Pages

4/2/26

بلاگ: کراچی کی غیر منظم ترقی، ماسٹر پلان کی ناکامیاں اور 2047 کی تجاویز

کراچی، پاکستان کا سب سے بڑا شہر اور معاشی حب، آج ایک بے ربط اور غیر منظم شہر کی شکل اختیار کر چکا ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا ہم نے اس شہر کو کسی منصوبہ بندی کے تحت ترقی دی ہے یا اسے کرائے کی ذہنیت اور ذاتی مفاد کے تحت بگاڑنے دیا ہے؟


شہروں کی ترقی کا بنیادی ڈھانچہ

دنیا کے ترقی یافتہ شہروں میں ایک واضح ماسٹر پلان ہوتا ہے، جس میں زمین کی تقسیم اور استعمال کے تناسب طے کیے جاتے ہیں:

  • رہائشی علاقے (Residential): 40–50٪
  • سبزہ زار اور پارکس (Greenery): 15–20٪
  • ٹرانسپورٹ و انفراسٹرکچر (Transportation): 10–15٪
  • تجارتی علاقے (Commercial): 10–15٪
  • صنعتی علاقے (Industrial): تقریباً 10٪

یہ تناسب اس لیے ضروری ہے کہ شہر متوازن ہو اور عوام کو رہائش، روزگار، تفریح اور نقل و حمل کی سہولت یکساں طور پر میسر آئے۔


کراچی کی حقیقت اور ماسٹر پلان کی ناکامیاں

کراچی میں یہ تناسب بکھر گیا ہے۔ پانچ ماسٹر پلان بنائے گئے لیکن کوئی بھی نافذ نہ ہو سکا۔ آج کراچی میں:

  • گرین ایریاز 15٪ کے بجائے صرف 3٪ رہ گئے ہیں۔
  • صنعتی زونز پر رہائشی اور کمرشل قبضہ ہو چکا ہے۔
  • ٹرانسپورٹ کے لیے زمین مختص نہ ہونے کے باعث روزانہ لاکھوں افراد ٹریفک جام میں پھنسے رہتے ہیں۔
  • شہر کی 62٪ آبادی کچی آبادیوں میں رہتی ہے۔

یہ ناکامیاں اس بات کا ثبوت ہیں کہ ہم نے اجتماعی ذمہ داری کو نظرانداز کیا اور ذاتی مفاد کو ترجیح دی۔


کرائے کی آمدنی اور حضرت عمر فاروقؓ کی مثال

ہمارے 40 سال سے زائد عمر کے طبقے نے "کچھ نہ کرو اور آسان پیسہ کماؤ" کی ذہنیت کو فروغ دیا ہے۔ یہ طبقہ معیشت میں کوئی نئی پیداوار یا جدت نہیں لاتا، بلکہ صرف کرائے کی آمدنی پر جینا چاہتا ہے۔

حضرت عمر فاروقؓ نے فرمایا کہ اگر گھوڑا اللہ کے سامنے فریاد کرے کہ اسے بلاوجہ مشقت میں ڈالا گیا، تو میں اس کے جواب دینے کے قابل نہیں ہوں۔ یہ مثال ہمیں بتاتی ہے کہ ہر عمل کا حساب دینا ہوگا۔ آج ہم زمین کو بے ہنگم تعمیرات اور کرائے کے منصوبوں میں جھونک کر، معیشت کو نقصان پہنچا رہے ہیں۔


تعلیم کا شعبہ اور متبادل راستے

کراچی اور پاکستان کے لیے ایک اور سنگین مسئلہ یہ ہے کہ ہمارا تعلیمی نظام یکسانیت پر زور دیتا ہے۔ ہم چاہتے ہیں کہ ہر بچہ ایک ہی ڈگر پر چلے، لیکن حقیقت یہ ہے کہ:

  • کیا ہماری ہر انگلی ایک ہی لمبائی کی ہے؟
  • اگر قدرت نے ہمیں مختلف بنایا ہے تو ہم دوسروں سے یہ توقع کیوں رکھتے ہیں کہ وہ سب ایک جیسے ہوں؟

یہی تنوع ایک صحت مند معاشرے کی بنیاد ہے۔ اگر ہم سب کو ایک ہی راستے پر چلنے پر مجبور کریں گے، تو ہم نہ صرف ان کی صلاحیتوں کو ضائع کریں گے بلکہ معاشرے کو بھی جمود کا شکار بنا دیں گے۔
اور یہی ذہنیت کراچی کی تباہی اور غیر منظم ترقی کی ذمہ دار ہے، کیونکہ ہر شخص صرف اپنی "حصے کی توثیق" چاہتا ہے، بجائے اس کے کہ وہ ایک چین اسپرکٹ کی طرح برتاؤ کرے، جہاں ہر چین کو آگے بڑھنے کا منصفانہ موقع ملتا ہے، نہ کہ ایک دوسرے کو کھینچ کر پیچھے لے جانے کی کوشش کی جاتی ہے۔


ماسٹر پلان 2047 کی تجاویز

اب کراچی کے لیے گریٹر کراچی ریجنل پلان 2047 (GKRP 2047) تیار کیا جا رہا ہے، جس میں درج ذیل نکات شامل ہیں:

  • شہر کو 25 سالہ وژن کے تحت دوبارہ منظم کرنا۔
  • ماحولیاتی خطرات (ہیٹ ویوز، پانی کی کمی، کلائمیٹ چینج) سے نمٹنے کے لیے اقدامات۔
  • ٹرانسپورٹ اور انفراسٹرکچر کو جدید خطوط پر استوار کرنا۔
  • گرین ایریاز کو بڑھانا اور کچی آبادیوں کو منظم ہاؤسنگ میں تبدیل کرنا۔
  • شہر کی گورننس کو شفاف اور شراکتی بنانا۔ Urban Resource Centre cackarachi.com

یہ تجاویز درست سمت میں ہیں، لیکن اگر ہم نے اجتماعی ذمہ داری اور تعلیم کے تنوع کو نظرانداز کیا تو یہ منصوبہ بھی پچھلے ماسٹر پلانز کی طرح ناکام ہو جائے گا۔


نتیجہ

کراچی کی غیر منظم ترقی صرف ایک شہری مسئلہ نہیں، بلکہ ایک اجتماعی اخلاقی بحران ہے۔ ماسٹر پلان 2047 ہمیں موقع دیتا ہے کہ ہم اپنی غلطیوں کو درست کریں، لیکن اس کے لیے ہمیں کرائے کی ذہنیت، ذاتی مفاد اور یکسانیت پر مبنی تعلیم کو ترک کرنا ہوگا۔

کراچی کو بچانے کے لیے ہمیں اپنی ذہنیت بدلنی ہوگی۔ کرائے کی آسان آمدنی کے بجائے، ہمیں پیداوار، جدت، تعلیم اور اجتماعی ذمہ داری کو اپنانا ہوگا۔ ورنہ یہ شہر ہماری غفلت اور لالچ کی زندہ مثال بن کر رہ جائے گا۔



مکمل تحریر >>

پاکستان کے بائیکاٹ مؤقف کو “مزاق” کہنا بھارتی میڈیا کی عادت ہے

پاکستان کے بائیکاٹ مؤقف کو “مزاق” کہنا بھارتی میڈیا کی عادت ہے، مگر تازہ ترین اعداد و شمار اور عالمی رپورٹس یہ ثابت کرتے ہیں کہ یہ مؤقف جذباتی نہیں بلکہ معاشی، سفارتی اور تاریخی بنیادوں پر کھڑا ہے۔ ایک پاکستان–بھارت میچ کی مالیت تقریباً ₹4,800 کروڑ (≈ PKR 158 ارب) ہے، جبکہ ICC ریونیو ماڈل میں بھارت کو 38.5% اور پاکستان کو صرف 2.81% حصہ دیا گیا ہے۔ یہ عدم توازن اور ریکارڈ ویورشپ پاکستان کے مؤقف کو مزید مضبوط بناتا ہے۔


📊 ICC ریونیو شیئر (2024–27)

تازہ ترین ماڈل کے مطابق: ESPNcricinfo Wisden

ملکریونیو شیئر %سالانہ آمدنی (USD)INR (تقریباً)PKR (تقریباً)
بھارت38.5%~$231 ملین₹1,920 کروڑ~PKR 63 ارب
انگلینڈ6.89%~$41 ملین₹340 کروڑ~PKR 11 ارب
آسٹریلیا6.25%~$37 ملین₹310 کروڑ~PKR 10 ارب
پاکستان2.81%~$34.5 ملین₹290 کروڑ~PKR 9.5 ارب

👉 پاکستان کو صرف 2.81% ملتا ہے، مگر پاکستان–بھارت میچز ICC کے عالمی ویورشپ کا 25%+ پیدا کرتے ہیں۔


📈 India–Pakistan Fixture Value

  • کمرشل ویلیو (2025): ~USD 575 ملین ≈ ₹4,800 کروڑ ≈ ~PKR 158 ارب english.mahamoney.com
  • Ad Revenue Loss اگر boycott ہو: ₹350–400 کروڑ ≈ ~PKR 11–13 ارب
  • Ticketing + Hospitality: ₹200 کروڑ ≈ ~PKR 6.5 ارب
  • Digital Streaming Revenue: ₹300 کروڑ+ ≈ ~PKR 10 ارب+

👥 Viewership Records (Updated)

👉 یہ ریکارڈز ثابت کرتے ہیں کہ دنیا سب سے زیادہ پاکستان–بھارت میچ دیکھتی ہے۔


🛡️ سیکیورٹی ڈیٹا

  • Teams toured Pakistan (2019–2025): England, Australia, New Zealand, South Africa, Sri Lanka, Bangladesh.
  • Security Deployment: 3,000–4,000 اہلکار فی میچ (head‑of‑state level protection)۔
  • Zero Major Incidents: پچھلے 7 سال میں کوئی بڑا واقعہ نہیں۔

👉 بھارت کا "سیکیورٹی بہانہ" اعداد و شمار کے سامنے کمزور ہے۔


📅 تاریخی بائیکاٹس

  • South Africa (1970–1991): 21 سالہ پابندی (Apartheid)
  • Zimbabwe (2003): سیاسی بحران پر بائیکاٹ
  • India (2016 & 2019): پاکستان کے خلاف cultural اور cricket boycotts

👉 بائیکاٹ ایک جائز سفارتی ہتھیار ہے، جسے بھارت خود استعمال کر چکا ہے۔


🎙️ Arnab Goswami Contradictions

  • 2016: 40+ شوز — پاکستانی اداکاروں پر پابندی
  • 2019: 60+ شوز — کرکٹ اور کلچر بائیکاٹ
  • 2026: پاکستان کے بائیکاٹ کو "مزاق" قرار دیا

👉 “Boycott patriotism ہے جب بھارت کرے، مگر joke ہے جب پاکستان کرے؟ #DoubleStandards”


نتیجہ

پاکستان کا بائیکاٹ stance جذباتی نہیں بلکہ اعداد و شمار پر مبنی ہے:

  • ₹4,800 کروڑ ≈ ~PKR 158 ارب کمرشل اثر
  • ICC ریونیو میں ناانصافی (بھارت ₹1,920 کروڑ ≈ ~PKR 63 ارب، پاکستان صرف ₹290 کروڑ ≈ ~PKR 9.5 ارب)
  • عالمی ویورشپ ریکارڈز (602 ملین cumulative views)
  • سیکیورٹی ڈیٹا اور تاریخی بائیکاٹس

Self respect compromise سے نہیں بلکہ branding، meritocracy اور principled documentation سے قائم ہوتی ہے۔



مکمل تحریر >>

بلاگ میں مزید دیکھیں

You might like

$results={5}

Search me

Translate