The Political Horizon: اکتوبر 2026

Translate

اکتوبر 11, 2026

پاکستانی میوزک، کرکٹ اور قومی شناخت: ہم اپنی پہچان کہاں چھوڑ آئے؟

میں اس طرح کے بلاگ کے لئے لمبی تمہید نہیں باندھوں گا، بلکہ جیسے اسپرائٹ Sprite کے اشتہار میں سلوگن ہے،
سیدھی بات، No بکواس

میں بھی یہاں سیدھا ٹاپک پر آؤں گا، کیونکہ ہمارے لوگ (جو لوگ کہلانے کے قابل اور لائق تو نہیں ہیں، ہجوم کہنا زیادہ بہتر ہوگا) 

ویڈیو


یہ ویڈیو دیکھ کر پاکستانی میوزک انڈسٹری کا پتا چل رہا ہے، یہ ویڈیو ۱۷ سال پہلے YouTube پر اپلوڈ ہوئی تھی، یعنی اس زمانے میں جب پاکستان میں YouTube پر پابندی تھی، اور ہم نئے، سیکھ رہے تھے کہ وی پی این کیسے استعمال کرتے ہیں، اور عین ممکن تھا، اور یہاں میرا شک یقین میں بدل گیا کہ جب میں نے نوری کا وکی پیڈیا کھولا تو اس میں بتایا گیا؛

یہ گانا جس سال ریلیز ہوا تھا، اسی سال یو ٹیوب پر اپلوڈ ہوا، اس سے اندازہ لگائیں کہ یہ جنریشن کتنی اپ ڈیٹ تھی اس زمانے کے حساب سے۔

یہ سب بتانے کا مقصد؟؟؟

اس کے بعد فاسٹ فارورڈ۲۰۲۲ کے زمانے میں آتے ہیں جہاں سنکرونائزیشن کے جانب ہمارے سنگرز آچکے تھے، مگر ان کی میوزک میں پاکستانی ہونا دکھائی دیتا تھا، مگر اس کے بعد جو چمتکار ۲۰۲۵ کے چمپئنز ٹرافی کے موقع پر ہوا، یہ پرانی پاکستانی میوزک سننے والا پاکستانی جب وہ میوزک سنا تو سوچنے پر مجبور ہوگیا کہ کیا واقعی میں یہ ٹورنامنٹ پاکستان ہوسٹ کررہا ہے؟


یہ میوزک میں پاکستانی ٹچ موجود تھا، جیسے یاسر اختر کے اس انٹرویو میں یاسر اختر کے لہجے میں ایک شکوہ بالکل موجود تھا، بیشک باتوں میں optimism موجود تھا، مگر cynic موجود تھا۔

اب اس کے بعد آپ ۲۰۲۵ کے چمپئین ٹرافی کے موقع پر بلی باہر آگئی، جہاں یاسر اختر نے ایک بات شروع میں کہی کہ شناخت، اس میوزک میں پاکستانی شناخت کہاں ہے؟          
یہ گانا سن کر مجھے ایک وقت ایسا لگا کہ یہ پاکستانی میوزک نہیں بلکہ انڈین ہی ہے، بلکہ یہ ٹورنامنٹ پاکستان ہوسٹ کررہا ہے، جو کہ انڈیا کی ایک اور صوبہ ہے، اور ironically اس ٹورنامنٹ کے کچھ مہینے بعد یعنی ۱۹ فروری ۲۰۲۵ کو یہ ٹورنامنٹ شروع ہوا تھا، اور ۷ مئی ۲۰۲۵ کو بھارت نے پاکستان پر اٹیک کیا، تو ایک طرح کا ففتھ جنریشن وار پہلے کیا، کیونکہ اس طرح کے ہٹکنڈے پہلے کرتے تاکہ انگریزوں کی زبان میں ایک بات یعنی اس کو نارملائز کرنا، اس طرف لے کر گئے، کیونکہ ہم یہ چیز کی تیاری تو نا ہونے کے برابر کرتے، اس کے برعکس یہ کہ چوہے قسم کے swag کے چکر میں یہ نہیں دیکھ رہے کہ کیسی مثال کھڑی کررہے ہیں۔

آئی سی سی ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ ۲۰۲۶

یہ ٹورنامنٹ بھی اورجنلی سری لنکا میں ہونا تھا، مگر سری لنکا میں پاکستان کی طرح گراؤنڈز کا مسئلہ تھا، جس کی وجہ سے یا تو یہ پورا ٹورنامنٹ ایشیا سے باہر جاتا، سری لنکا کے لئے یہ ضروری اسی لئے بھی تھا کہ ڈی فالٹ ڈیکلئیر ہونے کے بعد کوئی پہلا ٹورنامنٹ ہوسٹ کررہے تھے، بیشک ۲۰۲۳ ایشیا کپ اپنے پاس ہوسٹ کرنا ایک بات تھی مگر یہ ایک آئی سی سی ٹورنامنٹ ہے، جس پر ملین آئی بالز ہوتی ہیں، مگر اس ٹورنامنٹ میں کو ہوسٹ ہونے کے باوجود ہمارے ذہنوں میں یہ ہے کہ ٹورنامنٹ انڈیا نے ہوسٹ کیا، جبکہ انڈیا کو ہوسٹ تھا، اور اصل ہوسٹ سری لنکا تھا، مگر اسی کو انگریزی زبان میں ایک کہاوت سے صحیح طور پر سمجھا جاسکتا ہے کہ؛
You won the fight but lost the war

وہی چیز کہ یہاں سری لنکا ہوسٹ ہوتے ہوئے بھی لگ رہا تھا، کہ identity کے لئے ابھی بھی دیکھ رہا ہے، جبکہ آئی سی سی ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ کے لئے کوئی انڈین ریپر انیرودھ (معذرت اگر نام لکھنے میں مجھے غلطی ہوجائے) ہے، بیشک ساؤتھ ایشین ٹچ بالکل آرہا تھا، مگر جیسے اس آرٹیکل کے اسٹارٹ میں، میں نے لکھا ہے کہ سری لنکا کو ہوسٹ تھا تو کچھ سری لنکا میوزک بھی ہونا چاہئے تھا، کہاں سری لنکا میوزک تھا؟

آئی سی سی ٹی ٹوئینٹی ورلڈ کپ ۲۰۱۴ بنگلادیش

 بیشک اتنا exciting ٹورنامنٹ نہیں تھا جتنا ۲۰۲۲ کا ورلڈ کپ تھا، مگر جو بھی ملک نے کبھی بھی کوئی بھی ورلڈ کپ اپنے پاس ہوسٹ کیا، اپنی شناخت سامنے رکھتے ہیں، ۲۰۲۶ کے ورلڈ کپ میں کہاں سری لنکا ٹچ تھا؟؟؟ وہی چیز ۲۰۲۵ کے CT میں پاکستانی ٹچ کہاں ہے؟ جبکہ ۲۰۲۶ کے ورلڈ کپ میں اسکور کارڈ میوزک میں بھی انڈین ٹچ تھا، میری تو عادت ہے Karaoke میوزک سننے کی، اسکور کارڈ میوزک میں ستار، اور الیکٹرک گیٹار دونوں کا امتزاج تھا، جبکہ وہی اسکور کارڈ میوزک جب CT25 کا سنا تو ایسے لگ رہا تھا کہ جیسے برٹش اوپرا میوزک کا ری پرائز ورژن ہے، ۲۰۲۶ کی میوزک سن کر میں سوچنے پر مجبور ہوچکا تھا کہ ہم نے اتنی mediocrity کو accept کرلیا ہے کہ پہلی بات، یہ سری لنکا کا دوسرا آئی سی سی ایونٹ تھا، اگر ۱۹۹۶ کو ایڈ کرلیں تو ۳، پاکستان نے کتنے آئی سی سی ٹورنامنٹ ہوسٹ کئے؟ ۱۹۸۳، اس کے بعد ۱۹۹۶، اور اس کے بعد ۲۰۲۵، جبکہ سری لنکا نے ۱۹۹۶، اس کے بعد ۲۰۱۲ اور اس کے بعد ۲۰۲۶، اس سے خود دیکھ لیں، پاکستان کی شناخت کے بارے میں بحیثیٹ پاکستانی ہم نے کتنی اہمیت دی ہے، جبکہ ساوتھ افریقہ اپارتھیٹ کے بعد اب ساؤتھ افریقہ بھی ۳ آئی سی سی ٹورنامنٹ ہوسٹ کرنے والے ہیں، پہلا ۲۰۰۳، اس کے بعد ۲۰۰۷ کا ٹی ٹوئینٹی ورلڈ کپ، اس کے بعد اب ۲۰۲۷ کا ۵۰ اوور کا ورلڈ کپ، جبکہ میں نے ریسرچ کیا تو ۲۰۳۲تک پاکستان کے پاس کوئی آئی سی سی ایونٹ نہیں مل رہا، کیونکہ اس ٹائم تک کے آئی سی سی ایونٹس اسائنڈ ہوچکے ہیں، تو ایسے میں یہ بحیثیت قوم ہمارے منہ پر تمانچہ ہے کہ پاکستان آج ایک قوم کو ڈھونڈ رہا ہے، ہم قوم نہیں ہیں، بے شرم ہجوم ہیں۔





مکمل تحریر >>

بلاگ میں مزید دیکھیں

You might like

$results={5}

Search me