھوٹ بولتا ہے تاکہ ویوز ملیں اور حکومت خوش رہے۔ یہ گودی میڈیا کا سب سے بڑا چہرہ ہے۔

مسلمانوں کے خلاف نفرت کا سب سے بڑا ذریعہ

سدھیر نے "وائٹ کالر جہاد" جیسے الفاظ ایجاد کیے – کہا کہ تعلیم یافتہ مسلمان ملک دشمن ہیں۔ کشمیری رہنماؤں کو منافق اور غدار کہا۔  

یہ سب کچھ ایک ہی مقصد سے: ہندوستان کے 20 کروڑ مسلمانوں کے خلاف نفرت بڑھانا۔ سدھیر جب مسلمانوں کی بات کرتا ہے تو اس کی آواز میں زہر ہوتا ہے، جبکہ BJP کی ناکامیوں پر مکمل خاموشی۔  

میں assertive طور پر کہتا ہوں: سدھیر چودھری ہندوستان کی جمہوریت اور ہم آہنگی کا دشمن ہے۔ وہ مذہبی تقسیم پیدا کر کے ملک کو تباہ کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔

حکومت کی کٹھ پتلی اور اپوزیشن پر حملے

- اپوزیشن لیڈرز کو "غدار"، "ملک دشمن"، "پاکستان زدہ" کہتا ہے۔  
- حکومت کی ناکامیوں (بے روزگاری، مہنگائی، کسان احتجاج) پر مکمل خاموشی۔  

سدھیر BJP-RSS کی حمایت میں ایک زندہ ہتھیار ہے۔ وہ چیخ کر بحث کرتا ہے، مہمانوں کو ذلیل کرتا ہے، اور جب کوئی اسے چیلنج کرتا ہے تو بحث ختم کر دیتا ہے۔ یہ صحافت نہیں، ڈرامہ ہے۔

میری ذاتی تنقید: سدھیر ایک سماجی زہر ہے

میں سیدھا کہتا ہوں: سدھیر چودھری ہندوستانی میڈیا کا سب سے بڑا داغ ہے۔ وہ جھوٹ بول کر، نفرت پھیلا کر پیسہ کماتا ہے۔ اس کی وجہ سے لاکھوں لوگوں میں نفرت بڑھ رہی ہے، خاندان تقسیم ہو رہے ہیں، اور ملک کی سماجی ہم آہنگی تباہ ہو رہی ہے۔  

اگر ہندوستان کی میڈیا ایسے اینکرز کو برداشت کرتی رہی تو جمہوریت کا جنازہ نکل جائے گا۔ سدھیر جیسے لوگوں کو بائیکاٹ کرنا چاہیے، ان کے چینلز کو نہ دیکھنا چاہیے، اور فیک نیوز کے خلاف آواز اٹھانی چاہیے۔  

اگر آپ بھی سدھیر کی کسی جھوٹی خبر کا شکار ہوئے ہیں یا اس کی مثال جانتے ہیں تو کمنٹ میں ضرور بتائیں۔ ہم سب مل کر اس زہر کو روکیں۔  

اللہ حافظ!  
- مرتضیٰ معیز، کراچی سے  
(19 فروری 2026)


مکمل تحریر >>

عمران خان کی بینائی کی حقیقت سامنے؟ پی ٹی آئی اور اسٹیبلشمنٹ کا ڈیل کا قصہ | سید مزمل آفیشل کی ویڈیو کا جائزہ

سلام علیکم دوستو! میں مرتضیٰ معیز ہوں، کراچی سے بلاگنگ کر رہا ہوں۔ @MoizMurtaza پر مجھے فالو کریں اگر آپ کو سیاسی ڈراموں کی اندر کی کہانیاں پسند ہیں۔ آج کی رات (19 فروری 2026، رات کے 12 بجے) میں بیٹھا سوچ رہا تھا کہ پاکستان کی سیاست میں ڈرامہ کبھی ختم نہیں ہوتا۔ حال ہی میں سید مزمل آفیشل کی ایک ویڈیو دیکھی جس نے مجھے ہلا کر رکھ دیا۔ عنوان ہے "Reality of Imran’s Eyesight Exposed | PTI’s Deal with Establishment | Syed Muzammil Official"۔ یہ ویڈیو ابھی تازہ تازہ اپ لوڈ ہوئی ہے، 1500+ ویوز، 201 لائکس اور 31 کمنٹس۔ میں نے سوچا، کیوں نہ اس پر ایک دلچسپ بلاگ لکھوں – تھوڑا مصالحہ ڈال کر، تصاویر شامل کر کے، تاکہ پڑھنے میں مزہ آئے۔ چلیں، شروع کرتے ہیں!

سید مزمل کی ویڈیو – ایک جھلک

سید مزمل صاحب کو تو آپ جانتے ہی ہوں گے، ایک نوجوان جرنلسٹ جو بے باک بات کرتے ہیں۔

 ویڈیو میں وہ عمران خان کی اڈیالہ جیل میں بینائی کے مسئلے پر کھل کر بات کر رہے ہیں۔ خبروں کے مطابق، خان صاحب کو شدید انفیکشن ہوا ہے، بینائی کم ہو رہی ہے، اور ایک میڈیکل بورڈ بھی بن گیا ہے۔ لیکن اصل مزہ تو یہ ہے کہ سید مزمل کہتے ہیں: کیا یہ سب ایک بڑی "ڈیل" کا حصہ ہے؟ یعنی، اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ خفیہ معاہدہ، اور یہ صحت کا ڈرامہ اسے چھپانے کے لیے؟ واہ، کیا ٹوئسٹ ہے!

ویڈیو مختصر ہے لیکن پوائنٹڈ۔ تین بڑے پوائنٹس:
- میڈیکل سچائی: آنکھ کا انفیکشن واقعی سنگین ہے؟ جیل کی حالت خراب، طبی سہولیات کی کمی – یہ سب کتنا سچ ہے؟
- ڈیل کی افواہیں: کیا یہ رپورٹس عمران خان کو باہر بھیجنے یا سیاسی ڈیل کے لیے ہیں؟ جیل کی دیواروں کے پیچھے کیا پک رہا ہے؟
- اسٹیبلشمنٹ کا کردار: پی ٹی آئی اور اداروں کے درمیان کیا ہو رہا ہے؟ سید مزمل نے سوالات اٹھائے جو ہر پاکستانی کے ذہن میں ہیں۔

ٹیگز جیسے #imrankhan #pti #adialajail دیکھ کر لگتا ہے، یہ ویڈیو سیاسی بم ہے!

کمنٹس کا مزہ – لوگوں کی آوازیں

ویڈیو کے نیچے کمنٹس پڑھ کر ہنسی آتی ہے۔ زیادہ تر سید مزمل کی تعریف: "My favorite journalist Muzamil sir❤" یا
"Excellent young journalist MaShaAllah"۔ ایک بندے نے لکھا: "Ya khabarain kuch saal pehla bi suni gayi thi magar banda koi aur tha😂😂😂" – یعنی نواز شریف والا پرانا ڈرامہ یاد دلایا۔ دوسرے نے کہا: "Nawaz ko b health issue th ab inko b ho gaye hahaha bs hm log awam paghal bannna ka lia hai"۔ ہاہاہا، سچ ہے نا؟ عوام کو بیوقوف بنانے کا پرانا فارمولا۔ ایک کمنٹ تو مخالفت کا بھی: "If hypocrisy had to be an person it would be you"۔ کمنٹس سے لگتا ہے، لوگ سید مزمل کو پسند کرتے ہیں، لیکن موضوع پر بحث گرم ہے۔ "First comment" والے بھی ہیں، جیسے ہر ویڈیو میں ہوتے ہیں!

کیا یہ سب ایک بڑا ڈرامہ ہے؟ میری ذاتی رائے

دوستو، یہ ویڈیو دیکھ کر مجھے لگتا ہے، پاکستان کی سیاست میں صحت کے مسائل کو ہتھیار بنایا جاتا ہے۔

عمران خان جیل میں،

آنکھوں کا مسئلہ – کیا واقعی جیل کی حالت اتنی بری ہے، یا یہ ڈیل کی تیاری؟ یاد ہے نواز شریف کا پلیٹلیٹس ڈرامہ؟ اب خان صاحب کا ٹرن۔ اگر ڈیل ہو رہی ہے تو کیا فائدہ؟ پی ٹی آئی کو ریلیف ملے گا، یا ملک کو بحران سے نجات؟ لیکن شفافیت کہاں ہے؟ حکومت کو چاہیے کہ سچ بتائے، افواہیں نہ پھیلنے دے۔

اور ہاں، اسٹیبلشمنٹ اور سیاست کے ڈیلز پر تو کارٹونز بھی بنتے ہیں!


 دیکھیں یہ کارٹون،



 کتنا مزاحیہ لیکن سچا لگتا ہے۔ کیا آپ کو لگتا ہے یہ ڈیل ہو رہی ہے؟ کمنٹ میں بتائیں!

اگر آپ نے ویڈیو نہیں دیکھی تو ابھی دیکھیں، اور یہ بلاگ شیئر کریں۔ اللہ پاکستان کو سکون دے۔ آمین۔

مرتب: مرتضیٰ معیز، 19 فروری 2026


مکمل تحریر >>

بلاگ میں مزید دیکھیں

You might like

$results={5}

Search me

Translate