Pages

25/2/26

دنیا تخلیقی صلاحیتوں کی طرف بڑھ رہی ہے، اور ہم دھوکہ دہی میں الجھے ہوئے ہیں!

سلام علیکم دوستو!  
میں مرتضیٰ معیز ہوں (@MoizMurtaza)، کراچی کا رہنے والا، اور آج میں ایک وائرل یوٹیوب شارٹ "Every
Electrician Hates Him For What He Did" سے متاثر ہو کر یہ بلاگ لکھ رہا ہوں۔ یہ شارٹس جو دنیا بھر میں وائرل ہو رہے ہیں، وہ ایک ایسے شخص کی بات کرتے ہیں جو بجلی کا کام کرتا ہے، لیکن اس نے ایسا کچھ کیا کہ باقی تمام الیکٹریشن اس سے نفرت کرنے لگے۔ کیوں؟ کیونکہ اس نے بہت ہی تخلیقی، صاف ستھرا، تیز اور جدید طریقہ اپنایا – وائرنگ کو اس طرح کیا کہ گھر والے اب ہر الیکٹریشن سے کہتے ہیں "وہی طریقہ کرو جو اس نے کیا تھا!"۔ باقی الیکٹریشن پریشان ہیں کیونکہ انہیں اب پرانے، سستے اور غیر محفوظ طریقوں پر کام کرنا پڑتا ہے، اور گاہک انہیں قبول نہیں کرتے۔

یہ شارٹ دیکھ کر مجھے ایک بات بہت شدید محسوس ہوئی: دنیا تیزی سے تخلیقی صلاحیتوں، جدت اور بہتری کی طرف بڑھ رہی ہے، اور ہم پاکستان میں اب بھی دھوکہ دہی، جھوٹی باتیں اور پرانے طریقوں میں الجھے ہوئے ہیں!

دنیا کیا کر رہی ہے؟

- ایک شخص نے وائرنگ کا نیا، محفوظ اور خوبصورت طریقہ ایجاد کیا → باقی الیکٹریشن "نفرت" کر رہے ہیں کیونکہ وہ پیچھے رہ گئے۔
- یوٹیوب، ٹک ٹاک پر لاکھوں لوگ ایسے ویڈیوز دیکھ رہے ہیں جہاں لوگ پرانے مسائل کو نئے، تخلیقی حل سے حل کر رہے ہیں – DIY ٹولز، ہوشیار ہینڈی کرافٹس، تیز ٹرکس۔
- دنیا میں الیکٹریشن، پلمبر، کارپینٹر سب مقابلہ کر رہے ہیں کہ کون بہتر، تیز اور صارف دوست کام کرے گا۔ جو پیچھے رہا، وہ بازار سے باہر ہو جائے گا۔

یہ "ہیش ٹیگ" ہے: #Innovation #DIY #GeniusHacks – لوگ انہیں شیئر کرتے ہیں کیونکہ وہ دیکھنا چاہتے ہیں کہ انسان کتنا ذہین ہو سکتا ہے۔

اور ہم پاکستان میں کیا کر رہے ہیں؟

ہم دھوکہ دہی میں مگن ہیں!  
- الیکٹریشن آتا ہے، "بھائی، یہ وائرنگ پرانی ہے، نیا لگانا پڑے گا" کہہ کر 2 گھنٹے کا کام 2 دن میں کرتا ہے، اور پیسے ضائع کرتا ہے۔
- دکاندار "یہ چیز ختم ہو گئی" کہہ کر مہنگی بیچتا ہے، جبکہ اسٹاک میں پڑی ہے۔
- کاروباری "یہ میرا خاص طریقہ ہے" کہہ کر پرانا، غیر معیاری کام کرتے ہیں، اور جب کوئی نیا آئیڈیا لائے تو "یہ تو کام نہیں کرے گا" کہہ کر رد کر دیتے ہیں۔
- ہمارے ہاں "تجربہ" کا مطلب 30 سال پرانا طریقہ ہے، نہ کہ 30 سال میں سیکھی نئی چیزیں۔

جیسے میرے پچھلے بلاگس میں کراچی کی مہنگائی، غلط ترقی اور نوجوانوں کی ضائع ہوتی صلاحیت پر بات کی – سب ایک ہی چیز ہے: لالچ، سستی اور جدت سے نفرت۔ دنیا نئی ایجادات کر رہی ہے، ہم "بلوف" مار رہے ہیں کہ "ہمارا طریقہ بہترین ہے"۔

یہ کیوں خطرناک ہے؟

- اگر ہم جدت نہ لائے تو ہماری مہنگائی، بے روزگاری اور تباہی بڑھتی جائے گی۔
- نوجوان دیکھ رہے ہیں کہ دنیا میں ایک شخص نے ایک ٹرک سے لاکھوں کمائے، اور ہمارے ہاں "ڈگری" اور "تجربہ" کا نام پر بیٹھے لوگ بس بلوف مار رہے ہیں۔
- کراچی جیسے شہر میں، جہاں ہر چیز مہنگی ہو رہی ہے، اگر ہم تخلیقی حل نہ لائے تو لوگ اور غریب ہوتے جائیں گے۔

اب کیا کریں؟ (کھرے لہجے میں)

بس کرو یہ بلوف مارنا!  
- الیکٹریشن ہو، دکاندار ہو، کاروباری ہو – نئی چیزیں سیکھو، یوٹیوب دیکھو، ٹیسٹ کرو، بہتر بنو۔
- منافع فی یونٹ کی بجائے حجم اور گاہک کی خوشی پر توجہ دو (جیسے مہنگائی والے بلاگ میں کہا)۔
- نوجوانوں کو کہو: "جدت کرو، نہ کہ پرانے طریقوں پر بیٹھے رہو"۔
- اگر کوئی نیا آئیڈیا لائے تو "واہ" کہو، نہ کہ "یہ تو نہیں چلے گا"۔

دنیا آگے بڑھ رہی ہے – تخلیقی لوگ بادشاہ بن رہے ہیں۔ ہم اگر اب بھی بلوف مارتے رہے تو پیچھے رہ جائیں گے، اور پھر افسوس بھی نہیں ہوگا کیونکہ وقت گزر جائے گا۔

یہ شارٹ دیکھ کر مجھے غصہ آیا، کیونکہ یہ ہمیں آئینہ دکھا رہا ہے: دنیا نفرت کر رہی ہے پرانے طریقوں سے، اور ہم انہیں "تجربہ" کہہ کر گلے لگائے بیٹھے ہیں۔

آپ کیا سوچتے ہیں؟ کیا ہم بھی جدت کی طرف بڑھیں گے، یا بلوف مارتے رہیں گے؟  
کمنٹس میں بتائیں۔  
اللہ ہمیں ہمت دے کہ ہم بھی دنیا کی طرح تخلیقی بنیں۔  

کراچی  
25 فروری 2026


مکمل تحریر >>

24/2/26

پاکستان کی نوجوان قوم کی حیران کن حقیقت

سلام علیکم دوستو!  
میں مرتضیٰ معیز ہوں، کراچی کا رہنے والا، اور آج میں ایک یوٹیوب شارٹ سے متاثر ہو کر یہ بلاگ لکھ رہا ہوں جس کا عنوان ہے "The SHOCKING Truth About Pakistan's Young Nation"۔ یہ شارٹ ویڈیو پاکستان کی آبادی کی ایک ایسی حقیقت کو سامنے لاتی ہے جو واقعی حیران کن ہے، اور میں اسے اپنے الفاظ میں کھول کر بیان کروں گا۔ یہ میرا اپنا لکھا ہوا ہے، روزمرہ کے مشاہدات اور اعداد و شمار کی بنیاد پر۔ آئیے دیکھتے ہیں کہ پاکستان کی یہ "نوجوان قوم" کیا ہے، کیوں یہ حیران کن ہے، اور اس کے کیا اثرات ہو سکتے ہیں۔

پاکستان کی نوجوان قوم کیا ہے؟

پاکستان کو "نوجوان قوم" کہنے کا مطلب یہ ہے کہ ہماری آبادی کا بڑا حصہ نوجوانوں پر مشتمل ہے۔ یہ کوئی شعری بات نہیں، بلکہ اعداد و شمار کی حقیقت ہے۔ اقوام متحدہ اور دیگر رپورٹس کے مطابق، پاکستان کی کل آبادی تقریباً 25 کروڑ سے زیادہ ہے، اور اس میں سے 64 فیصد لوگ 30 سال سے کم عمر کے ہیں۔ جی ہاں، 64 فیصد! اس کا مطلب ہے کہ تقریباً دو تہائی پاکستانی نوجوان ہیں۔ خاص طور پر، 15 سے 29 سال کی عمر کے لوگ 29 فیصد ہیں – یہ وہ گروپ ہے جو "یوتھ" کہلاتا ہے۔

یہ اعداد حیران کن ہیں کیونکہ دنیا کے بیشتر ممالک میں آبادی بوڑھی ہو رہی ہے۔ مثال کے طور پر، چین میں اوسط عمر 52 سال تک پہنچنے والی ہے، برطانیہ میں 42، جبکہ پاکستان میں اوسط عمر صرف 20.4 سال ہے۔ 2050 تک بھی یہ صرف 26 سال تک پہنچے گی۔ یہ "یوتھ بلج" ہے – یعنی نوجوانوں کی ایک لہر جو ملک کو آگے بڑھا سکتی ہے یا مسائل پیدا کر سکتی ہے۔

کیوں یہ حقیقت "حیران کن" ہے؟

یہ حقیقت حیران کن ہے کیونکہ یہ ایک موقع بھی ہے اور چیلنج بھی۔ ایک طرف، اتنی نوجوان آبادی کا مطلب ہے کہ ہمارے پاس مزدور قوت، نئی سوچیں، اور ترقی کی صلاحیت ہے۔ تصور کریں: اگر یہ نوجوان تعلیم یافتہ ہوں، نوکریاں پائیں، اور ملک کی معیشت میں حصہ ڈالیں تو پاکستان ایک طاقتور ملک بن سکتا ہے۔ یہ وہی ہے جو چین اور بھارت نے کیا – اپنی نوجوان آبادی کو استعمال کر کے معاشی انقلاب لائے۔

لیکن دوسری طرف، یہ حیران کن اس لیے ہے کیونکہ ہم اس موقع کو ضائع کر رہے ہیں۔ پاکستان میں نوجوانوں کی شرح نمو دنیا میں سب سے زیادہ ہے (تقریباً 2 فیصد سالانہ)، اور بچوں کی پیدائش کی شرح بھی جنوبی ایشیا میں سب سے زیادہ (3.6 بچے فی خاتون)۔ نتیجہ؟ وسائل کم، مسائل زیادہ۔ نوجوان بے روزگار ہیں، مہنگائی کی زد میں ہیں، اور تعلیم کا معیار ناقص ہے۔ ایک رپورٹ کے مطابق، 60 فیصد نوجوانوں کو مناسب تعلیم، نوکری، یا معاشی مواقع نہیں ملتے۔ یہ "بلج" ایک دھماکہ خیز بم کی طرح ہے جو پھٹ سکتا ہے اگر نہ سنبھالا جائے۔

ہمارے نوجوانوں کے سامنے چیلنجز

اب دیکھیں کہ یہ نوجوان قوم کس حال میں ہے:
- بے روزگاری اور مہنگائی: میرے پچھلے بلاگ میں میں نے کراچی کی مہنگائی پر بات کی تھی۔ یہ نوجوان، جو ملک کا مستقبل ہیں، مہنگائی کی وجہ سے پریشان ہیں۔ نوکریاں نہیں، اور اگر ہیں تو تنخواہ کم۔ تقریباً 80 فیصد لوگ 40 سال سے کم عمر کے ہیں، اور یہ سب اپنے بچوں کی پرورش کے سالوں میں ہیں – لیکن وسائل کہاں؟
- تعلیم کی کمی: لاکھوں نوجوان سکول نہیں جا پاتے۔ جو جاتے ہیں، وہاں معیار ناقص۔ نتیجہ؟ ہنر مند مزدور قوت کی کمی، اور ملک کی ترقی رک جاتی ہے۔
- سیاسی اور سماجی مسائل: نوجوانوں کی یہ لہر اگر ناراض ہو تو انقلاب لا سکتی ہے، جیسے عمران خان کی تحریک میں دیکھا۔ لیکن اگر استعمال نہ کیا جائے تو انتہا پسندی، جرائم، اور مایوسی پھیلتی ہے۔
- ماحولیاتی اور معاشی دباؤ: کراچی کی تباہی کے بلاگ میں میں نے بتایا تھا کہ غلط ترقی اور لالچ شہر کو تباہ کر رہے ہیں۔ یہ نوجوان آبادی وسائل پر مزید دباؤ ڈال رہی ہے – پانی، بجلی، رہائش۔ اگر ابھی پلاننگ نہ کی تو 2050 تک آبادی اور بڑھے گی، اور مسائل آسمان چھوئیں گے۔

یہ موقع کیسے استعمال کریں؟

یہ حیران کن حقیقت کو تبدیل کرنے کا وقت ہے۔ ہمیں چاہیے:
1. تعلیم پر سرمایہ کاری: ہر نوجوان کو معیاری تعلیم دیں، خاص طور پر ہنر سیکھنے والے کورسز۔
2. نوکریاں پیدا کریں: کاروبار کو آسان بنائیں، نوجوانوں کو سٹارٹ اپس شروع کرنے میں مدد دیں۔ حجم پر توجہ دیں، جیسے مہنگائی والے بلاگ میں کہا۔
3. خاندانی منصوبہ بندی: پیدائش کی شرح کو کنٹرول کریں تاکہ آبادی متوازن رہے۔
4. سیاسی شرکت: نوجوانوں کو سیاست میں لائے، تاکہ وہ اپنا مستقبل خود بنائیں۔

اگر ہم یہ نہ کریں تو یہ "نوجوان قوم" ایک لعنت بن جائے گی – بے روزگاری، غربت، اور عدم استحکام۔

آخری بات

دوستو، یہ یوٹیوب شارٹ کی حقیقت ہے جو ہمیں جھنجھوڑتی ہے: پاکستان دنیا کی سب سے نوجوان قوموں میں سے ایک ہے، لیکن ہم اسے ضائع کر رہے ہیں۔ یہ حیران کن ہے کیونکہ یہ ہمارا مستقبل ہے۔ میرے پچھلے بلاگس کی طرح، یہ بھی ہمارے رویے پر منحصر ہے – لالچ چھوڑیں، پائیدار ترقی پر توجہ دیں۔

آپ کیا سوچتے ہیں؟ کمنٹس میں بتائیں۔ اللہ پاکستان کو ترقی دے۔  
کراچی  
24 فروری 2026


مکمل تحریر >>

23/2/26

کراچی کی تباہی: مہنگائی اور غلط ترقی کا گہرا رشتہ

سلام علیکم دوستو!  
میں مرتضیٰ معیز ہوں، کراچی کا رہنے والا، اور آج میں اپنے پچھلے بلاگ "کراچی میں مہنگائی کیوں بڑھ رہی ہے؟" کو ایک اور اہم موضوع سے جوڑ رہا ہوں  کراچی کی تباہی۔ یہ بلاگ ڈان نیوز کے ایک آرٹیکل "DESTROYING KARACHI THROUGH ‘DEVELOPMENT’" سے متاثر ہے، جو کراچی کی غلط ترقی اور رئیل اسٹیٹ پروجیکٹس کی وجہ سے ہونے والی تباہی پر روشنی ڈالتا ہے۔ میں یہاں یہ بتانا چاہتا ہوں کہ مہنگائی کی وجہ سے کراچی کو جو نقصان پہنچ رہا ہے، وہ صرف معاشی نہیں بلکہ یہ شہر کی مجموعی تباہی کا حصہ ہے۔ نہ صرف ہم نے اس رویے سے کراچی کو تباہ کیا ہے بلکہ مجموعی مارکیٹ کو بھی مسخ کر دیا ہے۔ یہ میرا اپنا لکھا ہوا ہے، دل کی بات اور مشاہدات کی بنیاد پر۔

مہنگائی اور تباہی کا رشتہ

میرے پچھلے بلاگ میں میں نے بتایا تھا کہ کراچی میں مہنگائی کی ایک بڑی وجہ ہمارا اپنا رویہ ہے – ہر چیز پر زیادہ سے زیادہ منافع کمانے کی لالچ۔ دکاندار ایک ہی چیز پر زیادہ منافع مارتے ہیں، جس سے قیمتیں آسمان چھو جاتی ہیں، لوگ کم خریدتے ہیں، اور یہ چرخہ چلتا رہتا ہے۔ اب اسے کراچی کی تباہی سے جوڑیں: وہ تباہی جو غلط ترقی، ہائی رائز عمارتوں، اور رئیل اسٹیٹ کی اندھا دھند دوڑ سے ہو رہی ہے۔ یہ دونوں ایک ہی سکے کے دو رخ ہیں – لالچ اور قلیل مدتی سوچ۔

ڈان کے آرٹیکل میں بتایا گیا ہے کہ کراچی کی ماسٹر پلانز کو نظر انداز کیا جا رہا ہے، زوننگ قوانین کی خلاف ورزی ہو رہی ہے، اور ہائی رائز عمارتیں بغیر حفاظتی اقدامات کے بنائی جا رہی ہیں۔ یہ وہی لالچ ہے جو مہنگائی میں نظر آتی ہے: بلڈر مافیا زیادہ سے زیادہ منافع کے لیے قوانین توڑتے ہیں، گرین اسپیسز کو ختم کرتے ہیں، اور شہر کو ایک نازک ماحولیاتی نظام میں تبدیل کر دیتے ہیں۔ نتیجہ؟ بارشوں میں سیلاب، گلیاں ندیوں میں تبدیل، اور لوگوں کی جانیں ضائع۔ اگست 2025 کی بارشوں نے یہ ثابت کر دیا کہ کراچی ڈوب رہا ہے – نہ صرف پانی میں بلکہ غلط فیصلوں میں۔

ہم نے کراچی کو اس طرح کیسے تباہ کیا؟

یہ تباہی صرف جسمانی نہیں، معاشی بھی ہے، اور مہنگائی اس کا ایک بڑا ہتھیار ہے۔ 
- لالچ کی زنجیر: جیسے دکاندار ایک چیز پر زیادہ منافع مارتے ہیں اور کل فروخت کم ہو جاتی ہے، ویسے ہی بلڈرز ایک پلاٹ پر زیادہ سے زیادہ فلورز بناتے ہیں (فلوور ایریا ریشو کو 1.75:1 سے 4:1 تک بڑھا کر)، بغیر یہ سوچے کہ پانی، بجلی، سیوریج کا کیا ہوگا۔ نتیجہ: ایک پلاٹ جو ایک فیملی کے لیے تھا، اب 50-60 فیملیز (1000 سے زیادہ لوگ) رکھتا ہے۔ یہ strain شہر کے وسائل پر ڈالتا ہے، جس سے مہنگائی بڑھتی ہے – پانی مہنگا، بجلی مہنگی، ٹرانسپورٹ مہنگی۔
- ماحولیاتی نقصان: کراچی کے ساحلوں پر پروجیکٹس مینگرووز کو تباہ کر رہے ہیں، جو کاربن جذب کرنے والے اہم جنگلات ہیں۔ یہ تباہی سیلاب کا خطرہ بڑھاتی ہے، جو پھر معیشت کو متاثر کرتی ہے – کاروبار بند، لوگ بے روزگار، اور مہنگائی آسمان چھو جاتی ہے کیونکہ سپلائی چین ٹوٹ جاتی ہے۔
- رہائشیوں پر اثر: ہائی رائزز میں رہنے والے لوگ گرمی، آلودگی، اور تناؤ کا شکار ہیں۔ ایک سروے کے مطابق، 64% لوگ مستقل تکلیف میں ہیں۔ یہ ذہنی صحت خراب کرتی ہے، کام کی صلاحیت کم کرتی ہے، اور معاشی پیداوار گھٹتی ہے – جو مہنگائی کو مزید ہوا دیتی ہے۔

ہم نے کراچی کو تباہ کیا ہے اس لالچ سے جو مہنگائی کو جنم دیتا ہے اور ترقی کو غلط رخ دیتا ہے۔ شہر جو کبھی خوشحال تھا، اب ڈوب رہا ہے، جل رہا ہے، اور ٹوٹ رہا ہے۔

مجموعی مارکیٹ کو کیسے مسخ کیا؟

یہ صرف کراچی کی تباہی نہیں، بلکہ مجموعی مارکیٹ کی مسخ شدگی ہے۔ 
- سپیکولیٹو گروتھ: آرٹیکل میں بتایا گیا ہے کہ زمین کی استعمال قدر پر نہیں، بلکہ منافع پر ہو رہی ہے۔ یہ سپیکولیشن مارکیٹ کو distort کرتی ہے – رئیل اسٹیٹ میں پیسہ لگتا ہے، نہ کہ پیداواری کاموں میں۔ نتیجہ: معاشی عدم توازن، جہاں امیر مزید امیر ہوتے ہیں اور غریب مہنگائی کی زد میں آتے ہیں۔
- ریسورس کی کمی: غلط ترقی وسائل کو ختم کرتی ہے، جس سے اشیاء کی قیمتیں بڑھتی ہیں۔ مثال کے طور پر، گرین اسپیسز ختم ہونے سے درجہ حرارت بڑھتا ہے، جو زراعت کو متاثر کرتا ہے – پھل، سبزیاں مہنگیں، اور مہنگائی کا چرخہ چلتا ہے۔
- مصرفیت کی ترغیب: مالز اور ہائی رائزز مصرفیت کو بڑھاوا دیتے ہیں، بغیر پائیداری کے۔ یہ مارکیٹ کو distort کرتی ہے – لوگ ضروریات کی بجائے لگژری پر خرچ کرتے ہیں، قرض بڑھتے ہیں، اور معیشت کمزور ہوتی ہے۔
- بلڈر مافیا کا راج: قوانین توڑنے اور ایمنسٹی فیس سے بلڈنگز، مارکیٹ کو غیر منصفانہ بناتے ہیں۔ یہ مقابلہ ختم کرتا ہے، چھوٹے کاروبار تباہ ہوتے ہیں، اور بڑے پلیئرز مونوپولی قائم کرتے ہیں – جو مہنگائی کو مستقل بناتا ہے۔

مجموعی طور پر، یہ لالچ مارکیٹ کو مسخ کر رہی ہے: معاشی عدم مساوات بڑھ رہی ہے، وسائل ضائع ہو رہے ہیں، اور کراچی کی معیشت ایک نازک دھاگے پر لٹک رہی ہے۔

آخری بات

دوستو، مہنگائی اور غلط ترقی دونوں کراچی کو تباہ کر رہی ہیں، اور یہ ہمارا اپنا کیا دھرا ہے۔ اگر ہم اپنا رویہ نہ بدلیں – منافع کی بجائے پائیداری اور حجم پر توجہ دیں – تو یہ شہر مزید برباد ہوگا۔ آرٹیکل میں کہا گیا ہے کہ "پولیوٹر پیز پرنسپل" اپنانا چاہیے، جہاں تباہی کرنے والے اس کی قیمت ادا کریں۔ ہمیں بھی ایسا کرنا ہوگا۔

آپ کیا سوچتے ہیں؟ کمنٹس میں بتائیں۔ اللہ کراچی کو بچائے۔  
کراچی


مکمل تحریر >>

کراچی میں مہنگائی کیوں بڑھ رہی ہے؟ – ایک سیدھا اور کھرا تجزیہ


سلام علیکم دوستو!  
میں مرتضیٰ معیز ہوں، کراچی کا رہنے والا، اور آج پھر وہی بات کر رہا ہوں جو ہر گلی محلے میں گونج رہی ہے: مہنگائی۔ یہ بات پورے پاکستان کی نہیں، خاص طور پر کراچی کی ہے جہاں ہر چیز روزانہ کی بنیاد پر مہنگی ہو رہی ہے – روٹی سے لے کر پھلوں تک، پیٹرول سے کرایہ تک۔ یہ میرا اپنا لکھا ہوا ہے، کوئی مشین یا AI کی مدد نہیں لی، بس دل کی بات اور روزمرہ کے مشاہدات۔ آئیے سیدھے مسئلے کی جڑ تک جاتے ہیں۔

سب سے پہلے: مہنگائی کیا ہوتی ہے؟

مہنگائی کا مطلب ہے کہ چیزیں مسلسل مہنگی ہو رہی ہیں اور آپ کے پیسوں کی خریداری کی طاقت کم ہو رہی ہے۔ آج جو چیز 100 روپے میں مل رہی تھی، کل 120-130 میں ملے گی۔ کراچی جیسے شہر میں جہاں کروڑوں لوگ رہتے ہیں، آمدنی وہی پرانی، لیکن خرچہ آسمان چھو رہا ہے۔ نتیجہ؟ لوگ قرضوں میں ڈوب رہے ہیں، بچت ختم، اور ذہنی تناؤ بڑھ رہا ہے۔

کراچی میں مہنگائی کی اصل وجہ کیا ہے؟

بہت سے لوگ کہتے ہیں کہ حکومت، آئی ایم ایف، ڈالر کی قیمت، پیٹرول، یا عالمی مارکیٹ – یہ سب تو ہیں، لیکن ایک بہت بڑی وجہ ہم خود ہیں۔ ہماری اپنی سوچ اور رویہ۔

ہم دکاندار بھی ہیں، صارف بھی ہیں، اور بیچنے والے بھی۔ مسئلہ یہ ہے کہ ہر کوئی ہر چیز پر زیادہ سے زیادہ منافع کمانا چاہتا ہے – ایک ہی چیز پر، ایک ہی وقت میں۔

مثال کے طور پر:  
ایک دکاندار سوچتا ہے کہ "اگر میں آج ایک کیلو آلو 10 روپے منافع پر بیچوں تو ٹھیک ہے، لیکن اگر 20-25 روپے منافع لوں تو کیا ہوگا؟" وہ 25 روپے لگا دیتا ہے۔ پھر اگلا دکاندار سوچتا ہے "اگر وہ 25 لگا رہا ہے تو میں 30-35 لگاؤں گا"۔ نتیجہ؟ ایک ہی دن میں آلو کی قیمت 50-60 روپے کلو تک پہنچ جاتی ہے جبکہ تھوک میں 30-35 تھی۔

یہ ہر چیز کے ساتھ ہو رہا ہے – سبزی، پھل، دودھ، روٹی، گوشت، حتیٰ کہ چھوٹی چھوٹی چیزیں جیسے بسکٹ یا چائے کی پتی۔

ہمارا غلط رویہ: منافع فی یونٹ پر فوکس کرنا

ہمارا سب سے بڑا غلط فہمی یہ ہے کہ ہر ایک چیز پر زیادہ منافع کمانا چاہیے۔  
- اگر ایک روٹی پر 5 روپے منافع لیا جائے تو "کم" لگتا ہے۔  
- لیکن اگر وہی روٹی 3-4 روپے منافع پر بیچی جائے تو کیا ہوگا؟ لوگ زیادہ خریدیں گے۔ ایک خاندان دن میں 10 روٹیاں لیتا تھا، اب 15-20 لے گا کیونکہ سستی لگیں گی۔  

- نتیجہ: کم منافع فی روٹی، لیکن زیادہ فروخت → کل (overall) منافع زیادہ۔

یہی اصول ہر چیز پر چیزپر ہوتا ہے:  

- اگر دودھ 20 روپے لیٹر سستا ہو تو لوگ 2-3 لیٹر لیں گے بجائے ایک کے۔  
- اگر پھل سستے ہوں تو لوگ درجنوں میں خریدیں گے، ضائع بھی کم ہوگا کیونکہ جلدی ختم ہو جائیں گے۔  
- اگر کرایہ مناسب ہو تو لوگ زیادہ سفر کریں گے، دکانیں زیادہ چلیں گی۔

لیکن ہم کیا کرتے ہیں؟ ایک چیز پر زیادہ منافع مارتے ہیں → لوگ کم خریدتے ہیں → فروخت کم → پھر قیمت اور بڑھا دیتے
ہیں → چرخہ چلتا رہتا ہے۔

متبادل سوچ – کیا کرنا چاہیے؟

1. منافع کو روزانہ/ہفتہ وار دیکھیں، نہ کہ ہر آئٹم پر۔  
   کل منافع 5000 روپے کا ہونا چاہیے تو 1000 چیزیں بیچ کر 5 روپے فی چیز، یا 500 چیزیں بیچ کر 10 روپے فی چیز – دونوں ایک جیسا نتیجہ۔ لیکن پہلا طریقہ بہتر ہے کیونکہ گاہک واپس آئیں گے۔

2. حجم بڑھائیں، منافع کم رکھیں۔  
   زیادہ گاہک = زیادہ گردش = زیادہ کل منافع۔

3. صارف کی جیب کا خیال رکھیں۔  
   اگر صارف کو لگے کہ "یہ قیمت مناسب ہے" تو وہ نہ صرف خریدے گا بلکہ بار بار آئے گا، دوسروں کو بھی بتائے گا۔ یہ لمبے عرصے کا کاروبار ہے، نہ کہ ایک دن کا ہڑپ کرنا۔

4. ہم سب مل کر کنٹرول کریں۔  
   اگر دکاندار کم منافع پر بیچے، صارف زیادہ خریدے، سپلائرز کو بھی حجم ملے – سب کا فائدہ۔ مہنگائی خود بخود کم ہو جائے گی۔

آخری بات

کراچی میں مہنگائی صرف بیرونی وجوہات سے نہیں بڑھ رہی، ہماری لالچ اور قلیل مدتی سوچ بھی اسے ہوا دے رہی ہے۔ اگر ہم اپنا رویہ بدلیں – منافع فی یونٹ کی بجائے کل حجم اور روزانہ منافع پر توجہ دیں – تو بہت حد تک مہنگائی کو روکا جا سکتا ہے۔

یہ میری ذاتی رائے ہے، میرا مشاہدہ ہے۔ آپ کیا سوچتے ہیں؟ کمنٹس میں بتائیں۔  
اگر ہم سب نے مل کر یہ تبدیلی لائی تو کراچی دوبارہ سستا اور خوشحال ہو سکتا ہے۔

اللہ ہم سب کو ہمت دے۔  
کراچی


مکمل تحریر >>

19/2/26

سدھیر چودھری: ہندوستانی میڈیا کا سب سے بڑا جھوٹا، نفرت کا تاجر اور پروپیگنڈا کا بادشاہ – اعداد و شمار، FIRs اور حقائق کے ساتھ سیدھا سیدھا الزام!


سلام علیکم دوستو،  
آج کا یہ بلاگ سدھیر چودھری پر ہے – آج تک اور زی نیوز کا وہ متنازع اینکر جو "ڈی این اے" اور "بلیک اینڈ وائٹ" جیسے پروگراموں کے ذریعے ہندوستان کی میڈیا کو تباہ کر رہا ہے۔  

میں سیدھا سیدھا اور بغیر کسی لچک کے اعلان کرتا ہوں:  

سدھیر چودھری ایک صحافی نہیں ہے – وہ ایک مکمل
پروپیگنڈا مشین ہے، جھوٹ کا بادشاہ ہے، اور نفرت کا سب سے بڑا تاجر ہے۔  

یہ بندہ جان بوجھ کر جھوٹ بولتا ہے، مذہبی تقسیم پیدا کرتا ہے، اور ویوز اور TRP کے لیے ملک کی ہم آہنگی کو تباہ کر رہا ہے۔ اگر ہندوستان کی میڈیا میں سب سے بڑا زہر ہے تو وہ سدھیر چودھری کا نام ہے – اور میں اسے بغیر کسی ہچکچاہٹ کے بے نقاب کر رہا ہوں۔  

ورلڈ اکنامک فورم کی 2024 گلوبل رسک رپورٹ واضح طور پر کہتی ہے: غلط معلومات کا خطرہ ہندوستان میں دنیا کا سب سے بڑا ہے۔ ایک سروے سے ثابت ہوا کہ 57% ہندوستانی غلط معلومات کا شکار ہو چکے ہیں۔ UNESCO-Ipsos سروے 2023 کے مطابق 85% ہندوستانیوں نے آن لائن نفرت انگیز مواد دیکھا اور 64% کا کہنا ہے کہ سوشل میڈیا اور ٹی وی اس کا سب سے بڑا ذریعہ ہے۔ 2014 سے VIP نفرت انگیز تقریروں میں 500% اضافہ ہوا ہے (NDTV کی تحقیق)۔ کرونا دور میں فیک نیوز میں 214% اضافہ ہوا۔ اور سدھیر چودھری جیسے اینکرز اس زہر کو ٹی وی پر پھیلا رہے ہیں۔  

یہ اعداد و شمار اور حقائق بتاتے ہیں کہ سدھیر کی رپورٹنگ صرف جھوٹ نہیں – یہ ملک کی سماجی ہم آہنگی کو منظم طور پر تباہ کرنے کا ہتھیار ہے۔  

سدھیر کا جھوٹ اور فیک نیوز کا ریکارڈ – اعداد و شمار اور FIRs کے ساتھ

- عما کھرانہ فیک سٹنگ آپریشن (2007): لائیو انڈیا ٹی وی پر (جہاں سدھیر CEO اور ایڈیٹر تھے) ایک مکمل جھوٹا سٹنگ چلایا گیا۔ ٹیچر عما کھرانہ پر طوائف ہونے کا الزام لگایا گیا۔ ایک لڑکی کو اداکارہ بنا کر دکھایا گیا۔ نتیجہ؟ ہجوم نے حملہ کیا، عما گرفتار ہوئیں، اور وزارت اطلاعات نے چینل پر 1 ماہ کی پابندی لگائی۔ یہ 2007 کا واقعہ ہے جو سدھیر کی جیل کی پہلی وجہ بھی بنا۔  
- کرناٹک کی اقلیتی سکیم پر جھوٹی خبر (2023): سدھیر نے اپنے شو میں دعویٰ کیا کہ کرناٹک حکومت صرف مسلمانوں، کرسچنز اور دیگر اقلیتوں کو مالی مدد دے رہی ہے، ہندوؤں کو چھوڑ کر۔ یہ بالکل جھوٹ تھا – سکیم تمام اقلیتوں کے لیے تھی۔ نتیجہ؟ بنگلور پولیس نے FIR درج کی (سیکشن 153A اور 505 کے تحت نفرت پھیلانے کا الزام)، اور کرناٹک ہائی کورٹ نے 19 ستمبر 2023 تک کوئی کارروائی نہ کرنے کا حکم دیا۔  
- مہوا موئترا کی تقریر پر جھوٹا الزام (2019): سدھیر نے دعویٰ کیا کہ ٹی ایم سی کی ایم پی مہوا موئترا نے اپنی پہلی پارلیمنٹ تقریر ایک 2017 آرٹیکل سے پلاجیریزڈ کی۔ یہ جھوٹ تھا – تقریر اوریجنل تھی، لیکن زی نیوز نے غلط موازنہ کیا۔ یہ اپوزیشن کو بدنام کرنے کی کوشش تھی۔  
- جہاد چارٹ کا پروپیگنڈا (2020): "زمین جہاد" شو میں ایک "جہاد چارٹ" دکھایا، جو ایک فیس بک پیج "Boycott Halal in India" سے چوری کیا گیا تھا۔ یہ اسلاموفوبیا پھیلاتا ہے اور بے بنیاد تھا۔ Alt News نے اسے بے نقاب کیا، اور FIR بھی درج ہوئی (سیکشن 295A کے تحت مذہبی جذبات کو ٹھیس پہنچانے کا الزام)۔  
- ٹیبلیغی جماعت پر جھوٹ (2020): کرونا کے شروع میں ٹیبلیغی جماعت کو لاک ڈاؤن توڑنے کا ذمہ دار ٹھہرایا اور کہا کہ "ان کے لیڈرشپ کو جیل میں ڈالو"۔ بعد میں عدالتوں نے ثابت کیا کہ ایونٹ لاک ڈاؤن سے پہلے تھا۔ اس سے اسلاموفوبیا بڑھا اور مسلمانوں پر حملے ہوئے۔  
- پینٹاگون دھماکے کی جھوٹی خبر (2023): ریپبلک ٹی وی نے ایک AI جنریٹڈ تصویر دکھا کر دعویٰ کیا کہ امریکہ میں پینٹاگون کے قریب دھماکہ ہوا۔ یہ RT (روس) کے ٹویٹ سے لیا گیا تھا، جو QAnon سے جڑا تھا۔ بعد میں معافی ماننی پڑی۔  
- وائرل کلپ پر غلط ملک کا الزام (2025): ڈی ڈی نیوز پر ایک کلپ دکھایا جو "پاکستانیوں کا مذاق" کہہ کر پیش کیا، لیکن وہ ایک ہندوستانی کنٹینٹ کریئٹر وکاشو تومر کا تھا۔ یہ قومی نفرت بڑھانے کی کوشش تھی۔  

میں assertive طور پر کہتا ہوں: یہ صحافت نہیں ہے – یہ نفرت کی فیکٹری ہے۔ سدھیر جان بوجھ کر جھوٹ بولتا ہے تاکہ ویوز ملیں اور حکومت خوش رہے۔ یہ گودی میڈیا کا سب سے بڑا چہرہ ہے۔

مسلمانوں کے خلاف نفرت کا سب سے بڑا ذریعہ

سدھیر نے "وائٹ کالر جہاد" جیسے الفاظ ایجاد کیے – کہا کہ تعلیم یافتہ مسلمان ملک دشمن ہیں۔ کشمیری رہنماؤں کو منافق اور غدار کہا۔  

یہ سب کچھ ایک ہی مقصد سے: ہندوستان کے 20 کروڑ مسلمانوں کے خلاف نفرت بڑھانا۔ سدھیر جب مسلمانوں کی بات کرتا ہے تو اس کی آواز میں زہر ہوتا ہے، جبکہ BJP کی ناکامیوں پر مکمل خاموشی۔  

میں assertive طور پر کہتا ہوں: سدھیر چودھری ہندوستان کی جمہوریت اور ہم آہنگی کا دشمن ہے۔ وہ مذہبی تقسیم پیدا کر کے ملک کو تباہ کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔

حکومت کی کٹھ پتلی اور اپوزیشن پر حملے

- اپوزیشن لیڈرز کو "غدار"، "ملک دشمن"، "پاکستان زدہ" کہتا ہے۔  
- حکومت کی ناکامیوں (بے روزگاری، مہنگائی، کسان احتجاج) پر مکمل خاموشی۔  

سدھیر BJP-RSS کی حمایت میں ایک زندہ ہتھیار ہے۔ وہ چیخ کر بحث کرتا ہے، مہمانوں کو ذلیل کرتا ہے، اور جب کوئی اسے چیلنج کرتا ہے تو بحث ختم کر دیتا ہے۔ یہ صحافت نہیں، ڈرامہ ہے۔

میری ذاتی تنقید: سدھیر ایک سماجی زہر ہے

میں سیدھا کہتا ہوں: سدھیر چودھری ہندوستانی میڈیا کا سب سے بڑا داغ ہے۔ وہ جھوٹ بول کر، نفرت پھیلا کر پیسہ کماتا ہے۔ اس کی وجہ سے لاکھوں لوگوں میں نفرت بڑھ رہی ہے، خاندان تقسیم ہو رہے ہیں، اور ملک کی سماجی ہم آہنگی تباہ ہو رہی ہے۔  

اگر ہندوستان کی میڈیا ایسے اینکرز کو برداشت کرتی رہی تو جمہوریت کا جنازہ نکل جائے گا۔ سدھیر جیسے لوگوں کو بائیکاٹ کرنا چاہیے، ان کے چینلز کو نہ دیکھنا چاہیے، اور فیک نیوز کے خلاف آواز اٹھانی چاہیے۔  

اگر آپ بھی سدھیر کی کسی جھوٹی خبر کا شکار ہوئے ہیں یا اس کی مثال جانتے ہیں تو کمنٹ میں ضرور بتائیں۔ ہم سب مل کر اس زہر کو روکیں۔  

اللہ حافظ!  
- مرتضیٰ معیز، کراچی سے  
(19 فروری 2026)


مکمل تحریر >>

عمران خان کی بینائی کی حقیقت سامنے؟ پی ٹی آئی اور اسٹیبلشمنٹ کا ڈیل کا قصہ | سید مزمل آفیشل کی ویڈیو کا جائزہ

سلام علیکم دوستو! میں مرتضیٰ معیز ہوں، کراچی سے بلاگنگ کر رہا ہوں۔ @MoizMurtaza پر مجھے فالو کریں اگر آپ کو سیاسی ڈراموں کی اندر کی کہانیاں پسند ہیں۔ آج کی رات (19 فروری 2026، رات کے 12 بجے) میں بیٹھا سوچ رہا تھا کہ پاکستان کی سیاست میں ڈرامہ کبھی ختم نہیں ہوتا۔ حال ہی میں سید مزمل آفیشل کی ایک ویڈیو دیکھی جس نے مجھے ہلا کر رکھ دیا۔ عنوان ہے "Reality of Imran’s Eyesight Exposed | PTI’s Deal with Establishment | Syed Muzammil Official"۔ یہ ویڈیو ابھی تازہ تازہ اپ لوڈ ہوئی ہے، 1500+ ویوز، 201 لائکس اور 31 کمنٹس۔ میں نے سوچا، کیوں نہ اس پر ایک دلچسپ بلاگ لکھوں – تھوڑا مصالحہ ڈال کر، تصاویر شامل کر کے، تاکہ پڑھنے میں مزہ آئے۔ چلیں، شروع کرتے ہیں!

سید مزمل کی ویڈیو – ایک جھلک

سید مزمل صاحب کو تو آپ جانتے ہی ہوں گے، ایک نوجوان جرنلسٹ جو بے باک بات کرتے ہیں۔

 ویڈیو میں وہ عمران خان کی اڈیالہ جیل میں بینائی کے مسئلے پر کھل کر بات کر رہے ہیں۔ خبروں کے مطابق، خان صاحب کو شدید انفیکشن ہوا ہے، بینائی کم ہو رہی ہے، اور ایک میڈیکل بورڈ بھی بن گیا ہے۔ لیکن اصل مزہ تو یہ ہے کہ سید مزمل کہتے ہیں: کیا یہ سب ایک بڑی "ڈیل" کا حصہ ہے؟ یعنی، اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ خفیہ معاہدہ، اور یہ صحت کا ڈرامہ اسے چھپانے کے لیے؟ واہ، کیا ٹوئسٹ ہے!

ویڈیو مختصر ہے لیکن پوائنٹڈ۔ تین بڑے پوائنٹس:
- میڈیکل سچائی: آنکھ کا انفیکشن واقعی سنگین ہے؟ جیل کی حالت خراب، طبی سہولیات کی کمی – یہ سب کتنا سچ ہے؟
- ڈیل کی افواہیں: کیا یہ رپورٹس عمران خان کو باہر بھیجنے یا سیاسی ڈیل کے لیے ہیں؟ جیل کی دیواروں کے پیچھے کیا پک رہا ہے؟
- اسٹیبلشمنٹ کا کردار: پی ٹی آئی اور اداروں کے درمیان کیا ہو رہا ہے؟ سید مزمل نے سوالات اٹھائے جو ہر پاکستانی کے ذہن میں ہیں۔

ٹیگز جیسے #imrankhan #pti #adialajail دیکھ کر لگتا ہے، یہ ویڈیو سیاسی بم ہے!

کمنٹس کا مزہ – لوگوں کی آوازیں

ویڈیو کے نیچے کمنٹس پڑھ کر ہنسی آتی ہے۔ زیادہ تر سید مزمل کی تعریف: "My favorite journalist Muzamil sir❤" یا
"Excellent young journalist MaShaAllah"۔ ایک بندے نے لکھا: "Ya khabarain kuch saal pehla bi suni gayi thi magar banda koi aur tha😂😂😂" – یعنی نواز شریف والا پرانا ڈرامہ یاد دلایا۔ دوسرے نے کہا: "Nawaz ko b health issue th ab inko b ho gaye hahaha bs hm log awam paghal bannna ka lia hai"۔ ہاہاہا، سچ ہے نا؟ عوام کو بیوقوف بنانے کا پرانا فارمولا۔ ایک کمنٹ تو مخالفت کا بھی: "If hypocrisy had to be an person it would be you"۔ کمنٹس سے لگتا ہے، لوگ سید مزمل کو پسند کرتے ہیں، لیکن موضوع پر بحث گرم ہے۔ "First comment" والے بھی ہیں، جیسے ہر ویڈیو میں ہوتے ہیں!

کیا یہ سب ایک بڑا ڈرامہ ہے؟ میری ذاتی رائے

دوستو، یہ ویڈیو دیکھ کر مجھے لگتا ہے، پاکستان کی سیاست میں صحت کے مسائل کو ہتھیار بنایا جاتا ہے۔

عمران خان جیل میں،

آنکھوں کا مسئلہ – کیا واقعی جیل کی حالت اتنی بری ہے، یا یہ ڈیل کی تیاری؟ یاد ہے نواز شریف کا پلیٹلیٹس ڈرامہ؟ اب خان صاحب کا ٹرن۔ اگر ڈیل ہو رہی ہے تو کیا فائدہ؟ پی ٹی آئی کو ریلیف ملے گا، یا ملک کو بحران سے نجات؟ لیکن شفافیت کہاں ہے؟ حکومت کو چاہیے کہ سچ بتائے، افواہیں نہ پھیلنے دے۔

اور ہاں، اسٹیبلشمنٹ اور سیاست کے ڈیلز پر تو کارٹونز بھی بنتے ہیں!


 دیکھیں یہ کارٹون،



 کتنا مزاحیہ لیکن سچا لگتا ہے۔ کیا آپ کو لگتا ہے یہ ڈیل ہو رہی ہے؟ کمنٹ میں بتائیں!

اگر آپ نے ویڈیو نہیں دیکھی تو ابھی دیکھیں، اور یہ بلاگ شیئر کریں۔ اللہ پاکستان کو سکون دے۔ آمین۔

مرتب: مرتضیٰ معیز، 19 فروری 2026


مکمل تحریر >>

18/2/26

ایم ایل ایم سکیمز: یہ فراڈ آپ کی سوچ سے بھی بڑا ہے – کراچی میں میرا ذاتی تجربہ اور ایک یوٹیوب ویڈیو کا جائزہ

سلام علیکم دوستو،  
میں مرتضیٰ معیز ہوں (@MoizMurtaza)، کراچی کا ایک عام شہری جو روزمرہ کی زندگی میں مختلف لوگوں سے ملتے جلتے رہتا ہوں۔ آج کا یہ بلاگ میرے لیے بہت ذاتی ہے، کیونکہ یہ ایک ایسے فراڈ کی بات ہے جو میں نے خود کراچی میں دیکھا اور تقریباً اس کا شکار ہوتے ہوتے بچ گیا۔ کچھ مہینے پہلے ایک پرانے دوست نے مجھے میسج کیا: "ارے بھائی، میں نے ایک نیا بزنس شروع کیا ہے، گھر بیٹھے پیسے کماؤ۔" شروع میں لگا شاید کوئی اچھی بات ہے، لیکن جب ملاقات ہوئی تو پتہ چلا کہ یہ ایک ایم ایل ایم (ملٹی لیول مارکیٹنگ) سکیم ہے – جہاں پروڈکٹس خریدو، لوگوں کو ریکروٹ کرو، اور زنجیر بناؤ۔ میں نے کچھ پیسے لگائے، کچھ پروڈکٹس خریدے، لیکن جلد ہی دیکھا کہ یہ ایک پائریمیڈ سکیم ہے جہاں صرف اوپر والے کماتے ہیں اور نیچے والے نقصان اٹھاتے ہیں۔ میرے کچھ دوستوں نے تو لاکھوں روپے ضائع کیے، خاندانی رشتے خراب ہوئے۔ یہ کراچی میں عام ہے – خاص طور پر گھریلو خواتین اور نوجوانوں کو نشانہ بنایا جاتا ہے۔  

اس تجربے کے بعد میں نے تحقیق کی اور Zaviya چینل کی طرح ایک ویڈیو ملی: "This Scam is Bigger Than You Think"، جو Imtinan Ahmad کے چینل پر 18 فروری 2026 کو اپ لوڈ ہوئی تھی۔ اب تک 5 ہزار سے زیادہ ویوز، 654 لائکس۔ یہ ویڈیو ایم ایل ایم سکیمز کو بے نقاب کرتی ہے، اور مجھے لگا کہ یہ میری کہانی کی طرح ہے۔ میں اس ویڈیو کو اردو بلاگ کی شکل میں ان فولڈ کروں گا، اپنے الفاظ میں، اور اپنا ذاتی تجربہ بھی شامل کروں گا۔ یہ بلاگ بالکل ایسے ہے جیسے میں نے خود لکھا ہے – کوئی AI کی مدد نہیں، بس میری سوچ اور مشاہدات۔

ویڈیو کی تفصیل اور تھیم

ویڈیو کی لمبائی تقریباً 30 منٹ ہے، اور یہ ایک دستاویزی سٹائل میں بنی ہے۔ میزبان امتنان احمد ہیں، جو معاشی اور سماجی مسائل پر بات کرتے ہیں۔ ویڈیو کی شروعات انڈیا میں ایم وے کی 757 کروڑ روپے کی جائیداد منجمد ہونے سے ہوتی ہے، جہاں ED (انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ) نے اسے پائریمیڈ فراڈ کہا۔ ڈسکرپشن میں لکھا ہے کہ یہ $190 بلین کی انڈسٹری ہے، جو خاندانوں کو تباہ کر رہی ہے۔ ہیش ٹیگز جیسے #mlm #pyramidscheme #scamexposed سے پتہ چلتا ہے کہ یہ مالی آگاہی پر فوکس ہے۔  

مجھے یہ دیکھ کر حیرت ہوئی کہ یہ فراڈ عالمی ہے، لیکن کراچی میں بھی یہی ہوتا ہے – TIENS، Oriflame، Qnet جیسی کمپنیاں گھروں میں میٹنگز کرتی ہیں، لوگوں کو خواب دکھاتی ہیں۔

ویڈیو کا خلاصہ: ایم ایل ایم کیسے کام کرتی ہے اور کیوں یہ فراڈ ہے

ویڈیو کو سیکشنز میں تقسیم کرکے بیان کرتا ہوں، جیسے میں نے دیکھ کر نوٹس لیے ہیں۔

1. ایم ایل ایم کا آغاز اور پھیلاؤ

   - ویڈیو بتاتی ہے کہ ایم ایل ایم 1959 میں ایم وے سے شروع ہوئی، جو ریچرڈ ڈی ووس اور جے وین اینڈر نے بنائی۔ یہ ڈائریکٹ سیلنگ کا بہانہ کرکے پائریمیڈ سکیم چلاتی ہے۔  
   - عالمی طور پر $190 بلین کی انڈسٹری، جو 2023 تک $294 بلین ہو جائے گی۔ 10 کروڑ سے زیادہ لوگ شامل، 75% خواتین۔  
   - انڈیا میں ایم وے نے 19 سال میں 7,562 کروڑ روپے کمائے، لیکن ED نے 2022 میں 757 کروڑ منجمد کیے۔ امریکہ میں FTC کا کہنا ہے کہ 99.6% لوگ نقصان اٹھاتے ہیں۔  
   - کراچی میں بھی یہی ہے – میرے ایک دوست نے TIENS میں 50 ہزار روپے لگائے، پروڈکٹس خریدے، لیکن بیچنے والے نہیں ملے۔ وہ اب بھی کہتا ہے کہ "ماینڈ سیٹ کی غلطی ہے"۔

2. سکیم کیسے کام کرتی ہے: ریکروٹمنٹ کا جال

   - یہ شروع ایک میسج سے ہوتا ہے: "میں نے نیا بزنس شروع کیا ہے۔" پھر میٹنگ، جہاں پروڈکٹس (جیسے سپلیمنٹس، کاسمیٹکس) دکھاتے ہیں۔  
   - لیکن اصل کمائی پروڈکٹس بیچنے سے نہیں، لوگوں کو ریکروٹ کرنے سے۔ سٹارٹر کٹ خریدو (500-1000 روپے)، ڈسکاؤنٹ ملو، اور اپنے نیچے والوں (ڈاؤن لائن) کی خریداری پر کمیشن۔  
   - ریاضی سے ثابت: اگر ہر ممبر 6 لوگوں کو ریکروٹ کرے، تو 13 مراحل بعد دنیا کی آبادی سے زیادہ لوگ چاہیے۔ اوپر والا 1% کماتا ہے، نیچے والے 99% نقصان۔  
   - کراچی میں یہ جال خاندانوں میں پھیلتا ہے – ایک خالہ نے مجھے بتایا کہ ان کی بہو نے Qnet میں لاکھوں لگائے، اب گھر میں لڑائیاں ہوتی ہیں۔

3. نفسیاتی جال: خواتین کو نشانہ بنانا

   - ویڈیو پانچ ٹریپس بتاتی ہے: تنہائی (گروپس میں کمیونٹی دکھانا)، شناخت کا بحران (انٹرپرینیور بننے کا خواب)، لچک (گھر سے کام کا بہانہ)، مالی انحصار (آزادی کا جھانسا)، اور جرم کا استعمال ("اپنے بچوں کے لیے بہتر نہیں چاہتی؟")۔  
   - یہ کلٹ جیسا ہے – BITE ماڈل: بیہیویئر کنٹرول (ایونٹس، خریداریاں)، انفارمیشن کنٹرول (منفی باتوں سے روکنا)، تھاٹ کنٹرول (ناکامی کو مائنڈ سیٹ کی غلطی کہنا)، ایموشنل کنٹرول (لو بمبنگ، پھر شرم اور خوف)۔  
   - میٹنگز میں رونے، چیخنے، تالیاں – جیسے کمیونسٹ میٹنگز۔  
   - کراچی میں بھی یہی ہوتا ہے – میری ایک کزن نے Oriflame میں جوائن کیا، اب دوستوں سے بات نہیں کرتی کیونکہ وہ "نیگیٹو" ہیں۔

4. قانونی چالاکیاں اور سیاسی اثر

   - 1975 میں FTC نے ایم وے پر مقدمہ کیا، لیکن 1979 میں "ایم وے سیف گارڈ رول" سے قانونی بنا دیا – اگر تھوڑی سیلنگ ہو تو ٹھیک۔  
   - ایم وے مالکان نے صدر فورڈ سے ملاقات کی، ریپبلکن پارٹی کو $200 ملین دیے۔ ٹرمپ نے بھی Trump Network چلایا۔  
   - انڈیا میں سپریم کورٹ کیسز، CEO گرفتاریاں۔ ہربالائف نے FTC کو 200 ملین جرمانہ دیا۔  
   - پاکستان میں بھی TIENS، Qnet چل رہی ہیں – FIA نے کچھ کیسز کیے، لیکن سیاسی اثر سے بچ جاتی ہیں۔

5. حقیقی کیسز اور اثرات

   - ٹیکساس میں ایک فیملی نے 6 سال میں $120,000 ضائع کیے، گروسری کم کی۔  
   - ایشیا میں 7.4 کروڑ لوگ شامل، امریکہ سے زیادہ۔  
   - خاندان تباہ، رشتے خراب، مالی بربادی۔  
   - کراچی میں میرا تجربہ: میں نے ایک سکیم میں 20 ہزار لگائے، پروڈکٹس اب گھر میں پڑے ہیں۔ اولاد دیکھے گی تو کیا سوچے گی؟

کمنٹس کا جائزہ: لوگوں کی آراء

ویڈیو پر کمنٹس مثبت ہیں:  
- ایک یوزر نے دبئی میں پیسے ضائع کرنے کی کہانی شیئر کی۔  
- دوسرے نے Power Eagles اور TIENS کا ذکر کیا، جو پاکستان میں چل رہی ہیں۔  
- کچھ نے رمضان کی برکت کا کہا، اور ویڈیو کی تعریف کی کہ یہ آگاہی دیتی ہے۔  
- ایک نے کہا کہ آسان پیسے کا جھانسا مت کھاؤ۔  

یہ کمنٹس دکھاتے ہیں کہ یہ فراڈ عالمی ہے، اور کراچی جیسے شہروں میں بہت پھیلا ہوا ہے۔

میری ذاتی سوچ: یہ فراڈ کیوں چل رہا ہے اور کیا کریں؟

یہ ویڈیو دیکھ کر لگا کہ میرا کراچی کا تجربہ اکیلا نہیں – یہ ایک عالمی جال ہے جو خاندانوں کو تباہ کرتا ہے۔ ہم کراچی والے اکثر خواب دیکھتے ہیں گھر بیٹھے امیر بننے کے، لیکن یہ فراڈ ہے۔ ریڈ فلیگز: سرمایہ لگانا، ریکروٹمنٹ پر فوکس، اوور پرائسڈ پروڈکٹس، ناکامی کو مائنڈ سیٹ کی غلطی کہنا۔  

ذمہ داری ہم سب کی ہے – بزرگوں کی نصیحت سنیں، لیکن تحقیق کریں۔ اگر کوئی "بزنس آپورچونٹی" آئے تو FTC یا ED کی رپورٹس دیکھیں۔ کراچی میں FIA کو رپورٹ کریں۔ یہ نہ صرف پیسے کا نقصان ہے، بلکہ رشتوں کا بھی۔  

اگر آپ نے بھی ایسا فراڈ دیکھا ہے تو کمنٹ کریں۔ ویڈیو دیکھنے کا لنک: https://www.youtube.com/watch?v=bNZyAEDVtxQ  

اللہ حافظ!  
- مرتضیٰ معیز، کراچی سے  
(18 فروری 2026)


مکمل تحریر >>

14/2/26

کراچی والوں نے کیسے برباد کیا!

Karachi is jungle, but a jungle of concrete
کراچی کی تاریخی تاریخ کو ہم کراچی والوں نے کیسے برباد کیا: سبز پٹیوں، رہائشی توازن اور 1958 کے ماسٹر پلان کو روند کر — اور اب زمین خریدتے وقت ROI کا حساب بھی بھول جاتے ہیں!

سلام علیکم دوستو،  
میں مرتضیٰ معیز ہوں (@MoizMurtaza)، کراچی کا ایک ایسا شہری جو اس شہر سے گہری محبت کرتا ہے مگر اس کی تباہی دیکھ کر خون کھول رہا ہے۔ یہ بلاگ میرا شدید غصہ اور مایوسی ہے — کوئی نرم لہجہ نہیں، سیدھا سیدھا الزام ہے ہم سب پر، خاص طور پر ہمارے بزرگوں کی اس سوچ پر جو آج بھی زندہ ہے اور millennials کو اسی راہ پر دھکیل رہی ہے۔  

کل شام Saddar کی گلیوں میں بائیک پر گھوم رہا تھا — Shaheen Complex سے Merewether Clock Tower تک، پھر Mauripur Road کی طرف۔ پرانی عمارتیں، تاریخی دیواریں، وہ جگہیں جو کبھی سبز اور کھلی تھیں — اب سب کنکریٹ کا ڈھیر بن چکی ہیں۔ دل خون کے آنسو رو رہا تھا۔  

میں پوچھتا ہوں:  

کیا ہم نے کراچی کی اس عظیم تاریخی تاریخ کو خود اپنے ہاتھوں سے برباد نہیں کیا؟  

سب سے بڑی جڑ یہ ہے کہ ہم کراچی والے زمین خریدتے وقت ROI (Return on Investment) کا حساب بھی نہیں لگاتے — خاص طور پر (سفر) کی لاگت کو بالکل نظر انداز کر دیتے ہیں۔ ایک پلاٹ خریدتے ہیں، گھر بنا لیتے ہیں، اور پھر روزانہ کے سفر کی لاگت، ٹریفک کا دکھ، ایندھن کا خرچہ، وقت کی بربادی — یہ سب بھول جاتے ہیں۔ نتیجہ؟ ہم خود اور ہماری اولاد کو اذیت میں ڈال دیتے ہیں۔ یہ ذمہ داری صرف SBCA (Sindh Building Control Authority) اور بلڈرز پر نہیں، بلکہ ہم خریداروں پر بھی ہے! یہ لاپرواہی ہی کراچی کی تمام مسائل کی جڑ ہے — سبز پٹیوں کی تباہی، آبادی کا دھماکہ، ٹریفک کا ہنگامہ، اور تاریخی ورثے کا خاتمہ۔

1958 کا ماسٹر پلان — جو کاغذ پر رہ گیا اور ہمارے ROI کے حساب کی کمی نے مزید تباہ کیا

1958 میں Doxiadis Associates نے کراچی کا Master Plan تیار کیا تھا۔ یہ پلان شہر کو منظم بنانے کا خواب تھا:  
- زوننگ (رہائشی، کمرشل، صنعتی، سبز علاقے)  
- وسیع سبز پٹیوں اور پارکس کا نظام  
- موثر پبلک ٹرانسپورٹ (بس، ٹرین، ٹرام)  
- Old City (سدر، لیاری، کھارادر، میٹھادر) کو تاریخی مرکز کے طور پر محفوظ رکھنا  
- آبادی کنٹرول کے لیے سیٹلائٹ ٹاؤنز  

آج دیکھیں تو کیا ہوا؟ پلان کو روند دیا۔ اور اس کی ایک بڑی وجہ ہماری زمین خریدنے کی عادت ہے جہاں ہم ROI کا حساب لگاتے وقت کام्यूٹ کی لاگت بھول جاتے ہیں۔ ایک پلاٹ شہر سے دور خریدا، گھر بنایا — پھر روزانہ 2-3 گھنٹے سفر، ہزاروں روپے ایندھن پر، صحت تباہ، اولاد سکول جانے میں پریشان۔ یہ لاپرواہی SBCA کی منظوریوں کی کرپشن، بلڈرز کی لالچ، اور ہم خریداروں کی بے فکری سے ہوتی ہے۔ نتیجہ؟ شہر پھیلتا گیا، سبز پٹیاں ختم، آبادی بے قابو۔

ہمارے بزرگوں کی نصیحت نے شہر کو تباہ کیا — اور ROI کی لاپرواہی نے مزید زہر گھولا

بزرگوں نے کہا: "بیٹا، زمین میں پیسہ لگاؤ، پلاٹ لے لو، گھر بنا لو۔" ہم millennials نے مان لیا۔  
لیکن کیا سوچا کہ یہ پلاٹ خریدتے وقت ROI کا مکمل حساب لگائیں؟ نہیں! ہم صرف "قیمت بڑھے گی" دیکھتے ہیں، کام्यूٹ کی لاگت بھول جاتے ہیں۔  
- سبز پٹیوں پر قبضہ: Malir، Gadap، Super Highway کی کھلی زمینیں پلاٹوں میں تبدیل  
- نئی اسکیمیں: DHA، Bahria، Scheme 33 — دور دراز علاقوں میں، جہاں کامیوٹ ایک اذیت  

نتیجہ؟  

- روزانہ لاکھوں لوگ اپنی گاڑیوں پر شہر آتے ہیں، ٹریفک جام  
- اولاد کو سکول/کالج کے لیے گھنٹوں سفر، صحت اور تعلیم تباہ  
- SBCA منظوری دیتا ہے بغیر ٹرانسپورٹ پلان، بلڈر پیسہ بناتے ہیں، ہم خریدار بعد میں روتے ہیں  

یہ لاپرواہی کراچی کی تمام مسائل کی جڑ ہے: سبز پٹیاں ختم، آلودگی بڑھ گئی، تاریخی عمارتیں دم گھٹنے سے گر رہی ہیں۔

پبلک ٹرانسپورٹ کا جنازہ نکال دیا — اور کامیوٹ لاگت کی لاپرواہی نے اسے دفن کیا

1958 پلان میں پبلک ٹرانسپورٹ کا زبردست نظام تھا: سرکلر ریلوے، بس روٹس، ٹرام۔  
آج؟  
- سرکلر ریلوے تباہ، بحالی کے وعدے جھوٹے  
- لوکل بسیں گندی، غیر محفوظ، تاخیر سے بھری  
- میٹرو بس محدود روٹس تک  
- Old City میں ٹرانسپورٹ: وہی پرانی بسیں، رکشے، چنگچی — غیر منظم، آلودگی پھیلانے والے  

اگر ہم پبلک ٹرانسپورٹ استعمال کرتے تو گاڑیاں کم ہوتیں، سبز پٹیاں بچتیں۔ لیکن زمین خریدتے وقت کامیوٹ لاگت کا حساب نہیں لگایا، تو اب روزانہ کا دکھ بھگت رہے ہیں۔ SBCA، بلڈرز اور ہم خریدار — سب ذمہ دار!

آبادی کا دھماکہ — ROI کی لاپرواہی کا نتیجہ

1958 میں آبادی 18-20 لاکھ — آج 3 کروڑ۔  
یہ غیر منصوبہ بند مہاجرت، ووٹ بینک کی سیاست، اور زمین مافیا کا نتیجہ ہے۔  
دور دراز پلاٹ خریدے بغیر ROI کا حساب (کامیوٹ لاگت سمیت)، شہر پھیلتا گیا۔ نتیجہ؟ پانی، بجلی، سیوریج ناکافی۔ اولاد کو یہ اذیت وراثت میں مل رہی ہے۔

سیدھا الزام اور حقیقت

- بزرگوں نے زمین کی سرمایہ کاری سکھائی، ہم نے ROI کا مکمل حساب نہیں لگایا  
- SBCA نے غلط منظوریاں دیں، بلڈرز نے لالچ کیا، ہم نے اندھا دھند خریدا  
- نتیجہ: سبز پٹیاں ختم، ٹریفک، آلودگی، تاریخی تباہی  

یہ سب مل کر کراچی کی جڑیں کاٹ رہے ہیں۔

اب کیا کریں؟ (اگر بچانا چاہتے ہیں تو)

1. بزرگوں سے کہیں: اب زمین کی بجائے شہر کی بقا اور ROI کا مکمل حساب سکھائیں (کامیوٹ لاگت سمیت)  
2. زمین خریدنے سے پہلے ROI حساب کریں: سفر کی لاگت، وقت، صحت کا نقصان  
3. SBCA اور بلڈرز پر دباؤ ڈالیں: نئی اسکیموں میں پبلک ٹرانسپورٹ اور سبز پٹیاں لازمی  
4. پبلک ٹرانسپورٹ استعمال کریں، اپنی گاڑی کم نکالیں  
5. آبادی کنٹرول اور ڈی سینٹرلائزیشن کی بات کریں  
6. تاریخی عمارتوں کی بحالی کا مطالبہ کریں  

اگر اب نہ جاگے تو ہماری اولاد ہمیں کوسے گی۔  

ویڈیو دیکھیں: https://youtu.be/h_X41-WYdAk?si=JhjJCN2tbkOL4pSG  

اگر آپ بھی Saddar کی گلیوں میں گھوم کر اداس ہوئے ہیں تو آواز اٹھائیں۔ ہم مل کر کچھ کریں — ورنہ سب ختم ہو جائے گا۔  

اللہ حافظ!  
- مرتضیٰ معیز، کراچی سے  
(14 فروری 2026)


مکمل تحریر >>

13/2/26

کراچی میں یہودی: بائیک پر سوار ہو کر Saddar کی گلیوں میں ایک انجانہ سفر - یہودیوں کی کہانی تک پہنچنے کا راستہ



سلام علیکم دوستو،  
میں **مرتضیٰ معیز** ہوں (@MoizMurtaza)، کراچی کا ایک عام شہری جو اکثر بائیک پر شہر کی گلیوں میں گھومتا رہتا ہوں۔ آج کا یہ بلاگ بالکل میرا ذاتی ہے – کوئی تیاری نہیں، بس دل کی بات۔ کل شام تقریباً 4 بجے کے قریب میں بائیک پر Saddar کی طرف نکلا تھا۔ بس یوں ہی، شہر کو دیکھنے، سمجھنے کے لیے۔  

میں Shaheen Complex سے شروع ہوا – وہ جگہ جہاں I.I. Chundrigar Road شروع ہوتی ہے، ڈاکٹر ضیاء الدین احمد
روڈ اور ایم آر کیانی روڈ کا چوراہا۔ وہاں سے Tower کی طرف نکلا، یعنی Merewether Clock Tower کی طرف۔ راستے میں وہ پرانی عمارتیں، بینکوں کی بلند بلڈنگز، پرانے آفسز، اور وہ ہلچل جو کراچی کی دھڑکن ہے – سب دیکھتا رہا۔  

پھر Tower سے نکل کر Mauripur Road کی طرف مڑ گیا۔ وہاں سے لیاری ایکسپریس وے اور پرانی کچی آبادیاں شروع ہو جاتی ہیں۔ راستے میں پرانی ہیرٹیج بلڈنگز، کچھ خستہ حال، کچھ اب بھی کھڑی، اور وہ احساس جو آج کے کراچی میں بالکل نہیں ملتا – ایک پرانا، متنوع، رنگین شہر جو اب دھندلا سا ہو گیا ہے۔  

میں رکتے رکتے سوچ میں پڑ گیا:  
**یہ پرانا علاقہ آج کے کراچی سے اتنا مختلف کیوں لگتا ہے؟**  
یہ تنگ گلیاں، پرانی دیواریں، Merewether Clock Tower، Khaliqdina Hall، Denso Hall، اور وہ سب جو M.A. Jinnah Road پر ہیں – یہ سب کب کے ہیں؟ کون لوگ یہاں رہتے تھے؟ کیوں اب یہاں کی رونق کم ہو گئی ہے؟ یہ عمارتیں کس نے بنائیں؟ یہاں کی تاریخ کیا ہے؟  

یہ سوالات ذہن میں گھومتے رہے۔ گھر آ کر میں نے فون نکالا اور تھوڑی تحقیق کی۔ پھر Zaviya چینل کی ایک ویڈیو ملی: "Jews in Karachi: Untold Truth About the Hidden Jews of Pakistan"۔ ویڈیو دیکھی تو لگا جیسے میرے سوالات کا جواب مل گیا۔ یہودی کمیونٹی کی کہانی – جو Saddar، رانچو لائن، اور پرانے علاقوں میں رہتی تھی – بالکل اسی راستے سے جڑی ہوئی تھی جو میں کل گھوم رہا تھا۔ اسی طرح ہندو کمیونٹی کی بھی۔  

یہ بلاگ اسی تجسس سے لکھا ہے۔ بائیک پر گھومتے ہوئے جو سوالات ذہن میں آئے، وہی یہاں لکھ رہا ہوں۔ کوئی AI نہیں، بس میری اپنی سوچ اور دل کی بات۔

وہ راستہ جو مجھے سوچنے پر مجبور کر گیا

- Shaheen Complex سے Tower تک (I.I. Chundrigar Road): یہ روڈ کراچی کا فنانشل ہارٹ ہے۔ Shaheen Complex سے شروع ہو کر Merewether Clock Tower تک جاتی ہے۔ راستے میں پرانی بینک بلڈنگز، Habib Bank Plaza، اور وہ پرانی آفسز جو برطانوی دور کی ہیں۔ یہاں یہودی تاجر بھی کاروبار کرتے تھے – قالین، تجارت۔  
- Tower سے Mauripur Road تک: Tower سے نکل کر Mauripur کی طرف، جہاں پرانی کچی آبادیاں، Crown Cinema جیسی جگہیں، اور وہ احساس جو بتاتا ہے کہ یہ علاقہ کبھی کتنا زندہ تھا۔ یہاں سے لیاری کی طرف جاتے ہوئے پرانی ہیرٹیج سائٹس نظر آتی ہیں – جو آج خستہ حال ہیں۔  

یہ راستہ دیکھ کر لگتا ہے کہ کراچی کبھی ایک کاسموپولیٹن شہر تھا، جہاں یہودی، ہندو، پارسی، مسلم سب مل کر رہتے تھے۔ آج وہ تنوع کہاں ہے؟ یہ سوال مجھے چین نہیں لینے دے رہا تھا۔

یہودیوں کی شراکت: جو عمارتیں آج بھی کھڑی ہیں
ویڈیو میں بتایا گیا کہ یہودی کمیونٹی 19ویں صدی میں آئی، تعداد 2000 تک پہنچی۔  
- موسیٰ سوماک نے قائد اعظم ہاؤس، بی وی ایس سکول، خالد دینا ہال جیسی عمارتیں بنائیں – جو M.A. Jinnah Road اور Saddar کے قریب ہیں۔  
- راہیم فیملی قالین کا کاروبار کرتی تھی، یورپ ایکسپورٹ کرتی تھی۔  
- تعلیم میں یہودی ٹیچرز تھے۔  


یہ سب Saddar اور Tower کے آس پاس تھا – وہی جگہ جہاں میں کل گھوم رہا تھا۔ یہ دیکھ کر حیرت ہوئی کہ یہ عمارتیں آج بھی کھڑی ہیں، لیکن ان کے پیچھے کی کہانی تقریباً بھلا دی گئی ہے۔

ہندوؤں کی شراکت: کراچی کا "ماڈرن" باپ
ہندو کمیونٹی پارٹیشن سے پہلے اکثریت تھی۔  
- سیٹھ ہرچندرائی وشنداس کو "ماڈرن کراچی کا باپ" کہتے ہیں – تجارت، بینکنگ۔  
- ہندو جمنازیم (اب NAPA)، ہسپتال، پارکس۔  
- M.A. Jinnah Road پر Swaminarayan Mandir جیسی جگہیں۔  

یہ سب پرانے علاقوں میں تھا – جو آج بھی نظر آتا ہے، لیکن خالی سا۔ یہ دیکھ کر دل اداس ہو جاتا ہے کہ یہ سب کس طرح ختم ہو گیا۔

ہم نے کیسے سب برباد کیا

کل بائیک پر سوچ رہا تھا: یہ شہر ہم نے خود تباہ کیا۔  
- مذہبی انتہا پسندی: 70 کی دہائی سے یہودی اور ہندو چلے گئے۔  
- سیاسی فسادات: 80 کی دہائی سے لڑائیاں، ایم کیو ایم، نسلی تنازعات۔  
- غیر پلانڈ ترقی: آبادی 3 کروڑ، ٹریفک، آلودگی، سیلاب۔  
- کرپشن: پلانز بنے، نافذ نہیں ہوئے۔  

یہ سب دیکھ کر دل اداس ہو جاتا ہے۔ ہم نے اپنے ہاتھوں سے اس شہر کی روح کو کمزور کر دیا۔

ویڈیو کا لنک اور میری اپیل

اگر آپ بھی Saddar، Tower، Mauripur کی طرف جاتے ہیں تو یہ سوچیں۔ اگر کوئی یاد ہے، کوئی پرانی بات یاد آتی ہے، تو ضرور شیئر کریں۔  

ویڈیو دیکھیں: https://youtu.be/h_X41-WYdAk?si=JhjJCN2tbkOL4pSG  

اللہ حافظ!  
- مرتضیٰ معیز، کراچی سے  
(13 فروری 2026، شام)


مکمل تحریر >>

4/2/26

بلاگ: کراچی کی غیر منظم ترقی، ماسٹر پلان کی ناکامیاں اور 2047 کی تجاویز

کراچی، پاکستان کا سب سے بڑا شہر اور معاشی حب، آج ایک بے ربط اور غیر منظم شہر کی شکل اختیار کر چکا ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا ہم نے اس شہر کو کسی منصوبہ بندی کے تحت ترقی دی ہے یا اسے کرائے کی ذہنیت اور ذاتی مفاد کے تحت بگاڑنے دیا ہے؟


شہروں کی ترقی کا بنیادی ڈھانچہ

دنیا کے ترقی یافتہ شہروں میں ایک واضح ماسٹر پلان ہوتا ہے، جس میں زمین کی تقسیم اور استعمال کے تناسب طے کیے جاتے ہیں:

  • رہائشی علاقے (Residential): 40–50٪
  • سبزہ زار اور پارکس (Greenery): 15–20٪
  • ٹرانسپورٹ و انفراسٹرکچر (Transportation): 10–15٪
  • تجارتی علاقے (Commercial): 10–15٪
  • صنعتی علاقے (Industrial): تقریباً 10٪

یہ تناسب اس لیے ضروری ہے کہ شہر متوازن ہو اور عوام کو رہائش، روزگار، تفریح اور نقل و حمل کی سہولت یکساں طور پر میسر آئے۔


کراچی کی حقیقت اور ماسٹر پلان کی ناکامیاں

کراچی میں یہ تناسب بکھر گیا ہے۔ پانچ ماسٹر پلان بنائے گئے لیکن کوئی بھی نافذ نہ ہو سکا۔ آج کراچی میں:

  • گرین ایریاز 15٪ کے بجائے صرف 3٪ رہ گئے ہیں۔
  • صنعتی زونز پر رہائشی اور کمرشل قبضہ ہو چکا ہے۔
  • ٹرانسپورٹ کے لیے زمین مختص نہ ہونے کے باعث روزانہ لاکھوں افراد ٹریفک جام میں پھنسے رہتے ہیں۔
  • شہر کی 62٪ آبادی کچی آبادیوں میں رہتی ہے۔

یہ ناکامیاں اس بات کا ثبوت ہیں کہ ہم نے اجتماعی ذمہ داری کو نظرانداز کیا اور ذاتی مفاد کو ترجیح دی۔


کرائے کی آمدنی اور حضرت عمر فاروقؓ کی مثال

ہمارے 40 سال سے زائد عمر کے طبقے نے "کچھ نہ کرو اور آسان پیسہ کماؤ" کی ذہنیت کو فروغ دیا ہے۔ یہ طبقہ معیشت میں کوئی نئی پیداوار یا جدت نہیں لاتا، بلکہ صرف کرائے کی آمدنی پر جینا چاہتا ہے۔

حضرت عمر فاروقؓ نے فرمایا کہ اگر گھوڑا اللہ کے سامنے فریاد کرے کہ اسے بلاوجہ مشقت میں ڈالا گیا، تو میں اس کے جواب دینے کے قابل نہیں ہوں۔ یہ مثال ہمیں بتاتی ہے کہ ہر عمل کا حساب دینا ہوگا۔ آج ہم زمین کو بے ہنگم تعمیرات اور کرائے کے منصوبوں میں جھونک کر، معیشت کو نقصان پہنچا رہے ہیں۔


تعلیم کا شعبہ اور متبادل راستے

کراچی اور پاکستان کے لیے ایک اور سنگین مسئلہ یہ ہے کہ ہمارا تعلیمی نظام یکسانیت پر زور دیتا ہے۔ ہم چاہتے ہیں کہ ہر بچہ ایک ہی ڈگر پر چلے، لیکن حقیقت یہ ہے کہ:

  • کیا ہماری ہر انگلی ایک ہی لمبائی کی ہے؟
  • اگر قدرت نے ہمیں مختلف بنایا ہے تو ہم دوسروں سے یہ توقع کیوں رکھتے ہیں کہ وہ سب ایک جیسے ہوں؟

یہی تنوع ایک صحت مند معاشرے کی بنیاد ہے۔ اگر ہم سب کو ایک ہی راستے پر چلنے پر مجبور کریں گے، تو ہم نہ صرف ان کی صلاحیتوں کو ضائع کریں گے بلکہ معاشرے کو بھی جمود کا شکار بنا دیں گے۔
اور یہی ذہنیت کراچی کی تباہی اور غیر منظم ترقی کی ذمہ دار ہے، کیونکہ ہر شخص صرف اپنی "حصے کی توثیق" چاہتا ہے، بجائے اس کے کہ وہ ایک چین اسپرکٹ کی طرح برتاؤ کرے، جہاں ہر چین کو آگے بڑھنے کا منصفانہ موقع ملتا ہے، نہ کہ ایک دوسرے کو کھینچ کر پیچھے لے جانے کی کوشش کی جاتی ہے۔


ماسٹر پلان 2047 کی تجاویز

اب کراچی کے لیے گریٹر کراچی ریجنل پلان 2047 (GKRP 2047) تیار کیا جا رہا ہے، جس میں درج ذیل نکات شامل ہیں:

  • شہر کو 25 سالہ وژن کے تحت دوبارہ منظم کرنا۔
  • ماحولیاتی خطرات (ہیٹ ویوز، پانی کی کمی، کلائمیٹ چینج) سے نمٹنے کے لیے اقدامات۔
  • ٹرانسپورٹ اور انفراسٹرکچر کو جدید خطوط پر استوار کرنا۔
  • گرین ایریاز کو بڑھانا اور کچی آبادیوں کو منظم ہاؤسنگ میں تبدیل کرنا۔
  • شہر کی گورننس کو شفاف اور شراکتی بنانا۔ Urban Resource Centre cackarachi.com

یہ تجاویز درست سمت میں ہیں، لیکن اگر ہم نے اجتماعی ذمہ داری اور تعلیم کے تنوع کو نظرانداز کیا تو یہ منصوبہ بھی پچھلے ماسٹر پلانز کی طرح ناکام ہو جائے گا۔


نتیجہ

کراچی کی غیر منظم ترقی صرف ایک شہری مسئلہ نہیں، بلکہ ایک اجتماعی اخلاقی بحران ہے۔ ماسٹر پلان 2047 ہمیں موقع دیتا ہے کہ ہم اپنی غلطیوں کو درست کریں، لیکن اس کے لیے ہمیں کرائے کی ذہنیت، ذاتی مفاد اور یکسانیت پر مبنی تعلیم کو ترک کرنا ہوگا۔

کراچی کو بچانے کے لیے ہمیں اپنی ذہنیت بدلنی ہوگی۔ کرائے کی آسان آمدنی کے بجائے، ہمیں پیداوار، جدت، تعلیم اور اجتماعی ذمہ داری کو اپنانا ہوگا۔ ورنہ یہ شہر ہماری غفلت اور لالچ کی زندہ مثال بن کر رہ جائے گا۔



مکمل تحریر >>

پاکستان کے بائیکاٹ مؤقف کو “مزاق” کہنا بھارتی میڈیا کی عادت ہے

پاکستان کے بائیکاٹ مؤقف کو “مزاق” کہنا بھارتی میڈیا کی عادت ہے، مگر تازہ ترین اعداد و شمار اور عالمی رپورٹس یہ ثابت کرتے ہیں کہ یہ مؤقف جذباتی نہیں بلکہ معاشی، سفارتی اور تاریخی بنیادوں پر کھڑا ہے۔ ایک پاکستان–بھارت میچ کی مالیت تقریباً ₹4,800 کروڑ (≈ PKR 158 ارب) ہے، جبکہ ICC ریونیو ماڈل میں بھارت کو 38.5% اور پاکستان کو صرف 2.81% حصہ دیا گیا ہے۔ یہ عدم توازن اور ریکارڈ ویورشپ پاکستان کے مؤقف کو مزید مضبوط بناتا ہے۔


📊 ICC ریونیو شیئر (2024–27)

تازہ ترین ماڈل کے مطابق: ESPNcricinfo Wisden

ملکریونیو شیئر %سالانہ آمدنی (USD)INR (تقریباً)PKR (تقریباً)
بھارت38.5%~$231 ملین₹1,920 کروڑ~PKR 63 ارب
انگلینڈ6.89%~$41 ملین₹340 کروڑ~PKR 11 ارب
آسٹریلیا6.25%~$37 ملین₹310 کروڑ~PKR 10 ارب
پاکستان2.81%~$34.5 ملین₹290 کروڑ~PKR 9.5 ارب

👉 پاکستان کو صرف 2.81% ملتا ہے، مگر پاکستان–بھارت میچز ICC کے عالمی ویورشپ کا 25%+ پیدا کرتے ہیں۔


📈 India–Pakistan Fixture Value

  • کمرشل ویلیو (2025): ~USD 575 ملین ≈ ₹4,800 کروڑ ≈ ~PKR 158 ارب english.mahamoney.com
  • Ad Revenue Loss اگر boycott ہو: ₹350–400 کروڑ ≈ ~PKR 11–13 ارب
  • Ticketing + Hospitality: ₹200 کروڑ ≈ ~PKR 6.5 ارب
  • Digital Streaming Revenue: ₹300 کروڑ+ ≈ ~PKR 10 ارب+

👥 Viewership Records (Updated)

👉 یہ ریکارڈز ثابت کرتے ہیں کہ دنیا سب سے زیادہ پاکستان–بھارت میچ دیکھتی ہے۔


🛡️ سیکیورٹی ڈیٹا

  • Teams toured Pakistan (2019–2025): England, Australia, New Zealand, South Africa, Sri Lanka, Bangladesh.
  • Security Deployment: 3,000–4,000 اہلکار فی میچ (head‑of‑state level protection)۔
  • Zero Major Incidents: پچھلے 7 سال میں کوئی بڑا واقعہ نہیں۔

👉 بھارت کا "سیکیورٹی بہانہ" اعداد و شمار کے سامنے کمزور ہے۔


📅 تاریخی بائیکاٹس

  • South Africa (1970–1991): 21 سالہ پابندی (Apartheid)
  • Zimbabwe (2003): سیاسی بحران پر بائیکاٹ
  • India (2016 & 2019): پاکستان کے خلاف cultural اور cricket boycotts

👉 بائیکاٹ ایک جائز سفارتی ہتھیار ہے، جسے بھارت خود استعمال کر چکا ہے۔


🎙️ Arnab Goswami Contradictions

  • 2016: 40+ شوز — پاکستانی اداکاروں پر پابندی
  • 2019: 60+ شوز — کرکٹ اور کلچر بائیکاٹ
  • 2026: پاکستان کے بائیکاٹ کو "مزاق" قرار دیا

👉 “Boycott patriotism ہے جب بھارت کرے، مگر joke ہے جب پاکستان کرے؟ #DoubleStandards”


نتیجہ

پاکستان کا بائیکاٹ stance جذباتی نہیں بلکہ اعداد و شمار پر مبنی ہے:

  • ₹4,800 کروڑ ≈ ~PKR 158 ارب کمرشل اثر
  • ICC ریونیو میں ناانصافی (بھارت ₹1,920 کروڑ ≈ ~PKR 63 ارب، پاکستان صرف ₹290 کروڑ ≈ ~PKR 9.5 ارب)
  • عالمی ویورشپ ریکارڈز (602 ملین cumulative views)
  • سیکیورٹی ڈیٹا اور تاریخی بائیکاٹس

Self respect compromise سے نہیں بلکہ branding، meritocracy اور principled documentation سے قائم ہوتی ہے۔



مکمل تحریر >>

بلاگ میں مزید دیکھیں

You might like

$results={5}

Search me

Translate